Categories
نقطۂ نظر

مرد،عورت اور قبائلی سماج

مردوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی اختیارات میں اضافے سے عورتوں سمیت ہر کمزور طبقے کی آزادی، مقام اور حقوق محدود ہوئے ہیں۔
تاریخ میں مرد اپنی جسمانی ہئیت اور (روایتی ذہن کے مطابق) جنگجو خصلت کی بنا پر طاقت کا محور اور حکمرانی کا خدائی حقدار خیال کیا جاتا رہا ہے لیکن عہدِقدیم میں ایک دور ایسا بھی تھا جب خاندانی نظام میں مرد کے مقابلے میں عورت کو مرکزی اہمیت حاصل تھی جسے مادرسری نظام کا دور کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں وراثت کا سلسلہ ماں سے منسوب ہوتا تھا او رخاندانی زندگی میں عورت کو مرکزی اہمیت کی حامل تھی۔ لیکن ذرائع پیداوار میں تبدیلی نے سماجی نظام میں بتدریج مرد کی حیثیت عورت سے ‘برتر’ تسلیم کر لی، قرونِ وسطیٰ سے دورِحاضر تک تقریباً ہر معاشرے میں پدرسری سماجی نظام قائم رہا۔ مردوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی اختیارات میں اضافے سے عورتوں سمیت ہر کمزور طبقے کی آزادی، مقام اور حقوق محدود ہوئے ہیں۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقاء کے بعد انسانوں کی اہمیت ان کی جسمانی ہئیت، جنسی اختلاف یا طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انہیں بلاامتیاز مساوی حیثیت کا حامل خیال کرنا شروع کیا۔ تاہم سرمایہ دارانہ نظام سے جڑی اقدار بھی مکمل طور پر انسانی تفریق اور امتیازی سلوک کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، اس کے لیے ایک طویل مسافت ابھی باقی ہے۔

 

پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں ایک جانب ملک کا بہت بڑا حصہ فرسودہ قبائلی رسم و رواج کا پابند ہے اور دوسری جانب جاگیردارانہ نظام اور زرعی معاشرت بھی اپنی تمام تر تضادات کے ساتھ اپناوجود برقرار رکھے ہوئے ہے وہاں انسانی مساوات اور امتیازی سلوک کے خاتمے کی منزل ابھی بہت دور ہے۔ اس قدامت پسند ماحول میں سرمایہ داری کی جڑیں ابھی پھوٹ رہی ہیں اور جدید انسانی تہذیب کی ہر شکل کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ گو تبدیلی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور تبدیلی کے سیلاب کو روکنے کی ناکام کوششیں بھی ہر دور میں ہوتی رہی ہیں لیکن ان حالات میں اگر کہیں سے تبدیلی کا ہلکاسا جھونکا بھی محسوس ہو تو قبائلی وجاگیردارانہ نظام کی بندشوں میں کسے ہوئے سماج میں ان کی مخالفت میں پرزور آوازیں اٹھتی ہیں۔ پاکستانی معاشرہ چونکہ رجعت پسند قبائلی، جاگیردارانہ اور مذہبی نظاموں کی کھچڑی ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں اب بھی مذہب کی چادر تلے قبائلی وجاگیردارانہ رسوم ورواج کو تقدس کالبادہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین کا استحصال معمول کی بات ہے، بچوں پر تشدد عام ہے اور اقلیتوں کو بھی دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے۔

 

گزشتہ ایک دہائی کے دوران البتہ پاکستانی ریاست کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی تبدیلی کا ایک مظہر خواتین کے تحفظ کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران البتہ پاکستانی ریاست کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی تبدیلی کا ایک مظہر خواتین کے تحفظ کے لیے کی جانے والی قانون سازی ہے۔ خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد کو روکنے کے لئے گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی نے’تحفظ نسواں‘ کے قانون کی منظوری دی تو مذہبی طبقات اور قدامت پسند حلقوں نے مذہب کی آڑ میں اس قانون کی مخالفت شروع کر دی۔ پاکستانی تاریخ میں اس قسم کے قوانین کی مخالفت نئی نہیں۔ نامور مورخ محترم ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ’المیہ تاریخ‘ میں لکھتے ہیں ’جاگیردارانہ سماج میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ملکیت کی ہوتی ہے جہاں اس کی آزادی، حقوق اور رائے مرد کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس معاشرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسی اقدار کو فروع دیا جائے جن کے ذریعے عورتوں کو مرد کا تابع اور فرمانبردار رکھا جائے اور اس کی آزادی کے تمام راستے مسدود کر دئیے جائیں‘(ص67)۔

 

علماء کا ایک مخصوص طبقہ اپنے روایتی رجعت پسندانہ خیالات کی آڑ میں نہ صر ف اس قانون کی مخالفت کر رہا ہے بلکہ اسے اسلام اور آئینِ پاکستان سے متصادم اور بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی سے تعبیر کر رہا ہے۔ افسوس اس بات کی ہے کہ جو علماء آج تحفظ نسوان کے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہی کل تک طالبان کی حمایت کر رہے تھے۔ اُس وقت ان حضرات کو بے گناہوں پاکستانیوں کا قتلِ عام نظر نہیں آ رہا تھا اور آج خواتین پر ہونے والا تشدد۔ علماء تحفظ نسوان کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے عورت کو حقیر اور مرد سے کم تر مخلوق قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ علماء کے اس گروہ کی نمائندگی مفتی نعیم کر رہے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس کاروان کے سالاروں میں نظر آتی ہے۔ بدقسمتی سے تبصروں اور تجزیوں کے نام پر الیکٹرانک میڈیا میں انہی مخصوص افراد کو سامنے لایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا محض سنسنی کی خاطر اس معاملے کو متنازع بنا کر پیش کر رہا ہے۔
مفتی نعیم کے علاوہ مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ بھی تسلسل کے ساتھ ایک ہی نقطہ نظر کی تکرار کر رہے ہیں کہ موجودہ قانونی مسودہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے ۔عورت جذباتی، کمزور اور بے وقوف جنس ہے جسے اگر آزادی ملی تو نہ صرف مردوں کا جینا دوبھر ہوگا بلکہ اس سے خاندانی نظام بھی تہس نہس ہوسکتا ہے”۔ شیعہ عالم علامہ شہیدی بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بل کو پنجاب اسمبلی سے پاس کروانے سے قبل اگر اسلامی نظریاتی کونسل کے سامنے لا کر اس کی اصلاح کروائی جاتی تو اس قسم کے ہنگاموں کے امکانات کم ہوتے۔ بندہ پوچھے کہ بھیا! پاکستان کے آئین میں صرف تین اداروں یعنی مقننہ (صوبائی اسمبلیاں اور پارلیمنٹ)، عدلیہ اور انتظامیہ کی گنجائش موجود ہے ۔ مقننہ کی ذمہ داری قانون سازی ہے، عدلیہ کسی قانونی پیچیدگی کی تشریح کی مجاز ہے اور انتظامیہ کا کام آئین وقانون کو نافذ کرنا ہے پھر اسلامی نظریاتی کونسل کو پاسلیمان اور عدلیہ سے مقدم جاننے کا جواز کیا ہے؟

 

علماء کا ایک مخصوص طبقہ اپنے روایتی رجعت پسندانہ خیالات کی آڑ میں نہ صر ف اس قانون کی مخالفت کر رہا ہے بلکہ اسے اسلام اور آئینِ پاکستان سے متصادم اور بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی سے تعبیر کر رہا ہے۔
ان سارے مظاہر پر بات کرنے سے قبل ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا تحفظ نسوان کے قانون کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ ہوسکتا ہے؟ جبکہ اس قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کسی بھی کمزور پر ظلم و تشدد ہو جائے بالخصوص گھریلو تشدد تو متاثرہ فرد (مرد یاعورت) قانون کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ تشددکرنے والا مرد خواہ کسی بھی خاندانی حیثیت میں ہو اگر کوئی عورت اپنے شوہر، باپ، بھائی یا بیٹے کے خلاف شکایت درج کرائے گی تو اس سے مرد کو ملنے والی سزا کے باعث خانگی اور ازدواجی زندگی میں مزید رہنا ممکن نہیں ہو گا اور یوں خاندانی نظام برباد ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ خاندانی نظام کا مطالعہ فرقہ وارانہ انداز یا الماوردی، المودودی یا امام خمینی کی تصنیفات کی بجائے علم عمرانیات کے اصولو ں کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں ۔ خاندانی رشتوں کو طاقتور اور کم زور، حاکم اور محکوم، نگران اور رعیت کے تعلق پر قائم رکھنا کسی طرح درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ خاندانی رشتوں کی بنیاد باہمی اخوت اور محبت ہونی چاہیئے اگر ان کی جگہ تشدد،ظلم اور بربریت لے لیں تو ایسے میں رشتوں اور خاندانی نظام کو برقرار رکھنے کی بجائے انسانوں کو ایسے جابرانہ بندھنوں سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے خاندانی نظام کو ڈر اور خوف کی بجائے خوشی اور محبت کے جذبوں پر استوار کئے ہوتے توپھر عورت اور مرد کو جتنی بھی آزادی دی جائے خاندانی نظام ٹوٹنے کی بجائے مزید مستحکم ہوسکتے ہیں۔

 

اگر علماء کی اس دلیل کو ماضی میں درست مانا جاتا رہا ہے کہ عورت جذباتی، کمزور اور بے وقوف ہوتی ہے، تو بھی جدید سماجی تصورات اس دلیل کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ بحیثیت انسان مرد اور عورت دونوں جذباتی ہوتے ہیں اور دونوں ہی مختلف حالات میں کمزور ہو سکتے ہیں۔ فرق اس سماجی پس منظر کا ہے جس میں مرد اور عورت کو مختلف سماجی کرداروں میں ڈھالا جاتا ہے۔ روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔ لیکن جدید معاشرے میں انسانوں کا کردار جسمانی ہئیت پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ آج کا معاشرہ انسانی مساوات کی بنیاد پر استوار ہے۔ خواتین اور مرد کے مابین موجود جسمانی فرق کی بنیاد پر مردانہ برتری کا جواز بھی ناقابل قبول ہے۔ طبی علوم کی ترقی کے باعث یہ دلیل اپنا وزن کھو چکی ہے۔ عورت اپنی روایتی حیثیت میں بھی بے پناہ جسمانی مشقت کر رہی ہے جسے کسی بھی طرح مردانہ مشقت سے کم تر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں پالنا اور اس دوران گھر والوں بالخصوص شوہر کے ناز نخرے برداشت کرنا کسی مرد کے بس کا روگ نہیں۔ زچگی کے دوران خواتین کی اموات کے امکانات بے حد زیادہ ہوتے ہیں۔ حمل کے دوران اور زچگی کے بعد بھی اسے بچے کی نگہداشت کے دوران اپنے جسم سے خوراک تیار کرکے بچے کو پالتی ہے، کیا یہ سب کسی کمزور یانحیف انسان کے بس کی بات ہے؟

 

روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔
رجعت پسند ذہن عورت کو صرف جنسی مباشرت کے حوالے سے دیکھنے کا عادی ہے اور اس تناظر میں عورت کو مفعول اور زیردست سمجھتے ہوئے کم تر خیال کرتا ہے۔ جو لوگ عورت کے جسمانی ساخت کا مذاق اڑاتے ہیں وہ دراصل اپنی کم علمی کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑتے ہیں۔ کیونکہ اگر مرد کا جسمانی ساخت عورت سے مختلف ہے تو اسی طرح عورت کی جسمانی ساخت اسے مرد سے ممتاز کرتی ہے ۔ عورت اور مرد کی جسمانی اختلافات کو کم تر یا برتر قرار دے کر اس کی بنیاد پر معاشرے کو تشکیل دینے کی بجائے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ انسان کی بقاء ہی عورت اور مرد کے جسمانی اختلاف پر ہے۔ مرد اور عورت کی جنس قدرت کا فیصلہ ہے اور اس کی بنیاد پر کسی کو کسی پر برتر یا کم تر نہیں ثابت کیا جا سکتا۔ آج مرد کو عورت کا نگران یا حاکم قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ عورت مرد کے مساوی انسانی حیثیت کی حامل ہے اور مردکے ساتھ ہر تعلق میں اپنی رضامندی سے شریک ہونے یا الگ ہونے کا حق رکھتی ہے۔

 

خواتین پر گھریلو تشدد کے قانون پر علماء کے اعتراضات سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا مذہبی ذہن انیسویں صدی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ دوسو برس قبل مولانا اشرف علی تھانوی نے ’بہشتی زیور‘ لکھ کر عورت کو مرد کی اچھی خدمت گار بننے کی ترغیب دی تھی۔ آج مفتی نعیم، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چل کر معاشرے کو پتھر کے دور میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف آواز کیوں اٹھائیں؟

جنسی و صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف 16 روزہ جدوجہد ایک عالمی تحریک ہے جو ہر سال، 25 نومبر تا 10 دسمبر چلائی جاتی ہے۔ اس تحریک کا آغاز سنہ 1991 میں ہوا تھا۔ یہ تحریک عالمی یومِ انسدادِ جنسی تشدد سے شروع ہوتی ہے اور عالمی یومِ انسانی حقوق تک چلتی ہے۔ اس تحریک کا مقصد عورتوں پر ہونے والے مظالم اور جرائم کے بارے میں آواز بلند کرنا، خواتین کو حقیقی صورت میں ان کے حقوق دلوانا اور قدیم، قبیح، رذیل و ذلیل پدرسری روایات کا تدارک ہے۔(ویسے کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہ کالم بھی کوئی خاتون ہی لکھتی لیکن شاید ایڈیٹر کا ارادہ بھی مجھے میری برادری کا قبیح چہرہ دکھانا تھا)۔ مذاق سے سوا بہر طور حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔

 

حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔
بہت سے مرد شاید فوراً اس حقیقت کو جھٹلا دیں گے کہ عورت مظلوم ہے! کیونکہ جب بھی عورتوں پر مظالم کی بات ہوتی ہے تو انگلی ہمیشہ مردوں کی جانب ہی اٹھتی ہے۔ کئی مرد فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے کبھی کسی عورت کا استحصال کیا ہی نہیں ہے تو پھر تمام مردوں کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے لیکن جب میں عالمی ادارہِ صحت کی مرتب کردہ عورتوں پر ہونے والے مظالم کی فہرست دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ عورت کا استحصال قبل از ولادت شروع ہوتا ہے اور بعد از مرگ جاری رہتا ہے! یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہاں بہت سے خطوں کے باشندے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، لیکن یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر معاشرے میں سیاسی طاقت، معیشت اور فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد بنیادی حقوق سے محروم ہے۔ حقوق نسواں کی جدوجہد مردوں کے خلاف نہیں بلکہ ان پدرسری اقدار، قوانین، رسوم و رواج اور افراد کے خلاف ہے جو ان جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں یا انہیں تحفظ دیتے ہیں۔
اور اگر اب بھی آپ کو لگتا ہے کہ “مرد مظلوم ہے” یا یہ کہ “عورت اتنی بھی مظلوم نہیں” تو اسی فہرست کی مناسبت سے مثالیں پیش کیے دیتا ہوں۔

 

کبھی سنا ہے کہ الٹراسائونڈ رپورٹ میں لڑکا پتہ چلے اور باپ اس بچے کو تلف کرنے پر زور دے؟ نہیں! غریب سے غریب ترین شخص بھی بیٹے کی پیدائش پر رقصاں ہوتا ہے لیکن دنیا کے کئی علاقوں میں آج بھی بچے کی جنس پتہ چلنے پر بہت سی بچیوں کو رحم مادر میں قتل کردیا جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ خرچہ کروائے گی، اس کا جہیز کون بنائے گا! اور جس آدمی کے پاس بیوی کا الٹراساونڈ کروانے کے پیسے نہ ہوں وہ بعد از ولادت اپنی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ وجہ وہی یہ کھائے گی، پیئے گی، لیکن کمائے گی نہیں!

 

عورت کا بچپن امتیازی سلوک سے داغدار ہوتا ہے! بیٹے کو دو انڈے تو کھلادیئے جاتے ہیں لیکن بیٹٰی کو انڈے کی سفیدی پر ہی اکتفا کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ زردی بھی بھائی کو کھانے دو! اس کو توانائی کی ضرورت ہے! اس نے بڑے ہو کر باپ کا بانہہ بیلی بننا ہے، لیکن اس بات کو صرفِ نظر کردیا جاتا ہے کہ بیٹی کو بھی بڑے ہو کر ماں بننا ہے، اس کے جسم کو بھی غذائیت کی ضرورت ہے۔

 

ہر وہ بینک جو قرضے بانٹ رہا ہوتا ہے وہ ہمیشہ والدین کو تاکید کرتا ہے کہ بیٹے کی تعلیم کے لیے قرضہ لے لو اور بیٹی کے جہیز کے لیے، ہم عموماً بیٹوں کو نجی جامعات سے تعلیم دلواتے ہیں اور بیٹیوں کو؟ سرکاری جامعات سے! وجہ لڑکیوں نے کیا کرنا ہے تعلیم حاصل کر کہ؟ ہم من حیث القوم بلکہ من حیث الخطہ عورتوں کی تعلیم کے دشمن ہیں۔ ہمارے ہاں عورت کی تعلیم کا جواز بھی خاندان کے لیے عورت کی تعلیم کی ضرورت کے ساتھ مشروط ہے یعنی ہم تعلیم کو عورت کا بطور انسان حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ ہم اسے محض اس لیے تعلیم دلاتے ہیں کہ اس کی “سماجی افادیت” کتنی ہے۔

 

دنیا کے کئی علاقوں میں آج بھی بچے کی جنس پتہ چلنے پر بہت سی بچیوں کو رحم مادر میں قتل کردیا جاتا ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ خرچہ کروائے گی، اس کا جہیز کون بنائے گا
جہیز کے نام پر ذلت ہمیشہ عورت ہی جھیلتی ہے! جہیز کی وصولی کے لیے تو بہت سی بات چیت ہوتی ہے لیکن عموماً حق مہر، نان نفقے اور طلاق کے حق پر سوچ بچار اور لڑکی کی مرضی پوچھنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ کئی دفعہ دلہے منہ دکھائی میں اپنے سابقہ معاشقوں کی فہرست پیش کردیتے ہیں اور فوراً ایک این آر او مانگ لیتے ہیں، سچائی سے بڑا کوئی تحفہ ہو نہیں سکتا ہے، البتہ ان اپنے جیسی ‘سچی’ بیوی درکار نہیں ہوتی ہے۔ ان کو ایک مالدار گونگی بیوی درکار ہوتی ہے۔ جو جہیز لائے بلکہ ہر سال اس ڈیوڈنڈ یا منافع بھی لاتی رہے۔

 

کیا کبھی کسی مرد کو لڑکا نہ پیدا کرنے کی پاداش میں ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ نہیں! مرد موبائل سم کی طرح بیویاں بدل لیتا ہے کہ شاید دوسری یا تیسری کہ یہاں بیٹا پیدا ہوجائے، لیکن اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے کہ یہ قدرتی عمل ہے جس کے لیے کسی عورت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ایک عورت کے ہاں لڑکی کے بعد ایک اور لڑکی پیدا ہوجائے تو اسے مزید سزائیں جھیلنی پڑتی ہیں، کبھی کئی بیٹیوں کے باپ کو برا بھلا کہا گیا؟ نہیں، اس کو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، با ہمت اور سخت جان کہا جاتا۔ لیکن اس تمام احترام اور عزت میں بھی ترس اور افسردگی چھپی ہوتی ہے، دوسری جانب اس شخص کی بیوی کو بدنصیب تصور کیا جاتا ہے۔

 

ہم سب کہتے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے! شاید تبھی معاشرہ اتنا ملعون ہوتا جا رہا ہے، ہم محبت کے عہد و پیماں کے لیے ‘یومِ جانو’ تو ضرور مناتے ہیں لیکن جہیز کی ملعون رسم کو ختم کرنے کے لیے کوئی دن نہیں مناتے ہیں۔ اور اگر کوئی باپ جیسے تیسے کر کہ اپنی بیٹی کو جپیز دے بھی دے تو جہیز کم لانے پر اس کو تاحیات رسوا کیے رکھتے ہیں۔

 

کبھی سنا ہے کہ کسی لڑکے نے منگنی توڑ دی اور انتقاماً لڑکی نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا؟ نہیں! لیکن اگر کوئی لڑکی، کسی لڑکے سے شادی سے انکار کردے تو اس کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے اپنی دانست میں تاحیات “نشان عبرت” بنادیا جاتا ہے۔

 

دیہی علاقوں میں اگر مرد کا کسی لڑکی پر دل آجائے تو اس لڑکی کے بھائی پر کارو کاری کا الزام لگا کر، بطور سزا اس کی بہن کا ہاتھ مانگ لیا جاتا ہے۔ اس بات کو دیہات کا واقعہ سمجھ کر ہم شہری علاقوں میں رہنے والوں کو اس بات پر خوش نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ ہمارے ملک کی کم و بیش 70 فیصد آبادی دیہات پر ہی مشتمل ہے۔ اور یہ سانحات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔

 

کبھی سنا ہے کہ لڑکا شادی کے بعد انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں بیچ دیا گیا؟ نہیں! ہاں یہ ضرور سن رکھا ہے ہم سب نے کہ فلاں لڑکی کو لڑکا گھر سے بھگا لے گیا۔ اگر کوئی بھاگنے والی لڑکی سے پوچھے تو وہ یہ کہتی ہے کہ میں اپنا بنیادی انسانی حق استعمال کر رہی ہوں یعنی کہ اپنی رضامندی سے شادی کا حق۔ یہ حق جو مجھے ریاست اور تمام اقوامِ عالم نے تفویض کیا ہے! لیکن ہر لڑکی جو شادی کرنے کی خاطر اپنا گھر چھوڑ دیتی ہے، تاحیات ہنسی خوشی رہتی ہے؟ شاید! لیکن حقائق تو یہ کہتے ہیں کہ لافانی محبت کے جال میں پھانسنے والے لڑکے ان لڑکیوں کو عموماً معاشرتی دباو کے تحت چھوڑ دیتے ہیں! اور اگر کبھی ان بد بختوں سے پوچھا جائے کہ تم نے اس لڑکی کو اپنی شریکِ حیات کیوں نہ بنایا تو وہ کہتے ہیں کہ جو اپنے ماں باپ کی نہ ہوئی وہ میری کیا ہوتی! میرے بعد کسی اور کے ساتھ بھاگ جاتی لہٰذا میں نے قصہ ہی ختم کردیا، اب میں کسی شریف زادی کے ساتھ شادی کروں گا۔

 

ہمارے معاشرے میں جائیداد کو بچانے کی غرض سے بھی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے۔ قرآن سے شادی، وٹہ سٹہ اور شادی بیاہ کی دیگر رسموں میں عورت کو ملکیت کی طرح لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان قبیح افعال کا پدرسری معاشرے اور عورت کے استحصال سے گہرا تعلق ہے۔ عورت کو ہی ہر مشکل، مصیبت، برائی اور فساد کی جڑ قرار دیا جاتا ہے اور اس بات کو بطور محاورہ بھی استعمال کیا جاتا ہے کہ زن، زر اور زمین ہر فساد کی جڑ ہے۔
کیوں کہ زن کی شادی کرنے کی صورت میں اس کو وراثت میں سے اس کا حصہ دینا پڑے گا، اس لیے اس کو زر اور زمین کا بٹوارہ کرنے والی چیز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس لڑکا، شادی کی صورت میں دوسرے کے گھر کی زن، زر اور زمین تینوں گھسیٹ لائے گا۔

 

ہمارے معاشرے میں جائیداد کو بچانے کی غرض سے بھی عورت کا استحصال کیا جاتا ہے۔ قرآن سے شادی، وٹہ سٹہ اور شادی بیاہ کی دیگر رسموں میں عورت کو ملکیت کی طرح لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
شاید اسی لوٹ کھسوٹ سے بچنے کے لیے مردوں نے عورتوں کے “تبادلے” پر مبنی ایک اور قبیح رسم ایجاد کر ڈالی ہے جسے وٹّہ سٹّہ کہتے ہیں، کہا یہ جاتا ہے کہ اپنی بہن کا گھر سلامت رکھنے کے لیے اگلے کی بہن اپنے گھر لے آو لیکن بادی النظر دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ تم میری بہن کی جائیداد کا حصہ نہ مانگنا اور میں تمہاری بہن کا حصہ نہ مانگوں گا۔

 

مندرجہ بالا مظالم کم ہیں؟ حقیقت اس سے زیادہ قبیح ہے! اگر یقین نہ آئے تو ٹی وی کھولیں اور ڈرامے دیکھ لیں! وہاں بھی خواتین کے استحصال کی منظر کشی نشر ہو رہی ہے، یہ الگ بات ہے اس منظر کشی کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ تفریحی چینل عورتوں کے استحصال کو ذریعہِ تسکین بنا چکے ہیں عورتیں ان مظالم کو دیکھتی ہیں اور انہی کو اپنا مقدر مان کر چپ پو بیٹھتی ہیں، اور مرد نیوز چینلز پر ہونے والی اس گھٹیا منظر کشی سے نفسانی تسکین کشید کرتے ہیں۔ اخبارات ان مسائل کی خبر لگا کر طاقت کے ایوانوں کو ہلانا نہیں چاہتے ہیں، بلکہ دوسرے اور آٹھویں صفحہ پر خالی کالموں کا پیٹ بھرتے ہیں۔

 

اس غلام گردش سے نکلنے کا واحد راستہ خواتین میں ان حقوق کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ اپنے جاننے والوں کو خواتین کے حقوق کے بارے میں بتائیں! انسانی حقوق کا عالمی منشور Universal Declaration of Human Rights کیا کہتا ہے یہ ہر فرد کو بتانا ضروری ہے۔ سیڈا یا CEDAW – Convention on All Form of Discriminations Against Women کیا کہتا ہے؟ شادی سے قبل فریقین کی رضامندی، شادی کے لیے عمر کی کم از کم حد اور شادی کی رجسٹریشن کے عالمی کنونشن Convention on Consent to Marriage, Minimum Age for Marriage and Registration of Marriages میں کیا عہد کیے گئے ہیں۔
عالمی پلان برائے انسدادِ تشدد بر زنان و دختران Global Implementation Plan to End Violence against Women and Girls میں کیا عودے کیے گئے ہیں۔

 

آئینِ پاکستان میں خواتین کو کون سے حقوق تفویض کیے گئے ہیں۔
دفاتر میں ہراسانی سے تحفظ کے قوانین Bill Against Harassment of Women At Workplace کا متن کیا ہے۔
ان دستاویزات کو پڑھیئے اور اوروں کو بھی پڑھائیے، ان پر بحث کریں، بلاگ لکھیں، ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کریں، اگر کسی مارننگ شو کا پروڈیوسر آپ کا جاننے والا ہے تو اس سے کہیں کہ ان موضوعات پر سال میں کم از کم بارہ شو ضرور کرے! آئیں عہد کریں کہ ہم کم از کم دس افراد تک یہ پیغام ضرور پہنچائیں گے اور بالخصوص خواتین کو ان کے آئینی و انسانی حقوق کے بارے میں ضرور بتائیں گے۔