Categories
نقطۂ نظر

وزیر اعظم اور کراچی آپریشن

یکم ستمبر 2015ء کو وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے مابین ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کراچی آپریشن سیاسی مصلحت کے بغیر جاری رکھا جائے گا۔ یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ کراچی آپریشن پر کسی قسم کا سیاسی دباو قبول نہیں کیا جائےگا۔ وزیراعظم اور سپہ سالار کی ملاقات میں کراچی میں رینجرز کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن اور حالیہ گرفتاریوں پر بعض سیا سی حلقوں کے تحفظات پر بھی بات چیت کی گئی۔ دو ستمبر کوکراچی کے حوالے سےوزیراعظم نوازشریف کا آزادکشمیر باغ میں کہنا تھا کہ کراچی کے حالات بہترہوگئے ہیں،جس پرکراچی کے لوگ بہت خوش ہیں،ہم کراچی میں ملزمان پرہاتھ ڈالنے سے گھبرائے نہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے اسی خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان دہشت گردی کےلیے نہیں بنا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
سندھ پولیس کے مطابق5ستمبر 2013سے یکم ستمبر2015 تک کراچی آپریشن کے دوران ایک ہزار 171ملزمان مارے گئے اور64ہزار سے زائد ملزمان کوگرفتار کیا گیا
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ملک کے دو بڑے مسائل کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کو گڈمڈ کردیا۔ ان دو مسائل کوفوجی اور نیم فوجی اداروں کی دو علیحدہ علیحدہ قسم کی کارروائیوں کےذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایک آپریشن کو کراچی آپریشن کا نام دیا گیا ہے جبکہ دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن کا نام پاک فوج نے “ضرب عضب” رکھا ہے۔ چارستمبر 2013ء کو وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بدامنی سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو مرکزی کردار دینے کی تجویز پیش کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس آپریشن کی نگرانی کرتی ہے۔ کراچی آپریشن شروع کرنے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس آپریشن کی نگرانی کےلیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی بنائیں گے لیکن وعدے کے باوجود مانیٹرنگ کمیٹی نہیں بنائی گئی۔سندھ پولیس کے مطابق5ستمبر 2013سے یکم ستمبر2015 تک کراچی آپریشن کے دوران ایک ہزار 171ملزمان مارے گئے اور64ہزار سے زائد ملزمان کوگرفتار کیا گیا۔اسی پولیس رپورٹ کے مطابق آپریشن کے دوران 250پولیس افسران اور اہل کار شہید ہوچکے ہیں۔
کراچی کے ایک سماجی کارکن محمد طاہر کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن سے قبل سیاسی و سماجی صورتحال نہایت ابتری کا شکار رہی ہے ۔لیکن جب سے رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا ہے حالات بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہیں۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خوف کی فضا ختم ہونے کو ہے ۔ کراچی کی بدامنی میں جہاں غنڈہ عناصر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے تھے، وہیں اُن کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی محنت کے بجائے “شارٹ کٹ”کے چکر میں تعلیم سے دور ہوکر “ٹی ٹی” کے قریب ہونے لگی تھی۔ گلی محلوں میں مقامی بدمعاشوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ شریف انسان کا اس ماحول میں جینا محال ہو چکا تھا، مگر جب کراچی آپریشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جرائم پیشہ لوگ قانون کی گرفت میں آنا شروع ہوئے تو ان موسمی بدمعاشوں نے بھی توبہ کرنا شروع کر دی ۔
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کراچی میں پچھلے ڈھائی برس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
اگر آپ کراچی میں رہنے والے ایک عام آدمی سے پوچھیں تو وہ یہ ہی کہے گا کہ کراچی میں بہتری آئی ہے لیکن دوسری طرف سیاسی طور پر مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ آپریشن کے شروع سے مانیٹرنگ کمیٹی کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس نے پچھلے دنوں اسی بنیاد پر استعفے بھی دیئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی آڑ میں ایم کیو ایم کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ہمارے کارکنوں کوتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اقدامات کا جائزہ لیں، جوڈیشل کمیشن بنا دیں تو ہم اس میں پیش ہوکر انصاف کے متقاضی ہیں۔ ایم کیو ایم نے حکومت کےساتھ مذاکرات ختم کردیئے ہیں اورایک بار پھر اصرارکیا ہے کہ ان کے استعفے قبول کرلیے جائیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان انہیں اسمبلیوں میں واپس لانے کے لیے حکومت اور ایم کیو ایم میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا نے بھی مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام کی حمایت کی تھی۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن امین الحق کا کہنا ہے کہ “ہم نے اس بار استعفے احساس محرومی کی کیفیت تک پہنچے کے بعد دیئے ہیں۔ مانیٹرنگ کمیٹی کے علاوہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور جو کارکن لاپتہ ہیں انہیں بازیاب کرایا جائے”۔
الطاف حسین اور آصف زرداری نے عسکری مقتدراعلیٰ کے خلاف اپنی تقاریر کا حشر دیکھنے کے بعد اپنی توپوں کا رخ نواز شریف حکومت کی طرف موڑ دیا ہے، لیکن نواز شریف کی مجبوری یہ ہے کہ اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، شاید اُنہیں اور سندھ حکومت کو سندھ کے معاملات سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔ اپنی جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے سخت پیغام کے جواب میں وزیراعظم نے حال ہی میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ن)کے کل کے اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نام اب مخالفوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کراچی میں پچھلے ڈھائی برس میں ماورائے عدالت ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کی اشد ضرورت ہے اور یہ حکومت کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کا آزادکشمیر باغ میں کہنا تھا کہ ہم کراچی میں ملزمان پرہاتھ ڈالنے سے گھبرائے نہیں۔لیکن افسوس کہ وزیر اعظم نواز شریف نے جمعرات 20 اگست کو کراچی میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایم کیو ایم کے مانیٹرنگ کمیٹی کےمطالبے پر غورہی نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں شریک ایک اہلکار نے بتایا کہ نہ وزیر اعظم اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے مانیٹرنگ کمیٹی تذکرہ کیا۔ جب صورتحال اس قسم کی ہو کہ وزیر اعظم صاف طور پر بےبس نظر آرہےہیں تو پھر آرمی چیف سے صرف اتنا کہنا ضروری ہوگا کہ جناب آپ لوگ بہت اچھا کام کررہے ہیں لیکن کچھ ایسے کام بھی آپ کررہے ہیں جو آپ کو نہیں سیاست دانوں کو کرنا چاہیئے۔ اگر قانون نافذکرنے والے ادارے اپنا کام کریں اور سیاستدان اپنا کام کریں تو یقیناً کراچی آپریشن ایک اچھے نتیجے پر ختم ہوگا اور کراچی میں پایئدارامن کی امید کی جاسکتی ہے، ورنہ کراچی میں پہلے بھی 1992ء سے لےکر 1998ء تک تین مرتبہ آپریشن ہوچکے ہیں۔ کیا کراچی کے عوام اپنے سیاستدانوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ امید کرسکتے ہیں کہ اُن کے آپس کےتعاون سےجب تک آخری مجرم یا دہشت گرد ختم نہیں ہوجاتا، کراچی آپریشن بغیر کسی کے ساتھ زیادتی کیے جاری رہے گا؟
Categories
نقطۂ نظر

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

letters-to-the-editor-full-featured1

مدیر محترم
میں نے2011 میں سیاست کا عملی آغاز سندھ ترقی پسند اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے ضلع نائب صدر کے عہدے کا حلف اٹھا کر کیا۔ دوران حلف میں نے اقرار کیا کہ میرا اٹھایا ہوا ہر قدم اور کیا ہوا ہر فیصلہ خالصتاً طلبہ مفادات کے تحفظ کے لیے ہوگا نہ کے کسی شخصی یا ذاتی مفاد کے تحفظ کے لیے گو یہ وعدہ سبھی لوگ کرتے ہیں مگر اس پر قائم بہت کم لوگ رہتے ہیں۔ 2012 میں مجھے ایک نئی قائم شدہ یونیورسٹی شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نوابشاہ میں داخلہ لینا پڑا۔ ویسے میں نے تو طلبہ سیاست میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں مگر نظریاتی سیاست کا آغاز میں نے بے نظیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ارشد سلیم آرائیں کے خلاف جدوجہد سے کیا جن کے خلاف حال ہی میں مالی بد عنوانیوں کی خبر روزنامہ ایکسپریس 10 جنوری 2015 کراچی کے شمارے میں شائع ہوئی۔
موجودہ سیکرٹری تعلیم سندھ اور اس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ کی ایماء پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ارشد سلیم آرائیں کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔
وائس چانسلر بینظیر یونیورسٹی کے خلاف طلبہ کو سڑکوں پر کیوں آنا پڑا؟آپ کے موقر جریدے کی توسط سے میں وہ حالات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ شہید بے نظیر یونیورسٹی کے پہلے وی سی کو سیاسی بھرتیاں نہ کرنے پر ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ۔ موجودہ سیکرٹری تعلیم سندھ اور اس وقت کے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ کی ایماء پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ارشد سلیم آرائیں کو وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق ارشد سلیم جو پہلے کنٹرولر امتحانات تھے کی تمام ڈگریاں سیکنڈ ڈویژن میں پاس کردہ ہیں اور وہ ایچ ای سی کے مقرر کردہ معیار کے مطابق اہلیت نہیں رکھتے۔
ڈاکٹر ارشد سلیم ارائیں کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کی اہم وجہ یہ تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق وائس چانسلر کم از کم پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہونے کے ساتھ ساتھ تمام تر گزشتہ تعلیمی اسناد کا فرسٹ ڈویژن ہونا لازمی ہے لیکن موصوف کے معاملے میں ان شرائط سے دانستہ اغماض برتا گیا جبکہ اس سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ ذیلی عہدوں پر موجود تھے، لیکن قابل افراد کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کی غرض سے انہیں وائس چانسلر شپ سے نوازا گیا۔ روزنامہ ڈان میں اس کے خلاف ایچ ای سی کے اس وقت کے چیئرمین نے بیان دیا کہ جب تک اس وی سی کو ہٹایا نہیں جائے گا یونیورسٹی رجسٹر نہیں کی جائے گی۔ ستم ظریفی یہ کہ جو صاحب ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر بننے کے اہل نہیں انہیں سندھ یونیورسٹی حیدرآباد کا اضافی چارج بھی دے گیا۔ سنگین بے ضابطگیوں کے خلاف راقم نے 14 اساتذہ کے ساتھ مل کر اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ایک تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ احتجاج کچلنے کے لیے مجھ سمیت دیگرطلبہ کو کرائے کے غنڈوں کی مدد سے دھمکانے کی کوشش کی گئی، ہمیں مختلف قسم کے لالچ دیے گئے۔ دھونس اور دباو کا سلسلہ یہیں نہیں رکا، اساتذہ اور طلبہ کے احتجاج کے دوران پشت پناہی کا جھوٹا الزام لگا کر رجسٹرار کہیر خان کھوسو اور دیگر اساتذہ کو جبراً ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
اساتذہ کی برطرفی کے ردِّ عمل کے طور پر ہم نے مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا، مگر ہفتے کو چھٹی کے روز وائس چانسلر نے باقی اساتذہ سمیت چند طلباء جن میں میرا نام سرِ فہرست تھا کو یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی توثیق کے لئے میٹرک پاس سیاستدانوں پر مشتمل سینڈیکیٹ کا اجلاس بلایا گیا ۔ اجلاس کی پیشگی اطلاع ملنے پر ہم نے اس نام نہاد سنڈیکیٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی غرض سے دھرنہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے آغاز سے قبل پولیس کی بھاری نفری منگوائی گئی اور احتجاجی طلبہ اور اساتذہ جن میں ایک قابل ذکر تعداد خواتین طالبات اور اساتذہ کی تھی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اجلاس کے آغاز سے قبل پولیس کی بھاری نفری منگوائی گئی اور احتجاجی طلبہ اور اساتذہ جن میں ایک قابل ذکر تعداد خواتین طالبات اور اساتذہ کی تھی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
نہتے طلبہ اور اساتذہ پر یونیورسٹی حدود میں ہتھیار لانے کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا۔ تین اساتذہ جن میں ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار دلیل جتوئی بھی شامل تھے کو گرفتار کر کے سینٹرل جیل نوابشاہ بھجوادیا گیا جو بعد ازاں عدالت سے بری ہوئےراقم اور دیگر تین ساتھیوں پر یونیورسٹی میں داخلے کی ناروا پابندی لگادی گئی اور اساتذہ کو جبری طور پر برطرف کردیا گیا۔ مگربقول مسرّت عزیز

حق کبھی رہتا نہیں زیرِ نقاب
کس سے رکتا ہے طلوعِ آفتاب

سابق نائب سپیکر سندھ اسمبلی وائس سید ظفر علی شاہ نے موجود وی سی کے غیر قانونی تقرر کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس مقدمے میں چانسلر کے خلاف حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے اور وہ اگلی پیشی پر سنادیا جائے گا۔ وائس چانسلر ارشد سلیم کی کرپشن کے قصّے بھی بے نقاب ہورہے ہیں مگر ہم شہید نذیر عباسی کی سیاسی فکر کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں تا کہ ہم ایک بہتر تعلیم یافتہ پاکستان کا خواب پورا کرسکیں۔

نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

فقط
خیراندیش
مامون علوی

Categories
اداریہ

!سندھ کے ہندو بیٹیاں پیدا نہ کریں

letters-to-the-editor-featured1

محترم مدیر
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ دھرتی کی ہر ہندو لڑکی پیدا ہی اس لیے کی جاتی ہے کہ اسے اغوا کیا جائے، اس کا مذہب تبدیل کیا جائے اور پھر اس کی جبری شادی کر دی جائے۔ راقم سندھ کی دو ایسی ہی بیٹیوں کی فریاد آپ کے جریدے کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانا چاہتا ہے۔یہ سانحہ صوبہ سندھ ضلع بدین کے ایک چھوٹے سے ہندو گاؤں صابن دستی کی رہائشی تیرہ سالہ ماوی اور چودہ سالہ بادل پر بیتاہے جن کی دنیا اب سے چند ماہ قبل تک محض گڑیوں اور کھلونوں تک محدود تھی ۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ دھرتی کی ہر ہندو لڑکی پیدا ہی اس لیے کی جاتی ہے کہ اسے اغوا کیا جائے، اس کا مذہب تبدیل کیا جائے اور پھر اس کی جبری شادی کر دی جائے۔
ماوی اور بادی کی دنیا سندھ اسمبلی میں مذہب کی جبری تبدیلی اور جبری شادی کے خلاف قرارداد منظور ہونے کے دوروز بعد ہی اندھیر ہو گئی۔۲۱ نومبر کی رات وہ معمول کے مطابق محو خواب تھیں کہ اچانک اُن کے گھر پہ مسلمان وڈیروں کمیساء او ر میرمامند کے کارندوں نے حملہ کردیا ۔اسلحے سے لیس غنڈوں نے گھر کی چاردیواری پامال کی ، بندوق کی نوک پر تمام گھر والوں کو یرغمال بنا یااوردونوں بچیوں کواغوا کرلیا۔ کچھ روزیرغمال رکھنے کے بعد دونوں کو زبردستی مسلمان کیا گیااور ان معصوموں کی شادیاں زبردستی بوڑھے سرداروں سے کردی گئیں۔ اس گھناونے کام کے لیے فتوے مقامی مولویوں پیرایوب جان سرندی اور مولوی غفار نے فراہم کئے۔معصوم بچیوں نے اس دوران بھاگنے کی کئی بار کوشش کی مگر ٖظالموں نے اُنہیں مار مار کر لہولہان کردیا۔ بچیوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اُن کو بستی جلانے اور سنگین نتائج جیسی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔بادل اور ماوی کی مائیں آنکھوں میں آنسو لیےاپنی بیٹیوں کے غم میں نڈھال ہیں مگران کی فریاد سننے کا وقت مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کے پاس نہیں۔بادل اور ماوی کے غم سے نڈھال والدین اپنی بیٹیوں کی بازیابی کے لیے ہردروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں ، انصاف کی ہر زنجیر ہلا چکے ہیں مگر کوئی بھی اُن کی سننے کو تیار نہیں۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ اس برس سندھ میں جبری شادیوں کے ستر کے قریب واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن اب تک سندھ حکومت اور وفاقی حکومت اس حوالے سے قانون سازی نہیں کر سکے۔ میں آپ کے رسالے کی وساطت سے ان دونوں بچیوں اور سندھ کی ہر بیٹی کو انصاف دلانے کے لیےوزیراعظم پاکستان،انسانی حقوق کی آواز عاصمہ جہانگیر اور سندھ حکومت سے انصاف کی فراہمی کی اپیل کرتا ہوں۔
خیر اندیش