Categories
فکشن

راکھ

ہمیشہ کی طرح رات سونے سے پہلے میں نے اپنی کھوپڑی کو کُھولا تا کہ دماغ کو باہر نکالوں ۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ کھوپڑی میں راکھ ہی راکھ جمع ہے جسے میں قریبی میز پر انڈیلنے لگا۔ راکھ کچھ کم ہوئی تو نیچے سے سگریٹوں کے ٹکڑے نکلنے لگے۔ شاید انہی کی وجہ سے وہاں اتنی راکھ جمع تھی۔ اس راکھ میں سے کہیں کہیں پنسلوں کے سکے بھی گر رہے تھے۔ ایک دو آدھے ٹوٹے ہوئے بلیڈ بھی سوختہ رگوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے یہ یقینی طور پر کسی بھی وقت ان رگوں کو کاٹ سکتے تھے مگر میں خوفزدہ نہ ہوا کیوں کہ میں اپنا دماغ (پتہ نہیں اس راکھ میں کہیں دماغ بھی تھا) خالی کر چکا تھا۔ ابھی میں یہ کر ہی رہا تھا کہ یوں لگا کہ میری کھوپڑی کے کسی کونے میں کوئی دوات کھلی ہوئی گر پڑی ہے اور سیاہی تیزی سے انڈلتی جا رہی رہی ہے، جس نے باقی ماندہ راکھ کو کھوپڑی کے ساتھ چپکا کےرکھ دیا جسے مجھے ناخنوں سے کُھرچ کر نکالنا پڑا، پر یہ سب ہوا کیسے؟ چونکہ میں اپنی کھوپڑی خالی کر چکا تھا اس لئے کچھ بھی یاد کرنے کی کوشش فضول تھی۔ میں پتہ نہیں اور کتنی دیر اس کوشش میں مشغول رہتا کہ میری توجہ رستی ہوئی بائیں کندھے پر موجود پھوڑے پر جا ٹکی۔ یقینا اس میں سے پیپ اور خون بہہ رہا تھا۔ میں نے رومال سے اسُے صاف کیا اور کتابیں سمیٹ کر میز پر رکھی اور خود بستر پر سونے کے لئے لیٹ گیا۔
صبح میرا سر عجیب بھاری ہو رہا تھا۔ غسل خانے میں جا کر میں نے اپنا ٹروائزر نیچے کر کے دیکھا میری ران کہ اوپر سُرخ نشان دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ، میں نے فوراً ٹروئزر اوپر کیا اور آئینے کے سامنے کھڑا ہو کرشیو کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ لیکن اپنے چہرے پر نظر ڈالتے ہی میں نے یہ خیال ملتوی کیا اور منہ دھو کر کچن میں آگیا۔ کافی تیار ہو چکی تھی میں نے سوکھے ہوئے دو توس اٹھائے ان کے بیچ میں کٹا ہوا کھیرا رکھا اور ناشتہ کر کے تیزی سے باہر نکل آیا۔ روز کی طرح آج بھی میری گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ مجبوراً میں نے ٹیکسی پکڑی اور دفتر کی طرف چل پڑا۔ میرا دھیان مسلسل میرے بٹوے کی طرف تھا اگر میں اسی طرح ٹیکسی میں آتا رہا تو اگلا ہفتہ بھی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ میں نے سوچا۔ مسلسل سوچنے سے میرا سر بھاری ہو رہا تھا، میں نے سر کو ہاتھوں میں تھاما کہ یکایک مجھے خیال آیا کہ میں اپنا دماغ وہیں میز پر چھوڑ آیا ہوں۔ “ میں اتنا لاپراہ کیسے ہو سکتا ہوں، اب میں واپس گیا تو ڈبل کرایہ لگے گا اور دفتر سے بھی دیر ہو جائے گی، مگر بغیر دماغ کے آگے جانا کیا سودمند ہو گا” میں انہی سوچوں میں تھا کہ میں نے غور کیا کہ اگر میں دماغ نہ اُٹھا لاتا تو ایسا سوچ کیسے سکتا تھا۔ “ یقیناً میں نے دماغ واپس کھوپڑی میں ڈال لیا تھا محض مجھے یاد نہیں آ رہا ، خیر اب جلدی سے دفتر پہنچ جاوں پھر اس بارے میں فرصت سے سوچوں گا” گاڑی رُک چکی تھی۔ کافی زیادہ ٹریفک جام تھا۔ “کیا ہوا ٹریفک کیوں رُکی ہوئی ہے” میں نے ڈرائیور سے استفسار کیا۔ “جناب روٹ لگا ہوا ہے، وزیر تحفظ ِ دو پایہ حیوانات نے آج عدالت جانا ہے ان کی گاڑی کو گزرنا ہو گا” ڈرائیور نے مجھے بتایا تو مجھے یاد آیا کہ رات اس حوالے سے خبروں میں بھی بتا رہے تھے کہ وزیر تحفظ ِدو پایہ حیوانات کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ جو کیس وہ عدالت میں کر چکے ہیں اس کا نتیجہ بہت ہی بھیانک ہو سکتا ہے۔ میں نے جُھرجھری لی۔ “ یہ وہی وزیر تھا جس کا منہ ایک طرف سے ترچھا تھا اور جب بھی ٹی وی پر آتا تھا کیمرہ ہمیشہ اس کا سائیڈ پوز دکھاتا تھا۔ “ آج تو دفتر جانے میں دیر ہو جائے گی اور اُس منحوس سانڈ سے بے نقط سننی پڑیں گی “ میں اسی فکر میں تھا کہ وزیر موصوف کی گاڑی پاس سے گزری جس میں پیچھے والے شیشے سے وزیر محترم اور اگلے شیشے سے ان کا جرمن نسل کا کُتا ہمیں نہایت حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گزر گیا۔

 

میں ایک گھنٹہ دفتر سے لیٹ ہو چکا تھا۔ میں ایک ادبی جریدے میں کام کرتا تھا میری پوزیشن دفتر میں بالکل غیر ضروری تھی اور میں بھی اسے غیر ضروری ہی سمجھتا تھا مگر اس کے باوجود میں کافی جانفشانی سے کام کیا کرتا تھا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ دفتر کی واحد جوان اڈیٹر ، مدیر اعلیٰ کی ٹیبل پر کہنیاں ٹکا کر جھکی کھڑی ہے۔ اس کا پچھواڑا ہمیشہ کی طرح اتنا بیہودہ لگ رہا تھا کہ میرا دل کیا کہ میں ہاتھ میں پکڑے پن کی نب زور سے اُس کے پچھواڑے میں گھسا دوں یہاں تک کہ پورا آفس اس کی مکروہ چیخوں کو سُن لے۔ لیکن میں خاموشی سے آگے بڑھنے لگا اب بھی میری نظر پیچھے اُسی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے چہرے پہ میک اپ کی اتنی دبیز تہہ لگا رکھی تھی جسے رندے سے ہی اُتارا جا سکتا تھا۔ ۔ اس خاتون کی چھاتیوں کے سائز اور تنخواہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔اُس کے گلے کا صلیب مدیر اعلیٰ کی آنکھوں کے سامنے جھول رہا تھا۔ وہ شاید اُسے شعری محل وقوع سمجھا رہی تھی جس پر مدیر محترم تنقیدی نقطہ نگاہ ڈال رہے تھے۔مدیر کی باچھوں سے لال لال پان بہہ رہا تھا یہ خبیث ہمیشہ مجھے آدم خور لگتا تھا میں اکثر سوچتا تھا کہ اگر میں اس کےکپڑے پھاڑ ڈالوں تو نیچے سے یہ کتنا وحشی دکھائی دے گا۔ میں ابھی اپنے ٹیبل پر بیٹھا تھا کہ باس کا بلاوہ آگیا۔ جب میں اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ اپنی توند تقیریباً میز پر سجائے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بھڑک کر اٹھنے کی کوشش کی جس میں اس کا پیٹ حائل رہا۔ وہ دوبارہ کرسی پہ ڈھیر ہو گیا اور دھاڑنے لگا “ ستیا ناس ہو تمہارا بدبخت پھر پرچے کا بیڑہ غرق کر دیا۔ گدھے کی اولاد تمہیں کتنی بار بتایا ہے کہ نارنگ مذکر ہوتا ہے تم نے پھر اُسے مونث لکھ دیا اور معروف شاعر خاکم داہنی کا لقب شاعر ِبے بدل ہے تم ہر بار اُسے شاعر بد دل کیوں لکھ دیتے ہو؟ اور یہ بتا کہ تجھے چیتے اور بھیڑیے میں فرق نظر نہیں آتا؟ تمہارا دماغ ہوتا کہاں ہے؟” وہ مسلسل بھونکے جا رہا تھا۔ میں اُسے کیا بتاتا کہ واقعی مجھے چیتے اور بھیڑیے میں فرق نظر نہیں آتا ۔ اس پرچے کو چھاپتے ہوئے میں کتنا محتاط رہا تھا کہ اس بار کوئی غلطی نہ ہو پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں غلطیاں کر بیٹھا تھا۔ “ آخر میرا دماغ رہتا کہاں ہے “ میں نے سوچا تو مجھے یاد آیا کہ میں اپنا دماغ گھر میں پتہ نہیں کہاں بھول آیا تھا۔ “ کیا وہ میز پر پڑا تھا یا میں نے اُسے دراز میں رکھ دیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میں نے اُسے کھوپڑی میں دوبارہ ڈال لیا ہو، لیکن اگر وہ واقعی میز پر رہ گیا ہے تو یہ ایک خطرناک بات ہے کیوں کافی دنوں سے ایک موٹی بلی میری گلی کا چکر لگا رہی تھی۔ اگر اُس نے میرا دماغ کھا لیا تو؟ لیکن اُس میں اتنی زیادہ راکھ ملی ہوئی تھی، بلیوں کے بارے میں مشہور ہے وہ راکھ نہیں کھاتی ورنہ ان کی نظر جاتی رہتی ہے، لیکن پھر بھی اگر وہ کھا گئی تو؟ یہ معاملہ واقعی تشویش ناک ہے۔ مجھے اس بارے میں جلدی سے کچھ کرنا ہوگا” میں مسلسل اپنے دماغ کی ممکنہ گمشدگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگر وہ گم ہو گیا تو کیا مجھے پولیس میں رپٹ لکھوانی چاہئے؟ لیکن پولیس والے تو بہت رشوت مانگتے ہیں اور ویسے بھی دماغ کی گمشدگی ایسا معاملہ ہے جس میں پولیس کی زیادہ دلچسپی نہیں ہو گی۔ لیکن کچھ بھی ہو مجھے اس خبر کی تشہیر نہیں کرنی چاہئے۔

 

گھر پہنچنے تک میں انہیں خیالوں میں گم تھا۔ میں بھاگ کر اپنے کمرے میں پہنچا، میز پر تھوڑی سی راکھ پڑی ہوئی تھی اوپر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ میں نے سب درازوں کو دیکھ لیا۔ باسکٹ بھی انڈیل کر دیکھ لی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔ “ اب کیا ہو گا” میں نے ایک پل کو سوچا پھر سر جھٹک کر بزرگ شاعر علامہ مایوس پوری پر تنقیدی مضمون لکھنے لگا۔
Categories
فکشن

بندے علی

وہ یہاں کب سے تھے یہ نہیں بتایا جا سکتا۔ امانی اورماما حسن باندی بتاتی تھیں کہ وہ فوج کی نوکری چھوڑ کر ادھر آ بسے تھے۔ منہ لمبا ساتھا اور رنگ شائد آبنوسی ہی ہو گا۔ لمبے، ایک ہیولے کے جیسے، ہر وقت غیر محسوس طریقے سے گھر کے کام سنبھالے رہتے تھے۔ ہمشیر، بھائی اور میں اکٹھے سکول کے لیے نکلتے تھے، وہ اُس وقت ایک پھِرکی کے جیسے سارے گھر میں گھومتے پھِرتے۔ ہمشیر نے انڈا اُبلا ہُوا کھانا ہے، میں خاگینہ لے کر جاؤں گا، بھائی توس پر ملائی اور شہد لگائیں گے، مُجھے پانی کی جگہ ساتھ لے جانے کے لیے شربت دینا ہے سب کچھ اُنہیں ازبر تھا۔ لو بھئی سب نے کھانا کھا لیا چلو اپنے اپنے بستے لا کر دو مجھے، نا بیٹا مجھے دو، خود نہیں اُٹھانا، چار بستے کاندھوں پر لٹکائے لشٹم پشٹم وہ ہمارے پیچھے پیچھے چلتے آتے۔ہمشیر اپنے سکول کی گاڑی میں سب سے پہلے روانہ ہوتیں،پھر میں اپنے سکول، آخر میں بھائی کو چھوڑنے خود جاتے۔گھر میں کیا پکنا ہے، کتنا پکانا ہے، بی جان بالکل بے فکر ہوتی تھیں، بھائی کو چھوڑکر وہ خود قریب کے بازار سے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد سبزی پھل لاتے اور چولہے کے ہو جاتے۔ دروازے پر گھنٹی بجی، بی جان آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں، دوڑے ہوئے گئے، آنے والے کو بھگتا کر ہانپتے ہوئے آئے کہ سالن کے خیال میں قدم خود بہ خود تیز ہی پڑتے تھے۔ جب تک کھانا بنا کر فارغ ہوتے تو چچا میاں کے مُلاقاتی آنے شروع ہو جاتے، اب اُن کے چاء پانی، نشست و برخواست کے مدار المہام بھی وہی ٹھہرے تو وہ اب یہاں مصروف ہو جاتے۔ وقت ضرور پوچھتے رہتے کہ بھائی کو لے کر بھی آنا ہوتا۔ ہم دونوں کو تو واپسی پہ گھر اُتارا جاتا تھا۔ مُلاقاتیوں کا زور ٹوٹتا تو ہم لوگوں کی واپسی کا وقت ہو جاتااور آتے ہی کھانا پروس دیا جاتا۔ پھر قاری چچا، پھر بھائی کے اُستاد، پھر میرے اُستاد آ جاتے اور سب مارے باندھے کھانے کی میز پر پڑھنے بیٹھے رہتے۔ وہ سب کے لیے چاء کا بندوبست کرتے، سامنے باغ میں پانی دیتے اور پودوں کی کاٹ چھانٹ میں لگے رہتے۔ مغرب کی اذان کے بعد بھائی کا کوئی دوست آتا تو اُسے ڈانٹ کر بھگا دیتے اور مُنہ بسورے بھائی روزانہ تقریباً یہی جملہ سنتے ’بی جان، صاحِبزادے کو بتا دیں کہ شریفوں کی اولاد رات میں گھر پر اچھی لگتی ہے‘۔ شام سات بجے وہ گھر کے پچھواڑے، اپنے کمرے میں چلے جاتے اور نہایت دھیمی آواز میں ریڈیو سنتے رہتے۔

 

معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔
معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔ ظہر سے لے کر رات ایک بجے تک گھر کے قریبی عزاخانے میں بیٹھے رہتے، ہر جُلوس میں بطور رضا کارساتھ رہتے، آٹھویں دن جُلوس میں ننگے پیر تپتی زمین پر نشان اُٹھائے آگے آگے ہوتے، جہاں جُلوس رکنا ہوتا وہاں نشان کا بانس پاؤں کے اوپر ٹِکا لیتے کہ نیچے زمین کو لگنے سے بے حُرمتی نہ ہو۔ واپس آ کر سبیل لگائی جاتی، دسویں دن جُلوس میں زنجیرماتم کرتے، گھر آتے تو زخموں پر راکھ اور تیل کا لیپ ہوتا، دو روز اوندھے لیٹے رہتے، سوئم امام سے پھر حاضریاں شروع ہو جاتیں، ہاں، کالا کُرتا سوئم کے بعد اُتار دیتے تھے۔ چہلم تک اُن کے زخم جو ابھی ٹھیک سے بھرے بھی نہ ہوتے دوبارہ زنجیرماتم سے خراب ہو جاتے ۔ بی جان نے کئی بار ہمیں اُن کے کمرے میں بھیجا کہ اُن کا ماتمی سامان ڈھونڈ کر چُھپا دیں لیکن وہ شاید باہر کسی کے ہاں رکھ کر ہی آتے تھے۔ داجان کئی بار اُن سے بحث کرتے لیکن وہ ہر بار جھلّاکر یہی جواب دیتے کہ بھائی جان، قیامت کے دن مولا کو اپنا مُنہ دکھاؤں گا یا مُلّا کا فتوی، کہ زنجیرماتم کے بجائے خون عطیہ کر دو، بھلا بتائیں، مولا کو یہ کہوں گاکہ امّاں، باوا کا دین مولویوں کے کہے سے بدل دیا؟

 

داجان نے ایک دن بندے علی کی کہانی سنائی تھی، لیکن اس شرط پر کہ ہم اُن سے کبھی اس بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔ نواب زمان حیدر خان اپنے وقتوں کے بڑے پرگنہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔ تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔ کئی بار لڑائی جھگڑا سر پھٹول کی، ما ں باپ کے کہے میں نہ آتے تھے، رنگا رنگ اسلحہ جمع کیا ہوا تھا لیکن لڑائیاں ہمیشہ خالی ہاتھ لڑے۔ پڑھائی کے بعد باپ کو ایک ہی راستہ نظر آیا اُنہیں سُدھارنے کا، کہ فوج میں بھرتی کروا دیا جائے۔ ماں باپ کے بارہا سمجھانے کے باوجود وہ جانا نہیں چاہتے تھے کیوں کہ اُن کی نظر میں زمان حیدرکی سات نسلوں کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک دن ماں نے انہیں اپنی قسمیں دے کر راضی کر لیا۔

 

وہ فوج میں گئے لیکن نواب زمان حیدرسے اکلوتے بیٹے کا جانا برداشت نہ ہوا اور اگلے ہی مہینے دِل کے معمولی دورے کے بعد بخار میں انتقال فرما گئے۔ اب اِن کی والدہ نے جانے کیامصلحت سمجھی کہ اِنہیں باپ کے مرنے کی اطلاع نہ دی (شاید یہ سوچا ہو کہ نوکری چھوڑ چھاڑ کر آ جائیں گے اور پہلے سے زیادہ بگڑ جائیں گے)، بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر بڑی بہن نے چالیسویں پر خط لکھ مارا جو اُنہیں ایک ہفتے بعد ملا۔ طیش میں آکر اُنہوں نے قسم کھائی کہ جس ماں نے انہیں مرے باپ کا چہرہ نہیں دیکھنے بلایا اس کا مُنہ اُن کے مرنے کے بعد بھی نہیں دیکھیں گے۔ آٹھ دس سال اُنہوں نے فوج میں گُزارے لیکن گھر کا کبھی قصد نہ کیا، بہنیں آتیں، ماں جائے کو مل کر آنکھیں ٹھنڈی کر لیتیں اور پلٹ جاتیں۔

 

تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔
بعد میں بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی۔ ایک روز داجان ماما حسن باندی، بی جان اورہمشیر کو لے کر ساحلِ سمندر جا رہے تھے کہ بہت بھیانک طریقے سے اُن کی گاڑی کو ایک بس نے ٹکر مار دی، سب لوگ کافی زخمی ہوئے لیکن داجان اور ماما حسن باندی تو بے ہوش ہو چکے تھے۔ ہمشیرکے بازو پر آج بھی وہ زخم کا نشان نظر آتا ہے، خیر، جو لوگ مدد کو دوڑے آئے اُن میں بندے علی سب سے آگے تھے کہ اُدھر ہی آس پاس ہوٹل تھا اور بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہمشیر کو گود میں اُٹھا کر اُنہوں نے ایمبولینس بُلوائی اور سب کو بھاگم بھاگ اسپتال داخل کرایا۔ تین دن تک کسی کی حالت ایسی نہ تھی کہ ہمشیر کو سنبھالتا، یہ بے چارے وہیں داجان کی پائنتی سے لگے بیٹھے رہتے اور اِس ننھی بچی کو بھی سنبھالتے۔ امانی بی جان کے پاس ہوتی تھیں۔ داجان کے گھر آنے پر یہ اُن کے ساتھ ہی گھر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ایک بار اُن کی بڑی بہن ملنے بھی آئیں، بہت واسطے دئیے کہ یہ جا کر علاقہ سنبھال لیں مگر وہ بندے علی ہی کیا جو ہٹ کے پکے نہ رہیں۔ ماں کی وفات ہوئی تو بھی یہ چہلم کو دو دن کے لیے گئے اور اپنی ضد نِبھائی۔

 

تب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کیا تھے اور کیا ہو گئے۔

 

بھائی کی اُن سے بالکل نہ بنتی تھی کہ وہ عمر کے اُس حصے میں تھے جہاں ماں باپ کی لگائی پابندیاں برداشت نہیں ہوتیں کُجا کوئی اور روک ٹوک کرے۔ بندے علی کھیل کودسے کبھی نہیں روکتے تھے بلکہ خود بھی قومی کھیل کے بہت اچھے کھلاڑی رہ چکے تھے اور اُن دِنوں بطور فیصلہ کُنندہ مُلکی سطح کے مُقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن کی روک ٹوک ہوتی کہ فلاں لڑکا تمباکو پیتے دیکھا تھا میں نے، تم اُس سے کیوں مل رہے ہو، بے وقت کہاں جا رہے ہو، گرمیوں میں دوپہر کو آرام کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔ بھائی کبھی کبھی اُن سے نظر بچا کر نکل بھی جاتے لیکن وہ پھر بی جان اور داجان کے پیچھے پڑ جاتے کہ آپ لڑکے کو بگاڑ کر ہی دم لیں گے اور بھائی کے آنے کے بعد اُن سے بھی دِنوں ناراض رہتے، بھائی، تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق اِتنے دِن اور آزادی مناتے۔ آخر ایک دِن بندے علی خود ہی بداؤں کے پیڑے لے آتے جو بھائی کو بہت پسند تھے اور تھوڑا بہت ڈانٹ کر اُنہیں پاس بُلاکر گلے سے لگا لیتے اور کہتے’ارے ماٹی مِلو، تمہی سب نے ہمیں گڑھے میں اُتارنا ہے، چار کندھے بھی پرائے ہوں تو کیا میّت کیا جنازہ‘۔

 

بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی
اُنہوں نے شادی بھی اِسی لیے نہیں کی کہ آزاد منش اور تھوڑے سنکی تھے اور اپنی طبیعت سے واقف بھی تھے۔ کئی بار بی جان نے کہا، بہنوں نے بھی زور دیا لیکن زیادہ کہنے پر ناراض ہو جاتے اور چپ کر کے باہر نکل جاتے۔ گلی کے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، نامعلوم کس بچے نے اُن کی چھیڑ ماضی میں ہوٹلوں پر کام کرنے کی وجہ سے ’انڈاگریوی‘ رکھ دی، اب یہ نکلتے اور کوئی بچہ باہر ہوتا تو آواز لگا کر غائب ہو جاتا اور یہ بے چارے دیر تک چِڑے رہتے اور غصے میں گھومتے رہتے۔

 

اِس بار بھی سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔ داجان بھاگم بھاگ اسپتال لے گئے، وہاں معلوم ہوا کہ اِن کی کمرکئی بار زخمی ہونے کی وجہ سے ناقابلِ علاج ہے تو مرہم پٹی کروا کے گھر لے آئے۔ بی جان نے بہت ڈانٹا، منع کیا کہ آج کے بعد آپ سب کچھ کریں گے زنجیرماتم نہیں، یہ بھی سر جھکائے سنتے رہے، کمرے میں گئے، تمباکوپیا، اوندھے لیٹے رہے، سو گئے۔ بھائی نے بھی بستر اُٹھایا، خاموشی سے جا کر اُن کے کمرے میں زمین پر بچھا دیا اور لیٹ گئے۔رات کو خون زیادہ بہہ جانے سے دل کا دورہ پڑا، بھائی اور داجان اسپتال لے کر دوڑے، وہاں اُن کی حالت سنبھل گئی اور صبح اُنہیں لے کر آگئے۔ اب اُن کے نکلنے پر پابندی تھی، بھائی بھی چار پانچ دن ڈبڈبائی آنکھیں لیے ان کے آس پاس گھومتے رہے، پھر کالج کُھلے تو بھی آنے کے بعد اُن کے پاس چلے جاتے اور زیادہ وقت وہیں گُزارتے۔ وہ چہلم سے دو دن پہلے نکلے، بازار جا کر ٹرنک کال بُک کرائی، بہنوں کو فون کیا، گھر واپس آتے ہوئے ہم سب کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے لائے (باوجود اِس کے کہ سوگ کے مہینے میں کبھی نئی چیز نہیں خریدتے تھے)، بی جان کے پاس گئے اور ایسے لہجے میں چہلم کے جُلوس میں جانے کی اجازت مانگی کہ اُنہیں دیتے ہی بنی لیکن زنجیر ماتم سے اُنہیں سختی سے منع کیا۔ یہ بھی وعدہ کر کے چلے گئے۔ چہلم کے روز عصر کا وقت تھا، قریبی عزاخانے سے فون آیا اور اِطلاع دی گئی کہ بندے علی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، داجان اور بھائی فوراً دوڑے لیکن بندے علی اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی جا چُکے تھے۔ جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے ‘بی جان کو مت بتانا، بی جان کو مت بتانا’۔
Categories
فکشن

اجنبی

ہوا میں تپش تھی، وہ بگولوں کی صورت اٹھتی اور دور تک پگڈنڈی پہ مٹی کو گول دائروں میں اٹھائے چلی جاتی تھی۔ گھوڑا سفید رنگ کا منہ زور اور اتھرا تھا۔ تانگہ طوفانی رفتار سے پگڈنڈی پہ دوڑ رہا تھا گھوڑے کے سموں اور تانگے کے پہیوں سے اٹھنے والی دھول کچھ دیر کے لیے حیرت سے تانگے کے پیچھے بیٹھے دو اجنبیوں کو تکتی اور پھر آرام سے پگڈنڈی پہ بیٹھ جاتی تھی۔ بوڑھے شخص نے نیلے رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی اور پگڑی کے نیچے پیشانی پہ شکنیں گہری ہو رہی تھیں۔ دو مسافر اور کوچون تانگے کے اگلے حصّے میں براجمان تھے۔ اُس سال خوردہ بوڑھے شخص نے اپنی برف سفید داڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور گردن موڑ کر پگڈنڈی کو دیکھا۔ بڑھاپے سے لاغر ہوتے چہرے پہ دو گڑھوں میں دھنسی نیم پیلی آنکھوں سے اُس نے متفکر انداز میں سامنے دیکھا۔ عمر کے اسی دہائیوں کے سفر نے اُس کا حلیہ ہی نہیں بدلا تھا پنجاب کے اس دور افتادہ علاقے کی شکل بھی کافی حد تک تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ تذبذب اور پریشانی میں تھا کیا وہ صحیح راستے پہ جارہے ہیں؟ کیا یہی راستہ اُس کے گھر کو جاتا ہے۔ سالوں کے سفر نے راستوں کے حلیے ہی نہیں بدلے تھے اُس کی یادداشت کا چراغ بھی کسی حد تک دھیمی آنچ پہ کر دیا تھا۔

 

تانگہ طوفانی رفتار سے پگڈنڈی پہ دوڑ رہا تھا گھوڑے کے سموں اور تانگے کے پہیوں سے اٹھنے والی دھول کچھ دیر کے لیے حیرت سے تانگے کے پیچھے بیٹھے دو اجنبیوں کو تکتی اور پھر آرام سے پگڈنڈی پہ بیٹھ جاتی تھی۔
“بھاجی آپ کو یقین ہے نا چک نظام کو یہی رستہ جاتا ہے؟” بوڑھے شخص نے کوچوان کو مخاطب کیا۔

 

“بزرگو چک نظام کا تو مجھے پتہ نہیں مگر جو آپ نے نشانیاں بتائی ہیں اور جو آپ نے نقشہ بتایا ہے وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے پر اس سے ملتی جلتی بستی خیر دین ہے اور میں وہیں پر آپ کو لے جا رہا ہوں، اگر وہ آپ کا مطلوبہ گاؤں ہوا تو سمجھو آپ کا سفر رنگ لایا اور اگر نہ ہوا تو سمجھو آپ نے مفت میں اس بڑھاپے میں سفر کی یہ صعوبت برداشت گی۔”

 

کوچوان کی بات سن کر بوڑھے کی پیشانی پہ شکنیں اور بھی گہری ہو گئیں گرد آلود گرم ہوا اُس کی پیشانی سے ٹکرا رہی تھی بیساکھ اپنے شروع کے دنوں پہ تھا۔ گندم کے سونا کھیت پگڈنڈی کے دونوں طرف دور تک پھیلے تھے۔ گرم ہوا سبز بالیوں سے ٹکرا کر ایک احساس تفاخر میں اوپر اٹھتی تھی۔ کھیتوں میں کسرتی بدن کے کسان تیز دھوپ سے بچاؤ کے لیے پگڑیاں باندھے گردن جھکائے انتہائی پھرتی کے ساتھ درانتیاں چلا رہے تھے اور گندم کی فصل کاٹ رہے تھے۔ گھوڑے کے سموں اور تانگے کے پہیوں کی آواز سن کر اکا دکا کسان گردن اٹھا کر کچھ دیر تک اُن کو دیکھتے اور اس بہانے تھوڑا سا سستا بھی لیتے تھے۔ کہیں کہیں ونگار کی صورت میں کسانوں کی ٹولیاں مل جل کر فصل کاٹ رہی تھیں اُن میں سے کچھ لوگ ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہے تھے اور بھنگڑا ڈال کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔

 

“تانگے والا خیر منگدا تانگہ لاہو ردا ہووے تے بھانویں جھنگ دا” کوچوان مشہور پنجابی دھن گنگنا رہا تھا۔ گنگناتے ہوئے اُس نے دھیمی پڑتی رفتار پر اچانک اتھرے کو دو چار پنجابی گالیاں بکیں اور چھانٹا رسید کیا۔ اتھرے کے سموں میں جیسے بجلیاں سی بھر گئیں اُس نے طوفانی رفتار کے ساتھ دوڑنا شروع کر دیا۔
بوڑھا مسافر بدستور پریشان تھا۔ اُس نے متفکر نظروں سے اپنی بوڑھی بیگم کو دیکھا جو اُس کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھی تھی۔ بوڑھی عورت نے سر سے سرکتا دوپٹہ کھینچ کر سفید بالوں کے اوپر کیا۔ پریشانی سلوٹیں بن کر بڑھیا کے ماتھے پر بھی پھیلی تھی۔

 

“لو جی بزرگو لگتا ہے آپ کی منزل آگئی ہے، یہ دائیں ہاتھ بستی خیر دین ہے” کچھ دور جا کر کوچوان نے تانگہ روکتے ہوئے کہا۔ کرایہ ادا کرکے عمر کے ہاتھوں کمزور اور سفر کے ہاتھوں نڈھال ہوتا بدن سمیٹ کر وہ بوڑھا، بڑھیا تانگے سے نیچے اتر آئے۔ دائیں ہاتھ قبرستان کے ساتھ ساتھ ایک کچا راستہ جاتا نظر آیا۔ وہ دونوں اُس راستے پہ چل پڑے۔ چک نظام کے راستے میں ایک چھوٹا سا قبرستان تھا یہ قبرستان اُس سے کافی بڑا تھا۔ پھر اُس نے سوچا وقت کے ساتھ جب بستیاں بڑی ہوتی ہیں تو اُن کے ساتھ قبرستان بھی پھیلنے لگتے ہیں۔ بستیوں میں زندگی اِس سے بے خبر کہ موت کا دامن بھی وسیع ہو رہا ہے اپنی دھن میں بے فکر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ قبرستان سے آگے بائیں ہاتھ ایک جوہڑ تھا اور جوہڑ کے کنارے برگد کا ایک بوڑھا درخت تھا۔ بوڑھے برگد کے نیچے پرانی اور بوسیدہ اینٹوں کا ایک کھنڈر سا پھیلا تھا ۔بوڑھے نے رک کر اُس برگد کے درخت کو دیکھا۔ چک نظام کے آس پاس بھی برگد کا ایک درخت ہوا کرتا تھا پر اُس کے نیچے ایک کنواں تھا۔ بوڑھے نے سوچا یہ کھنڈر شاید اُس کنویں کے ہی ہوں۔ برگد کے قریب یہ جوہڑ نیا ہمسایہ تھا پہلے وقتوں میں تو برگد کے آس پاس ہرے بھرے کھیت ہوا کرتے تھے۔ جوہڑ سے آگے کچے پکے مکانوں کی ایک بستی شروع ہو گئی۔

 

پھر اُس نے سوچا وقت کے ساتھ جب بستیاں بڑی ہوتی ہیں تو اُن کے ساتھ قبرستان بھی پھیلنے لگتے ہیں۔ بستیوں میں زندگی اِس سے بے خبر کہ موت کا دامن بھی وسیع ہو رہا ہے اپنی دھن میں بے فکر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
وہ دونوں جب بستی میں داخل ہوئے تو یکایک بوڑھے کی پیشانی سے شکنیں غائب ہو گئیں خوشی شفق بن کر گالوں کے افق پر اترتی چلی جا رہی تھی۔ یہ گلیاں یہ کوچے، یہ درودیوار کافی حد تک بدل ضرور گئے تھے مگر اُس کے لیے مکمل اجنبی نہیں ہوئے تھے۔ چک نظام اُس کی طرح بوڑھا نہیں ہوا تھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ کافی حد تک پھیل گیا تھا اور جوان ہو گیا تھا۔ چک نظام جہاں اکا دکا پکی حویلیاں تھیں اور باقی سارے کچے مکان تھے۔ وہاں اب اکا دکا کچے مکان تھے اور اکثریت پکے گھروں کی تھی۔ لوگ حیرت سے اُس اجنبی بوڑھے کو تکتے تھے۔ آج وہ اُس چک نظام کے لیے اجنبی تھا جہاں وہ پیدا ہوا پلا بڑھا۔ جس کے گلی کوچوں میں بچپن کا کھلنڈر اپن پھیلا تھا اور منہ زور اتھری جوانی کی ٹھوکریں بکھری پڑی تھیں۔ کچھ دیر کی تگ و دو اور تلاش کے بعد وہ بالآخر اپنی حویلی کے دروازے کے سامنے پہنچ گیا ڈیوڑھی کی اینٹیں خستہ ہو کر بھربھری ہو چکی تھیں۔ کہیں کہیں بھربھری سرخ اینٹوں پر کلر کی سفید تہہ جمی ہوئی تھی۔ سیمنٹ کے ٹکڑے باقی تھے اُن پر سیمنٹ ہی سے بنے نقش و نگا رکے معدوم ہوتے نشان باقی تھے۔ ڈیوڑھی کے کواڑ نیچے سے کافی حد تک وقت اور دیمک کی نذر ہو چکے تھے۔ کواڑبند تھے اور باہر سے کنڈی لگی تھی۔ بوڑھے اجنبی نے کنڈی کھولی اور کواڑ کو اندر دھکیلا ۔ ایک دھیمی چرچراہٹ کے ساتھ وقت کے ہاتھوں بوسیدہ ہوتا دروازہ لزرتے ہوئے کھل گیا۔ بوڑھے شخص کی پیلی گدلی آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی نمودار ہوتے چلے گئے۔ اُس نے بوڑھے پپڑی جمے ہونٹوں سے دروازے کو بوسہ دیا اور دہلیز پہ سجدہ ریز ہو گیا۔ آتے جاتے لوگ حیرت سے اُس سٹھیائے ہوئے بوڑھے کے پاگل پن کو تکتے تھے۔ کافی دیر سجدے میں رہنے کے بعد وہ اٹھا تو اُس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو چکی تھی۔ وہ اٹھا اور وارفتگی سے ڈیوڑھی کی دیواروں سے لپٹ گیا۔ وہ بوسیدہ دیواروں پہ لاغر ہاتھ پھیرتا اور اپنے چہرے پہ مل لیتا۔

 

سورج کہیں دور مغرب کے اندھے کنویں میں اتر رہا تھا اور ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں جو ڈیوڑھی کے راستے برآمدے پر اتر آئی تھیں منڈیروں سے رخصت ہونے کی تیاری کررہی تھیں۔ صحن میں بیری کے درخت کے نیچے بان کی چارپائی پڑی تھی وہ دونوں اُس پر بیٹھ گئے ۔ وہ ابھی چارپائی پر بیٹھے ہی تھے کہ ڈیوڑھی سے ایک نوجوان اندر داخل ہوا اُس نے ہاتھ میں حقہ اٹھا رکھا تھا اور دن بھر کی مشقت کے آثار اُس کے چہرے سے عیاں تھے۔ اُس جوان کے کے پیچھے ایک دیہاتی عورت اور دو لڑکے بھی حویلی میں داخل ہوئے۔ اُن دونوں اجنبیوں کو دیکھ کر وہ تمام حیرت کے سکتے میں تھے۔ بالآخر وہ نوجوان بولا:

 

“جیی آپ کون؟”

 

“میں اس گھر کا مالک ہوں!” بوڑھے نے لرزتے ہوئے ہونٹوں سے لفظ ادا کیے۔

 

” اس گھر کا مالک تو میں ہوں!!!” نوجوان کے لہجے میں غصے اور حیرت کا ملا جلا تاثر تھا۔ وہ غصے میں اس لیے تھا کہ اجنبی اُس کے گھر میں گھس آیا تھا اور اب اُس کے گھر پر بلا جواز ملکیت کا دعویٰ کررہا تھا۔

 

“بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟” بوڑھے نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

 

“میرا نام خورشید احمد ہے” بوڑھے نے باری باری اُس کی بیوی اور بیٹوں کے سر پر بھی ہاتھ پھیرے ۔

 

دن بھر وہ گندم کی کٹائی میں مصروف رہے تھے اور اب اس ناگہانی آفت نے انہیں چکرا دیا تھا۔

 

“بہت پیارا نام ہے خورشید۔۔۔۔ خورشید بیٹا اگر تم لوگ اطمینان سے بیٹھ سکتے ہو تو میں تمہیں ایک چھوٹی سی کہانی سنانا چاہتا ہوں!!!!” خورشید نے برآمدے میں سے چارپائی اٹھائی اور اُن کے سامنے ڈال دی اور وہ پورا خاندان اُس پر بیٹھ گیا۔

 

بچپن سے لے کر جوانی تک کی سبھی خوشیاں انہی درودیوار کے اندر تو بکھری ہوئی ہیں۔ اسی ڈیوڑھی سے میری بارات نکلی تھی اور اسی صحن میں اجیت کور کی ڈولی اتری تھی” بلوندرسنگھ نے اپنی پتنی کی طرف اشارہ کیا۔
“خورشید بیٹا یہ گھر میرا گھر ہی تھا، وہ جو سامنے برآمدے میں کونے والا کمرہ ہے نا میں اُس کمرے میں پیدا ہوا تھا۔ ماتا پریت کور یہی بتایا کرتی تھی۔ میرے باپ کا نام سردار جتندرسنگھ تھا وہ اس گاؤں کے سرپنچ تھے۔ میرے دادا سردار نظام سنگھ نے یہ گاؤں آباد کیا تھا۔ جب ہم لوگ چلے گئے تو گاؤں کا نام بھی بدل کر چک نظام سنگھ سے بستی خیر دین ہو گیا۔ میرے باپ نے میرا نام سردار بلوندر سنگھ رکھا۔ اسی برآمدے میں گھٹنوں کے بل چلتے چلتے میں نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھا۔ گرمیوں کے دنوں میں اسی دالان میں ماتا پریت کور کی لوریوں کی آواز گونجتی تھی اور نیند دبے قدموں آنکھوں کی وادیوں میں اتر آتی تھی۔ اسی صحن میں بہن امرت کور “ککلی کلیردی پگ میرے ویر دی” گایا اور کھیلا کرتی تھی اُس کی سکھیوں کے ہنسنے اور گانے کا شور دن بھر ان درودیواور کے اندر گونجتا رہتا تھا۔ وہ سامنے ڈیوڑھی میں سردار جتندر سنگھ کی پنچایت لگا کرتی تھی اور لوگوں کا میلہ تھا کہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا اور ماتا پریت کور کا سارا دن لسی پانی اور روٹی ٹکر کے بندوبست میں گزر جاتا تھا۔ اسی ڈیوڑھی میں سے سردار سکھوندر سنگھ پہلے اپنے کندھوں پہ بٹھا کر اور پھر انگلی پکڑکر اپنے ساتھ سکول لے جایا کرتا تھا” بوڑھے سردار نے پگڑی درست کرتے ہوئے تھوڑا توقف کیا۔ وہ پورا خاندان بیتے وقتوں کی الف لیلیٰ میں گم ہو چکا تھا۔

 

“بچپن سے لے کر جوانی تک کی سبھی خوشیاں انہی درودیوار کے اندر تو بکھری ہوئی ہیں۔ اسی ڈیوڑھی سے میری بارات نکلی تھی اور اسی صحن میں اجیت کور کی ڈولی اتری تھی” بلوندرسنگھ نے اپنی پتنی کی طرف اشارہ کیا۔
” اسی صحن میں میں نے اپنوں کو پرائے ہوتے اور دوستوں کو دشمن بنتے دیکھا۔ میں لوگوں کو دوش نہیں دیتا وہ وقت ہی ایسا تھا۔ جب تقسیم کا اعلان ہوا تھا تو سبھی بدل گئے تھے۔ وہی جو ماتا پریت کور کے ہاتھ سے لسی پیتے تھے اور پراٹھے کھاتے تھے اور اپنی ماں کہتے تھے اُنہی کے ہاتھوں ماتا پریت کور ، بہن امرت کور اور بھائی سکھوندرسنگھ کے سینے چھلنی ہوئے وہ وقت ہی ایسا تھا ہندوستان جاتے ہوئے جو راستے میں ملے جو وہاں سے آرہے تھے اُن کے ساتھ بھی یہی بیتی تھی۔۔۔۔۔” بوڑھے سردار کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو چکی تھی “ان درودیوار نے اُن کی چتاکی آگ کے شعلے دیکھے تھے اور اسی صحن میں سب رشتے راکھ ہو گئے تھے دکھ اور سکھ کے ان گنت لمحے جو زندگی کا اثاثہ ہیں اس آنگن سے وابستہ تھے۔۔۔۔سردار جتندر سنگھ، اجیت کور اور میں جان بچا کر ادھر چلے گئے ۔ مگر میرا دل ساٹھ سال سے مسلسل ان گلی کوچوں، ان درودیوار کے لیے تڑپتا ہے۔۔۔۔ آیا تو میں بابے نانک کی جنم بھومی پہ ماتھا ٹیکنے کے بہانے سے ہوں پر اصل ماتھا میں نے اس دہلیز پر ٹیکنا تھا۔۔۔۔زندگی کی ایک آخری خواہش تھی کہ جب آنکھیں بے نور ہوں تو اس حویلی کا ایک آخری نقش ان آنکھوں کی پتلیوں میں محفوظ ہو۔۔۔۔” شام کی تاریکی آہستہ آہستہ درودیوار پہ بسیرا کرتی جارہی تھی۔ خورشید احمد کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی۔ گھر کا اصلی مالک اُس کے سامنے بیٹھا تھا اور وہ خود کو اپنے گھر میں ہی اجنبی محسوس کررہا تھا۔
Categories
نقطۂ نظر

خالہ اُمّہ مر گئی

“مر گئی بے چاری! سسکیاں لیتی، آہیں بھرتی، آ ہا، افسوس، صد افسوس ! ”
“کون مر گئی بھئی، کیوں اتنے بین کر رہے ہو، کاہے کو اتنا رونا دھونا ڈالا ہوا ہے؟ ”
“ہیں؟ تو کیا تمہیں نہیں معلوم؟ معلوم نہیں آخر کس چیز کا پتہ ہے تمہیں بے خبرے خبردار منٹ موجودے ! ”
“اب بتاؤ گے بھی کہ بس ایسے ہی بجھاہٹیں ہی ڈالتے جاؤ گے چاچا بے ٹائیمے ٹائم پٹاس !”
“اُمّہ خالہ مر گئی !”
“بھئی کون سی اُمّہ خالہ؟”
دیکھ منٹ موجودے میری ایک بات مضبوطی سے اپنے سافٹ ویئر میں باندھ لو کہ مسلمان ظالم ہو سکتا ہے، حرام ہوتا دیکھ سکتا ہے پر کھاتا وہ حلال کر کے ہی ہے
” لو جی تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اُمّہ خالہ کون تھی؟ کھپرے، مجھے ایک چیز کا بتا، آخر تمہیں پتہ کس چیز کا ہے؟ سارا دن وٹس ایپ سے تیری دماغ کی انگلیان فنگلیاں ہٹیں تو تجھے پتہ چلے آس پاس اور اڑوس پڑوس کی فوتگیوں کا؟ ”
“بس تم نے تو چاچا بے ٹائیمے ٹائم پٹاس قسم ہی کھائی ہے کہ سیدھے سبھاؤ بات نہیں کرنی!”
“اور تم نے بھی تو منٹ موجودے کبھی تھوتھنی مارکہ سیلفیوں سے باہر منہ نکال دیکھیا ہو تو تجھے بھی کچھ پتہ چلے نا! ”
“چل آج تیری بھی فوٹو بنا کے، ایڈٹ شیڈٹ مار کے فیس بک پہ چڑھاتا ہوں! اب تو تُو خوش ہو جا۔۔۔۔ اور یہ سسپنس سٹوری اب سب سے پہلے پھوڑ ہی دے! ”
“اچھا منٹ موجودے، او گمشدہ گُڈے بتاتا ہوں تجھے خالہ اُمّہ کون تھی۔ پانی کا گلاس پینے دے ذرا، منہ کو تو تھوڑا گیلا ہو لینے دے!
” پی لو پانی، پانی پینے کے بعد شایدتیرے اندر سے خبر رِس پڑے! پہلے ہی اتنا ٹائم کھا گئے ہو میرا۔۔۔۔ اب پانی سے بات شاید ڈکار کے ساتھ ہی نکل پڑے! ”
“اچھا تو تُو پوچھ رہا تھا کہ خالہ اُمّہ کون ہے۔ ہاں، اس دوشیزہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی۔ غریب کی جورو تھی لہٰذا بوقتِ ضرورت اور حسبِ ذائقہ سب کی بھابھی تھی۔ لیکن بہت سارے قریبی رشتے دار اسے غیرت کے نام پر قتل کرنے کےلئے اس کے پیچھے پڑے رہے۔ لیکن یہ بھی کبھی ایک سرحد پار کرکے دوسری سرحد کی حدوں میں پناہ لیتی رہی۔ ہاں یہ یاد رکھنا کہ جوانی میں اس کا نام پان اسلامزم تھا۔۔۔۔او منٹ موجودے یہ سُن ساتھ والی گلی سے قلفیوں والے بابے اللہ رکّھے کی آواز آ رہی ہے، اسے ذرا مس کال مار کے ادھر آئے اس سے قلفیوں کھاتے ہیں! ”
“لے تجھے درمیان میں قلفیوں کیا سوجھی، تیرے کان کدھر کدھر ہوتے ہیں!”
” اوہ تُو کرتا ہے مس کال کہ میں خود جا کے اس سے لے آؤں قلفیاں ؟ ”
” بڑا جذباتی بلیک میلر ہے چاچے بے ٹائیمے ٹائم پٹاس! چل مس کال نہیں کرتا، کال کر کے ہی بُلا لیتا ہوں قلفیوں والے کو۔ اچھا تُو اب آگے کی سُنا، اس خالہ اُمّہ کی جوانی پہ آ کے تیری قلفی کیوں جم گئی! ”
” یار! منٹ موجودے شارٹ بریک ضروری تھی۔ خالہ اُمّہ کی بھاگا بھاگی میں اک موڑ آگیا ہے۔”
” چل قلفی تجھے مل ہی جائے گی اب، بابا اللہ رکّھا ادھر آ ہی رہا ہے بس میری بات ہو گئی ہے اس سے۔”
“اچھا تو خالہ اُمّہ اسی بھاگا بھاگی میں کئی سال ہوئے بیوہ ہو گئی تھی۔ جب خالہ بیوہ ہوئی تو غیرت کے نام پر اسے قتل کرنے والوں کا غصہ بھی کچھ ٹھنڈا ہو گیا۔ لیکن وہ بہت لاچار ہوگئی۔ عیدوں اور شب برأتوں پہ اس پر ترس کھا کے اس کے رشتے دارکچھ بچا کھچا قربانی کا گوشت اور فطرہ زکوٰہ وغیرہ دے کر اپنی آخرت سنوار تے اور ضمیر کی خلش مٹا لیتے تھے۔ کبھی کبھار پرانے کپڑے دے کر آفات و بلیات سے حفاظت کی سند بہم پہنچا لیتے تھے۔ لیکن پچھلے ایک دو سالوں سے خالہ اُمّہ کے بھائیوں اور بھرجائیوں کی ناجائز اولاد نے تایا سام کے ساتھ نشے میں چُور ہو کے خالہ اُمّہ سے مُلک شام میں چھیڑ چھاڑ شروع کر رکھی تھی۔ کئی دفعہ تو کپڑے تک پھاڑ دئیے۔ لیکن شریر بچے چونکہ خالہ اُمّہ کے بہن بھائیوں کے اپنے ہی تھے اس لئے آنکھیں دوسری طرف کرلینا ہی درست سمجھا گیا کہ مبادا چار عاقل بالغ اور راسخ العقیدہ مردوں کی گواہی پوری نہ ہو جائے۔ دیکھ منٹ موجودے میری ایک بات مضبوطی سے اپنے سافٹ ویئر میں باندھ لو کہ مسلمان ظالم ہو سکتا ہے، حرام ہوتا دیکھ سکتا ہے پر کھاتا وہ حلال کر کے ہی ہے۔”
اب دیکھو اپنے اپنے مدرسے اور مسجدی کاروبار چالُو رکھنے والے رانگ نمبر خالہ اُمّہ کی لاش کو حنوط کر کے رکھنے کی ‘حلال مشرکانہ’ ہنڈیا کب تک چڑھائے رکھتے ہیں
“چاچا یہ درمیان میں تیری فیلسُوفیاں نا آتیں تو کیا تو بے ٹائیما ٹائم پٹاس نا رہتا! عادت سے مجبور ہو تم بھی بس! دیکھ کتنی دیر سے میں نے اپنی وٹس ایپ کو ہاتھ نہیں لگایا صرف اس لیے کہ خالہ اُمّہ کی بِپتا سن لوں۔ پر تیرا رضائے الٰہی سے شارٹ بریک پہ آنے والا پیر پہلے الطاف حسین ٹیلی فُونیا اور اب صرف پینسٹھ کی جنگ کی کسی خودساختہ خواب آلود فتح کی یادگاری تقریب کے وقت ہی اٹھتا ہے۔ باقی ہر بات پہ تیرے انداز وہی بے ٹائیمے ہی ہیں۔ اب آگے بول بھی نا چاچا! ”
” تھوڑی سانس بھی لے لینے دیا کر بے چین بجلی، سناتا ہوں آخری سانسیں لیتی کچی نیند کی خوابی کہانی! اوہ ہاں ایک بات بتا تُو نے فیس بک پہ وہ فوٹو دیکھی تھی اس چھوٹے سے شامی بچے آئیلان کُردی کی، وہ جو ترکی کے ساحل پہ ملا تھا۔ سرخ رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی، پتہ نہیں اس کی روح سجدے کی حالت میں آسمان تک پہنچی تھی کہ نہیں، اس عقدہ کو آنے والے دنوں میں حل کرنا تو خیر اپنے مجتہدین و فقیہانِ کرام کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے!”
“ہاں، ہاں دیکھی تھی وہ تصویر۔۔۔ بڑا کیُوٹ بچہ تھا پر شِٹ وہ مر گیا تھا۔”
“اس بچے کی موت کے صدمے اور مغربی ملکوں میں کھلنے والے نئے مدینے کے غم میں خالہ اُ مہ مر گئی۔ غیرت کیلئے قتل کرنے والے ریڈی میڈ بھائیوں نے اپنی شرارتوں کے سبب بے گھر ہوئے شامیوں کے لیئے اپنے مدینے کے کواڑ بند کر لیے تھے۔ اس غم میں نڈھال ہو خالہ اُمّہ مرگئی! اب دیکھو اپنے اپنے مدرسے اور مسجدی کاروبار چالُو رکھنے والے رانگ نمبر خالہ اُمّہ کی لاش کو حنوط کر کے رکھنے کی ‘حلال مشرکانہ’ ہنڈیا کب تک چڑھائے رکھتے ہیں۔ پر ماما سعودے نےفوت شدہ خدا کے دیس یعنی نیٹشے کے جرمنی اور اردگرد کی کافر بستیوں کے لیے دو سو مسجدوں کے تحفے کی آفر دے کر وہاں خدا کو آب حیات کا پیالہ پیش کیا ہے جس طرح اس نے وطنِ عزیز پاکستان میں کئی عشروں دریا کے دریا دان کیے تھے۔
” ہونہہ۔۔۔۔ ہوں ں ں”
“اوہ منٹ موجودے! بابا اللہ رکّھا آگیا قلفیوں کا ٹھیلا لے کے، چل آ قلفیاں چوسیں قلفیاں، اصلی کھوئے ملائی والیاں! “
Categories
شاعری

محشر-1

محشر-1
کوہ سلیماں کی
خاک سے آندھیاں لپٹی ہیں
اوردو سربریدہ
پیغمبروں کا ظہور ہے
جن کے سامنے اک اژدہام
سینہ سپر ہے
اور ان دونوں کے ہاتھ
ایک دوجے کی آنکھوں پہ
دھرے ہیں
جیسے
کبریائی کا
چہرہ تاب نہ لاتے ہوں
Categories
فکشن

محشرِخیال

سب خیال اڑتے، بھاگتے، چلتے، رینگتے، گھسٹتے، اٹھتے، گرتے اور تیرتے ہوئے تمام تر ممکنہ تیزی سے اس کے دما غ میں گھس گئے۔ کھلا در اندر سے بند کر لیا گیااور پھر دماغ کی بندر بانٹ بڑی بے دریغی سے کی گئی۔ کچھ نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی منزلہ عمارتیں کھڑی کر لیں؛ بڑی بڑٰی کھڑکیوں والی، جن کے رنگین شیشوں پر نظر نہیں ٹھرتی تھی۔ یہ سب ایک دوسرے کو خود سے کمتر سمجھتے تھے اور غرور کے مارے آپس میں بات نہیں کرتے تھے۔ ان عمارتوں میں موت جیسی خاموشی گونجتی اور کانوں کے پردے باہر کو کھنچ جاتے۔
رینگنے والے اور کمتر حیثیت کے خیالوں نے پہلے سے بنے، پرانے، اجاڑ بے سروسامان اور بےدر مکا نوں میں پناہ لی۔ اور جب خود کو محفوظ سمجھ لیا تو آہستہ آہستہ دہلیزوں پہ آ بیٹھے۔ ڈرتے ڈرتے ایک دوسرے سے بات بھی شروع کر دی۔ خیالوں کے پاس ایک ہی قصہ ہوتا ہے۔۔۔۔ اپنی پیدائیش کا، سو سب نے خود کو مرتبے میں بلند ثابت کرنے کے لیے اپنی جائے پیدائیش اور وجہِ نزول بیان کرنا شروع کر دی۔ سب اپنی اپنی ہانکنے لگے اور اپنا موقف پرزور انداز میں پیش کرنے کو آواز بلند کرتے گئے۔ ہوتے ہوتے سارے علاقے میں بند گلے اور ان سے برآمد ہونے والی بے معنی آوازیں ناچتی رہ گئیں، کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
چند کاروباری خیالوں نے بازارسجا لیے اور ڈھیروں دکانیں اوپر نیچے رکھتے گئے۔ ( کچھ کے سرتو دماغ کی چھت کو چھوتے تھے)۔ کچھ دکانیں تازہ ہوا کے راستے پر بنا دی گئیں اور کچھ دماغ کا گند باہر پھینکنے والے نالے کو پاٹ کر تجاوزات کی شکل میں سر اٹھا ئے کھڑی ہو گئیں۔ دوکانوں میں ہر وہ سامان بھر دیا گیا جو شاید جان دے کے بھی سستا محسوس ہوتا۔ ( کم از کم بازار کا رش تو یہی کہتا تھا)۔ ناآسودہ خواہشوں کی سبیل، ٹوٹے ہوئے خوابوں کے مرتبان، کچلے ہوئے دلوں کی گل قند، روگی آنکھوں کا سرکس، مچلتی ہوئی اور تڑپ تڑپ کے روتی ہوئی، گزری جوانی کی معجونیں، دھندلاتے ہوئے ماضی کی عینکیں، بچپن کے جگنو۔۔۔ یہ سب اور ایسی بے شمار مصنوعات سے لدی پھندی دکانیں بہہ بہہ کر گلی میں آئیں اور گزرنے والے خیالوں کے راستے گم کر دیئے اور بنیئے خیالوں نے اپنا اپنا مال بیچنے کو ہر بھری ہوئی اور خالی دکان مچھلی منڈی میں بدل دی۔
زخمی خیالوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ان پہ کچھ فرشتہ صورت خیالوں نے تجربات کے لیے قبضہ کر لیا۔ خیالوں کا خیال رکھنے والے خیال۔ ان کی قطع برید ،ترمیم اور تخفیف کے بعد انہیں نیا کر دینے والے خیال۔ خود کو باقیوں سے بہتر سمجھنے والے خیال۔۔۔ زخمی، خون تھوکتے، پر جلے، بدن جلے، بھولے ہوئے، گھن لگے، کوڑھی، شکستہ و بریدہ ان خیالوں کا ہسپتال قبرستان کے پاس بنایا گیا، تاکہ لاشیں لے جاتے ہوئے زیادہ محنت نہ کرنی پڑے۔ کیونکہ کوئی بھی خیال بیمار یا زخمی ہونے کے بعد زیادہ دیر بچ نہیں پاتا تھا۔لاکھوں میں کوئی ایک واقعہ ایسا ہو بھی جاتا تو مسیحا خیال اسے اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ سے نا قابلِ شناخت بنا دیتے۔ایسا کہ پھر انہیں ورثا بھی نہ پہچان پاتے۔ ورثا سے یاد آیا کہ وہ تو صرف زندہ خیالوں کے ہوتے ہیں۔ بیمار خیال کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے اور مرنے والے خیال کو کوئی اپنا نہیں کہتا۔ یہاں بھی بیمار، زخمی اور دکھی خیالوں کی آہ و پکار اور مسیحا خیالوں کی ڈانٹ پھٹکار کی آوازیں کان پھاڑ دینے کو آتیں۔
مگر یہ شورِ قیامت، قبرستان کی خاموشی سے ذرا کم جان لیوا تھا۔ نظر کی حد سے پرے تک پھیلا ہوا یہ قبرستان اتنا خاموش اور تاریک تھا کہ کوئی زندہ خیال اس میں چند قدم آگے تک جانے کا حوصلہ نہ کر پاتا۔ نئی قبریں بھی کنارے پر بنا دی جاتیں ۔قبرستان کا حجم بڑھتے بڑھتے ہر شے پر غالب آنے کو تھا۔ شنید ہے کہ وہاں ، قبرستان میں، کہیں اندر تاریکی میں کچھ ایسے خیال ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں، جو اگر سامنے آجائیں تو زندہ خیال خود کو موت کے پاس گروی رکھ آئیں۔ سب ان سے واقف ہیں مگر کوئی ان کی بات نہیں کرتا۔ اس قبرستان کے بارے میں واحد دلچسپ بات یہ ہے سب قبریں بے نام ہیں۔ مزار اور کتبے تو کیا کیسی پر اشک تک نہ بہائے گئے۔ قبرستان میں کبھی کوئی ہریاول نہیں دیکھی گئی لیکن جھینگر اتنے ہیں اور اتنا بولتے ہیں کہ ان کی اوازیں سیال خاموشی بن کے، بخارات کی صورت دماغ کو چڑھتی رہتی ہیں۔
مگر سب سے زیادہ شور مذہبی خیال مچا تے۔ کچھ بال کھولے، دھمالیں ڈالتے ہوئے اور کچھ مناظرے کرتے ہوئے۔ یہ سب خدا کے وجود پر بحثتے۔ ایک دوسرے کو اس کے ہونے کا یقین دلانے کو گلے پھاڑ لیتے مگر سنتا کوئی کسی کی نہ تھا۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والی بحث تھی۔ ( انھیں شاید خدا کے ہونے پر خود بھی یقیں نہ تھا، سو اپنی بے یقینی کے خلا کو آوازوں کی دُہرائی سے بھرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے)
ایک علاقہ ایسے خیالوں کا تھا جو نہ گھر بناتے تھے اور نہ بل۔ یہ خدا کے نہ ہونے کی بحث میں ایک دوسرے کے اورمیلوں تک رہنے والے دوسرے خیالوں کے کان کھاتے۔ (انہیں بھی شاید خدا کے نہ ہونے کا پکا اعتبار نہ تھا)
پھر ایک دن کیا کسی نے دماغ کا اندر سے بند دروازہ باہر کی طرف سے کھٹکھٹا نا شروع کر دیا۔ آہستہ آہستہ دستک میں شدت آتی گئی، پہلے پہل خیال ذرا پریشان ہوئے اور پھر عادی ہو گئے اور اپنے کاموں میں پھر سے محو ہوتے گئے۔
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ڈاکٹر نے میز پر سے کاغذ اٹھایا اور وارڈ بوائے کے حوالے کرتے ہوئے کہنے لگا”یہ دوائیں مریض نمبر سینتالیس کو ابھی دینی ہیں، وہی جو اپنے سر کو بند دروازے کی طرح پیٹتا رہتا ہے۔” ڈاکٹر نے مزید وضاحت کی۔