Categories
شاعری

عشرہ // ایک اور دھرنا

تم جو پشتون دُھسے میں ہو
تم جو پنجابی کھُسے میں ہو
تم جو مہرانی اجرک میں ہو
تم جو بلوچی لاچے میں ہو
تم جو کشمیری کرتے میں ہو
تم جو اردو پجامے میں ہو
تم جو سرائیکی پرنے میں ہو
سب جو موجود دھرنے میں ہو
کل. کوئی. اور. مر. جاے. گا.
آج کیوں اتنے غصے میں ہو!

Categories
شاعری

عشرہ // ہمیں دفن کر دو

بات مانو۔ ہمارا یہ اک آخری کام کر دوہمیں دفن کر دو چُپکے سے،

بین کرتی ہوئی عورتو اور مردو۔ ہمیں دفن کر دو فرق پھرمرنے اور جِینے میں؟

ظلم کی رات کےمشتعل سینے میں خالی قبریں نہیں۔

سینے کے گھاؤ ہیں، گھاؤ بھر دو۔ہمیں دفن کر دو

اُجلےکپڑے، سنہری حروف اورہرے پات، خاکِ شفا۔۔کم پڑیں گے

سب سے اُوپر ہماری ہلاکت کا الزام دھَر دو۔ ہمیں دفن کر دو

کتنی تیزی سے چینل بدلتے ہوئے لوگ تابوت والوں سے اُکتا چُکے ہیں

ریڈیو، ٹی وی، اخبار کو ایک تازہ خبر دو۔ ہمیں دفن کر دو

خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟

اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

 

Categories
شاعری

کالی ووڈ عشرے

کالی ووڈ عشرہ 1

ھمیں افسوس ہے! تم مارے گئے، اور تمہارے ساتھی، پیارے
جس موقف کو ٹھیک سمجھتے ہوں گے، اُسی پر وارے گئے

دوسرے بھی اپنے موقف کو کم سے کم اتنا ہی ٹھیک سمجھتے تھے
نامعلوم اسباب سے جو احباب کی نصرت کو بر وقت نہیں پہنچی
دشمن خود کو اسی سوپر پاور کے زیادہ نزدیک سمجھتے تھے

جب، جو بھی ہو، سب اُس کی مرضی ہے تو…کیا وہ حقیقت میں فرضی ہے؟

ظالم اور مظلوم کا ایسے فیصلہ ہونا نئیں میرے دوست
یہ کوئی خالی ڈیڑھ ہزار برس کا رونا نئیں، میرے دوست!

اب جو تمہارے نام پہ چیختی پیٹی روتی بستی ہے
عام پڑھی لکھی جہالت نہیں، خالص نسل پرستی ہے

کالی ووڈ عشرہ 2
کالی ووڈ عشرہ 3

جو بطور نشانی باقی تھے، اِن بزرگوں کی کوششوں کے بغیر
سلطنت پھیلتی ہی جاتی تھی..اچھا تھا سوئے رہتے چونکے بغیر
لونڈیاں، لونڈے، روپیہ، پیسا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرح کے تحایف آتے تھے
سب جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہوے۔۔۔۔ اچھے خاصے وظیفے پاتے تھے

پھر یہ جانے جہاد تھا کیسا، کیسے معصوم لوگ تھے صاحب!
وہم تھے کیا سروں میں بیٹھے ہوے، اور لہو میں فساد تھا کیسا
سب نے روکا، مگر نکل ہی پڑے! کیسے مظلوم لوگ تھے صاحب!

مارنے والوں مرنے والوں نے ایک ہی تو خدا کا نام لیا
آج تک جن کے بارے میں سب نے سستے مبالغے سے کام لیا
ان کے با موت مارے جانے کا، ایک قاتل نے انتقام لیا

کالی وڈ عشرہ 4

زید، علی الصبح شہر میں داخل ہوا
شام ہونے سے پہلے پہلے
اسیّ ہزار جانثار سر کٹانے کو تیار

بکر منہ اندھیرے شہر میں داخل ہوا
رات پڑنے سے پہلے پہلے
اسیّ ہزار وفادار بمع تیر و تفنگ و تلوار

عمر پَو پھٹے شہر میں داخل ہوا….
وہی اپنے پرانے وفادار جانثار اسی ہزار بمع فرس و تلوار ہمہ وقت تیار

زید کو بکر نے لٹکا دیا، بکر کو عمر نے، عمر کو …

شہر کی آبادی بدستور آٹھ دس ہزار کے لگ بھگ رہی

کالی ووڈ عشرہ 9

اچھے سیانے تھے تم حجاز کی وظیفہ خور آزادی میں
کس پکنک پر کیمپ لگایا فرات کی با آب و گیہ وادی میں

فرزدق، اصلی فرضی روکنے والے ملے ہر ہر فرسنگ پہ
کم ہی کوئی ہوگا جس نے تمہیں اکسایا ہو ایسی جنگ پہ

با آسانی الگ کر سکتے ہیں اب ہم جھوٹ کو سچ سے
دین کی پوشیدہ نصرت کو، کرسی کے خفیہ لالچ سے

عربی سوا نیزے سے نیچے، عجمی طشت سے ہٹ کر
دھاڑیں مارتے پچھاڑیں کھاتے ہجوم ہیں
ریت کے ذروں میں شامل بیکار نجوم ہیں
میں رستے پر بھٹک پڑا ہوں قادسیہ کے دشت سے ہٹ کر

Categories
شاعری

عشرہ // سو قومی نظریہ (4) مومنِ اعظم

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اپنےہاٹ فیورٹ، ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے، نیپکن سے کلین شیو مکھڑا پونچھنے کے فورن بعد
وہ یہ دُکھڑا رونا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا

اس کے دورندر کہیں چھپا مردِ مومن، بیٹی کو کافر سے مرضی کی شادی کیسے کرنے دیتا، رحمت اللہ علیہ
جیسے خود ویسی ہی ایک کافرہ سے بزرورِ ایمان نکاح اس کے مردِ حق ہونے کا الہامی ثبوت ٹھہرا، رحمت اللہ علیہ

شام ڈھلے جب وہ تھک جاتا تو دو چار جام کے بعد حسب-ذائقہ
ریش دراز ملاوں زباں دراز صحافیوں دست دراز سٹوڈنٹوں کے ساتھ بلیرڈ کی میز پر نظریہء ضرورتِ پاکستان ضرور کھیلتا

نوزائیدہ وطن کے بڑے بازو کو نو-کلاسیکی انگلش لہجے میں گدگدی سے جھنجھوڑتے ہوئے اسے خوب یاد رہا
ملک کی قومی زبان وہ ہونی چاہئیے جو اکثر لوگوں کی طرح خود اسے بھی نہ آتی ہو

اس نے یہ ملک سیاستدانوں اور فوجیوں، وڈیروں اور صنعتکاروں کی مدد سے بنایا، صاف ظاہر ہے انہی کے لیے
پھر اچانک پتا نہیں کہاں سے اور بہت سے غیر ضروری لوگ آ رہے یا پہلے سے رہتے ہوئے پائے گئے!

Categories
شاعری

عشرہ // سو قومی نظریہ (2) دس نمبری آزادی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کس کے پلّے لیڈروں کی انگریزی پڑی تھی
گِنے چُنوں کو اپنی اپنی تیزی پڑی تھی
نوّے فیصد دیش جب ان کے لیے جاہل تھا
ووٹ کا حق پھر کتنے فیصد کو حاصل تھا؟
کیسے سمجھا جائے سب پر سب واضح تھا
نام نہاد آزادی کا مطلب واضح تھا
اب تک جو نالائقِ فہم ہے، تب واضح تھا
تاج کے بردوں، راج کے پروردوں کے علاوہ
کون سا بھاری مینڈیٹ، جس نے ووٹ دیا تھا
اِس تقسیم کے حق میں کس نے ووٹ دیا تھا

Categories
شاعری

عشرہ // سو قومی نظریہ(3) پنڈت کھنڈت

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اوپر سے جو بھی فرماو، پنڈت جی!
بھرے نہیں تقسیم کے گھاو، پنڈت جی!

کالے کرتوتوں پر جالے مکڑی کے ہیں
اجلے! سنہرے!! خواب!!! دکھاو، پنڈت جی!

اچکن کرتا ٹوپی سدا بے داغ رہیں
خون-ناحق سے دھلواو، پنڈت جی!

جنتا کیا، پروار ہی جب جمہوری نہیں
نعرے لگاو اور لگواو، پنڈت جی

سولہ سترہ اٹھارہ انیس بیس کے فرق سے
ہٹلر، چرچل، سٹالن، ماو، پنڈت جی

Categories
شاعری

عشرہ // کھنہ ایسٹ @ سیرینا ویسٹ: ایک ادبی ایف آئی آر (عرف ہوئے تم دوست۔۔۔)

blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ایک دن آٹا گوندھنا، دوسرے دن روٹی پکانا، تیسرے دن ہنڈیا چڑھانا
یوں سب روزمرہ کام کاج اُس نے فورن اپنے ذمے لے لیے

نصف لفافی سوکھے دودھ کے بدلے جو مجھے کبھی درکار نہ تھا
اُس نے اُڑایی مرغوب مشروب کی لبا لب صراحی، محبوب کافی کا سراسر جار

مجال ہے جو اُس کے ہوتے صبوحی چاے کا پیالہ مجھے کبھی ہزار سے زیادہ کا نہیں پڑا ہو
یا وہ کسی شام بھُولا ہو سر درد، فشار خون کی گولیاں، انہی کے سمیت، میرے متھّے مارنا

اگلے پُورے ہفتے میرے فون نہ اٹھانے پر وہ اتنا پریشان ہوا
کسی مشترکہ دوست سے رابطے کا اُسے خیال تک نہ آیا

اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر
ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی نظر آتی ہے

Categories
شاعری

عشرہ // ایسی ویسی عید

ایسی ویسی عید

سو سے زیادہ پارا چنار مارے گئے
اتنی دور کہاں جاتا میں خالی مرنے

کویٹہ، کراچی میں حسبِ معمول دو چار مارے گئے
اور میں دونو جگہ نہیں تھا، اپنا شکر ادا کرتا ہوں

احمد پور میں (یہ نئی بات ہے!) بے شمار مارے گئے
بال بال بچا میں (یہ پرانی بات ہے)

میں تو خود کو جھوٹ سمجھ کر خوش ہو لیتا
سچ نکلا میں سچ نکلا میں سچ نکلا میں

بچ نکلا میں! بچ نکلا میں!! بچ نکلا میں!!!
مجھے نہیں تو کس کو عید مبارک ہو گی؟

Categories
شاعری

عشرہ // ۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

ستر سال میں اک بھٹو آزاد ہوا ہے
لندن پیرس برلن جا کر
ڈسکو صوفی فلمیں چھوڑ کے
نیویارک میں پوز بنا کر

انارکلی میں واری جاتا ریشم جان کس بھاؤ چُکے گا
شہراہِ فیصل کی رانی کون سے دیس کا راجہ بنے گی
پنڈی صدر میں ٹھمکتا حسُسنا کتنا عظیم قرار دلے گا

وہ جن کے شجرے میں کوئی سادہ وزیر بھی ہو نہیں گزرا

ہر گھر سے پھر بھٹو کیسے نکلے گا، کب نکلے گا
کیا اُسے دھکے دے کے نکالا جاے گا، تب نکلے گا؟

Categories
شاعری

عشرہ // ہر کسی کو مار دو

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ہر کسی کو مار دو
کون سی شکایتیں ؟؟ کون سی ملامتیں ؟؟
یا اللہ ۔۔ یا رسول ۔۔ خوف کی علامتیں!
مسل دو ہر ایک پھول، ہر کلی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

الف ہے واجب القتل بے کے نیک خیال میں
جیم کیوں نہ ہو شریک دال کے قتال میں
اے کو بی کو مار دو سی کو ڈی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

کچھ کہے یا نہ کہے، کچھ کرے یا نہ کرے
جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

احتیاط ہی کرو، بس! سبھی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
Categories
شاعری

عشرہ // میں نے ایک کتاب لکھی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
میں نے ایک کتاب لکھی
شعر، کشٹ، اور ظیفے ملا کر
فلسفے اور لطیفے ملا کر
اگلے پچھلے صحیفے ملا کر

 

خودی / بے خودی کے موڑ پر
شعور/ لاشعور کے چوک میں
زندگی / موت کے ناکے پہ

 

میں نے لکھا کہ تحقیق، بر حق ہے جو میں نے لکھا
اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے۔۔۔

 

اور اگرکوئی ایسا کہے جیسا میں کہہ رہا ہوں
تو اسے قتل کر دینا ہو گا
Categories
شاعری

عشرہ // ماں

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ماں
باورچی خانے میں کچناروں کی دھیمی خوشبو زندہ تھی

 

اک ہانڈی میں دال مسور کی مہر بہ لب تھی، تیری طرح لگی
اور دوجی میں کڑوے آنسو ابل رہے تھے … جانے کس کے

 

گھر کے موجودہ نوکر نے چاے آگے رکھ دی: سنا ہے آپ بہت مشہور ہیں؟
اس کے سوال میں اس کا جواب تھا

 

میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا

 

کلًم کلًا، دوہری ہجرت لئے پھرتا ہوں
تیرے صدقے سب سے محبت کئے پھرتا ہوں
Categories
شاعری

عشرہ // عشرے کا آٹو گراف

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرے کا آٹو گراف
پہلی لائن ٹوٹی پھوٹی
دوسری سیدھی سادی ہے
تیسری ایک مثلث بننے جا رہی تھی
چوتھی بلکہ پانچویں بھی
آدھی نہیں (اور آدھی ہے)
چھٹی، بس اک چھوٹا سا نقطہ
ساتویں پورا دائرہ ہے
آٹھویں، نظم میں داخل ہونے کا دروازہ، یا کھڑکی ہے
آخری لائن پھر ڈاٹڈ .. ڈی کنسٹرکٹڈ کہہ لو
نادیدہ کے دستخط صاف نظر آتے ہیں
Categories
شاعری

عشرہ // بلاعنوان

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
بلاعنوان
سڑک پر جلوس موت کی اوپن دھمکی ہے
بند گلی میں بدلے کے نعرے گونج رہے ہیں
دروازے کے پیر میں گولی ماری گئی ہے

 

گالیاں آنگن کی دیوار پھلانگ آئی ہیں
دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے

 

ابراہیم اور عیسے، موسے اور محمد
آپس میں لڑتے ہوئے مل کر میری ت-لاش کو نکلے ہیں
آنکھوں کے نمکیں پانی سے پوریں تر کر کے
دیواروں پر لکھتا ہوں، لکھتا جاتا ہوں
Categories
شاعری

عشرہ // مارو ہر انسان کو مار دو

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مارو ہر انسان کو مار دو
بچاؤ بچاؤ بچاؤ بچاؤ
بچاؤ خدا کی خدائی بچاو بچاؤ نبی کی رسالت بچاو
بچاؤ صحابہ، خلافت بچاؤ بچاؤ امامت، ولایت بچاؤ

 

مارو محلے دار کو مارو، مارو مارو ہمساے کو
مارو اے قابیل قبیلو ڈٹ کر مارو بیشک ماں جائے کو
جو اپنا حق مانگ رہا ہو، ایسے ہر نادان کو مار دو
جو سب کے لئے اچھا چاہے فورن اس شیطان کو مار دو

 

مارو ہر انسان کو مار دو
اور پھر مل کر شور مچاو
بچاؤ بچاؤ بچاؤ بچاؤ

Image: Voice of America