Categories
شاعری

عشرہ // ماں

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ماں
باورچی خانے میں کچناروں کی دھیمی خوشبو زندہ تھی

 

اک ہانڈی میں دال مسور کی مہر بہ لب تھی، تیری طرح لگی
اور دوجی میں کڑوے آنسو ابل رہے تھے … جانے کس کے

 

گھر کے موجودہ نوکر نے چاے آگے رکھ دی: سنا ہے آپ بہت مشہور ہیں؟
اس کے سوال میں اس کا جواب تھا

 

میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا

 

کلًم کلًا، دوہری ہجرت لئے پھرتا ہوں
تیرے صدقے سب سے محبت کئے پھرتا ہوں
Categories
شاعری

دُھنیا

میری ماں تو بس ایک دُھنیا تھی جو
تربیت کے بہانے
مجھے رات دن یوں دُھنے جا رہی تھی
کہ رشتوں کے چرخے پہ چڑھنے سے پہلے
میری ذات میں ،میں کی کوئی گرہ بھی کہیں رہ نہ جائے
مجھے اس نے اپنے کمال ہنر سے
کُچھ ایسے بُنا تھا
کہ میں باپ ،بھائی، مجازی خدا اور بیٹے کی اکھڑ انا کے لئے
کبھی تن کے چادر کبھی شامیانہ
کبھی ان کی غیرت کا پردہ بنی تھی
مگر ٹھان رکھا تھا یہ اپنے جی میں
کہ میں اپنی بیٹی کی رکھشا کروں گی
خدا نے ودیعت کئے فن اسے جو
میں ان کا محبت سے پالن کروں گی
مگر رات دن آج بیٹی کو اپنی
رواجوں کی سنگین سولی پہ کس کے
بنام شریعت
دُھنے جا رہی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔