Laaltain

تازہ ترین

تصنیف حیدر: این جب صدر سے بچھڑی تھی تو وہ وجہ اس قدر معمولی تھی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن ان کا
30 نومبر، 2016
ممتاز حسین: لینز دکان کے اندر کن کھجورے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور کن کھجورا دلی نہاری والے کے بیٹے کے خون میں لت
30 نومبر، 2016
سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا مثلاً ایک درخت جسے کاٹ دیا جائے
30 نومبر، 2016
علی اکبر ناطق: عصا بیچنے والو آؤ میرے شہر آؤ کہ لگتی ہے یہاں پر عصاؤں کی منڈی ہرے اور لچکیلے بانسوں کے، شیشم
30 نومبر، 2016
تالیف حیدر: ان ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جب میں غور سے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر پھیلی ہوئی ریت کی بے ترتیب بستیاں
29 نومبر، 2016
علی اکبر ناطق: میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتاہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ
29 نومبر، 2016
او ہنری: دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کا نام لے کر، آپ بلا خوف تردید جو چاہے کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہ
28 نومبر، 2016
افتخار بخاری: بارش گرتی ہے مٹیالی قبروں پر بارش گرتی ہے حد نظر تک جل تھل سیلا سیلا خواب مسلسل
28 نومبر، 2016
نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو تو یہ سوچ لینا ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں
26 نومبر، 2016
دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس
26 نومبر، 2016
ستیہ پال آنند: بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
24 نومبر، 2016
ستیہ پال آنند: میں ایک نا خواندہ شخص تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
24 نومبر، 2016