Laaltain

اگر مجھے

ابرار احمد: اگر مجھے دوڑنا ہی تھا
تو میں دوڑتا چلا جاتا
کسی بھی نا ہموار سڑک پر، آنکھیں بند کیے ہوے
میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر
ٹھوکریں کھاتا پھرا

مرگ پیچ

نصیر احمد ناصر: مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے
دوڑتا پھرتا ہوں
سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے

کھرے عشق کا المیہ

شارق کیفی: محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے

امیزون

ھناء خان:
میں نے اک دن اتنا پوچھا
کیا مصنوعی ٹانگیں، بازو بھی ملتے ہیں؟
دل، گردے اور آنکھیں بھی
تھوڑے زیادہ پیسے دے کر
مل جاتی ہیں دو گھنٹے میں؟

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

سدرہ سحر عمران: جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟

خاموش۔۔۔۔خبردار

یہ جسم نہیں روح ہے
اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے
مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے : نورالہدیٰ شاہ

حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے

نور الہدیٰ شاہ: سرکار نے رونے پر پابندی لگا دی ہے
اور حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ رونے والے بچوں کو دریا بُرد کر دیا جائے

قہقہہ

علی ساحل: میں جب مشینوں سے بیزار ہوتا ہوں
تو میرا جی چاہتا ہے
میں اپنے گاؤں چلا جاؤں

بڑے دشمن کی دھوپ

سعد منیر: قسم ہے ستاروں کو جوڑنے والے کی
بڑا دشمن
دھوپ لگی مٹی ہوتا ہے

نئے سال کی فائل

علی محمد فرشی: نئے سال کے گال پر
ہونٹ رکھتے ہوئے
کپکپائے تھے
کیوں ہاتھ امیدِ پیرہ کے؟

سوختہ جسم کا لباس

فیصل عظیم: لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں

میں تمہارے لیے نظم نہیں لکھ سکتا

نصیر احمد ناصر:اگر میں تمہارا لفظ بن سکتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا

دشمنی کی فارینزک رپورٹ

وجیہہ وارثی: ہم دونوں ایک ہی قبر میں دفن کر دیے گئے
ہم نے دشمنی ترک کرنے کااعلان کیا
دشمنی جو صدیوں سے جاری ہے