Categories
شاعری

سوختہ جسم کا لباس

فیصل عظیم: لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں
سوختہ جسم کا لباس
لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں
الاؤ سے باہر آکے
دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھتا ہوں
کہیں سے اب ایمبولینس آئے گی میری جانب
کوئی مسیحا نفس سنبھالے گا آگے بڑھ کر
مگر یہاں تو
کوئی مسیحا نفس نہیں ہے
بدن سے چمٹی قبا کو خود ہی
بچی کھچی انگلیوں کی پوروں
سے چھو کے محسوس کر رہا ہوں
کہ جسم ہے یا جلا ہوا پیرہن ہے میرا
جو میری مٹی میں دھنس رہا ہے
اذیّتوں کی گواہی دیتا ہے خلیہ خلیہ
جکڑ گیا ہوں میں اِس کی پرتوں میں ٗ چاہتا ہوں
کہ کھینچ ڈالوں ٗ اُتار پھینکوں اِسے مگر اب
اِسے اتاروں
تو کھال میری ہی کھینچ لے گا
بچی کھچی انگلیوں کی پوروں سے ٗ ناخنوں سے
کریدنا بس میں اب نہیں ہے
جو پیرہن تھا
وہ پیرہن اب مرا قفس ہے
جو پیرہن تھا
وہ پیرہن اب مرا بدن ہے

By فیصل عظیم

فیصل عظیم کراچی میں اردو شاعروں کی تازہ پود سے تعلق رکھتے ہیں، اور اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ پیشہ کے اعتبار سے انجنیئر ہیں اور ایک ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ "میری آنکھوں سے دیکھو" 2006ء میں شائع ہوا۔ فیصل نے معروف شاعر شبنم رومانی کی ادارت میں چھپنے والے سہ ماہی "اقدار" کے ایسوسی‌ایٹ ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *