Categories
شاعری

اگر مجھے

ابرار احمد: اگر مجھے دوڑنا ہی تھا
تو میں دوڑتا چلا جاتا
کسی بھی نا ہموار سڑک پر، آنکھیں بند کیے ہوے
میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر
ٹھوکریں کھاتا پھرا
اگر مجھے
اگر مجھے خواب ہی دیکھنا تھے
تو میں خواب دیکھتا
آزادی اور محبت کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں
اور کشادہ آنگنوں کے
میں نے کیوں بند دروازوں کے خواب دیکھے
اگر مجھے جاگنا ہی تھا
تو میں جاگ اٹھتا، کسی بادلوں بھری صبح میں
تمہارا ہاتھ تھامے ہوے
میں نے کیوں شک اور دکھ سے بھرے
اس گھر میں آنکھ کھول دی

اگر مجھے بکھرنا ہی تھا
تو میں بکھرتا
سمندر کے سینے پر
یا پھر تمھارے قدموں میں
میں نے کیوں
ان بے اماں راستوں میں
اپنی مٹی خراب کی

اگر مجھے انتظار ہی کرنا تھا
تو میں انتظار کرتا
اس کا ، جو راستے ڈھونڈتا میری طرف آنے کے
میں کیوں آنکھوں میں چراغ لیے
اس رہگزر پر بیٹھا رہا
جہاں سے کوئی نہیں گزرتا

اگر مجھے دوڑنا ہی تھا
تو میں دوڑتا چلا جاتا
کسی بھی نا ہموار سڑک پر، آنکھیں بند کیے ہوے
میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر
ٹھوکریں کھاتا پھرا

اگر مجھے رکنا ہی تھا تو میں رک جاتا
کسی بھی جھیل کے کنارے، اجنبی آسمان کے نیچے
میں کیوں بیٹھ گیا
دنوں کی بےکیفی اور اکتاہٹ کی دہلیز پر

اگر مجھے سونا ہی تھا
تو میں سو رہتا یہیں کہیں، اس بستر پر
یا اپنے مضافات میں کہیں
میں کیوں سو گیا، بے خوابی اور اذیت کے پتھر پر
سر رکھ کر ———-

اور اگر مجھے اتنے بہت سے کام کرنا ہی تھے
تو میں اس دوڑ میں بھی شامل ہو جاتا
یا پھر —– دیواروں سے ہی ٹکرا جاتا
انہیں توڑتے ہوئے !

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *