Laaltain

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا

سلمان حیدر: لیکن تکلیف تسلی کے ان لفظوں سے ہوتی ہے
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں

ٹیک

سوئپنل تیواری: تیری روح پہ اک دن جاناں
میرا روغن لگا ملے گا

ہندسوں کے شہر میں

رباب علی: کبھی سوچتی ہوں
میں کچھ پہلے کے دور میں جی رہی ہوتی
جب ہاتھوں میں لکیریں ہوتی تھیں،
کیلکولیٹر نہیں
مگر ۔۔۔۔ مگر میں تو یہاں ہوں
ہندسوں کے شہر میں
کیلکولیٹرز جیسے لوگوں کے درمیا

عصا بیچنے والو

علی اکبر ناطق: عصا بیچنے والو آؤ میرے شہر آؤ
کہ لگتی ہے یہاں پر عصاؤں کی منڈی
ہرے اور لچکیلے بانسوں کے، شیشم کی مضبوط لکڑی کے عمدہ
عصا بک رہے ہیں

قبروں پر بارش

افتخار بخاری: بارش گرتی ہے
مٹیالی قبروں پر بارش گرتی ہے
حد نظر تک جل تھل
سیلا سیلا خواب مسلسل

ہوا موت سے ماورا ہے

نصیر احمد ناصر: اگر میرے سینے میں خنجر اتارو
تو یہ سوچ لینا
ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں

لعوقِ عشق و عرقِ آگہی

حسین عابد: تجسس کی ہوا لگتے ہی ایسا عارضہ لاحق ہوا
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں

کسی دن مِلیں گے

نصیر احمد ناصر: مِلیں گے کسی دن مِلیں گے
فراغت ہوئی تو
خدا سے بھی، تجھ سے بھی
دونوں جہانوں سے باہر مِلیں گے
کسی دن عروضی زمانوں سے باہر مِلیں گے

زوالِ عمر

تبسم کاشمیری:نیند اب ایک ایسی چیز ہے
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں

Mercy Killing

نسرین انجم بھٹی: ماں گنگا نے بتایا!
شیردل بڑابیٹا تھا۔۔۔مست سندھو
جو صدیوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا پر اب
ریت اُس پر چل دوڑی ہے

ممتاز حسین کی ایک نظم

ممتاز حسین: دریائے سندھ کی تہذیب
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے

مرتد جولاہے کی سزا

حاشر ارشاد: پھر اک دن وہ تاگہ ٹوٹا
پنا پھسلا، ہاتھ سے لڑھکا
میں نے پہلا گنجل دیکھا