Laaltain

نیند کے انتظار میں

حسین عابد: نیند کے انتظار میں
آج پھر کئی خواب اِدھر اُدھر نکل گئے
اُن آنکھوں کی طرف
جنہوں نے اپنی چکا چوند سے دن کو تسخیر کیا

فیصلہ کچھ نہ اُگلو

سلیمان خمار: اُسے تم نے دیکھا نہیں
فقط یوں ہوا ہے
ہر اک کان کے حلق میں
اُس کی آواز کے شبنمی گھونٹ
اُنڈیلے گئے ہیں

بڑے دشمن کی دھوپ

سعد منیر: قسم ہے ستاروں کو جوڑنے والے کی
بڑا دشمن
دھوپ لگی مٹی ہوتا ہے

خشک نمی

عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

سوختہ جسم کا لباس

فیصل عظیم: لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں

تری دنیا کے نقشے میں

ابرار احمد: ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں

جنت جلتے پیروں نیچے

سدرہ سحر عمران: بندوقوں کے بل پر کتنے تابوت اٹھانے باقی ہیں
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟

میں تمہارے لیے نظم نہیں لکھ سکتا

نصیر احمد ناصر:اگر میں تمہارا لفظ بن سکتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا

بھینسے کا خدا

حسین عابد: حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل

وہ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہیں؟

نصیر احمد ناصر: ایک عام آدمی کی طرح
تاریخ کا حصہ ہوں
نہ کسی لشکر کی راہ میں رکاوٹ
بے وجہ پکڑے جانے سے ڈرتا ہوں
جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں