Laaltain

تم جانتے ہو

عارفہ شہزاد:
میں اس خوبصورت عورت کی طرح کیوں بننا چاہتی ہوں؟
تم جانتے ہو

لمس جھوٹا نہیں

عارفہ شہزاد: وہ تھل کی ریت اڑاتا ہے
تو ذرے ہونٹوں پر چپک جاتے ہیں

محبت کے بغیر کون جیتا ہے

عذرا عباس: ابھی وہ میرے دل میں تھی
وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے

مرتد جولاہے کی سزا

حاشر ارشاد: پھر اک دن وہ تاگہ ٹوٹا
پنا پھسلا، ہاتھ سے لڑھکا
میں نے پہلا گنجل دیکھا

بس بہت جی لیے

شارق کیفی: حاضری کے بغیر
اس زمیں سے مرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا
کہ میں اک فرشتہ تھا
اور اس جہاں میں غلط آ گیا تھا

وِیپ ہولز

نصیر احمد ناصر: ہمیں دیوار مت سمجھو
ہمیں بیکار مت سمجھو
کہ جب دیوار کے پیچھے کی مٹی بھیگ جائے گی
تو ہم بوجھل نمی کا دکھ بہائیں گے
ہماری آنکھ میں آنسو نہیں خوابوں کی کیچڑ ہے!!

ضبط کا خرچ

شارق کیفی: کوئی یہ سوچتا ہے اگر
کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کر
بڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے
تو پاگل ہے وہ

ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا

فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں

محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

نصیر احمد ناصر: محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!

نامکمل

سلمان حیدر: نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں

عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے