عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

ادریس بابر: کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں
کینوس پر لگتے اسٹروکس

جمیل الرحمان: موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے
میری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
ہم بارانی لوگ ہیں

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
اپالو اور اتھینا ۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم

بند آنکھوں سے مرا تو جا سکتا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے
ہاں یہ اعلان ۔۔ انساں کی تاریخ کا شاہی فرمان ہے

اس طرح دیکھتے کیا ہو؟
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے
کیلکولیٹر کے ہِندسوں میں چُھپی نظم

یہ گِنتی کی ایجاد سے قبل
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ
Surrogation

خواہشیں جنگلوں میں اگے پیڑ ہیں
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟
سمجھدار چُپ

چھوٹے سے میلے کا ایک منظر ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے
حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟
سُنو، زندہ گاوں کی بالیو

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو
مرے چاند پانی میں جا گرے
مرے چاند پانی میں جا گرے
Poems of an Exile

Hasan Mujtaba is a Pakistani journalist and poet living in self-exile in the US since 1999. His Urdu poetry collection “Koel Shehr Ki Katha” (The Tale of a Cuckoo City) is more of a treatise on his experience of exile…
کچھ باتیں شاعری اور ادب کی… شاعرشہزاد نیرّسے بات چیت
اپنے پس منظر کے بارے میں بتائیں ۔ شاعری کی طرف کس طرح راغب ہوئے؟
(غزل — (ظفر خان

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے
ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ
مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے
ہم جماعت سے

کہ تیری خوش گمانی پر
کبھی پورا نہیں اُترا
کبھی پورا نہیں اُترا