Laaltain

عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

ادریس بابر: کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں

کینوس پر لگتے اسٹروکس

جمیل الرحمان: موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے

ہم بارانی لوگ ہیں

ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے کھیتوں، موسموں اور قبرستانوں کو کبھی نہیں چھوڑتے
جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں

Surrogation

خواہشیں جنگلوں میں اگے پیڑ ہیں
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟

سمجھدار چُپ

چھوٹے سے میلے کا ایک منظر ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے

حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟

Poems of an Exile

Hasan Mujta­ba is a Pak­istani jour­nal­ist and poet liv­ing in self-exile in the US since 1999. His Urdu poet­ry col­lec­tion “Koel Shehr Ki Katha” (The Tale of a Cuck­oo City) is more of a trea­tise on his expe­ri­ence of exile…

(غزل — (ظفر خان

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے

ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے