ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے خون چوسنے لگتے ہیں کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا اور یومِ آزادی پر لوگ […]
مایوسی

افتخار بخاری: میں وقت میں
چلتے چلتے رکا
تا کہ بچوں کی خاطر
خریدوں
میں کچھ روٹیاں
کیا کبھی دیکھا ہے

افتخار بخاری: کیا چلچلاتی دھوپ میں کھڑی
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں