Categories
شاعری

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر
ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے
بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے
آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے
رجز قومی ترانہ بن جائے
تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے
بچے ماں کی چھاتیوں سے
خون چوسنے لگتے ہیں
کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا
اور یومِ آزادی پر لوگ
پھلجھڑیاں نہیں، اپنی خوشیاں جلاتے ہیں

فوج کبھی نغمے نہیں گُنگنا سکتی
کہ سپاہی کھیتیاں اُجاڑنے والے
خود کار اوزار ہوتے ہیں

کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوں
اور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہے؟
کاش۔۔۔!
وطن کی حدود کے تعیّن کے لیے
پھولوں کی کیاریاں
آ ہنی تاروں کا متبادل ہوتیں!

Categories
شاعری

مایوسی

میں وقت میں
چلتے چلتے رکا
تا کہ بچوں کی خاطر
خریدوں
میں کچھ روٹیاں
اور گزر بھی گئے
جانے کتنے برس۔۔۔۔
اور میرے لئے
وقت بد قسمتی بن گیا
تھے مرے ہاتھ میں پیسے
پر ہنسنے والوں نے دیکھا
انہیں غور سے،
اور بولے کہ اے غم زدہ !
اب تو سکے ہمارے
بدل. بھی چکے ہیں !!
Image: Jacques Resch

Categories
شاعری

کیا کبھی دیکھا ہے

کیا کبھی دیکھا ہے
مقدس دوپہروں میں
بوڑھی عورتوں کو
قطاروں میں
محافظوں کو تلاشی دے کر
مین گیٹ پار کرتے ہوئے
جہاں نوازے ہوئے تکبر
سخاوت کرتے ہیں
تھوڑا سا آٹا،
تھوڑا سا گھی
سردی سے کپکپاتے بچے
سویر کے کاٹتے کہرےمیں
قیمتی گاڑیاں دھوتے ہوئے،
صاف ستھرے بچوں کے رنگین
بھاری بستے،
ان میں رکھتے ہوئے
کیا ننھی نوکرانیاں دیکھی ہیں
چند ہزار میں خریدی ہوئیں،
بدمعاش بڈھوں کو
ان کی چٹکیاں لیتے ہوئے
جب ان کے خیال میں
وہ دیکھے نہیں جا رہے ہوتے
کیا اجتماعی شادیاں دیکھی ہیں
جب وہ غلاموں کی افزائش نسل کا
گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں
کیا چلچلاتی دھوپ میں کھڑی
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں
اگر نہیں دیکھا
تو معاف کیجئے گا
آپ ایک غریب آدمی ہیں
غریبوں کے محلے میں رہنے والے ۔

Image: Dawn