Categories
شاعری

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔
رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی
ضربوں میں پڑا چھوڑ آئے
وقت کو خواب پہ تقسیم کریں
خواب کو موت سے تفریق کریں
کانپتے ہاتھوں سے گر جائے کہیں
حاصلِ کارِ مسلسل
کہیں افسوس کی شمعیں
نہ صدائے ماتم
بے حسی بڑھتی چلی جاتی ہے
زندگی گھٹتی چلی جاتی ہے
رات بیدار تھی، بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا

Image: Anselm Kiefer

Categories
فکشن

سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راشد کا دماغ لاچارگی، دکھ، غصے اور بائیں جبڑے سے اٹھتے تیز درد نے منتشر کر رکھا تھا لیکن وہ شکستہ یادداشت کے سہارے اور لوگوں سے پوچھتا پرانے لاہور کی گلیوں میں چلتا رہا۔ جاڑے کی سردی سے لاہور کی فضا میں پھیلا گرد، دھویں اورلید کا مرکب منجمد ہو رہا تھا اور اس گھاڑی ہوا کا سانس اس کے قدم بوجھل کررہا تھا۔ موچی دروازے میں اقبال کی دکان تک پہنچتے اس نے کئی بار سوچا کہ اس حالت میں وہ شاہد کے دکھی عزیزو اقارب کے درمیان پہنچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ کرے یا نہ کرے لیکن اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لاہو ر میں اس کے جو چند جاننے والے رہ گئے تھے ان سے رابطہ کئی برسوں سے معطل تھا۔

 

اقبال کی دکان بند تھی، وہ یقیناً شاہد کے جنازے کے ساتھ تھا، لیکن اب تو شاہد کو دفنائے ہوئے بھی کئی گھنٹے گزر چکے ہوں گے، راشد نے افسردگی سے سوچا۔

 

شاہد کے آبائی گھرکی گلی میں لوگ ٹولیوں میں کھڑے تھے، ایک طرف اینٹوں کے چولہے پر دیگ پک رہی تھی، گھر سے عورتوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اس نے نیم روشن گلی میں محوِگفتگو لوگوں پر نظر ڈالی، ان میں اس کا کوئی شناسا نہ تھا۔ وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو اندر سے نکلتا ایک نوجوان اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔

 

“راشد چچا، یہ آپ ہیں؟” وہ رندھی ہوئی ٓواز میں بولا”میں، میں بھیڈُو ہوں”۔

 

راشد کے حلق سے ایک بلند دھاڑ نکلی جسے وہ دن بھر ضبط کرتا رہا تھا۔ یہ ایک جانور کی دھاڑ تھی جو گلا کٹنے پر نکلتی ہے۔

 

وہ بیٹھک میں داخل ہوا تو چند لوگوں کے درمیان بیٹھا عرفان اٹھ کر اس سے لپٹ گیا۔وہ ایک دوسرے سے لپٹے سسکیوں اور ہچکیوں میں روتے رہے۔

 

“تمہارا حلیہ کیا بنا ہوا ہے؟” عرفان کو اچانک اس کے سوجھے ہوئے جبڑے کا احساس ہوا تو اس نے پوچھا۔

 

“پھر بتاؤں گا، اس حالت میں یہاں نہیں آنا چاہتا تھا لیکن میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا”، اقبال اور خاور کے استفسار پربھی اس نے یہی دُہرایا۔

 

عرفان جنازے کے وقت تک پہنچ گیا تھا، اس نے فلوریڈا ہی سے لاہور ہلٹن میں کمرہ بُک کروا لیا تھا جہاں سامان چھوڑنے کے بعد وہ یہاں آ گیا تھا۔ قبرستان زیادہ دور نہیں تھا، اس کے اصرار پر کہ راشد رستے میں تھا اور اس کا انتظارکرنا چاہیے، خاور نے کافی دیر جنازہ اٹھنے نہیں دیا تھا۔

 

“تمہیں فون کر کرکے تھک گئے، فون بند، تمہاری کوئی اطلاع نہیں، کب تک جنازہ روکے رکھتے۔ ہوا کیا ہے تمہارے ساتھ؟” خاور نے پھر پوچھا

 

“کوئی بڑی بات نہیں، خیر ہے، پھر بتاؤں گا، بس یار کا آخری دیدار بھی نہیں کرسکا۔” راشد نے تاسف سے کہا۔

 

راشد کی درخواست پر عرفان اور اقبال اس کے ساتھ قبرستان روانہ ہوئے۔ بھیڈُو نے ان کا ساتھ دینے کا ارادہ کیا لیکن خاور کے حکم پر کہ اسے پُرسہ دینے والوں کی تواضع کے لیے گھر پر رہنے کی ضرورت تھی، وہ خاموشی سے انہیں جاتے دیکھتا رہا۔

 

اقبال نے اسے بتایاکہ قاتلوں کے بارے کچھ پتہ نہیں چلا تھا، موٹرسائیکل پر دو آدمی تھے، پیچھے والے نے فائرنگ کی اور موٹر سائیکل دوڑا کر وہ غائب ہوگئے۔ پرچہ درج ہوگیاتھا اور پولیس تفتیش کررہی تھی۔ لاش انہیں پوسٹ مارٹم کے بعد مل گئی تھی۔

 

“لیکن شاہد جیسی روح سے کسے دشمنی ہوسکتی تھی؟” راشد نے پوچھا

 

“قتل ہونے کے لیے دشمنی کی یہاں کیا ضرورت رہ گئی ہے، راشد صاحب‘‘، اقبال نے کہا،”دہشت گرد کسی کا نام پتہ کب پوچھتے ہیں”۔

 

“حالات کا کچھ اندازہ تو مجھے بھی ہو گیا ہے اسلام آباد سے لاہور پہنچتے،” راشد نے کہا

 

وہ علی الصبح اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ کسٹم کاوٗنٹر پر اس کے اکلوتے بیگ کی تلاشی میں وہسکی کی ایک چھوٹی بوتل برآمد ہوئی جو اس نے فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اپنے حواس قابو میں کرنے کے لیے خریدی تھی اور جسے چند گھونٹ لینے کے بعد وہ اسی بد حواسی میں اپنے بیگ میں رکھ بیٹھا تھا۔

 

“شرم نہیں آتی، مسلمان ہو کر شراب پیتے ہو؟ کسٹم افسر نے بوتل برآمد کرتے ہوئے رعونت سے فرمایا۔

 

“بے خیالی میں ساتھ آگئی، حواس درست نہیں میرے”

 

“باہر سے سب ایسے ہی آتے ہیں، یہاں آکر حواس درست ہوجاتے ہیں”

 

“میرا ایک دوست قتل ہوگیا ہے، میرا دماغ ماؤف ہے اور مجھے جنازے میں پہنچنے کی جلدی ہے”۔

 

“جنازوں کو کندھا دینے ہی آتے ہیں سارے، کسی کو بچانے تو کوئی نہیں آتا”

 

“او جناب ٹھیک ہے، اب کرنا کیا ہے؟”

 

“قانونی کارروائی ہو گی، بوتل ضبط ہوگی، واپسی پر لے لینا”

 

“ٹھیک ہے آپ بوتل رکھیں اور مجھے رسید دے دیں”۔ راشد نے غصے سے کہا

 

قانونی کارروائی کے لیے رسید بک کی تلاش شروع ہوئی اور اسے گھنٹہ بھر وہاں رکنا پڑا۔ اس نے لاکھ کہا کہ اسے رسید کی ضرورت نہیں تھی، وہ یونہی بوتل ضبط کرسکتے تھے لیکن رسید کا معاملہ کسی بڑے افسر تک پہنچ گیا تھا اور اب گلوخلاصی ممکن نہیں تھی۔آخروہ بڑا افسربذاتِ خود نمودار ہو۔ “تم لوگوں کے پاس اسٹیشنری تک نہیں تو کیوں لوگوں کو تنگ کر رکھا ہے یہاں، جانے دو انہیں”۔ افسر کی گرجدار آواز گونجی۔

 

تلاشی لینے والے نے بوتل بیگ میں واپس رکھی اور بیگ بند کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا،” ایک بوتل علیحدہ رکھ لیا کریں ہم غریبوں کے لیے، لگتا ہے پہلی بار واپس آئے ہو”۔

 

ائیرپورٹ پر ہونے والے اس سلوک نے اسے اتنا بد دل کیا کہ اس نے لاہور کی فلائٹ کا پتہ کرنے کی بجائے بس میں جانے کا فیصلہ کیا، دن ابھی شروع ہوا تھا اور وہ جنازے کے وقت تک کوچ یا بس کے ذریعے لاہور پہنچ سکتا تھا۔ ٹیکسی میں کوچ سٹیشن کی طرف سفر کرتے اس کی نظر ایک جگہ کھڑی دن میں روشنیاں چمکاتی اور باجے بجاتی لاری پر پڑی جس کے ماتھے پر لاہور لکھا تھا۔ اس نے ٹیکسی رکوائی اور وہیں اس لاری میں سوار ہوگیا۔ اس نے اپنے کوفت زدہ ذہن کو ڈھیلا چھوڑنے کی کوشش کی، سفر کی تھکن اور دل کے بوجھ میں وہ جلد ہی اونگھ گیا۔ اس کی آنکھ کھُلی تو لاری دینہ کے قریب سے گزر رہی تھی، اس قرب و جوار میں اس کا آبائی گاؤں تھا جہاں وہ بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ٓیا کرتا تھا۔
گرم دوپہروں میں پرندوں پر غلیل چلاتے کھلنڈرے لڑکے اور ایک سرد ملک میں شیشے کے کمرے میں کمپیوٹر سے سر پھوڑتے آدمی کے بیچ زمانوں کا فاصلہ تھا۔

 

اس سے ملحقہ نشست پر ایک نوجوان طالبعلم بیٹھا تھا جس کا تعلق راولپنڈی کے کسی گاؤں سے تھا اور وہ لاہور کے کسی کالج میں زیرِ تعلیم تھا۔یہ جاننے کے بعد کہ راشد یورپ سے آرہا تھا اس نوجوان کی دلچسپی صرف اس موضوع سے رہی کہ
باہر جانے کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کا بیان تھا کہ وہ اس ملک سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا۔
وہاں تو زیادہ تر یہ پڑھنے سننے میں آتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مغربی تہذیب کے خلاف ہے،” راشد نے کہا
“سب بکواس ہے جی، یہاں وہی مغربی دنیا کو گالیاں دیتے ہیں جو یہاں رہنے پر مجبور ہیں یا جن کے ہاں حلوے کی دیگیں چڑھی رہتی ہیں”، نوجوان نے تلخی سے کہا۔

 

چناب کے پُل پر سے گزرتے اسے اپنے باپ کی تلاش میں کیا سفر یاد آیا۔ کئی برس پہلے اسے ایک دور کے رشتہ دار سے اطلاع ملی تھی کہ اس کا باپ انتقال کر گیا تھا، راشد نے نہیں پوچھا تھا کہ جمیل احمد کا انتقال کب، کہاں اور کیسے ہوا اور اسے کہاں دفن کیا گیا تھا۔

 

وہ انہی خیالوں میں گُم تھا کہ اچانک لاری میں بھگدڑ سی مچی، تین نوجوان مختلف جگہوں سے اٹھے اور ان میں سے ایک نے دروازے کے ساتھ بیٹھے مسلح گارڈ کے سر پر پستول رکھ دی، دوسرے نے اس کی گن چھین لی، تیسرا راشد کے پاس ہی کھڑا چاروں طرف پستول لہرا رہاتھا۔

 

“ڈاکو، ڈاکو،”راشد کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے حلق سے پھسی پھنسی آواز نکلی۔

 

“خاموش، کیا ہے تیرے پاس، نکال،” پستول بردار نے طالبعلم کو للکارا

 

لوٹ مار شروع ہوگئی، راشد کے قدموں میں پڑا بیگ کھُلنے پر شراب کی بوتل برآمد ہوئی۔

 

“شرم نہیں آتی، شراب پیتے ہو؟ شکل سے تو مسلمان لگتے ہو”، پستول بردار نے بوتل پر قبضہ کرتے ہوئے شدید نفرت اور غصے سے راشد کے جبڑے پر پستول کا دستہ رسید کیا۔ اچانک وار اور تکلیف کی شدت سے یکلخت راشد کا دماغ ماؤف ہو گیا، اندھیرے میں چنگاریاں اُڑ رہی تھیں اور ناقابلِ فہہم آوازوں کے جھکڑ۔

 

اس کے حواس درست ہوئے تو ڈاکو مالِ غنیمت کے ساتھ لاری سے باہر نکل رہے تھے۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی ساری جیبیں خالی تھیں، نقدی، پاسپورٹ، واپسی کا ٹکٹ اور موبائل فون، سب کچھ لوٹا جا چکا تھا۔ دن کا بقیہ حصہ پولیس کی پوچھ گُچھ اور آہ وزاری میں گزرا، طویل منت سماجت اور بیگ کی کسی جیب سے نکلنے والے اس کے وزیٹنگ کارڈ کی بنا پر پولیس افسر نے اس کے کاغذات چوری ہونے کی رپورٹ درج کی۔

 

“معلوم نہیں کیسے لاری اڈے سے پیدل چلتا یہاں پہنچا ہوں، اتنا کچھ بدل چکا ہے، کوئی سڑک پہچانی نہیں جاتی”، راشد نے اپنی روداد ختم کرتے ہوئے کہا۔

 

نیم تاریکی میں ڈوبے قبرستان پہ طاری موت کے سناٹے کو ارد گرد کی سڑکوں سے آتی آوازوں نے ایک ایسے مقام میں تبدیل کردیا تھا جو زندگی اور موت کے درمیان بے ترتیبی سے بکھری مٹی کی ڈھیریوں پر مشتمل کوئی سیارہ معلوم دیتا تھا۔

 

بوڑھے اورکھردرے درختوں کے درمیان چلتے وہ شاہد کی قبر پر پہنچے۔ راشد نے قبر کے قدموں میں بیٹھ کر پھر سے ایک بچے کی طرح رونا اور بلکنا شروع کردیا۔ اقبال اس کے پاس کھڑا حوصلہ دینے کے انداز میں اس کے شانے سہلاتا رہا۔

 

عرفان پتھر کے بُت کی طرح کھڑا تھا، اس کی آنکھوں کا خلا اندھیرے میں نظر آتا تھا۔

 

“پتہ نہیں کب کے اور کس کس کے لیے آنسو جمع تھے میرے اندر، مر کے مجھے تو ہلکا کردیاتم نے”، راشد نے بالآخر طویل سانس لیتے ہوئے کہا۔

 

“شاہد کو آخر کوئی کیوں قتل کرسکتا تھا، تم تو یہاں اس کے قریب ترین تھے اقبال”؟ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اقبال سے استفسار کیا۔

 

“میرا تو دماغ ہی بند ہو گیا ہے ڈاکٹر، “اقبال بولا،”میری دکان سے چند دکانیں آگے اس کا کلینک تھا، اس نے اگرچہ اپنی رہائش تبدیل کر لی تھی مگر ہمارا روز کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ شاہد کی بہت عزت تھی علاقے میں، کلینک مریضوں سے بھرا رہتا، لوگ اس کے لیے تحفے لے کر آتے تھے، اتنا سنجیدہ اور ماہر ڈاکٹر تھا میرا یار، کسی سے دشمنی کا تو سوال ہی نہ تھا۔”

 

وہ تینوں بہت دیر خاموش بیٹھے رہے، سوال تھے اور دکھ، جواب کہیں نہ تھا، قرار کہیں نہ تھا۔

 

ایک مریل سا کتا خاموشی سے ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ نیم اندھیرے میں ایک آدمی نمودار ہوا، موسم گو ابھی سرد نہ ہوا تھا لیکن اس نے خود کو پوری طرح چادر میں لپیٹ رکھا تھا، صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ ان کے بالکل قریب پہنچ کر اس نے چہرے سے چادر ہٹائی، یہ غلیظ بالوں کی لٹوں اور پچکے گالوں پر بے طرح الجھی داڑھی میں چھپا چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں بیک وقت کرب اور دیوانگی کی چمک تھی۔

 

“توفیق؟” اچانک راشد کے منہ سے نکلا

 

“اس حلیے میں بھی پہچانا جاتا ہوں”، توفیق نے ایک کھوکھلی، دور سے آتی آواز میں کہا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – چھٹی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سنٹر پر نئے ڈاکٹر کی آمد کی خبر دور دراز تک پھیل چکی تھی، اپنے کوارٹر کے دروازے پر شب خوابی کے پاجامے میں ملبوس شاہد نے دیکھا، وہ مریض خواتین و حضرات شاید سورج کے ساتھ ہی گھروں سے نکل پڑے تھے اور جوق در جوق ڈسپنسری کے صحن میں جمع ہو رہے تھے۔ مچھروں سے ہاتھا پائی میں گزری رات کی کسالت اس کے جسم پر طاری تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ ان بے چارے بیماروں میں تقسیم کرنے کے لیے اس کے پاس کونین کی گولیاں تک نہیں تھیں۔ سنٹر کے سابق غائب حکمران نے اسے ذمہ داریاں سونپنے اور رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے تشریف لانے کا تکلف نہیں کیا تھا۔ یکا یک اسے بھیڑ چیرتا ڈسپنسر نذیر نظر آیا جو اسی کی طرف آرہا تھا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے دھیمے لہجے میں کہا کہ وہ گھر میں رکھی ساری ادویات لے آئے، انکوائری اور حساب کتاب بعد میں ہوتا رہے گا۔ نذیر نے آئیں بائیں کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے نئے افسر کی اٹل سنجیدگی دیکھ کر وہ خاموشی سے گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔

 

وہ نذیر سے برآمد ہونے والی ادویات کے چند پیکٹ مریضوں پر تقسیم کر کے جلد ہی فارغ ہو گیا۔ نذیر نے اصرار کیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا کھانا اس کے گھر سے پک کر آئے گا، لیکن شاہد نے یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، اس نے چوکیدار کو کچھ رقم دے کر گاؤں کی جانب روانہ کیا کہ وہ اس کے لیے خوردو نوش کا سامان لے آئے۔ چوکیدار اشرف نے اس کے کوارٹر میں اجاڑ پڑے چولہے کو زندہ کیا اور اس کے لیے کھانا بنایا۔

 

مریضوں سے فارغ ہو کر اس نے سنٹر کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی، یہ پڑتال جلد ہی ختم ہو گئی، سنٹر کی زیادہ تر دستاویزات یقیناً گاؤں کی دوکان پر پکوڑے لپیٹنے کے کام آ چکی تھیں۔ وہ اکتا کر باہر نکلا، کچھ دیر وہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر اس نے گاؤں دیکھنے کا ارادہ ترک کر کے ریتلے ٹیلوں کی راہ لی۔ دن ڈھل رہا تھا اور ریت ابھی اپنے اندر جذب کی ہوئی حرارت فضا کو لوٹا رہی تھی، تھور کے پودوں اور خاردار جھاڑیوں میں کہیں کہیں کوئی بھورا پرندہ پھُدکتا نظر آ جاتا، دور دور تک مکمل خاموشی تھی جیسے یہ کوئی آواز کی پیدائش سے پہلے کی دنیا ہو۔ رات بھر وہ مختلف سوچوں سے الجھتا رہا تھا، وہ یہاں کیا کرے گا؟ وہ جو جھمگٹے کا عادی تھا اور حرکت کا، یہاں کی تنہائی اور سکوت میں کب تک رہ پائے گا۔ کیا اسے بھی اپنی ممکنہ تنخواہ کا کچھ حصہ متعلقہ افسر کے لیے مختص کردینا چاہیئے تھا اور اپنے پیش روؤں کی طرح سیدوں کی دہلیز پر ماتھا ٹیک کر گھر کی راہ لینی چاہیئے تھی؟ پیشانی کے عین درمیان پڑاؤ ڈالتے مچھر پر تھپڑ رسید کرتے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وہیں رہے گا اور جب تک اس سے بن پڑا ایمانداری سے اپنا فرض نبھائے گا۔ بھاگ جانے کا رستہ ہمیشہ کھلا تھا۔ اس نے کل ہی جھنگ جانے اور ضلعی دفتر سے ادویات کی فراہمی کا بندو بست کروانے کا قصد کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔

 

اس چمکدار دن وہ مریضوں کے معائنے میں منہمک تھا جب اسے ایک اچانک غلغلے نے چونکایا، کمرے کے کھلے دروازے سے باہر دالان میں بیٹھے مریض اور ان کے لواحقین باجماعت کھڑے ہورہے تھے، سلام شاہ جی، سلام شاہ جی کی بلند ہوتی صداؤں میں تین چار مصاحبین کے ہمراہ بوسکی کی قمیض اور سفید کھڑکھڑاتی شلوار میں ایک سرخ و سپید نوجوان صحن میں داخل ہوا۔ حاضرین کمر تک جھُک گئے، خواتین نے چادریں گھٹنوں تک کھینچ لیں اور گرمی سے بلبلاتے بچے اچانک خاموش ہو گئے۔

 

“چھوٹے شاہ صاحب بہ نفسِ نفیس آگئے ہیں، خیر ہو”، اس نے اپنے قریب نذیر کی سرگوشی سنی۔ اجتماعی وفور کی اس فضا میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اٹھ کر نوجوان شاہ صاحب کا استقبال کیا۔

 

“ آپ تو سنا ہے گھر سے ہی ہم لوگوں سے ناراض چلے ہیں، لیکن ہم پڑھے لکھے لوگوں کے قدردان ہیں، آپ کے اسقبال کو خود حاضر ہوگئے ہیں۔” نوجوان نے ایک کرسی پر تشریف رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں تکبر، تمسخر اور ایسا ٹھہراؤ تھا جو پشت در پشت مکھن میں پھسلتے رہنے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

 

“ نہیں مجھے کس بات کی ناراضگی ہوسکتی ہے، مجھے خوشی ہے کہ آپ ملنے آئے ہیں”۔ شاہد نے رسان سے کہا۔

 

“ آپ کی خدمت کریں گے ڈاکٹر صاحب، یہاں تو کوئی ٹکتا ہی نہیں، گھر بیٹھے تنخواہ بٹورتے ہیں، آپ تو سنا ہے یہاں رہ کر کام کریں گے”۔

 

“ہاں ارادہ تو یہی ہے”۔

 

“ بہت اچھے، بہت اچھے”، نوجوان جس نے اپنا نام بتانا ضروری نہ سمجھا تھا، توصیفی انداز میں گردن ہلا کر بولا، جس پراطراف و جوانب سے ماشاٗللہ کی صدائیں بلند ہوئیں۔ شاہ صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اس کے جذبے اور لگن کی قدر کرتا تھا اور عنقریب اپنی جیب سے ہسپتال کے لیئے نیا فرنیچر مہیا کرنے والا تھا۔ پھر وہ شاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے ساتھ باہر لے آیا۔

 

“ نذیر غریب آدمی ہے اور پھر وہ لوگوں کا علاج ہی تو کرتا رہا ہے، خود تو ساری دوائیاں نہیں کھا جاتا تھا، میری بات سمجھ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟”

 

“ ضابطے کی کارروائی تو ہونی چاہیے”۔

 

“ ضابطے تو محکوموں کے لیے ہوتے ہیں، آپ تو ہمارے افسر ہیں، ضلع کے افسران بھی ہمارے ہی ہیں، خوامخواہ آپ وہاں انکوائری ڈال آئے، ایسے چھوٹے موٹے معاملے ہم یہیں نمٹاتے ہیں”۔ شاہ نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور مصاحبین کے جلو میں گاؤں کی سمت بڑھ گیا۔

 

شام اپنے کوارٹر میں اس نے تین ٹانگوں والی میز کی مرمت کی جو اسے سنٹر کے مختصر سے گودام میں مل گئی تھی،میز برآمدے میں رکھ کر اس نے جھنگ سے خریدے ہوئے پلاسٹر آف پیرس کے پیکٹ اس پر منتقل کیے، سوٹ کیس سے مجسمہ سازی کے اوزار نکال کر ترتیب سے میز پر سجائے اور سگریٹ سلگایا۔

 

پلاسٹر میں تھوڑی سی اس دالان کی ریتلی گرد بھی ملا ئی جائے، ناہید کے نام۔ اس نے کش لیتے ہوئے سوچا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کار کی اگلی نشست پر بیٹھتے ہوئے ناہیدنے دھیان سے اپنی چادر سمیٹ کر دروازہ بند کیا، اگنیشن میں چابی گھماتے اس کے نئے نویلے شوہر کے وجود سے اٹھنے والے آفٹر شیو، ڈی اوڈرینٹ اور پرفیوم کے مرکب مرغولے کار کی فضا معطر کر چکے تھے۔ چوکیدار گیٹ کھول چکا تھا، گاڑی آہستہ روی سے کراچی کی ایک متمول بستی کی سڑک پر نکلی۔ ہسپتال کا راستہ دس منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا اور ناہید کو یہ بات بہت پسند آئی تھی، اسے کراچی کی آب وہوا اچھی لگی تھی اور سمندر، لیکن اس شہر کی ٹریفک نے اسے بوکھلا دیا تھا۔والدین کی مرضی اور اس کی رضامندی سے اس کا بیاہ دور کے رشتہ داروں میں کر دیا گیا تھا، یہ ڈاکٹروں کا خاندان تھا، جن کا ایک چار منزلہ ذاتی ہسپتال تھا۔ وہ خاندان میں ایک اور ڈاکٹر کی آمد پر خوش تھے، اس کے والدین احسن طریقے سے اپنا فرض ادا ہونے پر خوش تھے اور وہ اپنے دراز قد اور مضبوط کاٹھی کے مرد کے ساتھ خوش تھی جسے قیمتی سوٹ اور میچ کرتے ریشمی سکارف پسند تھے۔

 

مہندی کی شام جب اس کی سہیلیاں گا رہی تھیں اور وہ اپنے حنائی ہاتھ گود میں رکھے بیٹھی تھی، ایک لمحہ کے لیئے اسے اس مجہول سے کلاس فیلو کی یاد آئی جو اس سے میڈیسن اور سرجری کی بجائے رنگوں، مجسموں اور شاعری کی باتیں کرتا تھا۔ اور جس کے دماغ میں ایسے بے تکے انقلابی خیالات بھرے تھے جن کی عملی زندگی میں کوئی جگہ نہ تھی۔ گو شاہد نے کبھی اظہار نہ کیا تھا لیکن وہ اس کی مضطرب نگاہ اور لڑکھڑا جانے والے لہجے کو پڑھ چکی تھی۔ اس کی باتیں دلچسپ تھیں اورناہید کو اس سے انسیت سی ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں بادلوں کی طرح امنڈتی محبت کا ناہید کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

 

وہ ایک تنگ گھر سے دوسرے تنگ گھر میں منتقل نہیں ہونا چاہتی تھی، اسے تحفظ کی طلب تھی اور آسائش کی، ایک ایسی زندگی کی جس میں وہ قیمت پر دھیان دیے بغیر اپنی مرضی کا لباس خرید سکے، چمکدار اورخوش باش لوگوں کے بیچ بڑھیا ریستوران میں شام کا کھانا کھا سکے اور جس زندگی میں اسے بچوں کے سکول کی فیس کے لیے تین تین شفٹوں میں کام نہ کرنا پڑے۔ شاہد کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر اس شخص کو اتفاق سے ایسی زندگی مفت بھی مل جاتی تو وہ شاید اپنی میلی جینز سے ہاتھ صاف کرتا پہلی فرصت میں نکل بھاگتا۔

 

اس سے مکمل قطع تعلق ناہید کے لیے آسان نہیں تھا لیکن اس کے روبرو اس کی محبت کو ٹھکرانا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔وہ دن جب تقریباً روزانہ گرلز ہاسٹل کا چوکیدار اسے شاہد کی آمد کی اطلاع دیتا، وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیتی تھی۔کمرے میں اکیلی بیٹھی وہ تصور کی آنکھ سے اس پاگل لڑکے کو گیٹ پر بیچینی سے انتظار کرتا دیکھتی رہتی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – پانچویں قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

” کب جائن کر رہے ہو ڈاکٹر؟” بہنوئی نے پوچھا۔

 

“اگلے ہفتے”، شاہد نے مختصر جواب دیا۔

 

“کتنا عرصہ وہاں رہنا پڑے گا بیٹا؟” ماں نے پوچھا۔

 

“تین سال”، شاہد نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

 

“چلو نوکری جائن تو کرو، شاید کبھی تبادلے کا چانس مل جاے”، بہنوئی نے تسلی دینے کے انداز میں کہا۔

 

“شادی کر لو بیٹا، ساتھ لے جانا دلہن کو، خدمت کرے گی وہاں تیری، اکیلے میں پردیس کاٹنا بڑا مشکل ہے”، ماں نے مشورہ دیا۔

 

“اپنی خدمت کے لیئے میں آپ ہی کافی ہوں”۔

 

“دیتا ہے کسی بات کا جواب انسانوں کی طرح”، خاور کے لہجے میں پھر غصہ عود آیا،”میں کہتا نہیں کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے”۔

 

“اچھا یار ناراض مت ہو، مجھ پر بڑے احسان ہیں تمہارے، بس شادی کے موضوع پرمجھ سے بات نہ کرو”،شاہد نے گہری سانس لے کر صُلح جُوئی سے کہا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تنگ کوچوں میں شام اُتر رہی تھی۔ ٹاٹ کے پردوں اور سلاخ دار کھڑکیوں میں سے بچوں، برتنوں اور ٹیلی وژن کی آوازیں آرہی تھیں، آسمان پر ختم ہوتی روشنی میں چند پتنگیں ہلکی ہوا پر ڈول رہی تھیں۔بازار میں چھڑکاؤ کے بعد کی تازگی اور گہماگہمی تھی، شاہد نے چاچا مجید کے کھوکھے پر رک کر سگریٹ لئے اور کچھ دیر اس سے فقرہ بازی کی، منحنی بدن،خشخشی داڑھی،اندر کو دھنسی ہوئی چمکیلی آنکھیں جو ہر گاہک پر مذاق کے شرارے چھوڑنے کوبے چین رہتی تھیں،چاچا مجید حسبِ عادت اُکڑوں بیٹھا تیزی سے پانوں پر کتھا چُونالگا رہا تھا اور شاہد کو شاہی قوام والا پان کھلانے پر مُصر تھا ، اس کا بیان تھا کہ قوام والے پان سے آدمی کی تیسری آنکھ کھل جاتی ہے، کانوں پر پڑے چبے ہٹ جاتے ہیں اور جگر میں اصلی اور سُچی گرمی پیدا ہوتی ہے۔ شاہد کا اصرارتھا کہ وہ اس بہشتی سفر کے لئیے ابھی نابالغ تھا۔

 

بازار سے گزرتا وہ اقبال کی پتنگوں کی دُکان پر پہنچا، دُکان کے آگے پڑے بنچ پر اقبال کا باپ اپنے چند دوستوں کے جلو میں حقے کے کش لے رہا تھا، بزرگوں سے علیک سلیک کر کے وہ دُکان میں داخل ہوا۔ اس وقت ڈور پتنگ کے گاہکوں کی آمد کا امکان نہیں تھا لیکن دُکان بند کرنے کی کوئی جلدی نہیں پائی جاتی تھی۔ اقبال پچھلی دیوار سے ٹیک لگائے پتنگوں کے شہتیر چھیل رہا تھا۔ شاہد کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکیں۔ شاہد نے اسے بتایا کہ اسے جھنگ کے ایک دوردراز گاؤں میں نوکری ملی تھی۔ اقبال نے ایک مفصل گالی کے ذریعے اس خبر پراپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ شاہد اور وہ بچپن میں ایک ہی سکول میں پڑھتے رہے تھے۔ تمام ذمہ دار باپوں کی طرح اقبال کے باپ کا بھی یہی نصبُ العین تھا کہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر ایک بڑا سرکاری افسر بنے، اپنے باپ کا نام روشن کرے اور اس کی طرح مانجھے سے اپنے ہاتھ کاٹنے میں زندگی گزارنے سے بچ جائے۔اقبال کی نظر لیکن آسمان پر رہتی تھی،استادوں کی جھڑکیاں، ڈنڈے، سزائیں،باپ کی لعن طعن، ہم جماعتوں کے ٹھٹھے، کوئی حیلہ اس کی توجہ بے رنگ الفاظ پر مرکوز کروانے میں کامیاب نہ ہوا۔ آٹھویں کے امتحان سے کچھ دن پہلے اس نے بستہ موچی دروازے کے باہر لیٹے نالے میں پھینک دیا اور باپ کو دھمکی دی کہ اگر اس کے سامنے کسی نے سکول کا نام لیا تو وہ ایک بہت بڑی پتنگ بنائے گا اور اس کے ساتھ لٹک کر ہمیشہ کے لیئے اُڑ جائے گا۔

 

اب اس کی بازار میں دو دکانیں تھیں، شاگرد تھے،ملازم تھے ، اس کے ہاتھ کے بنے سُدھ تیِرے اور کُپ شہر میں مشہور تھے۔اس کا باپ اب اپنی ریٹائرمنٹ کا زمانہ اس دکان کے آگے رکھے بنچ پر گزارتا تھا جو اس کے وقتوں کے ڈربے سے پھیل کر ایک بڑی، شیشے کی الماریوں سے سجی رنگا رنگ اور مشہور دکان بن گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ حقے کا کش لے کر اپنے دوستوں سے کہتا،”چلو جو خدا کو منظور، اس کے کاموں میں بہتری ہی ہوتی ہے، لیکن ظہورعلی کا لڑکا دیکھو ڈاکٹر بن گیا ہے”۔

 

دکان بند کرنے تک شاہد اقبال سے گپیں لگاتا رہا، پھر وہ گھر واپس چل دیا۔ اگلے ہفتے اسے چک بھمبراں روانہ ہونا تھا، چک بھمبراں کہاں تھا؟ کیا وہاں اونٹ پر بیٹھ کر پہنچنا پڑے گا؟

 

۔۔۔۔۔۔۔

 

چک بھمبراں جانے والا چوڑا پگڈنڈی نما راستہ ریت کے سنسان ٹیلوں میں لیٹا تھا، شاہد بھوسے کے نیم شکستہ چھپر تلے کھڑا گنڈیریاں چوس رہا تھا۔چھپر کا مالک پھلوں کی چند ٹوکریوں اور مکھیوں کے بیچ سہ پہر کی غنودگی میں جھول رہا تھا۔دور دراز تک مکمل خاموشی اور سکوت تھا جس میں شاہد گنڈیریاں چوسے جانے کی سڑک سڑک سن رہا تھا۔ جھنگ سے روانہ ہونے والی لاری نے ڈھائی گھنٹے کے سست رو سفر کے بعد اسے اس مقام پر جسے اڈہ خاص کہلانے کا شرف حاصل تھا،اتار دیا تھا۔ اڈہ خاص ایک بوسیدہ کھوکھے پر مشتمل تھا جس کے مالک نور علی نے شاہد کو اطمینان دلایا کہ بابا رحمت اپنے ٹانگے سمیت آتا ہی ہوگا، اڈے سے ہسپتال تک تین میل کا فاصلہ تھا ، گاؤں ہسپتال سے کوئی ایک فرلانگ پہلے تھا۔سیدوں کی گاڑی کے علاوہ بابا رحمت کا ٹانگہ اس رستے کو طے کرنے والی واحد سواری تھی۔
نور علی نے اس اطلاع پر کہ شاہد کا ارادہ وہاں قیام کرنے اور ہسپتال چلانے کا تھا اسے تشویش اور تعجب سے دیکھا تھا۔ جب سے یہ مرکز بنا تھا کسی ڈاکٹر نے وہاں قیام کرنے کی تمنا کا اظہار نہیں کیا تھا۔ موجودہ ڈیوٹی ڈاکٹر تین چار مہینوں میں ایک بار یہاں کا چکر لگاتا تھا، ہسپتال میں چند منٹ رکنے کے بعد وہ سیدوں کی حویلی سلام کرنے جاتا اور اسی شام واپس روانہ ہو جاتا۔ہسپتال کا عملی ڈاکٹر وہاں کا ڈسپنسر نذیر تھا جو اسی گاؤں کا رہائشی تھا۔

 

بابا رحمت کا ٹانگہ نمودار ہوا تو اگلی سیٹ پر بیٹھے صاف ستھری شلوار قمیض میں ملبوس، اندر کو دھنسی آنکھوں اور تیل سے چپڑے بالوں والے نوجوان نے ٹانگے سے اتر کر ہاتھ اٹھا کر ادب سے ڈاکٹر شاہد علی کو سلام کیا۔یہ ڈسپنسر نذیر تھا جو اپنے نئے افسر کا استقبال کرنے بذاتِ خود حاضر ہوا تھا۔ شاہد کے اس استفسار پر کہ اسے اس کی آمد اور خصوصاً آمد کے وقت کا علم کس طرح ہوا، نذیر نے نہایت انکساری سے مطلع کیا کہ نوکر پر لازم ہے کہ مالک کی خبر رکھے۔

 

نذیر نے راستے میں شاہد کو بتایا کہ وہ لاری کے اڈہ خاص پہنچنے سے پہلے وہاں استقبال کے لئے موجود ہونا چاہتا تھالیکن عین وقت پر سیدوں کی حویلی سے اسے بلاوا آگیا، بڑی شاہنی کے پیٹ میں زبردست مروڑ اٹھا تھا اور اسے فوری طور پر دوا کی ضرورت تھی۔ اس وجہ سے اسے اڈہ خاص پہنچنے میں دیر ہو گئی ۔

 

ٹانگہ کچے راستے پر ریت اور دھول اڑاتا سنسان میدانوں سے گزر رہا تھا ، کوتاہ قامت ٹیلوں پر اکا دکا ضدی جھاڑیاں بقا کی جنگ میں کانٹے تانے کھڑی تھیں۔ہوا سے ریت پر بنتی لہروں کے علاوہ یہ ایک مکمل ساکت دنیا تھی۔
ویرانے میں ایک چاردیواری نظر آئی جس میں پکی اینٹوں کی دو پستہ قد، مختصر عمارتیں واقع تھیں۔ ان میں سے ایک کے قریب پہنچ کر ٹانگہ روکا گیا اور نذیر اُچک کر ٹانگے سے اترا، اس کی دیکھا دیکھی شاہد بھی اتر آیا۔ بابا رحمت نے شاہد کا سامان اٹھایا اور وہ اس مکان میں داخل ہوے جو اب شاہد کی رہائش گاہ بننے والا تھا۔ اس کوارٹر نما مکان کے دونوں کمرے فرنیچر سے قطعاٌ عاری تھے، غسلخانے کے خلا میں جالے لٹک رہے تھے، تنگ باورچی خانے کے ایک کونے میں تین اینٹیں اور زمانوں پرانی راکھ چولہے کی ناموس کے پاسبان تھے ،دیواروں کے علاوہ اس مکان میں دیکھنے کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ شاہد چھوٹے سے برآمدے میں نکل آیا، برآمدے اور باہر کی چار دیواری کے درمیان ایک مختصر میدان تھا جس کے کنارے کنارے کسی زمانے میں کی گئی کیاریاں بنانے کی ناکام کوشش کے آثار تھے۔ یہ صفا چٹ میدان دیوار پار کی سخت جان جھاڑیوں سے بھی محروم تھا۔

 

“لگتا ہے کوئی بہت بڑا گناہگاریہاں لوٹنیاں لگاتا رہا ہے”، شاہد نے اظہارِ خیال کیا۔

 

ڈسپنسر نذیر اس کے اس فقرے سے واضح طور پر محظوظ ہوا۔ اس نے شاہد کو بتایا کہ یہ مکان تقریبأ ہمیشہ بند ہی رہا ہے۔ بحالتِ مجبوری ایک رات سے زیادہ وہاں کسی ڈاکٹر نے قیام نہیں کیا تھا۔ اس نے آج صبح مکان کھول کر اس کی صفائی کروائی تھی۔ شاہد نے دیکھا کہ فرش پر پھیلی گرد میں جھاڑو پھیرے جانے کے نشانات تھے۔ اس اثناء میں دومنحنی انسان برآمدے میں نمودار ہوے۔ ایک کی بغل میں جھاڑو دبا تھا ،دوسرا اس اعزاز سے محروم تھا۔ دونوں نے معزول سپاہیوں کی طرح شاہد کو سیلیوٹ کیا۔یہ خاکروب جیکب مسیح اور چوکیدار اشرف چِبا تھے۔

 

” ہوسکے تو یہاں ایک بار پھر جھاڑو پھیر دو”، شاہد سیلیوٹ کا جواب دے کر جیکب سے مخاطب ہوا۔

 

“بہتر جناب”، جیکب بغل سے جھاڑو برآمد کرتے ہوے بولا، “ویسے صفائی جتنی مرضی کر لیں، مٹی اتنی ہی رہتی ہے”۔
“آئندہ اس فقرے کو الٹی طرف سے یاد رکھو، مٹی جتنی مرضی آئے، صفائی اتنی ہی رہنی چاہیے”۔

 

نذیر اور اشرف کی ہمرکابی میں وہ ڈسپنسری کا معائینہ کرنے نکلا تو باہر کھڑے بابا رحمت نے اسے سلام کیا۔ شاہد نے جیب سے بٹوا نکالتے ہوے کرایے کے بارے استفسار کیا۔ بابا رحمت نے اسے حضور، مائی باپ کے لقب سے نوازتے ہوے درخواست کی کہ وہ نوکر کو شرمندہ نہ کرے، وہ بھلا اس سے کرایہ کس طرح مانگ سکتا تھا؟ شاہد نے چند روپے اس کے انکار کے باوجود اسے دیے اور اسے بتایا کہ وہ حضور اور مائی باپ نہیں تھا اور دوسروں سے بیگار لینے کا اسے کوئی شوق نہ تھا۔

 

ڈسپنسری تین کمروں پر مشتمل تھی، ایک گرد آلود میز، کرسی، معائینے کا سٹول، چند زنگ خوردہ اوزار، ایک بستر جس کے سپرنگ پینڈولم کی طرح لٹک رہے تھے اور دوائیوں کی ایک الماری اس کا کل اثاثہ تھے۔ دوائیوں کی جانچ پڑتال سے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے تعویذ گنڈے سے کام چلانا پڑے گا۔ نہایت بنیادی قسم کی چند ادویات کے پیکٹ جو وہاں دستیاب تھے ان میں سے اکثر کی مدتِ میعاد عرصہ پہلے پوری ہو چکی تھی۔

 

گو اپنے سینیئر دوستوں سے وہ بنیادی مراکز صحت کے حالات سن چکا تھا اور یہ دگرگوں حالت اس کے لئے انکشاف نہ تھی لیکن خود کو اس بے سروسامانی و ویرانی میں گھرا پا کر وہ کچھ روہانسا ہوا۔ وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا؟

 

ڈسپنسری کے معائینے سے فارغ ہو کر وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف نکلا۔ بابا رحمت اپنے ٹانگے سمیت ابھی وہیں تھا اور گھوڑے کی نادار پشت سہلاتے ہوے جیکب مسیح سے محوِ گفتگو تھا۔

 

“ڈاکٹرصاحب سیدوں کی حویلی ہو آئیں؟” ، نذیر نے اس کے ساتھ چلتے ہوے مشورانہ لہجے میں استفسار کیا۔

 

“وہ کیوں بھئی؟”

 

“جی بڑی شاہنی بیمار ہیں، آپ چیک کر لیں”۔

 

“اتنی خراب حالت ہے کہ ڈسپنسری تک نہیں آسکتیں؟”

 

” نہیں سر ایسی بات تو نہیں، دوا تو میں نے دے دی تھی”۔

 

“پھر؟”

 

“سر وہ مالک ہیں اس علاقے کے ،تیس گاؤں ان کے مزارعے ہیں”۔

 

“نذیر، میں سرکاری ملازم ہوں سیدوں کا نہیں”۔

 

“ڈاکٹر صاحب سرکار بھی تو انہی کی ہے، آپ جانتے ہی ہیں”۔

 

“ہاں جانتا ہوں”۔شاہد نے بات ختم کرتے ہوے کہا۔

 

نذیر کے چہرے پر تشویش کے آثار پھیلے لیکن وہ خاموش رہا۔ شاہد نے مکان پر پہنچ کر دروازہ کھولا اور ان لوگوں کی طرف دھیان دیے بغیر اندر چلا گیا۔

 

تھکن اور بیزاری نے اس پر یک بار چڑھائی کی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں اس کا بستر اور سوٹ کیس پڑا تھا، ایک لمحے کو اسے خیال آیا کہ سامان اٹھا کر ٹانگے میں رکھے اور اسی وقت لاہور لوٹ جائے، کاغذی کارروائی پوری ہوچکی تھی، ادویات کے بغیر یہاں کرنے کو کچھ نہ تھا۔ بڑی شاہنی اپنی بدہضمی کی خود ذمہ دار تھی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – چوتھی قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شاہد لاہور سیکریٹیریٹ کے لان میں بیٹھا اپنی سفارش کا انتظار کر رہا تھا۔ لوگ اپنی درخواستیں اور سفارشیں لئے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے یا درختوں کے سائے میں بیٹھے کاہلی سے گپیں لگا رہے تھے۔گرمی عروج پر تھی،دوپہر کا سورج عین سر پر آگ برسا رہا تھا اور پسینہ چوٹی سے ایڑی تک بہہ رہا تھا۔پسینے میں تر کپڑوں کی چپ چپ،مکھیاں،انتظار اور بے زاری۔اس کے ایک دور پار کے واقف نے اسے امید دلائی تھی کہ وہ ایڈشنل سیکرٹری صحت سے کہہ کر لاہور کے کسی قریبی گاؤں میں اس کی تقرری کروا دے گا۔میو ہسپتال میں اس کا ہاؤس جاب ختم ہو رہا تھا ،سرکاری ملازمت میں آنے کے لئے اسے پنجاب کے کسی دیہاتی مرکزِ صحت پر تین سال گزارنے تھے جس کے بعد وہ لاہور کے کسی ہسپتال میں نوکری کی امید کر سکتا تھا۔

 

عرفان ہاؤس جاب مکمل کرنے کی بجائے ایک امریکی گرین کارڈ کی مالکہ سے بیاہ رچا کر امریکہ جا چکا تھا۔ہوائی اڈے پر الوداع ہوتے اس نے بیان دیاتھا کہ وہ بے تکے اور ادھ پکے نظریات کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ چکا تھا، وہ دولت، عزت اور آسائش کی زندگی چاہتا تھا جو قسمت آزماؤں کی سرزمین پر اس کی منتظر تھی۔

 

راشد کی ماں کی ناگہانی وفات کے بعد شاہد اپنے دوست کی بہت دن دلجوئی کرتا رہا۔ راشد کی ماں اچانک وارد ہونے والے ہارٹ اٹیک سے جانبر نہ ہوسکی، ہسپتال کے رستے میں ٹریفک کے اژدہام میں پھنسی اپنے ڈاکٹر بیٹے کی کار میں اس نے دم توڑ دیا۔ اس کا تارک الدنیا خاوند جنازے پر کہیں نظر نہ آیا۔

 

جرمنی میں مقیم راشد کے ایک چچا نے اس کا داخلہ فرینکفرٹ یونیورسٹی میں کروا دیا تھا۔ تلخی اور غم سے بھرا اس کا پرانا دوست جرمنی میں میڈیکل سافٹ وئیر کی تعلیم کے لیے جا چکا تھا۔

 

توفیق کی کوئی خبر نہ تھی، فائنل امتحان کے بعد وہ اپنے آبائی شہر پارا چنار چلا گیا تھا اور ان کے راڈار سے مکمل غائب تھا۔

 

ناہید کے لیے اس کی یک طرفہ خاموش محبت کے زخم پروقت کی گرد جم گئی تھی لیکن زخم مندمل نہیں ہوا تھا۔ گرم،ویران سہ پہر کے سناٹے میں ہسپتال کی کینٹین کے باہر بیٹھے،خزاں کی شام میں موٹر سائیکل پر نہر کے ساتھ گزرتے،اپنے سیلن زدہ کمرے میں مٹی اور پلاسٹر کے مجسمے بناتے ، کینوس سے باہر نکلتی ناہید کی ایک اور نئی تصویر کے سامنے کھڑے اسے اپنی احمقانہ محبت کی یاد مضطرب اور اداس کر دیتی۔ناہید کا اتہ پتہ معلوم کرنے کی اس نے کبھی کوشش نہ کی۔وہ اب اس کی انگلیوں کی پور پور میں رہتی تھی۔

 

اس کے والدین کا اصرار تھا کہ وہ ہاؤس جاب ختم کرتے ہی شادی کرلے، اس کے مستقل انکار پر انہوں نے اسے یہ اجازت بھی دی کہ وہ اپنی پسند سے شادی کر سکتا تھا۔ شاہد کا ایک ہی جواب تھا کہ اس سے اس موضوع پر گفتگو نہ کی جائے۔
گھنٹہ بھر سفارش کے انتظار سے اکتا کر وہ ملازمت کی درخواست سنبھالے متعلقہ سیکشن افسر کے کمرے کی جانب روانہ ہوا۔کمرے میں اس جیسے اور کئی نوجوان ڈاکٹر کاغذوں کے پلندے اٹھائے میزوں،ملاقاتیوں اور چائے کی پیالیوں کے درمیان چکراتے پھر رہے تھے۔ کافی دھکم پیل اور تگ و دو کے بعد وہ سیکشن افسر کو مخاطب کرنے میں کامیاب ہوا۔
“جگہیں تو ساری پْر ہو گئیں ڈاکٹر صاحبــــ”،سیکشن افسر نے رجسٹروں کے انبار سے نظر ہٹائے بغیر تمسخرانہ رعونت سے اسے مطلع کیا۔

 

“جگہیں ساری پْر ہو گئیں؟ابھی تو تقرریاں شروع ہوئی ہیں، اور یہ اتنے سارے لوگ جو درخواستیں لئے پھر رہے ہیں یہ کدھر جائیں گے؟” شاہد بدحواسی سے بولا۔

 

“آپ اپنی بات کریں ڈاکٹر صاحب، دوسروں سے آپ کو کیا لینا دینا”، سیکشن افسر نے اسی رعونت سے کہا۔

 

“ اپنی ہی بات تو کر رہا ہوں، نوکری چاہئیے مجھے”۔شاہد کے لہجے میں غصے کی لہر تھی۔

 

“ گرمی کھانے کی کوئی ضرورت نہیں، میں اخلاق سے بات کررہا ہوں آپ سے”۔

 

“ یہ کس قسم کا اخلاق ہے؟ غلط بیانی کررہے ہیں آپ،جگہیں کیسے پْر ہوگئیں؟”۔

 

“ ڈاکٹر صاحب گرمی سردی رہنے دیں، الزام تراشی کر رہے ہیں آپ صاحب پر” سیکشن افسر کے پاس بیٹھے لمبے تڑنگے آدمی نے اپنی حکم دینے کی عادی آواز میں مداخلت کی،یہ یقیناکسی کی سفارش کرنے آیا تھا۔

 

یکایک شاہد کو خیال آیا کہ کچھ بھی کہنا سْننا بیکار تھا، اسے سفارش کے بغیر یہاں آنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ غصے،مایوسی اور خودترسی سے بوجھل وہ سیکشن افسر کے کمرے سے باہر نکل آیا۔

 

باہر کاریڈور میں وہ روہانسا اور نیم بدحواس سا کچھ دیر ادھر ادھر پھرتا رہا۔سرکاری نوکری نہ ملی تو کیا کروں گا،کسی نجی ہسپتال کے لاللچی اور مکروہ مالک کی انگلیوں کے اشارے پر ناچتا رہوں؟کہیں چھوٹا موٹا کلینک کرلوں اور وہیں اسی کرسی میں زندگی گزار تا مر جاؤں؟کلینک بنانے کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟

 

اچانک اسے کاریڈور کے سرے پر اپنا واقف نظر آیا جس کے آنے کی امید وہ ختم کر چکا تھا۔ علیک سلیک کے بعد اس کے مربی نے بتایا کہ اس کے گاؤں سے کچھ لوگ آگئے تھے، ڈکیتی کا معاملہ تھا، سفارش کے لئے اسے ان کے ساتھ ڈی ایس پی کے دفتر جانا پڑا جس وجہ سے اسے دیرہو گئی۔شاہد نے اسے سیکشن افسر سے اپنی جھڑپ کی روئیداد بیان کی۔

 

“ ڈاکٹر صاحب اس ملک میں سیدھی طرح بھی کبھی کوئی کام ہوا ہے؟ کوشش ہی فضول ہے،” اس کے واقف نے عمومی انداز میں اظہارِ خیال کیا۔اس نے شاہد کو بتایا کہ ایڈشنل سیکرٹری سے اس کی ذاتی واقفیت نہ تھی، کسی کے حوالے سے کام کروانا تھا۔ایڈشنل سیکرٹری کے دفتر کے پاس پہنچ کر اس نے شاہد سے کاغذات لیے اور اسے باہر انتظار کرنے کا کہہ کر اندر چلا گیا۔ شاہد دیوار سے ٹیک لگائے معاشرے کی اخلاقی اور سیاسی بدحالی پر کْڑھتا رہا۔ اسی طرح کے ہو جاؤ جیسے سب ہیں،سوچو مت،دیکھو مت،کہو مت،شاہد علی، صرف اس منجن کی ترکیب سوچو جس سے اپنے دانت تیز کر سکو اور کاٹو! انسان، کتا،بلا جو راہ میں آئے خون پی جاؤ اس کا،بھیڑیوں کے غول میں بھیڑیا بنو یا زمین میں گڑھا کھود کے گھس جاؤ اس میں۔تھرپارکر سے ادھر توگڑھا کھودنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی،وہ تلخی سے دل میں ہنسا۔

 

“ڈاکٹر صاحب مبارک ہو، کام ہو گیا،” اسے اپنے واقف کی آواز سنائی دی،”چک بھمبراں کے سنٹر میں آپ کی تقرری ہو گئی ہے”۔

 

“ وہ کہاں ہے؟”

 

“ پاکستان ہی میں ہے، شکر کریں نوکری مل گئی ہے، بڑی بڑی سفارشوں کا زور ہے، بس مالک نے عزت رکھ لی، نوکری کا چارج لیں بعد میں تبادلہ کی کوشش کر لیں گے”۔

 

“چک بھمبراں ہی ٹھیک ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہے، شایدوہاں گڑھا کھودنے کی جگہ مل جائے،” شاہد اس سے تقرری کا پروانہ لیتے ہوئے احسان مندی سے ہنسا۔

 

سیکریٹیریٹ کی دہشت ناک عمارت سے نکل کر اس نے اپنی بوسیدہ موٹر سائیکل کا رُخ اندرون شہر کی طرف کیا۔ ویگنیں، بسیں، رکشے، تانگے،موٹر سائیکلیں، سائیکلیں،سکوٹر، چھکڑے، ٹرک ایک دوسرے پر اپنی اپنی تیزرفتاری کی دھاک بٹھاتے،گرمی سے پگھلی تارکول پراپنی لہریے دار چال کے نقش ثبت کرتے سرپٹ بھاگ رہے تھے۔ان سب لوگوں کو کہیں پہنچنے کی شدید جلدی تھی جہاں پہنچ کر انہوں نے آرام سے بیٹھ جانا تھا اور فوری طور پر اس تیزی اورعجلت کو اپنے ذہن سے محو کردینا تھا جس میں وہ چند لمحے پیشتر پوری سنجیدگی سے جان داؤ پر لگائے ہوے تھے کہ اس تیز رفتاری کا مقصد کسی فریضے سے جلد از جلد عہدہ برآ ہونا ہرگز نہیں تھا بلکہ یہ ان کے گرمی،مصالحوں،طیش اور انا کی پھپھوندی سے بنے خمیر سے اٹھتی بھاپ کے آزاد ہونے کاذریعہ تھا۔

 

موچی دروازے کی گلیوں میں داخل ہو کر اس نے کچھ اطمینان کا سانس لیا، بازار میں یہاں بھی کم ہڑبونگ نہ تھی، لیکن ذیلی گلیوں میں گرمی نسبتاً کم تھی اور یہاں وہاں بندھے بکروں اور نالیوں کے پاس لیٹی بلیوں اور گرم فرش پر ننگے پاؤں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے اکا دکا بچوں کے علاوہ سنسانی تھی۔اپنے مکان پر پہنچ کر اس نے موٹرسائیکل مختصر سی تنگ اوراندھیری دیوڑھی میں کھڑی کی۔ یہ تنگ سا تین منزلہ مکان اسی عجز اور محبت سے اردگرد کے مکانوں سے بغلگیر تھا جیسے اندرون لاہور کے دوسرے سارے مکان ایک دوسرے میں سرایت کئے ہوئے تھے۔

 

گھر میں اس کی ہمشیرہ اور بہنوئی اپنے دونوں بچوں کے ساتھ آئے ہوے تھے،بچے اس سے بہت مانوس تھے اور فوراً ہی اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئے، ان کا اصرار تھا کہ وہ انھیں چڑیا گھر کی سیر کروائے ،ابھی وہ ان سے ٹال مٹول کر رہا تھا کہ خاور بھی آگیا،وہ ٹیلی فون کے محکمے میں ملازم تھا اور اپنی اوسط درجے کی تنخواہ میں گھر کا خرچ چلا رہا تھا، ان کا باپ جس کی گھر کے قریب ہی کریانے کی دکان تھی پچھلے چند سالوں سے مختلف بیماریوں میں مبتلا رہنے لگا تھا اور اس کے کاروبار میں باقاعدگی نہ رہی تھی۔ ہسپتال سے ملنے والے شاہد کے قلیل وظیفے نے گھر کی مالی حالت کو کچھ سہارا دیا تھا۔ خاور کی شادی چار سال پہلے خاندان میں ہی ہوئی تھی،ماں ہر نماز کے بعد باقاعدگی سے اس کے لیے اولاد کی دعا کرتی۔

 

خاور نے آتے ہی شاہد سے ملازمت ملنے کے بارے استفسار کیا۔ کامیابی کی خبر سنتے ہی اس کے چہرے پر جمی مشقت کی گرد اُڑ گئی۔ ہمشیرہ اور بہنوئی نے مبارکباد دی۔ ماں یہ سن کر آزردہ ہوئی کہ اس کی تقرری ضلع جھنگ کے کسی دورافتادہ گاؤں میں ہوئی تھی۔

 

“ اتنے برسوں بعد خدا خدا کرکے تُو گھر آیا تو اب پھر چل دیا، تُو نے انہیں کہا نہیں کہ تجھے لاہور میں نوکری دیں؟”

 

“آپ کے خدا نے سفارش ہی نہیں کی امی” شاہد ہنسا۔ “ اس طرح نہیں کہتے بیٹا، نماز پڑھا کرو،دعا مانگا کرو، اللہ بڑا کارساز ہے”، اس کے باپ نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔

 

“جتنی دعائیں اور کراہیں اس دھرتی سے اٹھتی ہیں اگر انہیں کاغذوں پر لکھ کر آسمان پر چپکا دیا جائے تو آسمان بھر جائے، چھاؤں ہو جائے اس دھرتی پر”، شاہد تلخی سے بولا۔

 

“ دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا، ڈاکٹر بننے بھیجا تھا اس کالج میں،کفر کی ڈگری لے کے آیا ہے وہاں سے”،خاور غصے

 

سے بولا۔
“بھائی جان غصے نہ ہوں مُنے بھائی پر”، بہن نے مداخلت کی،” اتنی گرمی میں سیکریٹیریٹ کے دھکے کھاتا پھرا ہے دماغ تو خراب ہونا ہی ہے بیچارے کا”۔

 

خاور کی بیوی سکنجبین سے بھرا ڈول لیے کمرے میں داخل ہوئی،” بھیڈُو!”، وہ پانچ سالہ بھانجے کو مخاطب کر کے بولی،” جا باورچی خانے سے گلاس لے کر آ ٹھنڈا کریں ان کو”۔

 

(جاری ہے)
Categories
شاعری

نیند کے انتظار میں

نیند کے انتظار میں
نیند کے انتظار میں
آج پھر کئی خواب اِدھر اُدھر نکل گئے
اُن آنکھوں کی طرف
جنہوں نے اپنی چکا چوند سے دن کو تسخیر کیا
اور شام ہوتے ہی
نیند کی دیوی نے سوئمبر کے پھول
ان پلکوں پر رکھ دیے
یا بند باندھنے کی عجلت میں
ان آنکھوں کی طرف
جن کا نور کالے دن کے دریا میں بہہ گیا
یا شاید وہ کہیں نہیں جاتے
ٹہلتے رہتے ہیں
اپنی نیند کے انتظار میں
رستے میں اگتی گھاس پر
ان آنکھوں کی انتظارگاہ کے باہر
جہاں رات اور دن
گھڑی کی سوئیوں کی طرح
محض ٹِک ٹِک ٹِک ٹک کرتے ہیں

Image: Jenna Martin

Categories
فکشن

سرخ شامیانہ – قسط نمبر 3

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

“ لعنت بھیجو”، شاہد کرسی میں گرتے ہوئے بولا۔

 

وہ تینوں کینٹین کے لان میں بیٹھے چائے پیتے رہے۔ کھلے آسمان پر چیلیں سستی سے اُڑ رہی تھیں اورگرد آلود ہوا لان میں کھلے نوع بہ نوع پھولوں کی خوشبو سے بوجھل تھی۔ان کے واقف دوست گھڑی بھر ان کے پاس ٹھہرتے، گپیں لگاتے اور کینٹین میں یا کلاسوں کی طرف چلے جاتے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق تھا لیکن فضا میں ایک دبا دبا جوش اور اضطراب تھا جسے وہ سب محسوس کر رہے تھے۔

 

یکایک بڑی راہداری سے بھگدڑ کی آواز آئی، کچھ لڑکے لڑکیاں بھاگتے ہوئے کینٹین کی طرف آئے کچھ دوسری سمت لیکچرہال کی طرف نکل گئے، ان میں سے چند لڑکے کونے پر مڑ کر راہداری میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگے۔ گولی چلنے کی آواز آئی،پھر پے در پے گولیاں۔ وہ تینوں اٹھ کر کینٹین کی اوٹ میں چلے گئے۔

 

مارو مارو انہیں، فائرنگ کے شور میں انہوں نے ایک بلند اور کرخت آواز سنی۔

 

پھر چیخوں اور کسی کے گرنے کی آواز آئی، فوراً ہی کچھ اسلحہ بردار راہداری سے باہر نکلے اور بھاگتے ہوئے مختلف سمتوں میں غائب ہو گئے۔چیخ و پکار بلند ہوگئی۔ مخالف جماعت کے ایک رکن کو کلاشنکوف کا برسٹ چاٹ گیا تھا۔ میڈکل کالج کے وسط میں طبی امداد پہنچنے تک اس چمکدار دن میں، گلاب کی کیاریوں کے پاس اس نے اپنے سرخ ہوتے گاؤن میں دم توڑ دیا، نبض شناسی سیکھنے والی انگلیوں میں ریوالور جکڑا رہا۔

 

کالج غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا، مبینہ ملزم فرار ہوچکے تھے، ہاسٹلوں کی تلاشیاں لینے کے بعد انہیں گھروں کو کوچ کرنے کا حکم جاری ہوا۔ توفیق کا پستول اس کے نیفے میں اُڑسا رہا۔ اس کے کمرے کی تلاشی لیتے ہوئے کسی کو قبائیلی علاقے کے اس خوش پوش، ہنس مُکھ لڑکے کی جسمانی تلاشی کا خیال نہ آیاتھا۔

 

“ جناب، کیا کالج کے ساتھ ہی امتحان ہونے بھی بند؟” شاہد نے سوٹ کیس اٹھائے باہر نکلتے ہوئے ہاسٹل کے دروازے پر کھڑے پرنسپل سے پوچھا۔

 

“ خوش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، امتحان وقت پر ہوں گے”، پرنسپل نے خشک لہجے میں جواب دیا۔ کاش تمہارے مزاحمتی پوسٹر رنگ لاتے، یہ کالج قتل گاہ نہ بنتا اور مجھے ڈاکٹر سے گورکن نہ بننا پڑتا، اس نے دور ہوتے شاہد کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

چھوٹے، ننگی اینٹوں کے مکانوں کی قطار میں یہ پلستر شدہ بڑا مکان نیا تعمیر شدہ دکھائی دیتا تھا۔ لوہے کے پھاٹک پر سبز رنگ کیا گیا تھا، پھاٹک سے اوپر دیوار پر سبز رنگ کی ایک بڑی تختی آویزاں تھی جس پر مکین کا نام درج تھا، آستانہ عالیہ خادم درویشاں، سگِ اولیأ حضرت پیر غلام دستگیر سہروردی نقشبندی مدظلہ علیہ۔ سبز رنگ کا دوسرا دروازہ یقینا بیٹھک میں کھلتا تھا۔ کچھ دیر تذبذب کے بعد راشد نے اس دروازے پر دستک دی۔ دروازہ فوراً ہی کھول دیا گیا تھا، یہ ایک بڑا کمرہ تھا جس میں دو مختلف رنگوں کے قالین ساتھ ساتھ بچھے تھے، ہوا اگربتیوں کی مہک سے بوجھل تھی اور چاروں دیواروں سے ٹیک لگائے حضرات خشوع و خضوع سے بیٹھے تھے، دائیں دیوار پر لکڑی کے چوکھٹے میں خانہ کعبہ کی فوٹو تھی جس میں حج کا منظر دکھایا گیا تھا اس فوٹو کے نیچے سفید لباس اورسفید پگڑی میں ملبوس صاحبِ خانہ تشریف فرما تھے جن کی توجہ قریب بیٹھے سائل پر مرکوز تھی جو انہیں دھیمی آواز میں اپنا مسئلہ بیان کر رہا تھا۔ راشد کے سلام کا بقیہ حاضرین نے باآوازِ بلند جواب دیا، پیر صاحب نے اس کی آمد نظرانداز کی تھی۔ جوتے اتار کرراشد ایک طرف بیٹھ گیا۔ لوگ اپنی باری پر پیر صاحب کے پاس بیٹھ کر اپنا مسئلہ بیان کرتے، یہ مسائل زیادہ تر نوکری، کاروباری مشکلات، اولاد اور بیماری سے متعلق تھے۔ پیر صاحب سے تعویز، صدقہ یا چلہ کشی کی ہدایات حاصل کرکے سائل دونوں ہاتھوں میں احترام سے چھپا کر نذرانہ ان کے نمدے کے نیچے گھسیڑ دیتا۔ باری آنے پرراشد پیر صاحب کے سامنے دوزانو ہُوا، صاحبِ خانہ نے اپنی سُرمے سے منور بڑی بڑی آنکھوں سے اسے لمحہ بھر دیکھا، اس نظر میں دوسرے کو بھانپ لینے کا تفاخر تھا۔ ایک لمحہ توقف کے بعد انہوں نے سرسری انداز میں کہا،” بچھڑ گیا ہے، مل جاے گا،ـ” عرفان کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر انہوں نے بات جاری رکھی،”لیکن پیچیدہ کام ہے، کل صبح دس بجے تنہائی میں ملاقات کریں،کوشش کریں گے آپ کے لیئے۔”

 

باہر نکل کرراشد نے گہری سانس لی، تنہائی میں ملاقات کا مطلب وہ جانتا تھا۔

 

“لوگ کیسے سونگھ لیتے ہیں کہ میری جیب میں پیسے ہیں؟” اس نے بے زاری سے سوچا۔

 

پروفیسر جمیل احمد کی گمشدگی کو جو خاندان کے اکثر افراد کی رائے میں روپوشی تھی، چار ماہ گزر چکے تھے۔ پولیس کی بے ثمر مالی خدمت کرنے کے بعد راشد زندہ اور مردہ پیروں کے لواحقین کی کفالت کر رہا تھا۔ اس کی ماں جو عمر بھر توہمات کے خلاف رہی تھی، اب ہر قسم کا ٹونہ ٹوٹکا آزمانے پر تیار تھی، اس کے اصرار پر راشد اسے دعا مانگنے کئی مشہور مشکل کشاؤں کی قبر پر لے جا چکا تھا، لیکن پروفیسر جمیل احمد بدستور لاپتہ تھا۔کالے بکرے جو راشد نے بطور صدقہ قربان کروائے تھے اس کے خوابوں میں آنے لگے تھے، وہ سینگ تانے اور داڑھیاں تنتناتے اسے للکارتے اور جاتے ہوئے اس کی نیند مینگننوں سے بھر جاتے۔

 

سبز دروازے سے نکل کر اس نے سگریٹ سلگایا اور آہستہ خرامی سے اپنی کار کی طرف روانہ ہوا، جسے وہ اس خدشے کے پیشِ نظر گلی کے موڑ پر چھوڑ آیا تھا کہ کار دیکھ کر پیر صاحب کا نرخ بڑھ نہ جائے۔ شاہد کار میں ہی اس کا منتظر تھا، اس نے یہ کہہ کر پیر صاحب کی زیارت میں راشد کا سا تھ دینے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ کسی پیر یا مولانا کی خوشامد پر گمشدگی کو ترجیح دیتا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس پر یکلخت مایوسی، بیزاری اور شدید تھکن کا حملہ ہوا۔ فائنل امتحان شروع ہونے میں ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ امتحان کا خوف باپ کی گمشدگی کی دہشتناک پریشانی میں مل کرایک اعصاب شکن بیماری کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ سگریٹ کا کش لیتے ہوئے راشد کا ہاتھ کانپا، پھر یہ لرزا سارے بازو میں پھیل گیا۔ سگریٹ کار کی کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوے وہ بڑبڑایا،” باپ سے بھی گئے اور امتحان سے بھی گئے”۔

 

“ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، ہاہاہاہاــ” اچانک اس کے قریب سے ایک بلند آواز گونجی۔ راشد نے مُڑ کر دیکھا یہ وہی مجذوب نما فقیر تھا جسے اس نے چند ماہ پہلے ایک ڈرائیور ہوٹل پردیکھا تھا، اسے پہچاننے میں راشد کو ایک لمحہ بھی نہ لگا لیکن اس کے نعرے کے اچانک پن نے اور اس کی انتہائی بلند آواز نے اس کے اعصاب جھنجھوڑ کر رکھ دیے تھے۔

 

“ ایک اور ڈرامہ، سالی زندگی ہے یا نوٹنکی!”۔ شاہد بولا

 

یکلخت راشد نے غصے کی ایک شدید لہر کو کھوپڑی میں پھیلتے محسوس کیا۔” تم کیا سن باسٹھ کی پنجابی فلموں کا سین چلاتے پھرتے ہو؟ کون ہو تم؟” وہ فقیر پر غرایا۔

 

“عبدالباقر گلا بلا، نونہہ کُچجی آٹا ڈھلا”۔

 

اس علم افروز جواب نے راشد کو لا سوال کردیا، وہ منہ کھولے الف لیلہ کے اس شاہکار کو دیکھتا رہا۔

 

“ شاہو خانقاہ شاہو،چلو جی،” فقیر نے نعرہ لگا کر گاڑی کی چھت کو زور سے کھڑکھڑایا جیسے مسافربس کو روانگی کا اشارہ دے رہا ہو۔ راشد نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراـ گاڑی اسٹارٹ کر کے گیئر میں ڈالی اور ایک دھچکے سے آگے بڑھا لے گیا، تماشا دیکھنے کے شوقین جو گاڑی کے قریب جمع ہورہے تھے بمشکل خود کو بچا سکے، ان میں سے چند ہوا میں مُکے لہراتے اور گالیاں دیتے تھوڑی دور تک کار کے پیچھے بھاگے۔ کچھ دور جا کر دماغ پراچانک چھاجانے والی وحشت کم ہوئی توراشد کو خیال آیا کہ وہ خواہ مخواہ اپنا تماشا بنا بیٹھا تھا اور بلا تمیزِ سمت و منزل اُڑا جارہا تھا۔ شاہد کچھ بوکھلایا سا خاموشی سے ٹریفک پر نظر گاڑے بیٹھا تھا۔ اب شاہو خانقاہ پنہچ کر ہی دم لوں گا، اس نے غصے اور خجالت سے سوچا۔ لیکن خانقاہ شاہو تھی کہاں؟ کنڈکٹر کو تو وہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔

 

یکلخت اسے مکمل یقین ہو گیا کہ اس کا باپ خانقاہ شاہو میں تھا، یہ بات شک و شبہ سے ماورا ایک یقین کی صورت اس کے دل میں داخل ہوئی اور وہاں جم کر بیٹھ گئی۔ شام ہونے تک وہ اس خانقاہ کا اتہ پتہ معلوم کر چکے تھے۔

 

دور دور تک کھیت تھے اورہوا سبزے کی خوشبو سے بوجھل تھی، گہرے نیلے آسمان پر اکا دکا سفید بادل سستی سے پھر رہے تھے۔ منڈی بہاألدین گزرنے کے چند کلومیٹر بعدراشد نے کار بائیں ہاتھ کو نکلتے ایک کچے راستے پر موڑ دی۔ کھیتوں کے درمیان لیٹا یہ ایک سیدھا، خوبصورت راستہ تھا، دایں ہاتھ ایک چوڑا کھالا چل رہا تھا جس میں مٹی کے رنگ کا پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا، کھالے کے ساتھ ساتھ پوپلر کے پیڑ جھوم رہے تھے۔ یہ پیڑ ابھی نوخیز تھے اور ان کے تنے پتلے تھے لیکن صحت مند مٹی میں ان کی جڑیں مضبوط تھیں اور وہ ایک لہک اور سرشاری کے ساتھ دیکھتے دیکھتے آسمان میں بلند ہوتے جارہے تھے۔ راستے کے دوسری طرف وقفے وقفے سے شیشم، کیکر اوربیر کے درخت تھے۔ یہ نوخیز پوپلر کے برعکس بڑی متانت اوربُردباری سے کھڑے تھے، ان میں ان کی صدیوں پرانی خاندانی تہذیب کا وقار تھا۔

 

شاہد کا ایک پرانا واقفِ کار بشیربھٹی بھی ان کے ساتھ تھا۔ وہ اس علاقے کو جانتا تھا، خانقاہ شاہو کے محلِ وقوع کا علم بھی اسی سے ہوا تھا۔ کچے راستے پر چند کلومیٹر گرد اڑانے کے بعد جب وہ ایک گاوٗں کے قریب پہنچے تو کتوں نے حسبِ روایت ان کا استقبال کیا، وہ پوری قوت سے بھونکتے اور ایک دوسرے پر گرتے پڑتے کار کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے۔ راشد نے کار کی رفتار رینگنے کی حد تک کم کردی۔ بھٹی نے اسے رکے بغیر گاؤں سے نکل جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن اس چھوٹے سے گاؤں کی اکلوتی نیم تاریک ہٹی دیکھ کر راشد نے کار روک لی۔

 

اس کے منہ میں یکلخت نِگدی کا ذائقہ گُھل گیا تھا۔ دینہ کے قریب اس کا آبائی گاؤں تھا جہاں وہ بچپن میں سکول کی چھٹیاں گزارتا تھا، گاؤں کی اکلوتی ہٹی میں سب سے مزیدار چیز نِگدی تھی جس سے اس کی نکر کی جیبیں بھری رہتی تھیں۔ بہت بعد میں ایک بار اس کا ایک دوست لندن سے واپسی پر اس کے لئے چاکلیٹ کا ایک پیکٹ لایا تو اس نے اس پیکٹ پر نگٹ لکھا ہوا دیکھا، اسے لفظ نِگدی کی سمجھ تو آگئی لیکن نگٹ میں بچپن کی نِگدی کا مزہ نہ آیا۔

 

کار رکنے اور اس کے باہر نکلنے پر شور وغل مچاتے کتے یکدم خاموش ہو گئے۔ ان میں سے اکثر دم دبا کر اوراور تھوتھنی لٹکا کر کار سے ایک مناسب فاصلے پرٹہلنے لگے، وہ مشکوک نظروں سے کار کو گھور رہے تھے، چند ایک دبی آواز میں غراتے ہوے راشد کوہٹی تک چھوڑنے آئے۔ دکان کے پاس کھڑے لوگوں نے ان بے ضرر جانوروں کو حقارت سے بھگا دیا۔ دوکاندار نے نگدی کی فرمائش پر اسے حیرت اور تاسف کے ملے جلے جذبات سے دیکھا، اس نے بتایاکہ اس کے باپ کے زمانے میں ایسی چیزیں بکا کرتی تھیں، آجکل ایسی دقیانوسی اشیاء کا خریدار کون تھا؟ اس کے پاس بہترین بسکٹ کے ڈبے تھے اور سوڈے کی بوتلیں۔ راشد اس اطلاع پر اس کا شکریہ ادا کرکے گاڑی کی طرف لوٹ آیا۔

 

“نگدی نایاب تھی تو گنڈیریاں ہی لے آتے!“، شاہد اسے خالی ہاتھ لوٹتا دیکھ کر بولا۔

 

کار چلی تو کتے فوری طور پر اسی جوش و خروش اور ولولے سے بھونکنے اور کار کے اردگرد بھاگنے میں مصروف ہوگئے۔
دوپہر کے قریب وہ خانقاہ شاہو پہنچے۔ یہ چھ سات کچے کمروں پر مشتمل ایک ڈیرہ نما احاطہ تھا جس سے ایک چھوٹی اور سادہ سی مسجد ملحق تھی۔ یہ اس طرف کی آخری انسانی آبادی تھی، اس سے آگے چناب کا بیلہ تھا جس میں ڈِب اور سرکنڈے کے جزیرے اور صاف سرد پانی کی جھیلیں ایک دوسرے میں خلط ملط تھیں۔ بیلہ دن بھر مختلف نسل کی مرغابیوں کی آوازوں سے گونجتا رہتا، ان میں طویل پرواز کرنے والی کونجوں اور مرغابیوں کی چہکاریں بھی تھیں جو سائیبیریا سے سردیاں گزارنے کے لیے پنجاب کے پانیوں تک کا سفر کرتی تھیں۔ہوا میں ٹھہرے پانی، گھاس اور پرندوں کی ملی جُلی خوشبو تھی۔

 

احاطے میں داخل ہوتے ہی ان کی نظر جس شخص پر پڑی وہ پروفیسر جمیل احمد تھا۔ وہ ایک کونے میں لگے دستی نلکے پر لوٹے میں پانی بھر رہا تھا۔ بیٹے کو دیکھ کر اس نے لوٹا نیچے رکھ دیا۔

 

“مجھے پتہ تھا تم مجھے ڈھونڈ لوگے،” پروفیسر جمیل احمد نے رسان سے کہا۔

 

“ بڑی خوشی ہوئی یہ سن کر، آپ گویا ولایت کی منزل پر پہنچ چکے ہیں،” راشد کے لہجے میں تلخی تھی۔

 

“ مجھے افسوس ہے میں نے تم سب کو بہت تکلیف دی۔” جمیل احمد کے لہجے میں افسوس نہیں تھا، اس کی آواز جذبات سے خالی تھی، وہ بیٹے کو گلے لگانے کے لیے آگے نہیں بڑھا۔

 

راشد کو جھٹکا سا لگا، اس کا ریاضی دان باپ گرم جوش آدمی نہ تھا لیکن یہ ٹھٹھرا دینے والی سرد مہری نئی تھی۔ وہ چند لمحے تذبذب کا شکار رہا، پھر اس کا دل بھر آیا، وہ آگے بڑھ کر باپ سے بغلگیر ہوگیا۔ جمیل احمد نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا لیکن اس کے وجود میں ایک لاتعلقی اور بیگانگی تھی جیسے اس کا اصل اس واقعہ سے کہیں دور کسی دوسری دنیا میں ہو۔

 

اس نے نلکے کے پاس کھڑے کھڑے راشد کو بتایا کہ اسے یا اس کی ماں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی، وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر آیا تھا اور اس خانقاہ میں بہت خوش تھا اور یہ کہ اُس مریض دنیا میں لوٹنے کا اس کا کوئی ارادہ نہ تھا۔

 

“ آپ کم از کم بتا ہی دیتے، ہم لوگ تلاش میں اتنا عرصہ ذلیل تو نہ ہوتے”، راشد نے تلخی سے کہا۔

 

“ بتا دیتا تو مجھے جانے کون دیتا ؟“، پروفیسر جمیل احمد نے کہا،” ویسے بھی لواحقین کو سوتے چھوڑ کر تارک الدنیا ہو جانا اس خطے کی قدیم روایت ہے۔” اس کے لہجے میں مزاح کا شائبہ تک نہ تھا۔

 

شاہد اور بشیر بھٹی نے کچھ دیر گھگھیا کر پروفیسر کی منت کی کہ اسے گھر لوٹ جانا چاہیے تھا، یا قطعی طور پر لا تعلق ہونے کی بجائے کم از کم کبھی کبھار اپنے خاندان کی خیر خبر لیتے رہنا چاہیے تھا۔

 

“ میرا خیال تھا کہ کم از کم تمہارا ذہن اہم باتیں سوچنے کا اہل ہے، لیکن تم نے بھی عمومی سطح کی بات کی”، پروفیسر نے شاہد کو گھورتے ہوئے کہا،” دن ابھی ڈھلا نہیں، خیریت سے واپس پہنچو، خدا حافظ”۔

 

“ روپوش ہی رہنا تھا تو وہ ایجنٹ کیوں روانہ کیا تھا؟” راشد نے باپ کے قطعی لہجے کو نظرانداز کرتے ہوئے غصے سے اسفتسار کیا۔

 

“ کون سا ایجنٹ؟”

 

“ وہ فلمی فقیر جو کوڈ ورڈز میں پیغامات نشر کرتا پھرتا ہے”۔

 

“ میں کسی فلمی فقیر کو نہیں جانتا، ایک مجذوب یہاں آتا رہتا ہے، ہو سکتا ہے اس سے تمہارا سامنا ہوگیا ہو”۔ پروفیسر جمیل احمد نے خشکی سے جواب دیا پھر اس نے پانی سے بھرا لوٹا اٹھایا اور ان لوگوں پر الوداعی نظر ڈالے بغیر دالان کے ایک سرے پر بنے ایک ڈربہ نما کی سمت روانہ ہوگیا۔
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ۔ قسط نمبر2

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راشد نے کافی کا طویل گھونٹ لیا اور مانیٹر سکرین پر توجہ کرنے کی کوشش کی۔ اسے چند ہفتوں میں پراجیکٹ مکمل کرنا تھا اور اس کا دماغ کسی نقطے پر مرکوز ہونے سے قاصر تھا۔ تین مہینوں سے وہ شدید بکھراؤ کا شکار تھا، دانیئلا کے ساتھ گزرا وقت، ان دونوں کی طویل ہوتی ای میلز، کلاڈیا کا بجھتا چہرہ، اور راحیل کے معصوم قہقہے ایک گرداب کی صورت اس کی ماہر انگلیوں میں گردش کرتے ہندسوں کے مرکبات کو تحلیل کر رہے تھے۔ اچانک میز پر پڑے موبائل فون کی خاموش تھرتھراہٹ نے اسے چونکایا، کچھ دیر تک وہ اس آلے کو شیشے کی ہموار سطح پر تھرتھراتے بے زاری سے دیکھتا رہا، پھر اسے فون اٹھانا ہی پڑا۔ اس نے فلوریڈا سے اپنے پرانے دوست عرفان کی آواز سنی، اس کی آواز رندھی ہوئی تھی، وہ ٹوٹے پھوٹے جملوں میں اسے بتا رہا تھا کہ شاہد ان سے ہمیشہ کے لیئے بچھڑ گیا تھا، لاہور میں موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے کسی نے اس پر گولی چلائی تھی، عرفان اسی شام لاہور کے لیے روانہ ہو رہا تھا، خاور نے اسے فون کیا تھا۔

 

راشد نے فون رکھا اور دونوں ہتھیلیوں میں کنپٹیاں دبا کر مانیٹر سکرین کو گھورتا رہا۔ ان سب کو ایک دوسرے سے بچھڑے کئی برس ہوچکے تھے۔ لیکن فون پر ان کا بے قاعدہ رابطہ رہتا تھا۔ چھوڑے ہوئے ملک کی حالت، دہشت گردی، جرائم،عدم تحفظ اور افراتفری کی خبریں اسے ملتی رہتی تھیں لیکن اس کے گمان میں بھی کبھی یہ بات نہ آئی تھی کہ کوئی شاہد جیسے نفیس اور محبتی انسان پر گولی چلا سکتا تھا۔

 

اس کی حالت دیکھتے ہوئے فرم کے افسرِ اعلی نے اسے بادلِ نخواستہ ایک ہفتے کی چھُٹی دی۔ لاہور کے لیے براہِ راست پرواز اسے نہ مل سکی لیکن دفتر چھوڑنے سے پہلے وہ اسلام آباد کے رستے اگلی صبح تک لاہور پہنچنے کا بندوبست کرچکا تھا۔

 

کلاڈیا جو اس سے اس کے بچھڑے دوستوں اور کالج کے دنوں کے معرکوں کے بارے سنتی رہی تھی، وہ ان تین چار پرانے دوستوں کی ایک دوسرے کے لیے گہری محبت سے آگاہ تھی۔ راشد سے لپٹے وہ بہت دیر تک اس کا غم بانٹتی اور حوصلہ دیتی رہی۔ راحیل جس نے پہلی بار اپنے باپ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھے تھے، سہما ہوا ان کی ٹانگوں سے لپٹا رہا۔

 

“تم کل ہی پاکستان جانے کا کہہ رہی تھیں کلاڈیا، لیکن مجھے اکیلا جانا پڑے گا، یہ ماتمی موقع تم دونوں کے لیے مناسب نہیں”۔ راشد نے راحیل کو اٹھاتے ہوئے کہا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ڈھلتے دن کی مدھم ہوتی روشنی میں ہاسٹل کی چھت پر گدا بچھائے راشد، توفیق اور عرفان تاش کھیل رہے تھے، شاہد ان کے پاس منڈیر سے ٹیک لگائے سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے باقاعدگی کے ساتھ ہر شام گرلز ہاسٹل جاتا، چوکیدار اسے دیکھ کر سر ہلاتا اور ناہید کو اس کی آمد کی اطلاع دے آتا۔گھنٹہ بھر باہر انتطار کرنے کے بعد شاہد شکستہ دل اور مایوس لوٹ آتا۔

 

“ختم شد”، اس نے ہزارویں بار دہرایا۔

 

“ ورد کرنے سے دل میں یقین اور آنکھوں میں روشنی پیدا ہوتی ہے، جاری رکھو!” راشد اسے گردش کرتا چرس کا سگریٹ بڑھاتے ہوئے بولا۔ شاہد نے سگریٹ لے کر خاموشی سے کش لگایا، اور دونوں ہاتھوں میں دبے سگریٹ دیکھتا رہا۔”مر جانے میں کیا حرج ہے؟” اس نے سوچا۔

 

یکایک سیڑھیوں سے لوگوں کے بھاگنے کی آواز آئی،چار پانچ باریش لڑکے رائفلیں اور کلاشنکوفیں اٹھائے نمودار ہوئے اور بھاگتے ہوئے چھت کے دوسرے سرے پر بنی پانی کی ٹنکی پر چڑھ گئے۔ فائرنگ ہاکی کے میدان کے پار واقع دوسرے ہاسٹل کی چھت سے شروع ہوئی، چند سیکنڈ میں دونوں جانب سے گولیوں کا تبادلہ ہو رہا تھا۔شاہد منڈیر سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش لگاتا رہا، تاش کھیلنے والوں نے تھوڑی دیر کے لئے ہاتھ روک کر ہوا میں ادھر ادھر دیکھا پھر وہ دوبارہ اپنے کھیل میں مشغول ہوگئے۔منڈیر ان کے سروں سے چند انچ اونچی تھی،کچھ اوپر سے گولیاں شائیں شائیں کرتی گزر رہی تھیں، وقفے وقفے سے کلاشنکوف کی آواز آتی۔

 

“اگر میں اٹھ کر کھڑا ہو جاؤں تو ابھی کام ختم ہو جائے”، شاہد نے سوچا،” مکمل ختم شد”۔

 

پھر اسے اپنے باپ کا شفیق چہرہ نظر آیا جسے روزگار کی مشقت نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا،اس کی ماں چھاتی پیٹ پیٹ کر بین کر رہی تھی، اس کے بھائی بہن رو رہے تھے، ان کے بچے رو رہے تھے۔

 

“آج توبہت گولیاں خرید لائے ہیں یہ لوگ”،توفیق کی آواز آئی

 

اچانک شاہد نے اپنی ٹانگ پر قریب بیٹھے عرفان کی گرفت محسوس کی۔ “اٹھنا نہیں”، عرفان پتوں پر نظریں جمائے بڑبڑایا۔

 

وہ تینوں کئی دنوں سے شاہد کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کی کوشش کر رہے تھے، محبت سے، بحثوں سے، چرس سے، گالیوں سے، اور یہ اندیشہ بڑھ رہا تھا کہ ان کا جذباتی دوست اپنی یک طرفہ، خاموش محبت کی ناکامی پر خودکُشی نہیں تو شدید ڈپریشن کی نذر ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔

 

بے نعرہ شروع ہونے والی فائرنگ اچانک بغیر چیخوں کے رک گئی، باریش رائفل بردار تیزی سے ٹنکی سے اترے اور تاش کھیلنے والوں پر استہزائی نظر ڈالتے سیڑھیوں میں غائب ہو گئے۔ وہ اِنہیں جانتے تھے، سیلے ہوے کارتوس جو ڈبوں میں پڑے ضائع ہو چکے تھے، ریٹائرڈ انقلابی جو اپنے خوابوں سے ہاتھ دھو کر اب کالج کے کونوں کھدروں میں چرس پیتے تھے۔

 

“دوسرے تیسرے سال کے لڑکے ہیں”،راشد بولا،”یہ لوگ جو بندوق کی سنسنی اور ایمان کے اندھے جوش کے نشئی ہیں،کیا کبھی کسی اور طرح جی سکیں گے؟”

 

“نہیں”، توفیق نیفے میں اْڑسے پستول کو تھپتھپا کر قطعی لہجے میں بولا۔

 

“یہ پستول تھوڑا ہی ہے، ہرنیا ہے تمہارے تو، آپریشن ہو گا”،شاہد تمسخر سے ہنسا۔

 

“چلو تم ہنسے تو”،توفیق بولا۔

 

“پٹاخوں نے جگا دیا”،شاہد بولا،”کیا کروں اب؟”

 

“لسی پینے چلتے ہیں”،توفیق پتے پھینکتا ہوا بولا۔

 

ہاسٹل کی شام بارود کی بو میں اپنے معمول سے جاری تھی،لوگ کھانے کے لئے میس کی جانب روانہ تھے، چند لڑکے ٹولیوں میں کھڑے فائرنگ پر تبادلۂ خیال کر رہے تھے۔اْنہیں دیکھ کر چند جونیئرلڑکے وقوعہ کے بارے گفتگو کرنے اشتیاق سے ان کی طرف لپکے، سنسنی اور ہیجان ان کے چہروں سے عیاں تھا۔وہ چاروں انہیں بے تکے جواب دیتے ہوے شہر کی سمت روانہ ہوگئے۔

 

دو کلومیٹر لاری اڈہ، باجے بجاتی، دن میں روشنیاں چمکاتی لاریوں کی طوفانی مستیوں سے اٹھتے گرد اور لید کے دبیزبادل جن میں ہنہناتے گدھے اپنی اپنی گاڑی کھینچے بھاگے پھرتے تھے۔ اس سے آگے گھنٹہ گھر جہاں برتنوں، جوتوں، مویشیوں اور رکشوں سے لبریز آٹھ بازار کھلتے تھے۔ ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر جس کی ثقافت خوردونوش کی تین دوکانوں اور بیاہ شادیوں کی تقریبات پر مشتمل تھی دراصل ایک بہت بڑا گاؤں تھا جہاں بجلی آگئی تھی۔
کالج شہر کے ایک سرے پر پھیلی عمارتوں کا وسیع سلسلہ تھا جس میں درسگاہ، کینو کا باغ، تالاب،کھیل کے میدان، طالبعلموں اور اساتذہ کی اقامت گاہیں تھیں۔ عین درمیان سے سرگودھا جانے والی سڑک گزرتی تھی جس پر سواریوں سے لدی لاریاں فراٹے بھرتی تھیں۔ کالج کی اندرونی سیاسی لڑائیوں میں یہ لاریاں اغوا کر لی جاتیں، ہاسٹل کے باہر میدان میں، درختوں کے نیچے، سابق مسافر کاہلی سے ادھر ادھر بیٹھے رہتے۔

 

یہ ان لوگوں کا کالج میں آخری سال تھا۔ ان کے اولیں عروج کا زمانہ گزر چکا تھا جب ان کی بائیں بازو کی جماعت نے کالج کی فضا تشکیل دی تھی۔ اس صنعتی شہر میں اکلوتے میڈیکل کالج کی بنیاد رکھنے والا جمہوری وزیرِاعظم شراب کے نشے میں مومنین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی سزا بھگت چکا تھا۔ دیواروں پر سے سوشلزم کی ممکنہ اور غیرممکنہ صورتوں کے وعدے مٹا دیے گئے تھے اور ان کی جگہ دوبارہ نامردی کے خلاف جہاد کے اشتہاروں نے لے لی تھی۔ جہاد بیشمار سروں، ٹانگوں، جبڑوں اور خصیوں والا ایک واحد جان دار تھا جو ایک تاریک عفریت کی صورت، برسوں سے مسلط اس جمودی بلیک ہول میں پھنکارتا سنائی دیتا تھا۔ روس کی ہیبت ہندوکش کے بنجر پہاڑوں میں پٹ رہی تھی۔امریکہ کا بھیجا ہوا اسلحہ، روسیوں سے چھینا ہوا اسلحہ، امیرالمومنین کی ذاتی بھٹیوں میں ڈھلا اسلحہ سرحدیں پھلانگتا کالجوں، یونیورسٹیوں میں پہنچ رہا تھا۔طاقت کا مظاہرہ کرنے میں مکوں، ڈنڈوں اور زنجیروں کا زمانہ گزر چکا تھا۔ ملک گیر رجعت پسند اور بنیاد پرست مذہبی جماعتوں اورسرکاری سرپرستی میں پروان چڑھتے مذہبی رضاکار لشکروں کے نمائندے ہر تعلیمی ادارے کی فضا پر قابض ہو چکے تھے۔ گرم دوپہروں میں،سفید اوورآل پہنے، کالج کی لیب میں مینڈکوں، خرگوشوں اور لاوارث لاشوں کی چیر پھاڑ کرتے لڑکے لڑکیوں کے لیے وقتاً فوقتاً کلاشنکوف کی تڑتڑ سننا معمول بن چکا تھا۔

 

ہیبت، تشدد اور کرختگی کی اس فضا میں جہاں لیکچر ہال سے باہر ہم جماعت لڑکی لڑکے کا ایک دوسرے سے ہمکلام ہونا ایک انقلابی قدم تھا، شاہد اپنی شدید محبت کا اظہار کرنے کی بجائے ناہید سے سالہاسال ادھرادھر کی ہانکتا رہا تھا۔ بالآخر جب اس نے دل کی بات کہہ دینے کی ٹھانی تو اسے معلوم ہوا کہ وقت گزر چکا تھا، ناہید نے اس سے ملنے سے قطعاً انکار کر دیا تھا۔ انکار کی وجہ بتانا ضروری نہ سمجھا گیا تھا۔

 

فائنل امتحان کے دن قریب آگئے، آٹھ دس لڑکوں کے اس گروہ نے سر منڈوا لئے تھے،یہ بھکشو دور کا آغاز ہونے کی علامت تھی، اس دور میں کتابیں رٹی جائیں گی، شہرگردی اورنقاب پوش خواتین سے اشارہ بازی کا زمانہ ختم ہوا، کھانے کے لئے میس تک جانا بھی متروک رہے گا۔ وقتاً فوقتاً کوئی نیم برہنہ صابن پکڑے غسلخانے کی سمت جاتا نظر آتا جسے ہر کمرے سے مشت زنی کے نئے طریقے باآوازِ بلند گوش گزار کیئے جاتے۔

 

انہی دنوں راشد کو خبر ملی کہ اس کا باپ گزشتہ چار دنوں سے لاپتہ تھا، خاندان کے افراد نے ہر ممکن ٹھکانہ چھان ڈالا تھا، پروفیسر جمیل احمد کا سراغ نہیں ملا تھا۔ راشد اگلی صبح چند کتابیں کپڑے سمیٹ کرلاہور کے لیے روانہ ہوا۔ مسافروں سے لدی بس دھول دھواں ایک کرتی شہر سے نکلی، ختم ہوتی گرمی اپنے آخری جلوے دکھا رہی تھی،پسینہ، بیزاری، بیقراری اور بچوں کی آ ہ وزاری کو بس کے کھلے شیشوں سے آتی ہوا نے بتدریج سکون دیا۔

 

بچپن میں ایک بارراشد میلہ چراغاں میں گم گیا تھا، قتلموں، غباروں اور انسانوں کی ریل پیل میں وہ بہت دیر روہانسا اپنے باپ کو ڈھونڈتا رہا۔مٹی کے کھلونوں کی ایک دکان کے پاس کھڑا وہ رو رہا تھاجب اس کے باپ نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اسے اٹھا کر گلے سے لگا لیا، پھر وہ باپ کے کندھوں سے نیچے نہیں اترا تھا۔ اور اب اس کا باپ گم گیا تھا، دنیا کے میلے میں جس کی کوئی حد نہیں تھی، جہاں اصلی جادوگر اورشعبدہ باز پھرتے تھے اور موت صرف کنویں تک محدود نہیں تھی۔

 

امکان یہ بھی تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر چلا گیاہو۔ پروفیسر جمیل احمد، معروف و محترم ریاضی دان اور استاد ایک عرصے سے سائنسی شعبدوں سے اکتا چکا تھا۔ عقل کے محدود زاویے اس کی متلاشی روح کو پناہ دینے میں ناکام رہے تھے۔ آئن شٹائن اورمیکس پلانک کی جگہ کشف المحجوب، یوگ وید اور تذکر ۃالاولیاء نے لے لی تھی،پچھلے کچھ عرصہ سے اس نے فقیروں اور ملنگ نما لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا تھا جسے خاندان والوں نے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔

 

لاری ایک ڈرائیور ہوٹل پر رُکی اورلوگ ٹانگیں سیدھی کرنے اور چائے پانی کے لئے باہر نکلے۔ راشد کچھ پینے اور سگریٹ خریدنے کے لئے ایک کھوکھے کی سمت بڑھا،ایک فقیر نُما، میلا کُچیلا آدمی ارد گرد کی گہماگہمی اور افراتفری سے لاتعلق کھڑا بڑبڑا رہا تھا،راشد اس کے قریب سے گزرا تو فقیر نے لحظہ بھر کو اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملائیں، اُن آنکھوں میں ایک دیوانی چمک تھی جو اس کی بے طرح بڑھی داڑھی اور سر کی غلیظ لٹوں کے بیچ فوارے کی طرح پھوٹ رہی تھی۔

 

“وہ گیا، اسے رستہ مل گیا، اسے کیوں پکڑتے ہو،پاگل ہو”۔ یکساں آواز میں بڑبڑاتے ہوے اس نے فقرے کے اختتام پرایک بچے کی مسرت سے بلند آہنگ قہقہہ لگایا۔

 

راشد لحظہ بھر کو ٹھٹھکا، کیا اسے مخاطب کیا گیا تھا؟ کیا فقیر اسے کوئی پیغام دے رہا تھا؟ راشد نے دیکھا وہ دیوانہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا اور آنکھیں نیم وا کئے دھیمی آواز میں بے جوڑ فقرے بڑبڑا رہا تھا۔ راشد کے جی میں آئی کہ وہ رک کر اس سے استفسار کرے۔ پھر اسے اپنے ارد گرد کھڑے، کھاتے پیتے معزز لوگوں کا خیال آیا جو اسے اس میلے کچیلے دیوانے سے باتیں کرتا دیکھیں گے، اس اچانک وارد ہوتی توہم پرستی پر شر مندگی محسوس ہوئی اوربے ہمتی کی ایک لہر میں وہ آگے بڑھ گیا۔ کھوکھے پر اس نے سگریٹ خریدے،پیپسی کولا کی ایک بوتل پی اور کنکھیوں سے فقیر کو دیکھتا رہا۔

 

“اس طرح کے دیوانے جگہ جگہ مل جاتے ہیں، اس شخص میں کوئی خاص بات نہیں، اپنی دیوانگی میں بڑبڑاتا پھرتا ہے، اس کا میرے حالات و واقعات سے کیا تعلق؟ راشد نے فیصلہ کن انداز میں سوچا۔
بقیہ سفر میں اس نے ناک، کان، گلا کے امراض کے متعلق کتاب پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی، دھچکے کھاتی لاری میں لفظوں پر نظر جماناایک بازی گری تھا،جلد ہی وہ اونگھ گیا۔لاہور پہنچ کر جب وہ لاری سے اترا تو اس دیوانے کو بھول چکا تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پنک فلائیڈ کا گیت “ دی وال” ایک ہیبت کے ساتھ گونج رہا تھا، کارسے اکھاڑے گئے سپیکر دو خالی مٹکوں میں رکھے تھے جن سے برآمد ہونے والی آواز نے اس عظیم الشان گیت کو ایک ایسا پہلو دیا تھا جو اس گیت کے خالق کے گمان میں بھی نہ آسکتا تھا۔ کمرے کے وسط میں شاہد چھت کے پنکھے سے بندھا فرش سے چند انچ اوپر جھُول رہا تھا، دیوار کے ساتھ سجے اس کے بنائے مجسموں میں سے کئی کے ناک، کان ٹوٹ چکے تھے۔توفیق بستر میں لیٹا سگریٹ پھونک رہا تھا اور عرفان کھڑکی کے پاس میز پر چڑھا اس کان پھاڑ ماحول میں نہایت سنجیدگی سے مطالعہ میں منہمک تھا۔

 

“ پانی پلا دے”! شاہد نے توفیق کو گالی دیتے ہوئے مطالبانہ درخواست کی۔ توفیق نے محض گالی کا جواب دینے پر اکتفاکیا۔
“ کتابوں میں آیا ہے کہ ایسی معلق حالت جہنم واصلی پر منتج ہو سکتی ہے،” شاہد چلایا۔

 

“ یہی دن دیکھنے کے لئے زندہ ہیں ایک عرصے سے،” عرفان نے اس کی طرف مُڑے بغیر کہا۔

 

“ اچھا یار توبہ کرتا ہوں، کھولو مجھے،”

 

“ اتنی محنت سے اس لئے تو نہیں باندھا کہ تم فوراٌ توبہ کر لو”، توفیق غرایا۔

 

“ اس کے منہ پر ٹیپ لگا دو”، عرفان نے توفیق کو مشورہ دیا۔
“ لگا دو، رستے اور بھی ہیں احتجاج کرنے کے”، شاہدبولا۔

 

“ خاموش لٹکا رہ ورنہ چلاتا ہوں پنکھا”، توفیق نے دھمکی دی۔
آج صبح وہ اسے ملتان کے میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے پکڑ کر لائے تھے جہاں وہ گزشتہ پانچ دنوں سے روپوش تھا۔کسی کو بتائے بغیر وہ ایک شام غائب ہو گیا تھا۔ عرفان اور توفیق نے شہر کے تمام ممکنہ ٹھکانے کھنگال ڈالے تھے، لاہور اس کے گھر فون کیا، ان کی بد قسمتی سے فون شاہد کے بڑے بھائی خاور نے اٹھایا تھا جس نے سنتے ہی ان پر چڑھائی شروع کر دی تھی، شاہد کو خراب کرنے والے وہ لوگ تھے، اچھا خاصا فرمانبردار لڑکا میڈیکل کالج بھیجا تھا،ان لوگوں میں آتے ہی اس کا دماغ خراب ہو گیا تھا،وغیرہ وغیرہ۔ پانچویں دن انہیں نشتر میڈیکل کالج سے تنویر کا فون آیا تھا جس نے آہ و زاری کرتے ہوئے ان سے التجا کی تھی کہ وہ اس عذاب کو آ کر لے جائیں۔ اس نے بتایا کہ شاہد اچانک وہاں آ وارد ہوا تھا،دن بھر چرس پیتا اور گالیاں بکتا پھرتا تھا،کوئی ڈھنگ کی بات کرتا نہ کسی کو پڑھنے دیتا، اتنے دنوں میں وہ سب اس سے عاجز آگئے تھے۔
عرفان اور توفیق جب نشتر میڈیکل کالج کے ہاسٹل پہنچے تو شاہد نے انہیں دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کی لیکن تیسری منزل کی کھڑکی سے زمین کی دوری دیکھ کر سہم گیا۔ واپسی کے سفر میں وہ شاہد سے ہمدردی کی باتیں کرتے رہے، بیچ بیچ میں گالی گلوچ پر بھی اُتر آتے، “حرامی کا دل ٹوٹ گیا! بھین چود یہاں ہر دوسرا آدمی ٹوٹا دل کھڑکھڑاتا پھرتا ہے،تم نے کون سا کمال کر لیا”۔ توفیق نے کہا کہ یہ دل ٹوٹنے کا محض ڈراما تھا اصل میں وہ امتحان سے ڈر کر چھپتا پھرتا تھا۔

 

شاہد نے بتایا کہ وہ ایک شام پھرتا پھراتا لاری اڈے جا نکلا تھا جہاں سے وہ بغیر کسی واضح ارادے کے لاری میں بیٹھ کر ساھیوال روانہ ہو گیا تھا، پتوکی کے قریب کسی جگہ وہ اتر گیا تھا اور پھرتا پھراتا رات ڈھلے ہڑپہ کے کھنڈروں میں جا نکلا تھا۔” وہاں کھنڈروں میں میں پھرتا رہا، “ شاہد نے انہیں بتایا،”مجھے لگا جیسے میں بھی مر چکا ہوں، اپنا بھوت ہوں،ابھی یہاں بھوتوں کا رتجگا ہوگا۔ لیکن مجھے اپنے علاوہ کوئی دوسرا بھوت نظر نہیں آیا، وہ جگہ اتنی پرانی ہے کہ وہاں کے بھوت بھی مر چکے ہیں، وہیں کھنڈروں میں لیٹ کر میں سو گیا، صبح سویرے میری آنکھ کھلی، صدیوں پرانے آسمان پر صدیوں پرانی روشنی پھیل رہی تھی، صدیوں پرانی منڈیروں کے پار کھیت اور درخت نظر آ رہے تھے، کھیتوں میں ہل چل رہے تھے، بیلوں کے گلوں میں بندھی گھنٹیاں بج رھی تھیں۔ اس وقت میں نے زندگی پر دس بار لعنت بھیجی، اتنی سنجیدگی، اتنی محنت، اتنی جسمانی اور روحانی تکلیف اور انجام؟ چھت بچی نہ فرش، تخت، ڈنڈا، لوٹا ہر شے ختم، بھوت تک مر گئے، لعنت ہے۔ مجھے لگا میں امر ہو گیا ہوں۔ زندہ مردہ ایک برابر، پتھر، نہ غم غم ہے نہ خوشی خوشی ہے۔ عناصر کی ایک بھونڈی ترتیب، ایک چُوتیا تجربہ، انسان!”

 

“ لایعنیت اور لغویت کوئی نئے خیال نہیں ہیں”، عرفان نے کہا۔
“ علم کی کوئی حقیقت نہیں راشد”، شاہد نے کہا، ”ابتلا حقیقت ہے“۔
ہاسٹل پہنچ کر انہوں نے بے خبری میں شاہد کو باندھ لیا تھا اور چار چھ لوگوں نے مل کر اسے چھت کے پنکھے سے لٹکا دیا تھا۔
“سالے کتوں کی طرح تجھے سارے شہر میں ڈھونڈتے پھرے ہیں“، عرفان اسے باندھتے ہوئے غصے سے بڑبڑایا۔

 

“ تو کیا ہوا،یہاں اچھے خاصے معزز باپ کسی کو کچھ بتائے بغیر غائب ہو جاتے ہیں میری کیا اوقات ہے”، شاہد نے احتجاج کیا۔ “ اسی بات کا غصہ زیادہ تھا ہمیں، ایک ابھی اپنے باپ کی تلاش سے نہیں لوٹا اور باقیوں کو اس حرامی اولاد نے اپنے چکر میں ڈال دیا”، توفیق گرجا۔

 

دوپہر کے کھانے کے وقت انہوں نے شاہد کو پنکھے کی قید سے آزاد کیا۔ اس دوران بقیہ واقف دوست اسے وقتا فوقتا پھبتیوں اور جُگتوں سے نوازتے رہے تھے۔

 

شاہد دن بھر کمرے کے کونے میں کتابیں کھولے بیٹھا رہتا، کبھی کبھار وہ ہاسٹل سے باہر کھیتوں میں اکیلا پھرتا نظر آتا جو ایک بڑی تبدیلی تھی۔ وہ سب تقریبا ہمیشہ اکٹھے ہی رہتے تھے، یکسر تنِ تنہا پایا جانا ان میں سے کسی کا شیوہ نہ تھا۔

 

ایک شام راشد واپس وارد ہوا۔ اس کے والد کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔ لاہور میں، دوسرے شہروں میں،واقف دوست،رشتے دار، ہر جگہ ڈھونڈا جاچکا تھا، پروفیسر جمیل احمد بدستور لاپتہ تھا۔ گھر میں مُردنی طاری تھی، عرفان کی ماں کو،جو اب تک بڑی ہمت سے برداشت کر رہی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چپ لگ گئی تھی۔ راشد کے لئے ضروری تھا کہ وہ والد کی بازیابی تک ماں کے پاس ٹھہرے۔

 

“کیا کروں، دیوار پھاند کر گرلز ہاسٹل میں کود جاؤں، اٹھا کر بھاگ جاؤں ناہید کو ؟ “رات کینو کے باغ میں خشک کھالے میں لیٹے لیٹے شاہد نے تمسخرانہ سنجیدگی کے ساتھ راشد سے استفسار کیا
“حماقت یہ ہے کہ تم یہ بھی نہ جان پائے کہ اس کے دل میں بھی تمھارے لیے کچھ تھا یا نہیں،” راشد بولا۔

 

“اب اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے،” شاہد مایوسی سے بولا۔

 

“ہاں یہ تو پتھرہو چکا ہے،زندہ،مردہ ایک برابر، اسے اب کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا”، توفیق نے کہا۔

 

“ فرق تو بہت پڑتا ہے،” عرفان نے شاہد سے کہا،” تم دل کی بات کہہ دینے میں اگراتنے ٹھس نہ ہوتے تو آج معاملہ شایدکچھ اور ہوتا”۔

 

“سالا ہم لوگوں کو تو بات بھی نہیں کرنے دیتا، قینچی کی طرح زبان چلتی ہے اس کی، اور اس بیمار سی لڑکی کے سامنے پسینے چھوٹ جاتے تھے اس کے”، توفیق غرایا۔

 

“ تو نے خود زندگی میں ماں کے علاوہ کسی عورت سے بات کی ہے”؟ شاہد نے اس سے پوچھا۔

 

توفیق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر وہ اسی غصے سے بولا،”مجھے عورتوں سے کوئی دلچسپی نہیں”۔

 

“ وہ کیوں بھئی”؟ عرفان نے پوچھا۔

 

“ عورتیں دماغ چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیتی ہیں مرد کو”، توفیق نے جواب دیا۔

 

“ عورت اور مرد، برخوردار، دو پہیے ہیں زندگانی کی گاڑی کے “،راشد نے ارشاد کیا۔

 

“ میرے لئے ایک پہیے والی سائیکل ہی کافی ہے”،توفیق نے قطعی لہجے میں جواب دیا۔

 

اگلی صبح راشد نے سامان باندھا اور دوبارہ لاہور کا رخ کیا۔عرفان اور شاہد اسے لاری اڈے پر الوداع کرنے کے بعد کالج آگئے۔ لڑکے لڑکیاں سفید گاؤن پہنے، گردنوں میں سٹیتھو سکوپ لٹکائے،کتابیں سنبھالے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے۔کالج کینٹین کے باہر انہیں توفیق مل گیا۔”حالات ٹھیک نہیں،” وہ دھیمی آواز میں بولا،”دونوں پارٹیاں اسلحہ اٹھائے پھر رہی ہیں”۔

 

(جاری ہے)
Categories
شاعری

بھینسے کا خدا

بھینسے کا خدا
حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل
قوی سُموں کی دھمک سے
پھاڑ دیتا ہے رقیب کی پیشانی
اپنی عظیم ٹکر سے
جس کے سینگ شش جہت میں پھیلے ہیں
چمکیلی انیوں میں
ایسے رحمِ مادر پروئے
جن میں رقیب کا جنین پل سکتا
آفاق کی سرخی سے لبریز
اس کی آنکھ
ماداوٗں کی پُشتیں گھیرے رہتی ہے
مکھیاں گھس آتی ہیں
ہر سوراخ میں
ان کا کاٹا اپنی موٹی کھال پہ لکھتا ہوں
مگر خداوند
ان کی بھن بھن میری حمد کو چھلنی کر دیتی ہے

Image: Vasko Taškovski

Categories
شاعری

سوراخوں سے رِستی سیاہی

سوراخوں سے رِستی سیاہی
جوتے میں اتنے سوراخ ہیں
جتنے منہہ میں دانت نہیں
بغیر ازاربندکے، شلوار
دھوتی بن گئی ہے
اور کُرتے میں جیب کا پیوندحسرت
آوارہ کتوں کی چربی میں تلے
پکوڑے کھاتے کھاتے
خدائی بے نیازی طاری ہے
میں دیکھتا ہوں
وہ میرا خون
سیاہی میں بدلتے ہیں
ناقابلِ فہم تقریریں لکھنے کے لیے
محبوباؤں اور
دور دراز کی تعلیم گاہوں میں رقصاں
نونہالوں کے اخراجات پر دستخط کرنے کے لیے
اور اسلحہ ساز کارخانوں کے
سائین بورڈ پینٹ کرنے کے لیے
لیکن
چربی تو کسی بھی دماغ کو چڑھ سکتی ہے
عمامہ پہنے اونٹ کی ہو
یا آوارہ کتے کی
Categories
شاعری

میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا

میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
اس سرد شام میں
دنیا کتنی مصروف ہے
باتیں کرنے میں
تیز تیز چلنے میں
خوشیاں ڈھونے میں
غم دھونے میں
سرد ہاتھوں سے کوئی
غم کیسے دھو سکتا ہے؟
مجھے سارتر اور غالب سے کچھ کہنا سننا نہیں
تارکووسکی، اولیور سٹون
اور تلخ چاند کے خالق پولانسکی کو
میں کمرے سے نکال چکا ہوں
کاسترو مر چکا ہے
میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
میں کہیں نہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں
دنیا کتنی مصروف ہے
تیز تیز چلنے میں
خوشیاں ڈھونے میں
غم دھونے میں
سرد ہاتھوں سے کوئی
غم کیسے دھو سکتا ہے؟

Image: Argyle Plaids

Categories
شاعری

مٹی میں دبا دل

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

[/vc_column_text][vc_column_text]

بچھڑی زمین کے بھوت
ارد گرد منڈلاتے ہیں
وہ ناشتے کی میز سے
چھُری کانٹے اُچک لیتے ہیں
میں دیکھتا ہوں انہیں
لان کی گھاس میں چھُری کانٹے دفناتے ہوئے
آناً فاناً بارش ہونے لگتی ہے
گھاس میں آم کے نرمل، کومل اکھوے پھوٹ پڑتے ہیں

 

آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

 

ساون بھادوں کے ریلے میں
بھاگتے لڑکو، بالو
ہری دُوب میں آم کے اکھوے کھودتے
چُھری کانٹے سے بچنا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بچہ اور بالغ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بچہ اور بالغ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ممکن ہے
ڈھلتے دن کی دھوپ میں
تم اسے ایک خالی میدان میں ملو
اور حیرت بھری امید سے
اس کے پاس اکڑوں بیٹھ کر
پھٹی جلد والا ہاتھ پھیلا دو
اور وہ اپنے بنٹے چھپا لے

 

ممکن ہے
گہری ہوتی شام میں
سِکوں سے بھری جیب میں ہاتھ ڈالے
اپنی قدیم شناسا گلی میں مڑتے
تم ایک اجنبی پتھر سے ٹھوکر کھاؤ
اور وہیں بیٹھ کر
پھوٹ پھوٹ کر رو دو

 

ممکن ہے
تم صبح کے الارم پر جاگو
تو الارم پر چھوٹا سا
پلاسٹک کا خرگوش بیٹھا ہو
اور وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

Image: Victoria Villasana and Zabou
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک تاریخی واقعہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک تاریخی واقعہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

بہت لوگ نکلتے ہیں
پیالی میں بچا شوربہ چھوڑ کر
ہاتھ کا نوالہ رکھ کر
یا پیٹ پہ رکھا پتھر اٹھا کر
نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے
خواب دیکھنے والے
باسی شوربے کی پیالی میں گر جاتے ہیں
ایسا ہر چند برس بعد ہوتا ہے

Image: Paweł Kuczyński
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ائیر پورٹ پر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ائیر پورٹ پر

[/vc_column_text][vc_column_text]

میرے پاس صرف ایک گیت ہے
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا
میرے ساز کے پردے چاک کرنے پر بھی
تم اسے پہچان نہ پاؤگے
وہ تمہارے دل سے نکل گیا تھا
جب تم نے بندوق میں
پہلی گولی بھری تھی
۔۔۔۔۔
یوں بھی
تمہارے جہاز کی منزل
میری منزل نہیں
مجھے صرف ایک گیت کے پار اترنا ہے

Image: Kesa Vinyl
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]