Categories
نقطۂ نظر

قصہ قائد کے عقیدے کا

جب بھی پاکستان کا کوئی قومی تہوار آتا ہے تو قلم کے مزدور قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر اور ان کے عقیدے پر اپنی اپنی آراء ، تبصروں اور تشریحات کے تیشے تاریخ کے سینے پر چلانے لگتے ہیں ۔ بہت سے لکھاری اپنے قلمی لاؤڈ اسپیکروں پر ہر سال قائد اعظم کے عقیدے اور ان کی 11اگست کی تقریر کا حوالہ دے کرملک کو سیکولر جمہوری ریاست بنانے یا اسلام کا قلعہ ثابت کرنے کا کام شروع کر دیتے ہیں ۔ محمد علی جناح سے عقیدت اور فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ بابائے قوم کے فرمودات و عقیدے کو اس زمانے کے سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھا جائے۔ جناح ہرگز کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھے اور نہ ہی وہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے ۔ بانی پاکستان نے امریکی پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “پاکستان کی حکومت مذہبی حکومت یعنی تھیا کریسی نہیں ہو گی ۔نہ ہم ایسی خالص مذہبی حکومت پر یقین رکھتے ہیں “(گم گشتہ قوم صفحہ 283) جناح کی وفات کے فوراً بعد جناح کے تصور ریاست سے انحراف کا آغاز ہوگیا تھا۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب اس نوزائیدہ ریاست کے کمزور جسم پر پر قراردادمقاصد کی مقدس چادر چڑھا کر پاکستان کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔ بعد کے حالات اس بات کی پوری غمازی کرتے ہیں کہ جو لوگ راستوں کے راہزن اور ڈاکو تھے انہوں نے جناح شناسی کا تاج اپنے سروں پر سجا کر قافلوں کی رہبری کا ٹھیکہ اُٹھا لیا۔
کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں
11اگست کو دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے مندرجات سینسر کیے جانے کے باوجودان کی سیاست سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے ذہن میں کیسا پاکستا ن تھا اوراس کے کیا خدو خال ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ قائد اعظم ہمارے ساتھ بہت عرصے تک نہیں رہ پائے لیکن قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اور اقدامات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے ۔ ان کے اقدامات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہر فیصلے کی بنیاد جمہوریت ، مذہبی رواداری اور ریاست اور مذہب کی علیحدگی پر رکھی تھی۔ انہوں نے اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم جیسے ٹھوس اور مضبوط اصولوں کو ہی پاکستان کی تعمیر کے لیے لازمی عنا صر قرار دیاتھا جو ایک فلاحی ریاست کے خدوخال کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں ۔انہوں نے جوگندر ناتھ منڈل کو وزارت دی اور سر ظفرا للہ خان کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا۔ان کے دلیرانہ اورحکیمانہ فیصلوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس قسم کی جمہوری سوچ پروان چڑھانا چاہتے تھے ۔ کبھی کسی نے سنا کہ بابائے قوم نے ہدایت کی ہو کہ ملک کا وزیر اعظم ، صدر اور فوج کا سپہ سالار صرف اور صرف مسلمان ہو بلکہ انہوں نے اپنے مختصر دورحکومت میں مذہب و مسلک سے بالا تر ہو کرصرف قابلیت کی بنیاد پر تقرریاں کیں۔ انہوں نے کئی نامور عمائدین اور سیاست دانوں کو چھوڑ کربہترین نظم و نسق رکھنے والے باصلاحیت افراد کو اہم ترین وزارتوں کے قلمدان سونپےخواہ ان کا مذہب، عقیدہ یا مسلک کچھ بھی ہو۔جناح صاحب کو ایک مذہب پرست رہنما ثابت کرنے والے لوگ وہی ہیں جو ماضی میں قائد اور دیگر مسلم لیگ رہنماؤں پر غیر مسلم ہونےکے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ۔
متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
صاحب الرائے اور ذی شعور طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جناح صاحب کو متنازعہ بنانے کے لیے ان کا عقیدہ کون لوگ جاننا چاہتے تھے؟ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آج بھی کسی کی سچائی ، دیانت اور صداقت کو الزام تراشی سے آلودہ کرنا ہو تواس کے عقیدے کو مشکوک بنادیا جاتا ہے۔ آج بھی سرکار ہر پاکستانی کے عقیدے کو اپنے میزانِ عدل میں تول کر ملک کی خدمت کا موقع دیتی ہے جس کا مظاہرہ 1974ء میں احمدیوں کے ساتھ کیا گیا۔ ان عالم فاضل اکابرین امت نے جناح کے بے داغ کردار پر طنزو تشنیع کے زہر میں ڈوبے الفاظ کے کوڑے برسائے ۔سر عام گالیوں سے نوازا گیا پھر بات نہیں بنی تو جناب کے عقیدے کے بارے میں ہرزہ سرائی کی گئی ۔ ستم ظریفی یہ کہ وہی طبقہ آج جناح کو مردمومن ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے جو کبھی انہیں مسلمان ماننے کو تیار نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کے عہد کاجو شر پسند ٹولہ قائد کے عقیدے اور مسلک کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا تھا وہ آج بھی ریاست میں انتشار ، بدنظمی اور تعصب پھیلانے کی خاطر مذہب کا سہارا لے رہاہے ۔
کسی بھی سیاسی رہنما کے عقیدے سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ہر جائزوناجائز ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔احراری علماء مبینہ طورپر قائد اعظم کے بارے میں جھوٹ ، دروغ گوئی سے مسلسل کام لیتے رہے وہ یہاں تک کہتے تھے کہ قائد اعظم کو جب کلمہ طیبہ پڑھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ

“I know Muhammad, i know Allah , but who is the Third Gentleman Rasoolallah”

(یعنی میں محمد اور اللہ کو تو جانتا ہوں لیکن یہ تیسرا شریف آدمی رسول اللہ کون ہے )۔تحریک پاکستان میں شامل جانثاروں اور وفاداروں کو بابائے قوم کے اعلی ٰ کردار سے متنفر کرنے کے لیے مذہب اور عقیدے کومتنازعہ بنانے جیساقبیح مگر آزمودہ حربہ استعمال کیا گیا۔اس وقت کے معروف عالم دین اور مفسر اسلام نے بانی پاکستا ن کے بارے کیا کیاگوہر افشانیاں کیں ان میں سے چند ایک کی مثالیں پیش خدمت ہیں۔مفسر اسلام ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں کہ
“محمد عل جناح جنت الحقماء (احمقوں کی جنت )کا بانی اور ااجل فاجر (گنہگار انسان )ہے ۔”(ترجمان القران فروری 1946ء صفحہ 153)
“مسلم لیگ کو ووٹ دینا حرام ہے “۔(ترجمان القران جلد نمبر 28صفحہ 145اشاعت پٹھان کوٹ)
“محمد علی جناح کا مقام مسندِ پیشوائی نہیں بلکہ بحیثیت غدار عدالت کا کٹہرا ہے ۔”(ترجمان القران ۔جلد نمبر 31۔صفحہ 62.۔اشاعت 1948ء)
محمد علی جناح کے عقیدے سے متعلق ہر دو طرح کے رحجانات پائے جاتے ہیں، کچھ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں اور کچھ انہیں مرد مومن ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ تا ریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ بادشاہی مسجد کے خطیب جناب مولوی غلام مرشد صاحب نے قائد اعظم سے ملاقات کے بعد گواہی دے ڈالی کہ دوران گفتگو مولانا قائد اعظم نے ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا ہے ۔ایک اور صاحب نے بھی قائد اعظم کی بر گزیدگی اور تقدس کی داستان تصنیف کرتے ہوئے لکھا کہ “حضرت قائد اعظم اور ان کا پورا خاندان سیدھے سادے عقائد رکھنے والے مسلمان تھے۔قائد اعظم نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور بہادر یار جنگ سے قرآن با تفسیر پڑھا ” (مقالہ : حضرت قائد اعظم اور اسلامی نظریہ جمہوریت ۔مطبوعہ روزنامہ نوائے وقت لاہور 30دسمبر 2005ء)۔یعنی ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے۔ دوسری جانب ایک طبقہ قائد کے عقیدے کو مسلکی اور فرقہ وارانہ رنگ بھی دیتا ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں چونکہ بابائے قوم اہل تشیع تھے تو ہو سکتا ہے کہ قائد کے صاف و شفاف کردار کو طنزو تشنیع کے تیروں سے چھلنی کرنے والوں کے مضطرب دلوں میں یہ خوف اور خطرہ گھر کر گیاہوکہ کہیں بابائے قوم کی ہم مسلک اقلیت نوزائیدہ مملکت کی وارث نہ بن بیٹھے ۔
ان لوگوں کا یہی مقصد تھا کہ کسی طرح سے مسٹر جناح کو” حضرت مولانا محمد علی جناح رحمتہ اللہ”بنا کر ہی دم لیاجائے ۔تاکہ آئندہ زمانوں میں ار ض پاک کے آئین و قانون کی تزئین و آرائش اور دستار بندی بھی ان کے ہاتھوں سر انجام پائے
یہ امر افسوس ناک ہے کہ قائد اعظم کے عقیدے اور طرز ریاست کو اپنی سوچ اور زاویے کی طرف موڑنے والے آج بھی جناح کے عقیدے اور سیاست کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالف اسی ملائیت کی وجہ سے آج دنیا بھر میں پاکستان دہشت گردوں کی پرورش گاہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔ آج جب فتویٰ فیکٹریوں کے دھوئیں نے پورے ملک کی پر امن فضا کو گھٹن زدہ بنا رکھا ہے تو اس کی صرف اور صرف یہی وجہ ہے کہ ان دھڑادھڑ چلنے والی فتویٰ فیکٹریوں کی بنیادیں اقبال اور قائد ہی کے عہد میں کھودی گئی تھیں ۔ان فتویٰ بازوں کی باقیات آج بھی قائد کے مزار پر دعائے خیر کرنے سے علی الاعلان انکاری ہیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی رہنماوں کے عقیدے کی بجائے ان کی سیاست کی بنیاد پر ان کی حمایت اور مخالف کی جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تاریخی شخصیات کو کسی مخصوص نظریے، عقیدے یا مسلک کے تحت رنگنے کی بجائے اس کے صحیح سیاق وسباق میں معروضی انداز میں سامنے لایا جائے۔
Categories
نقطۂ نظر

مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک

مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔ کانگریس کا روپیہ حلا ل کرنے کی خاطر مجلس احرار اسلام کے صدر مولانا مظہر علی اظہر نے بھرے مجمعے میں قائد اعظم کو “کافرا عظم “کہا تھا اس پر اُس وقت بھی کسی کو ایسے بدزبانوں کا احتساب کرنے کی جرات نہیں ہوئی حالانکہ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ محمد علی جناح ؒ کے سیاسی ہم عصر اور حریف گاندھی جی بھی قائد اعظم ؒ کو اد ب اور احترام کی وجہ سے قائد اعظم ہی کہتے اور لکھتے تھے۔
جسٹس منیر انکوائری رپورٹ 1953ء کے مطابق ابواعلیٰ مودودی صاحب سے فاضل جج نے جب یہ سوال کیا کہ اگر ہندوستان سرکار مسلمانوں پر منوشاستر کی شریعت نافذ کرنے کی کوشش کرے تو ان کو اس کا حق ہو گا یانہیں ؟ تو مولوی صاحب نے تاریخی جواب دیا کہ” یقیناًمجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگاکہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے ۔ان پر منو شاستر کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیے جائیں ۔”(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 245)۔پھر فاضل جج احراری مولویوں کا وطیرہ بیان کرتے ہیں ۔” مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔ سّید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جسے احرارنے مجبوراً قبول کیا ہے ۔”(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 274)۔کیا آج تک ان دین فروشوں، ملاؤں اور مولویوں نے اپنے ملک دشمن اور نفرت آمیز بیانات پر معافی مانگی ہے ؟
گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا “خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔
تاریخ کے اوراق اور آج کا عہد گواہ ہے کہ ان دین فروشوں کی بدزبانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ان حضرات کی زبان درازیوں پرکسی کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی یا سزا دینے کی جرأ ت کبھی نہیں ہو ئی۔ آج بھی شرپسند مذہبی جنونی سرعام اپنے مخالف فریق کے خلاف بد زبانی اور الزام تراشی کرتے ہیں ،مخالف فریق کی ہربات، کامیابی یا سبقت کویہودی و قادیانی سازش قرار دیتے ہیں ، بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے جلسے جلوسوں میں جھوٹ بولتے ہیں لیکن حدیث کے مطابق الزام تراشی اور بہتان تراشی کرنے والوں پرلعنت بھیجنے کی بجائے عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھا تے ہیں اور ان کے دعووں کے ثبوت مانگنے کی بجائے ان کی پرستش کرتے ہیں ۔
کافر اعظم کہنے والوں کی باقیات میں سے ایک ادنی ٰ خطیب منور حسن ببانگِ دہل فرماتے ہیں کہ”طالبان سے لڑ کر مرنے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں”۔اسی پر بس نہیں سابق امیر جماعت اسلامی مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکر ہرزہ سرائی فرماتے ہیں کہ “ڈنکے کی چوٹ پر ، بلا خوف و تردید یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کواگر عام نہ کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے موجودہ حالات پر قابوپایا نہیں جاسکتا۔” شہادت کے رتبے کو پامال کرنے والے مولوی فضل الرحمن نے کہا کہ” اگر ڈرون حملے میں کتا بھی مرجائے تو وہ بھی شہید ہے” ۔افسوس یہ یاوہ گوئی بھی کسی غیرت مند دینی و سیاسی اور انتظامی جماعت کو جگا نہیں سکی ۔ گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا “خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔” یہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے کہ جب پشاور واقعہ پر مولوی عبدالعزیز (لال مسجد کی سیاہ برقعہ پوش خواتین کو جہاد کی ترغیب دینے والے) نے علی الاعلان بغیر کسی تردید کے متعد بار ہرزہ سرائی کی کہ “میں پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کی مذمت نہیں کرتا”۔
طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔
تبدیلی کی داعی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پر جوش قائد جناب عمران خان کے تہلکہ خیز بیانات کے آج بھی پاکستانی اخبارات گواہ ہیں جن میں وہ پچاس ہزار پاکستانیوں کی لاشوں کامنہ چڑاتے ہوئے تسلی دیتے رہےکہ” طالبان کے نظریات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں “۔حیرت ہے کہ ان ملک دشمن بیانات و تقاریرپر کسی کی حرمت پر حرف نہیں آیا۔ موجودہ حکم ران مسلم لیگ نواز کے شریف برادران بھی ایک زمانے میں طالبان سے پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے ہیں۔ وہ جنہوں نے پاکستانی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹا اس کے جواب میں ان دشمنانِ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی بجائے اچھے اور برے طالبان کی رٹ لگائی گئی ۔
8سال تک خون کی ہولی کھیلنے والوں نے اپنے قول اور عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ملک دشمن ہیں بلکہ اپنی خود ساختہ شریعت کے نفاذ میں کوئی بھی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے۔ طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔بے گناہ عوام کو ان بد بختوں کے حوالے کر دیا گیا جو تقریباً 10سال تک ان کا قتل و عام کرتے رہے بلکہ نہایت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج بھی ان ظالمان کے حامیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتاہے اوران کے حمایتیوں اور ہمدردوں کو جلسے جلوس اور اجتماعات کرنے کے اجازت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔
انہی انتہا پسند ملاؤں اور مذہبی جنونیوں کے بیانات و تقاریر و خطبات نے کئی واقعات میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی پوری کی پوری بستیاں جلاڈالیں ،حتی ٰ کہ مخالف فرقے کی مساجد ، امام بارگاہیں ، خانقاہیں اور دربار تک ان شدت پسندوں نے جلا کر بھسم کر ڈالے لیکن مجال ہے کسی کی عزت اور شان میں فرق آیا ہو ۔فرقہ وارانہ بیانات کے زہر آلود اثرات آج ہر سماجی شعبے میں دکھائی دیتے ہیں۔سکولوں، مسجدوں ، مدرسوں ، بازاروں ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں مسلکی و مذہبی تفریق اور طالبان کے لیے نرم دلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ طالبان اور مذہبی دہشت گردوں کے خلاف فیصلے دینے والے ججوںکو بھی جان بچانے کے لیے بیرون ملک فرار ہونا پڑتا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ریاستی اہلکاروں اور اداروں کی نفسیات تک مسجدوں ، مدرسوں کے منبر و محراب سے بلند ہونے والے بیانات و خطبات سے متعصب اور آلود ہ ہو چکی ہے ۔ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟کیا ایسے بیانات ملک دشمنی نہیں جن کی وجہ سے ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس کا اپنا محافظ کسی خبیث مولوی کی تقریر سن کر محض الزام کی بنیادپر موت کے گھاٹ اتار دیتاہے لیکن کسی ریاستی ادارے کی حرمت پر فرق نہیں آتا۔
ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟
اگرچہ یہ جبہ و ستار پوش ہمارے معاشرے میں بہت معزز ہیں ہر کوئی ان کی تشریف آوری پربصد احترام کھڑا ہو جاتاہےلیکن محرم الحرام کے مقدس مہینے میں انہی زبان درازوں کی زبان بندی ہوجاتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ علماء جن کی زبان سے نکلنے والے اشتعال انگیز بیانات سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں وہ قابل تعزیر ہیں مگر پھت بھی ان زہریلی زبانوں سے نکلنے والے بیانات پر ریاست کی عزت پر آنچ نہیں آتی۔
کیا مذہبی انتہاپسندی ناسورنہیں بن چکی ؟ انتہا پسندوں کے نظریات اور خیالات ہر بڑے اخبارمیں شہ سرخیوں کی صورت میں چھپتے ہیں۔ یہی وہ نظریات ہیں جو اسی کی دہائی میں بوئے گئے اور آج ہم انہی کی فصل کاٹ رہے ہیں ۔آج ملک کے طول وعرض میں قائم مسجدوں کے منبر،محراب اور داخلی دروازوں پر مختلف فرقوں کے نام جلی حروف میں لکھے دکھائی دیتے ہیں۔خطرہ توآستین کے ان باریش سانپوں سے ہے جو بربریت کو سیاسی و اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں، جن کے فرقہ وارانہ بیانات اور تقریریں سن کر ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خون کا پیاسہ ہوکردوسرے کو “جہنم واصل” کر رہاہے لیکن تین دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری اس خون ریزی پر نہ کسی ملکی ادارے کا وقار مجروح ہوا ہے اورنہ ہی غیرت جاگی ہے۔ شاید اس ملک کو مذہب کے نام پر پلیدستان کہنے اور قائد اعظم کو کافراعظم کہنے کی کوئی سزا موجود نہیں۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]
Cartoon by: Sabir Nazar

Categories
نقطۂ نظر

قائد کی 11 اگست کی تقریر نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ

campus-talks

آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی کتب میں قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کے اقتباسات شامل کیے جائیں گے۔ سندھ حکومت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر پہلی قانون ساز اسمبلی سے قائد اعظم کے خطاب کے اقتباسات نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ 23 مارچ 2015 کو کیا کیا ہے۔ فیصلے کے مطابق جناح کی تقریر کے اقتباسات کی نصاب میں شمولیت کے علاوہ اس تقریر کا متن طلبہ میں مفت تقسیم بھی کیا جائے گا۔
سندھ کے سینئر وزیر برائے تعلیم کے مطابق اس عمل سے اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کے تدارک میں بھی مدد ملے گی،”اس اقدام سے آگہی کے فروغ کے علاوہ اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئے عدم برداشت کی روک تھام بھی ممکن بنائی جاسکے گی۔ طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ انہیں ایک سیکولر قوم بننا تھا اور یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ” سینئر وزیر کے مطابق تاریخ کو اس کے درست تناظر میں پڑھایا جانا چاہیے اور سندھ حکومت نصاب سازی کےآئینی حق کے تحت محمد علی جناح کی مکمل تقریو کو نصاب کا حصہ بنائے گی۔
اس اقدام سے آگہی کے فروغ کے علاوہ اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئے عدم برداشت کی روک تھام بھی ممکن بنائی جاسکے گی۔ طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ انہیں ایک سیکولر قوم بننا تھا اور یہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔
ماہرین تعلیم اور دانشور حلقوں نے سندھ حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے ۔پاکستان سٹڈی سنٹر جامعہ کراچی کے سربراہ ڈاکٹر سید محمد جعفری کے مطابق گیارہ اگست کی تقریر کو کبھی بھی پاکستانی ریاست کے بیانیے کا حصہ نہیں بنایا گیا اور اسے نصاب میں بھی شامل نہیں کیا گیا تاہم ایسا کیا جانا قابل ستائش ہے،”جہاں تک مجھے علم ہے اس تقریر کو کبھی بھی بچوں کو نہیں پڑھایا گیا لیکن اگر اب ایسا کیا جارہا ہے تو یہ قابل ستائش ہے۔ تاہم میری تجویز ہے کہ اس تقریر کو کسی سبق کا حصہ بنانے کی بجائے علیحدہ سبق کے طور پر شامل کیا جائے۔” سندھ حکومت نے تاحال اس تقریر کی نصاب میں شمولیت کے حوالے سے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس تقریر کو کن مضامین کا حصہ بنایا جائے گا۔
گیارہ اگست 1947کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور مذہب کی علیحدگی پر زور دیا تھا تاہم پاکستان میں قراداد مقاصد کے ذریعے مذہب کو ریاست کا حصہ بنایا گیا اور نصاب میں بھی پاکستان کو ایک مذہبی ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستانی میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے طلبہ اور ماہرین تعلیم کی جانب سے اس سے قبل بھی نصاب میں تبدیلی کی تجاویز پیش کی جاتی رہی ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

قائدِ اعظم کا پاکستان

پاکستان میں گزشتہ 68برسوں کے دوران عوام کو اقتدار سے دور رکھنے اور چند افراد یا خاندانوں کے مفادات کے تحفط کے لئے تاریخ کی جس اندازسےتوڑ پھوڑکی گئی ہے اور حقائق کو جس طرح مسخ کیا گیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ سات دہائیاں گزرنے کے با وجود بھی ہم اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ بابائے قوم کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے آیا ان کے ذہن میں جدید ،ترقی پسند اور انسانی برابری پر مشتمل معاشرے کے قیام کا خواب تھا یا پھر ملائیت پر مبنی مذہبی ریاست کا۔ ہماراالمیہ یہ رہا ہے کہ ہم کسی بھی واقعے یا سانحہ کا مطالعہ پورے سیاق و سباق میں کرنے کی بجائے ایک خاص نقطہ نظر سے چیزوں کو دیکھنے کےعادی ہیں۔ جب بھی پاکستان کے آئینی مسائل اور ریاستی معاملات میں مذہب کی بے جا دخل اندازی کی بات آتی ہے تو ہمارے دانشور قائد کی چند تقاریر سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسٹر جناح کے ذہن میں ایک ایسے معاشرے کے قیام کا تصور تھا جو مذہبی اصولوں پر مبنی ہو۔ جب بھی کہیں 11اگست 1947کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے ان کے کیے گئے خطاب کا حوالہ دیا جاتا ہے تو بہت سارے دانشور اس تقریر کی حقیقت سے ہی انکارکرتے ہیں، اور جو چند ایک اس تقریر کی صداقت کے قائل ہیں وہ باتوں کو گول مول کرکے ان کی دوسری تقریروں کا حوالہ دے کر اپنی دلیل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر اور عوامی جلسوں میں کی گئی تقاریر میں کوئی موازنہ نہیں ہوسکتا کیونکہ سیاسی جلسوں میں ہونے والی باتوں کے مقابلے میں آئین ساز اسمبلی میں کی گئی تقریر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
اگست سترہ 1947ء کو قائد اعظم نے کراچی کے ہو لی ٹرینٹی چرچ کا دورہ کیا جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھاکہ اس نوزائیدہ ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کوبھی وہی حقوق ملیں گے جو مسلمان اکثریت کو ملتے ہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ گیارہ اگست کی تقریر اور قرار دادِ پاکستان کے اصل متن کو کبھی بھی ہمارے نصاب کا حصہ نہیں بنا یا گیا جس کی بنا پر نوجوان نسل ان دو انتہائی اہم تاریخی دستاویزات سے بے خبر ہے۔ قائد کی گیارہ اگست کی تقریر میں سے چند اقتباسات یہ ہیں ’’آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں آپ اس ریاست میں اپنی مساجد یا دوسری عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزاد ہیں آپ کسی بھی مذہب ،رنگ یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ریاستی معاملات کا اس سے کوئی سروکار نہیں‘‘
’’اب میرے خیال میں (انگلستان کی سیکولر ریاست کو) آئیڈیل سمجھنا چاہیے اورآپ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ (ریاستی معاملات میں )نہ کوئی ہندو ہندو رہے گا اور نہ ہی مسلمان مسلمان رہے گا مذہبی نقطہ نظر سے نہیں کیونکہ یہ (مذہب)ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے لیکن سیاسی لحاظ سے آپ سب پاکستان کے شہری ہیں۔‘‘ (قائد اعظم کا 11اگست 1947کو پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب)
پاکستان کی اس پہلی آئین ساز اسمبلی میں اسپیکر کے فرائض ایک غیر مسلم جو گندر ناتھ منڈل ادا کر رہے تھے۔ 17اگست 1947ء کو قائد اعظم نے کراچی کے Holy trinity church کا دورہ کیا جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھاکہ اس نوزائیدہ ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کوبھی وہی حقوق ملیں گے جو مسلمان اکثریت کو ملتے ہیں۔ کسی غیر مسلم کے ساتھ مذہب کی بنیادپر امتیاز نہیں برتا جائے گاتخلیقِ پاکستان کے بعد اسکی پہلی کابینہ چھ ارکان پر مشتمل تھی، جس میں آئین وانصاف کی وزارت جوگندرناتھ منڈل کو سونپی گئی۔ قائد اعظم کی کابینہ میں مذہبی امور کی وزارت نہیں تھی اور نہ ہی کابینہ کا اجلاس کسی ایک مذہب کی کتاب کی تلاوت سے ہوتا تھا، دفتری اوقات صبح دس بجے سے لیکر پانچ بجے تک تھے، اس دوران نماز کے لئے وقفہ نہیں رکھا گیا ۔
قائداعظم کے حالات زندگی اور سیاست بھی انہیں ایک سیکولر فرد ثابت کرتے ہیں، انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے کیا ،اور بہت جلد اپنی خدا داد صلاحیتوں، اصول پرستی اور انتھک محنت کی بل بوتے پر برطانوی ہند کی سیاست میں ممتاز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔1913ء میں انہوں نے مسلم لیگ سے منسلک ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ انڈین نیشنل کانگریس کے بھی رکن رہے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے سرگرم حامی تھے انہی کی کوششوں سے 1916ء میں لکھنو کے مقام پر انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں’’ لکھنو پیکٹ ‘‘منظورہوا جس میں کانگریس نے مسلم لیگ کے کافی مطالبات تسلیم کیے۔ اسی اجلاس کے بعد کانگریسی لیڈر شپ کی جانب سے قائد اعظم کو ’’ہندو مسلم اتحاد کےسفیر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ قائد اعظم نےآخری دم تک متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے جائز حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد جاری رکھی، ان کی تمام کوششوں پر پا نی کانگریسی وزارت (1937-39)نے پھیردیا جب ہندوستان کی سات ریاستوں پر حکومت بنا کر سیکولرازم کے نام پر ہندوازم نافذ کر دیا گیا۔ ان دو سالوں میں کانگریسی حکمرانوں کے ناروا سلوک کی وجہ سے مسلم لیگی قیادت کو علیحدگی کے بارے میں سوچنا پڑا لیکن 1946ء میں بھی قائد اعظم نے ہندوستان کے اندر فیڈریشن یا کنفیڈریش قائم کرکے صرف دفاع ،خارجہ امور اورکرنسی کے علاوہ باقی سارے اختیارات صوبوں کو دینے کی صورت میں پاکستان کے مطالبے سے دست بردار ہونے کا عندیہ دیاتھا۔ مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قائد اعظم اس حوالے سے اپنی ذات اور سیاسی مقام کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے لیکن کانگریسی قیادت اور نہرو کےغیر لچکدار رویے کی وجہ سے وہ سارے جائز مطالبات بھی منظور نہ ہوئےاور بالاآخر اگست 1947ء کو ہندوستان دو ریاستوں پاکستا ن اور بھارت میں تقسیم ہوگیا۔
١٩٤٦میں بھی قائد اعظم نے ہندوستان کے اندر فیڈریشن یا کنفیڈریش قائم کرکے صرف دفاع ،خارجہ امور اورکرنسی کے علاوہ باقی سارے اختیارات صوبوں کو دینے کی صورت میں پاکستان کے مطالبے سے دست بردار ہونے کا عندیہ دیاتھا۔
1919ء میں گاندھی کی ایما پرہندوستان کےعلما نے’’جمعیت علمائے ہند‘‘ کے نام سے اپنے لئے علیحدہ پارٹی تشکیل دی، اس گروپ سے تعلق رکھنے والے سارے علما مسلم لیگی قیادت اور تحریکِ پاکستان کے زبردست مخالف تھے، جماعت اسلامی اور مجلس احرار نے پاکستان کے مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا، ان کی جانب سے پاکستان کے لئے’’ ناپاکستان ‘‘اور قائد اعظم کو ’’کافراعظم‘‘ کا خطاب ملا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قائد اعظم پاکستان کوواقعی ایک اسلامی مذہبی ریاست (Theocratic state)بنانا چاہتے تھے تو ہندوستان کے جید علما اور مذہبی جماعتوں نے اس تحریک کی مخالفت کیوں کی تھی؟؟
ان گزارشات کا مطلب قائد اعظم کی ذات کو متنازعہ بنانا ہر گز نہیں کیونکہ مخالفین قائد کو لاکھ برا بھلا کہہ دیں لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ وہ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ ان کے سیاسی قد کاٹھ کو گھٹا یانہیں جا سکتا لیکن بات تاریخ پر پڑی ہوئی گرد کو مٹانے کی ہے گزشتہ سات دہائیوں سے جو جھوٹ ہمیں پڑھایا گیا ہے اب اس جھوٹ کا پردہ چاک ہو رہا ہے۔ یہ بات بھی یا د رکھنے کی ہے کہ قائد اعظم کو دیوتا بنانے کے بجائے ایک انسان سمجھ کرمطالعہ کیاجانا چاہئے۔