Categories
نقطۂ نظر

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری کو حال ہی میں ہنی ڈانس اکیڈمی سے نکلتے دیکھا گیا ہے۔ ہنی ڈانس اکیڈمی لندن میں قائم بھنگڑا سکھانے کی مشہور ترین اکیڈمی ہے۔ خبرستان ٹائمز کے ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ نومبر سے اس اکیڈمی میں بھنگڑے کی باقاعدہ تعلیم حاسل کر رہے ہیں۔ بلاول کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکیڈمی میں بلاول بھٹو کو ذاتی گرو کی سہولت دستیاب ہے۔ یہی گرو اس سے قبل کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی بھنگڑا سکھاتے رہے ہیں، کلنٹن نے ہندوستان کے تین روزہ دورے سے قابل اسی گرو سے فون پر بھنگڑے اور سیاست کے تعلق پر مشاورت کی تھی۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی بات چیت کے دوران بلاول نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کی۔

 

پی پی پی چیئرپرسن کا کہنا تھا، “اگرچہ سیاست میں نے اپنے اپنے ماں باپ سے سیکھی ہے، اقتدار ہمارے گھر کی لونڈی ہے مگر میں سیاست میں جدت کا قائل ہوں۔ مجھے اپنی تمام سیاسی الجھنوں کا حل ہنی ڈانس اکیڈمی میں ملا ہے۔” بلاول کا خیال ہے کہ بھنگڑے کی مدد سے وہ بطور رہنما لوگوں میں اپنا امیج بہتر بنا سکیں گے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی کا یہی ایک راستہ باقی بچا ہے۔

 

بلاول بھٹو اس ضمن میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو اپنے اس فیصلے کی وجہ تسلیم کرتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا، “کیا آپ نے ہڑی پہ پر جسٹن ٹروڈو کے بھنگڑے کی ویڈیو دیکھی ہے؟ اس کے بھنگڑے نے سبھی ناراض ووٹرز کو راضی کر لیا اور جلسے کامیاب ہو گئے۔” انہوں نے مزید کہا، “نئی نسل چاہتی ہے کہ سیاستدان ان کے مسائل کو سمجھیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح ان کی شادیوں اور مہندیوں میں شریک ہوں۔ میں عوام کو اپنی شخصیت کا پرمزاح، نرم خو اور پنجابی رخ دکھانا چاہتا ہوں۔”

 

بلاول نے اس گفتگو کے دوران معاصر سیاسی رحجانات سے اپنی واقفیت کا مظاہرہ کیا،”لاکھوں کروڑوں لوگ عمران خان کے جلسے میں جاتے ہیں لیکن اسے ووٹ نہیں ڈالتے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ کھلے آسمان تلے بھنگڑا ڈال سکیں۔” بعض ناقدین نے بلاول بھٹو کی ‘بھنگڑا پاو، پاکستان بچاو’ مہم کو 2014 کے دھرنوں کی نقالی قرار دیا ہے۔ تاہم بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی بھنگڑا ریلیاں اس لیے مختلف ہوں گی کہ وہ خود بھنگڑا کوریوگراف کریں گے اور اس کی قیادت بھی کریں گے۔ “میں کسی تھرڈ امپائر کے اشاروں پر نہیں ناچوں گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھنگڑے کے ذریعے کم کاردیشان اور گینگنم سٹائل سے زیادہ ویوز اور راہول گاندھی سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔

 

بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بلاول کے بھنگڑا گرو بلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھنگڑا ایک مشکل فن ہے مگر نوجوان بلاول سیکھنے کی ٹھرک رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے لائحہ عمل پوری توجہ سے تیار کر رہے ہیں “مجھے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج مہیا کیے گئے تھے اور میں انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہی steps تشکیل دے رہا ہوں۔”

 

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ان کے والد آصف علی زرداری ان کے ان ‘نئے سیاسی داو پیچ’ سے متفق ہیں تو بلاول نے قدرے بے چینی سے جواب دیا “میرے والد کو میرا بھنگڑا کچھ بہت زیادہ پسند نہیں، جب کبھی میں انہیں اپنے ٹھمکے دکھاتا ہوں تو ان کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔” تاہم ان کے خیال میں اگر پارٹی پنجاب میں اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کی سینئر پارٹی قیادت بھی ان کے بھنگڑے میں شریک ہو گی تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ آج کل دلیر مہدی کے گیت سن رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

اپنے حقوق پہچانیں ورنہ بسمہ مرتی رہے گی

جب تک ہم اپنے حقوق کو نہیں پہچانیں گےبسمہ مرتی رہے گی۔ اگر وی آئی پی پروٹوکول کی بناء پر عوام کی زندگیاں یوں ہی خطرے میں پڑتی رہیں تو تو لوگ وی آئی پیز کی آمد پر اُن کے پروٹوکول کی تمام روکاوٹیں توڑنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ ان ایک فیصد وی آئی پی نے پورے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے۔ سوال کیا گیا کہ تو جو پہلا قدم اٹھاے گا کیا وہ گولی کا نشانہ نہیں بنے گا؟ جی ایسا ہی ہوگا لیکن یہ اُس سے تو بہتر ہوگا جوملتان کے علاقے شریف پورہ کے رہائشی اشفاق احمد نے 23 دسمبر 2015ء کو کیا۔ اشفاق احمد پاور لومز میں کام کرتا تھا، غربت اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر اس غربت کے مارےمزدورنےاپنی بیوی اورچاربچوں کوقتل کرنے کے بعد اپنے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔ بظاہر ان سب کا قاتل اشفاق احمد ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو ان سب کی قاتل غربت ہے اور غربت کے ذمہ دار حکمراں ہیں۔ ایک گھر سے 6 افراد کی لاشیں ملی ہیں کیوں؟ اس لیے کہ کب تک ظلم برداشت کرتا، اپنے پیاروں کو بھی مار دیا اور خود کو بھی مار لیا۔ یہ جو بچی بسمہ کراچی میں مری ہے یہ بھی غربت کا شکار تھی۔ دس ماہ کی بسمہ اپنے والدین کے ساتھ کراچی کے غریب علاقے لیاری کی رہائشی تھی، ایک کمرے کا چھوٹا سا گھر جو داخل ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔ نہ ہوا، نہ روشنی کا گزر، چاروں طرف غربت کا راج۔ کراچی میں ہسپتالوں اور اچھے ڈاکٹروں کی کمی نہیں لیکن بسمہ کے باپ فیصل بلوچ کے پاس پیسے ہی نہیں تھے، اگر ہوتے تو کسی بھی دوسرے ہسپتال چلا جاتا، اس سرکاری ہسپتال میں نہیں آتا۔

 

اگر وی آئی پی پروٹوکول کی بناء پر عوام کی زندگیاں یوں ہی خطرے میں پڑتی رہیں تو تو لوگ وی آئی پیز کی آمد پر اُن کے پروٹوکول کی تمام روکاوٹیں توڑنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ ان ایک فیصد وی آئی پی نے پورے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے۔
سول ہسپتال کراچی میں بلاول زرداری کے لیے وی آئی پی پروٹوکول کے باعث راستے بند ہونے سے بروقت طبی امداد نہ ملنے پرلیاری سے تعلق رکھنے والی دس ماہ کی بچی بسمہ انتقال کرگئی۔بچی کے والد کا کہنا ہے کہ وی آئی پی سیکیورٹی کے باعث سول ہسپتال آنے والے راستے بند تھے، جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور میرے ہاتھوں میں بچی نے جان دے دی۔ ڈاکٹرزکہتے ہیں اگر 10منٹ پہلے ہسپتال پہنچ جاتے تو بچی کی جان بچ سکتی تھی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سول ہسپتال کراچی میں بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر کا افتتاح کیا۔ اُن کی آمد کے موقع پر سیکورٹی سخت انتظامات تھے اور ہسپتال آنے والے راستے بند کردیئے گئے تھے۔ دوسری جانب ایم ایس سول ہسپتال کا بڑی بے شرمی کے ساتھ یہ کہنا ہے کہ پروٹوکول نےآنے نہیں دیا، اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں،ہسپتال کا مرکزی دروازہ کھلا تھا اگر وہ شارٹ کٹ لینا چاہتا تو لے سکتاتھا۔

 

انسانیت کے ناطے کہہ رہا ہوں کہ جس شخص میں تھوڑی بہت انسانیت باقی ہوگی اور اُس نے ٹی وی پر فیصل کو اپنی بچی کو گود میں اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا ہوگا اور بعد میں فیصل کی زبانی یہ سناہوگا کہ ڈاکٹر کہہ رہا تھا ” اگر بچی دس منٹ پہلے آجاتی تو بچ جاتی” یقیناً ہرصاحب اولاد اس واقعہ پر غمزدہ ہوا ہوگا۔ لیکن ہمارے صاحب اقتدار تو یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ بلاول کا پروٹوکول تو ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ ایک بات جو میری سمجھ میں نہیں آرہی وہ یہ ہے کہ بلاول کو کس حیثیت کی وجہ سے سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے، نہ تو وہ اپنے والد آصف زرداری کی طرح سابق صدر ہے اور نہ ہی صوبے کا وزیراعلیٰ، بلاول کو سرکاری پروٹوکول اگر اس لیے دیا جارہا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہے تو سراج الحق ، مولانا فضل الرحمان اور دوسرے بہت سوں کو جو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہیں اُنہیں بھی وہی پروٹوکول دیا جائے جو بلاول کو دیا جارہا ہے، یہ ملک بلاول کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ بلاول اور اُس کے والدنے تو دس ماہ کی بسمہ کےلیے تھوڑا بہت افسوس کا اظہار کربھی لیا، مگر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی قطعی کوئی ہمدردی اُس بچی کے لواحقین کے ساتھ نہیں۔

 

بلاول کو سرکاری پروٹوکول اگر اس لیے دیا جارہا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہے تو سراج الحق ، مولانا فضل الرحمان اور دوسرے بہت سوں کو جو اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے سربراہ ہیں اُنہیں بھی وہی پروٹوکول دیا جائے جو بلاول کو دیا جارہا ہے،
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ بچی کے انتقال پر افسوس ہے، اگرسیکیورٹی کی وجہ سے بچی کا انتقال ہوا ہے تو والدین سے معذرت خواہ ہوں۔ ان کا مزید کہناتھا کہ ہمیں سب سے زیادہ بلاول بھٹو عزیز ہیں، انہیں اور ان کے خاندان کو سیکیورٹی خدشات ہیں۔ننھی بسمہ جان سے گئی، ذمے داروں کا تعین کرنے یا غلطی سے سبق سیکھنے کے بجائے پیپلزپارٹی نے واقعے کا سارا ملبہ ڈاکٹر اور پولیس افسر پر ڈال دیا۔ پارٹی رہنما نادیہ گبول لیاری پہنچیں تو “گو نادیہ گو” کے نعروں سے ان کا استقبال ہوا۔ بجائے شرمندہ ہونے کے انہوں نے بڑی بےشرمی سے فرمایا کہ اس ڈاکٹر کے خلاف انکوائری ہوگی جس نے کہا ہے کہ بچی کودس منٹ پہلے لاتے تو وہ بچ سکتی تھی۔ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نادیہ گبول سے ایک قدم آگے بڑھ گئیں۔ جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا کو تقریب میں جانے نہیں دیاگیا اس لیے بلبلا اٹھا۔ جبکہ صوبائی وزیر صحت جام مہتاب نے عجیب منطق پیش کی ہے کہ بسمہ کے مرنے کو خوامخواہ کا اشو بنایا گیا ہے، مرنا انسان کے بس میں نہیں ہے۔

 

کسی نے کہا موت زندگی کا فیصلہ اللہ کرتا ہے، کوئی بولا ہمیں بلاول کی جان سب سے زیادہ عزیز ہے اور کسی نے فرمایاایسا تو ہر روز ہوتا ہے، ایک ڈاکٹر کو کوس رہی ہیں جبکہ دوسری میڈیا کو۔صوبائی وزیرصحت جام مہتاب نے تو سیدھا سیدھا بچی کی موت کا الزام اللہ تعالی پر ڈال دیا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ دس ماہ کی بسمہ کی موت کا فیصلہ اللہ تعالی کا ہے تو جام مہتاب صاحب ہر سال 4 اپریل اور 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں جاکر کیوں روتے ہو، کہو کہ بھٹو اور بےنظیرکی موت کا فیصلہ بھی اللہ تعالی نے کیا تھا، نہ بھٹو کی موت کا ذمہ دار ضیاءالحق تھا اور نہ ہی بینظیر کے قاتل طالبان ہیں۔ نثار کھوڑو، نادیہ گبول اور شہلا رضا کوپارٹی میں اپنی حیثیت کا اندازہ ہے، لہٰذا ان کے نزدیک بلاول کی حفاظت سے سب سے زیادہ ضروری ہے چاہے کوئی مرے چاہے کوئی جیے۔ کہہ رہے ہیں کہ خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنایا جارہا ہے، کسی ماں کی گود اجڑگئی آپ اپنی سیاست چمکارہے ہیں۔ یہ حکومتی درباری جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ صرف بادشاہ صاحب کو خوش کرنے کےلیے کہہ رہے ہیں، لیکن جو کچھ دس ماہ کی بسمہ کی ماں اور اُس کے باپ اور اُس کے رشتے داروں نے کہا، بس وہی سننے کے لائق ہے۔

 

بسمہ کا والد فیصل بلوچ جس کی بے بسی اور آنسوئوں کا سیل رواں پوری قوم نے دیکھا لیاری کے اس علاقے کا رہنے و الا ہے جسے سندھ حکومت پر فائز پیپلزپارٹی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے پہلے پیپلزپارٹی کے منتخب رکن قومی اسمبلی محمد شاہ جہان بلوچ کو بسمہ کے گھر بھیجا، انہوں نے اہلخانہ سے تعزیت کے علاوہ تمام معاملات طے کیے جس کے بعد سیدقائم علی شاہ لیاری پہنچے لیکن پھر بھی بسمہ کے گھر جانے کی ہمت نہ کرسکے اورنادیہ گبول کے گھر پہنچ گئے اوربچی کے والد فیصل کووہاں بلوالیا۔ چند منٹ میں ہی سندھ کی حکومت دودھ کی دھلی ہوئی ہوگئی اور سارے معاملات طے ہوگئے۔ یہ سب اس قدر تیزی سے کیا گیا کیوں کہ کراچی سے پیپلز پارٹی کا خاتمہ ہوچکا ہے، صرف ایک لیاری بچاہوا ہے جہاں بیچارا بھٹو ابھی آخری سانسیں لے رہا ہے، اس لیے زرداری پریشان تھے ورنہ آصف زرداری ایک غریب بچی کے لیے اس قدر پریشان نہ ہوتے۔

 

کراچی سے پیپلز پارٹی کا خاتمہ ہوچکا ہے، صرف ایک لیاری بچاہوا ہے جہاں بیچارا بھٹو ابھی آخری سانسیں لے رہا ہے، اس لیے زرداری پریشان تھے ورنہ آصف زرداری ایک غریب بچی کے لیے اس قدر پریشان نہ ہوتے۔
فیصل بلوچ اپنی بیٹی کو دفن کرکے گھر پہنچا ہی تھا کہ اسے پولیس کے چاق و چوبند جوان اٹھا کر نادیہ گبول کے گھر لے گئے اور اس کے گھر کو پولیس کمانڈوز نے چاروں طرف سے گھیر لیا اور علاقے میں نیا پروٹوکول نافذ کردیاگیا کہ کوئی اہم شخصیت اسے پرسہ دینے کے لیے آرہی ہے اور وہ اہم شخصیت تھی وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے مرحومہ بسمہ کے والد فیصل سے لیاری میں پیپلزپارٹی کی رہنما نادیہ گبول کے گھر پر ملاقات کی۔ ملاقات کے موقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے فیصل بلوچ سے بچی کی موت پر تعزیت کی اور سرکاری نوکری کا اعلان کیا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کہنا تھا کہ واقعہ افسوس ناک ہے تاہم بچی کی طبیعت پہلے سے خراب تھی ۔ جس راستے سے بچی کو ہسپتال لایا جانا تھا وہ راستہ بالکل صاف تھا ۔

 

اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والی بچی کے والد فیصل بلوچ کا کہنا تھا کہ میری بچی پہلے سے بیمار تھی مگر وی آئی پی نقل و حرکت کی وجہ سے ہسپتال لانے میں دیر ہوئی ۔ وزیراعلیٰ سندھ میرے گھر آئے اُن کا شکرگزار ہوں ان کی یقین دہانی پر مطمئن ہوں ۔کسی غریب سے صوبے کا وزیر اعلیٰ علیحدگی میں بات کرے اور اس کا اثر نہ ہو، یہ ہوہی نہیں سکتا۔ سائیں نے مرنے والی بچی کے باپ کی مجبوریوں کا سودا کیا اور جو باپ چند گھنٹے پہلے تک واقعے کا ذمے دار سندھ حکومت کو قرار دے رہا تھا، وہ کچھ اور کہتا نظر آیا، ہائے غربت ، ہائے مجبوری۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے، عوام بھی مذمت کررہے ہیں ، انہی عوام میں ایک مبشر علی زیدی بھی ہیں جنہوں نے فیس بک پر صرف ایک جملہ لکھ کرحکمرانوں کو اُن کی اوقات یاد دلائی ہے ، وہ کہتے ہیں “بادشاہ سلامت! جس دن آپ کے سینے میں سانس اٹکے گی، بسمہ یاد آئے گی”۔
Categories
نقطۂ نظر

بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد سے آج تک کبھی نواز شریف، کبھی پرویز مشرف تو کبھی ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ سبھی آصف علی زرداری پر الزامات کی اس تواتر سے بوچھاڑ کرتے رہے ہیں کہ ان کے بارے میں سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنا بے حد دشوار ہے۔ آصف علی زرداری صاحب کی ذات اور محترمہ کی زندگی میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات سے قطع نظر پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کے لیے لیے اس وقت یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی جماعت کہلانے والی جماعت آج ایک صوبے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صورت حال کا ذمہ دار عموماً آصف علی زرداری کو قرا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے نہ تو کوئی کارکن خوش ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں۔ کراچی سے پیپلزپارٹی کا وجود مٹ چکا ہے اور کوئی نوجوان اس جماعت میں شمولیت یا اس کی حمایت کو تیار نہیں، آج کا نوجوان بھٹو یا بی بی کی شہادت یا ان کی غریب پرور سیاست سے واقف نہیں، آج کے ووٹر کے لیے پیپلز پارٹی کا تعارف آصف علی زرداری کی پانچ سالہ حکومت ہے اور اس دور میں روا رکھے جانے والی مالی بدعنوانیاں اور بدترین حکومتی کارکردگی ہے۔ یقیناً آصف علی زرداری اور ان کے قریبی رفقاء نے پیپلز پارٹی کو مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے اور ان کا اور ان کے کرپٹ ساتھیوں کا احتساب ضروری ہے۔
پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں
گزشتہ دنوں فوجی قیادت کے خلاف آصف علی زرداری کی پریس کے بعد سے شروع ہونے والے سیاسی بحران کے بعد سے پاکستان کے جمہوری نظام کا مستقبل ایک بار پھر خدشات کا شکار ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے تیور یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کا بیان پیپلز پارٹی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے جو مسلم لیگ نواز سے مصالحت کے خاتمے اور حزب اختلاف کے طور پر مزاحمت اور احتجاج کی سیاست ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پیپلز پارٹی ایک بار پھر ماضی کی طرح ایک فعال، متحرک اور مقبول جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے اور کیا تحریک انصاف کی جانب مائل نوجوانو ں کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے یا نہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت بری طرح کم ہوئی ہے اور اس اک ووٹ بنک تقسیم ہو چکا ہے۔ اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو بڑھانے اور اگلے انتخابات جیتنے کے قابل ہونے کے لیے پیپلز پارٹی کو ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔
زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے
نوجوان بلاول بھٹو زرداری وہ ترپ کا پتہ ہیں جو پیپلز پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔ بہت جلد پاکستان میں سیاست دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کو ہے جس میں سے ایک دھڑا عسکری قیادت کی پشت پناہی اور حمایت کا خواہاں نظر آتا ہے تو دوسری جانب ایک کم زور دھڑا ان سیاسی جماعتوں پر مشتمل بنتا نظر آتا ہے جو عسکری مداخلت کے مخالف ہیں۔ ایک جانب مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ہیں جو کسی بھی صورت میں عسکری قیادت کو ناراض کرنے کے قائل نہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی، ایم کیوا یم اور اے این پی کا سابقہ اتحاد اکٹھا ہوتا نظر آرہا ہے جو عسکری قیادت کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج کرے گا۔
پیپلز پارٹی یقیناً آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نواز حکومت کو دباو میں لا کر فوج اور پیپلز پارٹی میں سے پیپلز پارٹی کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا یہ چال کامیاب بھی ہوگی ؟ اس کا دارومدار مکمل طور پر بلاول بھٹو کے طرز سیاست پر ہے۔ اگر چہ اس وقت عمران خان کی pro-establishment سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے اور وہی وقت پیپلز پارٹی کی تشکیل نو کا وقت ہو گا۔
اس وقت عمران خان کی (pro-establishment) سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے
بلاول کے سامنے ایک ایسی جماعت ہے جو عملاً مفلوج ہو چکی ہے اور جس کی مقبولیت اور سندھ حکومت اس وقت داو پر ہے لیکن بلاول بھٹو کے پاس وہ میراث ہے جو اسے طالع آزما جرنیلوں، ملاوں اور دائیں بازو کے سرمایہ دار دوست سیاستدانوں کو للکارنے للکارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بلاول کو اپنی جماعت کی تشکیل نو کرنا ہو گی، نئے سرے سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور خؤد کو اس بدعنوان ٹولے سے علیحدہ کرنا ہوگا جس نے پیپلز پارٹی کو گزشتہ ایک دہائی سے نرغے میں لے رکھا ہے۔ بلاول کو اپنے والد سے مختلف سیاست اور اپنے والد سے منفرد طرز حکومت کی داغ بیل ڈالنی ہو گی اور پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شریف برادران کے لیے حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالول کو ایک ایسی چومکھی لڑنی ہے جس میں پیپلز پارٹی ہی نہیں پاکستان کا جمہوری اور امن پسند مستقبل بھی داو پر لگا ہوا ہے۔ یہ اس آئین کی بقاء کی جنگ ہے جسے ضیاء الحق اور اس کی باقیات نے بگاڑاہے۔ یہ ایک ڈھکے چھپے مارشل لاء کے چہرے کا جمہوری نقاب اتارنے کی جنگ ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اس وقت صرف پیپلز پارٹی کے پاس یہ طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو یاددلائے کے حکومت اور پالیسی سازی چند جرنیلوں کا کام نہیں بلکہ عوام کا استحقاق ہے۔ پیپلز پارٹی اگر بلاول کی سربراہی میں اپنا وجود قائم رکھ سکی تو وہ وقت دور نہیں جب جرنیلوں کے سیاہ اعمال نامے ذرائع ابلاغ پر بریکنگ نیوز بن کر چلیں گے اور لوگوں کو احساس ہو گا کہ اس ملک میں کرپشن ، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی سب سے زیادہ سرپرستی فوجیوں نے ہی کی ہے۔