Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 5 (سائنس کی جانب عمومی رویہ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4

سائنس کی جانب عوامی رویہ

 

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں وہ گذشتہ ایک صدی میں بہت حد تک بدل چکی ہے، اور اگلے سو برسوں میں مزید بدل جائے گی۔ کچھ لوگ یہ چاہیں گے کہ دنیا نہ بدلے اور وہ واپس اس سادہ لوحی کے دور میں چلے جائیں جو ماضی کی یادگار ہے۔ لیکن جیسا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے، ماضی اتنا شاندار تھا نہ ہی اس قدر یادگارھا (جتنا تصور کیا جاتا ہے)۔ مقتدر اقلیت کے لئے تو یہ یقناً برا نہیں تھا اگرچہ انہیں بھی جدید دور کی ادویات و سہولیات میسر نہ تھی، اور (ان امراء کے ہاں بھی ) بچے کی پیدائش ایک عورت کی زندگی کیلئے شدید خطرہات سے دوچار رہتی تھی ۔ جبکہ جمہور عوام کے لئے زندگی تکلیف دہ، مظالم سے بھرپور، اور مختصر ہوتی تھی۔

بہرحال، چاہ کر بھی ہم ماضی میں دوبارہ داخل نہیں لوٹ سکتے۔ علم اور سائنسی طریقہ ہائے کار (scientific methods) اچانک ترک بھی نہیں جا سکتے، نہ ہی ہم مستقبل میں ہونے والی ترقی کو روک سکتے ہیں۔ اگر تمام حکومتیں تحقیقی کام کے لئے رقم مختص کرنا بند بھی کر دیں (جس میں موجودہ حکومت اپنی بھرپور کوشش رہی ہے) تب بھی مسابقت کی عمومی فضاء سے ٹیکنالوجی روز بروز ترقی کرے گی۔ مزید برآں، ہم متجسس اذہان کو بنیادی سائنسی تصورات و نظریات کے بارے میں سوچنے سے بھی نہیں روک سکتے، چاہے انہیں ہم انھیں اس کا معاوضہ بھی نہ دیں۔ ترقی کی راہ روکنے کا واحد راستہ ایک عالمی آمرانہ ریاست ہے جو کسی بھی نئے تصور، نئی نظریے کو بالجبر روک سکے، لیکن انسان کی آگے بڑھنے کی خواہش اور اختراعی قدرت کو شاید یہ آمرانہ ریاست بھی نہ روک پائے۔ یہ محض اتنا کر پائے گی کہ ترقی کی رفتار کو سست کر دے۔

اگر ہم اس بدیہی حقیقت کو قبول کر لیں کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو دنیا میں انقلاب برپا کرنے سے نہیں روک سکتے، توکم از کم ہم اس امر کو ضرور یقینی بنائیں گے کہ سائنس درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں اس سے مراد یہ ہو گی کہ عوام سائنس کی مبادیات سے بھرپور واقفیت رکھتی ہو، تاکہ وہ معلوماتی بنیاد پر رائے سازی کر سکےاور سب کچھ ماہرین کے رحم و کرم پر ہی نہ چھوڑ دیا جاوے۔ سرِ دست عوام کا سائنس کی جانب رویہ متضاد جذبات کا شکارہے۔ اسے یہ توقع بھی ہے کہ ہمارا معیارِ زندگی سائنسی ترقی کی بدولت بتدریج بہتر ہوتا جائے گا مگر ساتھ ساتھ سائنس کے حوالے سے عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے کیونکہ عوام سائنس کا مطلوب فہم نہیں رکھتی۔ اور یہ عدم اعتماد اس کارٹون کے کردار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو ایک پاگل سائنس دان کا ہے جو اپنی تجربہ گاہ میں فرینکن سٹائن (Frankenstein) تخلیق کرنے میں مصروف ہے۔ اور یہی عدم اعتماد گرین پارٹیز (Green Parties) کی عوامی سپورٹ کا محرک بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عوام سائنس میں بہت دلچسپی بھی رکھتی ہے، بالخصوص فلکیات (astronomy) میں۔، جیسا کہ ٹیلی وژن سیزیز Cosmos اور دوسرے سائنس فکشن پروگراموں کی پذیرائی سے واضح ہے۔

اس دلچسپی کوبڑھانے کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور ہم عوام کو ایسا سائنسی پس منظر فراہم کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں کہ وہ ایسے عوامل جیسے acid rain، گرین ہاوس ایفیکٹ، نیوکلیائی ہتھیار، اور جینیٹک انجینئرنگ وغیرہ پر مبنی بر معلومات فیصلے لے سکیں؟ یقیناً اس کی بنیاد سکول میں دی جانے والی تعلیم پر ہے۔ لیکن سکولوں میں سائنس کو ایک غیر دلچسپ اور خشک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ بچے رٹا لگا کر امتحان پاس کرنے کیلئے سبق یاد کر لیتے ہیں، اور اپنے اطراف میں انھیں (پڑھائی جانے والی) سائنس کی متعلقیت دکھائی نہیں دیتی۔ مزید برآں، سائنس بالعموم مساوات (equations)کی اصطلاح میں پڑھائی جاتی ہے۔ اگرچہ مساوات ریاضی کے تصورات کی منظر کشی کیلئے جامع اور بالکل درست طریقہ ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس طریق سے گھبرا جاتے ہیں۔ جب میں نے حال ہی میں ایک مقبول کتاب لکھی، مجھے یہ نصیحت کی گئی تھی کہ کتاب میں مساوات کم سے کم رکھوں کیونکہ ناشر کے مطابق ایک مساوات (equation) کا اضافہ کتاب کی فروخت میں پچاس فیصد تک کمی لے آتا ہے ۔( نصیحت کے بر خلاف) میں نے آئن سٹائن کی مساوات  کو شامل کیا۔ اگر میں اسے شامل نہ کرتا تو شاید دو گنا کتابیں فروخت کر پاتا۔

سائنس دان اور انجینئر حضرات اپنے تصورات کو مساواتی شکل ہی میں متعارف کراتے ہیں کیونکہ انھیں قابلِ پیمائش اشیاء کی درست مقدار جاننا ہوتی ہے۔ لیکن ہم عامیوں کے لئے (جو سائنس دان اور انجینئر نہیں ہیں) کسی بھی سائنسی تصور کا صفاتی فہم (qualitative grasp) کافی ہے، اور یہ فہم، مساوات استعمال کئے بغیر، صرف تصاویر اور الفاظ کی مدد سے قاری میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

جو سائنس بچے سکول میں سیکھتے ہیں، وہ اس مطلوبہ فہم کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں سائنسی ترقی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کسی کے سکول یا یونی ورسٹی پہنچنے تک بہت سے امور میں پیش رفت ہو چکی ہوتی ہے ۔ میں نے سکول میں مالیکیولر بائیالوجی اور ٹرانزسٹر کے بارے میں کچھ بھی نہیں سیکھا تھا، لیکن جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering) اور کمپیوٹر ، یہ دونوں اس نوعیت کی سائنسی پیش رفت ہیں کہ وہ مستقبل میں ہمارے طرزِ زندگی کو یکسر بدل ڈالیں گی۔ پاپولر کتابوں اور رسالوں میں سائنسی مضامین ترقی کی نئی شاہرائیں کھول سکتے ہیں ، لیکن معروف ترین سائنسی کتاب کا بھی آبادی کا نہایت قلیل حصہ مطالعہ کرتا ہے۔ صرف ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ہے جو عوام کی کثیر تعداد تک پیغام پہنچا سکتا ہے۔ ٹی وی پر بہت سے عمدہ سائنسی پروگرام دکھائے جاتے ہیں لیکن کئی ایسے پروگرام ہیں جو سائنسی ایجادات کو اس طرز پر دکھاتے ہیں جیسے کہ وہ جادو ہو، نہ ہی ان آلات کی وضاحت کی جاتی ہے نہ ہی یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ سائنسی ڈھانچے میں کس طرح سے فٹ بیٹھتے ہیں۔ سائنسی پروگرامز کے ٹی وی پروڈیوسرز کو اس امر کا احساس کرنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری صرف عوام کو لطف اندوز کرانا ہی نہیں، انہیں تعلیم دینا بھی ہے۔

ایسے کون سے سائنسی معاملات ہیں جن پر عوام کو مستقبل قریب میں رائے زنی کرنا ہو گی؟ سب سے اہم اور جلد فیصلہ تو نیوکلیائی ہتھیاروں کی بابت کرنا ہو گا۔ دوسرے عالمی مسائل جیسا کہ خوراک کی ترسیل یا گرین ہاوس اثرات، نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہیں لیکن نیوکلئیائی جنگ کا واضح مطلب انسانیت کے چند دنوں کے اندر اندر خاتمے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ مشرق اور مغرب کی باہمی تلخی سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ٹھنڈی پڑ گئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے شعور سے نیوکلئیائی جنگ کا خوف اب محو ہو گیا ہے۔ لیکن خطرہ ابھی تک قائم و دائم ہے جب تک تمام انسانیت کو ختم کر ڈالنے کے لئے زائد از ضرورت نیوکلئیائی ہتھیار موجود ہیں۔ سابقہ سوویت یونین اور امریکہ میں ، اب بھی نیوکلئیائی ہتھیار اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ شمالی ممالک میں موجود تمام بڑے شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی غلطی یا نیوکلئیائی ہتھیاروں کے محافظین میں سے کسی ایک کی بھی بغاوت عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور مزید پریشانی کا باعث یہ امر ہے کہ نسبتاً چھوٹی طاقتیں بھی اب نیوکلئیائی ہتھیار حاصل کر رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے مناسب حد تک ذمہ دارانہ رویہ دکھایا ہے لیکن ہم ایسا اعتماد لیبیا، عراق، پاکستان، یا آذربائیجان پر نہیں کر سکتے۔ وہ ہتھیار اصل خطرہ نہیں ہیں جو عنقریب ان ممالک کے قبضے میں ہوں گے، کیونکہ وہ بنیادی نوعیت کے ہتھیار ہوں گے، اگرچہ یہ بھی لاکھوں لوگوں کو مار ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اصل خطرہ ان چھوٹی طاقتوں کا آمنا سامنا ہے، کیونکہ یہ بڑی طاقتوں کو بھی اپنی جنگ میں دھکیل لیں گے، اور بڑی طاقتیں جدید ترین اور بے بہا ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

یہ امر بہت ضروری ہے کہ عوام کو اس خطرے کا احساس ہو اور وہ تمام حکومتوں پر بڑے ہتھیاروں کو ضائع کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں ۔ اگرچہ نیوکلئیائی ہتھیاروں کو مکمل طور پر ضائع کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن ہم ہتھیاروں کی تعداد کم کر کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔

اگر ہم ایک نیوکلئیائی جنگ سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ، تب بھی ایسے خطرات موجود ہیں جو ہم سب کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایک نہایت بیمار ذہن کا وضع کردہ مذاق ہے کہ کسی خلائی مخلوق نے ہم سے اب تک رابطہ اس لئے نہیں کیا کیونکہ جب تک وہ ہماری (ذہنی) سطح تک پہنچتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن مجھے عوام کی اچھائی پر پورا بھروسہ ہے کہ ہم اس (مذاق میں پنہاں طنز)کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔

 

یہ تقریر Oviedo اسپین میں 1989 میں کی گئی جب ہاکنگ کو آسٹریا ہارمنی اور Concord پرائز دیا گیا۔ (یہ تقریر اپ ڈیٹ کی گئی ہے)

 

Categories
نان فکشن

سائنس کیا ہے؟ – حصہ دوم

اس مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سائنسی فلسفے کی تحریکیں

 

گزشتہ مضمون میں ہم نے سائنسی طریقہ کار کا مختصر تجزیہ پیش کیا جس کے مطابق حقائق کو مشاہدے سے اخذ کرکے کچھ بیانات کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اور بہت سے بیانات کا آپس میں ربط قائم کر کے ایک مفروضہ تشکیل پاتا ہے جس کو پھر تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے سے درست یا غلط ہونے کا پتا لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سائنسی طریقہ کار چارصدیاں پہلے فرانسس بیکن کے ہاتھوں تشکیل پایا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مختلف فلاسفہ نے اس پر اپنے مباحث پیش کیے ہیں۔ سائنس اور تکنیک کی ترقی سے ایسے مشاہدات سامنے آئے ہیں جنہیں عام حواس خمسہ سے مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔

 

مائیکروسکوپ کی ایجاد سے ایسے خلیے اور سالمے دریافت ہوئے جن کو محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دوربین کی ترقی نے ایسی کہکشاؤں اور ستاروں کا پتا بتلایا ہے کہ جنہیں عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی سے فزکس میں ایسے نظریات کا ظہور ہوا ہے کہ جس نے نہ صرف سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا ہے بلکہ اب سائنسی نظریات میں بھی اثر پذیر ہورہے ہیں۔ اور فلسفے کی ایک باقاعدہ شاخ جسے ‘فلسفۃ السائنس’ کہا جاتا ہے وجود میں آچکی ہے۔ گزشتہ صدی میں رونما ہونے والی بڑی فلسفیانہ تحریکوں میں سائنس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سائنسی فلسفے کی ان تحریکوں کا مختصر جائزہ ہمارے اس مضمون کا مدعا ہے۔

 

1۔ منطقی اثباتیت

 

1929ء میں ویانا کے کچھ دانشوروں نے ایک منشور جاری کیا جس کانام “ایک سائنسی جہاں بینی: ویانا سرکل” تھا۔ یہ سرکل 1922ء میں ویانا میں قائم ہوا جس میں گزشتہ صدی کے مشہور فلاسفہ مثلاً گوڈل، کارنپ، کارل پوپر وغیرہ شامل تھے۔ یہ لوگ اس سرکل میں اکٹھے ہوتے اور سائنس اور فلسفے کے مابین مختلف حدود پر بحث و مباحث کرنے کے بعد یہ اس منشور تک پہنچے جسے 1929ء میں شائع کیا گیا۔ اس سرکل کو سائنسی فلسفے کی تاریخ میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اگرچہ جرمنوں کے قبضے کے بعد یہ سرکل بکھر گیا لیکن اسکے فلسفیانہ نظریات نے گزشتہ صدی میں اہم کردار کیا۔ اس میں سے پہلا اہم نظریہ منطقی اثباتیت کہلاتا ہے جسکا ہم مختصر جائزہ پیش کریں گے۔

 

اس نظریے کے مطابق تمام انسانی علم میں صرف وہی علوم قابل اعتبار ہیں جو یا تو منطقی استدلال یا تجربے کی رو سے ثابت ہوتے ہیں۔ اور دیگر ہر قسم کے علم کی نفی کردی جائے گی۔ گویا اس استدلال کے تحت بہت سے علوم مثلاً مابعد الطبیعات اور اخلاق وغیرہ بے معنی علوم ہیں کیونکہ انکو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اس نظریے کی بنیاد تصدیقیت پر ہے جس کے مطابق ایک قضیہ صرف اسوقت معتبرمعنی کا حامل ہوگا جب اس کی تصدیق یا تردید ہونے کی کامل دلیل پیش کردی جائے۔ بہرحال منطقی اثباتیت کے مطابق تمام فطری یا سماجی مسائل کو منطق اور تجربے یعنی سائنسی طریقہ کار ہی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ ایک ایسی ‘متحدہ سائنس’ یا زبان کی تلاش میں تھے جس کے ذریعے تمام سائنسی قضیوں کو ایک ہی پیرائے میں بیان کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول میں مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل کے مایہ ناز شاگرد لدوگ ویتجنسٹائن کے پی ایچ ڈی کے تھیسز بنام ‘ٹریکٹیٹس’ نے اہم کردار ادا کیا جسے ویانا سرکل میں موضوع بحث بنائے رکھا جاتا تھا۔ ویتجنسٹائن کے مطابق کسی لفظ کا معنی زبان کےاستعمال سے بنتا ہے اور الفاظ یا خیالات دراصل دنیا میں موجود اشاء کی علامات یا تصویریں ہوتی ہیں۔ اس رجحان نے بعد میں لسانیات میں سمبلزم یعنی علامت پسندی کو جنم دیا۔ اسی طرح برٹرینڈ رسل اور الفرڈ نارتھ وائیٹ ہیڈ کی مشہور تصنیف ‘پرنسپیا میتھییمیٹکا’ جس کا نام نیوٹن کی کتاب سے مستعار لیا گیا کیونکہ اس میں نیوٹن کے ریاضیاتی اصولوں کا نئے رجحانات کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور ریاضی کو رسمی منطق کی بجائے سمبلزم کی بنیاد پر استوار کیا گیا۔ برطانیہ میں اے جے آئر کی مشہور تصنیف “زبان، سچائی اور منطق” نے منطقی اثباتیت کا بول بالا کیا۔

 

2۔ تردیدی فلسفہ

 

ویانا سرکل کے نتیجے میں منطقی اثباتیت کی تشہیر کے بعد اس پر تنقید کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلا شخص جس نے اس رجحان پر شک کرتے ہوئے اہم تنقید کی وہ سر کارل پوپر ہیں۔ انہوں نے ویانا کی یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی جسکا موضوع سوچنے کے عمل میں طریقہ کار کا مسئلہ تھا۔ ان کا زیادہ کام نظریاتی طبیعات اور ریاضی کے حوالے سے تھا۔ لیکن انکا سب سے اہم کام سائنسی و غیرسائنسی نظریات کے معیار کے حوالے سے ہے جسے ہم تردیدی فلسفے کا نام دیں گے کیونکہ اس میں کسی خاص نظریے کے سائنسی ہونے کی تردید کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ انکی دومشہور ترین کتب کا نام “سائنسی دریافت کی منطق” (1959ء) اور “قیاس اور تردید” (1963ء) ہیں۔ اسکے علاوہ تاریخ اور معاشرے کے حوالے سے بھی بہت اہم کام کئے۔

 

اپنی کتاب “قیاس اور تردید” میں انہوں نے لکھا ہے کہ کیسے ان کو پہلی مرتبہ منطقی اثباتیت کے فلسفے پر شک ہوا۔ یہ شک انہیں تین اہم نظریات کے سائنسی کہے جانے پر پیدا ہوا جس میں مارکس، فرائڈ اور ایڈلر شامل ہیں۔ بلکہ ایڈلر کے حوالے سے انہوں نے 1919ء کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس کسی بچے میں نفیساتی مسئلہ پیش آیا اور انہیں اس کی وجہ ایڈلر کی تھیوری کے مطابق ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ جب انہوں نے ایڈلر کو یہ کیس دکھایا تو اس نے فوراً اپنے نفسیاتی طریقہ کار سے اس کا حل پیش کر دیا۔ حالانکہ اس نے ابھی بچے کو دیکھا تک نہ تھا۔ پوپر لکھتے ہیں میں نے حیرانی میں ان سے پوچھا کہ آپ اس بارے میں یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو جواباً انہوں نے کہا کہ یہ میرا ہزارمرتبہ آزمودہ تجربہ ہے۔ جس پر پوپر نے کہا “تو گویا آج آپ کا تجربہ ایک ہزرا ایک مرتبہ آزمودہ ہو گیا”۔ اس اہم مشاہدے نے جو شک پیدا کیا وہ پوپر کے تردید فلسفے کی بنیاد ہے۔

 

پوپر کے مطابق سائنس اس لئے معتبر نہیں کہ یہ حقائق کی تعداد پر منحصر ہے۔ یعنی زیادہ حقائق کا مطلب یہ نہیں کہ یہ نظریہ زیادہ سائنسی ہوگیا ہے۔ در اصل مارکس، فرائڈ اور ایڈلر کے نظریات اتنے لچکدار ہیں کہ ان کو ہر قسم کے حالات میں ایڈجسٹ کر کے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ نظریات کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہو پائیں گے۔ اس کے مقابلے میں آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت قابل تردید ہے کیونکہ ایک تجربے سے اسکو غلط ثابت کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ نظریہ قابل تردید ہے لہٰذا سائنسی نظریہ ہے جبکہ مارکس اور فرائڈ وغیرہ کے نظریات غیر سائنسی ہیں۔
تردیدی فلسفہ کے ماننے والے وہی بات کہتے ہیں جو ہم نے اس مضمون کے حصہ اول میں بیان کی تھی یعنی یہ کہ حقائق اور تجربات بھی دراصل ہمارے قیاس اور نظریات کے پابند ہوتے ہیں۔ ہمارا تجربہ ہمارے نظریے کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ تجربیت کی بجائے نظریات کی تردید سائنس کے لئے مشعل راہ ہوگی۔ امریکہ کے مشہور زمانہ فلسفی و ماہرلسانیات نوم چومسکی نے اپنے ایک لیکچر میں بہت اہم بات کہی تھی کہ آج کا زمانہ حقائق سے نظریات لینے کی بجائے نظریات کی بنیاد پر حقائق جانچنے کا زمانہ ہے۔ یعنی پہلے انسان اس کائنات کے بارے میں ایک قیاس قائم کرے گا اور پھر اس کے لئے تجربے سے حقائق کی تلاش کی جائے گی۔ اگر قیاس کی تردید ہوئی تو پھر اس کی جگہ نیا قیاس آجائے گا۔ یعنی سائنسی ترقی “قیاس اور تردید” سے طریقے سے ہوگی۔

 

تردیدی فلسفے سے سائنس کو استقرائی طریقہ کار سے آزادی مل جاتی ہے۔ کیونکہ اب ہم حقائق کی خاص تعداد کی بنیاد پر عمومی نتیجہ اخذ نہیں کریں گے۔ بلکہ عمومی بیانات کی تردید محض ایک واحد بیان سے ہو جائے گی۔ ایک تجربہ کسی بھی قانون کو غلط ثابت کر دے گا۔ ایسے بہت سے سماجی، نفسیاتی اور مذہبی نظریات ہیں جو شاید کائنات کی ہر شے کی وضاحت پیش کریں مگر حقیقت میں وہ کوئی وضاحت پیش نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے نیا علم حاصل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نیا علم صرف تب حاصل ہوگا جب کسی نظریے میں غلط ہونے کا امکان پایا جائے گا۔ اور اگر بار بار کے تجربے اور تنقید سے کوئی نظریہ غلط ثابت نہ ہوا تو وہ کسی ایسے مسئلے کو جنم دے گا جس کے لئے پھر کوئی نیا قیاس بنانا پڑے گا۔ مثال کے طور پرنیوٹن کی گریوٹی نے 300 سال تک غلط نہ ہو کر ایسے مسائل پیدا کر دئے کہ ہمیں آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی ضرورت پیش آگئی۔ لیکن ریلٹوٹی نے نیوٹن کو مکمل غلط ثابت نہیں کیا۔ اس نے نیوٹن کی حدود متعین کردی ہیں اور لہٰذا ہم کہیں گے کہ آئن سٹائن کی فزکس نیوٹن کی فزکس سے بہتر ہے۔ آئندہ ہم آئن سٹائن کی تردید کرنے میں لگ جائیں گے اور شاید مستقبل میں اسکی بھی حدود متعین کرنا پڑ جائیں۔ تردید فلسفہ سچائی کی تلاش کا دعوٰی نہیں کرتا بلکہ خوب سے خوب ترنظریات کی تلاش اس کا مدعا ہے۔

 

یہاں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ اکثر سائنسی نظریات ایک سے زیادہ قیاسی بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب کبھی کوئی تجرباتی بیان اورنظریات میں تضاد پیدا ہو، تو ہم نظریات ہی کی تردید کیوں کریں؟ اور نظریہ جن قیاسی بیانات پر مشتمل ہے ان میں سے کس قیاس کی تردید ہوئی ہے؟ کیونکہ تردیدی فلسفہ کے مطابق تجربہ بھی قیاس اور نظریات کے تابع ہوتا ہے۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو تجربہ ترتیب دیا تھا وہ اس قیاسی نظریے کے لئے کافی نہیں تھا؟ یہ سوالات تاریخ میں دوہم-قوائن تھیسز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان سوالات اور دیگر تنقید کے زیراثر تردید فلسفے میں یہ ترمیم کی گئی ہے کہ کسی نظریے کو یکسر رد کردینے کی بجائے اس پر مزید تجربات کرتے رہنا بھی ضروری ہے۔ پوپر خود کہا کرتا تھا کہ محض تردید کافی نہیں ہمیں عقیدہ بھی ہونا چاہئے۔ 2015ء میں رینالڈ نامی ایک سائنسدان نے موجودہ فزکس کے اہم مسئلے ڈارک میٹر کو اس تھیسز کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

 

3۔ ساختیت یا سانچہ سازی

 

گزشتہ دونوں تحریکوں نے جن مسائل کو جنم دیا ان کے حل کے طور پر بیسیویں صدی کے اواخر میں جس رجحان کو سب سے زیادہ تقویت ملی ہے وہ ساختیت یا ڈھانچہ سازی کی تحریک ہے جس کے بانی مشہور فلسفی تھامس کوہن ہیں جنہوں نے اپنا نظریہ مشہور کتاب “سائنسی انقلاب کی ساخت” میں پیش کیا۔ کوہن نے اپنی تعلیم کا آغاز فزکس سے کیا اور جنگ عظیم دوم کے دوران ہارورڈ اور یورپ میں رڈار سسٹم پر تحقیق کرت رہے۔ فزکس میں انکا اہم کام کوانٹم میکانیات کے اصولوں سے ٹھوس حالت میں مادے کے مطا لعے پر مبنی ہے۔ ہارورڈ میں انہیں عمرانیات کے شعبہ جات میں سائنس کی تاریخ پڑھانے کا موقع ملا جس سے انکا رجحان سائنس کی تاریخ اور فلسفے کی طرف ہوگیا۔

 

کوہن کے مطابق سائنسی نظریات کی پرکھ اس خاص سانچے یا ساخت میں ہوسکتی ہے جس کے تحت وہ نظریہ اخذ ہوا ہے۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جب ایک سانچہ اس قابل نہیں رہا کہ وہ موجودہ نظریات کی وضاحت کر سکے تو اسکی جگہ ایک نئے سانچے یا ساخت نے لے لی۔ 1957ء میں کوہن نے اپنی پہلی کتاب “کوپرنیکن انقلاب” میں اسی نقطہ نظر کی وضاحت کوپرنیکس کے انقلابی خیالات کی شکل میں کی ہے۔ کوپرنیکس سے پہلے ارسطوئی طبیعات اور بطلیموس کے نظریات کے مطابق زمین ساکت اور کائنات کا مرکز تھی۔ لیکن کوپرنیکس کے مشاہدات نے اس ساکت زمین میں حرکت پیدا کردی اور اس سے کائنات کی مرکزیت چھین لی۔ گلیلیو کی دوربین اور حساب و کتاب نے بھی کوپرنیکس کی حمایت کردی۔ یہ ایک بڑا انقلابی قدم تھا جسے نہ تو استقرائی انداز سے ثابت کیا جا سکتا ہے اور تردیدی فلسفہ اس بارے کچھ بھی واضح کرتا ہے۔ اسکا صرف واحد حل یہی تھا جو کوہن کی ساختیت نے پیش کیا۔

 

ایک اور مثال نیوٹن کی میکانیات کی ہے جو ایک خاص ساخت کی حامل ہے۔ نیوٹن نے کمیت اور قوت وغیرہ کی ایک خاص تعریف کی ہے جس کے بعد اسکی میکانیات نے ایک ساخت یا نظام کی شکل اختیار کی۔ لیکن یہ ساخت ایک انقلابی تبدیلی کے بعد آئن سٹائن کی ریلٹوٹی اور پھر کوانٹم فزکس کی شکل میں نمودار ہوئی۔ کوہن کے مطابق پہلے بکھرے ہوئے تصورات آپس میں مربوط ہو کر ایک سائنسی ساخت تشکیل دیتے ہیں۔ اس ساخت کے تحت ساری سائنسی تحقیق اور تکنیک کام کرتی رہتی ہے۔ جیسے آج کوانٹم فزکس ساری سائنسی تحقیق کے لئے بنیادی سانچہ فراہم کر رہی ہے۔ جبکہ عمرانیات میں کوئی بنیادی سانچہ موجود نہیں اس لئے یہ ایک غیر سائنسی علم ہے۔ کچھ عرصے کے بعد یہ ساخت توڑ پھوڑ کا شکار ہونے لگتی ہے اور ناقابل حل مسائل جنم لیتے ہیں۔ لیکن ہر طرح کے مسائل کو ساختیت کے مسائل نہیں کہا جائے گا۔ صرف وہ مسائل انتشار پیدا کریں گے جو کسی بنیادی سانچے کے اصولوں کو چیلنج کررہے ہوں۔ پھر کسی انقلابی صورتحال میں یہ ساخت ایک نئی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ نئی ساخت اچانک سے کسی شخص کے ذہن میں نمودار ہوگی اور یہ پچھلی ساخت سے تضاد میں ہوگی۔ مثلاً ریلٹوٹی میں روشنی کی رفتار محدود ہے جبکہ نیوٹن کے مطابق لامحدود۔ اس نئی ساخت میں تبدیلی کسی بھی سائنسدان کے لئے مشکل کام ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپ سے اپنا مذہب تبدیل کرنے کا کہے۔ مثلاً آئن سٹائن ساری زندگی کوانٹم فزکس کے نتائج کو نہیں مانتا تھا۔ اور ایک نئی سائنسی ساخت پھرایک اور انقلاب سے دوچار ہوتی ہے اور یوں سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

 

کوہن کے اس نظریہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ کوہن کے مطابق سارے سائنسی نظام اور نظریات اپنے اپنے وقت اور حالات میں صحیح ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ مختلف ساختیں محض اظہار رائے کا کام دیتی ہیں۔ اور اس طرح سائنس میں ترقی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔

 

4۔ انارکی نظریہ

 

تھامس کوہن کی ساختیت کے نتیجے میں جو رجحان سب سے زیادہ کھل کر سامنے آیا وہ مشہور فلسفی پال فیوربینڈ کا نظریہ نراجیت ہے۔ اس نے 1975ء میں یہ نظریہ اپنی مشہور کتاب “طریقہ کار کی نفی: علم کا نراجی نظریہ” میں پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق سائنس میں کوئی طریقہ کار نہیں ہوتا اور کسی خاص انداز سے ترقی واقع ہوتی ہے۔ بلکہ سائنس میں کسی بھی وقت “کچھ بھی” ہوسکتا ہے۔ سائنس کو کوئی حق نہیں کہ وہ خود کو باقی علوم سے معبتر قرار دے سکے۔ اسی مناسبت سے اسے انارکی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔

 

فیورا بنڈ کے مطابق سائنس کو ایک اعلٰی اور معتبر علم کا درجہ دینا محض خام خیالی اور عقیدہ پرستی ہے۔ اسکے دفاع کےلیئے کوئی ٹھوس دلائل میسر نہیں ہیں۔ وہ خود اپنی کتاب میں گیلیلو کا حوالہ دیتے وقت کہتا ہے کہ گلیلیو نے اپنی بات کسی سائنسی طریقے کی بجائے دھوکہ دہی اور چالبازی سے ثابت کی تھی۔ اس کی بجائے وہ انسانی آزادی کا قائل ہے۔ اس کے مطابق سائنسی طریقہ کار سے آزادی کے بعد ہر فرد خود اپنا معیار آپ ہوگا اور کسی بھی قسم کے علم کو حاصل کر سکے گا۔ سائنس کی حکمرانی ختم ہوگی اور انسان آزاد ہوگا۔ یہ انسان کی مرضی اور اس کی خواہش ہے کہ وہ سائنس پڑھے یا کچھ اور۔ لیکن جو بھی وہ پڑھے گا اسے باقیوں پر ترجیح نہ ہوگی۔ بلکہ تمام علوم برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ جس طرح ہمارے بزرگوں نے ہمیں مذھبی آزادی دلوائی اسی طرح فیورابنڈ ہمیں علمی آزادی دلوانا چاھتا ہے۔ یعنی “کچھ بھی چلے گا”۔

 

بہرحال فیورابنڈ بالکل ویسی ہی باتیں کرتا نظر آتا ہے جسے آج کل کے پس جدیدیت کے ماننے والے کہتے ہیں۔ اور اس سے انسانی آزادی کا حسین خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ لیکن ایسے تو سائنس سمیت ہر علم اپنی اہمیت کھو دے گا اور انسان ایک ویرانے کی سی کیفیت میں مبتلا ہوجائے گا۔ کیوں نہ اس کا کوئی حل نکالا جائے؟ اسکا چالمرز نامی فلسفی نے اپنی کتاب “سائنس اور اس کی ساخت” میں پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ ہم فیورابنڈ کے ایک عالمی سائنسی طریقہ کی حمایت کرتے ہوئے ایک ترقی پذیر سائنسی طریقہ کار کو اختیار کریں۔ اس طرح ہم ہر قسم کے علم کے لئے مختلف طریقہ کار کا انتخاب کریں گے۔ اور ہر طریقہ کار بجائے خود ترقی پذیر اور مخصوص علم میں کارگر ہوگا۔ یہ طریقہ کار جامد اصولوں کی بجائے متحرک مشاہدات پر مشتمل ہوگا۔ تمام مشاہدات، تجربات، حقائق اور نظریات دراصل اپنے اندر کچھ اقدار مشترک لازمی رکھتے ہیں یعنی ان میں ایک قسم کی وحدت مقصود پائی جاتی ہے۔ اور اسی وحدت کے زیر اثر سائنس ترقی کرتی ہے۔ وگرنہ کوہن کے مختلف سانچے آپس میں کچھ بھی مشترک نہیں رکھتے تو پھر سائنسی ترقی کیسے ہو؟ اسی طرح سائنس کے عزائم بھی آزاد نہیں بلکہ سماجی تبدیلیوں کے ساتھ منسلک ہیں۔ سائنسدان کی ذاتی دلچسپی، معاشرے کے رجحانات اور سائنس کی فنڈنگ وغیرہ ملکر ان مقاصد کو جنم دیتے ہیں جن کے حصول کی طرف سائنس پیش قدمی کرتی ہے۔
Categories
نان فکشن

سائنس کیا ہے؟ ۔ پہلا حصہ

اس مضمون کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
آج کی دنیا میں سائنس کو جس قدر فضیلت اور اہمیت کا مقام حاصل ہوا ہے وہ تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتا۔ سائنس کا نام لیتے ہی ذہن میں ایک خاص تصور جنم لیتا ہے جس میں کسی بات کی پائیداری اور حقیقی ہونے کی تسلی پائی جاتی ہے۔ عام انسانوں کی سطح سے لے کر انتہائی پڑھے لکھے طبقات تک سائنس اپنا ایک خاص معتبر مقام رکھتی ہے۔ اب تو دنیا کے اکثر مذاہب بھی اپنے سچ ہونے کی دلیل سائنس کے نتائج پر قائم کرنے لگے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں مختلف موضوعات جیسے “اسلام اور سائنس” اور “تاؤازم اور سائنس” اور اسے طرح “بائبل اور سائنس” کے نام سے بے بہا لٹریچر مل جائے گا۔ اسی طرح وہ تمام علمی میدان جو کل تک بنیادی سائنسزیعنی فزکس، کیمسٹری یا بائیولوجی سے مختلف سمجھے جاتے تھے آج ان کے دعویداروں نے “سوشل سائنس” کی اصطلاح ایجاد کرلی ہے۔ برٹرینڈ رسل نے اپنے فلسفے کا نام ہی ‘سائنسی فلسفہ’ رکھا ہے۔ سائنس کی اس قدر کامیابی کی وجہ کیا ہے؟ اور سائنس کو اس قدر معتبر علم کیوں سمجھا جاتا ہے؟ ان سوالات پر مختصر بحث اس مضمون کا مقصد ہے۔

 

سائنس کی اہمیت بطور علم اس لئے معتبر قرار دی جاتی ہے کیونکہ سائنس کسی بھی علم کے حصول میں ‘حقائق’ کو بنیادی حیثیت دیتی ہے۔ ان حقائق کا حصول سائنسدان اپنے حواس خمسہ سے کرتا ہے۔ اور اس کے بعد ان حقائق کو مرتب کر کے کسی خاص نظریے تک پہنچتا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں تجربیت اور منطقی اثباتیت کی تحریکیں اس انداز فکر کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سائنسی طریقہ کار میں دو بنیادی عوامل کارفرما ہیں جنہیں ہم ‘حقائق’ اور’تشریح’ کا نام دے سکتے ہیں۔ آئیے ان دونوں عوامل کا بغور جائزہ لیتے ہوئے پہلے حقائق کی تعریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

جب بھی کوئی انسان اپنے اردگرد موجود فطرت پردھیان لگاتا ہے تو اسے کچھ حقائق موصول ہوتے ہیں۔ ان حقائق کے موصول ہونے میں اس کے حواس خمسہ اس کی مدد کرتے ہیں۔ آنکھ اس کو کچھ رنگ اور حرکات کا مشاہدہ کرواتی ہے۔ اسی طرح کان، ناک، جلد اور زبان بھی کچھ حقائق مہیا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے بطن میں جب حواس اپنی ارتقائی منازل پوری کر لیتے ہیں تو ان کا کام حقائق کو اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ عام مشاہدہ بھی سامنے آیا ہے کہ مختلف مشاہد ان حقائق کو مختلف طور پر وصول کرتے ہیں۔ اگر دو شخص ایک ہی شے کو ایک ہی وقت میں اور ایک ہی سمت سے مشاہدہ کر رہے ہوں تو لازمی نہیں کہ وہ ہمیشہ ایک جیسے نتائج پر پہنچیں گے۔ اسی طرح اگر سمت، وقت اور جگہ میں سے کسی بھی حالت کو تبدیل کردیا جائے تو دونوں اشخاص ایک ہی شے کو مختلف انداز سے دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر موسم گرما کے دوران عین وقت دوپہر کسی صاف سڑک کو دور سے دیکھیں تو وہ گیلی محسوس ہوگی جبکہ ایک قریبی شخص اس کو خشک محسوس کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حقائق اپنے آپ میں کوئی مطلق حیثیت نہیں رکھتے؟ اور کیا حقائق کا حصول دیکھنے والے کے مشاہدے یا خواہش پر منحصر ہے؟ جیسا کہ بچپن میں ہم بادلوں میں کسی ہاتھی یا اونٹ کی شکل دیکھ لیتے تھے۔ یا یہ کہ ہمارے ذہن سے آزاد کسی دنیا کا وجود ہے بھی کہ نہیں؟ اگر ہے تو وہ دنیا کیسی ہے اور کیا ہم اسے جان سکتے ہیں؟

 

اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان حقائق کو وصول کر لینے کے بعد ہم ان کا اظہار کیسے کریں گے۔ اس کے لئے ہمیں زبان کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب بھی ہم کچھ اشیاء کا مشاہدہ کررہے ہوتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس شے سے متعلق کوئی لفظ یا جملہ ترتیب پانا چاہتا ہے۔ اگر تو دیکھی گئی شے کو ہمارا ذہن پہلے سے پہچانتا ہوا تو ہم فوری طور پر اس شے کے لئے وہی لفظ تیار کریں گے جو ہمیں باہر اپنے ماحول سے ملا ہے لیکن اگر یہ کوئی نئی شے ہوئی تو ہمیں اس کے لئے نیا لفظ ترتیب دینا ہوگا۔ اور پھر مزید یہ کہ دو مختلف اشخاص جو الفاظ ترتیب دیتے ہیں وہ اگر آپس میں مترادف ہوئے تو ان سے ایک مربوط تصور جنم لے گا۔ لیکن اگر دو اشخاص کا مشاہدہ ان کا ذاتی فعل ہے اور اس کا کسی دوسرے شخص کو علم نہیں تو وہ ایک ہی واقعہ کو حقیقت میں مختلف سمجھیں گے اور مختلف الفاظ کا چناؤ کریں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے کہ سائنس محض حقائق کو اکٹھا نہیں کرتی بلکہ وہ الفاظ یا معنی بھی ترتیب دیتی ہے۔ یہی الفاظ سائنس کی بنیاد بنتے ہیں۔ حواس اکیلے کافی نہیں ہیں۔ اسکا واضح مطلب یہ ہوگا کہ ایک مشاہدہ کرنے والا حقائق کا بیان کرتے وقت پہلے سے موجود الفاظ یا پھر بجا طور پر کہنا چاہیئے کہ وہ پہلے سے موجود کسی زبان کا سہارا لے گا۔ یہ وہ زبان ہے جو اس کو بچپن میں اسکے والدین یا معاشرے نے سکھائی ہوگی۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ انسانی شعور میں اس زبان کا وجود کیسے پیدا ہوا؟ اور انسان کے شعور میں ایسی کیا خوبی ہے کہ وہ حقائق کو محض مشاہدہ کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ انکو آپس میں مربوط کر کے نیا علم دریافت کرتا ہے؟ پہلے سوال کے جواب میں اگرچہ مختلف نظریات موجود ہیں جیسے کہ ارتقائی نقطہ نظر کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ماضی میں انسان کے ارتقائی عمل کے دوران حادثاتی طور پر جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے کچھ لوگوں نے زبان ایجاد کی ہوگی مگر انکا یہ ماننا کسی بھی تجربے یا تاریخی شواہد سے خالی ہے۔ اسی طرح دوسرے سوال کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان میں عقلی استدلال کی موجودگی بجائے خود ایک معمہ ہے۔ کچھ فلسفی کہتے ہیں کہ انسان میں عقلی اصول دراصل مادے ہی کی اعلیٰ شکل ہیں جب کہ دوسرے یہ مانتے ہیں کہ انسان میں عقلی اصول اس کی فطرت کا لازمہ اور خاصہ ہیں اور مادے میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ خودبخود عقلی استدلال پیدا کر سکے۔ بہرحال یہاں ہمارا یہ موضوع نہیں اور اس موضوع کو ہم اپنے ایک مضمون “فلسفہ اور سائنس” کے نام سے لکھ چکے ہیں۔

 

گزشتہ بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کی حقیقت کا ادراک ہمارے مشاہدات پر منحصر ہے اور یہ مشاہدات کسی فرد واحد یا کسی بے مثال اور ناقابل دید واقعات پر مشتمل نہیں ہوسکتے۔ مختلف مشاہد مل کر مختلف انداز سے کسی ایک ہی واقعہ پر جو تبصرہ کریں گے وہ سب مل کر ایک خاص اندازفکرکو جنم دے گا اور یہی سائنسی سوچ کا آغاز ہے۔ یعنی سائنسی حقائق مشترکہ انسانی مشاہدات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نیوٹن کا قانون حرکت صرف نیوٹن ہی کا نہیں بلکہ میرا اور آپ کا بھی قانون ہے جبکہ اس کے برعکس امیرخسرو کے بنائے ہوئے سر اور تال صرف امیرخسرو کے ہیں نہ کہ میرے اور آپ کے۔ اسی طرح سائنسی قوانین کسی ایک فرد کی مرضی اور خواہش کے تابع نہیں ہوتے جیسا کہ کوئی شخص اقبال اور شیکسپیئر میں سے کسی کوبھی پسند یا ناپسند کر سکتا ہو بلکہ یہ قوانین حقیقت کے تابع ہوتے ہیں۔ بہرحال اس فکر سے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے سائنس ایک اور قدم اٹھاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ اور نظریے کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھیں۔

 

دنیا میں ہمارے اردگرد بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ہر واقعہ کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک شخص ان تمام وجوہات کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتا۔ اور اگر ہم کسی واقعہ کو مکمل طور پر جانچنا چاہیں تو اس کی تمام وجوہات کو ایک ساتھ رکھ کر جاننا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ مثال کے طور پراگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ بارش کیسے ہوتی ہے؟ تو اس کے پیچھے بہت سے عوامل جیسے سورج کی حرارت سے بخارات بننا، بخارات کا آپس میں اکٹھے ہونا، پانی کے مالیکیولز کا جڑنا اور پھر کسی سرد علاقہ میں پہنچ کر پانی کے قطرے بننا اور قطروں کا ہوا کی مخالف قوت کو عبور کر کے گریوٹی کے زیر اثر نیچے آنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ ہے۔ اس کو مزید مشکل بھی کیا جاسکتا تھا۔ لہٰذا ہمیں مجبور ہو کر کوئی ایسا طریقہ اپنانا پڑتا ہے کہ جس میں ہم کسی ایک واقعہ کے صرف اہم اور لازمی عوامل کی بجائے باقی تمام عوامل کے اثرات رد کردیتے ہیں اور اس سادہ سے نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہی سادہ قسم کے مشاہدات پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو کسی تجربہ میں وہی کچھ دیکھ پائیں گے جس کے لئے وہ تجربہ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ وہ شک ہے جو اکثر میرے طلباء پریکٹیکل امتحان میں مجھ پر کررہے ہوتے ہیں کہ میں ان سے وہی نتیجہ نکالوں گا جو پہلے سے میرے ذہن میں ہے۔ لیکن ایسا ہرگز درست نہیں ہے۔ میرے تجربات میری چاہت کے تابع نہیں ہیں بلکہ قوانین فطرت کے تابع ہیں اور اسی لئے کبھی مجھے اپنے تجربے میں ایسے نتائج بھی مل جاتے ہیں جو میرے ذہن میں نہیں ہوتے۔

 

آئیے اب ہم سائنس کے دوسرے بڑے اہم مسئلے یعنی حقائق کی تشریح کے بارے میں کچھ گذارشات پیش کرتے ہیں۔ اگر منطق کی تعریف کی جائے تو وہ محض ایک قاعدہ ہے جو دئیے گئے بیانات میں ایک ربط پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:

 

الف) تمام انسان ممالیہ ہیں۔
ب) سقراط ایک انسان ہے۔
ج) سقراط بھی ممالیہ ہے۔

 

گزشتہ مثال میں الف اور ب کو مقدمات کہا جاتا ہے جن کا لازمی نتیجہ ج کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں ہمیں منطق کے استعمال سے ایک نئی معلومات ملی ہے یعنی یہ کہ سقراط بھی ممالیہ ہے۔ اب ایک اور مثال لیجئے:

 

الف) تمام انسان جھوٹے ہیں۔
ب) سقراط ایک انسان ہے۔
ج) سقراط جھوٹا ہے۔

 

اب اگر اس دوسری مثال کو دیکھیں تو یہ بھی منطقی طور پر صحیح کام کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن چونکہ اس میں پہلا مقدمہ مبہم اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہے لہٰذا نتیجہ بھی مشکوک اور غلط ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف منطق کافی نہیں ہے۔ مختلف حقائق کا اکٹھ جوڑ کرنے سے اگر کوئی منطقی نتیجہ برامد ہو بھی جائے تو لازمی نہیں کہ وہ درست علم مہیا کرے۔

 

اس حوالے سے جو عام تاثر پایا جاتا ہے وہ یہ کہ سائنس حقائق سے نظریات کو اخذ کرنے میں استقرائی طریقہ کار کا استعمال کرتی ہے۔ اس طریقہ میں کچھ محدود اور مخصوص حقائق کی بنیاد پر ایک ایسا نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے جو عمومی ہوتا ہے اور ان تمام حقائق یا ان جیسے دیگر ناقابل دید واقعات پر یکساں نافذ ہوتا ہے۔ مثلاٌ چند ایٹموں کی جوخاصیت ہمارے تجربے میں سامنے آتی ہے وہ کائنات کے تمام ایٹموں پر لاگو کر دی جاتی ہے۔ استقرائی طریقہ کار کے کچھ مسائل ہیں جنہیں مختلف فلاسفہ جیسے ڈیوڈ ہیوم اور برٹرینڈ رسل وغیرہ نے واضح کیا ہے۔ ان میں بڑے اعتراضات دو ہیں: ایک یہ کہ چند حقائق کیسے ایک عمومی بیان کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ اور پھر یہ کہ ان حقائق کی تعداد کتنی ہو۔ دوسرا مسئلہ یہ کہ استقرائی طریقہ کار کو ثابت کرنے کے لئے استقرائی طریقہ کار ناکافی ہے۔ اسی طرح سائنسی قوانین جو کہ عالمی نوعیت کے بیانات پر مشتمل ہوتے ہیں ان کا انحصار بھی حقائق کی ایک خاص تعداد پرہوتا ہے۔ ان قوانین کو منطقی استدلال سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اپنے مقدمات کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ بھی بنتی ہے کہ ہم کسی ایک قوم یا قبیلے کے چند افراد کے رویے کی بنا پر ساری قوم یا قبیلے کو برا نہیں کہہ سکتے۔ اس مسئلے کا حل یہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ سائنسی طریقہ کار میں تینوں عوامل یعنی حقائق پر مبنی بیانات، استقراء کے ذریعے عمومی قوانین کا اخذ کرنا اور پھر ان عالمی و عمومی قوانین سے منطقی استدلال یا استخراج شامل ہیں۔

 

حقائق سے نظریات کو اخذ کرتے وقت یہ خیال لازمی رکھا جاتا ہے کہ ان حقائق کی تعداد کافی زیادہ ہو اور ان حقائق کو مختلف حالات و واقعات میں دہرایا گیا ہے اور ان سے اخذ کردہ قانون آئندہ بھی کسی مشاہدہ سے تضاد نہ رکھتا ہو۔ جب قوانین قائم ہوجائیں تو ہم منطقی استدلال یعنی استخراجی طریقہ کار استعمال میں لا کر مزید انکشافات کرسکتے ہیں۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

پروفیسر اور سیاستدان

تحریر: نلز باس
مترجم : فصی ملک

 

یونیورسٹی کے قریب ایک خوبصورت فراز پر بیٹھا ایک درمیانی عمر کا شخص ایک چٹانی کھاڑی کے دلکش منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔کپڑوں سے اندازہ لگایا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے نیچے موجود گڑھے سے ایک سنگساز ہے۔لیکن حقیقت میں وہ ایک پروفیسر ہے جو اکثر عمیق اور گنجلک مسائل کے متعلق سوچنے کی خاطر یہاں بیٹھنے آتا ہے۔سالہا سال سے اس جگہ پر بہت سارے اچھے تصورات اس کے دماغ میں آئے ہیں۔

 

سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ایک شخص تیزی سے وہاں سے گزر رہا ہے، اس کی سانس پھولی ہوئی اور گال سرخ ہیں اور وہ چلنے کی وجہ سے کافی تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔وہ ایک سیاستدان ہے۔ سائنس اور تحقیق کی وزارت کا سیکرٹری اور حکومت کی نئی تحقیق اور اثریتی کمیٹی کی مجلس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

 

سیاستدان تیزی سے دیکھتے ہوئے احترام سے پروفیسر کو سلام کرتا ہے اور استفسار کرتا ہے کہ آپ کون ہیں اور دن دیہاڑے یہاں کیا کر رہے ہیں۔

 

پروفیسر جواب دیتا ہے ” میں یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں اور یہاں چیزوں کے بارے میں سوچنے کے لیے بیٹھا ہوں۔ سالہا سال سے یہاں میں نے بہت سارے تصورات کو جنم دیا ہے۔اس وقت میں ایک گنجلک اور عمیق مسئلے پر کام کر رہا ہوں جس کے حل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
سیاستدان یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ ایک پروفیسر دن دیہاڑے بنا کسی ظاہری مقصد کے وقت ضائع کر رہا ہے۔

 

سنیے،سیاستدان کہتا ہے، یہ بہت اچھا ہو گا اگر آپ اپنے دفتر میں بیٹھیں اور کسی ایسے مسئلے پر مضمون لکھیں جو زیادہ مشکل نہیں ہے۔

 

پروفیسر جواب دیتا ہے۔”میرا نہیں خیال ایسا کرنا دلچسپ ہو اور یہ میرے مضمون کی ترقی کے لیے بھی موضوع نہیں ہو گا۔پھر میں ایسا کیوں کروں؟”

 

لیکن یہ بالکل وہی ہے جو ہم اہنی اثریتی کمیٹی میں حاصل کرنا چاہیں گے۔سائنسدانوں کو ایسے مسائل کے متعلق نہیں سوچنا چاہیے جو بہت زیادہ مشکل ہوں بلکہ انہیں ان مسائل پر ارتکاز کرنا چاہیے جس سے ان کی اشاعتوں کی تعداد بڑھ سکے اور پھر ہمارا اعدادی میعارِ اصول آسانی سے آپ کے کام کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔جو فوراً ہی ہمیں آپ کے کام کے میعار کی تصدیق کر دے گا۔

 

“میرا نہیں ماننا کہ ایسا کرنا کارآمد ہو گا، پھر میں ایسا کیوں کروں؟” پروفیسر جواب دیتا ہے۔
سیاستدان جو بحث ختم کرنے والا ہے، پر جاری رہتا ہے۔

 

جب آپ ہمارے اعدادی درجہ بندی کے مطابق ایک اچھی ریٹنگ کی اشاعت کر لیتے ہیں تو تیسرا گروہ، بشمول میرے، آپ کے کام کی زیادہ تعریف کریں گے اور پھر آپ کو بہت سارے تحقیقی وسائل اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگ رکھنے کے بھی زیادہ موقع میسر آئیں گے۔
“لیکن اس سے میرا مسئلہ حل نہیں ہو گا،کیوں کہ تب میں اپنا بہت سارا وقت اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مینیجمنٹ میں لگاؤں گا۔”

 

“اگر آپ آسان مسائل کے متعلق مضامین لکھتے ہیں تو آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں گے کہ آپ اپنے لیے مینیجر رکھ سکیں گے، ہو سکتا ہے آپ کو اپنا شعبہ بھی مل جائے۔

 

پروفیسر کہتا ہے” یہ میرے لیے دلکش نہیں ہے، زیادہ لوگ ہو نے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ بلکہ یہ مجھے اصل نقطے سے ہٹائیں گے”۔

 

سیاستدان کہتا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، ہم جب حجم کو بڑھانے کے لیے رقم دیتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں اس سے کوالٹی میں بھی بہتری آئے گی۔

 

فضول، پروفیسر کہتا ہے۔اس لمحے صورت حال خاصی سرد ہو جاتی ہے مگر سیاستدان جو اس کا عادی ہے جاری رہتا ہے۔

 

کیا یہ زبردست نہیں ہو گا کہ آپ سائنسدانوں کے ایک گروہ کے سربراہ ہوں اور آپ کا اپنا شعبہ ہو اور ہر بندہ آپ کے مسئلے پر کام کرے؟

 

تو پھر میں کیا کروں گا؟ پروفیسر پوچھتا ہے؟
سیاستدان اس جواب سے ششدر رہ جاتا ہے
“آپ کہیں بھی بیٹھ کر اپنے مسئلے پر سوچ سکتے ہیں”
پروفیسر جواب دیتا ہے” بالکل یہی تو میں ابھی کر رہا ہوں”

 

سیاستدان بمشکل ہی جواب کو سنتا ہے اور اثریتی کمیٹی کے اجلاس میں بھاگ جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر نئے خیالات اور تھوڑے سے رشک کے ساتھ۔

 

(میں یہ ترجمہ ڈاکٹر پرویز ہود بھوئے کے نام کرتا ہوں)
Categories
شاعری

بلیک ہول میں گرتا شخص

[blockquote style=”3″]

امانڈا جیفٹر کا یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

تحریر: امانڈا جیفٹر
ترجمہ: فصی ملکspace:

 

یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ خلا میں نسلِ انسانی کے لیے کوئی نیا قابلِ رہائش سیارہ ڈھونڈ رہے ہوں یا پھر ہو سکتا ہے آپ سیر کو نکلیں اور آپ کا پاؤں پھسل جائے۔جو بھی حالات ہوں، کہیں نہ کہیں ہم سب کو صدیوں پرانے اس سوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ” کیا ہو اگر آپ ثقب اسود(Black hole) میں گِر جائیں؟”۔

 

ہو سکتا ہے آپ کچلے جانے یا ٹکروں میں تقسیم ہو جانے کی امید رکھیں ۔ لیکن حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔

 

جس لمحے آپ ثقب اسود میں داخل ہوتے ہیں ،حقیقت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ایک میں آپ فوراً ہی جل کر خاک ہو جائیں گے جب کہ دوسرے میں آپ صحیح سالم ثقب اسود میں داخل ہو جائیں گے۔

 

ثقب اسود ایک ایسی جگہ ہے جہاں طبیعیات کے قوانین، جیسا کہ ہمیں معلوم ہیں، ناکارہ ہو جاتے ہیں۔آئن سٹائن نے ہمیں بتایا ہے کہ انجذاب(gravity) سپیس کو موڑ کر منحنی کر دیتی ہے۔لہذٰا کسی کثیف جسم کی موجودگی میں زمان و مکان اتنے مڑ جاتے ہیں کہ یہ اپنے ہی اوپر حقیقت کی جالی (fabric of reality) میں ایک سوراخ بنا دیاتا ہے۔

 

ایک وزنی ستارہ ،جس کا ایندھن ختم ہو گیا ہو، اس طرح کی انتہائی کثافت پیدا کر سکتا ہے جو اس طرح کی منحنی جگہ پیدا کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔جب یہ اپنے ہی وزن کی تحت خود تصادم کا شکار ہوتا ہے تو زمان و مکان اس کے ساتھ منحنی ہو جاتا ہے۔ تجاذبی میدان اتنا قوّی ہو جاتا ہے کہ روشنی بھی باہر نہیں نکل پاتی۔ جس کی وجہ وہ جگہ جہاں کبھی ستارہ ہوا کرتا تھا مکمل تاریک ہو جاتی ہے، جسے ہم ثقب اسود کا نام دیتے یں۔

 

ثقب اسود کی بیرونی حد اس کا افق وقیعہ(event horizon) کہلاتی ہے۔یہ وہ نقطہ ہے جہاں پر کششِ ثقل روشنی کے فرار کی کوششوں کو صحیح طور پر منسوخ کر دیتی ہے۔اس سے تھوڑا آگے جانے پر واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

 

افق وقیعہ توانائی سے فروزاں ہے۔اس کے کناروں پر دمکتے ذرات کی کرنیں پیدا ہوتی ہیں اور واپس کائنات میں خارج ہو جاتی ہیں۔ یہ ہاکنگ شعاعیں(Hawking radiations) کہلاتی ہیں ۔ یہ نام ان کو ماہر طبیعیات سٹیفن ہاکنگ کی وجہ سے دیا گیا ہے کیوں کہ اس نے ان کی پیشین گوئی کی تھی۔کسی بھی معقول وقت میں ثقب اسود اپنی کمیت کو خارج (radiate)کر کے فنا ہو جائے گا۔

 

جب آپ ثقب اسود کے اندر گہرائی میں جاتے ہیں تو سپیس اور منحنی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ مرکز پر جا کر یہ لامتناہی منحنی ہو جاتی ہے۔ یہ واحدانیت(singularity) ہے۔یہاں پر زمان ومکان بے معنی تصورات بن جاتے ہیں اور قوانینِ طبیعیات کو جس شکل میں ہم دیکھتے ہے اور جن کے لیے زمان و مکان کی ضرورت ہوتی ہے لاگو نہیں ہوتے۔

 

کوئی نہیں جانتا کہ یہاں پر کیا ہوتا ہے۔ ایک اور کائنات؟ گم نامی؟ کتابوں کی الماری کی پشت1؟ یہ ایک پہیلی ہے۔

 

1

لہذٰا کیا ہو اگر آپ حادثاتی طور پر ان کونی کج رویوں(cosmic aberrations) میں سے کسی میں گر جائیں ۔آیئے اس کا آغاز آپ کے مکانی ساتھی سے پوچھ کر کرتے ہیں۔ہم اسے عینی کہہ کر پکاریں گے اور وہ دہشت سے آپ کا ثقب اسود میں گرنے کا منظر دیکھ رہی ہے۔جب کہ وہ خود باہر بحفاظت موجود ہے۔اس جگہ کے تناظر سے جہاں پر وہ معلق ہے، چیزیں بہت پراسرار(weird) ہونے والی ہیں۔

 

جیسے ہی آپ افق وقیعہ کی جانب اسراع پذیر ہوتے ہیں عینی دیکھتی ہے کہ آپ کھینچتے اور مروڑ کھاتے ہیں، بالکل ایسے جیسے وہ آپ کو کسی بہت بڑے تکبیری شیشے سے دیکھ رہی ہو۔مزید یہ کہ جیسے جیسے آپ افق کے قریب ہوتے جاتے ہیں ایسا دکھتا ہے جیسے آ پ کی رفتار آہستہ ہوتی جاتی ہے۔ چونکہ خلا میں ہوا موجود نہیں ہے اس لیے آپ اس کو پکار نہیں سکتے۔لیکن آپ اپنے آئی فون(iphone) کی ٹارچ سے اس کی طرف پیغام بھیج سکتے ہیں۔تاہم آپ کے الفاظ اس کی طرف بہت آہستگی سے پہنچنے لگتے ہیں۔ضیائی موجیں(light waves) کم سے کم سرخ تعدد کی طرف کھنچنے لگتی ہیں۔ سب ٹھیک ہے، سب۔۔ٹھیک۔۔ہے۔۔۔۔۔۔۔سب۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔space:

 

جب آپ افق پر پہنچتے ہیں تو عینی دیکھتی ہے کہ آپ جامد ہو گئے ہیں، جیسے کسی نے جامدی کھٹکے(pause button) کو دبا دیا ہو۔آپ وہاں افق کی سطح پر بے حس و حرکت پھیلے رہتے ہیں جب بڑھتی ہوئی تپش آپ کو اپنی لپیٹ میں آ لیتی ہے۔

 

عینی کے مطابق آپ سپیس کے پھیلاؤ، وقت کے ٹھہراؤ اور ہاکنگ شعاعوں کی وجہ سے مٹ جاتے ہیں۔ثقب اسود کی تاریکی میں داخل ہونے سے پہلے آپ راکھ میں بدل جاتے ہیں۔لیکن آپ کے جنازے کی ترکیب کرنے سے پہلے آیئے ہم عینی کو بھول کر اس حالت کو آپ کے نقطہِ نظر سے دیکھیں۔اب پہلے سے بھی زیادہ عجیب چیز واقع ہوتی ہے۔ آپ کو کچھ بھی نہیں ہوتا۔

 

آپ بنا کسی جھٹکے یا دھکے کیے قدرت کے سب سے مشکل منزل کی جانب چل پڑتے ہیں۔اور یقیناً اس میں نہ آپ کا بدن کھینچتا ہے، نہ آپ کی رفتار کم ہوتی ہے اور نہ ہی شعاعیں آپ کو جلا کر خاک کرتی ہیں۔ایسا اس لیے ہے کیوں کہ آپ آزادانہ گر رہے ہیں اور آپ کوئی تجاذب محسوس نہیں کرتے۔تجاذب وہ شئے ہے جسے آئن سٹائن نے اپنےمسرت ترین خیال کا نام دیا تھا۔

 

جو بھی ہو افق وقیعہ خلا میں تیرتی اینٹوں سے بنی دیوار کے جیسا تو ہے نہیں ۔یہ اپنے اپنے پس منظر کی بات ہے۔ایک مشاہد جو ثقب اسود کے باہر رہتا ہے اس کے اند نہیں دیکھ سکتا۔ مگر یہ آپ کا مسلہ نہیں ہے، جہاں تک آپ کا تعلق ہے تو وہاں کوئی افق (وقیعہ) نہیں ہے۔

 

یقیناً اگر ثقب اسود چھوٹے ہوتے تو آپ کے لیے مسلہ ہوتا۔کششِ ثقل آپ کے سر کی نسبت آپ کے پاؤں پر بہت زیادہ ہوتی اور یہ آپ کو سپاگٹی(spaghetti) کے ٹکرے کی طرح کھینچ کر سیدھا کر دیتی۔لیکن خوش قسمتی سے یہ ایک بڑا ثقب اسود ہے، سورج سے بھی لاکھوں گنا وزنی۔اور اس لیے آپ کو کھینچنے والی قوتیں اتنی نحیف ہیں کہ نظر انداز کی جا سکتی ہیں۔ درحقیقت ایک بڑے ثقب اسود میں آپ واحدانیت پر مرنے سے پہلے اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکتے ہیں۔

 

یہ جان لینے کے بعد کہ آپ ایک شق ہوئے زمان و مکان کے متسلسلہ میں، جس میں آپ اپنی مرضی کے خلاف کھینچے چلے جا رہے ہیں اور واپس بھی نہیں مڑ سکتے، آپ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ یہ زندگی کتنی معمول کے مطابق ہو گی۔

 

لیکن جب ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں زمان نا کہ مکان کے تجربے سے اس کا جواب معلوم ہے۔وقت ہمیشہ آگے کی جانب بڑھتا ہے نا کہ پیچھے کی طرف اور یہ ہمیں ہماری مرضی کے خلاف اپنے ساتھ کھینچ لے جاتا ہے۔او ہمیں واپس مڑنے سے باز رکھتا ہے۔یہ صرف ایک تمثیل(analogy) نہیں ہے بلکہ ثقب اسود زمان و مکان کو اس نہج تک خمیدہ کر دیتے ہیں کہ اس کے اندر زمان و مکان اپنا کردار بدل لیتے ہیں۔ایک طرح سے یہ زمان(وقت) ہی ہے جو آپ کو واحدانیت کی جانب کھینچتا ہے۔آپ واپس مڑ کر ثقب اسود سے نکل نہیں سکتے بالکل ایسے ہی جیسے آپ واپس مڑ کر ماضی میں سفر نہیں کر سکتے۔

 

آپ یہاں پر خود سے ایک سوال کرنا چاہیں گے کہ آخر عینی کئ ساتھ کیا مسلہ ہے۔ اگر آپ ثقب اسود کے اندر لطف انداز ہو رہے ہیں اور آُ کے اردگرد خالی فضا کے علاوہ کچھ بھی عجیب نہیں ہے تو وہ کیوں اس بات پر بضد ہے کہ آپ افقِ وقیعہ کے باہر شعاعوں کی وجہ سے جل کر بھسم ہو چکے ہیں۔کیا وہ فریبِ نظر میں ہے؟space:

 

فی الواقع عینی بالکل معقول بات کر رہی ہے۔ اس کے نقطہِ نظر سے آ پ واقعی افق وقیعہ پر جل کر خاک ہو چکے ہیں۔یہ کوئی فریبِ نظر نہیں ہے۔ حتٰی کہ وہ آپ کی راکھ اٹھا کر واپس آپ کے پیاروں کو بھی بھیج سکتی ہے۔

 

درحقیقت قوانینِ قدرت یہ تقاضا کرتے ہیں کہ عینی کے پس منظر سے آ پ ثقب اسود کے باہر ہی رہیں گے۔ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ کوانٹم میکانیات یہ تقاضا کرتی ہے کہ معلومات(information) کھو یا گم نہیں ہو سکتی۔معلومات کا ہر وہ ذرہ جو آپ کے وجود کا اظہار کرتا ہے اس کو افق وقیعہ کے باہر رہنا ہو گا۔سوائے اس کے کہ عینی کے قوانینِ طبیعیات ٹوٹ جائیں اور لاگو نہ ہوں۔

 

دوسری جانب قوانیںِ طبیعیات اس بات کے بھی متقاضی ہیں کہ آپ گرم ذرات یا کسی بھی خلافِ معمول شئے کا سامنا کیے بنا افق وقیعہ سے گزر جائیں۔نہیں تو آپ آئن سٹائن کے مسرت آمیز خیال اور اس کے عمومی نظریہ اضافیت کی خلاف ورزی کر دیں گے۔لہٰذا طبیعیات کے قوانین اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ آپ دونوں جگہوں یعنی ثقب اسود کے باہر راکھ کے ڈھیر میں اور اس کے اند زندہ سلامت موجود ہوں۔

 

فزکس کا ایک تیسرا قانون بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ معلومات کو نقل نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کو دونوں جگہوں پر موجود ہونا ہو گا۔ لیکن آپ کی صرف ایک کاپی(copy) موجود ہے۔

 

ہو نہو طبیعیات کے قوانین ایک ایسے نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بے معنی ہے۔سائنس دان اس اشتعال آمیز معمہ کو ثقب اسود معلوماتی تناقضہ(black hole information paradox) کا نام دیتے ہیں۔

 

لیونارڈ سسکنڈ(Loenard Susskind) نے محسوس کیا کہ یہاں کوئی تناقضہ نہیں ہے۔ کیوں کہ کوئی ایک آدمی بھی آپ کی نقل(clone) نہیں دیکھ سکتا۔عینی آپ کی صرف ایک کاپی دیکھتی ہے۔آپ بھی اپنی ایک ہی کاپی دیکھتے ہیں۔ عینی اور آپ کبھی اپنے نوٹس (notes) نہیں بانٹتے اور یہاں کوئی تیسرہ مشاہد بھی نہیں ہے جو بیک وقت ثقب اسود کے اندر اور باہر دیکھ سکے۔لہٰذا طبیعیات کا کوئی قانون نہیں ٹوٹتا۔

 

جب تک آپ اس بات کی خواہش نہ کریں کہ کون سی کہانی سچی ہے، کیا آپ حقیقت میں مر گئے ہیں یا پھر زندہ ہیں؟ ایک اہم راز جو ثقب اسود نے ہم پر آشکا رکیا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت اس پر منحصر ہے کہ آپ کس سے پوچھتے ہیں۔یہاں ایک عینی کی حقیقت ہے اور یہاں ایک آپ کی حقیقت ہے۔ اختتامِ کہانی۔

 

خیر، 2012 کی گرمیوں میں طبیعیات دانوں احمد المحیری، ڈونلڈ مارولف، جو پولچنسکی،اور جیمز سُلی ، جو کہ AMPS کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے ایک تخیلاتی تجربہ پیش کیا جو ثقب اسودوں کے بارے میں ہر اس چیز کے اختتام کا پیش خیمہ تھا جو ہم سمجھتے تھے کہ ہم جانتے ہیں۔

 

انہوں نے محسوس کیا کہ سسکنڈ کا حل اس صورت میں امر پر مبنی تھا کہ عینی اور آپ کے درمیان عدم اتفاق افق وقیعہ کے سبب ہے۔اس سے کوئی مسلہ اس لیے پیدا نہیں ہوا کیوں کہ عینی نے صرف ہاکنگ شعاعوں کے درمیان بکھرا ہو بدقسمت ورژن(version) دیکھا کیوں کہ افق وقیعہ نے اس کو آپ کا دوسرا وورژن، جو ثقب اسود کے اندر تیر رہا تھا، دیکھنے سے باز رکھا۔ لیکن کیا ہو اگر عینی کے پاس افق وقیعہ کو پار کیے بنا اس کے اندر جھانکنے کا کوئی ذریعہ موجود ہو؟

 

عام طور پر اضافیت اس کا جواب ‘نہیں’ میں دے گی۔لیکن کوانٹم میکانیات اصولوں کو تھوڑا مبہم بنا دیتی ہے۔یہ ممکن ہے کہ عینی ایک چال، جس کو آئن سٹائن نے” جادوئی فوری اثر(ghostly action at a distance)” کا نام دیا،کا استعمال کرتے ہوئے افق وقیعہ کے پار کی ایک جھلک دیکھ سکے؟
ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دو ذرات مکان(space) میں ایک دوسرے سے دور مگر الجھاؤ(entanglement) کی حالت میں ہوتے ہیں۔وہ ایک ناقابلِ تقسیم کُل کا حصہ ہوتے ہیں، لہٰذا وہ معلومات جس کی ان کے اظہار کے لیے ضرورت ہوتی ہے دونوں کے مابین جادوئی تعلق میں پائی جاتی ہے نا کہ کسی ایک میں۔
AMPS تصور کچھ اس طرح سے ہے۔ فرض کریں کہ افق وقیعہ کے پاس عینی معلومات کا کچھ حصہ حاصل کر لیتی ہے، ہم اس کو A کا نام دیتے ہیں۔اگر اس کی بات صحیح ہے اور آپ مر کر ہاکنگ شعاعوں میں بکھر چکے ہیں تو A معلومات کے کچھ اور حصے ‘B’ کے ساتھ الجھا ہو گا جو خود بھی شعاعوں کی گرم کرنوں کا حصہ ہے۔

 

اس کے برعکس اگر آپ کی بات صحیح ہے جس میں آپ افق وقیعہ کے پار صحیح سلامت موجود ہیں تو پھر A لازمی طور پر معلومات کے ایک اور حصے C کے ساتھ الجھا ہو گا جو ثقب اسود کے اندر کہیں موجود ہے۔

 

یہ رہا سب سے اہم نقطہ: معلومات کا ہر حصہ صرف ایک(ایک وقت میں) بار الجھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ A صرف B کے ساتھ الجھ سکتا ہے یا پھر C کے ساتھ، نا کہ دونوں کے ساتھ۔

 

لہٰذا عینی حصہ A ؒیتی ہے اور اپنی گھماؤ ڈیکوڈنگ مشین(entanglement decoding machine) میں ڈال دیتی ہے، جو اس کا جواب فراہم کرتی ہے۔جو یا تو B ہو سکتا ہے یا پھر C۔اگر جواب C آتا ہے تو آپ کی کہانی جیت جاتی ہے مگر قوانینِ طبیعیات ہار جاتے ہیں۔اگر A ،C کے ساتھ الجھا ہوا ہے جو کہ ثقب اسود کے اندر کہیں موجود ہےتو معلومات کا کچھ حصہ عینی سے ہمیشہ کے لیے کھو جاتا ہے اور یہ کوانٹم کے قانون کو توڑ دیتا ہے کہ معلومات کھو نہیں سکتی۔
باقی B بچتا ہے۔ اگر عینی کی ڈیکوڈنگ مشین یہ بتاتی ہے کہ A ،B کے ساتھ الجھا ہوا ہے تو وہ جیت جاتی ہے اور عمومی اضافیت ہار جاتی ہے۔اگر A ، B کے ساتھ الجھا ہوا ہے تو عینی کی داستان صحیح ہےجس کا مطلب یہ ہوا کہآپ حقیقت میں جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ افق وقیعہ سے صحیح سلامت گزر جانے کی بجائے، جیسا کہ اضافیت کہتی ہے،آپ ایک بھڑکتی آتشیں دیوار سے ٹکرا جاتے ہیں۔

 

تو اب ہم پھر وہیں پہنچ گئے ہیں جہاں سے ہم نے شروع کیا تھا۔ کہ کیا ہوتا ہے جب آپ ثقب اسود میں گرتے ہیں؟ کیا آپ اس سے صحیح سلامت گزر کر معمول کی زندگی گزارتے ہیں؟(حقیقت کا شکریہ جو حیران کن حد تک مشاہد پر منحصر ہے) یا پھر آپ ثقب اسود کے افق وقیعہ تک ایک آتشیں دیوار سے ٹکرانے جاتے ہیں؟
کوئی اس کا جواب نہیں جانتا اور یہ بنیادی طبیعیات کے متنازع سوالوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

 

طبیعیات دانوں نے ایک صدی سے زیادہ عرصہ عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو باہم ہم آہنگ کرنے پر صرف کیا ہے، یہ مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ بالآخر کسی ایک کو ہار ماننا ہو گی اور آتشیں تناقضے کا حل ہمیں بتائے گا کہ کس کو۔اور کائنات کے ایک مزید دقیق نظریے کی طرف ہمیں راستہ دکھائے گا۔

 

ایک سراغ ہمیں عینی کی ڈیکوڈنگ مشین سے مل سکتا ہے۔ یہ پتا لگانا کہ معلومات A کا دوسرا حصہ کس کے ساتھ الجھا ہے ایک غیر معمولی پیچیدہ مشکلہ ہے۔پرنسٹن یونیورسٹی کے ڈینیل ہارلو اور سٹانفرڈ یونیورسٹی کے پیٹرک ہیڈن نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ یہ کتنا عرصہ لے گا۔

 

2013 میں انہوں نے اس کا حساب اس بنیاد پر لگایا کہ فرض کریں ہمارے پاس وہ تیز ترین کمپیوٹر موجود ہے جس کی اجازت طبیعیات کے قوانین دیتے ہیں۔عینی کو گھماؤ کو ڈیکوڈ (decode) کرنے کے لیے ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔جب اس کے پاس اس کا جواب آئے گا تب تک آتشیں دیوار کو اپنے ساتھ لیے ثقب اسود بخارات بن کر کائنات سے غائب ہو چکا ہو گا1۔

 

اگر یہ بات ہے تو مشکلے کی پیچیدگی عینی کو یہ پتا لگانے سے کہ کون سی داستان صحیح ہے، ہمیشہ باز رکھے گی۔اس سے دونوں کہانیاں بیک وقت سچ ہو جاتی ہیں۔حقیقت حدِ تجسس تک مشاہد پر منحصر ہے۔ قوانینِ طبیعیات بالکل صحیح ہیں اور کس کو بھی ناقابلِ وضاحت آتشیں دیوار کےسامنے کا خطرہ نہیں ہے۔
یہ سوچنے کے لیے طبیعیات دانوں کو ایک نیا نقطہ بھی دیتا ہے۔ ” گنجلک حسابات اور زمان و مکان کے درمیان حیران کن تعلقات”، جیا کہ وہ حساب جوعینی نہیں کر سکتی۔ یہ کسی دقیق راز کی جانب راستہ بھی کھول سکتا ہے۔

 

ثقب اسودوں کی یہ بات تو ہے۔ وہ خلانوردوں کے لیے پریشان کن رکاوٹیں ہی نہیں بلکہ نظری تجربہ گاہیں بھی ہیں۔جو قوانینِ طبیعیات میں ہلکے بگاڑ کو لیتی ہیں اور پھر انہیں اس تناسب سے افزوں(amplify) کرتی ہیں کہ انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

اگر حقیقت کی ماہیت کہیں پوشیدہ ہے تو ڈھونڈنے کے لیے بہترین جگہ ثقب اسود ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ باہر سے ہی دیکھیں۔ کم از کم اس وقت تک جب تک وہ یہ پتا نہ لگا لیں کہ یہ آتشیں دیوار کیا چیز ہے۔یا پھر اب عینی کو اندر بھیجیں، ویسے بھی اب اس کی باری ہے!!!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔ یہاں پر کتابوں کی الماری کا حوالا انگریزی فلم بین النجوم(Interstellar) سے منسوب ہے۔ جہاں پر ہیرو ثقب اسود میں گرنے کے بعد پانچ جہتی سپیس میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں پر کتابوں کی الماریوں کی پشت سے وہ اپنے گھرکا منظر دیکھتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

Dear Saudi Arabia, What the Hell!

youth-yell-featured

What is with your insecurity? Science makes you tremble with fear. I fail to see why. Your cleric has an urge to prove that the earth is stationary and the sun moves around the earth. It is 2015! Are you kidding us, seriously? It is like those philosophers and all those scientists died in vain. You are still stuck at the geocentric model of the universe! You are scared of science because it says you are nothing, you are just a random piece of land in the vast universe that has billions of galaxies, billions of planets and billions of pieces of land like yours.

The foundation of your social values is injustice and inequality even though you call yourself the preacher of Islam, the one you call the religion of peace. How is it that your sons are flogged for speaking their minds and your daughters cannot be seen breathing fresh air without a male accomplice? Why is it that the world bleeds tears for Raif and you flog him cold heartedly and even may kill him now, only for voicing his opinion?

Rape victims in your country are frequently sentenced 200 lashes, sometimes merely for being outside without a male relative. The way you see it, rape will always be woman’s fault somehow. Woman brings it upon herself even if she is covered head to toe and even if she is in skin tight jeans.

It sounds preposterous to even a Pakistani! What century do you live in? I have a few more questions:

Why are the women of your country not allowed to drive in 2015?

There is nothing worthwhile about virtue that comes from the fear of punishment. It is no virtue at all.

Why are your women locked in walls and burkaz? And your men free to rape?

Why are rape victims of your land castigated, lashed and berated on the roads?

Why is your system of justice stuck in the primitive times?

You have scared your own people with public punishments, threats and scourge. Know this! There is nothing worthwhile about virtue that comes from the fear of punishment. It is no virtue at all.

The world laughs at you. People of other religions and the non-believers ridicule your practices and deride your beliefs. You are a farce; you are a joke to them all. Your actions let them make fun of your religion. You let them laugh.

You breed extremists who kill innocent children, people and scholars. The way you interpret your religion is the primary tool in the hands of these extremists.

You, the torch-bearers of Islam, the guardians of His holy house, the conservator of His holy book and the beloved of His Holy Prophet, have failed Him. You have failed Him!