Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں – مدیر کے نام خط

اکیس سالہ نوجوان محفوظ خان کا تعلق پونیال کے خوبصورت وادی گیچ سے تھا۔ وہ کراچی کے ایک کالج میں بارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ ایک مہینے قبل گلگت آیا تھا۔ محفوظ خان کو قریبی گاؤں گوہرآباد میں پیچھے سے آنے والی تیز رفتار کار نے اُس وقت ٹکر ماری جب وہ موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

 

ٹریفک حادثے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس میں کسی نوجوان کو جان سےہاتھ دھونا پڑا۔ آج کل گلگت بلتستان میں مشکل سے ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہے جب کوئی خوفناک ٹریفک حادثہ رونما نہ ہوتا ہو۔

 

ٹریفک حادثات کی ایک اہم وجہ غیر تجربہ کار اور ڈرائیونگ کے اصولوں سے نابلد ڈرائیور حضرات ہیں۔ صرف گاڑی کا سٹیرنگ ہاتھ میں لے کر لائن سیدھی کرنے سے کوئی ڈرائیور نہیں بن جاتا۔ ہمارے معاشرے میں یہ چلن عام ہے کہ آج جس نے گاڑی یا بائیک خرید لی، وہ اگلےدن اسے لے کر روڈ پرنکل آتا ہے۔

 

جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
گاڑی کی سیٹ پر براجمان بیشتر حضرات کو یہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ کب انڈیکیٹرز کا استعمال کیا جائے اورکب لائٹ ڈم کی جائے، اہم موڑوں اور آبادی والی جگہوں پر کیوں کر گاڑی کی رفتار کم کی جائے۔ کیسے اور کس وقت اگلی گاڑی کو اوور ٹیک کیا جائے۔

 

اسی طرح کئی حضرات گاڑی چلاتے ہوئے سگریٹ نوشی اور موبائل پر باتیں کرتے ہیں جبکہ لمبے سفر پر چلنے والی گاڑیوں اور بسوں کے ڈرائیور حضرات ضروری آرام اور نیند پوری کئے بغیر ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ بہت سے تو نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہیں اور کچھ خود کو جہاز کا پائلٹ سمجھ کرخوفناک حد تک تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

 

ان جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

 

یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لئے محفوظ اور موثر ذرائع آمدورفت کی فراہمی یقینی بنائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کا رویہ اس حوالے سے قابل مذمت اور شرمناک ہے۔

 

گلگت بلتستان میں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ، سیلاب، بارشوں اور دریائی کٹاؤ کی شکار سڑکوں کی سالوں مرمت نہیں کی جاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ سڑکوں پر پڑے ملبے کی صفائی اور ان کی مرمت اُس وقت ضرور کی جاتی ہے جب کسی اہم حکومتی شخصیت کا یہاں سے گزرنا ہوتا ہے۔

 

گلگت بلتستان میں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ، سیلاب، بارشوں اور دریائی کٹاؤ کی شکار سڑکوں کی سالوں مرمت نہیں کی جاتی۔
ٹریفک کی محفوظ روانی کو یقینی بنانے میں ٹریفک پولیس کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے تاہم گلگت بلتستان میں ٹریفک پولیس کا کردار علامتی ہے۔ ٹریفک وارڈن انہی سڑکوں اور مقامات پر فعال نظر آتے ہیں جہاں فوجی، بیوروکریٹ اور اہم حکومتی شخصیات کا آنا جانا ہوتا ہے۔ عوامی گزرگاہوں پر ٹریفک پولیس اہلکار جھُرمٹ کی شکل میں شہروں میں کہیں کہیں بغیر ہیلمٹ پہنے موٹرسائیکل سواروں کو جرمانے کرتے نظر آئیں گے۔ وہ شاذ و نادر ہی ڈرائیور حضرات اور موٹرسائیکل سواروں کا لائسنس چیک کرتے ہیں۔ ان موٹر سائیکل سواروں میں سے بہت سے کم عمر لڑکے ہوتے ہیں جو قانوناً گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کے اہل نہیں ہوتے لیکن ٹریفک وارڈنز کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب نہیں۔

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قاتل سڑکوں کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔ ایسے کیا اقدامات اُٹھائے جاسکتے ہیں جن سے ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکے۔

 

راقم کی نظر میں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ کے تربیتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان مراکز میں ڈرائیونگ سیکھنے والے خواتین و حضرات کو گاڑی چلانے کے ساتھ ٹریفک کے اصول و قواعد کے حوالے سے بھی تربیت دی جائے اور صرف اُن خواتین و حضرات کو لائسنس جاری کیے جائیں جو رجسٹرڈ تربیتی مراکز سے تربیت یافتہ ہوں۔

 

ٹریفک حادثات میں اُس وقت تک کمی نہیں لائی جاسکتی جب تک سڑکوں کو محفوظ نہیں بنایا جاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ سیلاب، زلزلے اور بارشوں سے متاثرہ سڑکوں کی بروقت مرمت کی جائے جبکہ تنگ سڑکوں کو کھلا کیا جائے تاکہ وہ ٹرانسپورٹ کے لئے محفوظ اور موثر بنائی جا سکیں۔

 

ٹریفک پولیس کا کردار موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں صرف وی آئی پی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ایسے تمام مقامات پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاں ٹریفک کا دباو زیادہ ہوتا ہے اور جہاں ٹریفک حادثات روز کا معمول ہیں۔ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح اسکولوں، مساجد اور ہسپتالوں سمیت آبادی والی جگہوں پر محفوظ سپیڈ بریکرز بنائے جائیں۔

 

ٹریفک پولیس کا کردار موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں صرف وی آئی پی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ایسے تمام مقامات پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاں ٹریفک کا دباو زیادہ ہوتا ہے اور جہاں ٹریفک حادثات روز کا معمول ہیں۔
وہ گاڑیاں جو صحیح حالت میں نہیں ہیں ان کے چالان کیے جائیں۔ صرف ایسی گاڑیوں کو روڈ پرمٹ دیا جائے جو صحیح حالت میں ہیں اورسفر کے لئے محفوظ ہوں۔ اس حوالے سے ملک کے باقی علاقوں میں کلئیرینس سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں اس نطام کی عدم موجودگی کی وجہ سے عوام گئی گزری پبلک اور پرائیویٹ گاڑیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

 

یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ مسافر گاڑیوں پر گنجائش سے زیادہ سواریاں اور وزن رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی حادثہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسافر اور مال بردار گاڑیوں پر گنجائش سے زیادہ وزن نہ ڈالا جائے جبکہ اس حوالے سے غفلت برتنے والے ڈرائیور حضرات کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔

 

اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے، کیا حکومت، متعلقہ ادارے اور معاشرہ بحیثیت مجموعی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تیار ہیں؟ یا ہمیں مزید نوجوانوں کے اپنی جان سے جانے، خواتین کے بیوہ ہونے، بچوں کے یتیم ہونے اور غریب والدین کے اپنے سہاروں سے محروم ہونے کا انتظار ہے؟
Categories
عکس و صدا

جامعہ کراچی میں پہلا ‘غیر سیاسی’ یوم ثقافت گلگت بلتستان

29 ستمبر 2016 کو جامعہ کراچی میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کی ثقافت کا دن منایا گیا۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم آفاق بلاو کا کہنا تھا کہ اس دن کے سلسلے میں منائی گئی تقریبات کی خاص بات ان کا ‘غیر سیاسی ہونا تھا، ان کے مطابق ان تقریبات کا کسی بھی طلبہ تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔’ آفاق بلاور کے مطابق اس سے قبل یہ دن مختلف طلبہ تنظیمیں اپنے طور پر مناتی تھیں۔ گلگت بلتستان کی ثقافت سے طلبہ کو متعارف کرانے کے لیے گلگت بلتستان کی موسیقی، رقص اور پکوان تقریبات کا حصہ تھے۔ اس موقع پر گلگلت بلتستان کے سیاسی حالات کی جھلک بھی دکھائی دی۔

 

تصاویر اور رپورٹ: آفاق بلاور

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

Categories
نقطۂ نظر

گلگلت بلتستان کی ترجمانی؛ رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر لیے گئے۔ مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

محترم مدیر!

 

رپورٹر ٹائمز گلگت بلتستان کی خبریں عوام الناس تک پہنچانے کا ایک آن لائن ذریعہ ہے۔ یہ بلاگ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ابلاغ عامہ اور صحافت کے طالب علموں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔ ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ ہم گلگت بلتستان کی حقیقی صورت حال عام پاکستانیوں تک پہنچائیں جن تک محض ریاستی پروپیگنڈا پہنچ پاتا ہے۔ یہ بلاگ اور اس سے منسلک فیس بک صفحات گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل سامنے لانے کے لیے وقف رہے ہیں اور ہم نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔ گلگت بلتستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز ہے اور اقتصادی راہداری کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں ریاست کی جانب سے شہری آزادیوں اور سیاسی جدوجہد پر غیراعلانیہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال میں مقامی آبادی کے مطالبات، مسائل اور شکایات باقی پاکستان تک پہنچانے کا عمل متاثر ہوا ہے۔

 

ایک جانب ذرائع ابلاغ عامہ پر ریاستی پروپیگنڈا جاری ہے اور دوسری جانب رپورٹر ٹائمز جیسے معمولی آن لائن پلیٹ فارم نوجوانوں اور مقامی کارکنوں کو اپنی آواز اٹھانے اور حقائق سامنے لانے کا موقع فراہم کر رہے تھے۔ کیوں کہ ہمارا نصب العین ہی یہ ہے “Media can’t be free, but Journalist can” اور اسی نصب العین کے تحت ہم نے اقتصادی راہداری، عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کی گرفتاریاں اور دیگر موضوعات پر خبریں اور تجزیے شائع کرنا شروع کیے۔ ہماری یہ جرات اظہار بعض حلقوں کو پسند نہیں آئی۔

 

رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر کے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں
رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر کے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں
حال ہی میں ہمارے بلاگ سے منسلک دو فیس بک صفحات “ساڈا اپنا بہاولپور” نامی کسی ہیکر کی جانب سے ہیک کر لیے گئے ہیں اور ان کی جانب سے ہمیں دھمکی آمیز پیغامات بھی وصول ہو رہے ہیں۔ ہیکرز کی شناخت اور مقاصد واضح نہیں تاہم ان کے انداز اور دھمکیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہماری شائع کردہ خبروں سے ناخوش ہیں اور ہماری آواز دبانا چاہتے ہیں۔ ہمارے فیس بک کے پیجز کے نام بھی بدل دئیے گئے ہیں تاہم پیجز پر موجود رپورٹر ٹائمز کا مواد اب بھی موجود ہے۔ ہمارے اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ یہ صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات سامنے لانے والوں کے لیے ایک طرح کی دھمکی بھی ہے۔

 

آپ کے جریدے کی توسط سے ہم اپنے قارئین اور تمام پاکستانیوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ہمارے قارئین ہماری خبروں اور دیگر مواد تک ہمارے نئے فیس بکصفحے کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ امید ہے سچ اور جرات اظہار کا یہ سفر جاری رہے گا۔

 

فقط
علی احمد جان
مدیر رپورٹر ٹائمز
Categories
نقطۂ نظر

خالصہ سرکار؛ تاریخی حقائق اور حکومتی تعبیر-مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

خالصہ سرکار کی تشریح ہمارے خطے میں ایک قومی مسئلہ ہے لیکن اس اہم مسئلے کی طرف آج تک کسی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیم نے توجہ نہیں دی۔ ہمارے ہاں خالصہ سرکار سے مراد وہ اراضی ہے جو بنجر ہے یا قابل کاشت، کسی کے زیر استعمال ہے یا خالی پڑی ہے لیکن کسی فرد واحدکی ملکیت میں نہیں بلکہ خالصہ سرکار کے نام سے قدیم بندوبستی کاغذات میں رجسٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ہمارے خطے میں ایسی زمین کو سرکاری ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ہمارے عوام کے ذہنوں میں شروع دن سے ایک ہی بات ڈالی گئی ہے کہ خالصہ سرکار سے مراد سرکاری زمین ہے جس پر صرف سرکار کو حق ملکیت حاصل ہے یوں اس جھوٹی اور من گھڑت تعریف اور تشریح کی وجہ سے ہمارے عوام کو اکثر اوقات اپنے زیر استعمال زمینوں سے بغیر کسی معاوضے کے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ عوام نے کچھ نہ بولنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اس وجہ سے ہم آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔

 

ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لئے استعمال کرتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ تقسیم ہند کے وقت گلگت بلتستان سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور تقسیم برصغیر کے وقت ہم مہاراجہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھے۔ اس حوالے سے مزید بحث کرنے سے پہلے یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ڈوگروں سے پہلے سکھ سلطنت برصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں ابھری۔ سکھوں نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گرد کے علاقوں پر سلطنت قائم کی اور یہ سلطنت 1799ء سے 1849ء تک قائم رہی۔ اس وقت ہندوستان میں کئی سکھ سیاسی تنظیمیں خالصہ ریاست کی بحالی کے لئے باقاعدہ سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس ریاست کا نام خالصہ سرکاریا سکھ پنجابی بادشاہت تھا جو امرتسر اور لاہور سے ابھر کر پنجاب و گرد و نواح پر قابض ہوئی۔ یہ ریاست ایک وقت میں برصغیر ہند وپاک کی ایک اہم طاقت تھی، جس کے اثرات اس وقت گلگت بلتستان اور گردو نواح تک بھی پہنچے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خالصہ سرکار حکومت 1799 سے 1849 تک رہی اور اس کے بعد پنجاب میں لڑی جانے والی انگریز سکھ جنگوں میں یہ سلطنت تباہ و برباد ہو گئی۔

 

رنجیت سنگھ نے پنجاب میں پھیلی نیم خود مختار سکھ مسلوں یا راجدھانیوں کو منظم کر کے خالصہ سرکار یا سکھا شاہی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ اپنے عروج پر یہ سلطنت خیبر پاس سے لے کر تبت کے وسط تک اور مٹھی کوٹ کشمیر تک پھیل چکی تھی۔ زور آور سنگھ کشمیر میں سکھوں کے گورنر جموں، گلاب سنگھ کا وزیر تھا جو وہاں سے آگے سکھا شاہی کے قیام کے لئے بڑھا۔ اس نے لداخ کو 1840 میں فتح کیا۔ وزیر سنگھ نے اسی سال سکردو کو بھی فتح کیا۔ فتح کے بعد اس نے بلتی سپاہ کو اپنی فوج میں شامل کیا اور پھر تبت پر بھی حملہ آور ہوا۔ دوسری طرف سکھ فوج کا ہی کرنل نتھو شاہ، گلگت پر حملہ آور ہوا اور پہلی مرتبہ راجہ گوہر امان کو شکست دے کر اس نے گلگت میں قدم جما لئے۔ وہ 1848 میں، نو مل کے قریب جنگ میں ہلاک ہوا۔

 

تمام تر تاریخی تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہاں کے باشندے آئینی اور قانونی طور پر مملکت پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے جا سکے
خالصہ سرکار کے وقت میں ان کے چار صوبے تھے۔ لاہور، ملتان، پشاور اور کشمیر۔ کرنل زور آور سنگھ گلگلت پر سرینگر کی جانب سے حملہ آور ہوا تھا اور سرینگر کے حکمران کو ہی جواب دہ تھا۔ 16 مارچ 1840 کو معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے گلگت اور لداخ بشمول بلتستان کی وزارتیں، جموں کے ڈوگرہ راجے کے حوالے کیں۔ کرنل نتھو شاہ، حکمران تبدیل ہونے پر پریشان ہو کر سرینگر گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسے اب تنخواہ اور مراعات کون دے گا۔ ڈوگرہ نے اسے اپنی گلگت عملداری جاری رکھنے کو کہا۔ بالآخر 1860 میں کرنل نرائن سنگھ گلگت پر پوری طرح سے قابض ہو گیا۔

 

سیاسی حوالے سے بھی یہ تاریخ اہم ہے۔ سکھ دور سے لے کر ڈوگرہ دور تک کا موازنہ سامنے رکھتے ہوئے اگر چھبیس اکتوبر1947 کو مہاراجہ کی طرف سے ہندوستان سے الحاق کی داستان دیکھی جائے تو مقامی لوگوں کے حقوق غصب کیے جانے کا ایک نیا دور شروع ہوتا نظر آتا ہے۔ ڈوگرہ دور سے نکل کر ہندوستان کا حصہ بننے اور یکم نومبر کو مقامی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان سے آزادی کے بعد جس طرح سے مقامی آبادی کو پاکستان میں شامل کیا گیا اس کا جائزہ بھی اہم ہے۔ اس تمام تر تاریخی تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہاں کے باشندے آئینی اور قانونی طور پر مملکت پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے جا سکے لیکن جب ہمارے وسائل کی بات آتی ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ پاکستان کا اثاثہ اور پہچان ہیں۔ عوامی حقوق کے لئے جب کبھی گلگت بلتستان کے عوام نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو اس خطے میں مذہبی منافرت کو ہوا دی گئی یوں لوگ اصل مسائل سے ہٹ کر آپس میں الجھتے رہے۔ لہٰذا ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ انقلاب گلگت کی ناکامی کے بعد جب پاکستان اور آزاد کشمیر کے رہنماوں نے مل کر اس خطے کو دوبارہ کشمیر کی رسی سے باندھ لیا ہے تو جو حقوق سابق ریاست کے باقی خطوں کو حاصل ہیں وہی حقوق گلگت بلتستان کو بھی ملنے چاہیئں لیکن ہمارے مقامی سیاست دانوں کی مجبوری یہ رہی کہ وہ پاکستان سے ایسا کچھ بھی منوانے میں ناکام رہے۔

 

ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔
ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔ یہاں تب بھی احتجاج نہیں ہوا جب 1927 کا سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کیا گیا۔ آج کشمیرکے رہنما کس منہ سے ہماری دھرتی کے دعوے دار ہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔ موجودہ حالات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خلاف ورزیوں کو روکنا یہاں کے بیس لاکھ عوام کا قانونی حق ہے۔ تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھیں تو اس وقت گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے حوالے سے جو حکومتی اصطلاحی تعریف ہے وہ پانچویں صوبے کے نعرے سے مماثل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ الحاق بھارت سے بغاوت کرکے ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے لے کر اب تک یہ خطہ آئینی اور قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں لہٰذا جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی یہاں کی تمام زمینیں قانونی طور پر عوامی ملیکت ہیں اور غیر ریاستی عناصر یا اداروں کو اس خطے کی زمینوں کو الاٹ کرنے کا مقامی حکومت کو کوئی اختیار نہیں۔ اس حوالے کچھ مہینے پہلے قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف نے ایک بل بھی جمع کرایا تھا لیکن تادم تحریر اس حوالے سے بحث کی کوئی اطلاع نہیں۔

 

وفاق پاکستان کو چاہیئے کہ اس خطے کے عوام کی حُب الوطنی کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور یہاں وسائل اور زمینوں پر اس خطے کے عوام کو جو قانونی حق حاصل ہے اسے تسلیم کر کے عوام کو حق ملکیت دیا جائے۔ اس وقت اگر کوئی مقامی باشندہ اپنے زیرِ استعمال اراضی کے اپنے نام انتقال ملکیت کی درخواست دے تو سرکاری اہلکار یہ کہتے ہیں کہ اُنیس سو بیانوے سے قانون انتقال معطل ہے لیکن حکومت کی مرضی سے کئی سو کنال اراضی پچھلے دنوں ریاستی اداروں کے نام نجانے کس قانون کے تحت منتقل کی گئی ہے۔ عوام اتنا جانتے ہیں کہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا معاملہ ہے لیکن یہ روش اب ختم ہونی چاہیئے کیوں کہ دنیا بدلتی جارہی ہے، نئی نسل باشعور ہے جو شدت سے اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ انہیں پاکستان کی جانب سے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان؛ جبر کا نظام کب تک؟

youth-yell

قانون کے رکھوالوں کا سیاسی انتقام لینے کے لیے عوام کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہاں تو گاوں گاوں، قریہ قریہ پولیس کا سپاہی خود کو محلے کا حکمران سمجھتا ہے۔
ایسا کیوں ہے کہ ہمارے خطے میں ایوان ا قتدار کے مکینوں کو سب اچھا ہے کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا؟ کیا وجہ ہے کہ خود کو عوامی نمائندہ کہلوانے والوں کو زمینی حقائق کا ادراک نہیں۔ گلگت بلتستان کے حکمرانوں کو دیکھ کر کہا یہی جا سکتا ہے کہ کرسی کا نشہ اوراقتدار کا مزہ اسی بات میں ہے کہ آنکھ بند کرکے “سب اچھا ہے” کا نعرہ لگاتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرو۔ کامابی یہی ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جھوٹ کو سچ اور فریب کو حقیقت بنا کر عوام کے سامنے پیش کرو، سادہ لوح عوام کو قومی حقوق کی اہمیت اور ضرورت سے بے خبر رکھ کر پانچ سال مل کرو اور پھر اگلے انتخابات میں نئے وعدے کرو۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے خطے کو اس وقت انتظامی حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں کیونکہ جب سیاست دان اقتدار اور مراعات کو ہی سب کچھ سمجھیں تو ان کے ماتحت اداروں سے خیر کی توقع کیوں کرکی جا سکتی ہے۔

 

ڈوگروں سے آزادی حاصل کیے دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن ہمارے عوام کو معلوم ہی نہیں کہ ہماری سیاسی اہمیت اور تاریخی و جعرافیائی حیثیت کیا ہے کیونکہ مراعات یافتہ طبقے نے حقائق عوام سے پوشیدہ رکھے ہیں۔ جمہور کو اس سوال کا جواب آج تک نہیں دیا گیا کہ اگر الحاق کے حوالے سے کوئی قانونی اور آئینی جواز موجود ہیں تو پھر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ یہاں پر قانون پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ قانون کے رکھوالوں نے قانون کو گھر کی لونڈی کیوں بنایا ہوا ہے؟ قانون کے لمبے ہاتھ صرف حقوق کا مطالبہ کرنے اور خطے میں قانون کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے گریبان تک ہی کیوں دراز ہیں؟ قانون کے نام پر نئی نسل کو دہشت گرد قرار دینے کا یہ سلسلہ آخر کب رُکے گا؟

 

اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ جو گلگت بلتستان کا سینہ چیر کر پاکستان کی آئینی حدود میں داخل ہو گا، اس منصوبے سے متعلق گلگت نلتستان کےحقوق پر بات کرنے کو کوئی تیار نظر نہیں آتا۔
قانون کے رکھوالوں کا سیاسی انتقام لینے کے لیے عوام کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہاں تو گاوں گاوں، قریہ قریہ پولیس کا سپاہی خود کو محلے کا حکمران سمجھتا ہے۔ پولیس گردی گلگت بلتستان کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ صاحب اقتدار طبقے کی طرف سے مخالفین کو زدوکوب کرنے کا بہترین ہتھیار پولیس کا ادارہ ہی ہے۔ مقامی پولیس عوام کو تحفظ دینے کی بجائے حکمرانوں کی منشاء اور مرضی مقدم جانتی ہے۔یہ توداریل سے تعلق رکھنے والے زوہیب اللہ کی خوش قسمتی تھی کہ اُسے بے گناہی ثابت کرنے کے لئے پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا سہارا حاصل تھا۔ اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے مقتدر طبقے کی منت سماجت کی بجائے اپنے موقف کی سچائی ثابت کرنے اور قانون کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ملا، ورنہ یہاں تو نہ جانے کتنے زوہیب اللہ ہوں گے جو شب وروز پولیس گردی کا نشانہ بنتے ہیں اور کوئی ان کے مقدمات کی پیروی کرنے والا نہیں۔ زوہیب اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے لے کر اسے اشہتاری قرار دے کر عدالت میں پیش کرنے تک کے ہر مرحلے میں دیامرپولیس کا مکروہ چہرہ بُری طرح بے نقاب ہوا ہے۔ دیامر پولیس اہلکار ترقی کے لیے دہشت گرد عناصر سے مذاکرات کرنے اور پھر انہیں عدالت میں پیش کر کے سرکاری انعامی رقم ان دہشت گردوں کے مقدمات کی پیروی کے لیے استعمال کرنے جیسے گھناونے جرم میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ پولیس گلگت بلتستان کو اس حوالے سے تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔

 

مقامی معاشی ضروریات پر وفاق پاکستان کا رویہ بھی مقامی آبادی کو نظرانداز کرنے کا ہے۔ اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ جو گلگت بلتستان کا سینہ چیر کر پاکستان کی آئینی حدود میں داخل ہو گا، اس منصوبے سے متعلق گلگت نلتستان کےحقوق پر بات کرنے کو کوئی تیار نظر نہیں آتا۔ مقامی مراعات یافتہ حکمران طبقہ اس بات کی رٹ لگائے بیٹھا ہے کہ ہمیں بھی فائدہ ہو گا۔ اس اہم منصوبے سے متعلق بھی اسی فریب دہی سے کام لیا جا رہا ہے جو بغیر معاہدے کے الحاق کے بعد سے مقامی آبادی سے روا رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل تک ہمیں اس خوش فہمی میں مبتلا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہمیں کسی حوالے سے نظرانداز نہیں کیا جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کو باقاعدہ روڈ میپ کے ذریعے اس عظیم منصوبے سے متعلق اعتماد میں لے کر اس منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے مگر باشندگانِ گلگت بلتستان کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات مقامی نمائندوں کو اس ضمن میں ہونے والے سرکاری اجلاسوں میں بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس اہم قومی مسئلے پر گلگت بلتستان کی قیادت کا خاموش رہنا مجرمانہ ہے اور عوام کے لیے گمراہ کن بھی ہے۔

 

اس وقت گلگت بلتستان میں جو لوگ نجی سطح پر بالخصوص شنگریلا بلتستان پر جو لوگ بغیر کسی رائلٹی اور ٹیکس کے قابض ہیں ان سے یہ سیاحتی مقام واپس لے کر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے سپرد کر کے اس کی رائلٹی اور آمدنی عوام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے مطالبات کے باوجود یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہوچُکی ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی خارجہ حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گا۔ پاکستان گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیرکے حل تک آئینی طور پاکستان میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یعنی اس وقت گلگت بلتستان آئینی اور قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں اور اٹھائیس ہزار مربع میل پر مشتمل یہ خطہ انتظامی حوالے سے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ یہ خطہ اکثر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے اس لئے یہاں کھیتی باڑی اور رہائش کے قابل زمین نہ ہونے کے برابر ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کے بننے کے بعد تقریباً پورا دیامر زیر آب آئے گا، اسی طرح بونجی ڈیم، سکردو ڈیم، استور حرچو ڈیم کے بننے کے بعد جو زمینیں رہائش اور کاشت کے قابل ہیں وہ بھی تقریباً ختم ہو جائیں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت خالصہ ءِ سرکار یا عوامی تنازعات کو بہانہ بنا کر زبردستی لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر قابض ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ ہمارے عوام مہدی شاہ دور حکومت میں اس بات پر شکوہ کناں رہے کہ اُنہوں نے سرکاری فنڈز کی بندر بانٹ کی لیکن نون لیگ کی حکومت میں تو عوامی املاک کی بندر بانٹ ہو رہی ہے۔

 

اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق اس خطے کی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لہٰذاگلگت بلتستان کی سرزمین باشندگان ریاست کی ذاتی ملکیت ہے قانونی اور آئینی طور پر یہاں کے زمینوں کا ایک ٹکرا بھی خالصہ ءِ سرکار نہیں کیونکہ پاکستان کے ساتھ تمام تر محبت، خلوص اور جذبوں کے باوجود گلگت بلتستان آج بھی آئینی اور قانونی طور پرپاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ڈوگرہ سرکار کے متاثرین میں سے ہےلہٰذا اس خطے کی مستقبل کا فیصلہ کئے بغیر یہاں خالصہ سرکار کے نام پر عوامی املاک پر قبضہ کرنے کا یہ سلسلہ اب بند ہوجانا چاہئے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں جو لوگ نجی سطح پر بالخصوص شنگریلا بلتستان پر جو لوگ بغیر کسی رائلٹی اور ٹیکس کے قابض ہیں ان سے یہ سیاحتی مقام واپس لے کر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے سپرد کر کے اس کی رائلٹی اور آمدنی عوام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ شنگریلا انتظامیہ اس وقت مقامی افراد سے بھی اس مقام پر داخلے کے لئے نامناسب فیس وصول کرتی ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ٓ متنازعہ حیثیت کے باوجود یہاں کے عوام کی ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ ہیں لہٰذا متازعہ خطے میں کوئی بھی نظام لاگو کرنے سے پہلے اس خطے کی آئینی اور قانونی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

بلتستان؛ تاریخ کے آئینے میں

دو پہاڑی سلسلوں کوہ قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں 9968 مربع میل پر محیط بلتستان جسے آٹھویں صدی عیسوی تک پلولو کے نام سے جانا جاتا تھا آج سرزمین بے آئین ہے اور متنازع سمجھا جاتا ہے۔ تبت اور لداخ والے اس پورے علاقے کو بلتی اور یہاں کے باشندوں کو بلتی پا کے نام سے پُکارتے تھے۔ دوسری صدی عیسوی کے محقیقین اس علاقے کا بالتی کے نام سے ذکر کرتے تھے۔ تاریخی حوالے سے بلتستان کے 91فیصد پاشندے تبتی نژاد ہیں اور تبت والے زمانہ قدیم میں بلتستان کو نانگ گونگ کے نام سے پُکارتے تھے۔ کشمیری اس علاقے کو بوٹن سوری بوٹن یعنی خوبانیوں کا شہر پکارتے تھے۔ ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ پولو اس خطے کا قدیمی کھیل رہا ہے اور زمانہ قدیم میں اس علاقے کے لوگوں کو ‘پولولو’ کے نام سے پکارا جاتا تھا یہی سبب ہے کہ آج بھی گلگت کے بعض باشندے بلتستان والوں کو اسی نام سے پُکارتے ہیں۔ لیکن آج یہ علاقہ بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 

نام کی تبدیلی کے ساتھ یہاں کے لوگوں نے بلتی رسم الخط کو بھی ترک کر دیا اور بلتی زبان کو فارسی اور عربی رسم الخط میں لکھا جانے لگا۔
بلتستان فارسی کا لفظ ہے۔ اس خطے میں اسلام کی تبلیغ کے لیے ایرانی مبلغین کا بڑا عمل دخل رہا جس کے سبب اس پورے خطے میں بولی جانے والی زبانوں پر فارسی کی گہری چھاپ ہے۔ نام کی تبدیلی کے ساتھ یہاں کے لوگوں نے بلتی رسم الخط کو بھی ترک کر دیا اور بلتی زبان کو فارسی اور عربی رسم الخط میں لکھا جانے لگا۔ حالانکہ بلتی زبان جسے ‘اگے’ کہا جاتا ہے،کا اپنا طرز تحریر اور رسم الخط آج بھی بلتستان کے بعض تاریخی مقامات پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ بلتی زبان کی ترویج اور اسے ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے بہت سے لوگ عملی کوشش کر رہے ہیں۔

 

بلتی ایک قدیم زبان ہے اور تبت میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان رہی ہے۔ اس زبان کا تعلق سائنو تبتین زبانوں کی تبت برمن شاخ سے ہے۔ تبت، لداخ، بھوٹان اور شمالی نیپال میں اس زبان کی مختلف صورتیں آج بھی رائج ہیں۔ بلتستان اور اُن تمام خطوں کا جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں اگر آج موازنہ کیا جائے تو کہیں سے نہیں لگتا کہ زمانہ قدیم میں یہ تمام خطے ایک ہی مشترک ثقافت رکھتے تھے۔ اس کی چند اہم وجوہ میں سیاسی حالات میں تبدیلی اور بلتستان کے علاقے میں اسلام کی اشاعت ہے۔ 842ء میں تبت کے بادشاہ لانگ درما قتل ہوئے اور بلتستان کو تبت سے الگ ہونا پڑا۔ چودہویں صدی کے وسط میں مبلغ اسلام سید علی ہمدانی کے ہاتھوں اس علاقے کے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا۔ سہولیویں صدی کے اوائل تک یہاں کی تقریباً تمام آبادی اسلام قبول کر چکی تھی اور اس طرح بلتستان کا تبت کے ساتھ روحانی اور معاشرتی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اشاعت اسلام کے بعد بلتی زبان میں بدھ مت کی مذہبی اصطلاحات کی جگہ عربی اور فارسی اصطلاحات نے لے لی اور بلتی میں عربی اور فارسی کے لفظ بھی بڑے پیمانے پر شامل ہوئے۔ اس تبدیلی نے بلتی زبان میں بعض نئے لہجوں کو جنم دیا جنہیں آج بھی بلتستان کے مختلف علاقوں میں سنا جا سکتا ہے۔

 

قبول اسلام کے بعد جہاں بلتیوں کا تبت سے روحانی، سیاسی اور معاشرتی رابطہ منقطع ہوا اسی طرح بلتی زبان بھی تبتی سے علیحدہ ہوئی۔ اس تبدیلی کے باعث بلتی کا درجہ ایک ایسی زبان سے جس میں ادب تخلیق کیا جا رہا تھا سے گھٹ کر ایک مقامی بولی کا سا ہو گیا۔ لیکن بلتستان کی جعرافیائی تنہائی نے بلتی زبان کا ماضی سے رشتہ ختم نہیں ہونے دیا یہی سبب ہے کہ آج بھی تبتی اور بلتی زبان میں مشترک الفاظ موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے بلتی زبان کی باقاعدہ تعلیم کی جانب بہت تاخیر سے توجہ دی گئی۔ بلتی زبان کی ترویج کے لیے پہلی مرتبہ 1973 میں خپلو سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالرحمن نے بلتی قاعدہ اور کھرمنگ غاسنگ سے تعلق رکھنے والے مرحوم فدا حسین صاحب نے بلتی گرائمر اور بول چال جیسی بنیادی کتب مرتب کیں۔

 

بلتی زبان کی ترویج کے لیے پہلی مرتبہ 1973 میں خپلو سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالرحمن نے بلتی قاعدہ اور کھرمنگ غاسنگ سے تعلق رکھنے والے مرحوم فدا حسین صاحب نے بلتی گرائمر اور بول چال جیسی بنیادی کتب مرتب کیں۔
بلتستان کے زیادہ تر مقامی لوگ منگول قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو جسمانی خصائص کے اعتبار سے تبتی نسل کے مقامیوں سے قدرے مختلف ہیں۔ اشاعت اسلام کے دور میں کشمیر سے سید گھرانوں نے بھی بلتستان کا رخ کیا، سادات کے یہی خانوادے یہاں اسلام کی ترویج میں پیش پیش رہے۔ سادات کی نسلیں آج بھی یہاں مقیم ہیں۔

 

بلتی شاعری کو بلتی تہذیب و ثقافت میں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ ابتدا میں بلتی منظوم کلام کو ‘خلو’ کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں رگیانگ خلو، رزونگ خلو، یود خلو بلتی شاعری کے اہم موضوع ہوا کرتے تھے۔ بلتستان کے بہت سے علاقوں میں یہ منظوم کلام اج بھی سنا اور سنایا جاتا ہے اور آنے والے نسلوں کو ان کے تہذیبی ورثے کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں ‘رگیانگ خلو’ خفیہ پیغام رسانی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ تاریخ سے اگاہی کے لیے ایک نئے ڈھنگ سے ادبی نشستوں کا موضوع ہے۔ اسی طرح رزونگ جسے آج کی زبان میں ڈرامہ کہا جاتا ہے، موسم سرما کی لمبی راتوں میں سُنانے کا رواج عام تھا، اور موسم کی سختیوں کے باعث جب یہ علاقہ باقی دنیا سے کٹ جاتا تھا تو راتیں کاٹنے کا ایک عمدہ ذریعہ تھا۔ اشاعت اسلام کے بعد بلتی زبان و ادب کو نئے موضوعات ملے، اور بلتی میں قصیدہ گوئی، مرثیہ گوئی اور نعت گوئی نے خُلو کی جگہ لے لی اور خُلو چند حلقوں تک محدود ہو گیا۔

 

بلتی کی مقامی رسوم، تہوار اور میلے جدید تہذیب اور معاشرت کے اثرونفوذ کے باوجود کئی مقامات پر آج بھی بڑی شان کے ساتھ منائے جاتے ہیں، بعض جشن تو پورے بلتستان کی سطح پر اجتماعی طور پر منائے جاتے ہیں، ان میں جشن مے فنگ اورعید نوروز قابل ذکر ہیں۔ مے فنگ بلتیوں کا قدیم تہوار ہے جو کافی عرصے سے منایا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے بُزرگ لوگ اس تہوار کی تشریح سے قاصر ہیں کہ یہ کیوں منایا جاتا ہے۔ پھر بھی ہر سال 21دسمبر کی رات کو پورے بلتستان کی سطح پر مے فنگ بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ اس شام کو بلتستان میں خصوصی تقریبات اور لذیذ کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اپنے عزیزوں کواس دن دعوت دینا یہاں کی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح عید نوروز بلتستان کا ایک اور اہم تہوار ہے جو ایران کا قومی تہوار بھی ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ دن تاج پوشی امام علی علیہ السلام کا دن بھی ہے اور اسے جشن آمدِ بہار کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے عرش سے فرش بچھانے کا دن بھی کہتے ہیں۔

 

یہاں کے باشندے زمانہ قدیم سے ہی صلح پسند، امن دوست، خوش اخلاق، مہمان نواز اور فن و ادب کے دلدادہ رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس علاقے پر بھی شدت پسندی کے مہیب سائے پھیلنے لگے ہیں۔

 

پولو بلتستان کا قدیمی اور قومی کھیل ہے۔ پولو کا کھیل دراصل بلتستان سے ہی دنیا میں متعارف ہوا۔ پولو بلتی زبان کا لٖفظ ہے جس کے معنی گول چیز کے ہیں۔ یہ کھیل بلتستان میں آج بھی شاہی کھیل کے طور پر کھیلا جاتا ہے۔ بلتستان کو زمانہ قدیم سے ہی اس علاقے کی بڑی تجارتی گزرگاہ کے طور پر استعمال کیاجاتا رہا ہے۔ یہاں سے تبت، کاشغر، لداخ، کشمیر، ہند اور یارقند کے ساتھ تجارتی لین دین قائم تھا، لیکن جعرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث آج اس علاقے کا یہ تابناک ماضی تاریخ کا ایک خواب نظر آتا ہے۔ بلتستان کی معیشت دستکاریوں سے جڑی تھی لیکن اب سیاحت کی صنعت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہاں کی دیسی صنعتوں میں بارچہ بافی جسے بلتی زبان میں (چھرا) اور اونی چادر جسے (قار)کہا جاتا ہے کی تیاری کی صنعتیں بے حد اہم رہی ہیں لیکن یہ صنعتیں اور ان کے کاریگر اب معدوم ہو گئے ہیں۔

 

بلتستان کے زیادہ تر مقامی لوگ منگول قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو جسمانی خصائص کے اعتبار سے تبتی نسل کے مقامیوں سے قدرے مختلف ہیں۔
بلتستان کے لوگ گھریلو ضرروریات کی چیزیں بھی مقامی طور پر دیسی طریقے سے بنایا کرتے تھے اور خطے کی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ ہند، کشمیر اور تبت کو برآمد بھی کرتے تھے۔ لیکن بلتستان کی یہ تمام گھریلو صنعتیں اب سکردو اور گلگت میں قائم آثار قدیمہ کی دکانوں کی سجاوٹ بن کر رہ گئی ہیں۔ لکڑی سے بنائے جانے والی اشیا جن میں حُقہ، تیر کمان، تلوار اوربیلچہ شامل ہیں، یہاں کی صنعت کا ایک اہم حصہ تھیں لیکن یہ صنعتیں بھی اب ناپید ہو چکی ہیں۔

 

بلتستان پر مقبون،اماچہ اور یبگو خاندان نے عرصہ دراز تک حکمرانی کی لیکن تاریخ بلتستان میں مقپون حکومت کے علاوہ دوسرے خاندانوں کے بارے میں اب تک کوئی خاص معلومات اکٹھی نہیں کی جا سکیں۔ بلتستان میں موجود شاہی محلوں اور تاریخی عمارتوں سے البتہ متعدد حکمران خاندانوں کا پتہ چلتا ہے لیکن ان تین خاندانوں کے عرصہ حکمرانی کا کوئی مستند اور مفصل احوال موجود نہیں۔ ان خاندانوں کے تعمیر کردہ محل، قلعے اور پُل البتہ موجود ہیں۔ مقپون پُل، میندوق کھر سکردو، نہر گنگوپی، خپلو، شگر اور کھرمنگ کے شاہی محلات یہ پتہ دیتے ہیں کہ بلتستان میں کئی خاندان برسر اقتدار رہے۔ کھرپوچو کا عسکری قلعہ بلتستان کی عظیم عسکری تاریخ کا منہ بُولتا ثبوت ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں بلتستان کے حکمرانوں نے لداخ سے ہنزہ تک حکمرانی کی، ہنزہ میں آج بھی ایک بلتت کھر یعنی(بلتی کا محل) موجود ہے۔

 

حوالہ: تاریخ بلتستان-
مصنف: یوسف حسین آبادی
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان کی تقسیم؛ ایک غیر دانشمندانہ تجویز

youth-yell-featured

قوموں کی زندگی میں اُتار چڑھاو کا آنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن کوئی قوم غافل رہے، اپنے حقوق کی جدوجہد کو علاقائی امن اور معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھ کر خاموش رہے اور کوئی آ کر اس قوم کو دو لخت کرنے کی سازش شروع کر دے تو یقیناً وہ قوم اپنی تاریخ، شناخت اور اہمیت سے ناواقف اور بے بہرہ ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ کا اگر انقلاب گلگت بلتستان سے لے کر آج تک کے دور کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم تاریخی شعور سے محروم ہونے کے باعث ہی آج تک اپنی شناخت اور حقوق سے محروم رہے ہیں۔ یہی لاعلمی ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک اپنی جدوجہد کے ثمرات حاصل نہیں کر سکے۔ ہمارے قومی ہیرو کرنل مرزا حسن خان مرحوم کو کئی بار سلاخوں کے پیچھے صرف اس لیے دھکیلا گیا کیوں کہ اُنہوں نے عوام کوان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ آج بھی ہمارے ہاں یوم آزادیِ گلگت بلتستان سرکاری طور پر منایا جاتا ہے جو کرنل مزرا حسن خان اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔

 

جو نظام اس وقت گلگت بلتستان میں نافذ ہے پاکستان کے وفاقی اور آئینی بندوبست میں اس نظام کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ دستور پاکستان میں اس نظام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ گلگت بلتستان کا سیاسی ڈھانچہ ایک صدارتی حکم نامے کے سہارے کھڑا ہے۔
افسوس گزشتہ اڑسٹھ سالوں سے حسن خان کی سرزمین کو آئین اور قانون کے دھارے سے باہر رکھ کر ہمارے رہنما اور عوام اس بات کی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ہم نے الحاق کیا تھا۔ یہ مغالطہ عام ہے کہ ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دے کر اس خطے کو پاکستان میں شامل کرایا تھا۔ یہ تاریخی غلطی کہ ہم اپنے خطے کا ماضی کرنل حسن خان کی بجائے سردار عالم اور میجر بروان سے جوڑ رہے ہیں، ہماری اس خوش فہمی کی بنیاد ہے کہ کبھی نہ کبھی ہم گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہماری تمام تر خوش فہمیوں کے برعکس پاکستان میں ایک طرف تو اس معاملے کو کشمیر کے ساتھ نتھی کر دیا گیا اور دوسری طرف اس علاقے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی حمایت بھی شروع کر دی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کی تقسیم کا معاملہ اس علاقے کی جغرافیائی، دفاعی اور تجارتی اہمیت میں مزید سنگین شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وفاق اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہاں کے حکمران اس قابل نہیں کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کوئی بھرپور ردعمل پیش کر سکیں۔ اگر دیانت دارانہ تجزیہ کیا جائے تو جو نظام اس وقت گلگت بلتستان میں نافذ ہے پاکستان کے وفاقی اور آئینی بندوبست میں اس نظام کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ دستور پاکستان میں اس نظام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ گلگت بلتستان کا سیاسی ڈھانچہ ایک صدارتی حکم نامے کے سہارے کھڑا ہے۔

 

آئین کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے نظام میں کسی بھی قسم کی ترمیم کرنے کے لیے وفاق ان ترامیم کی منظوری کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا محتاج نہیں۔ وفاق جب بھی محسوس کرتا ہے کہ اس کے مفادات کو زد پہنچنے کا خدشہ ہے تو مرکزی حکومت گلگت بلتستان کے معاملے پر فوراً اپنا موقف تبدیل کر لیتی ہے۔ اقتصادی راہداری کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اس علاقے کو ہی تقسیم کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کو قانونی حیثیت دینا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے لیکن اس ضمن میں یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہندوستان بھی اس علاقے کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اُس وقت ہوا جب ہم نے گلگت بلتستان کے حوالے سے ہندوستان کے ایک مشہور چینل پر پرائم ٹائم پروگرام دیکھا۔ پروگرام میں میزبان اور مہمان یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ بھارت گلگت بلتستان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور گلگت بلتستان کو جو حقوق پاکستان نے نہیں دیئے، بھارت دینے کے لیے تیار ہے۔ پروگرام میں شریک پاکستانی تجزیہ نگاروں کا گلگت بلتستان کے حوالے سے لاعلمی اور خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

 

اس صورت حال میں پاکستان کے حکمرانوں کو سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے خطے کی غیر آئینی حیثیت کے باوجود بھی پاکستان میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس خطے کے حوالے سے ہمیشہ پس و پیش سے کام لیتا آیا ہے۔ درحقیقت وفاقی حکومت کی انتظامی مشینری پر ایک ہی صوبے کا غلبہ ہے جو اس خطے کو کشمیر کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کا قائل ہے۔

 

تقسیم گلگت بلتستان کسی بھی طرح نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہاں کے سیاسی مسائل کا درست آئینی حل۔ ایسے ہی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ماضی میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بو چکا ہے، کیا اب مقامی آبادی کو بھی بلوچوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے اپنی بات وفاق تک پہنچانا ہو گی؟
گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت میں ہمارے وزیراعلیٰ سے لے کر ان کی کابینہ کے کسی رکن تک کو گلگت بلتستان کی تقسیم کی مبینہ تجویز کی سنگینی کا اندازہ تک نہیں۔ قاری حفیظ اپنے کئی ٹی وی انٹرویوز میں اس بات کی طرف اشارہ کر چُکے ہیں کہ خطے کومسلکی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے عوامی مطالبات موجود ہیں۔ استور کے ایک مولوی صاحب کے افشاء کرنے پر یہ ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹی ہے وگرنہ تو اس حوالے سے عوام یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس خبر کے دوسرے دن سپیکر اعلان کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔ قاری حفیظ نے گلگت بلتستان کے کچھ حصے یعنی ہنزہ، نگر، گلگت اور یاسین کو ماضی میں ان علاقوں کے کشمیری راجاوں سے نام نہاد الحاق کی بنیاد پر بلتستان ریجن اور استور کو کشمیر میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقوں کو کشمیر میں شامل کرنے کے حوالے سے عوام کو باشعور بنانے کی ضرورت ہے۔

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام اراکیں قانون ساز اسمبلی قاری حفیظ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتے ہیں یا قانون ساز اسمبلی اسے استعفیٰ دے کر ریاست کے جعرافیے کو بچانے اور اقتصادی راہدری میں مناسب حقوق دلانے کے لیے عوام کوسڑکوں پر لے کر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی تقسیم کی بات کرنے والا وزیراعلیٰ یقیناً اپنے لوگوں اور اپنے خطے کا غدار ہے۔ گلگت بلتستان ایک اکائی ہے اور یہاں کے لوگ اس علاقے کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ تقسیم گلگت بلتستان کسی بھی طرح نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہاں کے سیاسی مسائل کا درست آئینی حل۔ ایسے ہی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ماضی میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بو چکا ہے، کیا اب مقامی آبادی کو بھی بلوچوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے اپنی بات وفاق تک پہنچانا ہو گی؟
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان؛ دہشت گردی کے اسباب اور عوامل

دیامر ‘باب گلگت بلتستان’ یعنی ہمارے گھر کے مرکزی دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرے حلقہ احباب میں دیامر سے تعلق رکھنے والی کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جن سے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باجود کبھی محبت اور خلوص میں کمی نہیں آئی۔ ایسے بھی دوست ہیں جن سے سوشل میڈیا کے ذریعے گپ شب ہوتی ہے، ہم ایک دوسرے پر شدید تنقید بھی کرتے ہیں مگر باہمی عزت اور احترام کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے، اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے۔ لیکن مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کی اس نگری میں ریاست اور معاشرے نے ہماری تربیت اس طرح سے کی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں دہشت گردی کے دلخراش واقعات نے ہمارے درمیان سے اعتبار کا لفظ ہی غائب کر دیا ہے، ہم ایک دوسرے سے کھل کر بات کرنے، تنقید کرنے یا اختلاف کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں اور یہ شدت پسندوں کی شاید سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم میں سے ہی لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں، ان کے سہولت کار بنے ہیں اور ان سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے عام لوگوں کے مابین غلط فہمیوں کا در آنا اور خوف پیدا ہونا بے حد تشویش ناک ہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے عام آدمی کے درمیان ایسی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں جنہیں کم کرنے کے لیے کوئی بھی کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔

 

ضیاء الحق کے مشورے سے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو تقویت ملی اور انہوں نے حکومتی ایماء پر اٖفغان مجاہدین کے ساتھ مل کر 1988 میں گلگت بلتستان پر چڑھائی شروع کی جس کے نتیجے میں کئی سو لوگ مارے گئے، کئی درجن گھر اور مال مویشی زندہ جلائے گئے لیکن مقامی حکومت نے اس جلتی آگ کو بجھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
میرا خیال ہے جہاں دہشت گردی کے اس ناسور کی وجہ شدت پسند مذہبی سیاسی فکر ہے وہیں ہمارے ریاستی ادارے، پڑے لکھے صاحب الرائے لوگ اور عوامی ووٹ لے کر قانون ساز اسمبلی تک پہنچنے والے اراکین بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ ہم جمہوریت اور تعلیم کے مبلغ ہونے کے باوجود انحراف، اختلاف اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سیاست دان مسائل کو سلجھانے کی کوشش کرنے کی بجائے جلتی پر تیل چھڑکتے ہیں، اُنہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے اس غیر جمہوری رویے کی وجہ سے معاشرہ کس طرح غلط سمت کی طرف جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر بھی ہر سیاسی مسئلے کو مسلک کی بنیاد پر متنازع بنا کر مخالف مکتبہ فکر کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا رواج عام ہو چُکا ہے۔ اس وجہ سے جہاں معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی ہے تو دوسری طرف جھوٹ کو سچ سمجھ کر یقین کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔

 

گزشتہ کئی ماہ سے دیامر داریل تانگیر کے علاقے میں پائے جانے والی کشیدگی کو بھی ایسے ہی رحجانات کی وجہ سے ہوا ملی ہے۔ گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وجوہ انیس سوستاسی میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے جڑی ہوئی ہیں۔ انیس ستاسی کے انتخابات میں جب گلگت میں قوم پرستوں کے انتخابات جیتنے کے امکانات سامنے آئے تو اُس وقت گلگت شہر کے دیوراوں پر نامعلوم افراد نے راتوں رات فرقہ وارانہ وال چاکنگ کی اور قوم پرست سیاستدانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے فرقے کی بنیاد پر منافرت پھیلائی گئی۔ صدیوں پر محیط بین المسالک ہم آہنگی کے خاتمے سے شدت پسندی کی جو آگ بھڑکی وہ آج بھی بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ دہشت گردی کے ان اسباب کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توپاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائر مارشل ریٹائرڈ محمد اصغر خان اپنی کتاب ‘تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، سیاست اور افواج پاکستان میں جہاد اور امریکہ’ میں لکھتے ہیں کہ ضیاء دور اقتدار میں کوہستان کے کچھ لوگوں نے جنرل ضیاء سے خصوصی ملاقات کرکے یہ شکایت کی کہ کوہستان سے ملحقہ علاقوں میں گلگت اور بلتستان سے کچھ لوگ ‘تبلیغ’ کے لیے آرہے ہیں، تو جنرل ضیاء نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلے سے خود نمٹیں۔ اگر وہ کارروائی کرتے ہیں تو حکومت مداخلت نہیں کرے گی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ضیاء الحق کے اس مشورے سے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو تقویت ملی اور انہوں نے حکومتی ایماء پر اٖفغان مجاہدین کے ساتھ مل کر 1988 میں گلگت بلتستان پر چڑھائی شروع کی جس کے نتیجے میں کئی سو لوگ مارے گئے، کئی درجن گھر اور مال مویشی زندہ جلائے گئے لیکن مقامی حکومت نے اس جلتی آگ کو بجھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ صورت حال نازک ہوئی تو اُس وقت کے اہم سیاسی رہنما شیخ غلام محمد مرحوم نے ضیاالحق کو براہ راست فون کرکے تنبیہ کی کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو محاذ پر موجود این ایل آئی کے جوانوں کو گلگت بلتستان کے تحفظ کے لیے واپس آنے کا حکم بھی جاری کرسکتے ہیں۔ یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی یہی وجہ تھی کہ ضیاالحق گٹھنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے اور نام نہاد مجاہدین کو ‘شکست’ کھانا پڑی۔ لیکن آج وہی شکست خوردہ عناصر گلگت بلتستان کے عوام کو زیر کرنے کے لیے دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔

 

ہمیں سمجھنا چاہیئے ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس عقیدے سے تعلق رکھتا ہے بلکہ ہم ایک باغ کے کئی پھولوں کی مانند ہیں جو ایک ساتھ کھلتے ہیں اور خوب صورت لگتے ہیں۔
ماضی کے تلخ تجربات مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس عقیدے سے تعلق رکھتا ہے بلکہ ہم ایک باغ کے کئی پھولوں کی مانند ہیں جو ایک ساتھ کھلتے ہیں اور خوب صورت لگتے ہیں۔ لیکن اس باغ کی باغبانی ہم نے بدقسمتی سے دوسروں کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے جو اس رنگا رنگی کو بدرنگی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے یہ ‘باغبان’ سیاسی مسائل کو بھی دینی اور مذہبی رنگ دے کر متنازع اور ناقابل حل بنا دیتے ہیں۔ ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی مزاحمت کیسے کی جا سکتی ہے۔

 

حال ہی میں کوہستان سے بازیاب کرائے گئے دو انجینئرز کا واقعہ گلگت بلتستان پرمنڈلاتے دہشت کے مہیب سایوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز کونسل ملک مسکین کی مداخلت سے دونوں مغوی انجینرز کو کوہستان سے بازیاب کرایا گیا جو اپنی جگہ ایک قابل تشویش امر ہے۔ اگر یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں تھا تو اغواء کاروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ داریل سے اغواء ہونے والے کوہستان کیسے پہنچے؟ اور دہشت گردوں کے ساتھ ان حضرات کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟ جب ان لوگوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا تھا توتمام سیکیورٹی فورسز کو دیامر کی طرف بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ مگر افسوس کسی کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں مگر عوام جواب منتظرہیں۔ اگر وفاق گلگت بلتستان میں امن دیکھنا چاہتا ہے تو کوہستان اور گلگت بلتستان کے مابین زمینی راستوں پر نفری بڑھانا ضروری ہے اور اگر ریاستی اداروں نے اپنی کارکردگی بہتر نہ بنائی تو دیامیر بھاشا ڈیم اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبے بھی شدت پسندوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

وفاق سے ایک مطالبہ

جیو ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر تنازعہ کا حصہ ہے اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ قراردینا پاکستان کا اصولی موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا ہے جس کی وجہ سےپاکستان نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے کیوں کہ ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انڈیا اور پاکستان کسی بھی متنازعہ خطے کو اپنا آئینی حصہ نہیں بناسکتے۔ حق خودارادیت کشمیر اور اس تنازعہ کے شکار لوگوں کا حق ہے جس کی بنیاد پر ہی یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ کس ملک کا ساتھ دیتے ہیں۔ جغرافیائی مطابقت اور سماجی عوامل کی بناء پر ہمیں اطمینان ہے کہ جب بھی حق خودارادیت استعمال ہوگا تو کشمیر کے لوگ مملکت پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک متنازعہ علاقے کو اپنا آئینی صوبہ نہیں بناسکتا اور اسی وجہ سے پاکستان نے اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر کشمیر کو آزاد حکومت اور گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دی ہے صوبہ ‘ہونے’ اور ‘حیثیت دینے’ میں بڑافرق ہے۔

 

مولانا ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کے جواب میں بس اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گا کہ شاید گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے ان کا علم محدود ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست میں مولانا کی جماعت کا سیاسی وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ تو علامہ راجہ ناصر جعفری اور علامہ ساجد نقوی صاحب کا آپ پر احسان ہے کہ اُن کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ کی جماعت کو قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست مل گئی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ گلگت بلتستان کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کریں۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور گلگت بلتستان کے عوام نے ہر برس کی طرح اس مرتبہ بھی اپنا یوم آزادی منایا ہے جو مولانا کے اس بیان کا موثر ترین جواب ہے۔

 

اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔
مولانا کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اپنی آزادی کی جنگ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں نے بغیر کسی غیر ریاستی امداد کے جیتی تھی لیکن آزاد کشمیر ‘فتح’ کرنے کے لیے مقامی کشمیریوں کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لشکر بھیجے گئےتھے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ اُس جنگ کے بعد فاتح گلگت کرنل مرزا حسن خان نے ایک عبوری کابینہ تشکیل دی تھی تاکہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے ۔ مولانا اگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو انہیں بھی شائد معلوم ہوجائے کہ اُس وقت چونکہ کئی علاقے ایسے تھے جہاں ‘باغی’ فوج نے رِٹ قائم کرنا تھی یہی وجہ تھی کہ کرنل حسن خان نے انتظامی معاملات عبوری کابینہ کے سپرد کرتے ہوئے اگلے محاذ پر فوج کی کمان سنبھال لی۔ بدقسمتی سے اُس وقت گلگت میں مقیم برطانوی میجر براون جو کرنل حسن خان سے ذاتی اختلافات رکھتے تھے، نے اپنے حواریوں سے مل کر آزادریاست گلگت بلتستان کے مستقبل کا سودا کیا۔ گلگت کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے ایک بیوروکریٹ سردار ابراہیم تشریف لائے اور انہوں نے آتے ہی ریاستی ذمہ داران سے صلاح مشورہ کیے بغیرایف سی آر نافذ کردیا۔ ان صاحب نے تحریری معاہدے کے بغیر ریاست کا نظم و نسق سنبھال لیا اور بعد میں اس عارضی بندوبست کو الحاق کا نام دے دیا۔

 

معاہدہ کراچی میں گلگت بلتستان کا آئینی مستقبل مقامی عوام کی بجائے وفاق کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور عوام سے رائے لیے بغیر اس معاہدے کے ذریعے ریاست کے باشندوں کو پاکستان کے ساتھ نتھی کر دیا گیا۔ اس تمام صورت حال کو دیکھ کر بھارت نے جب قوام متحدہ سے رجوع کیا تو اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔ پاکستان گلگت بلتستان کے معاملے میں دوہرا موقف رکھتا ہے، اپنے مفادات کی خاطر اس علاقے کی اپنی مرضی کی آئینی حیثیت مقرر کرتا ہے۔ آگے چل کر گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح ضیاء الحق کے دور میں آزاد کشمیر کے برعکس یہاں مارشل لاء نافذ کیا گیا لیکن اُس وقت کسی نے گلگت بلتستان کو متازعہ کشمیر کا حصہ قرار نہیں دیا۔ آج پاکستان نہ تو گلگت بلتستان کو خودمختار علاقہ قرار دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے بیس لاکھ عوام کے اندر بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ آخر آپ کا ایجنڈا کیا ہے؟

 

ہم وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل تک اس خطے کو یکم نومبر 1947کی خود مختار حیثیت پر بحال کر دے اور یہاں کے عوام کو مکمل داخلی خود مختاری دے
گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شناخت کے بغیر اپنا وجود نامکمل سمجھتے ہیں۔ گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں اور اسے آئینی بندوبست کا حصہ بنانے میں اقوام متحدہ کی قراداد اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف حائل ہیں۔ لیکن یہاں کے عوام کے مسائل حل کرنے، اوران کا احساس محرومی ختم کرنے میں ایسی کوئی روکاوٹ نہیں۔ یہاں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے گلگت بلتستان کی تاریخی، قانونی حیثیت اور انقلابِ گلگت بلتستان کی حقیقت اور اُس وقت کے غلط فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت فیصلے کرنے ہوں گے۔ جغرافیائی اور سماجی رشتوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تواس خطے کو پاکستان سے الگ کرنا گلگت بلتستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں، لیکن افسوس پاکستانی ریاست اور مولانا فضل ارحمان یہاں کے لوگوں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ مولانا ایک صاحب بصیرت اور دور اندیش سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر خاصا غیر دانشمندانہ ہے۔ یہاں کے عوام آپ سے توقع رکھتے تھے کہ آپ وفاق سے گلگت بلتستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے، ہمیں امید تھی کہ آپ گلگت بلتستان کو مکمل سیاسی شناخت کی ضمانت فراہم کریں گے لیکن آپ کا حالیہ انٹرویو مایوس کن ہے۔ ہم وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل تک اس خطے کو یکم نومبر 1947 کی خود مختار حیثیت پر بحال کر دے اور یہاں کے عوام کو مکمل داخلی خود مختاری دے کر یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی یقینی بنائیں۔ اب یہ ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام تجارتی راستے کھول دیئے جائیں خاص طور پر سکردو کارگل روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول کر منقسم خاندانوں کو ایک دوسرے ملنے کی اجازت دی جائے۔
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان؛ سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے

letters-to-the-editor-full-featured1

محترم مدیر
گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے، ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہےاور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہماری تنظیم بالاورستان فرنٹ ہمیشہ سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہی ہے۔ آپ کے موقر جریدے کے ذریعے ہم عوام الناس کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر سے وابستہ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت کے نمائندے اورگلگت بلتستان میں موجود ان کے مقامی گماشتے ہمیں خاموش کرانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور ریاستی طاقت استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے کئی سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ساتھی ریاستی اداروں کی حراست میں ہیں۔ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اپنے حقوق کی بات کرنے کی پاداش میں سینکٹروں سیاسی کارکن اور رہنما پچھلے 5 ماہ سے گلگت بلتستان کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔
وابستہ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت کے نمائندے اور گلگت بلتستان میں موجود ان کے مقامی گماشتے ہمیں خاموش کرانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور ریاستی طاقت استعمال کرتے ہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق 7 جون 2015 کو جب فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان (مرحوم) کے فرزند کرنل ریٹائرڈ نادر حسن خان، بالاورستان کے اہم رہنما صفدر علی، افتخار حسین، مدثر، وسیم، افتخار پالے اور دیگر کارکنان پاک چین اقتصادی راہداری پراپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے گلگت میں یونائیٹڈ نیشن ملٹری گروپ برائے انڈیا اینڈ پاکستان کے ذیلی دفتر جوٹیال گلگت پہنچے۔ یہ افراد اس اقتصادی منصوبے پر اپنے تحفظات عالمی اداروں تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن انہیں ریاستی اداروں نے روک کر زدوکوب کیااور گرفتار کر لیا۔ اپنا آئینی، قانونی اور سیاسی حق استعمال کرنے والے یہ سیاسی کارکن تاحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان سیاسی کارکنوں کو قانونی معاونت بھی فراہم نہیں کی جارہی جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ان کا حق ہے۔پچھلے پانچ ماہ کے دوران نہ تو انہیں کسی عدالت سے ضمانت حاصل کرنے دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی واضح مقدمہ قائم کیا جارہا ہے ۔ لہٰذا اس سلسلے میں ہم پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عالمی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان میں اسیر سیاسی رہنماوں کو فی الفور رہائی کے لیے اقدامات کریں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر لگائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے انہیں بری الزمہ قرار دیا جائے۔ ہم اس حوالے سے حکمرانوں کو انتباہ کرتے ہیں وہ گلگت بلتستان کے سیاسی اسیران کے حوالے سے نوٹس لے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ مظلوم و محکوم عوام اپنے حقوق کے لیے پوری قوت سے اٹھ کھڑے ہوں گے جنہیں سنبھالنا موجودہ حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔
فقط
اراکین بالاورستان نیشنل فرنٹ
Categories
نقطۂ نظر

آزاد ہو کر بھی ہم آزاد نہیں

گلگت بلتستان کے عوام پچھلے اڑسٹھ سالوں سے یکم نومبر کو یوم آزادی بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ مناتے آرہے ہیں۔ یقیناًیہ دن بزرگوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے ۔ آج ہی کے روز 1947 میں گلگت بلتستان کے عظیم سپوتوں نے ڈوگرہ فوج کو شکست دے کر اٹھایئس ہزار مربع میل خطے کو قلیل وقت میں فتح کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ میں اُن تمام جانبازوں خاص طور پر فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کرخطہ قراقرم کو ڈوگروں کی غلامی سے نجات دلا کر ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔مگر افسوس کہ قوموں کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال موجود ہو کہ جب کوئی ریاست آزادی کے بعد صرف چودہ دن تک دنیا کے نقشے پر اپنی خود مختاری کو برقرار رکھ سکی ہو۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ جس طرح آزای ایک حقیقت تھی بالکل اسی طرح یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس انقلاب کو ناکام بنانے کے لیے میجر براون اور ان کے حواریوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔ ان اصحاب نے الحاق کے نام پر ہمارے قومی ہیروز کو دیوار سے لگا کر بغیر کسی معاہدے کے ایک تحصیلدار کے ہاتھ میں خطہ قراقرم کا نظم و نسق تھما دیا تھا۔کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ حصے ایک عرصے تک مہاراجہ کشمیر کے زیر نگیں رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہاراجہ سے پہلے جموں و کشمیر پر لداخی بلتی اور گلگتی بادشاہوں نے طویل حکمرانی کی ہے۔ لیکن جب تاریخ اپنا رخ بدلتی ہے تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ قوموں کو اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے دوسروں کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ایسا ہی کچھ گلگت بلتستان کے ساتھ بھی ہوا۔
اگر ہم سولہ نومبر سے لیکر اٹھائیس اپریل تک کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے کے باوجود اپنی جدوجہد کے ثمر ات حاصل نہیں کر سکے

 

جنگ آزادی کے وقت گلگت بلتستان کا علاقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور یہ علاقے کشمیر کے دوسرے علاقوں کی نسبت سیاسی طور پر کمزور تھے جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس وقت کے کشمیری حکمرانوں نے نہ صرف ہماری آزاد ی پر شب خون مارا بلکہ ہماری شناخت کو بھی متازعہ بنایا۔ اگر ہم سولہ نومبر سے لیکر اٹھائیس اپریل تک کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت جنگ لڑ کر آزادی حاصل کرنے کے باوجود اپنی جدوجہد کے ثمر ات حاصل نہیں کر سکے۔

 

سردار ابراہیم اور دیگر کشمیری رہنماوں کی آمد، گلگتی عوام سے پوچھے بغیر 28 اپریل 1949 میں معاہدہ کراچی کیا جانا اور اُنیس سو اکہتر میں ون یونٹ کے خاتمے تک اس خطے کو بالکل نظرانداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری آزادی کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان تاریخی زیادتیوں کا تمام تر ذمہ دار غیروں کو قرار نہیں دیا جاسکتا ہماری اپنی کوتاہیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ آزاد قوموں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آنا اور عوام کی جانب سےحقائق سے نظریں چراتے ہوئے یوم آزادی پر تالیاں بجانا یقیناًہماری کوتاہیوں کی ناقابل معافی داستان ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے رہنما اس علاقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر ہمیشہ خاموش رہے ہیں۔ ہمارے رہنما تب بھی خاموش رہے جب آزاد کشمیر کے برعکس گلگت بلتستان میں ایف۔سی۔آر کا نفاذ کیا گیا۔ اگرچہ بھٹو صاحب نے گلگت بلتستان کا دورہ کرتے ہوئے ایف۔سی۔آر کے ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی ختم کیا لیکن ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ بعدازاں ضیاالحق نے یہاں مارشل لاء نافذ کیا اور گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی بنیاد رکھی لیکن تب بھی مقامی رہنماوں نے مخالفت نہیں کی۔ ریاستی مشینری کے ذریعے یہاں لشکر کشی کی گئی لیکن کہیں سے کوئی مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی جس کا خمیازہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی بھگت رہے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ آج بھی مقامی لوگوں کے حقوق اور سیاسی شناخت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہم گلگت بلتستان والے سال میں کئی بار یوم آزادی مناتے ہیں یہ ماجرا بھی شائد ہی دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہ ملے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب کو بھی مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے پر فخر محسوس ہونے لگا ہے حالانکہ تاریخی طور پر مقامی آبادی گلگت بلتستان کو کشمیر سے علیحدہ علاقہ تسلیم کرانے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ہمارے موجودہ وزیراعلیٰ دربار اسلام آباد سے اس علاقے کو خصوصی (یعنی معذور) صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ ایک اور پروگرام میں موصوف مسلک کی بنیاد پر ریاست کا سودا کرنے اورعوام کو تقسیم کرنے کی طرف اشارہ کر رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا بس چلے تو ریاست کو اپنے عہدے کے عوض فروخت کردیں۔
گلگت بلتستان کی محرومیوں پر خاموشی کی ایک بڑی وجہ ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیاں ہیں۔ محدود تعداد میں مقامی سطح پر چھپنے والے اخبارات میں سچ بولنے اور لکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ان اخبارات میں قومی خبریں بھی چھان بین کے بعد ہی شائع ہوتی ہیں۔

 

گلگت بلتستان کی محرومیوں پر خاموشی کی ایک بڑی وجہ ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیاں ہیں۔ محدود تعداد میں مقامی سطح پر چھپنے والے اخبارات میں سچ بولنے اور لکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ان اخبارات میں قومی خبریں بھی چھان بین کے بعد ہی شائع ہوتی ہیں۔ وزیر اعظم صاحب نے امریکہ یاترا کے دوران ایک انٹرویو میں فرمایا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی سیاسی قیدی نہیں، شاید گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کی جبری حراست انہیں سیاسی قید نہیں لگتی۔ سچ تو یہ ہے کہ آج بھی یہاں ریاستی حقوق کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سرکاری طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس وقت کئی مقامی رہنما گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کی جیلوں میں غداری کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، ان کا جرم صرف یہ ہے کہ یہ ریاست سے اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے شناخت اور حقوق مانگتے ہیں۔ ہمارے سابق وزیراعلیٰ سے لےکر موجودہ حکمرانوں تک کو کسی کومعلوم ہی نہیں کہ ہمارے اصل مسائل کیا ہیں۔ مقامی رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم نے پاکستان کے ساتھ (جبراً یا رضامندی کے ساتھ) الحاق کیا تھا تو اب ہمیں قبول کیجئے مگر وفاق ہمیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق گلگت بلتستان ‘آئینی طور پر’ پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان کے عوام کو آئین پاکستان کے تحت پاکستانی شہریوں کو حاصل حقوق میسر نہیں۔ لیکن کیا کریں ہمارے سیاست دان اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ ہماری محدود حیثیت کی وجہ سے ہمارے مسائل بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن عام ہو چُکی ہے، جدید تعلیم کا فقدان ہے، زراعت، معدنیات اور سیاحت کے حوالے سے تمام تر قدرتی وسائل موجود ہونے کے باوجود ہم آج بھی اسلام آباد سے گندم کی بھیگ مانگ رہے ہیں کیا آذادی کا مطلب یہی ہے ؟کیا یہی ہماری قربانیوں کا صلہ ہے؟

 

ہمیں یکم نومبر کوآزادی کا دن منا کر اپنے اوپر ماتم کرنے کے بجائے آزادی کی روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حق خود ارادیت حاصل کرنے کےلیے کوشش کرنی ہوگی۔ وفاق پاکستان کو بھی چاہیئے کہ اس مسئلے پراب تسلیوں سے کام چلانے کے بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت جو نظام یہاں رائج ہے اس نظام سے یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ یہاں کے عوام آج بھی صحت،تعلیم، خوراک، روزگار اور بہتر سہولیات کےلیے ترس رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام اب ‘متازعہ’ نہیں رہنا چاہتے انہیں اپنی شناخت اور پہچان چاہیئے۔ اس مقصد کے لیے فوری قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ مقامی آبادی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

ریفرنڈم ہو مگر کیسے۔۔؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔مجھے نہیں معلوم کہ اس بیان پر کس حد تک عمل درآمد ہوگا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ یہی بات اگر ہمارے خطے سے کوئی اُٹھ کر کہے تویہ امر یقیناً وفاق کے لیےناقابل برداشت ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں بقول قاری حفیظ صاحب ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی باتیں کرنے والے(یعنی سچ بولنے والے) غدارکہلائیں گے۔ غداری کی مہر لگنے کےاسی خوف نے آج گلگت بلتستان کے صحافیوں اور دانشوروں کو اہم قومی معامللات پرلب سینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم وہ بات بھی نہیں کہہ سکتے جو وفاقی وزارء، کشمیری رہنما اور ترجمان وزارت خارجہ وغیرہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کرتے ہیں۔اگر ہم پچھلے ایک سال کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وفاق اور کشمیر سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات نے گلگت بلتستان کی شناخت اور آئینی حیثیت کے حوالے سے وہ باتیں کی ہیں جو اگر وہاں کے باشندے کریں تو ان پر نہ جانے کس کس ملک کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جائے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کے بارے میں دیئے گئے سرکاری اور غیر سرکاری بیانات کا جائزہ لیا جائے تو شاید غداری کے الزام سے بچتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک متازعہ خطہ ہے ۔ لیکن یہ سچ کھلے عام نہیں بولا جاسکتا کہ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کےالحاق کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں اور اسے چند لوگوں کی سازش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان آج بھی آئینی اور سیاسی حقوق سے محروم ہے۔ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا سدباب اب ضروری ہے کیونکہ یہ محرومی اب ایک لاوے کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ہماری قانونی حیثیت اور پاکستان کو گلگت بلتستان کی وجہ سے ملنے والے سیاسی، جعرافیائی اور دفاعی فوائد کے بدلے میں مقامی لوگوں کو وسائل پر اپنا حق نہ ملنے کی وجہ سے احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا وفاق کو اب اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنی ہوگی۔ وفاقی وزارء کو متنازعہ بیانات دےکر معاملے کو مزید خراب کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کے قوانین اورانقلاب گلگت بلتستان کے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس نظام کو وفاق نے ‘حکومت ‘کا نام دے کر قانون سازی کے محدود اختیارات دے کر گلگت بلتستان میں نافذ کیا ہوا ہے وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اس لیے اب اس خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے کسی نئے بندوبست کی ضرورت ہے۔
ریفرنڈم یقیناً بہترین فیصلہ ہوگا اور پاکستان کو اس حوالے سے مخلص ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کی خود مختاری کے لیے آئین سازی کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کیونکہ جو نظام وفاق نے یہاں نافذ کیے ہیں اُن سے کچھ خاندانوں کے سوا عوام میں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ انہی چند مخصوص مراعات یافتہ لوگوں کی وجہ سے آج گلگت بلتستان کے عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ غیرمقامی لوگ حکومتی اراکین اور اہل سیاست سے مل کر ہمارے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر لُوٹ رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حقوق پر کسی بھی قسم کی سودےبازی نہ ہو ۔ گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی کسی ملک کے قانونی شہری کہلائیں ۔کارگل سے لےکر ساچن تک کے ٹو سے لے کر کشمیر تک پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والے گلگت بلتستان کے باشندے اب کسی ریاست کے باشندے بنیں۔
گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔
ریفرنڈم کے عمل کو مزید شفاف بنانے اور عوام کو جبر اور دباو کے بغیر فیصلہ کرنے کا موقع دینے کے لیے بس یہی گزارش ہے کہ اقوام متحدہ کو نگران کے طور پر دعوت دی جائے تاکہ مسقتبل میں بھارت یاکوئی اور ملک اس حوالے سے اعتراض نہ کرے۔اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں جب قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب یہاں کے عوام کو گندم کی سبسڈی پرگزارا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ یہاں کے لوگ خود گندم کاشت کرنا شروع کردیں گے۔ اس وقت بدقسمتی سے زراعت کے حوالے سے نعرے تو خوب لگ رہے ہیں لیکن زراعت کے فروغ کے لیے کوئی خصوصی بجٹ نہیں۔ اسی طرح سیاحت کی صنعت بھی دم توڑی رہی ہے۔ ریفرنڈم کے بعد ممکن ہے کہ اس اہم شعبے میں جان پڑ جائے اور اس جنت نظیر خطے دروازے دنیا بھر کے سیاحوں پر کھل جائیں اور ملکی اور غیر ملکی سیاح بغیر کسی خوف کے یہاں سیاحت کے لیے آ جا سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق میں بیٹھے اہل دانش اس حوالے سے کب فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان عوام تو اس ریفرنڈم کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ آج تک وفاق کی طرف سے جو بھی بجٹ منظور ہوئے ہیں وہ عوام فلاح کے لیے کم اور سیاست دانوں کی ترقی پر زیادہ استعمال ہوئے ہیں جس کا واضح ثبوت تباہ حال انفراسٹرکچر، انحطاط پذیر سرکاری ادارے، خستہ حال گلگت سکردو روڈ، ٹوورازم ڈیپارٹمنٹ کے خستہ حال موٹل اور گلگت اور سکردو بازار کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ اپنی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ریفرنڈم ہے اور وفاق کو جلد از جلد اس مطالبےکو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ مقامی لوگ کے لیے پاکستان پہلے سے زیادہ اجنبی جگہ بن جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

تھری جی ،فور جی اور ایس سی او

عصر حاضر میں انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت اورانسانی زندگی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔ پہلے رابطے کے لیے خط لکھے جاتے تھے مگر زمانے کی ترقی کے باعث قلم کی جگہ کی بورڈ، کتاب کی جگہ ای بُک اورخط کی جگہ ای میل نے لے لی ہے۔ انہی ضروریات کے پیش نظر گزشتہ سال پاکستان میں بھی تھری جی اورفور جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔ یوں تو ترقی یافتہ ممالک اس ٹیکنالوجی سے بھی آگے نکل کرفور جی ایڈوانس تک پہنچ چکے ہیں لیکن ریاست گلگت بلتستان کو ہمیشہ کی طرح کے اس سہولت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ ارباب اختیار کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا جانا ضروری ہے کیوں کہ جس طرح ملک کے دوسرے شہروں میں رہنے والےموبائل انٹرنیٹ کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں بالکل اسی طرح سرزمین ِبے آئین کے عوام کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ جدید دنیا سے منسلک ہوں۔
گلگت بلتستان میں ٹیلی کام نظام ابھی تک بیسویں صدی کے اواخر کے ذرائع مواصلات تک محدود ہے۔ متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اس خطے میں ٹیلی کام سیکٹر براہ راست پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے دائرہ کار میں نہیں آتا یہی وجہ ہے کہ ٹیلی کام کے شعبے میں پاکستان میں ہونے والی ترقی کے اثرات اس خطے کے عوام تک نہیں پہنچ پائے۔ اس خطے میں ٹیلی کام کا ادارہ افواج پاکستان کے ماتحت ہے جسے اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کہا جاتا ہے یہ ادارہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سطح پر عسکری مواصلاتی ضروریات پورا کرنے کیلئے 1976میں قائم کیا گیاتھا، بعد ازاں اس ادارے کے ذریعے سول آبادی کو بھی مواصلات کی سہولیات فراہم کر دی گئیں۔ اب یہ ادارہ مقامی آبادی کو ‘ایس کام’ کے نام سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی فراہم کررہا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ ادارہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی بجائے پولو میچ کرانے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
گلگت بلتستان میں ٹیلی کام نظام ابھی تک بیسویں صدی کے اواخر کے ذرائع مواصلات تک محدود ہے۔
گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کاٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتایہی وجہ ہے کہ ایس کام اورایس سی او اس وقت یہاں کے باشندوں کو بلا محصول خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن اس نظام میں جہاں اچھائیاں ہے وہاں اس نظام کو بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ آج دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے کئی مراحل طےکیے جا چکے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے باشندے تاحال تیزرفتار انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات سے محروم ہیں۔آج جہاں ایک طرف جہاں پاکستان کے باقی علاقوں کے عوام تھری جی اور فور جی کی سہولت سے لطف اندوز ہورہے ہیں تو دوسری طرف گلگت بلتستان کے باشندے آج بھی انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کردہ انٹرنیٹ کی سہولت ابھی تک صرف شہری آبادیوںمیں دستیاب ہے اور رفتار کے اعتبار سے بے حد غیر معیاری ہے۔
نجی موبائل فون کمپنیاں موبائل سروس کے نام پر کڑوروں روپے غیر قانونی طور پر ٹیکس کی مد میں وصول کر رہی ہیں اورمقامی حکومت اس معاملے سے بالکل لاتعلق ہے جس کی واضح مثال اس خطے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کا نہ ہونا ہے۔ جس طرح دوسرے شہروں کے عوام کو مواصلات کے جدید ذرائع استعمال کرنے کا حق ہے بالکل اسی طرح گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ان سہولیات کے حصول کا حق حاصل ہے۔ اس خطے کے لوگ بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے کر غیر ملکی زردمبالہ کے ذریعے ملکی معاشی ترقی میں اپناکردار ادا کر رہے ہیں اس لیے یہاں کے عوام کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
آج جہاں ایک طرف جہاں پاکستان کے باقی علاقوں کے عوام تھری جی اور فور جی کی سہولت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو دوسری طرف گلگت بلتستان کے باشندے آج بھی انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں
ایس سی او کی موبائل اور انٹرنیٹ سہولیات شہری علاقوں کے ساتھ دیہی اور بالائی علاقوں تک پہنچانے کی بھی ضرورت ہے۔ اسی طرح نجی موبائل کمپنیوں کو بھی یہاں کی متازعہ حیثیت کے پیش نظر ٹیکس فری تھری جی سروس مہیا کرنی چاہیئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت خطے میں پچاس کے قریب ایس سی او فرنچائیز موجود ہیں جن میں سے صرف بیس کے قریب مراکز پر انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے جو آبادی کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ سی ایس او کو چاہیئے کہ ترجیحی بنیادوں پر اپنے تمام مراکز پر ڈی ایس ایل کی سہولت فراہم کرے۔ یہاں کے عوام پہلے ہی ہر شعبے میں نظراندازکیے جانے کے سبب احساس محرومی کا شکار ہیں۔ دفاع، سیاحت، کوہ پیمائی سمیت ہر شعبے میں یہاں کے عوام پاکستان کی خدمت کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے جب یہاں کے مسائل اور سہولیات کی عدم دستیابی کی بات اٹھائی جاتی ہے تو متنازعہ خطہ ہونے کا بہانہ بنا کر یہاں کے باشندوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس روش کوترک کرنا اب ضروری ہو گیا ہے۔ تمام تر قربانیوں کے باوجود گلگت کے عوام کو کو دیوار سے لگائے رکھنا ناانصافی ہے۔ یہاں کے عوام نے مملکت پاکستان کے خلاف کبھی کوئی نعرہ بلند نہیں کیا حالانکہ پاکستان کے خود مختار صوبوں میں تمام تر سہولیات کے باوجود آج بھی کہیں سندھو دیش، تو کہیں آزاد بلوچستان کے نعرے لگ رہے ہیں۔لہذا اس خطے کی دفاعی اورجعرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے کشمیر کے قضیے سے علیحدہ کر کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے راستے ڈھوندنے چاہیئں کیونکہ یہاں کے عوام جب باہر کی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں کئی سولات جنم لیتے ہیں ۔ حاکم وقت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان کی ذمہ داریاں صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدودنہیں بلکہ یہاں بسنے والوں کی معاشی ضروریات پوری کرنا بھی وفاق کے فرائض میں شامل ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی تمام تر قربانیوں کے باوجود اقتصادی راہداری منصوبے میں شرکت ، تعلیم ،سائنس اور ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کی جدید سہولیات سے محروم رکھنا اس خطے کے عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہے لہٰذا امید کرتے ہیں کہ ارباب اختیار اس خطے کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات کریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان اور پاک چین اقتصادی راہداری

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک علاقے کو آئینی صوبہ بنانا یا پھر آئینی حقوق دینا ممکن نہیں ہے۔
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے چند روز قبل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گلگت میں اعلان کیا تھا کہ علاقے کو آئینی حقوق دینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائےگی۔ اس سلسلے میں امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز صاحب کو ذمہ داری دی گئی تھی۔ وزیر اعظم کے اس اعلان نے علاقے کے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو یہ ڈھارس بندھائی تھی کہ شائد اب جبر کے دن تھو ڑے ہیں۔ لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس کمیٹی کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ یعنی، اب کمیٹی بنانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی کیونکہ بوجوہ، ایسا گمان ہوتا ہے کہ اگر کمیٹی وجود میں آبھی جاتی تو اس سے گلگت بلتستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے تھے۔
گلگت بلتستان ایک عجیب وغریب خطہ ہے۔ یہ پاکستان کا واحد علاقہ ہے جس کے باشندے ملک میں شمولیت کے لیے گزشتہ چھ
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔
دہائیوں سے کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسا بہت کم ملکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں مرکز سے الگ ہونے کی تحریکیں تو بہت ہیں، لیکن مرکز میں شامل ہونے کی تڑپ رکھنے والے اس علاقے کے باشندے اپنی جگہ منفرد ہیں۔ آج بھی تمام تر محرومیوں کے باوجود یہاں کے زیادہ تر باسی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور صرف نعروں پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ اس علاقے کے جوان سرحدوں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں افواج پاکستان اور دیگر مسلح اداروں میں شامل ہو کر قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ اس علاقے کے بیٹے اور بیٹیاں ریاستی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود دنیا کی بلند و بالا چوٹیوں پر ہلالی پرچم لہرا چکے ہیں اور فخر سے سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ لیکن پاکستان انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے، حقوق دینے اور منتخب و غیر منتخب ریاستی اداروں میں نمائندگی دینے سے مسلسل گریزاں ہے۔
حال ہی میں بنائی گئی بائیس رکنی کمیٹی کی مثال لیجئے جس کے ذمے پاک چین اقتصادی راہداری کی نگرانی کا اہم اور انتہائی نازک کام ہے۔ مذکورہ کمیٹی میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نمائندے شامل ہیں، لیکن ڈھونڈے سے بھی کوئی نام گلگت بلتستان سے نہیں ملے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کو اس منصوبے میں کوئی حصہ نہیں دیا جائےگا، باوجود اس حقیقت کے کہ شاہراہ قراقرم، جسے توسیع دے کر پاک چین اقتصادی راہداری بنایا جارہا ہے، گلگت بلتستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے ، یعنی بھاشا سے خنجراب تک پھیلی ہوئی ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری نگران کمیٹی میں نمائندگی سے محروم گلگت بلتستان کے عوام اس منصوبے کے اہم حصے دار ہیں، کیونکہ اس کی تعمیر میں علاقے کے وسائل استعمال ہو رہے ہیں، اور جن علاقوں سے یہ راہداری گزرتے ہوے چین میں داخل ہوتی ہے، وہ اس “متنازعہ” خطے کے “متنازعہ” باسیوں کی قانونی ملکیت ہے ۔
میرے خیال میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کی ریاست گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ایک نیا اور مضبوط عمرانی معائدہ کرے تاکہ آئینی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کی حقِ ملکیت تسلیم کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے وسائل اور آمدنی کے منصفانہ استعمال کی سبیل ہو سکے۔
گلگت بلتستان کے باشندے اقتصادی راہداری کی نگرانی کے لیے بنی اس بائیس رکنی کمیٹی کو گلگت بلتستان کے حقوق کا محافظ تسلیم نہیں کر سکتے۔ یہ ایک غیر نمائندہ کمیٹی ہے جس سے گلگت بلتستان کے لوگوں کے قانونی، معاشی اور اقتصادی حقوق کی پاسداری کی توقع رکھنا خودفریبی کے مترادف ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ مجوزہ راہداری کے خلاف نہیں لیکن موجودہ سیاسی و غیر آئینی نظام میں اس راہداری سے ہم خاطر خواہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے دیامر بھاشاڈیم، بونجی ڈیم اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے بہت اہم ہیں اور یہ سارے منصوبے گلگت بلتستان کی سرزمین پر تعمیر ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں اس آئینی طور پر محروم خطے کے غریب عوام کو تمام منصوبوں میں نہ صرف نمائندگی دیں بلکہ حقوق کے تحفظ کے لیے واضح، منصفانہ اور شفاف طریقہ کار اور حکمت عملی وضع کرے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے گلگت بلتستان کو فائدہ پہنچانے کے لیے لازمی ہے کہ علاقے کونیشنل فائنانس کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور وسائل کی تقسیم کے دیگر مرکزی آئینی اداروں میں نمائندگی دی جائے ۔ میرے خیال میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کی ریاست گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ایک نیا اورمضبوط عمرانی معائدہ کرے تاکہ آئینی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کی حقِ ملکیت تسلیم کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے وسائل اور آمدنی کے منصفانہ استعمال کی سبیل ہو سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے کے باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تیزی سے پھیلتے احساسِ محرومی کے اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل

پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد سے آج تک کبھی نواز شریف، کبھی پرویز مشرف تو کبھی ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ سبھی آصف علی زرداری پر الزامات کی اس تواتر سے بوچھاڑ کرتے رہے ہیں کہ ان کے بارے میں سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنا بے حد دشوار ہے۔ آصف علی زرداری صاحب کی ذات اور محترمہ کی زندگی میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات سے قطع نظر پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کے لیے لیے اس وقت یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی جماعت کہلانے والی جماعت آج ایک صوبے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صورت حال کا ذمہ دار عموماً آصف علی زرداری کو قرا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے نہ تو کوئی کارکن خوش ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں۔ کراچی سے پیپلزپارٹی کا وجود مٹ چکا ہے اور کوئی نوجوان اس جماعت میں شمولیت یا اس کی حمایت کو تیار نہیں، آج کا نوجوان بھٹو یا بی بی کی شہادت یا ان کی غریب پرور سیاست سے واقف نہیں، آج کے ووٹر کے لیے پیپلز پارٹی کا تعارف آصف علی زرداری کی پانچ سالہ حکومت ہے اور اس دور میں روا رکھے جانے والی مالی بدعنوانیاں اور بدترین حکومتی کارکردگی ہے۔ یقیناً آصف علی زرداری اور ان کے قریبی رفقاء نے پیپلز پارٹی کو مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے اور ان کا اور ان کے کرپٹ ساتھیوں کا احتساب ضروری ہے۔
پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں
گزشتہ دنوں فوجی قیادت کے خلاف آصف علی زرداری کی پریس کے بعد سے شروع ہونے والے سیاسی بحران کے بعد سے پاکستان کے جمہوری نظام کا مستقبل ایک بار پھر خدشات کا شکار ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے تیور یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کا بیان پیپلز پارٹی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے جو مسلم لیگ نواز سے مصالحت کے خاتمے اور حزب اختلاف کے طور پر مزاحمت اور احتجاج کی سیاست ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پیپلز پارٹی ایک بار پھر ماضی کی طرح ایک فعال، متحرک اور مقبول جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے اور کیا تحریک انصاف کی جانب مائل نوجوانو ں کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے یا نہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت بری طرح کم ہوئی ہے اور اس اک ووٹ بنک تقسیم ہو چکا ہے۔ اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو بڑھانے اور اگلے انتخابات جیتنے کے قابل ہونے کے لیے پیپلز پارٹی کو ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔
زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے
نوجوان بلاول بھٹو زرداری وہ ترپ کا پتہ ہیں جو پیپلز پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔ بہت جلد پاکستان میں سیاست دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کو ہے جس میں سے ایک دھڑا عسکری قیادت کی پشت پناہی اور حمایت کا خواہاں نظر آتا ہے تو دوسری جانب ایک کم زور دھڑا ان سیاسی جماعتوں پر مشتمل بنتا نظر آتا ہے جو عسکری مداخلت کے مخالف ہیں۔ ایک جانب مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ہیں جو کسی بھی صورت میں عسکری قیادت کو ناراض کرنے کے قائل نہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی، ایم کیوا یم اور اے این پی کا سابقہ اتحاد اکٹھا ہوتا نظر آرہا ہے جو عسکری قیادت کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج کرے گا۔
پیپلز پارٹی یقیناً آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نواز حکومت کو دباو میں لا کر فوج اور پیپلز پارٹی میں سے پیپلز پارٹی کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا یہ چال کامیاب بھی ہوگی ؟ اس کا دارومدار مکمل طور پر بلاول بھٹو کے طرز سیاست پر ہے۔ اگر چہ اس وقت عمران خان کی pro-establishment سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے اور وہی وقت پیپلز پارٹی کی تشکیل نو کا وقت ہو گا۔
اس وقت عمران خان کی (pro-establishment) سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے
بلاول کے سامنے ایک ایسی جماعت ہے جو عملاً مفلوج ہو چکی ہے اور جس کی مقبولیت اور سندھ حکومت اس وقت داو پر ہے لیکن بلاول بھٹو کے پاس وہ میراث ہے جو اسے طالع آزما جرنیلوں، ملاوں اور دائیں بازو کے سرمایہ دار دوست سیاستدانوں کو للکارنے للکارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بلاول کو اپنی جماعت کی تشکیل نو کرنا ہو گی، نئے سرے سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور خؤد کو اس بدعنوان ٹولے سے علیحدہ کرنا ہوگا جس نے پیپلز پارٹی کو گزشتہ ایک دہائی سے نرغے میں لے رکھا ہے۔ بلاول کو اپنے والد سے مختلف سیاست اور اپنے والد سے منفرد طرز حکومت کی داغ بیل ڈالنی ہو گی اور پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شریف برادران کے لیے حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالول کو ایک ایسی چومکھی لڑنی ہے جس میں پیپلز پارٹی ہی نہیں پاکستان کا جمہوری اور امن پسند مستقبل بھی داو پر لگا ہوا ہے۔ یہ اس آئین کی بقاء کی جنگ ہے جسے ضیاء الحق اور اس کی باقیات نے بگاڑاہے۔ یہ ایک ڈھکے چھپے مارشل لاء کے چہرے کا جمہوری نقاب اتارنے کی جنگ ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اس وقت صرف پیپلز پارٹی کے پاس یہ طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو یاددلائے کے حکومت اور پالیسی سازی چند جرنیلوں کا کام نہیں بلکہ عوام کا استحقاق ہے۔ پیپلز پارٹی اگر بلاول کی سربراہی میں اپنا وجود قائم رکھ سکی تو وہ وقت دور نہیں جب جرنیلوں کے سیاہ اعمال نامے ذرائع ابلاغ پر بریکنگ نیوز بن کر چلیں گے اور لوگوں کو احساس ہو گا کہ اس ملک میں کرپشن ، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی سب سے زیادہ سرپرستی فوجیوں نے ہی کی ہے۔