Categories
نقطۂ نظر

ریفرنڈم ہو مگر کیسے۔۔؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔مجھے نہیں معلوم کہ اس بیان پر کس حد تک عمل درآمد ہوگا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ یہی بات اگر ہمارے خطے سے کوئی اُٹھ کر کہے تویہ امر یقیناً وفاق کے لیےناقابل برداشت ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں بقول قاری حفیظ صاحب ریاست کے خلاف کسی بھی قسم کی باتیں کرنے والے(یعنی سچ بولنے والے) غدارکہلائیں گے۔ غداری کی مہر لگنے کےاسی خوف نے آج گلگت بلتستان کے صحافیوں اور دانشوروں کو اہم قومی معامللات پرلب سینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے ہم وہ بات بھی نہیں کہہ سکتے جو وفاقی وزارء، کشمیری رہنما اور ترجمان وزارت خارجہ وغیرہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کرتے ہیں۔اگر ہم پچھلے ایک سال کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وفاق اور کشمیر سے تعلق رکھنے والی کئی اہم شخصیات نے گلگت بلتستان کی شناخت اور آئینی حیثیت کے حوالے سے وہ باتیں کی ہیں جو اگر وہاں کے باشندے کریں تو ان پر نہ جانے کس کس ملک کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگ جائے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اقتصادی راہداری کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور یہاں کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو ختم کرنے کیلئے وٖفاق کو چاہئے کہ ریفرنڈم کے ذریعے گلگت بلتستان کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔
گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کے بارے میں دیئے گئے سرکاری اور غیر سرکاری بیانات کا جائزہ لیا جائے تو شاید غداری کے الزام سے بچتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان ایک متازعہ خطہ ہے ۔ لیکن یہ سچ کھلے عام نہیں بولا جاسکتا کہ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کےالحاق کا کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں اور اسے چند لوگوں کی سازش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے گلگت بلتستان آج بھی آئینی اور سیاسی حقوق سے محروم ہے۔ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا سدباب اب ضروری ہے کیونکہ یہ محرومی اب ایک لاوے کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ہماری قانونی حیثیت اور پاکستان کو گلگت بلتستان کی وجہ سے ملنے والے سیاسی، جعرافیائی اور دفاعی فوائد کے بدلے میں مقامی لوگوں کو وسائل پر اپنا حق نہ ملنے کی وجہ سے احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا وفاق کو اب اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنی ہوگی۔ وفاقی وزارء کو متنازعہ بیانات دےکر معاملے کو مزید خراب کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کے قوانین اورانقلاب گلگت بلتستان کے پس منظر کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس نظام کو وفاق نے ‘حکومت ‘کا نام دے کر قانون سازی کے محدود اختیارات دے کر گلگت بلتستان میں نافذ کیا ہوا ہے وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اس لیے اب اس خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے کسی نئے بندوبست کی ضرورت ہے۔
ریفرنڈم یقیناً بہترین فیصلہ ہوگا اور پاکستان کو اس حوالے سے مخلص ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کی خود مختاری کے لیے آئین سازی کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کیونکہ جو نظام وفاق نے یہاں نافذ کیے ہیں اُن سے کچھ خاندانوں کے سوا عوام میں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ انہی چند مخصوص مراعات یافتہ لوگوں کی وجہ سے آج گلگت بلتستان کے عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ غیرمقامی لوگ حکومتی اراکین اور اہل سیاست سے مل کر ہمارے وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر لُوٹ رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حقوق پر کسی بھی قسم کی سودےبازی نہ ہو ۔ گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی کسی ملک کے قانونی شہری کہلائیں ۔کارگل سے لےکر ساچن تک کے ٹو سے لے کر کشمیر تک پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والے گلگت بلتستان کے باشندے اب کسی ریاست کے باشندے بنیں۔
گلگت بلتستان میں ریفرنڈم ایک طرح سے پاکستان کی بھی اہم ضرورت ہے کیوں کہ اقتصادی راہداری کی تکمیل کی راہ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کا تعین ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔
ریفرنڈم کے عمل کو مزید شفاف بنانے اور عوام کو جبر اور دباو کے بغیر فیصلہ کرنے کا موقع دینے کے لیے بس یہی گزارش ہے کہ اقوام متحدہ کو نگران کے طور پر دعوت دی جائے تاکہ مسقتبل میں بھارت یاکوئی اور ملک اس حوالے سے اعتراض نہ کرے۔اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں جب قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب یہاں کے عوام کو گندم کی سبسڈی پرگزارا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ یہاں کے لوگ خود گندم کاشت کرنا شروع کردیں گے۔ اس وقت بدقسمتی سے زراعت کے حوالے سے نعرے تو خوب لگ رہے ہیں لیکن زراعت کے فروغ کے لیے کوئی خصوصی بجٹ نہیں۔ اسی طرح سیاحت کی صنعت بھی دم توڑی رہی ہے۔ ریفرنڈم کے بعد ممکن ہے کہ اس اہم شعبے میں جان پڑ جائے اور اس جنت نظیر خطے دروازے دنیا بھر کے سیاحوں پر کھل جائیں اور ملکی اور غیر ملکی سیاح بغیر کسی خوف کے یہاں سیاحت کے لیے آ جا سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق میں بیٹھے اہل دانش اس حوالے سے کب فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان عوام تو اس ریفرنڈم کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ آج تک وفاق کی طرف سے جو بھی بجٹ منظور ہوئے ہیں وہ عوام فلاح کے لیے کم اور سیاست دانوں کی ترقی پر زیادہ استعمال ہوئے ہیں جس کا واضح ثبوت تباہ حال انفراسٹرکچر، انحطاط پذیر سرکاری ادارے، خستہ حال گلگت سکردو روڈ، ٹوورازم ڈیپارٹمنٹ کے خستہ حال موٹل اور گلگت اور سکردو بازار کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ اپنی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے ریفرنڈم ہے اور وفاق کو جلد از جلد اس مطالبےکو تسلیم کرنا ہو گا ورنہ مقامی لوگ کے لیے پاکستان پہلے سے زیادہ اجنبی جگہ بن جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

گلگت بلتستان اور پاک چین اقتصادی راہداری

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک علاقے کو آئینی صوبہ بنانا یا پھر آئینی حقوق دینا ممکن نہیں ہے۔
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے چند روز قبل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گلگت میں اعلان کیا تھا کہ علاقے کو آئینی حقوق دینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائےگی۔ اس سلسلے میں امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز صاحب کو ذمہ داری دی گئی تھی۔ وزیر اعظم کے اس اعلان نے علاقے کے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو یہ ڈھارس بندھائی تھی کہ شائد اب جبر کے دن تھو ڑے ہیں۔ لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس کمیٹی کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ یعنی، اب کمیٹی بنانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی کیونکہ بوجوہ، ایسا گمان ہوتا ہے کہ اگر کمیٹی وجود میں آبھی جاتی تو اس سے گلگت بلتستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے تھے۔
گلگت بلتستان ایک عجیب وغریب خطہ ہے۔ یہ پاکستان کا واحد علاقہ ہے جس کے باشندے ملک میں شمولیت کے لیے گزشتہ چھ
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔
دہائیوں سے کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسا بہت کم ملکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں مرکز سے الگ ہونے کی تحریکیں تو بہت ہیں، لیکن مرکز میں شامل ہونے کی تڑپ رکھنے والے اس علاقے کے باشندے اپنی جگہ منفرد ہیں۔ آج بھی تمام تر محرومیوں کے باوجود یہاں کے زیادہ تر باسی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور صرف نعروں پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ اس علاقے کے جوان سرحدوں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں افواج پاکستان اور دیگر مسلح اداروں میں شامل ہو کر قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ اس علاقے کے بیٹے اور بیٹیاں ریاستی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود دنیا کی بلند و بالا چوٹیوں پر ہلالی پرچم لہرا چکے ہیں اور فخر سے سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ لیکن پاکستان انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے، حقوق دینے اور منتخب و غیر منتخب ریاستی اداروں میں نمائندگی دینے سے مسلسل گریزاں ہے۔
حال ہی میں بنائی گئی بائیس رکنی کمیٹی کی مثال لیجئے جس کے ذمے پاک چین اقتصادی راہداری کی نگرانی کا اہم اور انتہائی نازک کام ہے۔ مذکورہ کمیٹی میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نمائندے شامل ہیں، لیکن ڈھونڈے سے بھی کوئی نام گلگت بلتستان سے نہیں ملے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کو اس منصوبے میں کوئی حصہ نہیں دیا جائےگا، باوجود اس حقیقت کے کہ شاہراہ قراقرم، جسے توسیع دے کر پاک چین اقتصادی راہداری بنایا جارہا ہے، گلگت بلتستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے ، یعنی بھاشا سے خنجراب تک پھیلی ہوئی ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری نگران کمیٹی میں نمائندگی سے محروم گلگت بلتستان کے عوام اس منصوبے کے اہم حصے دار ہیں، کیونکہ اس کی تعمیر میں علاقے کے وسائل استعمال ہو رہے ہیں، اور جن علاقوں سے یہ راہداری گزرتے ہوے چین میں داخل ہوتی ہے، وہ اس “متنازعہ” خطے کے “متنازعہ” باسیوں کی قانونی ملکیت ہے ۔
میرے خیال میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کی ریاست گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ایک نیا اور مضبوط عمرانی معائدہ کرے تاکہ آئینی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کی حقِ ملکیت تسلیم کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے وسائل اور آمدنی کے منصفانہ استعمال کی سبیل ہو سکے۔
گلگت بلتستان کے باشندے اقتصادی راہداری کی نگرانی کے لیے بنی اس بائیس رکنی کمیٹی کو گلگت بلتستان کے حقوق کا محافظ تسلیم نہیں کر سکتے۔ یہ ایک غیر نمائندہ کمیٹی ہے جس سے گلگت بلتستان کے لوگوں کے قانونی، معاشی اور اقتصادی حقوق کی پاسداری کی توقع رکھنا خودفریبی کے مترادف ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ مجوزہ راہداری کے خلاف نہیں لیکن موجودہ سیاسی و غیر آئینی نظام میں اس راہداری سے ہم خاطر خواہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے دیامر بھاشاڈیم، بونجی ڈیم اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے بہت اہم ہیں اور یہ سارے منصوبے گلگت بلتستان کی سرزمین پر تعمیر ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں اس آئینی طور پر محروم خطے کے غریب عوام کو تمام منصوبوں میں نہ صرف نمائندگی دیں بلکہ حقوق کے تحفظ کے لیے واضح، منصفانہ اور شفاف طریقہ کار اور حکمت عملی وضع کرے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے گلگت بلتستان کو فائدہ پہنچانے کے لیے لازمی ہے کہ علاقے کونیشنل فائنانس کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور وسائل کی تقسیم کے دیگر مرکزی آئینی اداروں میں نمائندگی دی جائے ۔ میرے خیال میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کی ریاست گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ایک نیا اورمضبوط عمرانی معائدہ کرے تاکہ آئینی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کی حقِ ملکیت تسلیم کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے وسائل اور آمدنی کے منصفانہ استعمال کی سبیل ہو سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے کے باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تیزی سے پھیلتے احساسِ محرومی کے اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
Categories
تبصرہ

خواجہ سراؤں کی زندگی

خواجہ سراوں کی زندگی دہکتے انگاروں پر گھسٹتی ہے ۔شاید ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں ان تڑپتی زندگیوں کے دکھ درد کا ادراک ہی نہیں بلکہ ہم کسی نہ کسی طرح ان انگاروں میں تپش بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ بالکل ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ہماری ہی طرح سوچتے اورمحسوس کرتے ہیں لیکن انہیں انسان سمجھا نہیں جاتا۔ وہ جیتے تو ہیں مگر مر مر کے،سانس تو لیتے ہیں مگر گھٹ گھٹ کے،انہیں جینے کا حق تو ہے مگر اس کے لیے انہیں بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ان کے رنگ برنگے لباس،چمکتے زیورات،روشن ورنگین چہرے،کھنکتے پائل اورلڑکھڑاتے بل کھاتے بدن میں زندگی گھسٹتی تو ہے مگر دہکتے انگاروں پہ۔ان کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے نجانے کتنی اندوہناک کہانیاں ہیں جنہیں سننے کی سکت شاید ہم میں نہ ہو۔ ہو سکتا ہے ہماری روح ان کہانیوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دے۔ایسی کہانیا ں اسی دنیا میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں مگر شاید غم کے ان جھروکوں میں جھانکنے کی ہم میں ہمت نہیں یا ان کی طرف غور کرتے ہوئے ہمارے پر جلتے ہیں۔
اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا
خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ پسا ہوا اور کمزور طبقہ ہے جس کی کمزوریوں ، پریشانیوں اور دکھوں کا ہمیں احساس تک نہیں۔وہ پیدائش سے لے کر مرگ تک کس کرب سے گزرتے ہیں ہم اس پہ غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے عذاب سے کم نہیں۔ یہ تو وہ محروم طبقہ ہے جسے اپنے حتیٰ کہ ان کےماں باپ بھی اپنانے سے ڈرتے ہیں۔اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا ۔ ان میں سے ایک ایک کی ایسی درد بھری کہانی ہے کہ سن کرشایدہی کوئی دردمند اپنے ٓانسو اور ہچکیاں روک سکے۔
خواجہ سرا ہمارےغلط معاشرتی رویوں اور رجحانات کا شکار ہیں۔وہ پیدا ہوتے ہیں، بلوغت تو کیا شاید ابھی پہلی سانس بھی نہیں لے پاتے کہ ان سے نفرت کا آغاز ہوجاتا ہے۔طرح طرح کے حیلے بہانوں کے ذریعے ان سے جان چُھڑانے کے راستے نکالے جاتے ہیں۔ ذرا بڑے ہوں تو معاشرے، بہن بھائیوں اور والدین کا امتیازی اور دردناک رویہ انہیں ان “مکمل” انسانوں کی نام نہاد مہذب دنیا چھوڑ کر اپنے جیسے “نامکمل” لوگوں کے ساتھ شہرکےکسی کونے میں رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ رشتوں کے ٹوٹنے پہ انہیں بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی دوسرے لوگوں کو،ان کے بہن بھائی ان سے رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہیں اپنے ماتھے کا کلنک سمجھتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کے ماتھے کا کلنک خواجہ سرا نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔
بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے
بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔باہر نکلیں تو طرح طرح کے طعنوں سے ان کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے۔نوجوان اپنی جوانی کے زعم میں ان پر آوازیں کستے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی کچھ متوالوں کا ضبط اور ظرف ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ان تماش بینوں کی سیٹیوں سے ان کی “تہذیب” چھلکنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور تو اور چھوٹے بچےبھی ان کے گرد اس طرح طواف کرتے ہیں جیسے انہیں مفت کے کھلونے مل گئے ہوں۔ مگرکوئی اس محروم اور مظلوم طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ٓاتا۔ حکومت کے ایجنڈہ پریہ نہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی ان کی فلاح پر زیادہ زور نہیں،میڈیا کے پاس ایان علی اور دھرنوں جیسے “اہم” موضوعات کے سوا کسی “غیراہم” اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پہ ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والوں سے بھی کبھی خواجہ سراوں کے حقوق کی بات نہیں سنی۔ کوئی انہیں بتائے کہ ان کے حقوق پہ بات کرنا بھی تونیکی ہے۔
معاشرے کے تلخ اور غیر انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراوں کی معاشی حالت بھی نہایت نا گفتہ بہ ہے۔ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے نہ وہ کسی ادارے میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعلیم ان کا مقدر بن پاتی ہے ۔معاشی طور پرانہیں کنارے سے لگا دیا گیا ہے ۔ پہلے شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پیدائش یا کسی اور اہم دن پے یہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اور ناچ گا کے کچھ کما لیا کرتے تھے مگر اب ان رجحانات میں کمی کی وجہ سے ان کا یہ اہم ذریعہ معاش بھی تقریباَ ختم ہو گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی ان کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کی تربیت اور تعلیم کے ایسا مراکز بھی نہیں جہاں یہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا معاش کما سکیں۔ایسے میں ان کے پاس بھیک مانگنے اور سیکس ورکرز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ معاشرے کا یہی رویہ ان کے بدترین استحصال کا باعث بنتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے
خواجہ سرا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کے مسائل پہ بہت کم ہات ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیئے ان کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرے اوران کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر قوانین متعارف کرائے۔غیر سرکاری تنظیموں کو ان کے مسائل پر ترجیحاً توجہ دینی چاہئیے۔ ہمیں چاہئیے کہ ان کے لیے تربیتی مراکز کا انتظام کریں اور ان کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں ۔شاید ہم سب مل کر اندھیروں میں گھری ان زندگیوں میں کچھ روشنی لے ٓائیں ۔