Categories
نان فکشن

روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا)
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں بات کروں گا)، اپنے بنیادی تصوّرات میں اس قدر الگ تھے کہ ایک دوسرے سے مزید مختلف نہیں ہو سکتے تھے۔ البتہ دونوں نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فطرت کی ساخت ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر نظرآتی ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف ہے. عمومی اضافیت ایک ایسا جامع علمی گوہر ہے جس کو ایک تنہا دماغ نے جنم دیا۔ یہ نظریہ کششِ ثقل،زمان و مکاں(Space and Time) کا ایک مربوط تصورہے۔ جب کہ دوسری جانب کوانٹم میکانیات یا کوانٹم فزکس نے بھی اتنی ہی تجرباتی کامیابی حاصل کی ہے اور ایسے سائنسی اور تکنیکی اطلاقات دیے ہیں جس نے ہماری روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے. مثال کے طور پر یہ کمپیوٹر جس پر میں یہ تجریرلکھ رہا ہوں۔ تاہم اپنے جنم سے ایک سو برس بعد بھی یہ ناقابلِ فہم پیچیدگی اورتجسس سے بھری ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کا آغازعین 1900ع میں ہوا اوراس سے ایک گہرےتفکّرکی صدی نے جنم لیا۔ جرمنی کے سائنس دان میکس پلانک نےایک فرضی سیاہ جسم میں موجود برقی میدان کی ریاضیاتی پیمائش کی جب وہ جسم حالت توازن میں ہو۔ ایسا کرنے کے لیے اس نے ہوشیاری سے کام لیا اورایک ترکیب سوچی۔ اس نے فرض کیا کہ اس میدان کی توانائی قدریوں (building blocks) یا کوانٹا(Quanta) میں منقسم ہے۔ یوں سمجھیں کہ توانائی کوئی بہتی ہوئی شے نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات (Quanta)یا پیکٹوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس تصور کی رو سے ریاضیاتی پیمائش نے بالکل وہی نتائج دیے جو تجرباتی طورپرحاصل کیے گئے تھے (اور لازماً صحیح تھے)۔ لیکن یہ نتائج مروجّہ سائنسی تصورات کے بالکل منافی تھے۔

توانائی کو ایسی چیز گمان کیا جاتا تھا جو ایک تسلسل سے تبدیل ہوتی ہے۔ ایسا سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے قدریوں یا ذرات سے مل کر بنی ہو سکتی ہے۔ توانائی کو چھوٹے چھوٹے ذرات گمان کرنا پلانک کے لیے بھی محض ایک حسابی کلیہ تھا اوروہ خود بھی مکمل طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر، یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے پانچ سال بعد ایک سادہ سے تجربے کے ذریعے یہ دیکھا کہ توانائی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرےدراصل حقیقی ہیں۔

آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی محض مسلسل لہر نہیں بلکہ ذرات یا پیکٹوں سے مل کر بنی ہے۔انہیں ہم آج ضیائیہ یا فوٹان (Photon) کہتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے مضمون کے تعارف میں لکھا کہ:
“مجھے یوں لگتا ہے کہ سیاہ جسمی شعاعیں (Blackbody Radiation)، روشنی کی دمک (Fluorescence)، بالائے بنفشی شعاؤں (Ultraviolet Rays)کے ذریعےمنفی شعاعوں (Cathode Rays)کی پیداواراورروشنی کے اخراج یا تبدیلیِ ہیت کے ساتھ منسلک دوسرے عوامل کوزیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ روشنی کی توانائی مکاں میں غیرمسلسل انداز میں منقسم ہے۔ اس مفروضے کی مطابق ایک نقطے سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاع مکاں میں مسلسل بڑھتے تناسب کےساتھ مساوی طورپرمنقسم نہیں بلکہ محدود مقداری روشنی کے ذرات یعنی ‘کوانٹا’ پر مشتمل ہے جوعام ذرات کی طرح خلا میں ایک خاص مقام پر موجود ہوتے ہیں اور انہیں مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مکمل اکائی کی شکل میں خارج یا جذب کیے جا سکتے ہیں”۔

یہ سادہ اور واضح سطور کوانٹم میکانیات کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ آئن سٹائن کےاس ابتدائی جملے پرغور کریں “مجھے یوں لگتا ہے۔۔۔۔”، جوکہ چارلس ڈارون کے ابتدائی جملے “میں سوچتا ہوں۔۔۔” کی یاد دہانی کراتا ہے جب اس نے اپنی تحقیقی ڈائریوں میں انواع کے ارتقا کا تصورپیش کیا تھا۔ یا فیراڈے کی وہ “ہچکچاہت” جو اس نے مقناطیسی میدان کا انقلابی تصور متعارف کراتے ہوئے ظاہر کی تھی۔ یقیناً نابغے ہچکچاتے ہیں۔
ابتدا میں آئن سٹائن کے سائنسی کام کو اس کے ہم عصروں کی طرف سے ایک بہت ہی ذہین نوجوان کا “لایعنی بچپنہ”سمجھا گیا۔ لیکن بعد میں اسے اسی کام پر نوبل انعام دیا گیا۔ اگرمیکس پلانک اس نظریے کا باپ ہے تو آئن سٹائن ان والدین میں سے ہے جس نے اس کی پرورش کی۔

اپنےاعتراضات کی وجہ سےآئن سٹائن نےاس نظریے کا مکمّل اعتراف نہیں کیا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح یہ نظریہ بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔ البتہ بیسویں صدی کی دوسری اورتیسری دہائی میں نیل بوہر نے اس نظریےکو مزید مستحکم کیا۔ نیل بوہرنے یہ آگہی حاصل کی کہ جوہروں(Atoms) کےاندربرقیوں یا الیکٹرانوں (Electrons) کی توانائی بھی روشنی کی توانائی کی طرح مخصوص قیمت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ کہ الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں ایک خاص توانائی سے ہی چھلانگ لگا سکتے ہیں اورجب وہ ایسا کرتے ہیں تو دو مداروں میں توانائی کے فرق کےبرابرایک فوٹان خارج یا جذب کرتے ہیں۔ یہ مشہورکوانٹمی جستیں (Quantum Leaps) ہیں۔ ڈنمارک کے شہرکوپن ہیگن میں واقع یہ نیل بوہرکا انسٹی ٹیوٹ ہی تھا جہاں بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغ اس نئی جوہری دنیا کی حیران کن خوبیوں پر ہونے والی تحقیق میں ایک نظم (Order) لانے کے لیے اکٹھے ہوئے اوراس سے ایک جامع ((Coherent نظریے نے جنم لیا۔ بالآخر1925ع میں اس نظریے کی ریاضیاتی مساواتیں ظہورپذیر ہوئیں جنہوں نے نیوٹن کی میکانیات کومکمل طور پر تبدیل کردیا۔

ایک کامیابی کا تصور کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک ہی دھچکے میں ہر چیز قابلِ فہم بن جاتی ہے اور آپ ہر چیز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں: آپ کو مینڈلیف کا بنایا ہوا دوری جدول یاد ہے؟ جس میں ہائیڈروجن سے لے کر یورینیم تک وہ تمام عناصردرج ہیں جن سے مل کر ہماری کائنات بنی ہے اور جوہمارے اسکولوں اور کالجوں کے بہت سارے کمروں کی دیواروں پرلٹکا ہوتا ہے؟ دوری جدول میں جو عناصر موجود ہیں وہ خاص طور پراسی جگہ پر کیوں ہیں جہاں وہ ہیں اور دوری جدول کی خاص طور پر یہی ساخت کیوں ہے جس میں پیریڈ ہیں اوران کیمیائی عناصر کی مخصوص خصوصیات ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہرعنصرکوانٹم میکانیات کی بنیادی مساوات کے ایک خاص حل سےمطابقت رکھتا ہے۔ تمام کی تمام کیمسٹری ایک ہی مساوات سے نکلتی ہے۔
اس نئے نظریے کی مساوات جو کہ دماغ کو ماؤف کر دینے والے مشکل تصورات پر مبنی تھی، کا خالق جرمنی کا ایک نوجوان نابغہ وارنر ہائزن برگ تھا۔ ہائزن برگ نے فرض کیا کہ الیکٹران ہروقت اپنا وجود نہیں رکھتے۔ یہ صرف اس وقت وجود رکھتے ہیں جب کوئی شخص یا کوئی شئے انہیں دیکھتی ہے یا پھر جب وہ کسی دوسری چیز سے تعامل کرتے ہیں۔ جب یہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتے ہیں تو اس جگہ پر کسی خاص امکان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ایک مدار سے دوسرے مدار تک کوانٹمی جستیں ان کے حقیقی ہونے کا وسیلہ ہیں۔ ایک الیکٹران ایک تعامل سے دوسرے تعامل تک جستوں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی چیز اس سے تعامل نہیں کر رہی ہوتی تو یہ کسی بھی خاص مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہیں بھی “موجود” نہیں ہوتا۔

یہ بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے حقیقت کا خاکہ تیار کرنے میں مکمل اورگہرے خط کھینچنے کی بجائے محض دھندلی اورادھوری سی کچھ نیم مکمل لائنیں کھینچ دی ہیں۔

کوانٹم میکانیات میں کسی بھی جسم کا کوئی خاص مقام متعین نہیں ہوتا سوائے جب وہ کسی دوسرے جسم سے ٹکراتا ہے۔ ان دو تعاملات کے درمیانی وقفے میں اسے بیان کرنے کے لیے ایک تجریدی کلیے کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کا وجود حقیقی کی بجائے تجریدی ریاضی میں ہے۔ لیکن ابھی اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ باقی ہے۔ الیکٹرانوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان تعاملاتی جستوں (Interactive Leaps) کی پیش گوئی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ بے ترتیب ہوتی ہیں۔ صرف اس امکان (Probability) کا حساب لگانا ممکن ہے کہ الیکٹران کا ظہور یہاں ہو گا یا وہاں، نہ کہ اس کا کہ اس کا ظہور کسی خاص مقام پر ہوگا۔ ان امکانات کا سوال فزکس کی اساس تک جاتا ہے جہاں بظاہرہرچیزخاص قوانین کے تحت کام کرتی محسوس ہوتی ہے اورجو ہمہ گیراورناقابلِ تغّیر ہیں۔

کیا یہ لامعنی محسوس ہوتا ہے؟ یہ آئن سٹائن کو بھی بے معنی ہی لگا تھا۔ ایک طرف تواس نے ہائزن برگ کے اس نظریے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا نام نوبل انعام کے لیے تجویزکیا کہ اس نے دنیا کے بارے میں کسی بنیادی چیز کو سمجھا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جہاں وہ اس نظریے کے خلاف بڑبڑا نہ سکے کہ یہ تصوّر اس کے نزدیک قرین قیاس نہیں۔

کوپن ہیگن کے نوجوان افسردہ تھےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئن سٹائن ایسا سوچے؟ان کا روحانی باپ جس نے ناقابلِ تصورکو تصورمیں لانے کی جرّات کی، اس نامعلوم (Unknown) کی جانب ایک نئی جست لگانے سے گھبرا رہا تھا جس کی بنیاد اس نےخود رکھی تھی۔ وہی آئن سٹائن جس نے ثابت کیا تھا کہ وقت ہمہ گیر نہیں ہے اور مکاں منحنی ہے، اب کہہ رہا تھا کہ دنیا “اس قدر”عجیب نہیں ہو سکتی۔

بوہر نے نہایت تحمل سے آئن سٹائن کوان تصورات کی وضاحت پیش کی۔ آئن سٹائن نے اعتراضات کیے۔ اس نے ان نئےتصورات میں موجود تضادات ثابت کرنے کے لیے تخیّلی تجربات (Thought Experiments) ترکیب دیے۔ روشنی سے بھرے ایک ڈبے کا تصور کریں جس سے ہم صرف ایک فوٹان کوباہرآنے دیتے ہیں اوریوں آئن سٹائن کی مشہورمثال “روشنی کے ڈبّے والا تخیلی تجربہ” کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار بوہر کوئی ایسا جواب دھونڈ لیتا جس سے ان اعتراضات کو رد کیا جا سکے۔ سالوں تک ان کا مکالمہ خطوط، دروس اور مضامین کے ذریعے جاری رہا۔ تبادلہ خیال کے دوران دونوں شخصیات کو اپنے خیالات پرنظرثانی کرنےاوران کوتبدیل کرنے کی ضرورت پڑی۔ آئن سٹائن کو بالآخر یہ ماننا پڑا کہ نئے تصورات میں تضادات نہیں ہیں اور بوہر کو یہ ماننا پڑا کہ چیزیں اتنی آسان اور سادہ نہیں ہیں جتنی اس نے پہلے سمجھی تھیں۔ آئن سٹائن اس پر بالکل نرمی نہیں برتنا چاہتا تھا جو اس کے لیے سب سے اہم مسلہ تھا: کہ اس سے بالاتر کہ کون سی چیز کس سے تعامل کرتی ہے، کائنات کی ایک معروضی حقیقت موجود ہے۔ جب کہ بوہرنے اس نئے نظریے پر، جس نے حقیقت کی عمیقیت کو نئے انداز میں تصور کیا، کوئی شک نہ کیا۔ بالآخر آئن سٹائن نے مان لیا کہ یہ نظریہ دنیا کے متعلق ہماری فہم میں بہت بڑی جست ہے۔ وو اس بات پربھی قائم رہا کہ چیزیں جتنی عجیب نظرآتی ہیں اتنی ہیں نہیں۔ یقیناً ان مظاہر کے پیچھے قابل فہم وضاحت موجود ہے۔

آج ایک صدی بعد بھی ہم اسی مقام پرکھڑے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مساواتوں اوران کے مضمرات کو طبیعیات دان، کیمیا گر، انجینئراورحیاتیات دان روزمرہ زندگی کے بہت سارے مختلف علمی میدانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مساواتیں ہم عصر ٹیکنالوجی میں بہت کار آمد ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے بغیر الیکٹرانکس مثلاّ ٹرانسسٹر کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ ان کےعملی استمعال کے باوجود یہ مساواتیں پر اسرار اور کسی حد تک ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ کیوں کہ یہ محض یہ بتاتی ہیں کہ ایک طبعی نظام دوسرے طبعی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ نہیں بتا پاتیں کہ اس تعامل کے دوران اس طبعی نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ کسی نظام کی بنیادی حقیقت ناقابلِ بیان ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اس پہیلی کو حل کرنے کے لئے ایک حصّے کی کمی ہے؟ یا کیا اس کا مطلب یہ ہے( اور جو مجھے بھی لگتا ہے) کہ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیےکہ یہ تعامل ہی اصل حقیقت ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں ہماراعلم بڑھے گا۔ ایسا مان لیںے سے ہم وہ کچھ کرنے کے قابل ہوں گے جس کے بارے میں ہم نے ابھی تک تصوّربھی نہیں کیا۔ لیکن اس سے نئے سوالات اور نئے اسرار جنم لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، تجربہ گاہوں میں ان نظریات کی مساواتوں کواستعمال کرنے والے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مضامین اورکانفرنسوں میں جو حالیہ سالوں میں کافی بڑھ گئی ہیں، طبیعات دان اورفلسفی اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ اپنے جنم کے ایک صدی بعد آج نظریہ کوانٹم کیا ہے۔۔۔ حقیقت کی اصل ماہیت میں ایک گہری ڈبکی؟۔۔۔۔ایک صریح غلطی (Blunder) جو محض حادثاتی طور پر کام کر گئی؟۔۔۔ یا پھر دنیا کی ساخت کے بارے کسی عمیق راز کی طرف اشارہ جس کو ہم ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے؟

جب آئن سٹائن فوت ہوا تو اس کے سب سےبڑے نظریاتی حریف بوہر نے اس کے لیے نہایت جذباتی تعریفانہ کلمات کہے۔ جب کچھ سالوں بعد بوہرکی وفات ہوئی تو کسی نے اس کے کمرہ مطالعہ (Study Room) کے تختہ سیاہ کی تصویر لی۔ اس کے اوپر ایک ڈرائینگ بنی ہے۔ آئن سٹائن کے “روشنی کے ڈبّے والے تخیلی تجربے کی ڈرائینگ”۔ حرفِ آخر میں: خود کو للکارنے اور زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی خواہش اورآخر میں سب سے اہم بات: شک۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب چہارم)

سائنسی نظریات، خاص کر نیوٹن کے نظریہِ تجاذب کی روشنی میں فرانسیسی سائنسدان مارکس لپلاس(Laplace) نے یہ دلیل دی کہ کائنات کلی طور پر جبریتی (deterministic)ہے۔ اور سائنسی قوانین کا ایک سیٹ ایسا ہونا چاہیے کہ اگر ہمیں اس کی ماضی کی حالت پتا ہو تو وہ ہمیں کائنات کی مستقبل کی حالت کے بارے میں بتا سکے ۔ یہ بات نیوٹن کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے سورج اور دوسرے سیاروں کی مستقبل کی حالت کی پیش گوئی تک تو ٹھیک ہے لیکن لپلاس نے اس سے بھی آگے جا کر یہ کہا کہ ایسے قوانین نہ صرف نیوٹن کے نظریے بلکہ، بشمول انسانی رویے کے، کائنات میں موجود ہر شئے پر لاگو ہونے چاہیے۔

سائنسی جبریت کے نظریے کو ایسے لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جن کے خیال میں اس سے خدا کی دنیا میں دست اندازی کی آزادی میں روکاوٹ آتی ہے۔ پھر بھی یہ موجودہ صدی کے آغاز تک ایک میعاری مفروضہ رہا۔ اس چیز کا پہلا اشارہ کہ ہمیں اس عقیدے کو ترک کرنا پڑے گا، رے لی اور جیمز جینز (Rayleigh and James Jeans) کی کی گئی کیلکولیشنز سے ملتا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کسی گرم جسم سے خارج ہو نیوالی شعاعوں کی توانائی لامحدود ہوتی ہے۔اس وقت کے یقین کردہ قوانین کے مطابق کسی بھی گرم جسم سے خارج ہونیوالی برقناطیسی شعاعوں کی توانائی تمام تعددات پر ایک جیسی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک جسم ایک سیکنڈ میں دس سے بیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی توانائی ایک ایسے ایسے جسم کی خارج کردہ توانائی کے برابر ہو گی جو ایک سیکنڈ میں بیس سے تیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے۔ اب اگر فی سیکنڈ خارج کردہ لہروں کی تعداد لا محدود ہے تو خارج کردہ توانائی بھی لامتناہی ہو گی۔

اس مضحکہ خیز نتیجے سے بچنے کے لیے 1900 میں جرمنی کے ایک سائنسدان میکس پلانک نے یہ فرض کیا کہ گرم اجسام سے خارج ہونے والی شعاعیں پیکٹوں کی شکل میں خارج ہوتی ہیں جن کی توانائی تعدد کے راست متناسب ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تعدد پر جا کر پیکٹوں کی توانائی مہیا کردہ توانائی سے بھی زیادہ ہو جائے گی لہٰذا خارج ہونیوالی شعاعوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

کوانٹمی مفروضے نے گرم اجسام سے خارج ہونیوالی سعاعوں کا مسلہ تو حل کر دیا لیکن جبریت پر اس کے مضمرات 1926 میں کھلے جب وارنر ہائزنبرگ نے اصولِ غیر یقینیت پیش کیا۔اس کے مطابق اگر آپ کسی ذرے کی مستقبل کی سپیڈ اور مقام معلوم کرنا ہے تو آپ کو اس کی حال کی سپیڈ اور مقام نہایت درستگی سے معلوم ہونے چاہیے۔ کسی ذرے کا مقام معلوم کرنے کے لیے آپ اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جب روشنی اس پر پڑنے کے بعد منتشر ہو گی تو اس کے مقام کا پتہ لگا لیا جائے گا۔کسی ذرے کے مقام کی زیادہ درست پیمائش تب ہو گی جب ہم کم طولِ موج کی لہر استعمال کریں۔ لیکن کم طولِ موج کی لہر استعمال کرنے سے اس کی توانائی زیادہ ہو جائے گی اور وہ اتنا ہی زیادہ ذرے کی رفتار کو بدل دے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذرے کا مقام جتنی زیادہ درستگی سے معلوم ہو گا اس کی رفتار اتنی ہی نادرست ہو جائے گی۔یہی ہائزنبرگ کا اصولِ غیر یقینیت ہے کہ آپ چاہے جتنے بھی اچھے آلات استعمال کر لیں آپ کسی ذرے کا مقام اور رفتار(یا مومینٹم) ایک خاص حد سے زیادہ درستگی سے معلوم نہیں کر سکتے۔ اس حد کو پلانک کا مستقل کہتے ہیں۔

اصولِ غیر یقینیت نے دنیا کے متعلق ہمارے تصور کو یکسر بدل دیا۔ ااور اس کے ساتھ ساتھ لپلاس کا ایک جبریتی کائنات کے نظرے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔ چونکہ مستقبل کی صحیح صحیح حالت کا پتہ لگانے کے لیے آپ کے پاس حال کی رفتار اور مقام کی صحیح صحیح معلومات ہونی چاہیے جو کہ اب اصولِ غیر یقینیت کے لگائے گئے قدغن کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔اصولِ غیر یقینیت کو بنیاد بنا کر ڈیراک، شروڈنگر اور ہائزنبرگ نے 1920 کی دہائی میں ایک نئی میکانیات کو جنم دیا جو کوانٹم میکانیات کہلاتی ہے۔اس کے مطابق ذرات کی کوئی وضع شدہ رفتار یا مقام نہیں ہے بلکہ ان کی کوانٹمی حالتیں ہیں جو کہ رفتار اور مقام کا امتزاج ہیں۔

کوانٹم میکانیات کسی مشاہدے کے ایک قطعی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتی بلکہ یہ اس کے بہت سارے ممکنہ نتائج بتاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کسی ایک نتیجے کے حاصل ہونے کا کتنا امکان ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ایک نظام کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں بتائے گی کہ کتنے فیصد الف نتیجہ اور کتنے فیصد ب نتیجہ حاصل ہونے کے امکان ہیں لیکن کس مشاہدے میں کون سا نتیجہ حاصل ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔آئن سٹائن کو کوانٹم میکانیات کے اس طرح امکانی ہونے پر سخت اعتراض تھا۔ اس کو اُس کے اس مشہور معقولے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “خدا چوسر نہیں کھیلتا “(God does not play dice)۔ لیکن باقی بہت سارے سائنسدان اس سے متفق تھے کیوں کہ ان مشاہدات سے جو نتائج حاصل ہوتے وہ تجربات کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔درحقیقت یہ ایک بہت ہی زبردست نظریہ ہے جو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ روشنی موجوں سے بنی ہوئی ہے لیکن پلانک کا نظریہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات ان کو ذرے گمان کرنا مناسب ہے۔ اسی طرح ہائزنبرگ کا اصول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ روشنی کے ذرات کو بعض اوقات موجوں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے جن کا نہ تو کوئی خاص مقام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی رفتار۔کوانٹم میکانیات کی بنیاد ایک نئی قسم کی ریاضی پر ہے جو دنیا کو موجوں یا ذروں کی صورت میں بیان نہیں کرتی بلکہ صرف مشاہداتِ عالم کو ان اصطلاحوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔کوانٹم میکانیات میں موجوں اور ذروں میں ایک دوہریت موجود ہے۔ کچھ مقاصد کے لیے ذورں کو موجوں کی صورت میں اور کچھ مقاصد کے لیے موجوں کو ذروں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے۔ اس مظہر کا ایک اہم نتیجہ ذروں یا موجوں کے دو سیٹوں کے درمیان تداخل(interference) کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تداخل کی ایک مثال صابن کے بلبلے پر مختلف رنگوں کا نظر آنا ہے۔ صابن کی تہہ کے اوپر ی اور نچلی سطح سے روشنی کا انعکاس ہوتا ہے۔ یہ روشنی جب آنکھ میں پڑتی ہے تو تداخل کی وجہ سے کچھ رنگ غائب ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً ہمیں صابن کی سطح پر مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔

کوانٹم میکانیات کی دوہریت کی بدولت تداخل ذرات میں بھی واقع ہو سکتا ہے۔ اس مظہر کو ذیل میں دی گئی دائیگرام میں دکھایا گیا ہے۔اس کو دو درزی تجربہ(double slit experiment) کہتے ہیں۔ شکل میں نظر آنے والی دیوار میں دو تنگ درزیں بنائی گئی ہیں اور اس کے ایک طرف روشنی کا ایک منبع رکھا گیا ہے۔ دسری جانب ایک سکرین موجود ہے۔ روشنی درزوں سے گزر کر سکرین پر پڑتی ہے۔ سکرین پر موجود کسی بھی ایک نقطے پر ہمیں فرنجیں(Fringes) نظر آتی ہے۔ ایسا تداخل کی وجہ سے ہوتا کیوں کہ دونوں درزوں سے نکلنے والی روشنی اس نقطے تک پہنچنے کے لیے مختلف فاصلہ طے کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس نقطے پر آنے والی لہروں میں تداخل ہوتا ہے۔ اگر ہم روشنی کے منبعے کو الیکٹرانوں کے منبعے سے بدل دیں تو بھی فرنجیں ہی نظر آئیں گی۔

تداخل ایٹم کے متعلق ہماری فہم میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔جوہر کے کلاسیکی نظریات یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی برقیہ مرکزے کے گرد چکر لگائے گا تو اسکی توانائی ختم ہوتی جائے گی اور وہ بالآخر مرکزے میں گر جائے گا ۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ کوانٹم میکانیات یہ کہتی ہے کہ جب کوئی برقیہ جوہری مرکزے کے گرد چکر لگاتا ہے تو وہ ساکن امواج بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی مدار، جس میں برقیہ چکر لگائے گا، کی لمبائی طولِ موج کا صحیح عددی ضعف ہو گی۔ یعنی ہر بار جب برقیہ ایک چکر پورا کرے گا تو اس کے ساتھ منسلک موج تعمیری تداخل کرے گی۔ باالفاظ دیگر الیکٹران صرف وہ مدار وجود رکھیں گے جن کے لیے تعمیری تداخل ہو۔

اسی مظہر کو حاصلِ تواریخ(Sum of histories) کی صورت میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے جس کو فائن من(Feynman) نے متعارف کرایا۔ اس کے مطابق جب کو ذرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو وہ صرف ایک راستے پر نہیں چلتا بلکہ ہر ممکنہ راستے پر چلتا ہے۔ ان میں سے بہت سارے راستے ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ جو بچ جاتے ہیں وہ الیکٹرانی مدار ہوتے ہیں۔

ان تصورات کی ریاضیاتی اشکال کی مدد سے ہم مزید پیچیدہ جوہروں اور سالموں کی ساخت معلوم کرنے کے قابل ہو گئے۔ سالمے دو یا دو سے زیادہ جوہروں سے مل کر بنے ہوتے ہیں اور تمام حیاتیاتی اجسام کا بنیادی جزو ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کوانٹم میکانیات ہمیں ہمارے ارد گرد موجود تمام اشا کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے قابل بناتی ہے۔

آئن سٹائن کا عمومی نطریہ اضافیت کائنات اکبر کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی نظریہ ہے۔ایک کلاسیکی نظریہ ایسا نظریہ ہوتا ہے جس میں اصولِ غیر یقینیت کو شامل نہیں کیا جاتا۔لیکن پھر بھی یہ ہمیں صحیح نتائج دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجاذبی میدان نہایت ہی نحیف ہے۔ تاہم کچھ مقامات ایسے ہیں، جیسا کہ بلیک ہول اور بگ بینگ، جہاں تجاذبی میدان اتنا قوی ہو جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کو شامل کیے بنا گزارہ نہیں۔ ہمارے پاس ابھی ایسی کوئی تھیوری نہیں ہے جس میں عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کیا جا سکے لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا اندازہ ہے کہ یہ تھیوری کیسی ہو گی۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)

پھیلتی ہوئی کائنات

کائنات کے متعلق ہماری موجودہ تصویر 1924 سے شروع ہوتی ہے جب ایڈون ہبل نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہماری کہکشاں کے علاوہ اور بھی بہت ساری کہکشائیں موجودہیں اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے ہیں۔یہ ثابت کرنے کے لیے ہبل کو ان کہکشاؤں کے فاصلے درکار تھے۔ چونکہ یہ بہت دور تھیں اس لیے اسے بالواسطہ طریقے استعمال کرنے پڑے۔کسی ستارے کی ظاہری چمک دو چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اول یہ کہ وہ ہم سے کتنا دور ہے اور دوئم یہ کہ وہ کتنی روشنی خارج کرتا ہے۔قریبی ستاروں کے لیے ہم ان کا فاصلہ اور ظاہری چمک ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی دمک (Luminescence) معلوم کی جا سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر کسی دوسری کہکشاں میں ہمیں کسی ستارے کی دمک معلوم ہو تو ہم اس کی ظاہری چمک سے اس کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔اس نے معلوم کیا کہہ کچھ خاص طرح کے ستاروں کی دمک ایک جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نے دلیل دی کہہ اگر ہم ایسے ہی ستارے دوسری کہکشاؤں میں دھونڈ پائیں تو ان کی دمک سے ہم ان کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔

اس طریقے سے ہبل نے نو کہکشاؤں کے فاصلے معلوم کیے۔اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں چند سو ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور اس کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ ایک لاکھ نوری سال ہے۔اور اس کے مرغولے (Spiral) بازوؤں میں موجود ستارے آہستہ آہستہ اس کے مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔ہمارا سورج ایک پیلا درمیانے سائز کا ستارہ ہے اور اس کے ایک مرغولی بازو کے اندرونی سرے پر موجود ہے۔

جب ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ یہ ہمیں ایک نقطے کی طرح نظر آتے ہیں تو پھر ہم ان میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟نیوٹن نے معلوم کیا کہ جب سورج سے آنے والی روشنی کو منشور(Prism) میں سے گزارا جاتا ہے تو وہ مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔اس کو ہم طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ہم کسی بھی ستارے یا کہکشاں سے آنے والی روشنی کا طیف معلوم کر سکتے ہیں۔مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی کا طیف مختلف ہوتا ہے۔لیکن مختلف رنگوں سے نکلنے والی روشنی کی اضافی چمک ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سرخ دمکتے ہوئے جسم سے نکلنے والی روشنی کی۔اور اس کا انحصار اس جسم کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی ستارے کے روشنی کے طیف سے اس کادرجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ستاروں کی روشنی کے طیف میں کچھ خاص رنگ موجود نہیں ہوتے اور یہ ہر ستارے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہر کیمیائی عنصر کچھ خاص رنگوں کے سیٹ کو جذب کر سکتاہے۔ اس سے یہ پتالگایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے کے کُرہ ہوائی میں کون سے عناصرموجود ہیں۔

1920 میں جب ہیت دانوں نے کہکشاؤں کے طیف کی جانچ شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے طیف میں بھی وہی رنگ غائب ہیں جو ہماری کہکشاں میں ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام رنگ روشنی کے طیف کے سرخ سرے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈاپلر اثر (Doppler effect)کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں پتا ہے کہ روشنی برقناطیسی امواج پر مشتمل ہےاور مرئی روشنی ان امواج کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ہر موج کا ایک تعدد(Frequency) ہوتا ہے جو کسی کاص رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔اگر روشنی کا ایک منبع ہم سے ایک مستقل فاصلے پر موجود ہے تو وہ جو امواج خارج کرے گا ان کا تعدد ہمارے لیے مستقل ہو گا۔یعنی ایک سیکنڈ میں ہم تک پہنچنے والی امواج کی تعداد مستقل رہے گی۔لیکن اگر منبع ہماری طرف حرکت کر رہا ہو تو یہ تعداد مستقل نہیں رہتی۔بلکہ ان کا تعدد بڑھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ طیف کے نیلے سرے کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کو نیلا انتقال (Blue Shift) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منبع ہم سے دور جا رہا ہو تو روشنی سرخ سرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس کو سرخ انتقال (Red Shift) کہا جاتا ہے۔ رفتار اور تعدد کے درمیان اس تعلق کو ڈاپلر اثر کہا جاتا ہے۔

1929 میں ہبل نے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔یعنی کہکشاں کے فاصلے اور رفتار میں راست تناسب ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔

نیوٹن کے تجاذبی نطریے سے یہ بات آسانی سے اخذ کی جا سکتی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن ساکن کائنات کے بارے میں ہمارہ عقیدہ اتنا پختہ تھا کہ سب اس کے ساکن ہونے کی تاویلیں تلاش کرتے رہے۔حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ساکن کائنات کا حامی تھا۔حالانکہ اس کی عمومی اضافیت کی مساواتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔لیکن اس نے اس کو ساکن بنانے کے لیے ایک نئی ٹرم(Term) متعارف کرا دی جو کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) کہلاتی ہے۔یہ ایک رد تجاذبی قوت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زمان و مکان میں خود سے پھیلنے کی خوبی موجود ہے۔ جو مادہ اور توانائی سے پیدا ہونے والی کشش کو منسوخ کرتی ہے اور نتیجتاً ہمیں ایک ساکن کائنات ملتی ہے۔ان سب میں صرف ایک بندہ ایسا تھا جو عمومی اضافیت کی مساواتوں کو ایسے ہی لے رہا تھا جیسا مطلب وہ بتاتی ہیں۔اس نے ان کی وضاحت کا ذمہ اٹھایا۔

فرائیڈ مین نے دو سادہ سے مفروضے فرض کیے۔ اول یہ کہ ہم جس سمت بھی دیکھیں کائنات ایک جیسی ہی نطر آتی ہے۔ اور دوئم یہ کہ ہم کائنات میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کے دیکھیں ایسا ہی دکھے گا۔

حال ہی میں ان دونوں مفروضوں کے بہت زبردست شواہد ملے ہیں۔1965 میں دو سائنسدان، آرنو پینزیاس (Arno Penzias)اور رابڑٹ ولسن (Robert Wilson) ایک خرد موجی شناسندے(Detector) کی آزمائش کر رہے تھے لیکن اس میں بار بار ان چاہا شور(Noise) موصول ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے تمام ممکنہ خامیوں کو بھی دور کر دیا تب بھی یہ شور یا سگنل ویسے ہی رہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ سگنل کُرّہ ہوائی کے اندر سے نہیں آرہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کم سگنل موصول ہوتے جب شناشندہ سیدھا اوپر کی جانب ہوتا بہ نسبت اس کے جب وہ افق کی طرف ہوتا کیوں کہ افق کی جانب سے آتے ہوئے ان کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا۔مزید یہ کہ یہ سگنل دن، رات، مہینے اور سال بھر ایک جیسے ہی تھے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ چونکہ یہ سگنل ہر سمت سے ایک جیسے ہی موصول ہوتے ہیں لہٰذا یہ ساری مشاہداتی کائنات کا سفر طے کر کے آتے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ہر سمت میں ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ آرنو پینزیاس اور رابڑٹ ولس کو اس دریافت پر 1978 میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

فرائیڈمین کا پہلا مفروضہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسے ہمارا کائنات میں کوئی خاص مقام ہو لیکن اس کی ایک متبادل تصریح بھی ہے کہ اگر ہم کسی اور کہکشاں سے دیکھیں تب بھی کائنات ایک جیسی ہی دکھے گی۔ جو کہ فرائیڈمین کا دوسرا مفروضہ ہے۔ہمارے پاس اس بات کو ماننے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف عاجزانہ طو پر مانتے ہیں کہ کائنات ہر نقطے سے ایک جیسی ہی دکھے۔ یہ صورتحال ایک ایسے غبارے کی طرح ہے جس پر مساوی فاصلے پر نشانات لگے ہوں۔ جب ایسے غبارے کو پھلایا جائے گا تو ہر نشان دوسرے سے دور ہوتا جائے گالیکن کسی کو بھی مرکز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دو نقاط ایک دوسرے سے جتنے دور ہوں گے وہ اتنی ہی تیزی سے ایک دوسرے سے دور جائیں گے۔یعنی سرخ انتقال فاصلے کے راست متناسب ہے۔ اسی مظہر کو ایڈون ہبل نے بھی دریافت کیا۔

اپنے دو مفروضوں کو بنیاد بنا کر فرائیڈمین نے کائنات کا ایک ماڈل ڈھونڈا۔ لیکن حقیقت میں ایسا ایک نہیں بلکہ تین ماڈل ہیں۔
پہلے ماڈل میں کائنات پھیل رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔باالفاظ دیگر کہکشاؤں کے درمیان موجود کششِ ثقل ان کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کرد ے گی۔ اس طرح کی کائنات میں کہکشائیں صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتی ہیں پھر ان کے درمیان فاصلہ فاصل قیمت کو پہنچتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے صفر کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی ماڈل فرائیڈ مین نے بھی دیا تھا۔

دوسری قسم کے ماڈل میں کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کشِ ثقل کبھی اس کو روک نہیں پاتی۔ ایسی کائنات میں اجسام صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتے ہی اور پھر یکساں رفتار سے پھیلتے ہی جاتے ہیں۔

تیسری قسم کے ماڈل میں جیسے جیسے کائنات پھیلتی ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ کبھی بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ کششِ ثقل ان کو واپس صفر فاصلے پر کھینچ سکے۔

پہلے فرائیڈمین ماڈل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کائنات سپیس میں لامتناہی نہیں ہے۔اور نہ ہی سپیس کہ کوئی حدہے۔اس میں تجاذب اتنا قوی ہے کہ سپیس کو خود پر ہی منحنی کر دیتا ہےیہ بالکل زمین کی سطح کی طرح ہے جس پر اگر آپ ایک سمت میں چلنا شروع کر دیں تو واپس اسی جگہ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ لیکن یہ سطح سہ جہتی ہے۔

پہلی طرح کے فرائیڈ مین ماڈل میں سپیس زمین کی سطح کی طرح بندہے لہٰذا یہ وسعت میں محدود ہے۔دوسری طرز کے ماڈل میں اس کی شکل زین (Saddle) کی طرح ہے اور لہٰذا یہ وسعت میں لامتناہی ہے۔تیسرے اور آخری فرائیڈمین ماڈل میں یہ مستوی ہے اور وسعت میں لامتناہی ہے۔
لیکن کون سا فرائیڈمین ماڈل ہماری کائنات کو بیان کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کی اوسط کثافت کا پتا ہونا چاہیے۔اور اس کی کثافت ایک خاص قیمت (جس کا تخمینہ اس کی پھیلاؤ کی شرح سے ملے گا) سے کم ہوئی تو کششِ ثقل اس کو روکنے میں ناکام رہے گی اور یہ ہمیشہ پھیلتی جائے گی۔ اور اگر کثافت اس فاصل قیمت سے زیادہ ہوئی تو ثقل اس کو واپس کھینچ لے گی اور یہ منہدم ہو جائے گی۔

پھیلاؤ کی شرح کو ہم ڈاپلر اثر سے ناپتے ہیں کہ کہکشائیں ہم سے کس رفتار سے دور جا رہی ہیں۔ اس حساب سے کائنات ہر ایک ارب سال میں پانچ سے دس فیصد پھیلتی ہےتاہم اس کی اوسط کثافت میں غیر یقینیت بہت زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں میں موجود ستاروں کی کمیت کو جمع کریں تو یہ کمیت پھلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے ایک سو گنا کم ہے۔ تاہم ہم جانتے ہیں کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان تاریک مادہ موجود ہے اور اس کی کمیت کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی یہ کمیت پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے دس گنا کم ہے۔ لہٰذا ہمارا موجودہ اندازہ یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔

فرائیڈمین کے تمام حل یہ بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ صفر رہا ہو گا۔ اور کائنات کی کثافت اور سپیس کا انحنا لامتناہی ہو گا۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ریاضی لامتناہی اعداد کا حساب نہیں لگا سکتی اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر عمومی اضافیت بذاتِ خود لایعنی ہو جاتی ہے۔اس نقطے کو ریاضی دان وحدانیت(Singularity) کا نام دیتے ہیں۔ہمارے تمام نظریات میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ زمان و مکان مستوی ہےاس کا مطلب یہ ہوا کہ وحدانیت پر یہ تمام لایعنی ہو جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ان کا بگ بینگ کے بعد والے واقعات پر کوئی اثر نہ ہو گا۔یاپھر جو کچھ بگ بینگ کے بعد ہوا ہے اس کو استعمال کر کے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ان کو کسی تھیوری کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔

بہت سارے لوگوں کو بگ بینگ کا تصور پسند نہ آیااس کی ایک مثال مستقل حالتی کائناتی نظریہ (Steady State Universe)ہے جو 1948 میں ہرمن بونڈی، فریڈ ہوئل اور ٹامس گولڈ نے پیش کیا۔ اس کے مطابق جیسے جیسے کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں ان کے درمیان نیا مادہ تخلیق ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کائنات ایک جیسی ہی دکھتی ہے۔تاہم 1950 اور 1960 میں ہونے والے ریڈیائی موجوں کے مطالعے سے پتا چلا کہ کائنات در حقیقت پھیل رہی ہے۔ اس مطالعے میں موجود سائنسدانوں نے زمین پر موصول ہونے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ کچھ سگنل بہت قوی جب کہ دوسرے نحیف ہیں۔ اس کی تاویل یوں کی گئی کہ قوی سگنل قریب جب کہ نحیف دور کی کہکشاؤں سے موصول ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مشترکہ منبوں کے سپیس کے اکائی حجم میں قوی کی نسبت نحیف منبوں کے اشاروں کی شدت زیادہ ہے، اس کی تاویل یہ تھی کہ ماضی میں یہ نحیف اشاروں کے منبے بھی ہمارے قریب قریب تھے جو اب دور جا چکے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کائنات پھیل رہی ہے۔ اس نے مستقل حالتی کائناتی نظریے کا خاتمہ کر دیا۔

اس سوال کا جواب کہ کیا عمومی اضافیت بگ بینگ اور وقت کے آغاز کی پیش گوئی کرتی ہے برطانوی سائنسدان راجر پین روز نے دیا۔ راجر پین روز نے 1965 میں یہ ثابت کیا کہ جب کوئی ستارہ اپنی ہی کشش کے تحت منہدم ہوتا ہے تو اس کاحجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان و مکان کا انحنا لامتناہی ہو جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر زمان و مکان میں واحدانیت موجود ہے جو بلیک ہول کہلاتا ہے۔

پہلے پہل یوں لگا کہ پین روز کا تھیورم صرف ستاروں پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بگ بینگ یا واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نے اس تھیورم کو 1965 میں پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ تھیورم تب بھی اپنی حالت برقرار رکھتا ہے اگر آپ وقت کی سمت بدل دیں۔مطلب اگر انہدام پھیلاؤ بن جائے تب بھی۔ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ کوئی ستارہ منہدم ہو کر وحدانیت کی طرف جانے کی بجائے وحدانیت سے شروع ہو کر باہر کی طرف پھیل رہا ہے۔یہ دلیل یہ ثابت کرتی ہے کہ فرائیڈ مین کی طرح کی کوئی بھی کائنات وحدانیت سے شروع ہوئی ہو گی۔1970 میں پین روز اور میں ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر عمومی اضافیت صحیح ہے تو کائنات کا آغاز درحقیقت بگ بینگ سے ہی ہونا چاہیے۔ شروع میں کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن ایک ریاضیاتی تھیورم کے سامنے یہ مخالفت زیادہ دیر نہ ٹھہر پائی۔ ا ب تقریباً تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ ہی کائنات کا نقطہِ آغاز ہے۔لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور سائنسدانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کائنات کے آغاز میں کوئی وحدانیت نہیں تھی۔ اس پر مزید بحث بعد میں آئے گی۔

چونکہ وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اور پھر عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانات کے سنگم سے کوانٹم تجاذبی نظریے یا نظریہِ کل کی طرف جائیں گے۔

Categories
نان فکشن

کچرے سے کائنات بنانا

آئیں ایک خیالی تجربے کا تصور کریں۔

ایک جارحیت پسند سمیی طاعون (viral plague) نے انسانیت کو آ لیا ہے۔جو حیران کن تیزی کے ساتھ گنجان آباد شہروں اور بین الاقوامی ائر لائنز کی دنیا میں پھیل رہا ہے۔ہم یہ جنگ کچھ ہفتوں میں پہلے ہی ہار چکے ہیں۔تہذیب زمین بوس ہو گئی ہے اور انسانیت کا بیشتر حصہ مر چکا ہے۔لیکن آپ بچ گئے ہیں۔ آپ بہت زیادہ بیمار ہو جاتے ہیں۔ لیکن کسی پیدائشی قوتِ مدافعت کی وجہ سے آپ اس بیماری کو سہہ جاتے ہیں۔جب آپ کی آنکھ کھلتی ہیں تو آپ ایک گھرمیں موجود ہیں جو بہت زیادہ سرد ہے،جہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی اور نہ ہی چولہے یا بوائلر کو چلانے کے لیے گیس۔ گلیاں مضطربانہ حد تک سنسان ہیں اور آسمان پر ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوائی جہازوں کے دنبالے بھی نہیں ہیں۔آپ تباہی کے بعد بنجر زمین میں بچ جانے والوں میں سے ہیں۔

ان تمام استعاروں سے ہم canticles of Leibowitz اور the road جیسی کتابوں ،حالیہ کمپیوٹر گیمز جیساکہ the last of us یا پھر فلمیں جیسا کہ I am legend یا mad Max کے توسط سے متعارف ہیں۔کلی طور پریہ کہانیاں ہیرو کو چمڑے کے چست لباس میں دکھاتی ہیں اور یہ کہ وہ بیاباں سے بچ نکلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔لیکن یہ کہانیاں کتنی حقیقی ہیں؟

اگر آپ کبھی خود کو ایک عالمگیر تباہی، جس نے زیادہ تر انسانیت کا خاتمہ کر دیا ہو، میں بچ جانے والوں میں پائیں تو آپ اس کے بارے میں کیا کریں گے؟وہ کون سا علم ہوگا جس کو آپ ترقی کرنے کے واسطے محفوظ کریں گے؟یہ وہ مقام ہے جہاں پہ تنہا ہیرو والا استعارہ دھڑام سے آ گرتا ہے۔حفاظت تعداد میں ہے اور بے شک ہم تاریخ میں ترقی اور جدید دنیا کو تعمیر کرنے کے قابل اکٹھے کام کرے کی وجہ سے ہی ہوئے ہیں۔نوع انسانی جبلی طور پر سوشل اور تعاون کرنے والی ہے۔بلاشبہ تباہی کے بعد کچھ دور ہنگاموں کا ہو گالیکن جلد ہی لوگ برادریوں میں رہنا شروع کر دیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ کی فی الفور ترجیحات کیا ہوں گی۔اور وہ کون سی چیزیں ہیں جن کو آپ کی برادری کو آنے والے سالوں میں حاصل کرنے کی کوش کرنی چاہیے؟ ذیل میں ایک ممکنہ تاریخ ہے۔

ابتدائی چند ایام:

ایک بار جب لوگ قوت گاہوں کی دیکھ بھال اور مرمت کرنا بند کر دیں گے تو گرِڈ (Grid) تیزی سے گرے گا۔لیکن کسی عمارت کے ملبے سے سولر پینل اور سفری جنریٹر ڈھونڈ لینے سے آپ اپنی زندگی میں کچھ دن بجلی فراہم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔جیسے ہی انٹرنیٹ کو پاور فراہم کرنے والے بیک اپ جنریٹروں کا ایندھن ختم ہو گا تو یہ جاتا رہے گا۔لہذٰا آپ علم کے لیے وکی پیڈیا پر انحصار نہیں کر سکیں گے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا موبائل ایک بیکار اینٹ بن گیا ہے۔قطب نما ایک اندرونی میگنیٹو میٹر کا سہارا لیتا ہے جس سے آپ ارد گرد جانے کا راستہ دھونڈ پائیں گے۔اور درحقیقت جو آخری نقشہ آپ نے ڈاون لوڈ کیا ہو گا وہ جی پی ایس کے ساتھ آپ کو حرکت کرنے میں مدد دے گا۔

جی پی ایس سٹیلائیٹ نیٹورک تباہی کے کچھ عرصے بعد تک کام کرتا رہے گا۔مگر چھ ماہ کے بعد درستگیِ مقام اس حد تک گر جائے گی کہ یہ بالکل بیکار ہو جائیگا۔تباہی کے فوری بعد کی ترجیحات میں بوتلوں میں محفوظ پانی، ڈبوں میں بند خوراک اور باہر جانے کے لیے محفوظ کپڑوں کا حصول یقینی بنانا ہونا چاہیے۔

ابتدائی ہفتے:

ممکن ہے ابتدائی ہفتوں میں بچ جانے والے دوسرے لوگوں سے ہو۔ اجنبیوں کے ساتھ اس وقت تک اھتیاط برتیں جب تک آپ ایک ایسے گروہ کو نا دھونڈھ لیں جن پر آپ یقین اور باہمی حفاظت کے لیے انحصار کر سکیں۔اور یہ ضروری سامان کو دھوندنے اور منتقل کرنے میں بہت مفید ثابت ہو گا۔

اس وقت تک وہ شہری علاقہ جہاں سے آپ نے شروعات کی تھی ناخوشگوار ہونا شروع ہو جائے گا۔ہوا بے شمار گلتے سڑتے اجسام کی بدبو سے بھر جائے گی اور بھوکے گھریلو کتے لڑاکا گروہوں کی شکل اختیار کر لیں گے۔کسی بھی حالت میں ایک جدید شہر ایک مصنوعی بلبلے کی طرح ہے جس کو وہی تہذیب سہارا دیتی ہے جو اس کو پیدا کرتی ہے۔

جہاں لفٹوں یا بتیوں کو جلانے کے لیے بجلی نہ ہو، زمینی پانی ممکنہ طور پر غیر خالص ہو اور جگہ جگہ ملبہ بکھرا ہو تو ایسے میں آپ دیہاتی علاقے میں زندگی گزارنے کو زیادہ آسان پائیں گے۔تباہی کے بعد ایک ٹیکنالوجی سے مزین جدید اپارٹمنٹ کی نسبت ایک روایتی قسم کا فارم ہاوس جہاں گرمائش حاصل کرنے اور کھانا پکانے کے لیے فائر پلیسز موجود ہوں زیادہ مناسب ہو گا۔نئی چیزوں کو بنانے اور کام کرنے کے عمل کو پھر سے سیکھنے کے دوران آپ ضروری اشیا کے حصول کے لیے آپ ہمیشہ ہی تباہ ہوئے شہری علاقے کا چکر لگا سکتے ہیں۔

ابتدائی مہینے:

آپ کا سب سے اہم سروکار یہ ہونا چاہیے کہ پینے کے لے صاف پانی کو کیسے یقینی بنایا جائے۔تاکہ ان بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے جو پانی سے پھیلتی ہیں اور ہزاروں سالوں تک انسانوں کے لیے آفت رہی ہیں۔ ابالنا مرض آور جراثیم کو مارنے کا یقینی عمل ہے لیکن اس کے لیے بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔پانی کو صاف کرنے والی گولیاں camping stores سے ڈھونڈی جا سکتی ہیں لیکن یہ یقینی بنانے کے لیے کہ جو پانی آپ پیتے ہیں آپکو نہیں مارنے والا ، دیر یا سویر آپکو کیمیا کی کچھ ٹیکنیکس کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

پانی میں کچن بلیچ یا سوئمنگ پول میں ڈالی جانے والی کلورین(سوڈیم ہائپو کلورائیٹ اور کیلشیم ہائپو کلورائیٹ) کو ملا کر جراثیم سے پاک کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے سلوشن کو بہت زیادہ پتلا کرنا ہو گا تاکہ یہ کیمیکل جراثیموں کو تو مار دیں پر آپ کو زہر آلود نہ کریں۔یہاں ہم کلورین کی کیمسٹری کا استحصال کر رہے ہیں۔جو ٹینکیوں والے اس پانی کی بھی بنیاد ہے جس کو آج ہم پیتے ہیں۔تاریخی طور پر حفظانِ صحت اور عوامی صحت میں یہی وہ ترقیاں ہیں جن نے ہمیں گنجان آباد شہروں میں رہنے کے قابل بنایا۔

جب تک آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ کلورین کو خود کیسے بنایا جاتا پانی کو صاف کرنے کے لیے بہت کم ٹیکنالوجی والا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔یہ وہ تیکنیک ہے جو بین الاقوامی تنظیم برائے صحت ترقی پذیر ممالک میں سکھا رہی ہے۔اس میں آپ غیر شفاف پانی کو پلاسٹک کی بوتلوں میں بھر کر ایک یا دو دن کے لیے دھوپ میں رکھ دیتے ہیں۔سورج سے آنے والی بالائے بنفشی شعاعیں پانی میں سے گزرتی ہیں اور جراثیموں کو مار دیتی ہیں۔

بیماری کی اشاعت کو روکنے کے لیے صرف ہاتھ دھو لینا کی بہت فائدہ مند ہے۔صابن جانوروں کی چربی کو آب پاشیدگی کے عمل سے گزار کر یا پھر پودوں کے تیل کو الکلیوں (Alklies) کے ساتھ ابال کر بنایا جا سکتا ہے۔الکلیاں ساری تاریخ میں کیمیکلز کی سب سے اہم کلاس رہی ہیں اور آپ کے قدرتی ماحول سے نکالی جا سکتی ہیں۔پوٹاش( پوٹاشیم کاربونیٹ) کو لکڑی کی راکھ سے ٹپکتے ہانی سے نکالا جا سکتا ہے۔سوڈا ایش(soda ash) کو جلی ہوئی سمندری جڑی بوٹیوں یا پھر دوسرے ساحلی پودوں جیسا کہ samphire یا saltwort سے نکالا جا سکتا ہے۔سوڈا کی پیدا کاری کے لیے سمندری جڑی بوٹیوں کو اکٹھا کرنا صدیوں تک سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے اٹلانٹک ساحلوں پر ایک بہت بڑی انڈسٹری رہی ہے۔

ابتدائی سال:

اگر آپ نے اپنی کاشتکاری شروع نہ کی تو جیسے ہی ذخیرہ شدہ خوراک ختم ہو گی آپ فاقوں میں ہوں گے۔پھل یا سبزیاں اگانا ایک سیدھا سادھا عمل ہے لیکن ہم میں سے آج کتنے لوگ جانتے ہیں کہ کیسے دلیہ یا اناج کی فصلیں جیسا کہ گندم، چاول یا مکئی اگائی جاتی ہے؟

دلیے دراصل گھاس کی اجناس ہیں۔وہ تیزی سے اگتی ہیں اور غذائیت سے بھرپور دانے پیدا کرتی ہیں۔ لیکن انسانی معدہ حیاتیاتی طور پر اس کے لیے موضوع نہیں ہے اور ہمارے پاس گاے کی طرح چار معدے بھی نہیں ہیں کہ گھاس کو ہضم کر سکیں۔اس کے برعکس اس کے لیے ہمیں ہمارے دماغ کو استعمال کر کے نئی ٹیکنالوجیز ڈھونڈنا پڑیں گی۔جس سے ہمارے جسموں کو مدد پہنچے۔ہمیں طبیعی طور پر گندم کے دانوں کو پیسنا پڑتا ہے اور پھر چولہے میں آگ کے تحلیلی اثر کو استعمال کر کے آٹے کو روٹی میں پکایا جاتاہے۔اور وہ نیوٹرنٹس خارج کرائے جاتے ہیں جن کو ہمارا جسم جذب کر سکے۔اس لحاط سے ہوا چکی یا آبی پہیے میں استعمال ہونے والے پتھر ہمارے دانتوں کی ہی توسیعی شکل ہیں۔اور وہ چولہا جو ہم پکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا وہ برتن جس مین چاولوں کو ابلا جاتا ہے ایک پری نظامِ انہضام کی طرح ہیں۔

بنیادی مسلہ یہ ہے کہ آپ پہلی بار کس طرح دلیے لی فصلیں کاشت کر سکتے ہیں۔—-خوراک کی زیادتی کسی بھی تہذیب کی بنیاد ہے، اگر آپ دس ایسے لوگوں کو خوراک مہیا کر سکتے ہیں جو کھیت سے منسلک نہیں ہیں بلکہ دوسرے کاموں میں ماہر ہیں تو آپکی سوسائٹی اور باصلاحیت ہو جاتی ہے۔کھیتوں میں کام کرنے کے اوزار جیسا کہ ہل یا سہاگا ڈھونڈنے یا پھر سٹیل کی چیزوں کو لوہار خانے میں ڈھال کر بنایا جا سکتا ہے۔لیکن سب سے اہم ٹرِک(trick)، جو کہ قرونِ وسطیٰ کے کسانوں کی سمجھ میں نہ آیا، یہ ہے کہ کیسے کھیتوں کی زرخیزی سالوں تک برقرار رکھی جائے۔جدید مصنوعی کھادوں کی غیر موجودگی میں آپ کو مٹی میں نائٹریٹس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہل میں دلیے کی فصل کے ساتھ جانوروں کے فضلے اور پھلی دار پودوں جیسا کہ مٹر، مسور، تپتا گھاس اور لوسن کو بھی ڈالنا ہو گا۔ ہڈیوں کو تیزاب میں حل کرنا فاسفیٹ مہیا کرے گا اور مٹی پر لائم سٹون(limestone) یا پیسا ہوا چاک(chalk) ڈالنا اس کی تیزابیت کو بڑھنے سے روکے گا۔

ابتدائی دہائیاں:

جب آپ کی کمیونٹی بچی کھچی چیزوں کو ڈھونڈنے کی بجائے خود کفیل ہو جائے گی تو آپ کو انجنوں کو مشینوں کو چلتا رکھنے اور دھاتی اوزار بنانے کے لیے روایتی مہارتوں جیسا کہ لوہار گری کو پھر سے سیکھنا ہو گا۔تہذیب مشینی طاقت جیسا کہ آبی پہیے، ہوا چکیاں، بھاپ انجن، ٹربائن اور انٹرنل کمبسچن انجن(internal combustion engine) کی مرہون ہی آگے بڑھی ہے اور انسانی پٹھوں کو سخت محنت سے نجات دلائی۔

ایک باصلاحیت تہذیب کو ایندھن کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔اٹھارویں صدی کے آخر تک، کوئلے اور زمینی تیل کے استحصال سے پہلے اہم کیمسٹری ۔۔۔ تیزابوں ، الکوحلوں، محلولات اور تارکول۔۔۔کا منبع لکڑی کی خشک کشید کاری تھی۔اس عمل میں ٹمبر کو ایک ہوا بند جار میں جلایا جاتا ہے اور خارج ہونے والے بخارات کو تارکول میں بدل لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ لکڑی کے جلنے سے پیدا ہونے والی گیسوں سے آپ کاریں بھی چلا سکتے ہیں۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران تقریباً بیس لاکھ کاریں اس عمل سے یورپ کی سڑکوں پر رواں دواں تھیں۔
زمینی تیل کی غیر موجود میں(ہماری تہذیب پہلے ہی اس کو چوس چکی ہے)مشینری کو چلانے کے لیے آپ بائیو ڈیزل جانوروں کی چربی یا پلانٹ آئل کو میتھانول(الکوحل جو ٹمبر کی خشک کشید کاری سے حاصل ہوتا ہے)یا لائی(lye)(جو کہ سوڈا کو چاک یا لائم سٹون سے حاصل ہونے والے کویک لائم سے تعامل کرا کے حاصل کیا جاتا ہے)سے تعامل کرا کے حاصل کر سکتے ہیں۔

آپ کی نوزائیدہ کیمیائی انڈسٹری میں دوسرے آسانی سے حاصل ہونے والے عناصر کے بہت سارے استعمالات ہوں گے۔مثال کے طور پر ایتھانول —جو کہ گندم کی تخمیر اور اور الکوحل کو گاڑھا کرنے کے لیے کشید کیا جاتا ہے—ایک زبردست محلول اور جراثیم کش ہے۔تارکول نہ صرف اینٹوں اور شیشے کو بنانے یا دھاتوں کو ڈھالنے کے لیے زیادہ درجہ حرارت فراہم کرتا ہے بلکہ ایک reductant بھی ہےاور دھاں کو ان کی چٹانی کچ دھاتوں سے علیحدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ابتدائی صدیاں:

لمبے عرصے میں کسی بھی تباہی کے بعد والی سوسائٹی کے لیے ترقی کرنے اور علم کو پھر سے اکٹھا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدرتی دنیا کو سمجھے۔اور اس فہم کو ان اصولوں کے استحصال میں لگائے جو نئی ٹیکنالوجی کو جنم دیتے ہیں۔پُر اعتماد طریقے سے کہنا کہ کیسے چیزیں کیسے کام کتی ہیں، سائنسی طریق کار کہلاتا ہے۔—-بار بار اپنے نظریات کو قدرتی دنیا کے لیے بنائے گئے تجربات اور مشاہدات کے ساتھ چیک کرنا—-سائنسی طریق کار بذاتِ خود ایک ایجاد ہے۔ ایک عظیم علم پیدا کرنے والی مشینری۔
دنیا کی بااثر طریقے سے تحقیق کرنے کے لیے آپ کو اوزاروں کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک عنصر ہماری ساری سائنسی تاریخ میں ناگزیر رہا ہے۔ یہ مقابلتاً مضبوط، کیمیائی لحاظ سے غیر تعامل اور شفاف ہے۔بے شک یہ حیران کن میٹیرئل شیشہ ہے۔

آپ کو شیشے کی ضرورت ٹیسٹ ٹیوب بنانے کے لیے ہے جس سے آپ کیمیائی تعاملات کو سٹڈی کریں گے اور تھرمامیٹر اور بیرومیٹر بنانے کے لیے جس سے آپ درجہ حرارت اور دباؤ کو ماپیں گے(جو کہ سٹیم اور کمبسچن انجن بنانے کے لیے بنیادی ضروریات میں سے ہیں)، حتیٰ کہ یہ خوردبین اور دوربین کے لیے عدسے اور آئینے بنا کر خود روشنی کا استحصال بھی کر سکتا ہے۔ایک سادہ شیشہ بنانے کے لیے آپ کو تین اجزا کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ سلیکا، سوڈا اور لائم ہیں اور ان کو ریت، سمندری جڑی بوٹی اور چال یا لائم سٹون سے اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ایک حقیقی رابنسن کروسو کوشش مین آپ اپنا شیشہ ایک ہی ساحل سے بنا سکتے ہیں۔

لہذٰا سائنس کے ان اوزاروں اور ایک ریشنل اور تحقیقی دماغ کے ساتھ آپ یہ امید کر سکتے ہیں کہ جلد ہی یہ بعد از تباہی سماج تباہی کے اثرات سے باہر آ جائے گا اور اسے ایک تاریک دور نہیں دیکھنا پڑے گا۔ہو سکتا ہے اس کے لیے کچھ دہائیاں یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے مگر ایک نئی تہذیب تباہی کے بعد ابھر سکتی ہے۔ یہ صرف ایک اندازہ ہی ہو سکتا ہے کہ وہ نئی دنیا کیسی دکھے گی لیکن تھوڑی سی انسانی ذہانت کے ساتھ ہم میں یہ صلاحیت ہے کہ ہم اس سوسائٹی کو جس کو ہم جانتے ہیں پھر سے تعمیر کر سکیں یا پھر پہلے سے بہتر بھی بنا سکیں۔

Categories
نان فکشن

تاریک مادہ کیا ہو سکتا ہے؟

مصنف: Laura Dattaro
مترجم: فصی ملک

 

تقریباً ایک صدی گزر چکی ہے جب کسی فلکیات دان نے 1930 میں تاریک مادہ کا لفظ استعمال کیا تھا۔۔۔۔۔وہ عنصر جس کی توضیح ابھی تک نہیں ہو پائی۔طبیعیات دان اس کے اثرات کہکشاؤں اور دوسرے فلکی اجسام پر دیکھ سکتے ہیں۔لیکن یہ کس چیز کا بنا ہوا ہے یہ ایک معمہ ہی رہاہے۔

 

اس کو سلجھانے کے لیے سائنسدانوں نے بہت ساری ممکنات اور پھر ہر ایک کو دھونڈنے کا ایک خاص طریقہ بھی سامنے لائے ہیں۔تاریک مادوی ذرات کے کچھ تصورات طبیعیات میں دوسرے مشکلوں کو حل کرنے کی کوشش میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔

 

نیو یارک یونیورسٹی کے طبیعیات کے پروفیسر نیل وائینر کا کہنا ہے کہ آپ نہیں جانتے کون سا تجربہ اسے ثابت کرنے والا ہے۔ اگر آپ صحیح تجربے کا نہیں سوچ سکتے تو ممکن ہے آپ اس (ذرات) کو نہ دھونڈ سکیں۔ چونکہ یہ تاریک مادہ ہے اس لیے یہ آپ کے چہرے سے نہیں ٹکرانے والا۔

 

نحیف تعاملی کمیتی ذرات(WIMPs):

 

ٹرم WIMPs بہت سارے تاریک مادوی ذرات کا احاطہ کرتی ہے۔ جن میں کچھ کو یہاں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

 

WIMPs جو کہ نحیف تعاملی کمیتی ذرات کا مخفف ہے، اولیے(proton) سے ایک سے لے کر ہزار گنا تک بھاری ہو سکتے ہیں۔اور یہ ایک دوسرے سے صرف نحیف قوت سے تعامل کرتے ہیں۔ وہ قوت جو تاب کارانہ انحطاط کی موجب ہے۔

 

اگر تاریک مادہ pop star ہوتا تو WIMPs Beyonce ہوتے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ارون کے پروفیسر منوج کپلنگھٹ کا کہنا ہے کہ WIMPs قانونی امیدوار ہیں۔

 

لیکن ڈیٹا میں حالیہ زیادتی نے ان پر شک کا سایہ ڈالا ہے۔ اس کے برعکس سائنسدان ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر (LHC)سمیت زمین اور فضا میں تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن WIMPs کو ابھی اپنا اظہار کرنا ہے۔ جس سے ان کی کمیت، تعاملی قوت اور دوسری خصوصیات پر پابندیاں اور سخت ہو گئی ہیں۔

 

اگر WIMPs کا ظہور نہیں ہوتا تو یہ تاریک مادوی معمہ کے نئے حل کی طرف ایک دھکا ہو گا، جس میں بالآخر دی گئی ممکنات سے باہر جانے کا مکان بھی ہے۔

 

پرنسٹن یونیورسٹی کی میری انجیلہ لِسانتی کا کہنا ہے کہ اگر ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے تو یہ ایک ایسے غالب پیراڈائم کے باب کا اختتام ہو گا جو کئی سالوں تک اس میدان میں ایک رہنما تھا۔

 

بانجھ تعدیل نما(sterile Neutrinos):

 

تعدیل نما تقریباً بے کمیت ذرات ہیں جو اپنی ہیت ایک سے دوسری قسم میں بدلتے رہتے ہیں اور بنا کسی شئے سے ٹکرائے سارے سیارے کے آرپار گزر جاتے ہیں۔عجیب تو یہ ہے ہی لیکن ممکن ہے ان کا ایک مزید عجیب ہمزاد بھی ہو جو بانجھ تعدیل نما کہلاتا ہے۔یہ گریزاں ذرات اپنے ارد گرد سے اتنے بے اعتناء ہوتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو مادہ کے کسی ایک ذرے سے تعامل کرنے کے لیے کائنات کی پوری عمر جتنا وقت درکار ہے۔

 

اگر بانجھ تعدیل نما مادے کے ذرات ہیں تو ان کے تعامل کی مزاحمت ان طبیعیات دانوں پر ناامیدی پھینکتی ہے جو ان کی تلاش میں ہیں۔لیکن ایک شاعرانہ ٹوسٹ میں ممکن ہے وہ کسی ایسی شئے میں انحطاط کر جائیں جس کو ہم آسانی سے تلاش کر سکتے ہوں۔جیسا کہ ضیائیے یا پھر روشنی کے ذرات۔

 

گزشتہ برس کہکشاؤں کے جھرمٹ سے آتا ہوا ایک اشارہ دریافت کیا گیا جس کی توانائی بانجھ تعدیل نما کی توانائی کے برابر تھی۔لیکن اشارہ ایک مختلف منبع سے بھی خارج ہو تا ہے جیسا کی پوٹاشیم آئن سے۔ایک نئی جاپانی دوربین Astro-H کی تحلیلیت (resolution) بہت زیادہ ہے اور ممکن ہے یہ اس بحث کو ختم کردے۔

 

نیوٹرالینو (Neutralinos):

 

WIMPs کی قانونی مثال نیوٹرالینو ہیں۔ یہ بالا یا سپرتشاکلی نظریے(super symmetric theory) سے جنم لیتے ہیں۔سپر تشاکل یہ کہتا ہے کہ ہر ذرے کا ایک سپر ساتھی بھی ہے۔ اور یہ نظریہ میعاری نمونےمیں کچھ خامیاں ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔لیکن اس کے ذرات مشاہد ےکی زد میں آنے سے انکاری ہیں۔

 

ان میں سے کچھ، جیسا کہ ضیایئہ اور ز۔بوزان (z boson)،کی خصوصیات تاریک مادے جیسی ہیں۔ تاریک مادہ ان سپر تشاکلی ذرات کا آمیزہ ہو سکتا ہے۔ اور ایک جس کے مشاہدے میں آنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں، نیوٹرالینو ہے۔

 

نیوٹرالینو کی دریافت فزکس میں دو مسائل حل کرنے میں مدد دے گی، یہ ہمیں تاریک مادے کی شناخت بتائے گی اور سپر تشاکل کے وجود کا ثبوت دے گی۔تاہم اس سے باقی تمام نا معلوم سپر تشاکلی ذرات طبیعیات دانوں کے لیے ایک پہیلی رہ جائیں گے۔

 

اگر تاریک مادہ نیوٹرالینو ہے تو یہ لازمی طور پر ہمیں بتا رہا ہے کہ باہر نئے مواد کا ایک پورا خاندان موجود ہے جو دریافت ہونے کا منتظر ہے۔لسانتی کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی شاندار اور دلچسپ کام، جس کو مکمل کیے جانے کی ضرورت ہے، کا دروازہ کھولتا ہے۔

 

عدم تشاکلی تاریک مادہ:

 

کائنات کے آغاز میں مادہ اور ضد مادہ آپس میں بہت شدت سے ٹکرائے اور ایک دوسرے کو اس وقت تک معدوم کرتے رہے جب تک کسی طرح صرف مادہ باقی رہ گیا۔ لیکن میعاری نمونے میں ایسا کچھ موجود نہیں جو یہ کہے کہ لازمی طور پر ایسا ہی ہونا چاہیے۔مادہ اور ضد مادہ کو برابر مقدار میں موجود ہونا چاہیے تھا جو کہ ایک دوسرے کا ملیا میٹ کر کے ایک تہی کائنات باقی چھوڑتے۔

 

واضح طور پر ایسا نہیں ہے اور طبیعیات دان بھی نہیں جانتے کہ کیوں۔ممکن ہے بالکل ایسا ہی اصول تاریک مادہ پر بھی لاگو ہوتا ہو۔میعاری نیوٹرالینو نظریے میں ایک ٹوسٹ، جو اس خوبی کا شمول کرتا ہے کہ نیوٹرالینو اپنے ضد ذرات بھی ہیں، ایک تصور جو کہ عدم تشاکلی تاریک مادہ کہلاتا ہے، یہ کہتا ہے کہ ضد تاریک مادوی ذرات اپنے نصف ثانوی تاریک مادوی ذرات کی وجہ سے ختم ہو گئے، جس کی وجہ سے پیچھے وہ تاریک مادہ بچا جس کو آج ہم دیکھتے ہیں۔
عدم تشاکلی تاریک مادے کے ملنے سے نہ صرف اس سوال کا جواب ملے گا کہ تاریک مادہ کیا ہے بلکہ یہ بھی کہ ہم اسے دیکھنے کے لیے یہاں کیوں موجود ہیں۔

 

ایگزیان (Axions):

 

WIMPs کی تلاش جیسے جیسے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے، ایک نیا ذرہ جو ایگزیان کہلاتا ہے، نیا جوش پیدا کر رہا ہے۔

 

ایگزیان بذاتِ خود نیا نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے 1980 میں طبیعیات دان ہیلن کون اور رابڑٹو پیچائی کے شائع کردہ ایک پرچے، جس میں قوی نیوکلیائی قوت کے ایک مسلے کو حل کیا گیا تھا، میں اس کے وجود کا گمان کیا۔بے شک یہ دہائیوں سے تاریک مادہ کے امیدوار کے طور پر سلگ رہا ہے۔تاہم تجربہ دان ابھی تک اس کا کھوج لگانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

 

کاولی انسٹیٹیوٹ کے ریزا ویشلر کا کہنا ہے ہم بس ابھی تجربات کے اس مقام پر پہنچنے والے ہیں جہاں اس خطہ میں جھانکا جا سکتا ہے جہاں ایگزیان کے پائے جانے کے امکان ہیں۔

 

یونیورسٹی آف واشنگٹن کا ایگزیان تاریک مادوی تجربہ (ADMX) ایگزیان کی تلاش میں ہے۔ اس میں ایک قوی مقناطیسی میدان کی مدد سے ایگزیان کو ایک شناشندہ ضیایئے میں تبدیل کیا جائے گا۔اسی ساعت نظریات دانوں نے نئے ایگزیانوں کو تصور کرنا اور ان کو دھونڈنے کے نئے طریقوں پر سوچنا شروع کر دیا ہے۔

 

یو سی ایل کے نظری طبیعیات دان جو ناتھن فینگ کا کہنا ہے کہ ایگزیانی نظریے میں ایک نشاۃ ثانیہ آیا ہے جس کی وجہ سے ایگزیانی تجربوں میں ایک نیا ولولہ عود کر آیا ہے۔

 

آئینہ دیناوی تاریک مادہ ( Mirror world dark matter):

 

بالکل ایسے جیسے ایلس گھورتے شیشے کے آر پار(Alice through looking glass) کے پار عجیب اجسام اور مخلوقات کا بسیرہ تھا، تاریک مادہ بھی ایک بالکل مختلف دنیا میں وجود رکھ سکتا ہے۔جس میں اس کے بنیادی ذرات کے اپنے خاندان ہوں گے۔یہ تاریک ضیایئے اور تعدیلیے ہم سے تجاذب کے سوا کبھی تعامل نہیں کریں گے۔یہ اور کوئی نشان چھوڑے بنا ہماری دنیا کے مادے پر قوت لگاتے ہیں۔فینگ کا کہنا ہے کہ یہ وہ واحد وجہ ہے جس سے ہم جانتے ہیں کہ تاریک مادہ موجود ہے۔

 

خوبصورت تو یہ ہے مگر یہ تاریک مادے کی دریافت کی بہت کم امید فراہم کرتا ہے۔لیکن اس چیز کے اشارے موجود ہیں کہ تاریک ضیائیے عام ضیائیوں میں بدل جائیں، بالکل ایسے جیسے نیوٹرینو ایک دوسرے مین تبدیل ہوتے ہیں۔

 

زائد جہتی تاریک مادہ:

 

اگر تاریک مادہ مکمل طور پر کسی دوسری دنیا میں وجود نہیں رکھتا تو ممکن ہے یہ ہماری نظروں اور تجربات سے اوجھل چوتھی مکانی جہت میں موجود ہو۔ ایسی جہت ذرات کی حرکات کو دیکھنے کے لیے ہمارے لیے بہت چھوٹی ہو گی۔اس کی بجائے ہم 1920 میں پیش کردہ کیلوزہ اور کلائن کے تصور کے مطابق ایک ہی بار مگر مختلف کمیتوں کے بہت سارے ذرات کو دیکھیں گے۔ان میں سے ایک ذرہ تاریک مادے کا ذرہ ہو سکتا ہے۔یہ ایک جدید تصور ہے جو کیلوزہ کلائن تاریک مادہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ ذرات چمکتے یا روشنی کو منعکس نہیں کرتے ہیں۔جو اس بات کی توضیح کرتے ہیں کہ کیوں تاریک مادہ ہماری سہ ابعادی دنیا میں کسی کو نطر نہیں آتا۔

 

اس چیز کی شہادت ملنا کہ تاریک مادی کسی اور جہت میں وجود رکھتا ہے، سٹرنگ نظریے کے لیے بہت مددگار ہو گا،جسے زائد ابعاد کے موجود ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

 

قوی تعاملاتی کمیتی ذرات(Strongly interacting massive particles):

 

بے شک سائنسدانوں نے کبھی بھی تاریک مادے کو شناس(detect) نہیں کیا،لیکن انہیں کہکشاؤں کے مشاہدے سے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کا کتنا وجود ہے۔لیکن کہکشاؤں کے اندرونی حصوں کا مشاہدہ تاریک مادے کی کچھ کمپیوٹر نقالوں(computer simulations) کے موافق نہیں ہے۔یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس کو حل کرنے کے لیے طبیعیات اور ہیت دان ابھی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

 

یہ نقالیں یہ مانتی ہیں کہ تاریک مادہ اپنے ساتھ تعامل نہیں کرتا۔لیکن یہ یقین کرنے کی کہ ایسا ہی ہو کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے۔یہ احساس قوی تعاملی کمیتی ذرات (SIMPs) کے تصور کی طرف لے گیا ہے۔ SIMPs جو کہ تاریک مادوی ذرات ہونے کے امیدوار ہیں، ایک نئی انٹری ہے۔وہ نقالیں جو SIMPs پر کام کرتی ہیں،دوسرے ماڈلز میں موجود خامیوں کو دور کرتی ہیں۔اور کہکشاؤں کے جھرمٹ سے خارج ہونے والے قوی ضیائی اشارے(strong photonic signal) کی توضیح کرتی ہیں۔

 

مخلوط تاریک مادہ:

 

تاریک مادہ ان تمام ممکنات میں سے کوئی بھی نہیں ہو سکتا یا پھر یہ ایک سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

 

کپلنگھٹ کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ تاریک مادہ ایک ہی ذرہ ہو، ہم صرف آسانی(simplicity) کے لیے ایسا فرض کرتے ہیں۔

 

جب مرئی مادہ ذرات کے گروہوں سے مل کر بنا ہوا ہے جن میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں اور ہر ایک دوسروں سے ان گنت طریقوں سے بندھن بنا سکتا ہے تو پھر تاریک مادہ کیوں کر مختلف ہو؟

 

تاریک مادہ کے کوارکس(quarks) اور گلوآنز(gluons) کے اپنے مماثل ہو سکتے ہیں جو کہ تعامل کر کے تاریک بیریانز (Baryons)اور دوسرے ذرات بناتے ہوں۔تاریک جوہر بھی ہو سکتے ہیں جو کہ مختلف ذرات کے باہم ملنے سے بنے ہوں۔

 

جو بھی ہو، ممکنہ طور پر تاریک مادہ دہائیوں تک طبیعیات دانوں کو کائنات کی گہرائیوں کی جانچ میں مصروف رکھے گا۔جس میں نئے رازوں کا انکشاف ہو گا چاہے پرانے حل ہو بھی جائیں۔
Categories
فکشن

پروفیسر اور سیاستدان

تحریر: نلز باس
مترجم : فصی ملک

 

یونیورسٹی کے قریب ایک خوبصورت فراز پر بیٹھا ایک درمیانی عمر کا شخص ایک چٹانی کھاڑی کے دلکش منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔کپڑوں سے اندازہ لگایا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے نیچے موجود گڑھے سے ایک سنگساز ہے۔لیکن حقیقت میں وہ ایک پروفیسر ہے جو اکثر عمیق اور گنجلک مسائل کے متعلق سوچنے کی خاطر یہاں بیٹھنے آتا ہے۔سالہا سال سے اس جگہ پر بہت سارے اچھے تصورات اس کے دماغ میں آئے ہیں۔

 

سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ایک شخص تیزی سے وہاں سے گزر رہا ہے، اس کی سانس پھولی ہوئی اور گال سرخ ہیں اور وہ چلنے کی وجہ سے کافی تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔وہ ایک سیاستدان ہے۔ سائنس اور تحقیق کی وزارت کا سیکرٹری اور حکومت کی نئی تحقیق اور اثریتی کمیٹی کی مجلس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

 

سیاستدان تیزی سے دیکھتے ہوئے احترام سے پروفیسر کو سلام کرتا ہے اور استفسار کرتا ہے کہ آپ کون ہیں اور دن دیہاڑے یہاں کیا کر رہے ہیں۔

 

پروفیسر جواب دیتا ہے ” میں یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں اور یہاں چیزوں کے بارے میں سوچنے کے لیے بیٹھا ہوں۔ سالہا سال سے یہاں میں نے بہت سارے تصورات کو جنم دیا ہے۔اس وقت میں ایک گنجلک اور عمیق مسئلے پر کام کر رہا ہوں جس کے حل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
سیاستدان یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ ایک پروفیسر دن دیہاڑے بنا کسی ظاہری مقصد کے وقت ضائع کر رہا ہے۔

 

سنیے،سیاستدان کہتا ہے، یہ بہت اچھا ہو گا اگر آپ اپنے دفتر میں بیٹھیں اور کسی ایسے مسئلے پر مضمون لکھیں جو زیادہ مشکل نہیں ہے۔

 

پروفیسر جواب دیتا ہے۔”میرا نہیں خیال ایسا کرنا دلچسپ ہو اور یہ میرے مضمون کی ترقی کے لیے بھی موضوع نہیں ہو گا۔پھر میں ایسا کیوں کروں؟”

 

لیکن یہ بالکل وہی ہے جو ہم اہنی اثریتی کمیٹی میں حاصل کرنا چاہیں گے۔سائنسدانوں کو ایسے مسائل کے متعلق نہیں سوچنا چاہیے جو بہت زیادہ مشکل ہوں بلکہ انہیں ان مسائل پر ارتکاز کرنا چاہیے جس سے ان کی اشاعتوں کی تعداد بڑھ سکے اور پھر ہمارا اعدادی میعارِ اصول آسانی سے آپ کے کام کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔جو فوراً ہی ہمیں آپ کے کام کے میعار کی تصدیق کر دے گا۔

 

“میرا نہیں ماننا کہ ایسا کرنا کارآمد ہو گا، پھر میں ایسا کیوں کروں؟” پروفیسر جواب دیتا ہے۔
سیاستدان جو بحث ختم کرنے والا ہے، پر جاری رہتا ہے۔

 

جب آپ ہمارے اعدادی درجہ بندی کے مطابق ایک اچھی ریٹنگ کی اشاعت کر لیتے ہیں تو تیسرا گروہ، بشمول میرے، آپ کے کام کی زیادہ تعریف کریں گے اور پھر آپ کو بہت سارے تحقیقی وسائل اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگ رکھنے کے بھی زیادہ موقع میسر آئیں گے۔
“لیکن اس سے میرا مسئلہ حل نہیں ہو گا،کیوں کہ تب میں اپنا بہت سارا وقت اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مینیجمنٹ میں لگاؤں گا۔”

 

“اگر آپ آسان مسائل کے متعلق مضامین لکھتے ہیں تو آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں گے کہ آپ اپنے لیے مینیجر رکھ سکیں گے، ہو سکتا ہے آپ کو اپنا شعبہ بھی مل جائے۔

 

پروفیسر کہتا ہے” یہ میرے لیے دلکش نہیں ہے، زیادہ لوگ ہو نے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ بلکہ یہ مجھے اصل نقطے سے ہٹائیں گے”۔

 

سیاستدان کہتا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، ہم جب حجم کو بڑھانے کے لیے رقم دیتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں اس سے کوالٹی میں بھی بہتری آئے گی۔

 

فضول، پروفیسر کہتا ہے۔اس لمحے صورت حال خاصی سرد ہو جاتی ہے مگر سیاستدان جو اس کا عادی ہے جاری رہتا ہے۔

 

کیا یہ زبردست نہیں ہو گا کہ آپ سائنسدانوں کے ایک گروہ کے سربراہ ہوں اور آپ کا اپنا شعبہ ہو اور ہر بندہ آپ کے مسئلے پر کام کرے؟

 

تو پھر میں کیا کروں گا؟ پروفیسر پوچھتا ہے؟
سیاستدان اس جواب سے ششدر رہ جاتا ہے
“آپ کہیں بھی بیٹھ کر اپنے مسئلے پر سوچ سکتے ہیں”
پروفیسر جواب دیتا ہے” بالکل یہی تو میں ابھی کر رہا ہوں”

 

سیاستدان بمشکل ہی جواب کو سنتا ہے اور اثریتی کمیٹی کے اجلاس میں بھاگ جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر نئے خیالات اور تھوڑے سے رشک کے ساتھ۔

 

(میں یہ ترجمہ ڈاکٹر پرویز ہود بھوئے کے نام کرتا ہوں)