Categories
نقطۂ نظر

تاثیرمسیحائی کی؟

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: لالٹین سلمان تاثیر کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آسیہ بی بی اور توہین مذہب و رسالت کے قانون پر ان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد یہ احساس دلانا ہے کہ بہرطور سلمان تاثیر بھی انسان تھے اور ان کی پیشہ ورانہ، کاروباری اور سیاسی زندگی کسی بھی اور انسان کی طرح شخصی خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد یہ بھی ہے کہ سلمان تاثیر اور انسانی آزادیوں کے ایسے ہی دیگر شہیدوں کو انسانی خامیوں سے پاک دیوی دیوتا بنانے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اختلافی نقطہ نظر کو بھی جگہ دی جائے۔

 

لالٹین مکتوب نگار کے اس موقف سے متفق نہیں کہ سلمان تاثیر کی موت ان کے اپنے ملازمین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے نتیجے میں ملنے والی خدائی سزا تھی۔ ہماری دانست میں سلمان تاثیر کی موت پاکستان میں توہین مذہب و رسالت جیسے غیر منصفانہ اور غیر انسانی قانون کے خاتمے کی جدوجہد میں ایک سنگِ میل ہے اور اس کی علامتی حیثیت ہمیشہ برقرار رہے گی تاہم اس بناء پر سلمان تاثیر کو مقدس گائے کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

[/blockquote]
letters-to-the-editor-featured1

جس وقت گورنر پنجاب سلمان تاثیر، آسیہ مسیح سے ہمدردی کے لیے شیخوپورہ جیل پہنچے، اُس وقت سلمان تاثیر کے سینکڑوں ملازمین چھ ماہ سے بغیر تنخواہ کام کر نے پر مجبور تھے۔ میں اُن ملازمین کا مینجر تھا۔ سلمان تاثیر کی موت سے پانچ دِن پہلے میں نے “گورنر” کو خط لکھا اور رحم کی اپیل کی—بصورتِ دیگر کام روکنے کی دھمکی دی۔ آج سلمان تاثیر کو گزرے چھ برس بیت گئے لیکن ملازمین کوآج تک محنت کی اُجرت نہ مل سکی۔

 

سلمان تاثیر، سیاست دان کےعلاوہ ایک بزنس مین بھی تھے۔ انہوں نے برطانیہ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی میں ڈگری حاصل کی اور 1994 میں امریکی مالیاتی ادارے “اسمتھ بارنی” (موجودہ مورگن اسٹینلی) کے ساتھ مل کر ایک بروکریج ہاؤس قائم کیا۔ تاثیر نے 1996 میں “ورلڈ کال” گروپ کی بنیاد رکھی جبکہ 2002 میں اخبار “ڈیلی ٹائمز” اور 2004 میں کاروباری ٹیلے وژن چینل “بزنس پلس” لانچ کیے۔

 

میں نے مارچ 2010 میں بطور سینیئر پروڈیوسر “بزنس پلس” جوائن کیا۔ اُس وقت چینل کے حالات اچھے نہیں تھے۔ہر دو ماہ بعد ایک مہینے کی تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔ میں تقریباً ایک سال سے بے روزگار تھا—اِس لیے ملازمت کی حامی بھر لی۔

 

“بزنس پلس” پر دِن میں کاروباری خبریں نشر کی جاتی تھیں جبکہ پرائم ٹائم میں کرنٹ افیئرز کے پروگرام پیش کیے جاتے تھے۔ چینل کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹاک شو 24Seven تھا جو سلمان تاثیر کی سالی “عائشہ ٹیمی حق” ہوسٹ کرتی تھیں۔ جوائننگ کے ایک ہفتے بعد، مجھے اُس لائیو شو کا پروڈیوسر مقرر کر دیا گیا۔ میں نے پروگرام کوبہتر بنانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی، یوں ادارے میں میری حیثیت مضبوط ہوتی رہی۔ لیکن حقیقی معنیٰ میں وہاں مضبوط ترین پوزیشن اگر کسی کی تھی تو وہ وہاں کا فائنینس ڈیپارٹمنٹ تھا: تاثیر کے اشاروں پر چلنے والا بد تہذیب اور بے حس ڈیپارٹمنٹ!

 

تقریباً سات آٹھ ہفتوں بعد، مجھے پہلی مرتبہ سیلری لینے کے لیے بلایا گیا ۔فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی بیرونی دیوار میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس کے سامنے مجھ جیسے صحافی اور دیگر ملازمین لمبی قطار لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ میں بھی لائن حاضر ہو گیا۔ پہلا شخص رسید پر دستخط کر کے کھڑکی چھوڑتا تو سب پوچھتے، “پوری تنخواہ ملی ہے یا آدھی؟” اگر وہ کہتا کہ پوری تو سب خوش ہو جاتے ؛ اگر کہتا کہ آدھی تو سب چُپ ہو جاتے ؛ اور اگر کہتا کہ “پونی” تو سب مشتعل ہو جاتے—

 

میں نے سلمان تاثیر کے ٹی وی چینل میں کُل ملا کے آٹھ مہینے ملازمت کی ہوگی لیکن تنخواہ تقریباً دو مرتبہ وصول کی۔ ملازمت کے آخری دو مہینوں میں مجھے میری کارکردگی اور تجربے کی بنیاد پر پروگرام مینجر بنا دیا گیا جس کے تحت کراچی، لاھور اور اسلام آباد اسٹیشن میری ذمہ داری بن گئے۔ تنخواہ تو نہ بڑھائی گئی مگر اضافی ذمہ داریوں کے عوض مجھے ایک گاڑی اور ایک ٹھنڈا کمرہ عطا کر دیا گیا۔

 

ترقی ملنے سے تقریباً تین ہفتے قبل، سلمان تاثیر نے لاھور سے اپنا نمایندہ خصوصی “عاصم عتیق” کراچی میں متعین کیا جس کو “ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹ” کا نام دیا۔ وہ اسپیشل پروجیکٹ کیا تھا، کبھی کسی کو نہیں پتا چل سکا۔ البتہ اُس نے چارج سنبھالتے ہی بلند و بانگ دعوے کیے۔سب سے بڑا دعوٰی یہ تھا کہ میں پچھلی تنخواہیں پہلی فرصت میں ادا کروا دوں گا۔ نیا ڈائریکٹر، بڑے صاحب کا نام لینا گستاخی سمجھتا تھا، اُن کو ہمیشہ “گورنر” کہہ کر پکارتا تھا۔ میں کبھی سلمان تاثیر سے نہ مل سکا نہ ہی ٹیلے فون پر بات چیت کی۔ لیکن کئی مرتبہ عاصم عتیق اور میں میٹنگ میں ہوتے اور تاثیر کا ٹیلے فون آجاتا تو عاصم کی ہوائیاں اُڑ جایا کرتیں۔ مجھے مجبوراً کمرے سے باہر جانا پڑتا۔ مجھے ترقی دے کر پروگرام میجر بھی عاصم نے ہی بنایا تھا۔ شاید اِس کی وجہ میری قابلیت سے زیادہ یہ تھی کہ وہ خود سلمان تاثیر اور اُس کے بیٹے شہریار تاثیر کی ذاتی ملازمت پر اِس قدر معمور تھے کہ اُنھیں چینل چلانے کے لیے ”کام“ والے لوگوں کی اشد ضرورت تھی۔

 

عاصم نے جس دِن لاہور سے کراچی آکر چینل کا چارج سنبھالا، اُس کے اگلے روزسے اُس کے ساتھ ایک پرسنل باڈی گارڈ بھی دفتر آنے لگا۔ گارڈ سفید شلوار قمیص میں ملباس ہوتا اورہاتھ میں ایک چمکتا ہوا برہنہ پستول ہوتا۔ ملازمین نے پچھلے چار ماہ سے تنخواہ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ عاصم کے تمام دعوے اور وعدے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو چکے تھے۔ ملازمین اُس تک پہنچنے کی کوشش کرتے تو بند دروازے کے باہر موجود باڈی گارڈ روک دیتا، کبھی نرمی سے اور کبھی دھونس دھمکی سے۔

 

میں اپنی عوامی طبیعت کی وجہ سے مالکان سے دُوراورماتحتوں سے قریب رہتا تھا۔ پانی ہماری گردنوں تک آچکا تھا۔ ایک شام ایک نوجوان کرسچن لڑکا—جو آفس میں جمعدار تھا—میرے کمرے میں داخل ہوا اور مجھ سے پوچھا:

 

“کیا آپ کے پاس سو روپے ہوں گے؟“ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ رات کا کھانا کھایا ہوا ہے، صبح کا ناشتہ نہیں کیا اور یہ وقت آگیا۔ مجھ سے اور میرے ساتھی سے کام نہیں ہورہا، کچھ کھانا چاہتے ہیں۔ میری نظریں جھک گئیں۔ کمرے میں اے-سی چل رہا تھا جبکہ دبلے پتلے نوجوان کے جسم پر پسینہ چمک رہا تھا۔ میں نے شرمندگی سے اے-سی آف کر دیا اور ذہن پر زور دیا میرے والیٹ میں سو روپے ہیں بھی کہ نہیں۔ میں نے پرس نکالا تو اُس میں شاید ایک سو ستر روپے تھے۔ سو روپے نکال کر دیے تو لڑکا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔ وہ پہلا واقع تھا جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ دیا اور سلمان تاثیر کو للکارنے پر مجبور کیا۔

 

بزنس پلس کے استقبالیہ پر ایک نہایت نفیس اور بے ضرر شخص اپنے فرائض انجام دیتا تھا، “پیٹر” نام تھا اُس کا۔ ایک دِن ریسیپشن کے سامنے پیٹر نے مجھے روک کر پوچھا کہ تنخواہ ملنے کا کوئی آسرا ہے؟ میں نے نفی میں گردن ہلا دی۔ پیٹر جو پہلے سے پریشان تھا مزید بُجھ گیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ اُس کی دونوں بچیوں کو اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ چار مہینے سے فیس ادا نہیں کی۔ میرا دماغ پھٹنے لگا۔ یہ ٹھیک وہی دِن تھے جب گورنر سلمان تاثیر، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون آسیہ نورین کے حق میں لابنگ کررہے تھے۔ اِس دوران وہ کئی مرتبہ اپنی اہلیہ آمنہ اور بیٹی شہربانوکے ہمراہ شیخوپورہ جیل گئے، آسیہ بی بی سے ملاقاتیں کیں اور باہر آکر میڈیا پر اپنے بیانات جاری کیے۔

 

ریسیپشن کے پاس کھڑا میں سوچتا رہا کہ پیٹر، اُس کی بیٹیاں، وہ بھوکا جمعدار لڑکا اور اُس کا ساتھی بھی تو کرسچین ہیں۔ ان کے ساتھ بھی تو نا انصافیاں ہو رہی ہیں۔ بلکہ یہ نا انصافیاں سلمان تاثیر اور اُن کا خاندان خود کر رہا ہے۔ تو پھر پورے پاکستان میں اور پوری مسیحی برادری میں سلمان تاثیر کو صرف ایک آسیہ بی بی ہی مظلوم نظر آئی—؟ اِن مظلوموں کی داد رسی کون کرے گا جو کہ سلمان تاثیر کی براہ راست ذمہ داری ہیں؟!

 

پیٹر کو تسلی دے کر میں سیدھا عاصم عتیق کے کمرے کی طرف بڑھا۔ باہر کھڑے باڈی گارڈ کو بتایا کہ مجھے ڈائریکٹر صاحب سے فوراً ملنا ہے۔

 

کانفرنس ٹیبل پر عاصم کا چمکتا ہوا لیپ ٹاپ رکھا تھا جس پر وہ کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا۔

 

“پانچ مہینے گزر گئے، سیلری کب آئے گی؟” میرے پرانے سوال میں نیا مہینہ جُڑ چکا تھا۔

 

گورنر کا نمایندہ جس دن سے کراچی آیا تھا اور جن وعدوں پر اُس نے تقریباً دو مہینے گھسیٹے تھے اُس دن سے ایک ہی سوال سُن رہا تھا کہ سیلری کب آئے گی۔ بقول اُس کے، یہ ”سیلری“ اُس کی چڑ بن چکی تھی۔ پہلے وہ حیلے بہانے کرتا تھا، دلاسے دیتا تھا، لوگ یقین کر لیتے تھے۔ لیکن اب پانی ناک تک پہنچ رہا تھا:

 

“او یار، مجھے کیا پتا—!” عاصم نے پرانا جواب نئے لہجے میں دیا۔
“آپ کو نہیں پتا؟”

 

“نہیں—اِس کا جواب صرف گورنر ساب دے سکتے ہیں۔”

 

“آپ نے پوچھا نہیں؟ ہر روز بات ہوتی ہے آپ کی!”

 

“او بھائی وہ گورنر ہیں— !” عاصم نے مجھے ایسے ڈرایا جیسے بڑے بوڑھے، بچوں کو اللہ میاں سے ڈراتے ہیں۔

 

“میرے لیے وہ گورنر نہیں—باس ہیں۔ اگر اُن کے حالات بھی میری طرح خراب ہیں تو اُن سے کہیں کہ گورنری چھوڑیں اور میرے ساتھ مل نوکری ڈھونڈلیں۔” میرے وجود سے انقلاب کے نعرے بلند ہونے لگے۔
مشیر خاص نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میری زبان درازی اور ”احسان فراموشی“ پر افسوس کرنے لگا۔

 

“آپ خود ہی کیوں نہیں پوچھ لیتے؟” دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹ سے سرکس کا رنگ ماسٹر بن گیا۔ اُس نے بکری کو شیر کے پنجرے کی طرف ہانکنا شروع کیا اور لوہے کا جنگلہ کھولنے کی تیاری کی:

 

“مجھے اجازت نہیں ہے اُن سے بات کرنے۔” میں نے مجبوری ظاہر کردی۔
“نہیں—آپ کرلیں بات۔” یہ کہہ کر وہ کام میں مصروف ہو گیا۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔

 

اپنے کمرے میں آئے ہوئے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ ایک کیمرہ مین (نام یاد نہیں رہا) میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ “کیا میں آج رات اسٹور (جہاں کیمرے رکھے جاتے ہیں) میں سو سکتا ہوں؟“ میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ وہ صبح اُدھار مانگ کر دفتر آیا تھا۔ جو پیسے بچے اُس کا کھانا کھا لیا۔ اب واپس جانے کا کرایہ نہیں ہے۔ میں کرایہ نکال کر دینے لگا تو اُس نے اصل وجوہات بتائیں: اُس کا تین ما ہ کا بچہ تھا۔ فاقوں سے بچانے کے لیے اُس کی سالی نے بچے کو اپنے گھرمیں رکھ لیا تھا اور اُس کو پالنے کی ذمہ داری لے لی تھی۔ اِس بات پر کیمرہ مین کی بیوی بہت شرمندہ تھی اور شوہر سے شدید ناراض بھی۔

 

“میں نے وعدہ کیا تھا کہ رات کو کچھ پیسے لے کر آؤں گا۔ اب خالی ہاتھ جاؤں گا تو بیوی –”

 

میں نے سمجھایا کہ گھر نہیں جاؤگے تو بیوی زیادہ پریشان ہوگی۔ میں کوشش کر رہا ہوں سیلری مِل جائے گی ان شاء اللہ۔

 

کیمرہ مین نے کہا کہ بیوی تو مان جائے گی پر صبح مالک مکان کو بھی آنا ہے۔ “وہ گھر خالی کرنے کا کہہ رہا ہے۔ میری سالی نے اپنے گھر میں ایک کمرہ دینے کی آفر کی ہے لیکن میں اور میری بیوی۔۔۔۔”

 

وہ یہ کہہ چُپ ہو گیا اورمیرے ذہن کے کاغذ پر سلمان تاثیر کے نام ایک خط شروع ہوگیا۔

 

کیمرہ مین نے اسٹور روم میں سونے کی اجازت دوبارہ مانگی اور میں نے اجازت دے دی۔

 

شاید اُسی شام یاپھر اگلے روز ایک اور ٹیکنیشن میرے کمرے میں داخل ہو ا اور مجھ سے پوچھا کہ تنخواہ کب آئے گی؟

 

میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اُس نے کہا کہ آپ تاثیر صاحب کے قریبی آدمی ہیں۔ آپ کو کمپنی کی گاڑی، اے سی والا کمرہ اور اختیارات دیے گئے ہیں۔ آپ پوچھ کر بتائیں بڑے ساب سے کہ تنخواہ کب آئے گی۔

 

میں مسکرایا اور اُس کو یقین دلایا کہ میں آج تک سلمان تاثیر سے نہیں ملا اور نہ ہی کبھی ای میل یا ٹیلے فون پر بات ہوئی۔ وہ بھی مسکرایا اور میرے قریب آکر مجھے دھمکانے لگا:

 

“فرحان ساب—آپ ہمارے باس ہو۔ لیکن باس صرف آفس کے اندرہوتا ہے۔ آفس کے باہر پستول کی گولی کسی کو نہیں پہچانتی!”

 

میں نے اُسے ڈانٹ کر بھگا دیا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے اُس کی دھمکی بچگانہ یا کھوکھلی لگی۔ ایسا ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ اُن دنوں رات کی تاریکی میں کچھ لڑکے پچھلے گیٹ سے آفس کے اندر کودنے کی کوشش کر چکے تھے۔ جب دفتر کے گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی تو بدلے میں دوسری طرف سے بھی فائر کیے گئے اور وہ بھاگ گئے۔ ایک مرتبہ پھر ایسا ہوا۔ جبکہ دِن کی روشنی میں دفتر میں چوری کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔ میز پر رکھے موبائل فون اور کمپیوٹر میں لگی RAM غائب ہونے لگیں۔ چینل میں کام کرنے والے تخلیقی ذہن چور بننے پر مجبور ہو گئے۔

 

اُس لڑکے کی دھمکی نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں سلمان تاثیر کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کروں۔

 

یہ28 یا 29 دسمبر 2010 کا واقع ہے۔ میں نے اپنی ای میل کھولی اور سلمان تاثیر کو تفصیلی خط لکھنا شروع کیا:

 

محترم سلمان تاثیرصاحب:

 

آدھا سال گزر گیا ہمیں تنخواہیں نہیں ملیں۔ اِس دوران آپ نے ایک نیا چینل (ذائقہ ٹی وی) کھولا۔ نیا اسٹاف رکھا جن کی تنخواہیں ہم سے دویا تین گنا زیادہ ہیں۔ چینل کی افتتاحی تقریب میریٹ ہوٹل میں شاندار انداز میں ہوئی (جہاں طرح طرح کے پر تکلف کھانوں کے علاوہ ولایتی شرابیں، پانی کی طرح پلائی اور بہائی گئیں)۔ میرے ساتھی بھوک سے مر رہے ہیں۔ وہ خود کرائے کے گھروں سے اور اُن کے بچے اسکولوں سے نکالے جارہے ہیں۔ ملازمین دفتر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اپنے سینیئرز کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہماری حالتوں پر رحم کیجئے اور سال ختم ہونے سے پہلے کم از کم تین مہینے کی تنخواہیں ریلیز کر دیجئے۔ ساتھ ہی باقی تنخواہوں کا ایک شیڈول بھی پیش کیجئے۔ بصورت دیگر مجے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں بحیثیت ہیڈ آف پروڈکشن اِس چینل کی ٹرانسمیشن بند کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔

 

سلمان تاثیر کو ای میل بھیجنے کے بعد، میں نے اپنا استعفیٰ ٹائپ کیا اور نیچے جا کر اسٹوڈیو میں تمام اسٹاف ممبرز کو جمع کیا۔ وہ تعداد میں تقریباً سو لوگ تھے۔ میں نے اپنے بے یارو مددگاردوستوں کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ خط کے بارے میں آگاہ کیا۔ 31 دسمبر تک تنخواہیں نہ ملنے پر ٹرانسمیشن بند کرنے کے بارے میں اُن کی رائے طلب کی۔ سب نے یک زبان ہو کر تاعید کی۔ تب میں نے ہر ایک فرد سے عہد لیا کہ اگر کل صبح اِس دفتر سے کسی ایک صحافی، پروڈیوسر حتی کہ جمعدار کو بھی نکالا جاتا ہے تو ہم سب اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ اِس پر بھی سب نے اتفاق کیا۔

 

انقلاب کی روح پھونک کر میں گھر چلا گیا۔ اُن دنو ں میں پریس کلب سے چند قدم کے فاصلے پر اور زینب مارکیٹ کے سامنے والے فلیٹوں میں ڈیڑھ کمرے کے اپارٹمنٹ میں رہتا تھا۔ دفتر کے بعد، زیادہ تر وقت پریس کلب میں ہی گزرتا تھا۔ کراچی پریس کلب کا ممبر ہونے کی وجہ سے ہم صحافیوں کو کلب میں معیاری کھانا، بازار سے تقریباً آدھی یا اُس سے بھی کم قیمت پر ملتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک سال کی بے روزگاری اور چھ ماہ کی بے گار کاٹنے کی بعد جو غربت چھا چکی تھی وہ پریس کلب کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے دوسروں پر عیاں نہ ہو سکی یا بہت کم عیاں ہوئی۔

 

میں صبح معمول کے مطابق اور بغیر کسی خوف کے، ٹی وی اسٹیشن پہنچا۔ سلمان تاثیر نے پہلی نظر میں اُس خط کو شاید مزاق سمجھا ہوگا۔ دوپہر گزر گئی تمام چیزیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ جوں ہی سہ پہر ہوئی تو سلمان تاثیر نے اپنے وفا دار ڈائریکٹر عاصم عتیق کو میرے شکار پر لگا دیا۔ مجھے فوراً کانفرنس روم میں پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے کرسی سے اُٹھنے سے پہلے استعفی کا پرنٹ آؤٹ نکالا اور کاغذ تہہ کر کے کمرے سے باہر چلا گیا۔

 

دروازہ کھول کر اندر پہنچا تو وہاں عاصم کے علاوہ تمام ڈپارٹمنٹس کے ان چارج بیٹھے ہوئے تھے۔ کل ملا کر آٹھ نو لوگ ہو ں گے۔ میں ابھی کرسی پر بیٹھ بھی نہ پایا تھا کہ ڈائریکٹر مجھ پر برس پڑا:

 

“آپ نے گورنر ساب کو خط کیسے لکھا!!؟”

 

عاصم مجھ سے وقتاً فوقتاً مختلف چیزیں لکھواتا رہتا تھا۔ اپنے اور سلمان تاثیر کے لیے۔ اوروہ میری لکھائی کی داد بھی دیتا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ ”گورنر“ سے مل کر کراچی واپس آیا تو میرے لیے کہے گئے تاثیر صاحب کے تعریفی کلمات بھی مجھے سنائے۔
“جیسے ہمیشہ لکھتا ہوں، ویسے ہی لکھا۔” میں نے سادہ سا جواب دیا۔

 

“آپ نے گورنر ساب کو خط کیوں لکھا؟؟؟” اُس نے سوال بدل کر پوچھا۔
“کیوں کہ آپ ہی نے کہا تھا۔”

 

“گورنر ساب کو کوئی ای میل نہیں کر سکتا!”

 

“کیوں—؟” میں عاصم کی ”گورنر صاحب“ سے عقیدت کی آخری حد جاننا چاہتا تھا۔

 

“گورنر ساب سے کوئی سوال نہیں کر سکتا!”

 

کیوں—گورنر صاحب—اللہ میاں ہیں کیا؟ نعوذ باللہ!

 

سب کے سب خاموش بیٹھے رہے۔ کسی نے اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کی۔ کمرے میں اور عاصم بحث کرتے رہے۔ اُس کی کھوکھلی باتوں میں ہمارے مسائل کا حل دُور دُور تک کہیں نہیں تھا۔ وہ صرف “گورنر ساب، گورنر ساب” کیے جارہا تھا۔ اُس کا غرو ر، میری برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔

 

“گورنر نہیں —فرعون ہیں وہ!”

 

—اور فرعون کی قسمت میں غرق ہونا لکھا ہے۔ ” میں نے اپنا مقدمہ سمیٹنا شروع کیا۔

 

کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ دسمبر کی ہلکی سردی تھی۔ میں نے کوٹ پہنا ہوا تھا۔ بائیں جانب فرنٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈالا تو انگلیو ں نے استعفےٰ کو چھوا۔ میں نے سرکس رنگ ماسٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کردیکھا؛ اُس کے ہاتھ سے چابک چھینا اور سلمان تاثیر کے دیو قامت مجسمے کے گرد لپیٹ کر اِس قوت سے کھینچا کہ باطل بُت عاصم عتیق کے قدموں میں آکر گرا:

 

“جب سلمان تاثیر جیسے لوگ ظلم کی حدیں پار کر جاتے ہیں؛ جب آپ جیسے پالتو نوکر اُس ظلم پر پردہ ڈالتے ہیں تو قدرت خود intervene کرتی ہے۔ اور قدرت کی مداخلت کے آگے کوئی نہیں ٹک سکتا۔ ڈریں اُس وقت سے کہیں آپ کے گورنر ساب کا حال فرعون اور قارون جیسا نہ ہو جائے!”

 

میں نے اپنا استعفیٰ نکال کر میز پر رکھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ سگریٹ کی طلب نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔ گاڑی میں ایک پیکٹ رکھا تھا۔ میں نے گاڑی پچھلی گلی میں کھڑی کی تھی۔ وہاں گیا تو دیکھا گاڑی نہیں ہے۔ سوچا کہ شاید سامنے مین روڈ پر کھڑی کی ہوگی۔ وہاں گیا تو وہاں بھی گاڑی نہیں تھی۔ میں سمجھ گیا کہ میری گاڑی عاصم عتیق کے کہنے پر اُٹھا لی گئی ہے۔ میں واپس دفتر کے اندر داخل ہوا۔ پہلی منزل پر واقع اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو کورے ڈور میں ایڈمن آفیسر، شاہد عالم (جو میرا دوست بھی تھا) دونوں ہاتھ بڑھا کر مجھ سے بغیر گیر ہو گیا۔

 

“جمالوی صاحب—مجھے معاف کردیں۔ “

 

“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ تم نے میری گاڑی اُٹھوالی—؟ تم بھی دُم ہلانے والے نکلے!”

 

“میں مجبور ہوں—مجھے معاف کردیجئے گا۔ “

 

یہ پہلا واقع نہیں تھا، اِس سے پہلے بھی انہی لوگوں نےہماری مارکیٹنگ مینجر ثمینہ انصاری کی ہانڈا سوک گاڑی دفتر کے سامنے سے اُٹھا لی تھی اور واردات کو چوری ظاہر کیا تھا۔ ایسا اِس لیے کیا جاتا تھا تاکہ کمپنی کے افسران گاڑی بیچ کر اپنی رُکی ہوئی تنخواہوں کا کوٹا پورا نہ کر لیں۔ اُن دنوں شاہ زیب خان زادہ ڈائریکٹر نیوز تھے۔ انہوں نے جب ریزائن کیا تو کمپنی کی گاڑی واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، بلکہ عدالت میں مقدمہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ شاہ زیب غالباً وہ واحد شخص ہیں جنھیں سلمان تاثیر نے اُن کے بقا یہ جات واپس کیے۔ میں نے شاہ زیب کو فون کر کے اِس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔

 

شاہد عالم، میرا دوست میرے سامنے کھڑا تھا۔ لیکن ملازمت چونکہ انسان کو بزدل بنا دیتی ہے اِس لیے وہ میرا دوست بعد میں اور سلمان تاثیر کے وفادار کا وفادار پہلے تھا۔ میں نے اُس کے ذریعے حکام بالا کے لیے ایک پیغام چھوڑ ا:

 

“میں پریس کلب جارہا ہوں۔ پریس کانفرنس کرنے۔”

 

عاصم عتیق اور شاہد عالم نے میری پروموشن میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اُنہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں اُن کو چھوڑ کر “غیروں” کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا اور مظلوموں کے حق میں بات کروں گا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ایک مرتبہ، غالباً عید کے موقع پر، عاصم عتیق نے کھلی پیش کش کی کہ تم دوسروں کو چھوڑو۔ اگر تمھیں پیسوں کی ضرورت ہے تو ابھی بیس ہزار روپے دلوادیتا ہوں فائننس ڈیپارٹمنٹ سے۔ میں نے انکار کر دیا اور مسئلے کا مکمل حل ڈھونڈے پر زور دیا۔ شاہد نے بھی اُس وقت مجھے منانے کی کوشش کی۔

 

میرے پاس گاڑی نہیں تھی اور پریس کلب پہنچنے کی جلدی تھی۔ میں نے اپنے دوست عدنان جعفر کو فون کیا۔ وہ تھوڑی دیر میں دفتر پہنچ گیا۔ اِس دوران اسٹیشن کے تمام ساتھی میرے کمرے کے باہر جمع ہونا شرو ع ہو گئے۔ میں نے سب کو پریس کلب پہنچنے کی کال دی۔ سب

 

راضی ہوگئے۔ عدنان آیا اور میں اُس کے ساتھ پریس کلب پہنچا۔ گورننگ باڈی کے ایک سینیئر ممبر سے پریس کانفرنس کرنے کی اجازت مانگی۔ اجازت مل گئی۔ باہر لان میں کھڑا ساتھیوں کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزرنے کے بعد فون کیا تو کسی نے بھی فون نہیں اُٹھایا۔ قریب دو گھنٹے گزرنے کے بعد، مجھے ایک لڑکے نے فون پر یہ اطلاع دی کہ آپ کے نکلتے ہی عاصم عتیق نے مشتعل اسٹاف کو بیس بیس ہزار روپے کیش دے دیے ہیں اور معاملے کو دبا دیا ہے۔ چینل میں ہر شخص دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ آفس میں جاکر پریس کانفرنس کینسل کر وا دی۔ اُس رات پریس کلب میں صرف دو ساتھی جمع ہوئے۔ باقی اپنی ضرورتوں کے ہاتھوں بک گئے۔ جو موجود تھے اُن سے میں نے صرف اتنا کہا کہ بیس ہزار روپے کب تک چلیں گے؟ آج اگر ہم اکھٹا ہوجاتے تو اِس معاملے کا بہتر حل نکالا جاسکتا تھا۔لیکن اب سال ختم ہو رہا ہے۔ نیا سال شروع ہوتے ہی وہ لوگ کہیں گے کہ پچھلے سال کے بقایا جات ہیں، بعد میں دیکھیں گے۔ اور وہ “بعد” کبھی نہیں آئے گا۔

 

اگلی صبح مجھے عائشہ ٹیمی حق کا فون آیا۔ اُنہوں نے مجھ سے استعفے کی وجہ پوچھی۔ میں نے بتا دی۔ میں ٹیمی کا پسندیدہ پروڈیوسر تھا۔وہ مجھے گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔ اِس لیے انہوں نے کہا کہ وہ سب کے لیے تو وعدہ نہیں کرسکتیں، لیکن میرے dues فوراً clear کر واسکتی ہیں۔ ”تم اپنا resignation واپس لے اور کام شروع کرو۔”

 

میں نے اُن کا شکریہ اداکیا اورکہا کہ میں صرف اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتا۔

 

نیا سال شروع ہو چکا تھا۔ میں تقریباً تین چار دِن گھر میں آرام کرتا رہا۔ رات دیر تک لکھتا اور دن میں دیر تک سوتا رہتا۔

 

4 جنوری 2010 کی صبح غالباً ساڑھے نو بجے مجھے ڈان نیوزسے (جہاں میں پہلے کام کر چکا تھا) فون آیا۔ میں گہری نیند میں تھا۔ موبائل ٹٹول کر اُٹھایا۔ کان سے لگایا تو دوسری طرف سے کسی نے بوکھلا کر پوچھا:

 

“سلمان تاثیر صاحب کی کنڈیشن کیسی ہے؟”

 

میری سمجھ میں نہیں آیا۔ سوچا کوئی مزاق کر رہا ہے۔ چھیڑ رہا ہے پچھلے ہفتے کی میری ناکام کارروائیوں پہ۔

 

میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو بتانے والے بتایا کہ ”تاثیر صاحب پر جانی حملہ ہوا ہے اور حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ تم اُن سے قریب ہو اِس لیے سوچا کہ تمھیں پتا ہوگا۔“ میں نے بتایا کہ چند روز قبل ہی میں نے نوکری چھوڑی ہے۔

 

مجھے تشویش ہوئی۔ کمرے میں رکھے ٹی وی سیٹ کی طرف دیکھا جو کئی مہینوں سے خراب پڑا تھا۔ اتنے میں بیل بجی۔ مالک مکان تھے۔ میں نے انہیں چار مہینے سے گھر کا کرایہ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے وہ میرے دفتری حالات سے کافی حد تک واقف تھے۔ سفید بنیان پہنے صاحب نے مجھے “مبارک باد” دی کہ سلمان تاثیر کو قدرت نے سزا دے دی۔

 

“آؤ دیکھو ٹی وی پہ—کیا حال ہوا ہے ظالم کا۔”

 

میں فوراً اُن کے پیچھے پیچھے برابر والے گھر میں گیا۔ اسکرین پر وہی دیکھا جو دنیا نے دیکھا۔ لیکن ذہن میں جو کچھ چل رہا تھا وہ دنیا کو نہیں پتا تھا۔ مکان مالکن بھی مجھے دیکھ کر خوش ہو گئیں اور چہک کر بولیں:

 

“اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے بیٹا۔ کتنے لوگوں کا حق مارا ہوا تھا اِس نے۔ آج دیکھو کیسے مارا گیا!”

 

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، بزنس پلس کے ایک ساتھی کا فون آگیا:
“آپ تو پیر صاحب نکلے—آپ کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔”

 

میں نے سامنے والے کو جھڑک دیا اور اللہ سے توبہ کرنے کو کہا۔
ایک اور فون آیا: ” آپ کی بد دعا لگ گئی جمالوی صاحب۔ Salman Taseer is no more!”

 

پھر ایک اور فون آیا: “ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی جمالوی۔ ہم اُس دِن پریس کانفرنس کر لیتے تو شاید پیسے مل جاتے۔۔۔ آپ آج ہی پریس کانفرنس رکھیں ہم سب پہنچ رہے ہیں—”

 

میں نے فون کر نے والے کو سمجھایا کہ میرا بزنس پلس سے، سلمان تاثیر سے اور آپ لوگوں سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے اِس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی۔ آئندہ فون مت کیجئے گا۔ میں اپنے کمرے میں واپس گیا، اور پھر سو گیا۔۔۔

 

٭٭٭

 

چھ سال گزر گئے اِس واقع کو لیکن میں نے آج تک پبلک فورم پر اِس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ اورآج تک اس مسئلے کا کوئی حل بھی نہیں نکلا۔ سلمان تاثیر کی وفات کے بعد، جن ملازمین نے اُن کے بیٹے شہریار تاثیر سے گزشتہ اور موجودہ تنخواہوں کا مطالبہ کیا تو بقول شخصے اُس نے یہ جواب دیا کہ ہمارا باپ مر گیا ہے اور تم لوگ پیسے مانگ رہے ہو؟

 

یہ وہی شہریار تاثیر ہے جس نے مجھے لاھور سے پیغام بھجوایا تھا (جب میں اُن کا ملازم تھا) کہ آپ رات بارہ بجے سے صبح چار بجے تک نیشنل جیوگرافک کی بہترین ڈاکیومنٹری اور WWF کی ریسلنگ،بزنس پلس چینل پر چلانا شروع کردیں۔ اِس پر میں نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ کسی دوسرے چینل کا سافٹ ویئر ہم بلا اجازت کیسے چلاسکتے ہیں؟ اورپھر پیمرا کو کیا جواب دیں گے؟ اُس پر شہریار کا یہ جوا ب آیا کہ “آپ پیمرا کی فکر نہ کریں۔ بے خطر ہو کر چلائیں۔پیمرا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”

 

واقعی—اِن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا—سوائے اُس قدرت کے، جو فرش سے عرش تک پھیلی ہوئی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

غلطی ہوجائے پر بریکنگ نہ جائے

میڈیا کو ریاست کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں براڈکاسٹ چینلز کی بھرمار چاہے کتنی ہی ہو لیکن ان کی عمر ابھی اتنی نہیں۔ آج سے پندرہ سولہ سال قبل لوگ سرکاری ٹیلی وژن ہی دیکھا کرتے تھے، رات نو بجے کا خبر نامہ دیکھنے کے بعد لوگوں کو یہ گمان ہوتا تھا کہ وہ ملکی و غیر ملکی خبروں سے لاعلم نہیں رہے، جو بتایا جاتا من و عن اس پر یقین کر لیا جاتا۔ لیکن نہ کسی کو ذہنی تناو کا مسئلہ تھا نہ ہی کسی کو خوف کی بیماری۔ کم سے کم اتنی نہیں جتنی آج ہے۔۔۔

 

کئی ایسے چینل بھی ہیں جہاں اچھی شکل و صورت ہی رپورٹنگ کی ضمانت ہے بھلے آپ کو خبر کی اہمیت سے آشنائی ہو یا نہ ہو۔۔۔ اگر آپ صحافتی اخلاقیات سے بے بہرہ ہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں بس چینل کی اسکرین پر روشن چہرے دمکتے رہنا کافی ہے
نجی چینلز جب وارد ہوئے تو لوگ خبروں کی دنیا میں جینے لگے، مخصوص انداز کے سرکاری خبر نامے کی بجائے جدت سے بھرپور، بریکنگ کے ساتھ اور بھرپور تبصروں اور چٹپٹے انداز والے بلیٹن لوگوں کے گھروں کا حصہ بن گئے۔ صبح ہو یا رات، دوپہر ہو یا شام ہر وقت ہی ہر گھر میں خبریں چلتی ہیں اور لوگ یہ سمجھتے کہ اگر کوئی خبر ان کو نہیں ملی تو اس کا مطلب ہے کہ آج کوئی نیوز بلیٹن دیکھنے سے رہ گیا۔ چاہے کوئی زلزلہ آئے یا طوفان، دھماکہ ہو یا سیاسی دھمال میڈیا نے کبھی لاشیں دکھائیں تو کسی کا زوال کوئی خبر رکی نہیں کسی کی نظر سے بچی نہیں۔ لیکن ہوا کیا؟ خبر دینے کا انداز بدلا، جید صحافیوں نے تبصرے کی کمان سنبھالی، ٹاک شوز شروع ہوئے جن میں مہمانوں کے درمیان جب تک تو تو میں میں نہ ہو شو کی ریٹنگ نہیں ہوتی۔ یہ سلسلہ کامیاب ہوا تو میڈیا ہاوسز کے مالکان اور بڑے عہدیداران نے سوچا کہ ٹی وی ہے یہاں سب چلتا ہے سب بکتا ہے خبرنامہ پڑھنے والا اگر خوبرو ہے تورپورٹ کرنے والا بھی ایسا ہی ہونا چائیے تاکہ اسکرین کو چار چاند لگ جائیں۔ یہ چار چاند لگانے والا فارمولہ کہیں کہیں تو کامیاب ہوا کئی ایسے چینل بھی ہیں جہاں اچھی شکل و صورت ہی رپورٹنگ کی ضمانت ہے بھلے آپ کو خبر کی اہمیت سے آشنائی ہو یا نہ ہو۔۔۔ اگر آپ صحافتی اخلاقیات سے بے بہرہ ہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں بس چینل کی اسکرین پر روشن چہرے دمکتے رہنا کافی ہے۔ لیکن اب چار چاند لگنے سے چاند چڑھنے کے معاملات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

 

مجھے صحافت کے شعبے میں آئے کچھ بہت طویل عرصہ نہیں گزرا لیکن جب جب غلطی کی سینئرز نے اس کی اصلاح کی۔ یہاں تک کہ وائس اوور میں اگر کوئی لفظ غلط ادا ہوجاتا تو کاپی ایڈیٹر سمیت پروڈیوسر تک اس کی تصیح کراتے تاکہ وہ غلطی آن ائیر نہ ہوجائے۔ لائیو رپورٹنگ میں الفاظ کا چناو کیا ہو، اس کے لئے اردو کے اخبارات روزانہ پڑھنے کی عادت ڈالی تاکہ الفاظ کا بہترین ذخیرہ موجود ہو پھر بھی کہیں نہ کہیں غلطی سرزد ہو ہی جاتی تھی لیکن میں مطمئن ہوں کہ وہ غلطی سنگین نہیں تھی۔ لیکن صرف دو برسوں میں بہت کچھ اتنی تیزی سے تبدیل ہوا کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں نے جو کچھ سیکھا تھا وہ شاید پچھلی صدی کی بات ہے۔ میں جب رپورٹنگ میں آئی تو مجھے سینئر رپورٹرز کے ساتھ بھیجا جاتا تا کہ میں کام دیکھوں، سمجھوں، جب پہلی بار رپورٹنگ کی تو موضوع بہت ہلکا پھلکا دیا گیا تاکہ غلطیوں کی اصلاح ہوسکے۔

 

ٹریننگ پر لئے جانے والے نوجوان جن کی ابھی ڈگری بھی مکمل نہیں ہوئی انہیں وہ موضوعات دے کر مائیک تھما کر فیلڈ کے سمندر میں اتارا جا رہا ہے جہاں ان کا تیرنا بھی مشکل ہے۔
یہ سلسلہ دو ماہ جاری رہا اور پھر ہر موقع پر چاہے وہ سیاسی جلسہ ہو یا تصادم، حادثہ ہو یا دھماکہ۔۔۔ اسپتال میں آنے والی لاشیں ہوں یا کوئی پریس کانفرنس مجھے نہ صرف بھیجا گیا بلکہ لائیو بیپرز بھی لئے گئے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن اب حالات مختلف ہیں، گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک بہت بڑے چینل کی ٹرینی رپورٹر کی کچھ فوٹیجز لیک ہوئیں جس پر ایک بحث کا آغاز ہو گیا۔ یہ واقعہ ننھے عبداللہ کا تھا جس کی والدہ حلیمہ اب دنیا میں نہیں ہے اور اس معصوم کو ایدھی ہوم چھوڑ دیا گیا ہے۔ رپورٹر اس بچے کے پاس گئی اور اسے بہلانے کی کوششوں میں لگی رہی کبھی فون اس کے کان سے لگاتی کہ تمہاری امی کا فون ہے ان سے بات کرو۔۔۔ وہ بچہ بلکتا، روتا تو وہ اس کے پیچھے پیچھے جاتی اور پھر اس ننھے معصوم کی آنکھوں سے رواں ہونے والے آنسووں پر اس رپورٹر نے اسٹوری کا اختتام کیا۔ اس رپورٹ کی خام فوٹیجز (ایڈٹ ہونے سے قبل) کے مناظر کسی نے لیک کئے جس کو دیکھ کر یہ گمان ہوا کہ وہ اس بچے کو محض اپنی رپورٹ بہتر بنانے کے لئے نہ صرف رلا رہی ہے بلکہ زچ کر رہی ہے۔ اس معاملے پر دو رائے سامنے آئیں کسی نے کہا کہ سارا قصور رپورٹر کا ہے تو کسی کا کہنا تھا کہ رپورٹر کی غلطی نہیں یہ معاملہ تب کاہے جب بچے کی ماں کے قتل کی اطلاح نہیں تھی اس لئے نتیجہ اخذ نہ کیا جائے۔ یہ رائے درست ہے لیکن جن لوگوں نے یہ فوٹیجز جاری کیں ان کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی داد دینی چائیے۔

 

Geo Reporter Abusing a Child Whose Mother is Dead by sm_raza1

دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ جس ادارے نے اس رپورٹر کو بھیجا ان کو یہ سوچنا چائیے تھا کہ یہ کوئی ہلکی پھلکی سٹوری نہیں تھی اس کے لئے کسی منجھے ہوئے سینئر رپورٹر کو بھیجنا چاہیئے تھا۔ ٹریننگ پر لئے جانے والے نوجوان جن کی ابھی ڈگری بھی مکمل نہیں ہوئی انہیں وہ موضوعات دے کر مائیک تھما کر فیلڈ کے سمندر میں اتارا جا رہا ہے جہاں ان کا تیرنا بھی مشکل ہے۔ ان کی کوئی بھی غلطی مستقبل میں شروع ہونے والے کیرئیر کو پہلے ہی ختم کر سکتی ہے۔ یہ سوچنا ان نوارد رپورٹر کا نہیں انتطامیہ کا کام ہے، یہ نوجوان تو اسی پر خوش ہیں کہ انہیں مائیک دے دیا گیا اب انہیں بہترین کر کے لانا ہے خواہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔

 

ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ نوجوانوں رپورٹروں کو ہر حد عبور کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ جملے کہ “جیسے بھی ہو کر کے دو” جونئیرز ہی نہیں سینئر ز کو بھی سننے پڑتے ہیں۔
ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ نوجوانوں رپورٹروں کو ہر حد عبور کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ جملے کہ “جیسے بھی ہو کر کے دو” جونئیرز ہی نہیں سینئر ز کو بھی سننے پڑتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں خادم انسانیت عبدالستار ایدھی کے رحلت پر ایک بڑے نیوز چینل کے رپورٹر نے ایدھی صاحب کی قبر میں اتر کر بلکہ لیٹ کر رپورٹنگ کی۔ چند منٹوں میں ہی یہ تصویر سوشل میڈیا پر پہنچی اور لعن طعن کا ایسا آغاز ہوا جو ابھی بھی جاری ہے۔ اس کا پرچار بھارت میں بھی ہوا اور کہا گیا کہ پاکستان میں رپورٹنگ کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ رپورٹر قبر تک نہیں چھوڑ رہے جبکہ بھارت میں آج سے چند برس قبل سیلاب کے دوران ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر کو اس بات پر فارغ کیا گیا تھا کہ اس نے اس سیلاب سے متاثر ایک شخص کے کندھے پر بیٹھ کر رپورٹنگ کی تاکہ اس کا کیمرامین اسے اور سیلاب کی شدت کو دکھا سکے۔

 

RIP Pakistani Media !! See How Express News… by aman57

بھارت میں رپورٹنگ کا کیا معیار ہے یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن پاکستان میں رپورٹرز کو یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ بریکنگ اور ایکسکلوزو کے نام پر جو کر سکو کرو تاکہ ہمارا چینل ریٹنگ لے سکے۔ بہت سے ایسے رپورٹرز جو نہ صرف صحافت پڑھ کر آئے ہیں بلکہ اسے سمجھتے بھی ہیں وہ ایسی فضول فرمائشوں پر صاف انکار بھی کر دیتے ہیں لیکن میڈیا ہاوسز ان سینئرز کو جب استعمال نہیں کر پاتے تو وہ کئی ایسے نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں جو اپنا کیرئیر اور اس میں نام بنانے کے لئے صرف یس سر کرتے جاتے ہیں۔ آج انہی یس سر کرنے والے نوارد صحافیوں کا ایک مجمع آپ کو ہر چینل پر نظر آتا ہے۔ یہ کچھ بھی بولیں، کریں، خبر غلط دیں یا کسی کی بھی پگڑی اچھالیں بریکنگ اور ایکسکلوزو چینل کو مل جائے تو ان کی کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایدھی صاحب کی قبر میں لیٹ کر رپورٹنگ اور ایکسکلوزو دینے والا رپورٹر سینئر ہے۔ میں حیران ہو کہ یہ خیال اس کا اپنا تھا؟ یا ادارے نے اسے یہ بےہودہ تجویز دی؟ رپورٹرز سے روز غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ادارے کا کام ہے کہ وہ اس کی اصلاح کرے بلکہ ایسی غلطیوں کو آن ائیر جانے سے قبل روکے، رپورٹر اگر کچھ کرنے جارہا ہے تو ڈیسک کو علم ہو اگر دونوں طرف سے غلطی ہوئی ہے تو بلیٹن کے پروڈیوسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر نظر ثانی کرے پھر بھی اگر تمام راستوں سے ہوتے ہوئے یہ سب بلیٹن میں آن ائیر ہوجائے تو اس کا ذمہ دار اکیلا رپورٹر نہیں پورا ادارہ ہے۔

 

لوگ خبریں دیکھتے ضرور ہیں لیکن جب کسی صحافی سے ملتے ہیں تو ان کی رائے یہی ہوتی ہے کہ آپ تو رائی کا پہاڑ بنانے والے لوگ ہیں،
جس طرح سیکھنے کا عمل کبھی تمام نہیں ہوسکتا اسی طرح ہر روز غلطیوں سے سبق سیکھنے میں کوئی حرج نہیں، صرف بریکنگ اور ایکسکلوزو کے چکر میں نئے نویلے برساتی رپورٹرز سے کچھ بھی کروا لینا کوئی بہتر عمل نہیں۔ یہ فیلڈ آج اسی لئے بدنام ہورہی ہے کہ لوگ خبریں دیکھتے ضرور ہیں لیکن جب کسی صحافی سے ملتے ہیں تو ان کی رائے یہی ہوتی ہے کہ آپ تو رائی کا پہاڑ بنانے والے لوگ ہیں، آپ تو درست خبر بھی پلٹ دیتے ہیں یہ سب آج نیم حکیم خطرہ جان رپورٹرز کی وجہ سے ہورہا ہے جن کو سکھائے بنا اور بغیر تربیت کے صحافت کے سمندر میں اتار دیا گیا۔ خصوصااداروں کی سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ ناظرین کو ہر وقت باخبر رکھنے کے لئے خبر کو کسی معتبر اور خبر کی اہمیت کو سمجھنے والے صحافی کے ذریعے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ان کا نہ صرف صحافت پر اعتماد بحال ہوسکے بلکہ رپورٹر کی دی ہوئی خبر پر بھی وہ بھروسہ کر سکیں۔ ایک وقت تھا جب لوگ ذخیرہ الفاظ میں اضافے اور تلفظ کی درستی کے لئے ریڈیو اور ٹی وی سے مستفید ہوتے تھے لیکن آج ہماری خبروں میں یہ تک لکھا جانے لگا ہے کہ “فلاں شخص نے وزیر اعلی کو ماموں بنا ڈالا، چاند رات پر مردوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے خواتین کے جتن، اے ٹی ایم نہیں چلے تو بیگمات شوہروں سے روٹھ گئیں۔۔۔” یہ چند مثالیں ہیں اب ہر روز ہر وقت ایسی خبریں ایسی بریکنگ نہ صرف چینلز دیتے ہیں بلکہ رپورٹرز اس پر رپورٹ کر تے وقت ان الفاظ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔۔۔ اگر یہی روش جاری رہی تو آج ملک میں صحافت بدنام ہے کل یہ پیشہ ایک گالی بھی بن جائے گا، اس لئے بغیر تربیت کے رپورٹرز کو فیلڈ پر بھیجنے والے ادارے پیسہ کمانے کے ساتھ تھوڑا وقت ان کی تربیت پر بھی لگائیں تو کیا ہی اچھا ہو۔
Categories
نقطۂ نظر

زرد صحافت سے پاکستانی صحافت تک

ماضی میں گستاخانہ خاکوں، لال مسجد، گستاخانہ فلموں، سلمان تاثیر کے بیان سمیت کئی معاملات پر ایسی سنسنی خیز کوریج دیکھنے کو ملی جو بالواسطہ طور پر اشتعال پھیلانے کا باعث بنی۔
زرد صحافت، صحافت کی وہ مسخ شدہ صورت ہے ہے جس میں مصدقہ و غیر مصدقہ خبروں کو سنسنی خیز انداز میں ذرائع ابلاغ کی زینت بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ دیگر خبروں کو چھوڑ کر اس سنسنی خیز خبر کی طرف متوجہ ہوں اور اخبار کی مانگ یا ٹی وی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ زرد صحافت کسی بڑے واقعہ یا کسی حادثے کی ایسی غیر ذمہ دارانہ اور دانستہ طور پر مسالے دار اور چٹ پٹی کوریج کا چلن ہے جو لوگوں میں سنسنی، اشتعال اور خوف پھیلانے کا بعث بنتا۔ زرد صحافی اسکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ جب ایک اخباریا ٹی وی چینل اپنی مانگ یا ریٹنگ بڑھانے کے لیے لوگوں میں سنسنی پیدا کرتے ہوئے اشتعال انگیز خبریں چھاپنے اور نشر کرنے کی پالیسی اپناتا ہے تو نہ صرف مثبت صحافتی اقدار مجروح ہوتی ہیں سماج میں انتشار، بے چینی اور نفرت میں اضافہ ہو تاہے۔ ایک چینل یا اخبار کی جانب سے اس قسم کی خبروں کی اشاعت دیگر اداروں کو بھی مجبور کرتی ہے کہ وہ بھی مقابلے میں ایسی ہی خبریں پیش کریں۔

 

ماضی میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ صحافت کے باعث ایک ایسی انتہا پسند روش اپنا لی گئی تھی جو دہشت گرد حملوں کی براہ راست کوریج میں بھی تامل کی روادار نہیں تھی۔ ماضی میں گستاخانہ خاکوں، لال مسجد، گستاخانہ فلموں، سلمان تاثیر کے بیان سمیت کئی معاملات پر ایسی سنسنی خیز کوریج دیکھنے کو ملی جو بالواسطہ طور پر اشتعال پھیلانے کا باعث بنی۔ سابق گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے موقع پر پاکستانی میڈیا پر البتہ ایک اور انتہا دیکھنے کو ملی۔ اگرچہ اس واقعے کی رپورٹنگ کے دوران جس بالغ نظری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا گیا اس کے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی معترف نظر آئے مگر اس خبر سے متعلق مکمل بلیک آوٹ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔متوقع رد عمل کو امن وامان کے قالب میں بدلنے کی خاطر تمام چینلز نے پھانسی کے بعد کی صورتحال کو ٹی وی سکرین پر دکھانے سے مکمل احتراز کیا جس سے ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ کیا کوئی اعتدال کا راستہ موجود ہے؟

 

Yellow Kidایک ایسا کارٹون تھا جو ایک ہنستا مسکراتا بچہ تھا جس کے اگلے دانت ٹوٹے ہوئے تھے، کان بڑے بڑے تھے اور سر گنجا تھا جو ایک پیلے رنگ کی بڑی سی قمیص پہنے ہوئے تھا۔ یہ کردار اخبارمیں غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو مزاحیہ اور معنی خیز طریقے سے پیش کرتا تھا۔
سنسنی خیز صحافت اور آزاد مگر ذمہ دار صحافت کے مابین توازن کے قیام کے لیے اس موقع پر یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ زرد صحافت کیا ہے اور اس کا آغاز کیوں کر ہوا۔

 

زرد صحافت کی اصطلاح اس وقت رائج ہوئی جب 1896ء میں William Randolph Hearstاور Joseph Pulitzerکے درمیان اخباری پیشے میں مسابقت کاآغاز ہوا۔ J Pulitzerکےاخبار کا نام New York World اور W.R Hearstکے اخبار کانام New York Journalتھا۔ 1896ء میں J Pulitzer نے Yellow Kid کےنام سے ایک کارٹون (Comic Strip) اخبار میں اُس وقت شائع کیا جب اخبارات میں کارٹونز (Comic Strip) شائع کرنا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ Yellow Kidایک امریکی کارٹونسٹR.F Outcault کی تخلیق تھا۔ یہ پہلا امریکی کارٹون کردار تھا جو اپنے عہد میں مقبول ترین تھا۔ چونکہ R.F. Outcaultکا تخلیق کردہ کردارMickey Dugan کی قمیص کا رنگ پیلا تھا لہذا اپنے اصل نام کی بجائے Yellow Kid کے نام سے معروف ہوا۔

 

Yellow Kidایک ایسا کارٹون تھا جو ایک ہنستا مسکراتا بچہ تھا جس کے اگلے دانت ٹوٹے ہوئے تھے، کان بڑے بڑے تھے اور سر گنجا تھا جو ایک پیلے رنگ کی بڑی سی قمیص پہنے ہوئے تھا۔ یہ کردار اخبارمیں غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو مزاحیہ اور معنی خیز طریقے سے پیش کرتا تھا۔ پہلے یہ کردار کارٹونز کے ساتھ ثانوی کردار کے طور پر ظاہر ہوتا تھا بعد میں اپنے مضحکہ خیز شباہت کے ساتھ سب پر سبقت لے گیا اور پورے امریکہ میں Yellow Kidکے نام سے معروف ہوا۔ یہ کردار اتنا مقبول ہو ا کہ اشتہاری کمپنیوں نے سیگریٹ، کھلونے، چیونگم غرض روزمرہ زندگی کی بہت سی چیزوں کی اشتہاری مہم میں اس کو بکثر ت استعمال کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں اس کارٹون کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے J Pulitzerاور W.R Hearstمیں اخبار ی جنگ شروع ہوگئی۔ اس کارٹون کی شہرت کے باعث دونوں اخبار مالکان میں شدید کاروباری رقابت پید اکر دی۔ بعد ازاں W.R Hearstنے ا س کارٹون بنانے والے کو بھاری تنخواہ دے کر اپنے اخبار میں بھرتی کر لیا۔ جس کے بعد J Pulitzerنے اس کارٹون Yellow Kid کی مشابہت رکھنے والا ایک کارٹون تخلیق کر کے اپنی اخبارمیں چھاپنا شروع کر دیا۔

 

اس مسابقتی دوڑ نے دونوں اخباروں میں بہت سی اختراعات کو جنم دیا۔ اخباری ایڈیٹرز نےا پنے اخبار بیچنے کے لیے بہت سے تراکیب سوچیں تاکہ شہر کے ہر گلی محلے کی نکڑ پر اسی اخبار کی فروخت ہو۔ وہ Yellow Kidکارٹون کے ذریعے بہت سی فرضی اور من گھڑت خبریں بھی چھاپتے رہے تاکہ دوسرے اخبارات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

 

سنسنی خیز رپورٹنگ میں حد سے تجاوز کے باعث صحافت کے معانی و مفہوم ہی بدل دیئے گئے تو اروِن وارڈمین نے اس اخباری کشمکش کو ییلو کڈ جرنلزم کا نام دیا جو بعد میں مختصر ہو کر ییلو جرنلزم رہ گیا۔
اسی عشرے میں جاری امریکہ اسپین جنگ بھی ان دو اخباروں کی رقابت سے متاثر ہوئی اور Yellow Kidنے اس جنگ میں رائے عامہ کو شدید متاثر کیا۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق اس ‘زرد’ صحافت کی وجہ سے امریکہ اسپین جنگ کے دوران امریکہ کے کیوبا سے تعلقات میں گہری دراڑ آگئی۔ W.R Hearstنے کیوبامیں جنگی صورتحال جاننے کے لیے اخباری رپورٹرز کی ایک ٹیم بھیج رکھی تھی جن کی فرضی اور نفرت انگیز رپورٹنگ نے امریکی عوام میں سنسنی اور اشتعال کو جنم دیا۔ W.R Hearst نے اس جنگ کے دوران اپنے اخبار میں کئی نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مضامین چھاپے۔ ایک موقع پر جب کیوبا میں موجود ایک اخباری نمائندہ نے اخبار کے مالک W.R Hearstکو ٹیلی گرام بھیجا کہ “اب ادھر کچھ خاص نہیں ہے” تو اخبار کے مالک W.R Hearst نے اپنے مشہور ترین ٹیلی گرام میں جواب دیا کہ “ You furnish the pictures and I’ll furnish the war “۔ W.R Hearst نے اس تمام صورتحال سے جہاں اپنے اخبار کی مقبولیت میں اضافہ کیا وہیں اس نے اپنے اخبار کے ذریعے اس جنگ کو اتنا ڈرامائی رنگ دے دیا کہ امریکی صدر کو جنگ میں حصہ لینے کے سرکاری بل پر دستخط کرنے پڑے۔ ستم ظریفی یہ ہےکہ اخباری مسابقت کی بنیاد رکھنے والے ان دونوں اخباروں میں سے ایک کے مالک J Pulitzer کے نام پر Pulitzer Award ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جو دیانت داری اور انتہائی جانفشانی سے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر صحافیانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

 

Yellow Kid سے شروع ہونے والی صحافتی جنگ نے صحافت کے زریں اور اہم اصولوں کو پامال کیا۔ شروع میں دونوں اخبار مالکان Yellow Kidکے دعوے دار تھے کہ وہ اس کارٹون کی ملکیت کے حقوق رکھتے ہیں۔ ایک موقع پر معاملہ اتنا بڑھا کہ عدالت تک پہنچ گیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ ہوا کہ Yellow Kidکا کردار دونوں اخبار شائع کر سکتے ہیں، عدالت کا یہ حیرت انگیز فیصلہ آج بھی معمہ ہے۔ اس فیصلے کے بعد Yellow Kidکی دونوں اخباروں میں اشاعت ہونے لگی۔ مقابلے کی دوڑ اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ دونوں اخباری مالکان نے صحافتی اصولوں کو بری طرح روند ڈالا۔ سالوں تک نیویارک ورلڈ اور نیویارک جرنل اپنے اپنے مفادات اور کاروباری رقابت کے ذریعے صحافت کے پیشے کی حرمت کو داغدار کرتے رہے۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے نیویارک پریس کے ایڈیٹر Ervin Wardman نے دونوں اخباروں کی اس صحافتی بددیانتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پہلے نئی صحافت یا ننگی صحافت قرار دیا۔

 

ہر ٹی وی چینل پر چند سٹیج اداکاروں کو بٹھا کر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے جو ایک زمانے میں پیلی قمیض پہنے ییلو کڈ سے لیا جاتا تھا۔
سنسنی خیز رپورٹنگ میں حد سے تجاوز کے باعث صحافت کے معانی و مفہوم ہی بدل دیئے گئے تو Ervin Wardman نے اس اخباری کشمکش کوYellow Kid Journalism کا نام دیا جو بعد میں مختصر ہو کر Yellow Journalism رہ گیا۔ Yellow Kid نامی یہ کردار 1895ء تا 1898ء نیویارک کے اخبارات میں شائع ہوتا رہا پھر یہ انتہائی مقبول و پسندیدہ کردار لوگوں کے ذہنوں سے آہستہ آہستہ محو ہونے لگا اور پھر وقت کی گرد میں کہیں گم ہوگیا اور آج Yellow Kid نامی معروف کردار R.F Outcault Gallery میں یاد گار کے طور پر موجود ہے اور آج کی صحافت کو دیکھ کر انگشت بدنداں ہے۔

 

پاکستانی صحافت بھی کاروباری رقابت کے ہاتھوں اپنی درخشندہ روایات سے محروم ہوئی ہے۔ ایک زمانہ تھا ہمارے صحافیوں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن آج کاروباری مسابقت کے باعث انہیں اپنے ہی مالکان اور ادارے کی جانب سے صحافتی اقدار کی خلاف ورزی پرمجبور کیا جاتا ہے۔ ہر ٹی وی چینل پر چند سٹیج اداکاروں کو بٹھا کر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے جو ایک زمانے میں پیلی قمیض پہنے yellow kid سے لیا جاتا تھا۔ ہمارے صحافتی ادارے بھی ہماری حکومتوں پر پاک بھارت دوستی کے معاملے پراسی طرح سنسنی خیز خبروں اور تجزیوں کے ذریعے سخت گیر پالیسی اپنانے کے لیے دباو ڈال رہے ہیں جیسے نیویارک جرنل اور نیویارک ورلڈ کی خبریں جنگ کے دنوں میں امریکی انتظامیہ کو جنگ پر اکسا رہی تھیں۔ زرد صحافت سے پاکستانی صحافت تک بہت کچھ نہیں بدلا۔
Categories
نقطۂ نظر

آج کی چٹخارا خبر

آپ کبھی اپنے شہر کی سبزی منڈی گئے ہیں؟ یا کبھی اتوار بازار کا رخ کیا ہے؟ اگر نہیں گئے تو ایک بار ضرور جایئے گا۔ وہاں آ پ کو مختلف قسم کے تجربات ہوں گے ان پر غور کیجیے گا۔ وہاں ہر شخص آپ کو اپنا راگ الاپتا ملے گا، وہاں ہر دکاندار متوقع گاہکوں کو راغب کرنے کے لیے نئی ہی راگنی چھیڑے بیٹھا ہو گا، یہ شوروشغب اس قدر سمع خراش ہوگا کہ آپ خود سے بھی بیزار ہوجائیں گے۔ منڈی میں گھستے ہی ہر دکاندار آپ کو اپنی جانب کھینچے گا۔ آپ کو ہر دکاندار کی آواز دوسرے دکاندار سے اونچی سنائی دے گی اور ہر کوئی اپنی چیز کو اچھا اور کم دام ثابت کرتا نظر آئےگا۔

 

خبررساں ادارے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جس کا سودا وہ کرتے ہیں اس چیز کو آلو نہیں خبر کہتے ہیں۔ شائد یہی فرق ہمارے میڈیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے مگر آج اخبار کھولیں یا ٹی وی چینل، آپ کو ہر جگہ مچھلی بازار یا سبزی منڈی جیسے گراں فروش ہی دکھائی دیں گے۔
آپ ایک دکان پر سبزی دیکھنے کھڑے ہوں گے اور اس کے دام پوچھیں گے تو اگلا دکاندار آپ کو اس سے پہلے اور اس سے بھی کم نرخ کی پیشکش کرے گا۔ آپ کسی ایک دکان پر کوئی برانڈ دیکھنے رکیں گے تو اگلا اپنی چیز کو پہلے سے بھی زیادہ چمکیلی بھڑکیلی پیکنگ میں آپ کو پکڑا دےگا، یہ سب کچھ اس پھرتی اور مشاقی سے ہو گا کہ آپ اس پیکنگ کو کھول ہی نہیں پائیں گے اور سوچے سمجھے بغیر خریدنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس طرح ہر دکاندار ایک دوسرے سے یوں بازی لیتا دکھائی دے گا گویا محشر بپا ہے۔ اس مقابلے بازی میں دکاندار آپس میں لڑتے بھی دکھائی دیں گے۔
مجھے اپنے ملک کے نشریاتی ادارے بھی ان دکانداروں کی طرح ہی لگتے ہیں جو ریٹنگ اور پہلے نمبر پر آنے کی دوڑ میں ہر وہ کام کرجانے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جس سے ان کے ناظرین میں اضافہ ہو۔ خبررساں ادارے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جس کا سودا وہ کرتے ہیں اس چیز کو آلو نہیں خبر کہتے ہیں۔ شائد یہی فرق ہمارے میڈیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے مگر آج اخبار کھولیں یا ٹی وی چینل، آپ کو ہر جگہ مچھلی بازار یا سبزی منڈی جیسے گراں فروش ہی دکھائی دیں گے۔ آج کل جس قماش کی صحافت کوفروغ مل رہا ہے، اس کا ایک نمونہ آپ خودملاحظہ کر لیں:

 

“ماضی کی کوتاہیوں پر اداکاراہ میرا کی توبہ، صبح پاکستان میں رو پڑیں۔ میری وجہ سے اہل وطن کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، صدق دل سے معافی مانگتی ہوں۔ عامر لیاقت کی استدعا پر اداکارہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں، حاضرین کا زبردست خیر مقدم۔”

 

یہ خبر جنگ کے فروری 2015 کے اوائل کے شماروں میں سے ایک شمارے کے پہلے صفحے پر ترجیحاً لگائی گئی تھی۔ عامر لیاقت صاحب اُن دنوں جیو گروپ کے صدر تھے۔ مو صوف نے اداکارہ سے اپنے پروگرام میں توبہ کرائی اور یہ خبر چار سو پھیل گئی۔ یہی نہیں موصوف جو رمضان میں رنگ جماتے ہیں اس کی نشرواشاعت میں ان کا اِدارہ ان کی ایک ایک حرکت کو ایسے شائع کرتا ہے جیسے عامر لیاقت کا پروگرام خبریت کے اعتبار سے پاکستان کا اہم ترین معاملہ ہے۔ دیگر اخبارات اور چینلوں کا چلن بھی کچھ بہت مختلف نہیں۔ صحافت کو ان لوگوں نے اپنے گھر کی باندی بنا رکھا ہے۔
یہی نہیں بلکہ بیشتر میڈیا مالکان اشتہارات دینے والوں کے ہاتھوں اپنی آزادی گروی رکھے ہوئے ہیں۔ اخبارات میں اشتہارات دینے والے نہ صرف اپنی پسند کی خبریں لگواتے ہیں بلکہ اپنے مفادات کو زد پہنچانے والی خبروں کو دباو ڈال کر رکواتے بھی ہیں۔ ان معاملات میں ایک ایڈیٹر صحافتی اقدار کے دفاع میں چوں بھی نہیں کر سکتا۔ مدیران اور صحافی اس مجبوری سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ خبروں کی مسالہ دار نوعیت ہی دراصل اشتہارات ملنے کی ضمانت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اشتہارات ملیں گے تو تنخواہیں بھی ملیں گی اور یوں پھر صحافت زرد ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ زرد صحافت جیسا سنگین مسئلہ بھی صحافیوں اور صحافتی اداروں کی ساکھ کو دیمک کی طرح نقصان پہنچا رہا ہے۔

 

بیشتر میڈیا مالکان اشتہارات دینے والوں کے ہاتھوں اپنی آزادی گروی رکھے ہوئے ہیں۔ اخبارات میں اشتہارات دینے والے نہ صرف اپنی پسند کی خبریں لگواتے ہیں بلکہ اپنے مفادات کو زد پہنچانے والی خبروں کو دباو ڈال کر رکواتے بھی ہیں۔
آج کے اخبارات کے پہلے صفحات پر غور کیجیے تو آپ کو اس کے دو حصے نظر آئیں گے۔ اوپر والے آدھے صفحے پر آپ کو طرح طرح کی مسالے دار خبریں اور بقیہ آدھے صفحے پر اشتہارات نظر آئیں گے۔ یہاں خبروں اور اشتہارات کے مابین تعلق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ تعلق بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ مصنوعات ساز اداروں اور دکانداروں کے درمیان ہوتا ہے۔ خبر بھی آلو، پیاز، سرف اور صابن کی طرح جتنی چمکا کر پیش کی جائے اتنی بیش قیمت سمجھی جاتی ہے اور اسی اخبار اور چینل کو اشتہارات زیادہ ملتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ مسالہ خبروں میں بگھار کر پیش کرے۔ جس کے ہاں مرچ مسالہ اچھا ہو اسی کا ذائقہ لوگ پسند کرتے ہیں مگر یہاں پسند صرف ناظرین کی نہیں بلکہ اشتہاردینے والوں کی ترجیحات بھی اہم ہیں۔ یہ کاروباری انداز ادارے کی ادارتی پالیسی پر بھی اثر اندازہوتا ہے اور پھر آپ ایسی صحافت کو ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں جو آدھے صفحے کے اشتہارات کے عوض طے پانے والے سمجھوتوں اور معاہدوں کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

 

میں اشتہارات کے قطعاً خلاف نہیں اور نہ میں تجارتی بنیادوں پر صحافتی اداروں کو چلانے کا مخالف ہوں، بلکہ اشتہارات کی آڑ میں میڈیا کی اخلاقیات، قوانین اور صحافتی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر کے خبر کو آلو پیاز کے بھاوبیچ ڈالنے پر تلملا رہا ہوں۔ایک خبر کو چٹخارا خبر بنا کر پیش کرنے کی آڑ میں کئی پیشہ ورانہ غلطیاں کی جاتی ہیں۔ اس دوران یہ فرق بھی روا نہیں رکھا جاتا کہ کس بیوپار کے کیا اصول ہیں اور کس پیشے کے کیا تقاضے ہیں۔ پرچون فروشی اور خبر رسانی میں فرق کو سمجھ کر ہمیں اپنے معاشرے میں میڈیا سمیت ہر ادارے کو ملکی اور معاشرتی سطح پر محض کاروبار نہیں بلکہ ذمہ دار ی سمجھنا ہے۔ انفرادی ذمہ داری ہی اجتماعی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ میڈیا کیونکہ معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے اس لیے اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے میڈیا کی ہے کہ خود کو ملک کا ایک ذمہ دار ادارہ بنائے۔ کاروبار بھی تبھی بڑھے گا جب معیار بہتر ہوگا، صحافتی اداروں کو کاروباری انداز میں چلانے کے لیے بھی معیار بہتر کر کے ذمہ دار صحافت کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

زرد صحافت اور سنسنی خیزی

جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے
منہ کالا کروا ہی لیا ناں! مزید معلومات کے لیئے دیئے گئے لنک پر کلک کیجیئے!
شرم و حیا کو تار تار کر ڈالا! مزید جاننے کے لیئے یہاں کلک کیجیئے!
قوم کی لٹیا ڈبو دی! دیکھیے ایک اور شرم ناک حرکت فلاں سیاستدان کی!
فلاں سیاسی پارٹی کی اصلیت سامنے آگئی، بقیہ صفحہ 8 کالم 9 پر پڑھیئے۔
قربِ قیامت کے آثار نمودار! مزید تفصیلات 9 بجے کے خبر نامے میں!
جانیئے! کہاں کھیلی، کیوں کھیلی، کس نے کھیلی، کس سے کھیلی، خون کی ہولی! خون کی ہولی!
پانی سے چلنے والی گاڑی ایجاد! نوبل پرائز ہمارا ہوا! فلاں صوبہ! فلاں دھرتی کا سپوت زندہ باد!
بھگوڑی بیوی، آشنا کے ساتھ فرار! پیچھے چھوڑ دی شوہر کی مردہ لاش!
آپ مانیں یا نہ مانیں منرجہ بالا سطریں حقیقی خبروں اور سرخیوں سے ماخوذ ہیں۔ اور ان کے بنانے والے ذرا بھی شرمندہ نہیں ہیں!

 

آپ کو مندرجہ بالا کوتاہیوں کے حق میں دیئے جانے والے انتہائی مقبول دلیل کی مثال دیتا ہوں، بقول کئی ’میڈیا پرسنز‘ کہ: ’آزاد میڈیا ایک شیر خوار، نونہال ہے، جس کے قیام کو صرف 12 سال ہی بیتے ہیں۔ اب اس طرح کا ناتجربہ کار ’میڈیا‘ غلطیاں نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔‘ اس بیانیے میں12 سال پرانے سے مراد، جیو نیوز سے شروع ہونے والا دور ہے۔ ایسے بیان دینے والے افراد صحافی نہیں، البتہ صنعتِ ابلاغ کے ملازمین ضرور ہوتے ہیں۔ یہ ایک صنعت کو جسے عاقل، بالغ افراد چلا رہے ہیں، انسانی بچے سے تشبیہہ دیتے ہیں جو عام منطقی مغالطوں کی ایک بھدی مثال ہے۔ میں اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا اور اس بناء پر ذرائع ابلاغ کو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی گنجائش نہیں دے سکتا۔

 

میرے خیال میں تو برِ صغیر میں صحافت کوئی 160 سالی پرانی حقیقت ہے۔ تحریک آزادی میں ہماری بے باک صحافتی روایت کا گراں قدر حصہ ہے۔ اس پیشے کی اہمیت کے پیش نظر بابائے قوم نے بھی ایک اخبار کی داغ بیل ڈالی تھی! یہ جو ہمارا سرکاری ٹی۔وی ہے، یہ بھی ابتداء میں ایک غیر سرکاری منصوبہ تھا لیکن بعد میں اسے قومیا لیا گیا تھا۔ اگر اشارہ دیگر نجی اداروں کی طرف تھا تو، شالیمار ٹیلی وژن نیٹ ورک بھی بہت پرانا ہے، پھر نجی ریڈیو چینلز کی بھی بھرمار رہی ہے۔ اور اگر رونا پیشہ ور صحافیوں کا ہے تو صحافت کی تعلیم کئی دہائیوں سے دی جا رہی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں کئی تعلیمی اداروں نے صحافت کی اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیا ہے۔ پریس کلب جاکر پتہ کرلیجے کتنے اخبارات روزانہ چھپتے ہیں، کسی بزرگ صحافی سے پوچھ لینا سنسر شپ کیا ہوتی ہے، اور یہ بھی کہ سچ بولنے پر کیسی کیسی سزائیں ملی تھیں۔ روح کانپ جائے گی! اگر دیسی اخبارات پر اعتبار نہیں، تو بی-بی-سی ورلڈ نیوز، رائٹر اور اے-ایف-پی کا پوچھ لینا، ان اداروں پر تو اعتبار ہے ناں! ان میں بھی مقامی صحافی حضرات نے ہی خدمات انجام دی تھیں اور دے رہے ہیں، اور عالمی معیار کے مطابق صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، لہٰذا یہ دلیل کے میڈیا تو ننھا منّا ہے غلط ثابت ہوتی ہے۔

 

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔
جہاں تک زرد صحافت کا تعلق ہے تو یہ وہ صحافتی چلن ہے جو تحقیق و منطق سے عاری، مصالحہ جات سے بھاری اور بے بنیاد خبروں بلکہ افواہوں کو بطور خبر پیش کرتا ہے۔ زرد صحافت کی آبیاری میں، سنسنی خیزی، ہلڑ بازی، سخت زبان، طنزیہ جملے اور چھوٹی باتوں کا بھی ہوّا بنانا شامل ہے۔ آج کے دور میں، زرد صحافت انتہائی معیوب لقب ہے اور یہ غیر معیاری سے لےکر، نا تجربہ کار اور غیر اخلاقی صحافت تک کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی سے مراد، ادارت کا وہ غیر معیاری طریقہِ کار اور ترجیحات ہیں جن کے ذریعے عام خبریں، حقائق اور معاملات کو عوام کے سامنے مبالغے کی حد تک بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً دو اہم شخصیات کی ملاقات کو حکومت کے دھڑن تختے تک پہنچا دینا۔

 

لوگوں کے جذبات سے کھیلنا، حقائق کو چھپانا یا بڑھا چڑھا کر بتانا، کسی واقعے کا صرف ایک رخ دکھانا یا بیان کرتے وقت معاملے کو سراسر بدل ڈالنا۔ مثلاً ایک جگہ، پولیس کے لیئے مختص نشستوں کو خالی دکھانا اور فوراً کہہ دینا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے غافل ہیں، حالانکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت کسی مسئلے کو نمٹا رہے ہوں یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے کر جا چکے ہوں۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی بھی بات کی تصدیق نہ ہوسکی اور ادارے کو بدنام کردیا گیا۔ مزید نقصان اس وقت ہوتا ہے، جب کوئی دوسرا چینل اس سے بھی زیادہ آدھی اور ادھوری ‘خبر’ پیش کرتا ہے اور سارا زور صرف سبقت لے جانے پر ہوتا ہے۔ سچائی سے کسی کا کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔ ایسی رپورٹنگ سے عوام کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ہے، صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ سنسنی خیزی کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ جنسی جرائم یا بے بنیاد سکینڈلز کو بڑھا چڑھا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ پڑھنے والا اسے لذت کے حصول کے لیے پڑھے۔ اس ضمن میں جسمانی نمائش، گلیمر یا جنسی کج رویوں کی تبلیغ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔

 

زرد صحافت کم و بیش، زر پرستی کی پیداوار ہے۔ ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔ جو چینل زیادہ دکھتا ہے، اس کا ایئر ٹائم اتنا ہی مہنگا بکتا ہے۔ یہ زیادہ دِکھنا ٹی-آر-پی یا ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ سسٹم کے ذریعے ماپا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد یہ ناپنا ہوتا ہے کہ کون سا چینل کس وقت زیادہ دیکھا گیا، اور بس! یہ سسٹم یہ نہیں ناپ سکتا کہ اگلے نے بعد میں چینل، یا اس پر چلنے والے پرگرام کی تعریف کی یا اس کو گالیاں دیں۔

 

میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔
پاکستان میں ٹی آر پی کا نظام بھی ناقص اور بے حد محدود ہے۔ پاکستان بھر میں کم و بیش 600 سے 800 گھرانوں میں یہ سسٹم نصب تھا، سنا ہے کہ حال ہی میں یہ تعداد 1000 سے 2000 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی گنتی کے ان گھرانوں میں جو چینل زیادہ دیکھا جا رہا ہےفرض کر لیا جاتا ہے کہ وہی پورے پاکستان نے دیکھا! ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹی آر پی نظام کی تمام تر تنصیب شہری علاقوں میں ہے دیہی علاقہ جات کے رحجانات ماپنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔
اس نظام میں نمونے کا اس قدر مختصر ہونا ایک بہت بڑ ا مسئلہ ہے! سائنس و تحقیق بالخصوص عمرانیات میں کہا جاتا ہے کہ جتنا زیادہ وسیع اور متنوع نمونہ تحقیق کے لیے منتخب کیا جائے گاتحقیق کے نتائج اسی قدر معتبر ہوں گے۔ نمونے کے انتخاب کی شرح کی حد بھی مقرر ہے اور وہ حد ہے، 10 تا 20 فیصد۔ پاکستان بھر کے گھرانوں میں دیکھے جانے والے پروگراموں اور ٹی وی چینلوں کا اگر اندازہ لگانا ہے تو کلُ آبادی کا کم از کم 10 فیصد نمونہ منتخب کیا جانا چاہیئے۔ 22 کروڑ عوام کا دس فی صد دو کروڑ بیس لاکھ بنتا ہے، کہاں دو کروڑ بیس لاکھ اور کہاں محض دو ہزار۔۔۔۔ تو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

 

اس ناقص نمونے کی بنیاد پر شروع کیے گئے ٹی وی پروگراموں کا معیار نہایت پست ہے۔ اس ضمن میں کئی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جن میں سے ایک، ’آزاد، خودمختار اور ذمہ دار‘ ذرائع ابلاغ اور صحافت کی ترویج و تبلیغ ہے۔ سند یافتہ صحافیوں کی بھرتی کے باوجود زیادہ تر افراد بنیادی صحافتی اخلاقیات سے ناواقف ہیں یا انہیں اہمیت ہی نہیں دیتے جس کی ایک بڑی وجہ میڈیا مالکان کا کاروباری پس منظر ہے۔ آپ کسی بھی نام نہاد میڈیا پرسن سے پوچھ لیں وہ آپ کو اس بارے میں ککھ نہیں بتا سکے گا! اس کی تان جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے پر آکر ٹوٹ جائے گی۔ پاکستان میں دھکم پیل کر کے میڈیا حکومتی اثر سے آزاد و خودمختار تو ہوگیا ہے، لیکن ذمہ دار بالکل نہیں۔
چند ادارے میڈیا کو حقیقی طور پرآزاد و ذمہ دار بنانے کے لیئے کوشاں ہیں، لیکن ان کی کاوشوں کو مزید تقویت پہنچانےکی ضرورت ہے۔ جو ادارے اس کاوش میں سرِ فہرست ہیں ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:

Individualland’s FIRM – Free Responsible & Independent Media
Mishal Pakistan’s Pakistan Media Credibility Lab
IoBM’s PCMF – Pakistan Citizens Media Forum

ان اداروں کی موجودگی خوش آئیند ہے، لیکن ان کا اثر و رسوخ بے حد محدود ہے۔ میڈیا صرف اشتہار بنانے اور چلوانے والے اداروں کی مرضی کا محتاج لگتا ہے اور صحافت کا وقار سرمایہ پرستی کے سامنے مجروح لگتا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ صحافت ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہی کردار ادا کرے جو اس کو زیب دیتا ہے تو ہمیں صحافت کو اشتہارات کی غلامی سے آزاد کروانا ہوگا!
Categories
نقطۂ نظر

مردہ باد جیو

مبارک ہو!” ۔۔۔ 12سالہ بالکا سائیکل چلاتا ساتھ گزرنے والوں کو مبارکباد دیتا رِمکے رِمکے آگے بڑھا۔ “بھئی کس بات کی مبارک؟” ۔۔معلوم ہوا کہ جیو بند ہو گیا ہے۔ دریافت کیا کہ اس میں مبارکباد کیسی تو جواب ملا، “انڈیا کے ایجنٹ ہیں یہ جیو والے۔ اچھا ہوا بند ہو گیا” ۔۔سوال کیا، “تمہیں کیسے پتہ کہ وہ انڈیا کے ایجنٹ ہیں؟”۔۔۔برجستہ کہتا ہے، “مجھے سب پتہ ہے ۔” ۔۔۔ اور سائیکل کی گھنٹی بجاتا، مبارکباد دیتا آگے نکل گیا۔
اس سے قطع نظر کہ پیمرا اراکین کے جس اجلاس نے جیو کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اسے پیمرا نے ہی ایک پریس ریلیز کے ذریعے رد کردیا ۔ جیو کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اوریہ پہلے کی طرح نہ سہی مگر اب بھی کیبل پردیکھا جا سکتا ہے۔
سمجھ نہیں آتی کہ سب کو ایک دم کیسے ادراک ہوا کہ 2002ءمیں آغاز سے اب تک پاکستان کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل اچانک نفر ت و حقارت کا نشانہ کیسے بنا؟
ذہن میں کچھ سوال ابھرتے ہیں تو سر چکرا جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ سب کو ایک دم کیسے ادراک ہوا کہ 2002ءمیں آغاز سے اب تک پاکستان کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل اچانک نفر ت و حقارت کا نشانہ کیسے بنا؟ آج ہی سب کو یہ احساس کیسے ہوا کہ جیو غدار، ملک دشمن اور توہین مذہب کا مرتکب ہے؟ روزنامہ جنگ میں کئی سالوں تک لکھنے والے کالم نویسوںمثلا َ عبدالقادر حسن، ہارون الرشید، مجیب الرحمان شامی، جاوید چودھری، معید پیرزادہ صاحب جو اب مختلف اخبارات ، اشاعتی و نشریاتی اداروں میں ملازم ہیں کو چند ہفتے قبل ہی یہ بھنک کیسے پڑی کہ جنگ گروپ اور جیو پاکستان، فوج اور اسلام دشمن ہیں؟ کیا ان کی تجزیاتی حس جنگ گروپ کے گرداب میں کہیں کھو چکی تھی اور اب دیگر اداروںمیں اچھے مشاہروں کے بعد کھوئی ہوئی میراث لوٹ آئی ہے ؟ایک دہائی کے بعد ہی سب پر یہ راز کیسے فاش ہوا کہ جیو امریکہ ا ور انڈیا سے فنڈز لیتا ہے؟کیبل آپریٹرز کی حب الوطنی اور حُبِ مذہب 12سال بعد ہی کیوں جاگی؟ ہمارے ملک کے ایک طاقتورادارے کواپنی حمایتی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ذریعے عوام تک بالواسطہ یہ پیغام کیوں دینا پڑ رہا ہے کہ جیو کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے؟کیا ‘اُنہیں’ عوام پر اعتماد نہیں کہ وہ افواج پاکستان کی حمایت میں رضاکارانہ طور پر جیو دیکھنا بند کر دیں گے یا پھر وہ یہ کام بھی خود ہی کریں گے؟ اور اگر امریکی و بھارتی ایجنٹ سر عام پاکستان میں اپنے ایجنڈہ کو فروغ دے رہے ہیں تو ان اداروں کو بھنک کیوں نہ پڑی جو ہمارے ٹیکسوں سے ہماری سرحدوں کی نگہبانی کےلئے 24گھنٹے سر گرم رہتے ہیں؟ یہ کس کی نا اہلی ہے؟
کچھ حقائق پیش خدمت ہیں:
1) پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل جیو ہے۔
2) پاکستان میں آج بھی سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار روزنامہ جنگ ہے۔
3) پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مذہبی پروگرام جیو پر عامر لیاقت حسین کا ہے۔
4) پاکستان میں گزشتہ رمضان کے دوران ریکارڈ ریٹنگ جیو کے مذہبی پروگرام کو ہی ملی جس کے میزبان عامر لیاقت حسین تھے۔
ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ لوگ جیو اور جنگ سے نفرت نہیں کرتے؟ یا پھر یہ جانتے ہوئے بھی کہ جیو غدار اور ملک دشمن ہے لوگ حالات سے آگاہی کےلئے اسی ادارے کی نشریات دیکھنے اور اشاعت پڑھنے پر مجبور ہیں؟یکدم جیو اور جنگ کیخلاف اس قدر نفر ت اور خاص افراداور اداروں سے اتنی محبت کیسے جا گ گئی؟
ممکن ہے کہ ٹی وی اور اخبار بین عوام کی اکثریت جیو اور جنگ کو نا پسند کرتی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اکثریت جیو کی نشریات بند ہونے کے حق میں ہو۔ مان لیجئے کہ یہ درست ہے تو پھر ان حقائق کا کیا کیا جائے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور پر کردیتے ہیں کہ اس قدر نفرت کے باوجودیہ ادارہ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی تک کروڑوں نہیں تو لاکھوں ‘شاتم’اور ‘غدار ‘ پاکستانی تسلسل سے جیو دیکھ رہے ہیں۔اب ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
یہ جانتے ہوئے بھی کہ جیو غدار اور ملک دشمن ہے لوگ حالات سے آگاہی کےلئے اسی ادارے کی نشریات دیکھنے اور اشاعت پڑھنے پر مجبور ہیں؟
حب الوطنی کی تعریف کیا ہے؟ مذہب سے محبت کسے کہتے ہیں؟ توہین کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟کیا ہم اپنے ملک ، قوم اور مذہب سے صرف اسی صورت میں محبت کے قابل ہیں جب ہم کسی اورملک، قوم اور مذہب سے نفرت کریں؟ کیا اس ملک کے ایک مخصوص ادارے سے والہانہ عقیدت ہی ہماری حب الوطنی کی ضمانت ہے؟ کیا اس کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہمیں غیر ملکی ایجنٹ اور توہین مذہب کا مرتکب بنا دیتا ہے؟
لعنت بھیجیں تمام چینلز پر۔۔۔ان عریاں خبروں پرجنہوں نے حقائق کا لبادہ اوڑھ کر عوام کوبا شعور نہیں گمراہ کیا۔ ان کی معصومیت ، عقل، اعتماد اور منطق سے کھلواڑ کیا۔سوال ریاست کی بدنامی کا نہیں، اصل مسئلہ ریاست کے آبادکاروں کی ہتک کا ہے۔ ان چینلز نے ذاتی مفادات کےلئے عوام کو الو بنایا۔ انہیں وہ سب بیچا جو کسی اخلاقی یا پیشہ ورانہ سطح پر قابل قبول نہ تھا۔ لیکن کسی نے زبان نہیں کھولی۔ ہاں جب یہ غلاظت اشرافیہ کے دالان تک پہنچی تو شور برپا ہو گیا۔ ایجنٹ، غدار اور ملحد کی صدائیں گونجنے لگیں۔ گویا دو ہاتھیوں کی لڑائی ہوئی اور ان کی چنگھاڑ کو جنتا کا نعرہ بنا دیا گیا۔ یہ دو ہاتھیوں کی لڑائی تھی اور ہے جس میں نقصان صرف چیونٹیوں کا ہو گا۔ البتہ یہاں چیونٹیوں کی تعداد 20کروڑ ہے اور انہوں نے بھی اس خوش فہمی میں کہ کوئی ایک تو ہمارا ہے ، اپنا اپنا حلیف ہاتھی چن لیا ہے ۔وہ نابلد ہیں کہ مست ہاتھی سب کو روند دیتا ہے۔ وہ کسی کا سگا نہیں ہوتا۔
خیر، یہ تمام بحث ایک طرف اور وہ 12سالہ بالکا ایک طرف کہ جس کے معصوم ذہن کو اس نفرت سے بھرا گیا ہے جس کا وہ متحمل و مستحق نہیں۔اس نفرت کی آبیاری کرنے والے وہی با اختیار ہیں جو پاکستانیوں کو حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹس دیتے ہیں۔ انہوں نے ہی پاکستان میں نفرت کی وہ فصل بوئی ہے جو 12سالہ بالکے کو نفرت کے سوا کچھ نہیں سکھاتی۔ جو اسے شعور و منطق کے آنگن میں کبھی انگڑائی نہیں لینے دیتی۔ جو اس 12سالہ بالکے کو کبھی جوان نہیں ہو نے دے گی۔ یہ بالکا 1947ءسے آج تک کبھی جوان نہیں ہوا۔ کبھی باشعور نہیں ہوا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی سے محبت کرتا ہے تو آپ غلط ہیں۔ وہ یونہی جیتا اور نفر ت کرتا رہے گا۔ آپ سے ، مجھ سے، ہم سب سے۔۔۔۔مردہ باد جیو!