تاثیرمسیحائی کی؟

فرحان جمالوی: میں نے سلمان تاثیر کے ٹی وی چینل میں کُل ملا کے آٹھ مہینے ملازمت کی ہوگی لیکن تنخواہ تقریباً دو مرتبہ وصول کی۔
غلطی ہوجائے پر بریکنگ نہ جائے

ٹی وی چینلوں کی انتظامیہ نوجوانوں رپورٹروں کو ہر حد عبور کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ جملے کہ “جیسے بھی ہو کر کے دو” جونئیرز ہی نہیں سینئر ز کو بھی سننے پڑتے ہیں۔
زرد صحافت سے پاکستانی صحافت تک

ہر ٹی وی چینل پر چند سٹیج اداکاروں کو بٹھا کر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے جو ایک زمانے میں پیلی قمیض پہنے yellow kid سے لیا جاتا تھا۔
آج کی چٹخارا خبر

خبررساں ادارے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جس کا سودا وہ کرتے ہیں اس چیز کو آلو نہیں خبر کہتے ہیں۔
زرد صحافت اور سنسنی خیزی

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔
مردہ باد جیو

“مبارک ہو!” ۔۔۔ 12سالہ بالکا سائیکل چلاتا ساتھ گزرنے والوں کو مبارکباد دیتا رِمکے رِمکے آگے بڑھا۔ “بھئی کس بات کی مبارک؟” ۔۔معلوم ہوا کہ جیو بند ہو گیا ہے۔