Categories
نقطۂ نظر

یہ زنجیر، یہ زنداں: یہ پھانسیاں، یہ وحشت ہائے وحشت

قومی منصوبۂِ عمل ( یعنی کہ نیشنل ایکشن پلان) نے پھانسی کی سزا کی بحالی کو ضروری سمجھا۔ دلِ گرفتہ کو کئی واہموں نے آ گھیرا۔ دن میں آنکھوں کے سامنے کئی رنگ بلکہ بد رنگ مناظر گھومنے لگے۔ خیال آیا کہ دہشت گرد نے وحشت کی مصنوعہ بازارِ روزانہ میں کیا کم ارزاں کیا ہوا تھا کہ اب ریاست بھی پائنچے اٹھائے میدان میں آ پڑی۔ گویا اب جان کی حفظ سے اپنے وجود کا اقرار مانگنے والا فوق ادارہ، ریاست، خود خون کا ایندھن برت کر سختی پہ اپنا ادھیکار آزمائے گا۔ کتنا متناقض خیال ہے، کیسا عجب پیرا ڈاکس!

 

اے کاش ریاست کا بھی ضمیر ہو۔ یہ اس ضمیر کو سہلاتے سہلاتے کہے کہ اے کاش میں نے اس “رسّے” پہ جُھولنے والے کو بِیتے دنوں میں کبھی شفقت کا جُھولا بھی جُھلایا ہوتا تو آج یہ اس “رسّے” کا سزاوار نا ہوتا۔
ہوا وہی جو خدشہ تھا۔ ملکِ عزیز میں بھی خدشے کیسے خرگوش کی اولاد ایسے ہیں کہ بچے سے بچے جَنتے جاتے ہیں۔ چاند کے چاند نئی اولاد! ذرا چُوکنے کا نام نہیں لیتے، ایامِ زچگی اور طفولیت کی مرگ ان خدشات کی خرگوش اولادوں پہ جانے کیوں وارد نہیں ہوتی۔ شاید ہم ادنٰی پاکستانی ہی ان طاری کردہ عذابوں کی مرغوب غذا ہیں! اِس گئے گذرے لفظوں کے بھکاری، جس کی سطریں آپ اس وقت خواندگی کر رہے، اس نے ورڈ پریس پہ ایک چھوٹا سا بلاگ کیا۔

 

بلاگ کا معروضہ یہ تھا کہ صاحبان، دیکھنا لاشوں کا ایک نیا میلہ نا لگا دینا، وحشت کے تجارتی کاروبار کی نوزائیدہ نمائش نا کھول دینا۔ قومی منصوبۂِ عمل کے اولین دنوں ہی میں ہمارے صحنوں، لاؤنجوں، آرام گاہوں کے اس “دیکھے بھالے اجنبی ساتھی” یعنی ٹیلی ویژن نے پھانسی کے پھندوں کی ساز و شور آلود بولی شروع کر دی۔ اس انداز سے، اس گھن گرج سے سماعتوں پہ ٹوٹتی بجلیاں، بریکنگ خبریں بنا کے سنائی گئیں کہ ایسے لگا جیسے آج پھر ایک وحشت ناک چہرے والا خودکشی کا نیا نصاب کھولنے آ گیا۔ وحشت پہلے چھپ کے آتی تھی، اب نمائش کرکے آنے لگی۔ پہلے بنا شکل کا دیشت گرد تھا۔ اب جو ترقی کا نیا قرینہ شکل پذیر ہوا تو سجے چہرے والا تشخص وحشت پھیلانے لگا۔ ریاست اب لوگوں کو “رسّے” پہ جُھلانے لگی۔

 

اے کاش ریاست کا بھی کوئی ضمیر ہوا کرے۔ اس کے اندر بھی دل ہوا کرے۔ یہ بھی مُونس والدین کی طرح ہو۔ اسے بھی خیال آئے کہ میرا بچہ کیونکر سہم جاتا ہے۔ مکرر کہنے دیجئے کہ اے کاش ریاست کا بھی ضمیر ہو۔ یہ اس ضمیر کو سہلاتے سہلاتے کہے کہ اے کاش میں نے اس “رسّے” پہ جُھولنے والے کو بِیتے دنوں میں کبھی شفقت کا جُھولا بھی جُھلایا ہوتا تو آج یہ اس “رسّے” کا سزاوار نا ہوتا۔

 

اے کاش وحشت کے غیر رسمی اور رسمی میلے اور موت کے رقص کے تہوار ختم ہوں۔ اے کاش موت کی سزا ختم ہو۔ مبادا کہ معاشرے کے چند افراد کا ضمیر اور خوشیوں اور تہواروں کے پیمانے بھی جَھول کھا جائیں، بھٹک جائیں۔
لیکن وطنِ عزیز میں ریاست کب ماں کے جیسے ہو پائی ہے۔ کب ضمیر کو جواب دہی کے بلند آدرش پوس سکتی ہے۔ یہاں پھانسی پہ لگی پابندی کو ہٹایا گیا تو گویا موت نے ایک نیا رقص شروع کیا۔ موت اب بریکنگ نیوز کی تھاپ پر جُھومتی تھی اور ریاست اس کی ہم رقص تھی۔ معاشرہ اپنے تئیں معصوم ہوتا ہے۔ احساس و تجربہ اور تشخص میں نمُو البتہ قبولتا رہتا ہے۔ ہاں مگر معاشرے کا ضمیر کچھ لوگوں میں ضرور شکل پذیر ہوتا ہے۔ وہ اس رقص کی رسم سے پہلے بھی تڑپے اور رقص جب اپنے دم سے باہر ہوا، روز روز کی مشق سے پختہ کار ہو گیا، وہ تب بھی آنسو آنسو ہیں۔ لیکن اس معاشرے کا ایک بہت بڑا حصہ اب موت کے رقص سے بہلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس نے اس رقص کو اب ایک تہوار سمجھ لیا ہے، بچہ جو تھا۔ جیسے آپ نے عادی کردیا ویسے ہی وہ ڈھل گیا۔ لیکن ہمیں ابھی بھی ایک ضمیر زائیدہ خلش اپنا منہ کھولے چِڑاتی ہے۔

 

یہ رواں ہفتے کا دوسرا دن تھا۔ ناشتہ کر لیا تھا۔ چائے کے کپ کو لبوں سے لگایا ہوا تھا۔ اس دوران فون پہ ایک کال آئی۔ ان اوقات میں فون عام طور پر موصول نا کرنے کی عادت ہے۔لیکن آج اٹھا لیا۔ اے کاش نا اٹھاتا تو کچھ ببُولے دل کے کم جاگتے۔ ان فون کرنے والے صاحب نے سیدھے سبھاؤ کہہ ڈالا “مبارک ہو!”۔ حیرانی جو ہوئی تو پوچھا، کہ کاہے کی مبارک بھیاّ؟ تو جواب آیا:

 

“ممتاز قادری رسّہ جُھول گیا!”

 

ہم نے پتا نہیں رسمِ مروّت نبھائی یا معلوم نہیں کہ کیسے چُپ سے ہی رہ گئے۔ قرینِ قیاس ہے کہ اعصاب شَل ہو گئے تھے۔ اپنے اس “مبارک” کے سماعت کے لمحے کو یاد میں سے از سرِ نو شعوری سطح پہ لانے میں دشواری ہو رہی ہے۔ کچھ سریلیت کا سا سماں در پیش ہوا تھا شاید۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کے گذرے ماضی سے اتنا یاد آ ہی رہا ہے کہ جب سلمان تاثیر صاحب کو بزور بازو پروردگار کے سونپا گیا، ہم تب بھی ٹُوٹ گئے تھے۔ پر جب ممتاز قادری کو رسّہ جُھلایا گیا اور اس پہ “مبارک” موصول ہوئی تو اندر کا رہا سہا انسان بھی مصنوعی تنفس پہ ڈل گیا۔ اے کاش وحشت کے غیر رسمی اور رسمی میلے اور موت کے رقص کے تہوار ختم ہوں۔ اے کاش موت کی سزا ختم ہو۔ مبادا کہ معاشرے کے چند افراد کا ضمیر اور خوشیوں اور تہواروں کے پیمانے بھی جَھول کھا جائیں، بھٹک جائیں۔ دل کچھ افتخار عارف صاحب کی اس غزل کا ایک پارہ ہوا پڑا ہے:

 

بستی بھی، سمندر بھی، بیاباں بھی مِرا ہے
آنکھیں بھی مِری، خوابِ پریشان بھی مِرا ہے
جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی مِری ہے
جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مِرا ہے
جو ہاتھ اٹھے تھے وہ سبھی ہاتھ تھے میرے
جو چاک ہوا وہ گریباں بھی مِرا ہے

 

۰۰۰

 

میں وارثِ گُل ہوں کہ نہیں ہوں مگر اے جان
خمیازۂِ توہینِ بہاراں بھی مِرا ہے
مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
یوں ہو تو یہ زنجیر، یہ زنداں بھی مِرا ہے
Categories
اداریہ

صحیح سمت میں صحیح قدم مگر۔۔-اداریہ

ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔
گو پھانسی کی سزا اپنی جگہ ایک غیر انسانی سزا ہے اور پاکستانی نظام انصاف میں موجود نقائص کی وجہ سے پاکستان میں اس سزا کا دفاع ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد صحیح سمت میں اٹھایا گیا صحیح قدم ہے اور یقیناً یہ قدم عشق رسول کے گمراہ کن تصورات اور روایات پر ایک صحت مند مکالمے کے آغاز کا بھی باعث بنے گا۔ اگرچہ سزائے موت خواہ وہ ایک دہشت گرد ہی کی کیوں نہ ہو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس پر خوشی کا اظہار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی سول قیادت اور نظام انصاف جس قدر بھی غیر فعال، بدعنوان اور غیر مقبول ہوں بہر طور مذہبی بنیادوں پر قتل و غارت کے خلاف ہیں۔ قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے بھی یہ حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔ یہ یقیناً ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے اور اس کے نتیجے میں ملسم لیگ نواز حکومت کو بڑے پیمانے پر احتجاج اور مذہبی طبقات کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ تاہم ممتاز قادری کو ایک اور علم دین بننے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا اور بدقسمتی سے اس سلسلے میں حکومت بہت کچھ نہیں کر سکتی۔

حکومت نے وقتی طور پر حالات کو قابو میں رکھنے کے موزوں اور مناسب اقدامات کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم بہت جلد ممتاز قادری کو عشق رسول کے ایک اور ایسے شہید کے طور پر دیکھیں گے جو آنے والے زمانوں میں ایک اور علم دین بن کر ہمارے نوجوانوں کو حب رسول کے نام پر قتل و غارت کا گمراہ کن راستہ دکھائے گا۔ ممتاز قادری کی سزائے موت ہمارے لیے بہت سے نئے چیلنجز کو جنم دے گی، ریاست اور معاشرے کو ممتاز قادری کو بطور ہیرو تسلیم کرنے سے متعلق سنجیدہ بحث شروع کرنا ہو گی اور اس فکر کی بیخ کنی کرنا ہو گی جو عشق رسول کے نام پر انسانی جان لینے کو جائز قرار دیتی ہے۔

سلمان تاثیر کے قاتل کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔
ممتاز قادری کی سزائے موت سے سلمان تاثیر کی ہلاکت کا معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی محض ایک جرم کی سزا ہے لیکن سلمان تاثیر کا قتل کیا جانا محض ایک جرم نہیں تھا۔ یہ توہین رسالت اور توہین مذہب کے قوانین پر بحث، ان قوانین کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی ممانعت کے خلاف بھی جرم تھا۔ ممتاز قادری کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے اور ان کے وکلاء اور حامیوں کا اسے درست قرار دینا بھی اسی معاملے کا ایک پہلو ہے جو قتل کرنے کے ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ہماری روز مرہ آزادیوں اور حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ریاست اس حوالے سے بہت کچھ نہیں کر پائے گی۔

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو دی جانے والی سزا آسیہ بی بی اور توہین رسالت و مذہب کے قوانین کی زد میں آنے والے بے گناہوں کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ادھوری ہے۔ یہ سزا توہین مذہب اور توہین رسالت کے ظالمانہ قوانین میں انسانی حقوق کی مروجہ تعریف کے مطابق ترامیم اور ان کے غلط استعمال کے خلاف قانون سازی کے بغیر بھی نامکمل ہے۔ اس سزا پر عمل درآمد کے موثر نتائج تب تک برآمد نہیں ہو سکیں گے جب تک عشق رسول کے نام پر تشدد اور ہتھیار اٹھانے کے خلاف ریاستی اور معاشرتی سطح پر واضح موقف اختیار نہیں کیا جاتا اور تشدد اور قتل و غارت گری کے لیے عشق رسول کو جواز بنانے کی فکر کو ہر سطح پر رد نہیں کیا جاتا۔ سلمان تاثیر کے قاتلوں میں صرف ممتاز قادری ہی نہیں بلکہ وہ مذہبی فکر بھی شامل ہے جو اس قسم کی دہشت گردی کو جواز فراہم کرتی ہے اور اس مذہبی فکر کے خلاف ایک پھانسی یا بہت سی پھانسیاں بھی کارآمد ثابت نہیں ہوں گی تاوقتیکہ اس گمراہ کن فکر کو ہر فکری اور علمی سطح پر رد کیا جائے، اور یہ ذمہ داری ریاست سے زیادہ معاشرے اور مذہبی طبقات پر عائد ہوتی ہے۔