Categories
نقطۂ نظر

تاثیرمسیحائی کی؟

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: لالٹین سلمان تاثیر کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آسیہ بی بی اور توہین مذہب و رسالت کے قانون پر ان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد یہ احساس دلانا ہے کہ بہرطور سلمان تاثیر بھی انسان تھے اور ان کی پیشہ ورانہ، کاروباری اور سیاسی زندگی کسی بھی اور انسان کی طرح شخصی خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد یہ بھی ہے کہ سلمان تاثیر اور انسانی آزادیوں کے ایسے ہی دیگر شہیدوں کو انسانی خامیوں سے پاک دیوی دیوتا بنانے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اختلافی نقطہ نظر کو بھی جگہ دی جائے۔

 

لالٹین مکتوب نگار کے اس موقف سے متفق نہیں کہ سلمان تاثیر کی موت ان کے اپنے ملازمین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے نتیجے میں ملنے والی خدائی سزا تھی۔ ہماری دانست میں سلمان تاثیر کی موت پاکستان میں توہین مذہب و رسالت جیسے غیر منصفانہ اور غیر انسانی قانون کے خاتمے کی جدوجہد میں ایک سنگِ میل ہے اور اس کی علامتی حیثیت ہمیشہ برقرار رہے گی تاہم اس بناء پر سلمان تاثیر کو مقدس گائے کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

[/blockquote]
letters-to-the-editor-featured1

جس وقت گورنر پنجاب سلمان تاثیر، آسیہ مسیح سے ہمدردی کے لیے شیخوپورہ جیل پہنچے، اُس وقت سلمان تاثیر کے سینکڑوں ملازمین چھ ماہ سے بغیر تنخواہ کام کر نے پر مجبور تھے۔ میں اُن ملازمین کا مینجر تھا۔ سلمان تاثیر کی موت سے پانچ دِن پہلے میں نے “گورنر” کو خط لکھا اور رحم کی اپیل کی—بصورتِ دیگر کام روکنے کی دھمکی دی۔ آج سلمان تاثیر کو گزرے چھ برس بیت گئے لیکن ملازمین کوآج تک محنت کی اُجرت نہ مل سکی۔

 

سلمان تاثیر، سیاست دان کےعلاوہ ایک بزنس مین بھی تھے۔ انہوں نے برطانیہ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی میں ڈگری حاصل کی اور 1994 میں امریکی مالیاتی ادارے “اسمتھ بارنی” (موجودہ مورگن اسٹینلی) کے ساتھ مل کر ایک بروکریج ہاؤس قائم کیا۔ تاثیر نے 1996 میں “ورلڈ کال” گروپ کی بنیاد رکھی جبکہ 2002 میں اخبار “ڈیلی ٹائمز” اور 2004 میں کاروباری ٹیلے وژن چینل “بزنس پلس” لانچ کیے۔

 

میں نے مارچ 2010 میں بطور سینیئر پروڈیوسر “بزنس پلس” جوائن کیا۔ اُس وقت چینل کے حالات اچھے نہیں تھے۔ہر دو ماہ بعد ایک مہینے کی تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔ میں تقریباً ایک سال سے بے روزگار تھا—اِس لیے ملازمت کی حامی بھر لی۔

 

“بزنس پلس” پر دِن میں کاروباری خبریں نشر کی جاتی تھیں جبکہ پرائم ٹائم میں کرنٹ افیئرز کے پروگرام پیش کیے جاتے تھے۔ چینل کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹاک شو 24Seven تھا جو سلمان تاثیر کی سالی “عائشہ ٹیمی حق” ہوسٹ کرتی تھیں۔ جوائننگ کے ایک ہفتے بعد، مجھے اُس لائیو شو کا پروڈیوسر مقرر کر دیا گیا۔ میں نے پروگرام کوبہتر بنانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی، یوں ادارے میں میری حیثیت مضبوط ہوتی رہی۔ لیکن حقیقی معنیٰ میں وہاں مضبوط ترین پوزیشن اگر کسی کی تھی تو وہ وہاں کا فائنینس ڈیپارٹمنٹ تھا: تاثیر کے اشاروں پر چلنے والا بد تہذیب اور بے حس ڈیپارٹمنٹ!

 

تقریباً سات آٹھ ہفتوں بعد، مجھے پہلی مرتبہ سیلری لینے کے لیے بلایا گیا ۔فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی بیرونی دیوار میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس کے سامنے مجھ جیسے صحافی اور دیگر ملازمین لمبی قطار لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ میں بھی لائن حاضر ہو گیا۔ پہلا شخص رسید پر دستخط کر کے کھڑکی چھوڑتا تو سب پوچھتے، “پوری تنخواہ ملی ہے یا آدھی؟” اگر وہ کہتا کہ پوری تو سب خوش ہو جاتے ؛ اگر کہتا کہ آدھی تو سب چُپ ہو جاتے ؛ اور اگر کہتا کہ “پونی” تو سب مشتعل ہو جاتے—

 

میں نے سلمان تاثیر کے ٹی وی چینل میں کُل ملا کے آٹھ مہینے ملازمت کی ہوگی لیکن تنخواہ تقریباً دو مرتبہ وصول کی۔ ملازمت کے آخری دو مہینوں میں مجھے میری کارکردگی اور تجربے کی بنیاد پر پروگرام مینجر بنا دیا گیا جس کے تحت کراچی، لاھور اور اسلام آباد اسٹیشن میری ذمہ داری بن گئے۔ تنخواہ تو نہ بڑھائی گئی مگر اضافی ذمہ داریوں کے عوض مجھے ایک گاڑی اور ایک ٹھنڈا کمرہ عطا کر دیا گیا۔

 

ترقی ملنے سے تقریباً تین ہفتے قبل، سلمان تاثیر نے لاھور سے اپنا نمایندہ خصوصی “عاصم عتیق” کراچی میں متعین کیا جس کو “ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹ” کا نام دیا۔ وہ اسپیشل پروجیکٹ کیا تھا، کبھی کسی کو نہیں پتا چل سکا۔ البتہ اُس نے چارج سنبھالتے ہی بلند و بانگ دعوے کیے۔سب سے بڑا دعوٰی یہ تھا کہ میں پچھلی تنخواہیں پہلی فرصت میں ادا کروا دوں گا۔ نیا ڈائریکٹر، بڑے صاحب کا نام لینا گستاخی سمجھتا تھا، اُن کو ہمیشہ “گورنر” کہہ کر پکارتا تھا۔ میں کبھی سلمان تاثیر سے نہ مل سکا نہ ہی ٹیلے فون پر بات چیت کی۔ لیکن کئی مرتبہ عاصم عتیق اور میں میٹنگ میں ہوتے اور تاثیر کا ٹیلے فون آجاتا تو عاصم کی ہوائیاں اُڑ جایا کرتیں۔ مجھے مجبوراً کمرے سے باہر جانا پڑتا۔ مجھے ترقی دے کر پروگرام میجر بھی عاصم نے ہی بنایا تھا۔ شاید اِس کی وجہ میری قابلیت سے زیادہ یہ تھی کہ وہ خود سلمان تاثیر اور اُس کے بیٹے شہریار تاثیر کی ذاتی ملازمت پر اِس قدر معمور تھے کہ اُنھیں چینل چلانے کے لیے ”کام“ والے لوگوں کی اشد ضرورت تھی۔

 

عاصم نے جس دِن لاہور سے کراچی آکر چینل کا چارج سنبھالا، اُس کے اگلے روزسے اُس کے ساتھ ایک پرسنل باڈی گارڈ بھی دفتر آنے لگا۔ گارڈ سفید شلوار قمیص میں ملباس ہوتا اورہاتھ میں ایک چمکتا ہوا برہنہ پستول ہوتا۔ ملازمین نے پچھلے چار ماہ سے تنخواہ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ عاصم کے تمام دعوے اور وعدے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہو چکے تھے۔ ملازمین اُس تک پہنچنے کی کوشش کرتے تو بند دروازے کے باہر موجود باڈی گارڈ روک دیتا، کبھی نرمی سے اور کبھی دھونس دھمکی سے۔

 

میں اپنی عوامی طبیعت کی وجہ سے مالکان سے دُوراورماتحتوں سے قریب رہتا تھا۔ پانی ہماری گردنوں تک آچکا تھا۔ ایک شام ایک نوجوان کرسچن لڑکا—جو آفس میں جمعدار تھا—میرے کمرے میں داخل ہوا اور مجھ سے پوچھا:

 

“کیا آپ کے پاس سو روپے ہوں گے؟“ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ رات کا کھانا کھایا ہوا ہے، صبح کا ناشتہ نہیں کیا اور یہ وقت آگیا۔ مجھ سے اور میرے ساتھی سے کام نہیں ہورہا، کچھ کھانا چاہتے ہیں۔ میری نظریں جھک گئیں۔ کمرے میں اے-سی چل رہا تھا جبکہ دبلے پتلے نوجوان کے جسم پر پسینہ چمک رہا تھا۔ میں نے شرمندگی سے اے-سی آف کر دیا اور ذہن پر زور دیا میرے والیٹ میں سو روپے ہیں بھی کہ نہیں۔ میں نے پرس نکالا تو اُس میں شاید ایک سو ستر روپے تھے۔ سو روپے نکال کر دیے تو لڑکا شکریہ ادا کر کے چلا گیا۔ وہ پہلا واقع تھا جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ دیا اور سلمان تاثیر کو للکارنے پر مجبور کیا۔

 

بزنس پلس کے استقبالیہ پر ایک نہایت نفیس اور بے ضرر شخص اپنے فرائض انجام دیتا تھا، “پیٹر” نام تھا اُس کا۔ ایک دِن ریسیپشن کے سامنے پیٹر نے مجھے روک کر پوچھا کہ تنخواہ ملنے کا کوئی آسرا ہے؟ میں نے نفی میں گردن ہلا دی۔ پیٹر جو پہلے سے پریشان تھا مزید بُجھ گیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ اُس کی دونوں بچیوں کو اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ چار مہینے سے فیس ادا نہیں کی۔ میرا دماغ پھٹنے لگا۔ یہ ٹھیک وہی دِن تھے جب گورنر سلمان تاثیر، مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون آسیہ نورین کے حق میں لابنگ کررہے تھے۔ اِس دوران وہ کئی مرتبہ اپنی اہلیہ آمنہ اور بیٹی شہربانوکے ہمراہ شیخوپورہ جیل گئے، آسیہ بی بی سے ملاقاتیں کیں اور باہر آکر میڈیا پر اپنے بیانات جاری کیے۔

 

ریسیپشن کے پاس کھڑا میں سوچتا رہا کہ پیٹر، اُس کی بیٹیاں، وہ بھوکا جمعدار لڑکا اور اُس کا ساتھی بھی تو کرسچین ہیں۔ ان کے ساتھ بھی تو نا انصافیاں ہو رہی ہیں۔ بلکہ یہ نا انصافیاں سلمان تاثیر اور اُن کا خاندان خود کر رہا ہے۔ تو پھر پورے پاکستان میں اور پوری مسیحی برادری میں سلمان تاثیر کو صرف ایک آسیہ بی بی ہی مظلوم نظر آئی—؟ اِن مظلوموں کی داد رسی کون کرے گا جو کہ سلمان تاثیر کی براہ راست ذمہ داری ہیں؟!

 

پیٹر کو تسلی دے کر میں سیدھا عاصم عتیق کے کمرے کی طرف بڑھا۔ باہر کھڑے باڈی گارڈ کو بتایا کہ مجھے ڈائریکٹر صاحب سے فوراً ملنا ہے۔

 

کانفرنس ٹیبل پر عاصم کا چمکتا ہوا لیپ ٹاپ رکھا تھا جس پر وہ کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا۔

 

“پانچ مہینے گزر گئے، سیلری کب آئے گی؟” میرے پرانے سوال میں نیا مہینہ جُڑ چکا تھا۔

 

گورنر کا نمایندہ جس دن سے کراچی آیا تھا اور جن وعدوں پر اُس نے تقریباً دو مہینے گھسیٹے تھے اُس دن سے ایک ہی سوال سُن رہا تھا کہ سیلری کب آئے گی۔ بقول اُس کے، یہ ”سیلری“ اُس کی چڑ بن چکی تھی۔ پہلے وہ حیلے بہانے کرتا تھا، دلاسے دیتا تھا، لوگ یقین کر لیتے تھے۔ لیکن اب پانی ناک تک پہنچ رہا تھا:

 

“او یار، مجھے کیا پتا—!” عاصم نے پرانا جواب نئے لہجے میں دیا۔
“آپ کو نہیں پتا؟”

 

“نہیں—اِس کا جواب صرف گورنر ساب دے سکتے ہیں۔”

 

“آپ نے پوچھا نہیں؟ ہر روز بات ہوتی ہے آپ کی!”

 

“او بھائی وہ گورنر ہیں— !” عاصم نے مجھے ایسے ڈرایا جیسے بڑے بوڑھے، بچوں کو اللہ میاں سے ڈراتے ہیں۔

 

“میرے لیے وہ گورنر نہیں—باس ہیں۔ اگر اُن کے حالات بھی میری طرح خراب ہیں تو اُن سے کہیں کہ گورنری چھوڑیں اور میرے ساتھ مل نوکری ڈھونڈلیں۔” میرے وجود سے انقلاب کے نعرے بلند ہونے لگے۔
مشیر خاص نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میری زبان درازی اور ”احسان فراموشی“ پر افسوس کرنے لگا۔

 

“آپ خود ہی کیوں نہیں پوچھ لیتے؟” دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص ڈائریکٹر اسپیشل پروجیکٹ سے سرکس کا رنگ ماسٹر بن گیا۔ اُس نے بکری کو شیر کے پنجرے کی طرف ہانکنا شروع کیا اور لوہے کا جنگلہ کھولنے کی تیاری کی:

 

“مجھے اجازت نہیں ہے اُن سے بات کرنے۔” میں نے مجبوری ظاہر کردی۔
“نہیں—آپ کرلیں بات۔” یہ کہہ کر وہ کام میں مصروف ہو گیا۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔

 

اپنے کمرے میں آئے ہوئے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ ایک کیمرہ مین (نام یاد نہیں رہا) میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ “کیا میں آج رات اسٹور (جہاں کیمرے رکھے جاتے ہیں) میں سو سکتا ہوں؟“ میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ وہ صبح اُدھار مانگ کر دفتر آیا تھا۔ جو پیسے بچے اُس کا کھانا کھا لیا۔ اب واپس جانے کا کرایہ نہیں ہے۔ میں کرایہ نکال کر دینے لگا تو اُس نے اصل وجوہات بتائیں: اُس کا تین ما ہ کا بچہ تھا۔ فاقوں سے بچانے کے لیے اُس کی سالی نے بچے کو اپنے گھرمیں رکھ لیا تھا اور اُس کو پالنے کی ذمہ داری لے لی تھی۔ اِس بات پر کیمرہ مین کی بیوی بہت شرمندہ تھی اور شوہر سے شدید ناراض بھی۔

 

“میں نے وعدہ کیا تھا کہ رات کو کچھ پیسے لے کر آؤں گا۔ اب خالی ہاتھ جاؤں گا تو بیوی –”

 

میں نے سمجھایا کہ گھر نہیں جاؤگے تو بیوی زیادہ پریشان ہوگی۔ میں کوشش کر رہا ہوں سیلری مِل جائے گی ان شاء اللہ۔

 

کیمرہ مین نے کہا کہ بیوی تو مان جائے گی پر صبح مالک مکان کو بھی آنا ہے۔ “وہ گھر خالی کرنے کا کہہ رہا ہے۔ میری سالی نے اپنے گھر میں ایک کمرہ دینے کی آفر کی ہے لیکن میں اور میری بیوی۔۔۔۔”

 

وہ یہ کہہ چُپ ہو گیا اورمیرے ذہن کے کاغذ پر سلمان تاثیر کے نام ایک خط شروع ہوگیا۔

 

کیمرہ مین نے اسٹور روم میں سونے کی اجازت دوبارہ مانگی اور میں نے اجازت دے دی۔

 

شاید اُسی شام یاپھر اگلے روز ایک اور ٹیکنیشن میرے کمرے میں داخل ہو ا اور مجھ سے پوچھا کہ تنخواہ کب آئے گی؟

 

میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اُس نے کہا کہ آپ تاثیر صاحب کے قریبی آدمی ہیں۔ آپ کو کمپنی کی گاڑی، اے سی والا کمرہ اور اختیارات دیے گئے ہیں۔ آپ پوچھ کر بتائیں بڑے ساب سے کہ تنخواہ کب آئے گی۔

 

میں مسکرایا اور اُس کو یقین دلایا کہ میں آج تک سلمان تاثیر سے نہیں ملا اور نہ ہی کبھی ای میل یا ٹیلے فون پر بات ہوئی۔ وہ بھی مسکرایا اور میرے قریب آکر مجھے دھمکانے لگا:

 

“فرحان ساب—آپ ہمارے باس ہو۔ لیکن باس صرف آفس کے اندرہوتا ہے۔ آفس کے باہر پستول کی گولی کسی کو نہیں پہچانتی!”

 

میں نے اُسے ڈانٹ کر بھگا دیا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے اُس کی دھمکی بچگانہ یا کھوکھلی لگی۔ ایسا ہر گز نہیں تھا۔ بلکہ اُن دنوں رات کی تاریکی میں کچھ لڑکے پچھلے گیٹ سے آفس کے اندر کودنے کی کوشش کر چکے تھے۔ جب دفتر کے گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی تو بدلے میں دوسری طرف سے بھی فائر کیے گئے اور وہ بھاگ گئے۔ ایک مرتبہ پھر ایسا ہوا۔ جبکہ دِن کی روشنی میں دفتر میں چوری کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔ میز پر رکھے موبائل فون اور کمپیوٹر میں لگی RAM غائب ہونے لگیں۔ چینل میں کام کرنے والے تخلیقی ذہن چور بننے پر مجبور ہو گئے۔

 

اُس لڑکے کی دھمکی نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں سلمان تاثیر کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کروں۔

 

یہ28 یا 29 دسمبر 2010 کا واقع ہے۔ میں نے اپنی ای میل کھولی اور سلمان تاثیر کو تفصیلی خط لکھنا شروع کیا:

 

محترم سلمان تاثیرصاحب:

 

آدھا سال گزر گیا ہمیں تنخواہیں نہیں ملیں۔ اِس دوران آپ نے ایک نیا چینل (ذائقہ ٹی وی) کھولا۔ نیا اسٹاف رکھا جن کی تنخواہیں ہم سے دویا تین گنا زیادہ ہیں۔ چینل کی افتتاحی تقریب میریٹ ہوٹل میں شاندار انداز میں ہوئی (جہاں طرح طرح کے پر تکلف کھانوں کے علاوہ ولایتی شرابیں، پانی کی طرح پلائی اور بہائی گئیں)۔ میرے ساتھی بھوک سے مر رہے ہیں۔ وہ خود کرائے کے گھروں سے اور اُن کے بچے اسکولوں سے نکالے جارہے ہیں۔ ملازمین دفتر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اپنے سینیئرز کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہماری حالتوں پر رحم کیجئے اور سال ختم ہونے سے پہلے کم از کم تین مہینے کی تنخواہیں ریلیز کر دیجئے۔ ساتھ ہی باقی تنخواہوں کا ایک شیڈول بھی پیش کیجئے۔ بصورت دیگر مجے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں بحیثیت ہیڈ آف پروڈکشن اِس چینل کی ٹرانسمیشن بند کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔

 

سلمان تاثیر کو ای میل بھیجنے کے بعد، میں نے اپنا استعفیٰ ٹائپ کیا اور نیچے جا کر اسٹوڈیو میں تمام اسٹاف ممبرز کو جمع کیا۔ وہ تعداد میں تقریباً سو لوگ تھے۔ میں نے اپنے بے یارو مددگاردوستوں کو تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ خط کے بارے میں آگاہ کیا۔ 31 دسمبر تک تنخواہیں نہ ملنے پر ٹرانسمیشن بند کرنے کے بارے میں اُن کی رائے طلب کی۔ سب نے یک زبان ہو کر تاعید کی۔ تب میں نے ہر ایک فرد سے عہد لیا کہ اگر کل صبح اِس دفتر سے کسی ایک صحافی، پروڈیوسر حتی کہ جمعدار کو بھی نکالا جاتا ہے تو ہم سب اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ اِس پر بھی سب نے اتفاق کیا۔

 

انقلاب کی روح پھونک کر میں گھر چلا گیا۔ اُن دنو ں میں پریس کلب سے چند قدم کے فاصلے پر اور زینب مارکیٹ کے سامنے والے فلیٹوں میں ڈیڑھ کمرے کے اپارٹمنٹ میں رہتا تھا۔ دفتر کے بعد، زیادہ تر وقت پریس کلب میں ہی گزرتا تھا۔ کراچی پریس کلب کا ممبر ہونے کی وجہ سے ہم صحافیوں کو کلب میں معیاری کھانا، بازار سے تقریباً آدھی یا اُس سے بھی کم قیمت پر ملتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ایک سال کی بے روزگاری اور چھ ماہ کی بے گار کاٹنے کی بعد جو غربت چھا چکی تھی وہ پریس کلب کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے دوسروں پر عیاں نہ ہو سکی یا بہت کم عیاں ہوئی۔

 

میں صبح معمول کے مطابق اور بغیر کسی خوف کے، ٹی وی اسٹیشن پہنچا۔ سلمان تاثیر نے پہلی نظر میں اُس خط کو شاید مزاق سمجھا ہوگا۔ دوپہر گزر گئی تمام چیزیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ جوں ہی سہ پہر ہوئی تو سلمان تاثیر نے اپنے وفا دار ڈائریکٹر عاصم عتیق کو میرے شکار پر لگا دیا۔ مجھے فوراً کانفرنس روم میں پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے کرسی سے اُٹھنے سے پہلے استعفی کا پرنٹ آؤٹ نکالا اور کاغذ تہہ کر کے کمرے سے باہر چلا گیا۔

 

دروازہ کھول کر اندر پہنچا تو وہاں عاصم کے علاوہ تمام ڈپارٹمنٹس کے ان چارج بیٹھے ہوئے تھے۔ کل ملا کر آٹھ نو لوگ ہو ں گے۔ میں ابھی کرسی پر بیٹھ بھی نہ پایا تھا کہ ڈائریکٹر مجھ پر برس پڑا:

 

“آپ نے گورنر ساب کو خط کیسے لکھا!!؟”

 

عاصم مجھ سے وقتاً فوقتاً مختلف چیزیں لکھواتا رہتا تھا۔ اپنے اور سلمان تاثیر کے لیے۔ اوروہ میری لکھائی کی داد بھی دیتا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ ”گورنر“ سے مل کر کراچی واپس آیا تو میرے لیے کہے گئے تاثیر صاحب کے تعریفی کلمات بھی مجھے سنائے۔
“جیسے ہمیشہ لکھتا ہوں، ویسے ہی لکھا۔” میں نے سادہ سا جواب دیا۔

 

“آپ نے گورنر ساب کو خط کیوں لکھا؟؟؟” اُس نے سوال بدل کر پوچھا۔
“کیوں کہ آپ ہی نے کہا تھا۔”

 

“گورنر ساب کو کوئی ای میل نہیں کر سکتا!”

 

“کیوں—؟” میں عاصم کی ”گورنر صاحب“ سے عقیدت کی آخری حد جاننا چاہتا تھا۔

 

“گورنر ساب سے کوئی سوال نہیں کر سکتا!”

 

کیوں—گورنر صاحب—اللہ میاں ہیں کیا؟ نعوذ باللہ!

 

سب کے سب خاموش بیٹھے رہے۔ کسی نے اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کی۔ کمرے میں اور عاصم بحث کرتے رہے۔ اُس کی کھوکھلی باتوں میں ہمارے مسائل کا حل دُور دُور تک کہیں نہیں تھا۔ وہ صرف “گورنر ساب، گورنر ساب” کیے جارہا تھا۔ اُس کا غرو ر، میری برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔

 

“گورنر نہیں —فرعون ہیں وہ!”

 

—اور فرعون کی قسمت میں غرق ہونا لکھا ہے۔ ” میں نے اپنا مقدمہ سمیٹنا شروع کیا۔

 

کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ دسمبر کی ہلکی سردی تھی۔ میں نے کوٹ پہنا ہوا تھا۔ بائیں جانب فرنٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈالا تو انگلیو ں نے استعفےٰ کو چھوا۔ میں نے سرکس رنگ ماسٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کردیکھا؛ اُس کے ہاتھ سے چابک چھینا اور سلمان تاثیر کے دیو قامت مجسمے کے گرد لپیٹ کر اِس قوت سے کھینچا کہ باطل بُت عاصم عتیق کے قدموں میں آکر گرا:

 

“جب سلمان تاثیر جیسے لوگ ظلم کی حدیں پار کر جاتے ہیں؛ جب آپ جیسے پالتو نوکر اُس ظلم پر پردہ ڈالتے ہیں تو قدرت خود intervene کرتی ہے۔ اور قدرت کی مداخلت کے آگے کوئی نہیں ٹک سکتا۔ ڈریں اُس وقت سے کہیں آپ کے گورنر ساب کا حال فرعون اور قارون جیسا نہ ہو جائے!”

 

میں نے اپنا استعفیٰ نکال کر میز پر رکھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ سگریٹ کی طلب نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔ گاڑی میں ایک پیکٹ رکھا تھا۔ میں نے گاڑی پچھلی گلی میں کھڑی کی تھی۔ وہاں گیا تو دیکھا گاڑی نہیں ہے۔ سوچا کہ شاید سامنے مین روڈ پر کھڑی کی ہوگی۔ وہاں گیا تو وہاں بھی گاڑی نہیں تھی۔ میں سمجھ گیا کہ میری گاڑی عاصم عتیق کے کہنے پر اُٹھا لی گئی ہے۔ میں واپس دفتر کے اندر داخل ہوا۔ پہلی منزل پر واقع اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو کورے ڈور میں ایڈمن آفیسر، شاہد عالم (جو میرا دوست بھی تھا) دونوں ہاتھ بڑھا کر مجھ سے بغیر گیر ہو گیا۔

 

“جمالوی صاحب—مجھے معاف کردیں۔ “

 

“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ تم نے میری گاڑی اُٹھوالی—؟ تم بھی دُم ہلانے والے نکلے!”

 

“میں مجبور ہوں—مجھے معاف کردیجئے گا۔ “

 

یہ پہلا واقع نہیں تھا، اِس سے پہلے بھی انہی لوگوں نےہماری مارکیٹنگ مینجر ثمینہ انصاری کی ہانڈا سوک گاڑی دفتر کے سامنے سے اُٹھا لی تھی اور واردات کو چوری ظاہر کیا تھا۔ ایسا اِس لیے کیا جاتا تھا تاکہ کمپنی کے افسران گاڑی بیچ کر اپنی رُکی ہوئی تنخواہوں کا کوٹا پورا نہ کر لیں۔ اُن دنوں شاہ زیب خان زادہ ڈائریکٹر نیوز تھے۔ انہوں نے جب ریزائن کیا تو کمپنی کی گاڑی واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، بلکہ عدالت میں مقدمہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ شاہ زیب غالباً وہ واحد شخص ہیں جنھیں سلمان تاثیر نے اُن کے بقا یہ جات واپس کیے۔ میں نے شاہ زیب کو فون کر کے اِس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔

 

شاہد عالم، میرا دوست میرے سامنے کھڑا تھا۔ لیکن ملازمت چونکہ انسان کو بزدل بنا دیتی ہے اِس لیے وہ میرا دوست بعد میں اور سلمان تاثیر کے وفادار کا وفادار پہلے تھا۔ میں نے اُس کے ذریعے حکام بالا کے لیے ایک پیغام چھوڑ ا:

 

“میں پریس کلب جارہا ہوں۔ پریس کانفرنس کرنے۔”

 

عاصم عتیق اور شاہد عالم نے میری پروموشن میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ اُنہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں اُن کو چھوڑ کر “غیروں” کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا اور مظلوموں کے حق میں بات کروں گا۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ایک مرتبہ، غالباً عید کے موقع پر، عاصم عتیق نے کھلی پیش کش کی کہ تم دوسروں کو چھوڑو۔ اگر تمھیں پیسوں کی ضرورت ہے تو ابھی بیس ہزار روپے دلوادیتا ہوں فائننس ڈیپارٹمنٹ سے۔ میں نے انکار کر دیا اور مسئلے کا مکمل حل ڈھونڈے پر زور دیا۔ شاہد نے بھی اُس وقت مجھے منانے کی کوشش کی۔

 

میرے پاس گاڑی نہیں تھی اور پریس کلب پہنچنے کی جلدی تھی۔ میں نے اپنے دوست عدنان جعفر کو فون کیا۔ وہ تھوڑی دیر میں دفتر پہنچ گیا۔ اِس دوران اسٹیشن کے تمام ساتھی میرے کمرے کے باہر جمع ہونا شرو ع ہو گئے۔ میں نے سب کو پریس کلب پہنچنے کی کال دی۔ سب

 

راضی ہوگئے۔ عدنان آیا اور میں اُس کے ساتھ پریس کلب پہنچا۔ گورننگ باڈی کے ایک سینیئر ممبر سے پریس کانفرنس کرنے کی اجازت مانگی۔ اجازت مل گئی۔ باہر لان میں کھڑا ساتھیوں کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر گزرنے کے بعد فون کیا تو کسی نے بھی فون نہیں اُٹھایا۔ قریب دو گھنٹے گزرنے کے بعد، مجھے ایک لڑکے نے فون پر یہ اطلاع دی کہ آپ کے نکلتے ہی عاصم عتیق نے مشتعل اسٹاف کو بیس بیس ہزار روپے کیش دے دیے ہیں اور معاملے کو دبا دیا ہے۔ چینل میں ہر شخص دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ہے۔ میں نے فون رکھ دیا۔ آفس میں جاکر پریس کانفرنس کینسل کر وا دی۔ اُس رات پریس کلب میں صرف دو ساتھی جمع ہوئے۔ باقی اپنی ضرورتوں کے ہاتھوں بک گئے۔ جو موجود تھے اُن سے میں نے صرف اتنا کہا کہ بیس ہزار روپے کب تک چلیں گے؟ آج اگر ہم اکھٹا ہوجاتے تو اِس معاملے کا بہتر حل نکالا جاسکتا تھا۔لیکن اب سال ختم ہو رہا ہے۔ نیا سال شروع ہوتے ہی وہ لوگ کہیں گے کہ پچھلے سال کے بقایا جات ہیں، بعد میں دیکھیں گے۔ اور وہ “بعد” کبھی نہیں آئے گا۔

 

اگلی صبح مجھے عائشہ ٹیمی حق کا فون آیا۔ اُنہوں نے مجھ سے استعفے کی وجہ پوچھی۔ میں نے بتا دی۔ میں ٹیمی کا پسندیدہ پروڈیوسر تھا۔وہ مجھے گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔ اِس لیے انہوں نے کہا کہ وہ سب کے لیے تو وعدہ نہیں کرسکتیں، لیکن میرے dues فوراً clear کر واسکتی ہیں۔ ”تم اپنا resignation واپس لے اور کام شروع کرو۔”

 

میں نے اُن کا شکریہ اداکیا اورکہا کہ میں صرف اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتا۔

 

نیا سال شروع ہو چکا تھا۔ میں تقریباً تین چار دِن گھر میں آرام کرتا رہا۔ رات دیر تک لکھتا اور دن میں دیر تک سوتا رہتا۔

 

4 جنوری 2010 کی صبح غالباً ساڑھے نو بجے مجھے ڈان نیوزسے (جہاں میں پہلے کام کر چکا تھا) فون آیا۔ میں گہری نیند میں تھا۔ موبائل ٹٹول کر اُٹھایا۔ کان سے لگایا تو دوسری طرف سے کسی نے بوکھلا کر پوچھا:

 

“سلمان تاثیر صاحب کی کنڈیشن کیسی ہے؟”

 

میری سمجھ میں نہیں آیا۔ سوچا کوئی مزاق کر رہا ہے۔ چھیڑ رہا ہے پچھلے ہفتے کی میری ناکام کارروائیوں پہ۔

 

میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو بتانے والے بتایا کہ ”تاثیر صاحب پر جانی حملہ ہوا ہے اور حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ تم اُن سے قریب ہو اِس لیے سوچا کہ تمھیں پتا ہوگا۔“ میں نے بتایا کہ چند روز قبل ہی میں نے نوکری چھوڑی ہے۔

 

مجھے تشویش ہوئی۔ کمرے میں رکھے ٹی وی سیٹ کی طرف دیکھا جو کئی مہینوں سے خراب پڑا تھا۔ اتنے میں بیل بجی۔ مالک مکان تھے۔ میں نے انہیں چار مہینے سے گھر کا کرایہ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے وہ میرے دفتری حالات سے کافی حد تک واقف تھے۔ سفید بنیان پہنے صاحب نے مجھے “مبارک باد” دی کہ سلمان تاثیر کو قدرت نے سزا دے دی۔

 

“آؤ دیکھو ٹی وی پہ—کیا حال ہوا ہے ظالم کا۔”

 

میں فوراً اُن کے پیچھے پیچھے برابر والے گھر میں گیا۔ اسکرین پر وہی دیکھا جو دنیا نے دیکھا۔ لیکن ذہن میں جو کچھ چل رہا تھا وہ دنیا کو نہیں پتا تھا۔ مکان مالکن بھی مجھے دیکھ کر خوش ہو گئیں اور چہک کر بولیں:

 

“اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے بیٹا۔ کتنے لوگوں کا حق مارا ہوا تھا اِس نے۔ آج دیکھو کیسے مارا گیا!”

 

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، بزنس پلس کے ایک ساتھی کا فون آگیا:
“آپ تو پیر صاحب نکلے—آپ کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔”

 

میں نے سامنے والے کو جھڑک دیا اور اللہ سے توبہ کرنے کو کہا۔
ایک اور فون آیا: ” آپ کی بد دعا لگ گئی جمالوی صاحب۔ Salman Taseer is no more!”

 

پھر ایک اور فون آیا: “ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی جمالوی۔ ہم اُس دِن پریس کانفرنس کر لیتے تو شاید پیسے مل جاتے۔۔۔ آپ آج ہی پریس کانفرنس رکھیں ہم سب پہنچ رہے ہیں—”

 

میں نے فون کر نے والے کو سمجھایا کہ میرا بزنس پلس سے، سلمان تاثیر سے اور آپ لوگوں سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے اِس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی۔ آئندہ فون مت کیجئے گا۔ میں اپنے کمرے میں واپس گیا، اور پھر سو گیا۔۔۔

 

٭٭٭

 

چھ سال گزر گئے اِس واقع کو لیکن میں نے آج تک پبلک فورم پر اِس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ اورآج تک اس مسئلے کا کوئی حل بھی نہیں نکلا۔ سلمان تاثیر کی وفات کے بعد، جن ملازمین نے اُن کے بیٹے شہریار تاثیر سے گزشتہ اور موجودہ تنخواہوں کا مطالبہ کیا تو بقول شخصے اُس نے یہ جواب دیا کہ ہمارا باپ مر گیا ہے اور تم لوگ پیسے مانگ رہے ہو؟

 

یہ وہی شہریار تاثیر ہے جس نے مجھے لاھور سے پیغام بھجوایا تھا (جب میں اُن کا ملازم تھا) کہ آپ رات بارہ بجے سے صبح چار بجے تک نیشنل جیوگرافک کی بہترین ڈاکیومنٹری اور WWF کی ریسلنگ،بزنس پلس چینل پر چلانا شروع کردیں۔ اِس پر میں نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ کسی دوسرے چینل کا سافٹ ویئر ہم بلا اجازت کیسے چلاسکتے ہیں؟ اورپھر پیمرا کو کیا جواب دیں گے؟ اُس پر شہریار کا یہ جوا ب آیا کہ “آپ پیمرا کی فکر نہ کریں۔ بے خطر ہو کر چلائیں۔پیمرا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”

 

واقعی—اِن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا—سوائے اُس قدرت کے، جو فرش سے عرش تک پھیلی ہوئی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

صحافتی پھوپھیاں اور سیاسی طلاقیں

عمران خان اور ریحام خان کی شادی سے ایک ماہ پہلے صحافتی پھوپھیوں نے زرد صحافت کا جو ڈھول بڑی دھوم دھام سے بجانا شروع کیا تھا وہ اُن کی طلاق تک پہنچتے پہنچتے تقریباً پھٹ چکا ہے۔ جب عمران خان نے صحافیوں پر برستے ہوئے اُنہیں اپنی نجی زندگی سے دور رہنے کو کہا تو بہت سے صحافیوں کو عمران خان کے خلاف عجیب و غریب احتجاج کرتے دیکھا گیا۔ اِس احتجاج کی توجیہہ ان تمام “صحافی” خواتین و حضرات کے پاس یہ تھی کہ “جناب دیکھیں ہم نے قومی اہمیت کے تمام معاملات کو بالائے طاق رکھ کر آپ کے ‘آفاقی’ دھرنے کی مصالحے دار رپورٹینگ اور تبصرہ نگاری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آپ اُس وقت ہماری اُن حرکتوں پر نہ صرف ہماری پیٹ تھپتھپاتے تھے بلکہ ہمیں اپنی جماعت کا ہی رکن سمجھتے تھے۔ اور آج جب ہم دوبارہ قومی اہمیت کے باقی تمام امور اور مسائل نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف آپ کی طلاق جیسے ‘آفاقی’ مسئلے کی رپورٹنگ اور تجزیہ نگاری سے اگر زردہ نہیں تو ماتمی اور مرچیلی زرد بریانی بنانا چاہتے ہیں تو آپ ہمارے لیے مغلظات بک رہے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟”
ہوسکتا ہے کہ عمران خان کی شادی اور طلاق کے معاملات کی کوئی سیاسی جہت نکلتی ہو لیکن فی الحال اس بارے میں مہیا کی گئی تمام تر صحافتی بریانی بے ذائقہ اور پھیکی ہے لیکن اس کا رنگ خوب زرد ہے

 

بہت سے صحافیوں اور گرم مصالحہ کھانے والے دانشوروں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ایسی کوئی صورت نکل ہی نہیں سکتی جس میں عمران خان کی شادی اور طلاق جیسے واقعات بغیر کسی ملکی سیاسی مدوجزر کے رونما ہوسکیں۔ اور چونکہ ملکی سیاسی معاملات کے تمام گوشوں اور پہلوؤں تک عوام کی رسائی ہونی چاہیے اس لیے عمران خان کی شادی اور طلاق نہ صرف ایک عوامی دلچسپی کا موضوع ہے بلکہ ان واقعات کی موجودہ صحافت میں اہمیت کسی بھی بڑے سیاسی واقعے سے کم نہیں ہو سکتی۔

 

ہوسکتا ہے کہ عمران خان کی شادی اور طلاق کے معاملات کی کوئی سیاسی جہت نکلتی ہو لیکن فی الحال اس بارے میں مہیا کی گئی تمام تر صحافتی بریانی بے ذائقہ اور پھیکی ہے لیکن اس کا رنگ خوب زرد ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک سوال اُٹھانا چاہیئے کہ آخر عمران خان کی طلاق کی سیاسی نوعیت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کچھ بنیادی معلومات درکار ہیں جس کے لیے سب سے پہلے ماخذ اور راوی تو ریحام اور عمران کو سمجھا جانا چاہیئے اور ان کے آپس کے ہر متفقہ بیان کو من و عن تسلیم کرلینا چاہیے۔ کیونکہ یہ معاملہ لاکھ سیاسی سہی بہرحال ان کا ذاتی معاملہ تھا اور اگر وہ ایک متفقہ بیان دے رہے ہیں تو اُسی کو کافی جاننا چاہیئے۔ یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ اگر ان میں سے کسی ایک فریق نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی بھی تھی تو اب بہرحال اس متفقہ بیان کی صورت میں وہ اپنے اختلافات بھلا چکے ہیں؛ شاید ایک دوسرے کو معاف بھی کرچکے ہیں اور اس دقیانوسی معاشرے کی روایات کے خلاف طلاق جیسا متنازعہ لیکن درست فیصلہ بھی کر چکے ہیں۔ اس معاملے میں کسی اور ماخذ کی اختلافی رپورٹنگ اور تبصرے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ خدانخواستہ یہ راجوں مہاراجوں، شہنشاہوں اور بادشاہوں کا زمانہ تو ہے نہیں کہ ہر شادی اور ہر طلاق کی کوئی نہ کوئی سیاسی وجہ لازماً ہو۔ اس سراسر ذاتی اور خانگی معاملے کی جو بھی سیاسی نوعیت ہے وہ ثانوی حیثیت کی حامل ہے اور عوامی مقبولیت کو سامنے رکھتے ہوئے زرد صحافتی رپورٹنگ اور اور تبصرہ نگاری کی وجہ سے بن گئی یا بنا لی گئی یا زبردستی گھڑ لی گئی ہے۔

Untitled-1

 

ریحام خان اور عمران خان کی طلاق کے واقعے میں عارف نظامی صاحب نے ایک معاملہ فہم صحافتی پھوپھی کا کردار ادا کیاہے۔ اگر نظامی صاحب ایک انگریزی اخبار کے مدیر نہ ہوتے تو اُن کو اِس اعلیٰ صحافتی معیار پر ہرگز نہ پرکھا جاتا۔ لیکن حالات یہ ہیں کہ اُن کے موجودہ کردار کو دیکھتے ہوئے تو کوئی تیسرے صفحے پر رپورٹنگ کرنے والا صحافی بھی شرما جائے۔ آج صحافت اگر حقیقتاً زندہ ہوتی تو نظامی صاحب کے صحافتی قدکاٹ میں کچھ کمی واقع ہو جاتی۔ لیکن معاملات اس کے بالکل برعکس رہے اور نظامی صاحب نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے قومی صحافتی دھارے کی سمت میں ہی تبدیل کرڈالی۔ بلدیاتی انتخابات کے روز کچھ بڑے اخبارات نے تو اس واقعے کو اپنے صفحات اول پر سب سے اہم جگہ پر شہ سرخی بنا کر پیش کیا حالانکہ یہ سراسر تیسرے صفحے کی خبر تھی۔ چلیں اگر آپ نے اسے سرورق پر جگہ دینی ہی تھی تو کسی کم اہم گوشے میں دے دیتے یا کم از کم بلدیاتی انتخابات کے موقع پرتو اسے کسی کم اہم گوشے میں چھاپتے۔ ٹی وی پر سیاسی اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں ایسے معاملات زیرِبحث لانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ بہت سے مارننگ شوز اور دیگر فضول ٹی وی پروگراموں میں اس واقعے کی تمام تر پرتیں اور گرہیں باآسانی کھولی جاسکتی تھیں۔

 

کیا صحافت کے پیشے سے وابستہ ہونے کے ناطے اُس دن ٹی وی پر چلنے والی خبریں؛ حالاتِ حاضرہ کے پروگرام اور اخبارات اپنا اصل کام یعنی بلدیاتی انتخابات سے جڑے تمام تر انتظامات اور مسائل پر رپورٹنگ، تجزیے اور تبصرے کر چکے تھے؟

 

تقریباً بیس کڑوڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا عمران کی طلاق جیسا واجبی سا معاملہ نئے بلدیاتی انتظام، انتخابات اور ان سے جڑی مثبت اور منفی تبدیلیوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؟
ایسے سیاستدان اور دانشور جو بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کوئی خاص تعلق نہیں ہونا چاہیے انہیں بالخصوص اس معاملے میں عمران پر پھبتیاں نہیں کسنی چاہیئے تھیں کیوں کہ سیاست اور ذاتی زندگی کی علیحدگی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی سیاست اور مذہب کی علیحدگی۔

 

ہمارے بلدیاتی نظام میں اتنے اہم اور پیچیدہ مسائل ہیں کہ شاید صحافیوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اِس تمام معاملے کی رپورٹنگ اور اِس پر تجزیہ نگاری کرنے سے رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرلی ہو اور اس کام کو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف سمجھا ہو۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ معاملات اتنے سادہ بھی نہیں ہیں۔ بڑے صحافتی اداروں کی صحافت کا محور صرف اور صرف عوامی مقبولیت کے موضوعات ہیں اور پیچیدہ اور دوررس اہمیت کی حامل خبروں کو یہ سب سے کم اہم صفحات اور گوشوں میں جگہ دیتے ہیں۔

 

ہمارے شرمناک صحافتی طرزعمل کے برعکس ریحام خان اور عمران خان کی شادی اور طلاق کے دونوں فیصلوں کو بہت سراہا جانا چاہیے تھا۔ ان دونوں واقعات سے اِن دونوں کی ذاتی زندگی کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ کیونکہ دونوں نے اپنی شادی اور طلاق جیسے متنازعہ اور مشکل کام اس دقیانوسی معاشرے میں نہایت خوش اسلوبی سے نمٹائے، خصوصاً طلاق کے معاملے میں ان دونوں کی معاملہ فہمی اور سنجیدگی قابل ستائش ہے۔ ان دونوں کو اس عجیب و غریب صحافتی اور سیاسی کسوٹی پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ پاکستان جیسے ملک میں طلاق سے جڑے منفی رویے اس قدر شدید ہیں کہ بہت سی شادیاں صرف طلاق لینے کی مشکلات کی وجہ سے حبسِ بےجامعلوم ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں طلاق جیسا فیصلہ کرنا آپ کی بالغ نظری اور جذباتی پختگی کا ثبوت دیتا ہے۔
بڑے صحافتی اداروں کی صحافت کا محور صرف اور صرف عوامی مقبولیت کے موضوعات ہیں اور پیچیدہ اور دوررس اہمیت کی حامل خبروں کو یہ سب سے کم اہم صفحات اور گوشوں میں جگہ دیتے ہیں۔

 

اگرچہ میرے نزدیک عمران خان ایک اُوسط درجے کے سیاستدان ہیں اور اُن کے بہت سے سیاسی اور حکومتی فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کو بالواسطہ یا بلاواسطہ نقصان پہنچا ہے اور تاحال پہنچ رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اِس وجہ سے اُن کے ہر نجی معاملے کو بھی اُن کی سیاست سے جوڑ دیا جائے۔ اس وجہ سے خورشید شاہ، شہلا رضا اور بہت سی سیاسی شخصیات کے بیانات بھی بچگانہ اور قابلِ افسوس ہیں۔
ایسے سیاستدان اور دانشور جو بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کوئی خاص تعلق نہیں ہونا چاہیے انہیں بالخصوص اس معاملے میں عمران پر پھبتیاں نہیں کسنی چاہیئے تھیں کیوں کہ سیاست اور ذاتی زندگی کی علیحدگی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی سیاست اور مذہب کی علیحدگی۔ جس طرح مذہب کسی فرد کا ذاتی معاملہ ہے اسی طرح شادی اور طلاق بھی اس کا خانگی مسئلہ ہے، جب آپ عمران خان کی سیاست اور خانگی معاملات کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کریں گے تو لوگ آپ کے عقیدے اور سیاست کو بھی جوڑنے میں خود کو حق بجانب سمجھیں گے۔ کل کلاں کو آپ کا یہی طرزِ عمل سیاستدانوں کے سر پر اُن کے دین و ایمان سے متعلق سوالات کی صورت میں تلوار بن کر لٹکنے لگے گا۔ پاکستانی معاشرے میں تو پہلے سے ہی لوگوں کے مذہبی عقائد کو اُن کا ذاتی معاملہ نہیں سمجھا جاتا اور جب آپ ذاتی اور سیاسی زندگی کو جوڑنے کا چلن عام کریں گے تو ہر صحافی کو یہ ‘حق’ مل جائے گا کہ وہ کسی بھی سیاستدان سے دعائے قنوت زبانی سننے کی فرمائش کر ڈالے۔
Categories
نقطۂ نظر

کاش میں صحافی بن سکتا

نہ تو میرا باپ کوئی مشہور اداکار ہے نہ ہی میں سپریم کورٹ سے اپنا لائسنس معطل کروانے والا وکیل ہوں، نہ ہی میں مشرف اور بلاول کا مشیر اور تیسرے درجے کا وکیل رہا ہوں نہ ہی میں اشتہارسازی کی دنیا کا گرو یا کسی فلم کا ہدایت کار ہوں شاید اسی لیے مجھے صحافی بننے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے اپنے سینئرز سے اپنے یونیورسٹی کے اساتذہ سے بہت گلا ہے ،انہوں نے مجھے کامران شاہد، بابر اعوان، فواد چوہدری، مبشر لقمان اور شاہد مسعود، شاہ زیب خانزادہ ، فریحہ ادریس، مہر بخاری یا منزہ جہانگیر کی طرح کا صحافی بننے کا طریقہ نہ پڑھایا نہ سکھایا۔ یہ نام نہاد صحافی جو اینکر بن کر ہم پر اچانک مسلط کر دیئے گئے ہیں اور اب ذرائع ابلاغ پر راج کر رہے ہیں نجانے انہیں ان کے اساتذہ کیا گھول کر پلاتے رہے ہیں کہ یہ راتوں رات ٹی وی سکرینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔ جب ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو بریگیڈئیر ریٹائرڈ صولت رضا ہمارے شعبہ ابلاغ عامہ کےسربراہ تھے۔ وہ ہمیں اہم انگریزی اوراردو روزنامے پڑھ کر آنے کا درس دیتے رہے، ہمیں محنت، دیانتداری اورلگن سے رپورٹنگ کرنے کی تلقین کرتےرہے۔ وہ ہمیں خبر اور رائے میں فرق سمجھاتے رہے، افواہوں کی بجائے مصدقہ اطلاعات تک رسائی کا درس دیتے رہے اور زرد صحافت سے بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ نجانے ہمارے اساتذہ ہمیں کیسی صحافت پڑھاتے رہے کہ ہم صحافی نہیں بن سکے اور یہ لوگ راتوں رات صحافی بن گئے، صرف صحافی نہیں بلکہ اعلیٰ پائے کے صحافی۔
اساتذہ ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرارورموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے
ہمیں متین حیدر صاحب رپورٹنگ پر لمبے لمبے لیکچر دیتے رہے، ہمارے اساتذہ ہمیں پوری دنیا کے سربراہان مملکت کے نام یاد کرنے اور حالات حاضرہ سے واقف رہنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، دوران تعلیم صحافتی اخلاقیات ، تاریخ اور تحاریک کی تکرار نے ہمیں پاگل کر دیا، اساتذہ ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ، سیاسی رپورٹنگ، کرائم رپورٹنگ، اقتصادی رپورٹنگ اور سپورٹس رپورٹنگ کے اسرارورموز سکھاتے رہے لیکن ہمیں اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کہ میڈیا مالکان کے قریب کیوں کر ہوا جاتاہے، کس طرح راتوں رات اینکر بن کر مسلط ہونا ہے، ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کس طرح میڈیا مالکان اور سیٹھوں کے اشاروں پر ناچنا ہے ، ہمیں یہ نہیں پڑھایا گیا کہ کس طرح اشتہاروں کے حصول کے لیے رپورٹنگ کرنی ہے ہمیں نہیں بتایا گیا کہ مالکان کے مفادات کے لیے دن رات ایک کرنا کیا ہوتا ہے۔
ہمیں شاید سبھی کچھ غلط پڑھایا گیاہے۔ ہمیں واٹر گیٹ سکینڈل، ریسرچ اینڈ میڈیا ہسٹری ، ضابطہ اخلاق اور پتہ نہیں کیا کچھ پڑھایا جاتا رہا پھر ہمیں بتایا گیا کہ رپورٹنگ کرنی ہے تو کسی نیوز ایجنسی میں چار پانچ سال جوتے گھساو پھر جا کر کچھ سمجھ آ ئے گی۔ ٹی وی، اخبارات اور کتابوں کو اپنا اوڑھنا بجھونا بناو پھر کہیں جا کرصحافی ہونے کی ابتدائی اہلیت پر پورا اترو گے۔ ہم بھی لگے رہے پاگلوں کی طرح پہلے نیوز ایجنسی میں جوتے گھسائے، تین چار سال بعد ایک اخبار ایکسپریس میں ملازمت کی اور پھر کبھی کوئی اخبار تو کبھی کوئی ۔۔۔ جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔ ایک دو اداروں کے بارے میں مل گئیں تو کہا گیا جیسے بھی ہو بس ان کے خلاف خبریں چاہیں، کہیں سے بھی لاو کچھ بھی کرو، خود سے گھڑو مگر خبر لے کر آو اور روزانہ کی بنیاد پر لاو۔ جیسے تیسے اپنا ضمیر مارے کام کرتے رہے۔ جب کبھی کسی ادارے میں کچھ ذرائع بنے اور صحیح معنوں میں خبریں ملنے لگیں تو ہمیں کہا گیا کہ بس اب اس ادارے کے خلاف خبریں نہیں لانی انہوں نے اشتہارات دینا شروع کر دیئے ہیں۔ ایک دفعہ تو حیرت ہوئی کہ وہ مدیر صاحب جو دفتر میں دو منٹ بیٹھنے نہیں دیتے تھے کہ “ان اداروں” کی خبریں لے کر آو مجھے کہتے ہیں کہ کیا روز خبریں روز خبریں دے رہے ہوتے ہو کچھ دن آرام کرو گاوں کا چکر لگاآو۔
جوانی اجاڑنے اور خون جلانے کے بعد پتہ چلا کہ ہمیں غلط پڑھایا گیا تھا، حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں فہرست دے دی جاتی ہے کہ یہ بیس ادارے ہمیں اشتہارات نہیں دیتے ان کے خلاف خبریں لے کر آو۔
پاکستان میں صحافت پتہ نہیں کیسے، کس کے ذریعے اور کس کے لیے ہے ، صحافت اور یہ صحافی پتہ نہیں کس طرح اورکس ضمیر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ یہی ضمیر فروش صحافی ٹھیک ہوں۔ ایک دن ٹی وی پر بابر اعوان صاحب فرما رہے تھے کہ اب میں جو خبر دینے لگا ہوں یہ سن کر عوام کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور رائے ونڈ کے محلوں میں زلزلہ آ جائے گا میں نے آواز اونچی کی اور دیگر تمام رپورٹر اور سب ایڈیٹر بھی متوجہ ہوئےکہ بابر اعوان صاحب کوئی بہت بڑا انکشاف کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں کسی بہت خاص بندے نے بتایا ہے کہ رائے ونڈ میں کتنے پولیس اہلکار پروٹوکول ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی پورا رپورٹنگ روم اور نیوز روم ہنسنے لگا کیوں کہ یہ خبر اسی روز دنیا اخبار کے پہلے صفحے پر تین کالم میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن وہ کر سکتے ہیں وہ بہت کمال “صحافی” ہیں پتہ نہیں ان میں ایسی کیا خوبی ہے کہ وہ اچانک ہی وکیل سے تجزیہ نگار بن گئے۔
پاکستان میں صحافت کی تمام درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں
پاکستان میں صحافت کی تمام درسگاہوں میں آئندہ صحافت نئی طرز پرپڑھائی جانی چاہیئے،اساتذہ کو چاہیے کہ راتوں رات صحافی بننے کے مجرب نسخے بتا ئیں، افواہوں کو مصدقہ خبر قرار دینے کے گر سکھائیں اور میڈیا مالکان کی جی حضوری کے لیے ذہن سازی کریں۔ بہتر ہے کہ صرف انہی افراد کو اس مضمون کی تعلیم دی جائے جو سیاسی پشت پناہی یا متنازعہ ماضی کے حامل ہوں تاکہ انہیں صحافت کی سوجھ بوجھ کے بغیر بھی راتوں رات معروف تجزیہ نگار کے تخت پر بٹھایا جاسکے۔ صحافت کے طلبہ کو آزادی اظہاررائے، صحافتی اخلاقیات اور رپورٹنگ کی تعلیم کی بجائے میڈیا مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنا سکھایا جائے تو کئی ایک کا مستقبل برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔ میڈیا مالکان کے قریب اور ان کا پسندیدہ رہنے کا گُر اگر بتایا جائے تو عملی زندگی میں کامیاب ہونے والے طلبہ کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔محنت کی بجائے کوئی ایسا وظیفہ بتا دیا جائے جسے پڑھ کر اینکر، کالم نویس، تجزیہ نگار، مبصر اور بوقت ضرورت صحافی بننے میں آسانی ہو۔