Categories
فکشن

بانسوں کے جھنڈ میں

[blockquote style=”3″]

مصنف کا تعارف: ریونسوکی اکوتاگاوا (۱۸۹۲ تا ۱۹۲۷)بیسویں صدی کے اوائل کے ان معدودے چند کہانی کاروں میں سے ہے جنہوں نے معاصر اور کلاسیکی مغربی ادب کا مطالعہ کیا اور جاپانی ادب میں نادر ترین تجربات کئے۔ اس کی کہانیوں میں جاپانی دیومالا، طنزیہ پیرائے اور جدید ثقافتی رجحانات کا ملا جلا رجحان ہے جس کی وجہ سے کئی کہانیاں ایک نیم طلسماتی سی فضا لئے ہیں۔ اکوتاگاوا نے اپنی مختصر سی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ چھوٹی بڑی کہانیاں لکھیں جن میں زیادہ تر جاپانی ادب میں ایک جدید سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس کی کہانیوں میں اس کی اپنی زندگی کی نیم خوابی حیثیت اور دیوانگی بہت آسانی سے نظر آتی ہے۔ اکوتاگاوا نے سینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ اس کی ماں کا پاگل پن اس کو بھی جینیاتی طور پر منتقل ہوا ہے اور اسے مکمل طور پر دیوانہ کر کے ہی چھوڑے گا۔ ہم یہاں اکوتاگاوا کی سب سے مشہور کہانی Into the Bamboo Grove کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں جس کے اسکرپٹ کو مشہور ہدایتکار اکیرا کوروساوا نے اپنی فلم Rashomon (1950) کے لئے استعمال کیا۔

[/blockquote]

لکڑہارے کا عدالتی بیان

 

کہانی کار: ریونسوکی اکوتاگاوا
ترجمہ : عاصم بخشی

 

یہ سچ ہے جناب عالی۔ یہ لاش مجھے ہی ملی تھی۔ میں روز کی طرح آج بھی اپنی جھونپڑی کے پچھواڑے میں صنوبر کے درختوں سے لکڑی لانے گیا تھا۔ وہ لاش پہاڑی کی دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں پڑی تھی۔ اس کا صحیح صحیح مقام؟ بس یاماشینا چوکی کی سڑک سے یہی کچھ سو گز دور ہو گی۔ ایک بیابان جگہ جہاں بانس کے ساتھ کچھ پستہ قد صنوبر بھی اگ آئے ہیں۔
زرد مائل نیلی عبا میں ملبوس وہ آدمی کمر کے بل پڑا تھا، آستینیں چڑھی ہوئی تھیں اور سر پر کیوٹو طرز کی واضح چُنٹ والا سیاہ ہیٹ اب تک موجود تھا۔ گھاؤ کا ایک ہی نشان تھا لیکن ٹھیک سینے کے بیچ ، جسم کے ارد گرد موجود بانس کے پتے سیاہی مائل سرخ خون سے تر تھے۔ نہیں نہیں، خون رک چکا تھا۔ زخم خشک معلوم ہوتا تھا، مجھے یاد ہے کہ ایک گھڑ مکھی وہاں اس سختی سے چپکی تھی کہ اسے میرے قدموں کی آواز کا بھی پتہ نہ چلا۔

 

کیا میں نے کوئی تلوار وغیرہ دیکھی؟ نہیں جناب، ایسا توکچھ نہیں۔ بس لاش کے ساتھ موجود صنوبر کے قریب ایک رسی کا ٹکڑا پڑا تھا۔ ارے ہاں، یاد آیا، وہاں ایک کنگھی بھی تو گری پڑی تھی۔ بس رسی کا ٹکڑا اور کنگھی۔ لیکن زمین پر موجودبانس کے پتے اور جھاڑیاں اچھے خاصے کچلے ہوئے نظر آتے تھے: اس نے ان کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے ضرور زبردست لڑائی کی ہو گی۔ یہ کیسے ممکن ہے جناب، کوئی گھوڑا؟ نہیں، گھوڑا کبھی اس جگہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ سڑک اور اس جگہ کے بیچ میں بانس ہی بانس ہیں۔

 

مسافر پادری کی گواہی

 

مجھے یقین ہے جناب کہ میری کل اس آدمی سے مڈبھیڑ ہوئی تھی۔ تقریباً نصف النہار کا وقت ہو گا ۔ یاماشیما کے راستے پرموجود پہاڑی چوکی کے قریب۔ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر موجود ایک عورت کے ساتھ چوکی کی جانب پیدل چلتا آ رہا تھا۔ عورت نے ایک اکڑا ہوا تنکوں کا ہیٹ پہن رکھا تھا جس کے کناروں سے ایک لمبا نقاب نیچے لٹک رہا تھا، میں اس کا چہرہ تو نہ دیکھ سکا لیکن عبا اب تک ذہن میں ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ نیلی اور سبز دھاریوں والا ایک گہرا سرخ ملبوس تھا۔ گھوڑا سرمئی اور کہیں کہیں بھورے دھبوں والا تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کی ایال تراشی ہوئی تھی۔ کیا وہ اصیل گھوڑا تھا؟ جواب میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ عام گھوڑوں سے شاید کوئی ایک دو کمان دراز قد ہی ہو لیکن میں تو بہرحال ایک پادری ہوں۔ گھوڑوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ آدمی؟ جناب اس کے پاس ایک مناسب سی تلوار تھی اور تیر کمان سے لیس تھا۔ مجھے اب بھی اس کا سیاہ چمک دار ترکش یاد ہے: شاید درجن بھر تیر ہوں گے یا اس سے کچھ زیادہ۔ میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اس قسم کے کسی آدمی کے ساتھ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ آہ، انسان کی زندگی بھی کیا ہے، ایک قطرۂ شبنم، ایک بجلی کی کوند؟ بہت افسوس ہوا، بہت برا۔ خیر کیا کہہ سکتا ہوں۔

 

کوتوال کا عدالتی بیان

 

میں نے جسے گرفتار کیا، جناب؟ مجھے یقین ہے کہ وہ مشہور ڈاکو تاجو مارو ہی ہے۔ جی یہ درست ہے کہ میرے قابو میں آتے ہی وہ گھوڑے سے گر پڑا تھا اور اواٹاگوچی والے پتھروں کے پُل پر لیٹ کر آہ و زاری کر رہا تھا۔ وقت جناب؟ یہ کل رات اول پہر کا وقت ہو گا۔ اُسی گہری نیلی عبا میں تھا اور وہی لمبی تلوار تھام رکھی تھی جب پہلی بار میرے ہاتھ آتے آتے رہ گیا تھا۔ اب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ تیر کمان بھی موجود تھے۔ اوہ، کیا ایسا ہی ہے جناب؟ مردہ شخص بھی ملا؟ بس پھر تو قضیہ نمٹ گیا: یقیناً یہ تاجومارو ہی قاتل ہے۔ ایک چرمی کمان، سیاہ روغن چڑھے سترہ عقابی پروں والے تیر، ظاہر ہے مقتول ہی کے ہوں گے۔ اور ہاں جناب ، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، گھوڑا سرمئی اور بھورا ہے، اور ایال تراشی گئی ہے۔ جانور کون سا ایسا عاقل ہے، لیکن اس نے اس اچکے کو وہی انعام دیا جس کا یہ حقدار تھا، زمین پر اس طرح لا پٹخا۔ یہ بس پل سے ذرا ہی دور باگیں زمین پر گھسیٹتے ہوئے سڑک کے کنارے خود رو گھاس چر رہا تھا۔

 

کیوٹو کے ارد گرد گھات لگائے تمام ڈاکوؤں میں اس تاجومارو کی شہرت عورت بازی کی ہے۔ پچھلی پت جھڑ میں توریبا مندر کے لوگوں کو بنزورو کے مجسمے کی عقبی پہاڑی پر پوجا کے لیے آئے ہوئے ایک عورت اور بچہ مردہ ملے۔ ہر زبان پر یہی بات تھی کہ ہو نہ ہو یہ تاجومارو کا کام ہے۔ اگر ثابت ہو گیا کہ وہی اس آدمی کا قاتل ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے گھوڑے پر سوار عورت کے ساتھ کیا کیا ہو گا۔ میں مخل نہیں ہو رہا جانب، لیکن میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ اس بارے میں ضرور پوچھ گچھ کریں۔

 

کمرۂ عدالت میں بڑھیا کی گواہی

 

جی جناب والا، میری بیٹی اسی مردہ شخص سے بیاہی تھی۔ لیکن یہ دارالخلافہ کا نہیں بلکہ وکاسا کے صوبائی دفتر سے منسلک ایک سامورائی تھا۔ نام نازاوا نو تاکی ہیرو، عمر چھبیس سال۔ نہیں جناب، یہ تو بہت بھلا مانس شخص تھا۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی اس سے نفرت کی اس حد تک جا سکتا ہے کہ جان ہی لے ڈالے۔

 

میری بیٹی، جناب؟ اس کا نام ماساگو ہے، عمر انیس سال۔ وہ کسی بھی مرد جتنی دلیر ہے لیکن اس نے تاکی ہیرو کے علاوہ کسی مرد سے جان پہچان نہیں بڑھائی۔ اس کا رنگ ذرا گندمی ہے اور بائیں آنکھ کے کونے میں ایک تل ہے، لیکن چہرہ بالکل ننھا سا اور خوبصورت بیضوی نقش۔

 

تاکی ہیرو کل میری بیٹی کے ساتھ واکاسا ہی کے لئے نکلا تھا لیکن نہ جانے قسمت اسے اس موڑ پر کیسے لے آئی؟ میں اب اپنے داماد کے لئے تو کچھ نہیں کر سکتی لیکن میری بیٹی پر کیا بیتی؟ پریشانی سے دل ڈوبا جاتا ہے۔ آپ کو خدا کا واسطہ جناب، اسے تلاش کرنے کی کوشش کیجئے، چپہ چپہ چھان مارئیے ۔میرے دن شاید پورے ہونے ہی والے ہیں لیکن اتنی شدت سے زندگی میں کسی چیز کی خواہش نہیں کی۔ اف، میں اس ڈاکو سے کتنی شدید نفرت کرتی ہوں، یہ ! یہ تاجو مارو! نہ صرف میرا داماد بلکہ میری بیٹی بھی۔۔۔ (یہاں بڑھیا کا حوصلہ ٹوٹ گیا، گلا رندھ گیا اور مزید بولنے کی سکت نہ رہی۔)

 

تاجومارو کا اعترافی بیان

 

یقیناً میں نے اس آدمی کو قتل کیا۔ لیکن میں نے عورت کی جان نہیں لی۔ تو پھر اسے آسمان کھا گیا یا زمین؟ میں ہرگز تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ اب ذرا ایک منٹ رک کر میری بات سنو—تم مجھ پر جتنا چاہے تشدد کرو لیکن میں تمہیں وہ سب کچھ کیسے بتا سکتا ہوں جو مجھے خود معلوم نہیں۔ اور اب جب میں تمہارے قابو میں ہوں، میں کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ میں ہرگز کوئی بزدل نہیں۔

 

میں کل اس جوڑے سے ملا۔ سہ پہر کے ذرا بعد۔ اس پر نظر پڑتے ہی ہوا کے جھونکے نے نقاب کو الٹا دیا اور میں نے اس کی ایک جھلک دیکھ لی۔ بس ایک ذرا سی جھلک :شاید اسی لئے وہ مجھے اتنی خوبصورت لگی۔ عورت کیا تھی ، بس ایک گیانی بدھستوا مورتی تھی۔ میں نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا تھا کہ چاہے اُس مرد کو قتل ہی کیوں نہ پڑ جائے، میں اس عورت کو حاصل کر کے رہوں گا۔

 

اوہ، تمہیں اب کیسے سمجھاؤں! کسی بندے کی جان لینا اب ایسی بھی بڑی بات نہیں جتنا تم سمجھ بیٹھے ہو۔ اگر تمہیں کسی کی عورت کو حاصل کرنا ہے تو مرد کو تو زندگی سے ہاتھ دھونا ہی ہوں گے۔ میں نے کسی کو مارنا ہو تو اپنی تلوار کا استعمال کرتا ہوں ، لیکن تم جیسے لوگ تلواریں استعمال نہیں کرتے۔ تم شرفاء تو اپنی طاقت، دولت اور کبھی کبھار صرف الفاظ ہی سے جان لے لیتے ہو: لوگوں کو یہی باور کراتے ہو کہ ان پر احسان کر رہے ہو۔ یہ سچ ہے کہ خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہتا، انسان زندہ ہوتا ہے لیکن جیتے جی مر جاتا ہے۔ نہ جانے کس کا گناہ بڑا ہے—میرا یا تمہارا۔ (لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ۔)

 

یقیناً، اگر تم مرد کو قتل کئے بغیر عورت کو حاصل کر سکو تو کیا ہی اچھا ہے۔ کل میں یہی امید لگائے بیٹھا تھا۔ یاماشینا چوکی والی سڑک پر تو یہ ناممکن ہوتا، اس لئے میں نے اسے بہلا پھسلا کر پہاڑیوں کی طرف لانے کی ایک تدبیر کی۔

 

سب کچھ کافی آسان ثابت ہوا۔ میں نے انہیں سڑک پر جا لیا اور ایک کہانی بنا ڈالی۔ یہی کہا کہ مجھے پہاڑیوں میں ایک پرانا مدفن ملا ہے جو تلواروں، آئینوں اور دوسری اشیاءسے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دوسروں سے چھپانے کی خاطر پہاڑ کی دوسری جانب بانسوں کے جھنڈ میں یہ سب کچھ دبا دیا ہے اور مناسب خریدار ہی کو سستے داموں فروخت کروں گا۔ وہ بہت جلد میرے دام میں پھنس گیا اور دلچسپی ظاہر کرنے لگا۔ کتنی خوف ناک ہے یہ حقیقت کہ لالچ انسان کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟ میں ایک گھنٹے سے بھی کم میں ان دونوں کوگھوڑے سمیت پہاڑی راستے پر لے جا رہا تھا۔

 

جھنڈ میں پہنچے تو میں نے انہیں بتایا کہ خزانہ یہیں دبا ہوا ہے اور وہ اندر آ کر میرے ساتھ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ مرد تو اس وقت تک لالچ کے ہاتھوں اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ انکار نہ کر سکا لیکن عورت نے یہی کہا کہ وہ باہر گھوڑے کی پیٹھ پر انتظار کرے گی۔ میرا یہی خیا ل تھا—جنگل بہت گھنا تھا۔ وہ میرے دام میں پھنس چکے تھے۔ ہم عورت کواکیلا چھوڑ کر جھنڈ میں داخل ہو گئے۔

 

شروع میں تو بانس ہی بانس تھے۔ کوئی پچاس گز اندر صنوبر کا ایک کھلا جھنڈ تھا—میری اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بالکل مناسب جگہ ۔میں یہ کہتے ہوئے جھنڈ کے اندر داخل ہوتا چلا گیا کہ خزانہ یہیں کسی درخت کے نیچے دفن ہے۔ یہ سنتے ہی مردتیزی سے سامنے موجود کچھ سوکھے ہوئے صنوبروں کی طرف بڑھا۔ یہاں بانس تقریباً ختم ہو چکے تھے اور درختوں کی ایک قطار تھی۔ وہاں پہنچتے ہی میں نے اسے دبوچ کر نیچے گرا دیا۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ ایک مضبوط آدمی ہے اور تلوار تھامے ہے، لیکن وہ حیران پریشان رہ گیا اور کچھ نہ کر سکا۔ میں نے اسے فوراً ایک درخت کے تنے سے باندھ دیا۔ مجھے رسی کہاں سے ملی؟ بھئی آخر میں ایک چور ہوں —مجھے کسی وقت بھی کوئی دیوار عبور کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے— لہٰذا رسی کا ایک ٹکڑا ہمیشہ میرے کمربند میں موجود ہوتا ہے۔ خاموش رکھنے کے لئے میں نے اس کا منہ بانس کے پتوں سے بھر دیا۔ بس اتنا سا کام تھا ۔

 

مرد سے فارغ ہوتے ہی میں واپس عورت کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس کا شوہر اچانک بیمار ہو گیا ہے اور اسے فوراً اس کے پاس پہنچنا چاہئے۔ظاہر ہے کہ یہ ایک اور تیر بہدف تھا۔ اس نے اپنا ہیٹ اتارا اور میرا ہاتھ تھامے جھنڈ میں داخل ہونے لگی۔ لیکن جیسے ہی اس نے مرد کو درخت سے بندھے دیکھا، اپنے سینے سے فوراً ایک خنجر نکال لیا۔ میں نے کسی عورت میں اتنی آگ بھرے نہیں دیکھی۔ اگر میں چوکنا نہ ہوتا تو چاقو میری آنتوں کے آر پار ہو چکا ہوتا۔ اور وہ جس طرح وار کر رہی تھی، میرے بچاؤ کے باوجود مجھے کوئی نہ کوئی زخم تو لگ ہی گیا ہوتا۔لیکن میں بھی تاجومارو ہوں۔ کسی نہ کسی طرح میں نے اپنی تلوار نکالے بغیر اس کے ہاتھ سے خنجر چھین لیا۔ کوئی عورت جتنی بھی لڑاکا کیوں نہ ہو، ہتھیار کے بغیر ناکارہ ہے۔ قصہ مختصر، میں اس کے بندے کی جان لئے بغیر عورت کو اپنا بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

 

ہاں ہاں، میں یہی کہہ رہا ہوں جو تم نے سنا: اس کے شوہر کی جان لئے بغیر۔ اتنے سب کچھ کے بعد اب میرا اس کی جان بھی لے لینے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ عورت زمین پر پڑی آنسو بہا رہی تھی اور میں اسے وہیں چھوڑ کر جھنڈ سے نکل بھاگنے والا تھا کہ اچانک اس نے عالمِ دیوانگی میں میرا بازو کھینچ لیا۔ اب میں نے سنا کہ وہ سسکیوں کے بیچ میں چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہی تھی۔ اس کی سانسیں اکھڑی اکھڑی تھیں: ’’یا تو تم جان سے جاؤ گے یا میرا شوہر۔تم میں سے ایک کا مرنا ضروری ہے۔ یہ موت سے بھی بدتر ہے کہ دو مرد مجھے بے حیا دیکھیں۔ تم ہو یا وہ، میں اسی کے ساتھ رہوں گی جو زندہ بچے۔ ‘‘ یہ سنتے ہی میرے اندر اس کے شوہر کو قتل کرنے کی وحشت ناک خواہش انگڑائیاں لینے لگی۔ (پرجوش کیفیت)۔

 

شاید تم سوچتے ہو گے کہ میں تم سے ظالم ہوں۔ لیکن تم نے اس کے چہرے کے وہ تاثرات نہیں دیکھے، خاص طور پر جس طرح اس کی آنکھیں حدت اگل رہی تھیں۔ اس کی نظروں کا مجھ سے ملنا تھا کہ میں اسے بیوی کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ چاہے آسمانی بجلی کا دیوتا میری جان ہی کیوں سلب نہ کرلے، میں اسے اپنی بیوی بنا کر رہوں گا، بس میرے ذہن میں یہی خیالات تھے۔ اور صرف ہوس کے مارے نہیں۔ میں جانتا ہوں تم لوگ کیا سوچ رہے ہو۔ اگر صرف ہوس ہی ہوتی تو وہ تو میں پہلے ہی پوری کر چکا تھا۔ بس اسے ایک لات رسید کرتا اور اپنا رستہ ناپتا۔ اور وہ بندھا ہوا آدمی بھلا کیوں اپنے خون سے میری تلوار داغ دار کرتا! لیکن وہاں اس اندھیرے جھنڈ میں اُس لمحے جب میری نظریں اس کی نظروں سے ملیں ، میں جانتا تھا کہ میں اس کے مرد کو قتل کئے بغیر یہاں سے نہ نکل سکوں گا۔

 

لیکن پھر بھی میں اس پر بزدلانہ وار نہ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے کھول دیا اور تلوار کے مقابلے کا چیلنج دیا۔ (وہ رسی کا ٹکڑا جو انہیں ملا میں نے اسی وقت وہاں پھینکا تھا۔) اپنی لمبی تلوار نکالتے وقت وہ بہت غصے میں تھا، اور کچھ کہے بغیر مجھ پر چڑھ دوڑا۔ مجھے تمہیں لڑائی کا انجام بتانے کی ضرورت نہیں۔ میری تلوار تئیسویں وار پر اس کا سینہ چیر تی ہوئی نکل گئی۔ تئیسویں سے پہلے نہیں: میں چاہتا ہوں تم یہ بات ذہن میں رکھو۔ میں اب بھی اس کا معترف ہوں۔ وہ واحد انسان ہے جو تئیسویں وار تک مجھ سے لڑتا رہا۔ (ایک تفاخرآمیز مسکراہٹ۔)

 

اس کے گرتے ہی میں نے اپنی خون آلود تلوار نیچے کی اور عورت کی جانب مڑا۔ وہ غائب ہو چکی تھی! میں نے صنوبر کے درختوں کے درمیان اسے تلاش کیا لیکن زمین پر پڑے بانسوں کے پتوں سے یہی لگتا تھا کہ وہ کبھی یہاں نہیں آئی۔ اس کی آواز سننے کے لئے کان لگائے لیکن وہاں تو پس اس آدمی کی موت کی ہچکیاں ہی سنی جا سکتیں تھیں۔

 

شاید وہ تلواروں کی لڑائی شروع ہوتے ہی زیریں حصے کی جانب مدد کی خاطر بھاگی ہو۔ اس خیال نے میرے اندر خطرے کا احساس جگا دیا۔ میں نے اس آدمی کی تلوار اور تیر کمان اٹھائے اور سیدھا پہاڑی راستے کا قصد کیا۔ عورت کا گھوڑا اب بھی وہیں کھڑا گھاس چر رہا تھا۔ اس کے بعد کے مزید واقعات بس وقت کا ضیاع ہی ہیں۔ خیر اتنا کہے دیتا ہوں کہ کیوٹو آنے سے پہلے میں اس کی تلوار سے جان چھڑا چکا تھا۔

 

تو یہ ہے میرا اعترافی بیان۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ ایک دن میرا سر قید خانے کے باہر کسی درخت سے لٹا ہو گا تو بس میں اب اس حتمی سزا کا منتظر ہوں۔ (سرکشی کا مظاہرہ۔)

 

کیومیزو کے مندر میں عورت کا پشیمانہ اعتراف

 

جب نیلی عبا میں ملبوس آدمی میرے ساتھ اپنی ہوس پوری کر چکا، تو میرے شوہر کی طرف متوجہ ہوا اور اسے باندھ کر مذاق اڑانے لگا۔ میرے شوہر کی کتنی بے عزتی ہوئی ہو گی! وہ پیچ وتاب کھاتے ہوئے رسیوں میں کسمسا رہا تھا لیکن گرہیں اس کی کھال میں مزید دھنس رہی تھیں۔ میں لڑکھڑاتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ نہیں، بلکہ میں نے اس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، لیکن اُس آدمی نے اچانک مجھے ایک لات رسید کی۔ اور اسی لمحے میں نے اپنے شوہر کی آنکھوں میں وہ ناقابلِ بیان چمک دیکھی۔ واقعی یہ ایک ناقابلِ بیان جذبہ تھا۔ اب بھی سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میرے شوہر کی زبان گنگ تھی، لیکن اس حالت میں بھی اس کی آنکھیں اس کے دل کا مدعا بیان کر رہی تھیں۔ میں نے جو چمک دیکھی وہ نہ تو غصہ تھا اور نہ ہی غم۔ یہ تو ایک توہین آمیز سرد مہری تھی، میرے لئے حقارت کا احساس۔ مجھے یہ اس ڈاکو کی لات سے بھی زیادہ کرب انگیز لگی۔ بس ایک چیخ ماری اور وہیں گر گئی۔

 

ہوش آیا تو نیلے لباس والا جا چکا تھا۔ جھنڈ میں اب صرف میرا شوہر ہی تھا جو ابھی تک صنوبر کے درخت سے بندھا تھا۔ میں بمشکل بانس کے مردہ پتوں کے قالین سے اٹھ کر اپنے شوہر کی آنکھوں میں دیکھنے کے قابل ہوئی۔ اس کی نگاہیں بالکل ویسی ہی تھیں، وہی سردمہری اور حقارت و نفرت کے جذبات۔ میں کیسے وہ جذبات بیان کروں جو اس وقت مجھے مغلوب کئے دے رہے تھے؟ شرم و حیا۔۔۔غم۔۔۔غصہ۔۔۔بس میں ڈگمگاتے ہوئے اس کی جانب بڑھی۔

 

’’اوہ، میرے سرتاج! اب جب کہ اتنا کچھ ہو چکا ہے، میں تمہارے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔ میں ابھی اور اسی وقت مرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن تم—ہاں تمہیں بھی تو جان سے جانا ہو گا۔ تم نے میری بے حیائی کا مظاہرہ دیکھا۔ میں اب تمہیں اس منظر کی یادوں کے ساتھ اپنے پیچھے تو نہیں چھوڑ سکتی۔ ‘‘

 

میں وہ سب کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی جو میں کہنا چاہتی تھی، لیکن میرا شوہر بس مجھے اسی حقارت سے دیکھے چلا جا رہاتھا۔ یوں لگا جیسے کسی بھی لمحے میراسینہ شق ہو جائے گا ، لیکن اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے میں نے بانسوں کی جھنڈ میں اس کی تلوار کی تلاش شروع کی۔ یقیناً ڈاکو وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا کیوں کہ اس کا نام و نشان نہ تھا، اور میرے شوہر کے تیر کمان بھی غائب تھے۔ لیکن پھر مجھے خوش قسمتی سے پیروں میں گرا خنجر مل گیا۔ میں نے وہ اپنے شوہر کی نگاہوں کے سامنے لہرایا اور ایک بار پھر اس سے گویا ہوئی۔

 

“یہ اب اختتام ہے۔ سو اتنے اخلاق کا مظاہرہ تو کرو کہ مجھے اپنی جان لینے دو۔ میں بس تمہارے پیچھے پیچھے پہنچ رہی ہوں۔”

 

یہ سنتے ہی آخر کار میرے شوہر کے ہونٹ ہلنے لگے۔ ظاہر ہے کہ اس کا منہ تو بانس کے پتوں سے بھرا ہواتھا اور کوئی آواز نہ نکلتی تھی، لیکن میں فوراً سمجھ گئی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے ایک کامل حقارت سے بس اتنا ہی کہا کہ “کر گزرو۔” خواب اور حقیقت کی ملی جلی کیفیت میں میرا چاقو اس کی زردی مائل نیلی عبا سے ہوتا ہوا سینے کے آر پار تھا۔
پھر میں دوبارہ بے ہوش ہو گئی۔ آخرکار آنکھ کھلی تو میرا شوہر جو اب تک درخت سے بندھا تھا اپنی آخری سانسیں لے چکا تھا۔ بانس اور صنوبر سے چھن کر ایک روشنی کی شعاع اس کے خاکستری چہرے پر چمک رہی تھی۔ اپنے آنسو نگلتے ہوئے میں نے گرہیں کھولیں اور رسی کو ایک طرف پھینک دیا۔ اور پھر—پھر اس کے بعد مجھے کیا ہوا؟ مجھے میں مزید سنانے کی طاقت نہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ میں خود کشی میں ناکام ہو گئی۔ اپنے حلق پر وار کرنا چاہا۔ پہاڑ کے دامن میں موجود ایک تالاب میں ڈوبنے کی نیت سے چھلانگ لگائی۔ کہیں کامیابی نہ ہوئی۔ میں اب بھی یہیں ہوں، اور خودکشی کی ناقابلیت پر مجھے کوئی فخر نہیں۔(ایک اداس مسکراہٹ۔) شاید ہمدردی کا بدھستوا کانزیون بھی مجھے کمزور سمجھ کر نظریں پھیر چکا ہے۔ لیکن اب—اب جب کہ میں اپنے شوہر کا قتل کر چکی ہوں اور ایک ڈاکو کے ہاتھوں اپنی عزت لٹا بیٹھی ہوں، تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟ مجھے بتاؤ میں کیا۔۔۔۔(اچانک شدید سسکیاں۔)

 

ایک مؤکل کے وسیلے سے مردہ آدمی کی روح کی گواہی

 

جب وہ ڈاکو میری بیوی سے اپنی ہوس کی آگ بجھا چکا تو وہیں زمین پر بیٹھ کر اسے تسلیاں دینے لگا۔ میں کیا کہہ سکتا تھا اور ظاہر ہے کہ صنوبر کے درخت سے بندھا ہوا تھا۔ لیکن آنکھوں ہی آنکھوں سے اپنی بیوی کو یہ بتانے کی کوشش کرتا رہا کہ’’اس کی کسی بات کا یقین نہ کرو۔ یہ کچھ بھی کہے جھوٹ ہی ہوگا۔”میں نے اسے اپنی بات سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ وہیں بانس کے پتوں میں سمٹی سکڑی اپنے گھٹنوں کو گھورے چلی جا رہی تھی۔ اور سچ کہوں تو مجھے واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس کی بات سن رہی ہے۔ میں رقابت کی آگ میں جل رہا تھا لیکن ڈاکو ایک کے بعد ایک جال بچھا رہا تھا۔ ’’ اب جب کے تم داغ دار ہو چکی ہو، تم اور تمہارا شوہر پہلے کی طرح زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ اس سے علیحدگی اختیار کر لو— آؤ اور میری بیوی بن جاؤ! میں تمہاری محبت کی وحشت میں اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا۔ ” ڈاکو کی جرأت دیکھئے کہ اس سے کس لہجے میں کیا بات کر رہا تھا!

 

جب میری بیوی نے اس کی جانب سر اٹھایا تو وہ مکمل طور پر سحر میں گرفتار محسوس ہوتی تھی۔ میں نے اسے اس لمحے سے زیادہ خوبصورت کبھی نہ دیکھا تھا۔ تمہارے خیال میں میری خوبصورت بیوی نے میری موجودگی میں ڈاکو کو کیا کہا ہو گا— اپنے اس شوہر کی موجودگی میں جس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے؟ میری روح شاید اب ایک جہان سے دوسرے میں بھٹک رہی ہے، لیکن جب بھی مجھے اس کا جواب یاد آتا ہے تو میرے اندر ایک غیظ و غضب کی آگ بھڑکتی ہے۔’’ٹھیک ہے،” اس نے کہا،”تم جہاں چاہتے ہو مجھے لے جاؤ۔” (طویل خاموشی۔)

 

لیکن یہ اس کاواحد جرم نہیں جو اس نے میرے خلاف کیا۔ اگر بات یہیں تک رہتی تو میں اب تک ان اندھیروں میں نہ بھٹک رہا ہوتا۔ اس کا ہاتھ تھامے وہ جیسے کسی خواب میں بانسوں کے جھنڈ سے نکل رہی تھی، جب اچانک اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ میری طرف اشارہ کر کے چلّائی۔ “اسے مار ڈالو! جب تک یہ زندہ ہے میں تمہاری نہیں ہو سکتی!” وہ دیوانگی کے عالم میں چیخ چیخ کر بار بار ایک ہی بات کئے چلے جا رہی تھی،”اسے مار ڈالو!”

 

اب بھی اس کے الفاظ کسی طوفانی جھکڑ کی طرح مجھے اتھاہ گہرائیوں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ کیا کسی انسان کے منہ سے اس سے زیادہ نفرت آمیز ادا ہوئے ہیں؟ کیا کسی انسان کے کانوں تک ایسے لعین الفاظ کی رسائی ہوئی ہے؟ کیا کبھی — (ایک دیوانہ وار طنزیہ قہقہہ۔) یہاں تک کہ ڈاکو کا چہرہ بھی یہ سن کر زرد پڑ گیا۔ وہ اس کے بازو سے چمٹے ہوئے ایک بار پھر چلّائی، ’’اسے مار ڈالو!‘‘ ڈاکو نے اسے کی جانب گھور کر دیکھا، وہ نہ تو یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے مار ڈالے گا اور نہ ہی انکار کر رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے میری بیوی کو ایک لات رسید کی اور وہ اچھل کر بانس کے پتوں پر جا گری۔ (طنزیہ قہقہوں کی ایک اور بوچھاڑ) ڈاکو خاموشی سے میری طرف مڑا ۔

 

“تم کیا چاہتے ہو کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں؟” اس نے پوچھا۔ “اسے مار ڈالوں یا جانے دوں؟ صرف سر ہلا کر ہی جواب دے دو۔ مار دوں؟‘‘ اگر اور کچھ نہ بھی ہو تو میں اس بات کے لئے ڈاکو کے گناہ معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ (ایک اور طویل سکوت۔)

 

ابھی میں جواب دیتے ہوئے ہچکچا ہی رہا تھا کہ میری بیوی نے ایک چیخ ماری اور بانس کے گھنے جنگل میں گھس گئی۔ وہ سرعت سے اس کی جانب لپکا لیکن گمان یہی ہے کہ وہ اس کی آستین تک پر ہاتھ نہ ڈال سکا۔ یہ سب کچھ بس پلک جھپکنے میں ہی ہو گیا۔

 

میری بیوی کے فرار ہوتے ہی ڈاکو نے میری تلوار اور ترکش اٹھایا اور رسیوں کو ایک جگہ سے کاٹ دیا۔ “اب بھاگنے کی باری میری ہے،” میں نے اسے بڑبڑاتے سنا جب وہ جنگل میں غائب ہو رہا تھا۔ سارے میں ہُو کا عالم تھا۔ نہیں— شاید کسی کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ میں آواز پر کان لگائے خود کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھے پتہ چل گیا کہ وہ کون تھا— مجھے معلوم ہوا کہ وہ میری ہی آواز تھی۔ (ایک اور طویل سکوت۔)

 

آخر کار میں تھکا ہارا درخت کے نیچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے سامنے وہ خنجر گرا پڑا تھا جو میری بیوی نے پھینکا تھا۔ میں نے وہ اٹھایا اور اپنے سینے میں گھونپ لیا۔ خون کا ایک فوارہ ابل کر میرے منہ پر آن پڑا، لیکن رتی برابر درد محسوس نہ ہوا ۔سینہ سرد پڑتا گیا اور ہر طرف سکوت چھا گیا۔ کیا کامل سکوت تھا! پہاڑ کے نادیدہ کنارے سے ایک پرندہ بھی نہیں ابھرا جو جھنڈ کے اوپر موجود آسمان پر گیت بکھیرتا۔ سورج کی تنہا چمک صنوبر اور بانس کی بلند شاخوں میں لڑکھڑاتی پھر رہی تھی۔ لیکن بتدریج سورج کی چمک دھندلانے لگی اور ساتھ ہی صنوبر اور بانس بھی منظر سے غائب ہونے لگے۔ میں گہرے سکوت میں لپٹا وہاں پڑا تھا۔

 

پھر قدموں کی مدھم آواز سنائی دینے لگی۔ میں نے دیکھنے کی کوشش کی لیکن چاروں طرف سے اندھیرا مجھے گھیرے میں لے رہا تھا۔ پھر کسی نادیدہ ہاتھ نے آہستگی سے خنجر میرے سینے سے باہر کھینچ لیا۔ ایک بار پھر میرا منہ خون سے بھر گیا لیکن پھر میں زندگیوں کے درمیان موجود اندھیروں میں ڈوبتا ہی چلا گیا۔
Categories
فکشن

اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح

[blockquote style=”3″]

معروف جاپانی مصنف ہاروکی مورا کامی کی کہانی “On seeing the 100% perfect girl one beautiful April morning” کا ترجمہ حسنین جمال نے کیا ہے جسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔

 

سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ ایسے خاص نہیں ہیں۔ سر کی پچھلی طرف اس کے بال ایسے مڑے ہوئے ہیں جیسے ابھی سو کر اٹھی ہو۔ وہ اتنی کم عمر بھی نہیں ہے۔کم از کم تیس کے قریب ضرور ہو گی۔ تو کل ملا کر کچھ ایسی خاص لڑکی بھی نہیں ہے۔ لیکن میں، پچاس گز دور سے دیکھ کر ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ لڑکی ہے جو سو فی صد میرے لیے ہی بنی ہے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میرے سینے سے ایک لمبی سانس نکلی اور میرا منہ خشک تھا۔

 

کسی لڑکی کی خوب صورتی کے لیے ہو سکتا ہے آپ کا معیار کچھ اور ہو۔ جیسے، اس کے پاؤں نازک ہونے چاہییں، یا، کہہ لیجیے کہ اس کی آنکھیں بڑی ہوں، یا پتلی انگلیاں اور یا آپ بغیر کسی خاص وجہ کے، صرف ایسی لڑکیوں میں کشش محسوس کرتے ہوں جو ہر کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کرتی ہیں۔ اچھا، اب ظاہر ہے میری کچھ اپنی ترجیحات ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو گا کہ میں صرف ایک خوب صورت ناک کے چکر میں سالم لڑکی کو گھورتا ہوا پایا جاوں گا۔

 

لیکن اب یہ کون کہہ سکتا ہے کہ کسی شخص کے معیار کے سو فی صد مطابق پائی جانے والی لڑکی اس سے بالکل ویسے ہی بات چیت کرے جیسے وہ پہلے سے طے کیے بیٹھا ہے۔ کیوں کہ عموماً میری توجہ ہر طرح کی ناک کی بناوٹ پر ہی ہوتی ہے اس لیے میں صحیح طور سے جسمانی نشیب و فراز پر کچھ روشنی نہیں ڈال سکتا۔ اس کا جسم تھا بھی یا نہیں۔ ہاں، جہاں تک یاد پڑتا ہے وہ کچھ خاص خوب صورت نہیں تھی۔

 

‘کل، سر راہ میں نے ایک ایسی لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی’ میں نے کسی سے کہا۔

 

‘ہیں’، وہ بولا، ‘کیا وہ خوب صورت تھی؟’

 

‘نہیں، اب ایسا بھی نہیں۔’

 

‘تو پھر تمہاری کچھ خاص پسند کا معاملہ تھا؟’

 

‘میں کچھ کہہ نہیں سکتا، بس یوں لگتا ہے جیسے مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی یاد نہ ہو۔ جیسے اس کی آنکھیں کیسی تھیں، یا اس کے حسین جسمانی ابھار کیا تھے۔’

 

‘حد ہے!’

 

‘ہاں، ہے تو عجیب ہی۔’

 

اب وہ بوریت سے کہنے لگا، ‘چلو پھر بھی، تم نے کیا کیا؟ بات کی؟ اس کے پیچھے گئے؟’

 

‘نہیں، بس گلی میں یوں ہی اس کے ساتھ سے گزرا تھا۔’

 

وہ مغرب کی سمت جا رہی ہے اور میں اس سمت سے آ رہا ہوں۔ اپریل کی یہ صبح واقعی حسین ہے۔

 

کاش میں ا س سے بات کر سکتا۔ آدھ گھنٹہ ہی کافی ہوتا۔ کرنا ہی کیا تھا، کچھ اس کے بارے میں پوچھتا، کچھ اپنا بتاتا۔ بہت کہہ پاتا تو اسے یہ بتاتا کہ قسمت کی ستم ظریفی کیسے اپریل 1981 کی ایک خوب صورت صبح ہاراجوکو میں ہمیں سرراہ ایسے پاس سے گزار دیتی ہے۔ اس معاملے میں یقیناً کئی راز چھپے تھے۔ عین وہی سکون اس واقعے سے پہلے تھا جیسا دنیا میں گھڑی کی ایجاد سے پہلے ہوتا ہو گا۔ یوں ہی سا معاملہ تھا یہ سب۔

 

بات کرنے کے بعد ہم کہیں کھانا کھا لیتے یا وڈی ایلن کی دل چسپ سی کوئی فلم دیکھ لیتے۔ یا راستے میں کسی ہوٹل کے بار سے کچھ پینے رک جاتے۔ اور پھر کیوپڈ کا ایسا میربان تیر چلتا کہ یہ ملاقات بستر تک جا کر ختم ہوتی۔
یہ سب کچھ حقیقت میں بدلنے کا خیال میرے دل میں دھڑکنے لگا۔

 

اب ہمارے بیچ پندرہ گز کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

 

میں اس کے پاس جاوں، کہوں کیا؟

 

‘صبح بخیر، کیا ایک مختصر سی بات چیت کے لیے آپ صرف آدھا گھنٹہ مجھے دے سکیں گی؟’

 

تف ہے، میں بالکل ایسا لگوں گا جیسے کوئی بیمہ پالیسی بیچنے والا ہو۔

 

‘معاف کیجیے گا، یہاں آس پاس کوئی ایسی لانڈری ہے جو راتوں رات کپڑے دھو کر تیار کر دے؟’

 

نہیں بھئی، یہ بھی ویسا ہی احمقانہ خیال ہے، اور میرے پاس تو کوئی میلے کپڑے بھی نہیں۔ ویسے بھی کسی ملاقات میں پہلی بات ہی اس طرح کی، کون کرنا چاہے گا۔

 

شاید سیدھے سبھاو بات کرنا بہتر رہے گا۔ ‘صبح بخیر، آپ سو فی صد میرے خوابوں میں پائی جانے والی لڑکی ہیں۔’
نہیں، وہ اس پر یقین ہی نہیں کرے گی۔ اور اگر کر بھی لیا تو بھی شاید وہ مجھ سے بات ہی نہ کرنا چاہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ ٹھیک ہے، میں ہوں گی سو فی صد آئیڈیل لڑکی آپ کے لیے، مگر بصد معذرت، میرے آپ کے بارے میں ایسے کوئی خیالات نہیں ہیں۔

 

ایسا ہو بھی سکتا ہے۔

 

اور اگر ایسا ہو گیا تو میں وہیں بکھر کر رہ جاوں گا۔ میں اس صدمے سے شاید کبھی باہر نہ آ سکوں۔ اب میں بتیس برس کا ہو چلا ہوں، اور بس یہی سارا معاملہ ہے۔

 

ہم ایک پھولوں کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ تازہ ہوا کا ایک لطیف سا جھونکا مجھے محسوس ہوتا ہے ۔ راستے کی گھٹن اچانک تازہ گلاب کی خوشبو آنے سے کچھ اور کم ہو جاتی ہے۔ میں اپنے آپ کو اس سے بات کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتا۔اس نے ایک سفید سوئیٹر پہن رکھا ہے اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک سفید براق خط کا لفافہ ہے، اس پر صرف ٹکٹ نہیں لگا ہوا۔ تو گویا اس نے کسی کو خط لکھا ہے۔ اور ویسے اس کی آنکھوں کے خمار سے بھی یہی لگتا ہے جیسے ساری رات شاید یہی لکھنے میں بتا دی۔ اس لفافے میں شاید وہ تمام راز ہوں جو ابھی تک ان کہے ہیں۔

 

بے چینی سے میں وہیں منڈلاتا رہا اور ایک بار جو مڑا تو وہ ہجوم میں غائب ہو چکی تھی۔

 

اب ظاہر ہے مجھے بالکل واضح ہو گیا کہ دراصل میں اس سے کیا بات کرتا۔ وہ، ایک لمبی تقریر ہوتی۔ جی ہاں، وہ اتنی لمبی ہوتی کہ میں اسے ٹھیک سے ادا ہی نہ کر پاتا۔ اف! مجھے جو بھی خیالات آتے ہیں وہ زیادہ قابل عمل نہیں ہوتے۔

 

اوہ، یاد آیا، ‘ایک دفعہ کا ذکر ہے’ بات اس جملے سے شروع ہوتی اور ‘کیا یہ واقعی ایک اداس کہانی نہیں؟’ اس پر ختم ہو جاتی۔

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوتے تھے۔ لڑکا اٹھارہ سال کا تھا اور لڑکی سولہویں سال میں تھی۔ لڑکا بہت زیادہ خوب رو نہیں تھا، وہ لڑکی بھی اتنی دلکش نہیں تھی۔ وہ دونوں بالکل عام سے ایک لڑکا لڑکی تھے۔ جیسے کوئی بھی دوسرا ہو سکتاہے۔ مگر انہیں پورا یقین تھا کہ اس دنیا میں کہیں نہ کہیں ان کا ایک چاہنے والا موجود ہے جو سو فی صد ان کے خوابوں جیسا ہے۔ جی ہاں انہیں معجزوں پر یقین تھا۔ اور وہ معجزہ واقعی میں ہو گیا۔

 

ایک دن وہ دونوں ایک گلی کے موڑ پر آمنے سامنے آ گئے۔

 

لڑکا بولا، ‘یہ بہت حیران کن بات ہے، میں تمام عمر تمہیں تلاش کرتا رہا ہوں، تم شاید اس بات پر یقین نہ کرو، مگر تم سو فی صد وہی لڑکی ہو جیسی میرے خوابوں میں موجود تھی۔’

 

‘اور تم’، لڑکی اس سے کہنے لگی، ‘تم سو فی صد میرے خوابوں کے شہزادے ہو۔ عین ویسے ہی، جیسے میں نے کبھی سوچا تھا۔ یہ سب کہیں خواب تو نہیں؟’

 

وہ دونوں قریب ہی موجود باغ میں ایک بینچ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیٹھ جاتے ہیں اور کئی گھنٹے ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ وہ اب اکیلے نہیں تھے۔ انہیں اپنا خواب، اپنا سو فیصد مثالی ساتھی مل گیا تھا۔ یہ کیا ہی خوب صورت بات ہے کہ آپ کو اپنا سو فی صد آئیڈیل مل بھی جائے اور آپ بھی اس کے آئیڈیل ہوں۔ یہ تو بھئی معجزہ ہوا۔ کائنات کا ایک حیران کن معجزہ!

 

اب وہ بیٹھے رہے اور بات کرتے رہے۔لیکن ایک معمولی سی، بالکل باریک سی شک کی ایک دراڑ ان کے ذہنوں میں موجود تھی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی کے خواب اتنی آسانی سے حقیقت میں بدل جائیں؟

 

اور تب، جب ان کی باتوں میں دم لینے کو ایک وقفہ آیا تو لڑکے نے لڑکی سے کہا۔ ‘ہمیں صرف ایک بار اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا واقعی ہم سو فی صدی ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے، تو ہم کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ملیں گے ضرور۔ اور جب ایسا ہو گا اور ہم جانتے ہوں گے کہ ہم سو فی صد ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں تو ہم وہیں کے وہیں شادی کر لیں گے۔ کیا خیال ہے؟’

 

‘ہاں’، لڑکی نے کہا، ’ہمیں واقعی یہی کرنا چاہیے۔’

 

اور پھر وہ جدا ہو گئے۔ لڑکی مشرق کو اور لڑکا مغرب کی سمت چلا گیا۔

 

ویسے یہ آزمائش جس کے بارے میں وہ دونوں متفق تھے، قطعی غیر ضروری تھی۔ انہیں یہ بات کبھی نہیں ماننا چاہیے تھی کیوں کہ دراصل وہ دونوں واقعی میں سو فی صد ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے۔ اور یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ ایسے مل لیے تھے۔ مگر اس کم عمری میں ان کے لیے یہ جاننا ممکن نہیں تھا۔ قسمت کے سمندر کی سرد اور بے نیاز لہروں نے انہیں بے رحمی سے اچھال دیا تھا۔

 

ایک دفعہ سردیوں میں لڑکے اور لڑکی، دونوں کو بہت شدید موسمی زکام نے آ لیا۔ کئی ہفتے وہ دونوں زندگی اور موت کی بے کراں سرحدوں پر بھٹکتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں گذشتہ زندگی کے تمام واقعات بھول گئے۔ جب وہ صحت یاب ہوئے تو ان کے دماغ بالکل ایک کوری تختی کے مانند تھے۔ اتنے خالی کہ جیسے کبھی بچپن میں بے چارے ڈی۔ایچ۔لارنس کی گلک ہوتی ہو گی۔

 

وہ دونوں پرعزم اور ذہین تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان تھک کوششوں کی وجہ سے دوبارہ اس قابل ہو گئے تھے کہ وہ تمام علم اور حسیات دوبارہ سیکھ جائیں کہ جن کی مدد سے وہ معاشرے میں کارآمد ہو سکتے تھے۔

 

خدا نے اپنا فضل کیا۔ وہ دونوں واقعی معاشرے کے معزز شہری بن گئے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ایک سب وے لائن سے دوسری پر کس طرح جانا ہے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ڈاک سے رجسٹری کس طرح بھیجی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ انہیں دوبارہ مبتلائے محبت ہونے کا بھی اتفاق ہوا جو 75 فیصد اور کبھی 85 فیصد تک بھی ہو جاتا تھا۔ وقت ناقابل یقین تیزی سے گزرا، جلد ہی لڑکا بتیس سال کا اور لڑکی تیس سال کی ہو گئی۔

 

اپریل کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ دن کا آغاز گرماگرم کافی کے ایک کپ سے کرنے کے خیال میں گم لڑکا مغرب سے مشرق کی طرف جا رہا تھا۔ جب کہ لڑکی مشرق سے مغرب کو اس خیال میں رواں تھی کہ ایک خط رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوایا جا سکے۔ مگر ٹوکیو کے نواح میں واقع ہاروجوکو کی اسی تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے عین گلی کے درمیان وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزرے۔ ان کے دلوں میں گمشدہ یادوں کی ہلکی سی ایک کرن صرف ایک لمحے کو نمودار ہوئی۔ دونوں نے اپنے سینوں میں ایک سرد سی آہ محسوس کی۔ اور وہ جانتے تھے۔

 

وہ لڑکی سو فیصد میرے خوابوں کی شہزادی ہے۔

 

وہ لڑکا سو فیصد میرے خوابوں کا شہزادہ ہے۔

 

مگر ان یادوں کی چمک بہت کم تھی۔ اور چودہ سال گزرنے کی وجہ سے وہ سب یادیں پہلے کی سی واضح نہیں تھیں۔
ایک لفظ کہے بغیر وہ ایک دوسرے کے پاس سے گزرے اور ہمیشہ کے لیے ہجوم میں کھو گئے۔

Image: Duy Huynh