Categories
شاعری

شہر سنگ کے باسی، زندگی سے بیگانے

اے خدائے خاموشی، اے خدائے تنہائی
دیکھ تیری دنیا میں قتل کرنے والوں کی
ہر جگہ حکومت ہے
قتل ان ہواؤں کا
جن سے تیرے دامن میں لفظ پھوٹ سکتے تھے
قتل ان صداؤں کا
جن سے اہل نفرت کے
خواب ٹوٹ سکتے تھے، سنگ چھوٹ سکتے تھے
تو کہیں نہیں موجود، پھر بھی ان جیالوں نے
نام پر ترے کیسے سرخ شور ڈالے ہیں
ہول ان کی آنکھوں میں، گونج ان کی بانچھوں میں
کلمہ جہالت کے بوجھ سے دبے یہ لوگ
جو زباں نکالے ہیں، اس زباں پہ تالے ہیں
ابلہوں کی آنکھوں میں عکس ہے کتابوں کا
اور ان کتابوں کا رنگ آسمانی ہے
آسمانی رنگوں کی ہر کتاب کے اندر
خون کی کہانی ہے، پھر بھی تیرے لوگوں کو
یہ کتابیں پیاری ہیں، یہ ترے پجاری ہیں
ایک رنگ کے شیدائی، اک علم کے دیوانے
شہر سنگ کے باسی، زندگی سے بیگانے

Categories
شاعری

وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں

وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں
وقت نے اپنے کینوس پر بنا لی ہیں ہماری تصویریں
کچھ تو بارش میں رکھ کر بھول گیا
واٹر کلر پانی کی وارفتگی سے چہروں پر دھاریاں چھوڑ گیا
لیکن سننے میں آئیں ہیں
وقت کی مکاریاںشاید دوبارہ بنا لے
لیکن اس سے بھی کیا ہوتا ہے
اگر ہمارے نقوش
اس کی یاد داشت میں گم سم ہو گئے
اور اس نے ہماری آنکھیں کسی اور کی ناک پر لگا دیں
اورکسی کے ہونٹ تمھارےابر و کےساتھ جوڑ دئے
تو کیا اس کی مضحکہ خیز ادائیں
ہمیں بھی اپنا چہرہ ڈھونڈھنے پر مجبور نہ کردیں
وقت کا کیا ہے
وہ تو چلتا بنے گا
لیکن ہم اپنے چہرے کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے
Categories
شاعری

محبت کی جنم کوِتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

محبت کی جنم کوِتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

اے دکھ کی انتہائی سرحدوں پر کھڑی ہو کر
خالی آسمان اور تنہا ستارہ دیکھنے والی عورتو!
کبھی تم نے خواب میں روتے ہوئے مرد کا چہرہ دیکھا ہے؟
دکھ آنسو نہیں کہ بہایا جا سکے
قطرہ بھر نیر بہانے سے سپت ساگر شانت نہیں ہوتے
آنکھیں عمر بھر روتی ہیں
مگر آنسو نہیں بن سکتیں
امرت کے لیے دودھ کا سمندر بلونا آسان ہے
لیکن زہر پینا بہت ہی مشکل ۔۔۔۔۔
دو قدموں کے فاصلے پر کائنات ختم ہو جاتی ہے
تیسرے قدم کا خمیازہ پاتال کا اندھیرا ہے
سات جنموں کے بعد مہا جنم شروع ہوتا ہے
لیکن بِن مانگی محبت زندگی میں ایک ہی بار ملتی ہے
اسے سویکار کیے بغیر
اناورتی نہیں ملتی
چھوڑے ہوئے راستوں اور گزری ہوئی ستابدیوں پر
وقت بھی اپنے پاؤں رکھتے ہوئے ڈرتا ہے
گوتم بھی سات قدم اٹھانے کے بعد رک گیا تھا
تلاش کے عظیم سفر میں
نرانت فاصلوں کے بیچ
کوئی انتر دشا نہیں ہوتی
محبت کی لکیر ہاتھ پر نہیں دل پر بنتی ہے
اسے جوتشی کی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گفٹ پیپر میں لپٹی چیزیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں سمجھتا تھا
کہ دنیا تمہارے بغیر چھوٹی سی ہے
تمہاری پروان چڑھتی زندگیوں کے درمیان
مجھے معلوم نہ تھا
کہ میں پانی کی طرح بہہ رہا ہوں
اور مٹی کی طرح اڑ رہا ہوں
اور کتنا زندہ ہوں
اور کتنا مر چکا ہوں
تم نے نہیں دیکھا
کہ سب کس طرح مجھ کو دیکھتے تھے
اور جانتے تھے
کہ میں یکتائی کی جنگ جیت نہیں سکتا
کیونکہ شاعری اور تم ایک ساتھ
میرے گوشت اور میری ہڈیوں کے گودے میں رچے بسے تھے
تم نے کبھی ان راستوں پر قدم نہیں رکھے
جن پر چلتے ہوئے
میرے پاؤں گِھس گئے
اور میں صفر اعشاریہ صفر ایک ملی میٹر سے
قامت کا مقابلہ ہار گیا
تم نے وہ آنسو بھی نہیں دیکھے
جو میری آنکھوں میں امنڈنے کے باوجود
تیزی سے یُوٹرن لے کر
دل کے اندر کی مٹی میں جذب ہوتے رہے
یہاں تک کہ اب وہاں
سیال دھاتوں اور گاڑھی کیچڑ کی دلدل نے
خون کی نالیوں کا راستہ روک لیا ہے
اپنی اپنی نیندوں کی آسودگیوں میں
تم نے خوابوں کی ان درزوں کو بھی نہیں دیکھا
جن سے گزرتے ہوئے
میرے جسم کی کھال اتر گئی
اور میری لہو ٹپکاتی ہوئی برہنہ پرچھائیں
بے وجودی کی تصویر بن گئی
اب میں زندگی کے کسی البم میں نظر نہیں آتا
اور گفٹ پیپر میں لپٹی ہوئی چیزوں کی طرح
ایک کونے میں پڑا سب کو دیکھتا رہتا ہوں!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]