Categories
نان فکشن

ملا نصرالدین ــ ایک سیاسی و معاشرتی تحریک

وسط ایشیائی مسلمان ریاستوں سے ابھرنے والا شہرۂ آفاق کردار ملا نصرالدین جسے ملا، خواجہ، حوجہ اور آفندی نصرالدین، کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، دنیا بھر میں عالم اسلام کا مشہور ترین ادبی اور داستانی کردار ہے۔ ان کے وطن مالوف اور قومیت کے بارے میں اختلافات ہیں۔ مقبول روایات کے مطابق وہ ترکی کے شہر قونیہ کے قریب چودہویں صدی عیسوی میں پیدا ہوئے اور وفات بھی وہیں پائی۔ ایرانیوں کا دعوی ہے کہ وہ ایران کے صوبہ آذرآبادگان سے تھے اور مشہور عالم دین امام فخرالدین رازی کے شاگرد تھے۔ اسی طرح ازبکستان کے ان کا وطن ہونے کا دعوی لیونسولوویف نے کیا جو کہ خود طرابلس میں پیدا ہوا تھا، دوسری عالمی جنگ کے دوران روس کی بحری فوج میں رہا اور بعد ازاں ازبک زبان کا نامور لکھاری بنا۔

 

مغرب میں ملا نصرالدین کے حالات زندگی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے جن میں جارج بارو (George Borrow) کی کتاب “The Turkish Jester” مطبوعہ 1884 قابل ذکر ہے جس میں ملا نصرالدین کی ظرافت اور لوک دانئی (Folk Wisdom) کے ساتھ ان کی حماقتوں کے قصے بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان قصوں کا ایک اہم کردار ملا کا گدھا ہے جو کہ انہیں صحیح معنوں میں ایک عوامی کردار بناتا ہے۔ ملا ایک سیمابی طبعیت کے آدمی تھے اور انہوں نے کئی پیشے اختیار کیے جبکہ کئی ملکوں کا سفر بھی کیا۔

 

ملا سے منسوب اکثر قصوں میں صرف تفنن کا پہلو موجود ہے جو کہ اپنی سطحیت کی وجہ سے برصغیر پاک و ہند اور تیسری دنیا میں مشہور ہیں لیکن شمالی کرے اور مغرب کے ممالک میں ملا نصرالدین کو ایک سیاسی و معاشرتی تحریک اور ایک مصلح (Reformer) کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وہ مصلح جس نے اپنی ظرافت اور طنزیہ صلاحیتوں سے اس زمانے کے عالم اسلامی کی سیاسی اور معاشرتی بدحالی پر چوٹ کی۔ ملا کی حماقتوں کا تربیتی پہلو اگر گزشتہ صدی کے کسی قصہ نویس کے ہاں نظر آتا ہے تو وہ لیوند سولوویف کی کتاب “The tales of Hodja Nasruddin” ہے۔ یہ کتاب “The begger in Heram” اور “Disterber of peace” کے عنوان سے مغرب میں بھی شائع ہوئی۔ اس کتاب میں ملا نصرالدین کی شخصیت کا انقلابی اور مزاحمتی پہلو نظر آتا ہے جوکہ چودہویں صدی عیسوی کے عالم اسلام کی اکثر جبری حکومتوں اور ملوکیت کے ردعمل میں سر اٹھاتا نظر آتا ہے۔ یہ زمانہ وسط ایشیا میں بادشاہوں کی مطلق العنانیت کے عروج کا زمانہ تھا۔ مسلمان رعایا اسلام کے نام پر ہر طرح کے استحصال کو راضی برضا برداشت کر رہے تھے۔ حکمرانوں کی اخلاقی حالت ابتر ہو چکی تھی اور رعایا ازحد بے حمیّت اور حریص ہو چکے تھے۔ دفاع کمزور پڑ رہا تھا اور سپاہی کام چور، بزدل اور بھاڑے کے ٹٹو بن چکے تھے۔ تمام طرح کے علوم و فنون پر جاہل عطائیوں کی اجارہ داری تھی اور ابو اسحاق، ابن رشد اور الکندی جیسے علماء و فیلسوف کی تعلیمات پر جھوٹ اور زندقہ کے الزامات لگ رہے تھے۔ اس پہ طرہ، جبر اور گھٹن بھی اسلامی معاشرے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ حق کی بات پر سر کٹنا معمول بن گیا تھا۔ ایسے میں حماقت کے پردے میں حق کی بات کہنا اور گاؤدی کے بھیس میں معاشرتی اصلاح کی تحریک ملا نصرالدین کا اصل کارنامہ ہے جو کہ سولوویف کی کتاب میں بخوبی بیان کیا گیا ہے۔

 

ملا نصرالدین نے جس عیاری سے بخارا کے عوام کو محصولات کے خلاف ابھارا، وہ دراصل ان کے اقتصادی شعور کی جدت پسندی اور بلوغت کا اظہار تھا۔ انہوں نے مذہب کے نام پر بننے والے مالیاتی قوانین (اور دیگر ناروا محصولات) اور بادشاہ کے ہر حکم کو حکم خداوندی سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی روش کے خلاف جو آواز اٹھائی، اس پر ملا نصرالدین کو ملحد بھی قرار دیا گیا اور ان کے خلاف قتل کے فتاویٰ بھی جاری ہئے۔ ترک لوک کہانیوں میں بھی ملا کے الحاد کے دلچسپ شواہد ملتے ہیں۔ مشہور عرب کردار عمرو بن وہب (جسے بہلول کے عرفی نام سے بھی جانا جاتا ہے) اموی دور حکومت میں بنوہاشم کی حمایت میں سیاسی تحریک کے لیے دیوانگی کا سہارا لینے کی ایک اور مثال بھی تاریخ میں ملتی ہے لیکن عمرو سے منسوب کئی واقعات ملا نصرالدین سے بھی منسوب ہیں۔ یہاں نکتہ یہ ہے کہ ایسے دیوانے اپنی ذات میں تحریک ہوا کرتے ہیں۔

 

جمیز جسٹینئین موریئر (J.J. Morrier) نے 1825 میں مطبوعہ اپنی کتاب “The adventures of Hadji Baba of Isphahan in England” میں ایرانی ثقافت کا جو مذاق اڑایا ہے وہ بھی اپنی جگہ ایک مزاحیہ داستان سہی لیکن اس میں زوال پذیر مسلمان سلطنتوں کی معاشرتی، اخلاقی اور سیاسی پسماندگی پر شدید طنز ملتا ہے۔ تاہم ‘حاجی بابا’ کے کردار کو وہ دوام اور شہرت نہیں مل سکی جو ملا نصرالدین کے حصے میں آئی۔ سولوویف نے ایشیائی ہونے کے ناتے سے جو انصاف اپنے موضوع کے ساتھ کیا ہے، وہ امتیاز موریئر اور جارج بارو جیسے انگریزوں کو حاصل نہ ہوا۔ اس کی داستان میں اسلامی ثقافت، مسلمانوں کی نفسیات اور ایشیا کے مسلمانوں کے مسائل کا گہرا ادراک ملتا ہے۔

 

برصغیر پاک و ہند میں ملا نصرالدین کو اب بھی صرف ایک مزاحیہ داستانی کردار کے طور پر لیا جاتا ہے جبکہ مغرب میں ان کی ظرافت اور طنز اور تاریخ ساز شخصیت کے پیش نظر یونیسکو (UNESCO) نے 1997ء کے سال کو دنیا بھر میں ملا نصرالدین کے سال کے طور پر منایا۔ ہمارے ہاں ملا نصرالدین کی شخصیت کے تربیتی پہلو کو عوام میں متعارف کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم جن معاشرتی اور سیاسی تجربات سے گزر رہے ہیں، وہ ملا نصرالدین کے زمانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔
Categories
شاعری

پینسٹھ کی جنگ میں حصہ لینے والے فرشتے تمغوں سے تاحال محروم

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جنت الفردوس: یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے 51 برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی گفتگو کے دوران ان غیر مرئی جنگی سورماوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس برس بھی یوم دفاع منایا گیا تاہم انہیں سرکاری طور پر نہ تو کسی تقریب میں مدعو کیا گیا اور نہ ہی ان کے لیے اعزازات کا اعلان کیا گیا۔

 

یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے اکیاون برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔
موضوع کی حساسیت کے پیش نظر چونڈہ کے محاذ پر کرامات دکھانے والے ایک فرشتے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،”ہمارا تذکرہ نصابی کتب میں ہے، مورخین کے مضامین ہماری کارناموں اور معجزوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن آج تک حکومت نے ہماری خدمات کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا۔” ان کا کہنا تھا، “ہمارے نام سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں کیے گئے اور اگر کہیں دیے بھی گئے ہیں تو ہجے درست نہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے کارناموں کی صحیح تصویر بھی کبھی بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی”۔ سترہ روزہ جنگ میں اٹھارہ سو بم ہوا میں کیچ کر کے ناکارہ بنانے والے فرشتے کا دعویٰ تھا کہ ان میں سے ہر ایک فرشتہ نشان حیدر کا حقدار ہے۔

 

فرشتوں کی بٹالین کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ وہ 65 کی جنگ میں اپنا کام تاشقند معاہدے سے پہلے ہی مکمل کر کے عرش کو لوٹ گئے تھے۔ انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا “حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔” اس غازی فرشتے کے خیال میں ان کی خدمات کو نظرانداز کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چھ ستمبرکو ‘یوم دفاع’ قرار دیا گیا ہے۔

 

ایک اور بزرگ فرشتے کے خیال میں جب تک یوم دفاع کو”عجب حملے کا غضب دفاع” قرار نہیں دیا جاتا 65 کی جنگ میں جان کی بازی لگانے والے فرشتوں کی خدمات نظرانداز ہوتی رہیں گی، “ایک بار انہیں سمجھ آ گئی کہ ہم فرشتوں نے کس طرح ان کے پچھواڑے بچائے تھے تبھی انہیں ہماری اہمیت کا احساس ہو گا۔” بزرگ فرشتے کے خیال میں جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اس لیے انہیں تمغے اور رقبے نہیں دیے گئے “درحقیقت 65 کی جنگ جیتی نہیں گئی تھی بلکہ ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی تھی، اسی لیے ہمیں اب تک ہمارے تمغے نہیں دیے جا سکے۔”

 

انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا “حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔”
فرشتوں کا کہنا تھا کہ اگر جنگ سے پہلے ان سے مشورہ کر لیا جاتا تو یقیناً جنگ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ فرشتوں کے کمانڈر نے تاریخ سے گرد جھاڑتے ہوئے بتایا “آپریشن جبرالٹر ہر صورت ناکام ہونا تھا کیوں کہ کشمیری ایسی کسی چالبازی کا حصہ بننے کو تیار نہیں تھے۔” انہوں نے جمائی لیتے ہوئے مزید بتایا کہ “آپریشن گرینڈ سلام بروقت شروع ہو سکتا تھا اگر اس کا نام رکھنے میں اتنی سوچ بچار نہ کرنا پڑتی۔”

 

عسکری تاریخ کے ماہر فرشتے کے مطابق “ہمیں جنگ بدر سمیت کسی جنگ میں شمولیت پرکسی قسم کے اعزازات نہیں دیے گئے اور اس بات کا ہمیں کوئی دکھ نہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ جنگ ستمبر میں ہماری کامیابیوں کی کوئی تحقیقاتی رپورٹ تیار نہیں کی گئی’۔ مورخ فرشتے کے مطابق فرشتوں کے کارہائے نمایاں کی بیشتر داستانیں جنگ بدر کے واقعات سے چربہ کی گئی ہیں۔

 

تاہم تمغے اور اعزازات سے محرومی بھی ان فرشتوں کو پاک فوج اور پاکستان سے متنفر نہیں کر سکی اور وہ آج بھی بی آر بی نہر اور چونڈہ کے محاذوں کی یادیں سینے میں لیے پاکستان کے لیے نیکلیئر وارہیڈز کیچ کرنے کی مشقیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے ان فرشتوں نے رات کی تاریکی میں سرحد عبور کرنے والے دشمن کے برسائے گولے نہ صرف ہوا میں کیچ کیے بلکہ ناکارہ بھی بنائے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

‘فوج کے ہاتھوں پٹنے والے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں’ آئی ایس پی آر کا انکشاف

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راولپنڈی: گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی ٹویٹس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ (المعروف گوئبلز) نے موٹر وے پولیس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک دشمن موٹر وے پولیس کی جانب سے فوج کے خلاف رچائی جانے والی “اٹک سازش کیس” کے مقدمات قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کا اعلان کیا۔

 

میجر جنرل عاصم باجوہ نے پارلیمان سے موٹروے پولیس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنےاور تمام فوجی ڈرائیوروں، سابق فوجیوں، فوجی افسران کی بیگمات، ہمسایوں اور خانساماوں کے لیے چالان فری ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ قومی شاہراہوں، بحر ظلمات اور شاہراہ دستور پر جیپوں، ٹینکوں اور فوجی ٹرکوں کی آمدورفت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے انہوں نے نسیم حجازی کے ناول کے اقتباسات اور اقبال کے اشعار بھی ٹویٹ کیے۔

 

براہ راست ٹویٹس کے اس سلسلے میں انہوں نے ‘اٹک سازش کیس’ کی حقیقت عوام پر واضح کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے آئی ایس پی آر کے صدر دفتر میں قائم گرافکس ڈویژن نے لائسنس یافتہ فوٹوشاپ خریدنے کے لیے بجٹ طلب کر لیا ہے۔ گرافکس ڈویژن نوشہرہ میں پیش آنے والے واقعے کی حقیقی فوٹیج سامنے لانے کے لیے جیمزکیمرون کی خدمات حاصل کرے گا۔جیمز کیمرون اس مقصد کے لیے واہ انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار کردہ سی جی آئی الخالد ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

 

آئی ایس پی آر کے آفیشل اکاونٹ سے شیئر کی گئی یہ ٹویٹس بلوچ لڑکیوں، عسکری لاڈلوں اور سینیئر صحافیوں نے متعدد مرتبہ ری ٹویٹ کیں۔ ان ٹویٹس کی اشاعت کے بعد دفاع پاکستان کونسل نے فوج کے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنے اور احتجاجی ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اس قانون کو پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے طے کیے جانے والے ٹرمز آف ریفرنس میں بھی شامل کرائے گی۔

 

سابق ایس ایس جی کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے (ریڑھ کی ہڈی نہ ہونے کے باوجود) اس واقعے کو بنیاد بنا کر اپنی انتخابی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اگر حکومت نے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے تو اگلی عید سے پہلے اس کی ‘سرعام قربانی’ دی جائے گی۔

 

وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری پر ٹریفک انتظامات فوج کے حوالے کئے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی صورت حال پیش نہ آئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فوج کے بعض ڈرائیوروں نے شاہراہ دستور کی غلط جانب ڈرائیونگ کرتے ہوئے غلطی سے وزیراعظم ہاوس اور پاکستان ٹی وی کو جانے والی سڑکوں پر اپنے ٹرک موڑ لیے تھے تاہم ماضی میں کبھی ایسی غلطیوں پر چالان کاٹنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
فکشن

پھیکے خربوزے؛ اللہ کا عذاب

روایت ہے کہ دجلہ اور فرات کے بیچ ایک وادی جو زرخیز اور شاداب تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک قبیلے کی ایک چھوٹی سی شاخ بنو غلیق وہاں بستی تھی۔ اللہ کی نا فرمانی میں حد سے بڑھ گئی، ناپ تول میں کمی، زنا اور بیکش (جسے آج خربوزہ کہا جاتا ہے) کی شراب پینے والے ہو گئے۔ (بیکش حد درجہ شیریں اور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے)۔ بیکش کی شراب تاثیر میں دنیا کی تمام شرابوں سے بڑھ کر تھی، کہ جو پیے جھوم اٹھے اور شیطان کی راہ پر چل پڑے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس پھل کی شراب کا ایک قطرہ انسان کو ستر ہزار برس تک مدہوش کر سکتا تھا (تاریخ زربیلیہ جلد دوئم، صفحہ 298 ازعلامہ زربیلی زربفتی)۔ روایت ہے کہ اس شراب کا ذکر سن کر فراعین مصر نے اس کی ترکیب حاصل کرنے کے لیے پندرہ برس تک اس وادی کا محاصرہ کیے رکھا مگر دجلہ اور فرات کے بیچ واقع اس وادی کو تسخیر نہ کر سکے کہ چہار جانب دلدلی علاقے تھے۔ بنو غلیق کے لیے بیکش اہم ترین فصل تھی، سالن بنانے، ادویات تیار کرنے اور شراب بنانے کے لیے اسی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اور یہی ان کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔

 

بیکش کی شراب تاثیر میں دنیا کی تمام شرابوں سے بڑھ کر تھی، کہ جو پیے جھوم اٹھے اور شیطان کی راہ پر چل پڑے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس پھل کی شراب کا ایک قطرہ انسان کو ستر ہزار برس تک مدہوش کر سکتا تھا
ملا خمریاز دجلاوی نے اپنی کتاب الذائقتہ الممتنعہ میں اس شراب کی تیاری کا عمل لکھا ہے۔ اس شراب کی تیاری کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کو چھیل کر اس کے بیج نکال کر اسے پیس لیا جاتا اور جب یہ ملائم لیس دار لعاب کی سی شکل اختیار کر لیتا تب اس میں خمیر، شہد اور کالی مرچ ڈال کر اسے مٹی کے مٹکوں میں بھر کر تین روز کے لیے زمین میں دبا دیا جاتا۔ تین روز کے بعد ان مٹکوں کے منہ کھول کر ان میں کشمش، عرق گلاب، مصری کی ڈلیاں اور کیوڑہ شامل کیا جاتا۔ مٹکون کے منہ دوبارہ بند کر کے انہیں بھٹیوں میں برادہ سلگا کر تین روز کے لیے دبا دیا جاتا۔ تین روز بعد ان مٹکوں کو نکال کر ان میں طرح طرح کے پھل، میوے اور عرق شامل کیے جاتے اور پھر اسے تین ماہ کے لیے ایک ایسے غار میں رکھا جاتا جہاں سانپوں کا بسیرا تھا۔ روایت ہے کہ ان سانپوں کی پھنکاروں سے اس شراب میں ایسی تاثیر پیدا ہوتی تھی جو مرد کو سدا جوان اور عورت کو سدا حسین رکھتی تھی۔ تین ماہ بعد گدھے کے تہوار سے قبل اس شراب کو نکالا جاتا تھا اور شیشے کی صراحیوں میں تین روز تک ابال کر بھاپ میں تبدیل کیا جاتا اور اس بھاپ کو پھر ٹھنڈا کیا جاتا اور شیشے کی بوتلوں میں بھر کر رکھ لیا جاتا تھا۔ (صفحہ 373)

 

شراب کی تیاری کے بعد ان ملعونوں کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کی شراب پی کر چار ٹانگوں پر اچھل کود کرتے، عورتوں سے عشق لڑاتے، بے لباس ہوجاتے اور رینکنے کے سے انداز میں فحش گانے گاتے۔ اس قوم کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گدھا ان کے نزدیک مقدس جانور تھا اور یہ گھوڑے پر گدھے کو افضل گردانتے تھے۔ ان کے ہاں گدھوں کی مورتیاں بھی بنائی جاتی تھیں۔ ان کے نزدیک گدھا عقل و شعور میں انسان سے افضل ہے اور انسان عنقریب گدھا بن کر چار ٹانگوں پر بھاگنے دوڑنے لگے گا۔ گدھے کی عبادت کا تہوار اس زمانے میں سب سے بڑی مذہبی تقریب خیال کیا جاتا تھا۔ یہ تقریب رات کے وقت منعقد کی جاتی جس میں تمام قوم چار ٹانگوں پر بیکش کھاتی اور اس کی شراب پیتی، ایک ہفتے تک تمام افراد چار ٹانگوں پر ہی چلتے پھرتے تھے۔

 

شراب کی تیاری کے بعد ان ملعونوں کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کی شراب پی کر چار ٹانگوں پر اچھل کود کرتے، عورتوں سے عشق لڑاتے، بے لباس ہوجاتے اور رینکنے کے سے انداز میں فحش گانے گاتے۔
ایک برگزیدہ ہستی “مقیت بن رواح” جو اللہ کے نیک اور فرمانبردار بزرگ تھے نے ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ کئی سو برس کی تبلیغ کے بعد دس ہزار کی آبادی میں سے صرف ایک راہ راست پر آیا۔ باقی سبھی نے ان دونوں نیکو کار برگزیدہ ہستیوں کا مذاق اڑایا اور عذاب کی وعید کو فریب اور دھوکا قرار دیا مگر مقیت بن رواح نے اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ ایک رات جب تمام قوم بنو غلیق بیکش کی شراب پی کر بد مست ہو کر ناچتی پھرتی تھی تو مقیت وہاں تشریف لائے۔ ان بد بختوں نے ان پر بیکش کے چھلکے پھینکے اور انہیں چارٹانگوں پر چلنے، رینکنے اور اچھل کود کرنے پر مجبور کیا۔ اسی وقت بزرگ نے بددعا کی اور ایک زور دار غرغراہٹ کے ساتھ بیکش کی شراب تمام بنو غلیق والوں کے حلق میں پھنس گئی، وہ دو ٹانگوں پر کھڑے ہونا چاہتے مگر نہ ہوپاتے تھے، چلانا اور توبہ کرنا چاہتے تھے مگر گلے سے رینکنے کی آواز آتی۔

 

وہ شراب کو نہ نگل پاتے تھے نہ اگل پاتے تھے۔ اسی حالت میں تمام رات گزر گئی اور صبح تک وادی کے سبھی نافرمان گدھوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ آج کے بہت سے گدھے اسی زمانے کے گدھوں کی اولاد سے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن بیکش کو خربوزہ کہا جاتا ہے اور یہ اتنا پھیکا ہوتا ہے کہ اب اس سے شراب نہیں بن پاتی۔ امریکہ کی ایک سیاسی جماعت ڈیمو کریٹ پارٹی نے اسی نافرمان قوم کی یاد میں اپنا انتخابی نشان گدھا رکھا ہے۔ اللہ کے عذاب کے باعث بیکش اب قیامت تک خربوزہ کے نام سے جانا جائے گا۔ اللہ نے اب بیکش یعنی خربوزہ کو اسی لئے پھیکا کردیا ہے تاکہ اس سے شراب نہ بنائی جا سکے، اور خلق خدا گمراہ نہ ہو۔ واللہ عالم بالصواب۔
Categories
فکشن

سپہ سالار کی ڈائری-توسیعی ورژن

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

شبِ رفتہ سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ نیند دیر سے آئی۔ تہجّد سے کافی دیر پہلے آنکھ کھل گئی۔ وضو بنایا۔ تہجّد کے وقت تک نوافل ادا کئے۔ دل کو کچھ قرار سا آیا۔ کل کی ملاقات میں مقتدرین نے اپنی خواہش کا برملا اظہار کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ملک و ملّت کی خدمت سے کنارہ کش ہو جاؤں اور ان کو لوٹ مار کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ جب تک وطنِِ عزیز اسلام کا قلعہ نہ بن جائے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں؟ وہ کچھ بولے تو نہیں مگر کبیدہ خاطری ان منحوسوں کے چہروں سے عیاں تھی۔

 

ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔
شب کے آخری پہر، خدا کے حضور مناجات کرنے سے دل کو تسلّی ہوئی۔ فجر کے بعد معمول کی ورزش کی۔ ناشتے میں آلو والے پراٹھے تھے۔ میں نے زوجہ سے باز پُرس کی کہ ان کے لیے رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا؟ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر زوجہ کا رُوئے انور چوم لیا۔ بد پرہیزی کرتے ہوئے تینوں پراٹھے کھائے اگرچہ زوجہ تیسرے پراٹھے پر شکایتی نگاہوں سے دیکھتی رہیں لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں۔ جنّتی خاتون ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔

 

بیٹ مین لطیف نے بائیسکل چمکا کے پورچ میں کھڑی کر دی تھی۔ لطیف اوائل افسری سے میرے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ عجب اُنسیت سی ہے۔ اس کا معاملہ گھر کے فرد جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ برسوں گزرے ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد لطیف کی اہمیّت دو چند ہو گئی۔

 

ان دنوں لطیف کے گھر پہلی خوشی آنے والی تھی۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، “شکیل، باہر آؤ”۔ میں حیران ہو کر باہر نکلتا ہوں تو وہ شہادت کی انگلی بلند کر کے گویا ہوتے ہیں۔

 

“ہم ایک عظیم ذمہ داری تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ وعدہ کرو کہ اسے نبھاؤ گے”۔

 

ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، “شکیل، باہر آؤ”۔
میں جھٹ حامی بھر لیتا ہوں۔ بزرگ پائپ منہ سے اور دھواں نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ اچھل کر گھوڑے سے اترتے ہیں۔ میرے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں۔۔

 

“تمہارے گھر ایک مہمان آنے والا ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھنا۔ عنفوان شباب تک اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا۔ یہ بچہ ملک و ملّت کا پاسبان ہو گا۔ سارے ادبار دور کر دے گا۔ دشمنانِ دین و ملّت اس کے درپے رہیں گے لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ جب تک تمہاری سانس میں سانس ہے اس کی حفاظت و نصرت کرو گے۔ اور ہاں سنو۔۔ ایک بات اور ہے۔۔ یہ اللہ کی دَین ہے۔ اس لیے اس کا نام اللہ دتّہ ہو گا”۔

 

اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوابگاہ میں ایک ملکوتی سا سکوت اور عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میں فوراً اٹھا، غسل کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا جس نے مجھے اس کارِ عظیم کے لیے چُنا۔ پھر میں نے سوچا کہ زوجہ کے ہاں تو ابھی کسی نئے مہمان کے آثار نہیں تو یہ نیا مہمان کہاں سے آئے گا؟۔

 

اس کا جواب اگلی صبح ملا جب بیٹ مین لطیف، مٹھائی کا ڈبّا لیے آیا۔ ڈبّا بائیسکل کے کیرئیر پر رکھ کے دھرتی دہلا دینے والا سلیوٹ مارا اور خوشی سے لال ہوتے چہرے سے اطلاع دی کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ ذہن میں روشنی سی لپکی اور گزشتہ شب کا خواب اور پن سٹرائپ سوٹ والے بزرگ کی بشارت اور اپنا وعدہ یاد آ گیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے اللہ دتّے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر توجہ دی۔ اعلیٰ درسگاہوں سے اس کو تعلیم دلائی۔ آج کل اللہ دتّہ ملک فرنگ میں اعلیٰ ترین تعلیم کے لیے مقیم ہے۔

 

دفتر جانے کے لیے بائیسکل کا پیڈل مارا ہی تھا کہ لطیف ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ مخبر اعلیٰ نے فوراً آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ابھی ایک ہرکارہ ان کا پیغام لے کر آیا ہے۔ میں فورا بائیسکل سے اترا اور رکشے کو ہاتھ دے کر روکا۔ ہنگامی حالات میں ایک ایک منٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔

 

ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
بھاگم بھاگ دفتر پہنچا تو مخبر اعلیٰ پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے شتابی سے دفتر کا دروازہ بند کیا اور بولے۔۔۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دشمن نے اللہ دتّے کو درسگاہ سے واپس آتے ہوئے اغوا کر لیا ہے اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں فوراً ساری گیم سمجھ گیا۔ یقیناً یہ مقتدرین کی سازش ہے۔ انہیں علم ہے کہ مجھے کسی بھی طرح جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ میری اپنی اولاد بھی اگر داؤ پر لگی ہو تو میں کبھی ملک و ملّت کے مفاد کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اللہ دتّے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے ساتھ غیر معمولی انسیّت کا راز میں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا لیکن مخبروں کی دنیا الگ ہوتی ہے۔ شاید کوئی ٹیلی پیتھی کا ماہر دشمن جاسوس میرے ذہن میں جھانک کر اللہ دتّے سے میری بے پناہ محبّت سے واقف ہو گیا تھا۔ جس کا فائدہ اب مقتدرین اٹھا رہے ہیں۔

 

اسی اثناء میں مخبر اعلیٰ کے واچ ٹرانسمیٹر پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔ ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف ملک و ملّت کی پاسبانی اور دوسری طرف وعدے کی نگہبانی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ دتّے کی نگہبانی کے صدقے ہی شاید مجھے سپہ سالاری ملی تھی اگر اسی کام میں ناکام رہا تو روزِ قیامت اس بزرگ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ دتّے کی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے۔ بزرگ نے عنفوانِ شباب تک اس کی سرپرستی کا کہا تھا۔ وہ وقت مکمل ہوا چاہتا ہے۔ شاید میری ذمّہ داری یہیں تک تھی۔ ملک و ملّت کا اصلی مسیحا آنے کو ہے۔ میری قربانی سے اگر اس کا راستہ ہموار ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی۔ جو کام میں پورا نہ کرسکا وہ میرا اللہ دتّا پورا کرے گا۔

 

میں نے مقتدر اعلیٰ کو فون ملایا اور ان کے مطالبے کو پورا کرنے کی حامی بھر لی۔ یہ سنتے ہی ان کی آواز پر چھائی مُردنی یکایک شگفتگی میں بدل گئی۔ وہ حسبِ عادت چکنی چُپڑی باتیں کرنے لگے۔ میں ان کی دلی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کو کھلی چھُٹّی مل گئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹیں۔ ملّت کا شیرازہ بکھیریں۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔۔ مگر ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ
میرا اللہ دتّہ آئے گا۔۔۔۔
Categories
نان فکشن

عاشق نامراد کا استعفیٰ

منتظم و مہتمم اعلیٰ ا۔ ب۔ ج،
محکمہ جوروستم، عشوہ و ادا ڈویژن
بارگاہ حسن و جمال۔

 

مضمون:استعفیٰ بوجوہ اندیشہءِ ان فرینڈی و ڈی ایکٹیویشن

 

اے میری جان کی پیاری دشمن — آپ کے کوچہءِ خلد آفریں میں میں دیوانہ وار کام کرتے ہوئے اس مجنوں کو دو برس کا عرصہ ہوا چاہتا ہے۔ کہنے کو تو محبت و عشق میں دو سال کا عرصہ نہایت ہی مختصر و قلیل ہوتا ہے اتنا قلیل کہ رخ لیلیٰ کے رخسار پر موجود تل کی حمدوثنا میں ہی گزر جائے مگر تمہاری محبت و التفات کے بغیر یہ تمام عرصہ اس مفلوک الحال اور غریب الوطن دیوانے پر ایسے گزرا جیسے صحرائے عرب کی تپتی ریت پر قیس نامراد پر انتظار محمل کی صدیاں بیتی ہوں گی، جیسے چناب کی چھلوں پر تیرتی سوہنی پر سازشوں کے جال پھیلے تھے، جیسے رانجھے نے ڈولیاں اٹھتے دیکھی ہوں گی۔

 

یہ دو سال تمہارے قرب کی طلب میں ایسے گزرے جیسے جاں بلب مریض پر وقت نزاع رک جائے۔ جیسے تپتے صحرا میں ایک پیاسا مسافر راستہ بھٹک جائے، جیسے شب فراق کے گھڑیال کی سوئیاں تھم جائیں، جیسے پیاسے کے حلق میں کانٹے اگ آئیں۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ اس عرصہ کے دوران کبھی کبھی صحرا میں بارش کی مانند وہ پر کیف لمحات بھی آئے جن میں تمہاری مسکراتی نظر نے مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اجالے کا کام کیا۔ تمہارے وقتی التفات نے دیوانے کی ٹوٹتی آس وامید کو تمہارے کچھ اورستم سہنے کا حوصلہ دیا۔ پر شو مئی قسمت یہ سلسلہ کبھی طوالت اختیار نہ کر سکا۔ تمہاری تنک مزاجی، نازیانہ روش اور ہٹلرانہ رویے کے باعث اس عاشق نامراد کی عزت و خودداری اور کام کی لگن کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ شرمند گی کے مارے متوفی خود اپنے جنازے میں شرکت سے قاصر رہا۔ میں اسے بھی عاشقی کی ایک رسم جان کرآپ کی صحبت اور کرم نوازی کا منتظر رہا لیکن آپ کی مسلسل بے اعتنائی نے اس عاشقِ لاچار کے لئے امید کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔

 

عشق کے مروجہ دستور کے مطابق راقم تمہارے تمام آن لائن اور آف لائن ظلم و ستم خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ہے، محبت کی رسم زمانہ کے مطابق اس عاشق نے تمہارے سوا کبھی کسی کے سٹیٹس کو اپ لوڈ ہوتے ہی لائیک نہیں کیا، کبھی کسی کی Profile Pic کو So cute نہیں کہا، کبھی کسی کے لیے Feeling Loved کا آپشن استعمال نہیں کیا، ہم نے تو تمہارا جمعہ مبارک کا پہلا فارورڈ میسج ابھی تک ان باکس میں محفوظ کر رکھا ہے، وہ یو ایس بی جس میں تمہیں ٹورنٹ سے “دل والے” کا ایچ ڈی پرنٹ ڈاون لوڈ کر کے دیا تھا ابھی تک فارمیٹ نہیں کی، وہ سِم جس سے تمہیں پہلے پہل تنگ کیا تھا اس کی بائیو میٹرک تصدیق تک نہیں کرائی، کون ہے جو اس عشق کے سائبر سپیس میں میری ہم سری کر سکے؟ یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک سیلفی کی تمنا میں اس لاچار نے کتنے ہی گھنٹے منہ ٹیڑھا کرنے کی مشق کی ہے۔

 

یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ تمہاری شیئر کردہ puppies کی ویڈیوز بھی تین تین سو بار دیکھی ہیں، یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارا گڈ مارننگ لائک کرنے کے لیے ہمسائیوں کے وائی فائی کا پاس ورڈ جان پر کھیل کر بیسیوں مرتبہ چرایا ہے۔۔۔۔۔۔ ہائے وہ چیٹنگ کہ جس کے شوق میں ہم نے پی ایس ایل کے میچ تک نہ دیکھے، ہائے وہ زمانہ جو تیرے ساتھ ٹویٹتے گزر گیا ہائے وہ جوانی جو تیرے پیچھے فیس بکیاتے برباد ہوئی، ہائے وہ تمہارے سکرین شاٹ والے وال پیپر جنہیں پورن دیکھتے ہوئے ہٹا دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ تمہیں ٹیکسٹنگ کرتے جو انگلیاں فگار ہوئیں اور ایزی لوڈ کراتے کراتے جن پیروں میں آبلے پڑ گئے وہ سب رائیگاں گئے۔۔۔۔ وہ تمام سمائیلی جو تمہیں بھیجے بین کرتے ہیں، اب کسی پروفائل پر نگاہ نہیں رکتی، اب کسی کو سٹاکنے کا من نہیں کرتا، تمہارے بعد کسی کو فالو نہیں کیا نہ کسی کو ری ٹیٹ کروں گا۔ ہم ہی ہیں جو تمہارے غلط ہجوں والے میسج اور سٹیٹس قرآن و حدیث سمجھ کر پڑھتے اور حفظ کرتے رہے ہیں۔

 

یہ عاشق تمہارے در پر اپنی عزت، اپنی خود داری اور اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن یہ محبت اس عاشق کا غرور ہے اور اور اس غرور کو خاک میں ملانے کی اجازت یہ عاشق خود اپنی محبت کو بھی نہیں دے سکتا۔ بقول عاشقان کے پیرو مرشد مرزا اسد اللہ غالب مدظلہ عالی:

 

دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

 

اس سے پہلے کہ ماموں کے لڑکے کا رشتہ آتے ہی تم اپنا اکاونٹ deactivate کر دو، اس سے قبل کہ تم اپنا نمبر بدل ڈالو، اس سے پہلے کہ تم اپنی فرینڈ لسٹ میں سے میرا نام مٹا دو یہ عاجز یہ لاچار یہ عاشق نامراد تمہارے حضوراپنا استعفی پیش کرتا ہے۔ تو اس بیمارِ عشق پر برخلاف مزاج ذرا مہربانی فرما کر اس استعفٰی کو قبول فرمایا جاوے۔

 

فقط
عاشقِ نامراد
@یاسر شہباز
#عاشق نامراد کا استعفیٰ
Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رؤف کلاسرا

 

کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے
میں کل پی ایس ایل کا میچ دیکھ رہا تھا۔ کوئٹہ کی فتح پر میرا بیٹا خوشی سے چھلانگیں مارنے لگا، اس کی خوشی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پوچھا ابو کیا ہوا ہے؟ میں نے جواب دیا تمہاری خوشی پر رو رہا ہوں۔ میں اسے کیا بتاتا کہ اس کا باپ کیوں رو رہا ہے؟ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا جب میں بڑے بھائی اور اماں سے چھپ چھپ کر میچز اور فلمیں دیکھنے جاتا تھا۔ وہ دور یاد کر کے مجھ میں عجیب سے خوشی پیدا ہو گئی، مگر یہ بات یاد آئی کہ نہ اب بڑے بھائی ہیں نہ اماں تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے اور ہمارے اپنے کیڑے نکالتے ہیں۔ میں کافی دیر تک روتا رہا آخر کار بلونت سنگھ کا افسانہ پڑھتے ہوئے کچھ سکون ملا۔ لیکن پھر احساس ہوا کہ یہ افسانہ بھی تو ختم ہو جائے گا یہ سوچ کر آنکھیں پھر بھر آئیں۔

 

حسن نثار

 

کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔
اوہ بھائی کون سا میچ، کیسا میچ؟ کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔ اوہ لعنت ہو ایسی سوچ پر۔ دودھ تمہارا جعلی، دوائیں جعلی، پانی ملاوٹ زدہ، جگہ جگہ گندگی اور غلاظت، اور تم جشن منا رہے ہو؟ لعنت ہو ایسی مکروہ چغلی چغلائی سوچ پر۔ ڈھنگ کا کام کرو۔ دنیا میں کتنی کوئٹہ کی ٹیمیں ہیں؟ پھر تم نے کیوں ٹیم بنا لی؟ اور کیا ٹیم ہے؟ جیتنے پر سرفراز اکیلا جشن منا رہا تھا، پیٹرسن ادھر بھاگ رہا تھا، سنگاکارا ادھر منہ اٹھا کر بھاگ رہا تھا، ویو رچرڈز نے اپنی فلم چلائی ہوئی تھی۔ کیا یہ ہوتی ہے ٹیم؟ تمہاری ایک ٹیم تو متحد ہے نہیں۔ ستر سال ہو گئے پاکستان کو بنے ہوئے، لعنت ہو ایک گلی میں تم اکٹھے نہیں، مسجد ایک نہیں، ازاں ایک نہیں اور گالیاں امریکا کو دیتے ہو۔ بل شٹ خدا کا خوف کرو اب بند کرو یہ بکواس بند کرو اب۔

 

ہارون الرشید

 

بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔
کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔
بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ خدا کی پناہ کیسے کیسے اجلے لوگ۔ کل رچرڈز کو دیکھا۔ جب پریشان تھا تو عارف کے پاس آن پہنچا کہ تسبیح چاہئے۔ عارف نے تسبیح کے دانوں سے سر اٹھایا اور بولے اپنا غصہ نکال دو۔ تسبیح لی یہ جا وہ جا۔ عظمت اس پر ٹوٹ کر برسی۔ کپتان سے بہتیرا کہا پشاور کے لئے تسبیح لے جاؤ۔ جواب ندارد۔ خان کے اردگرد سیف اللہ نیازیوں، صداقت عباسیوں، شاہ محمود قریشیوں کا غلبہ ہے۔ میچ دیکھ رہا تھا کہ سپہ سالار نے قاصد بھیجا کہ میچ پر تبصرہ کرنا ہے آپ آ جائیں۔ کپتان کو کہا کہ چلے۔ مگر کپتان اپنی دھن کا ہے۔ اس نے سن کر نہ دی۔ خود ہی گھوڑے کو چابک دی اور فوجی مستقر پر جا رکا۔ سپہ سالار مسکرایا اور بولا جنرل پیٹریاس کہتا تھا پی ایس ایل ناکام ہو گی۔ کامیابی سے سپہ سالار کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ بھاڑے کے ٹٹو کیا جانے اس صابر انسان نے کتنے پہاڑ سے بحرانوں کو اس ملک پر نہ آنے دیا۔ امریکا سے امداد لینے والا چڑیا والا صحافی جو آج پی ایس ایل کو اپنی فتح بنا کر پیش کر رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ یہ خاکی سب داستان جانتا ہے کسی دن بیان کر دی جائے گی۔ کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔

 

جاوید چوہدری

 

کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔
سرفراز نے قہقہہ لگایا اور سٹمپس اڑا دیں اور کوئٹہ پلے آف کا پہلا میچ رات بارہ بج کر تئیس منٹ اور چودہ سیکنڈ پر جیت گیا۔ کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ رنگ سب سے پہلے ہنگری کے ایک جاگیردار نے بنوایا تھا۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی پاکستان کی ٹیم کا رنگ پرپل کر دیں اس سے ٹیم میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے ہر کرکٹ کھیلنے والے بچے کے منہ پر پرپل رنگ کر دے یہ رنگ اسے کوئٹہ کی فتح کی یاد دلاتا رہے گا۔ ہمیں پورا پاکستان پرپل کرنا ہو گا کیونکہ یورپ ایسا کر رہا ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم لاہور قلندرز کی طرح تاریخ کے اندھے کنویں میں جا گریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

اسلام آباد کی ٹیکسیاں کیا؟ شاہسواریاں

یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ ہر صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد اکٹھی کر دی گئی ہیں۔
ٹیکسیاں کراچی میں بھی ہوتی ہیں اور بہت بڑی ہوتی ہیں۔ لاہور میں البتہ ان کی خالہ کا بیٹا رکشہ زیادہ پُھدکتا پھرتا ہے۔ اسلام آباد میں بھی سابقہ دارالخلافہ کراچی کی سُنت میں ٹیکسیاں ہی ہوتی ہیں اور اِنہیں کا آج ہم نثری نغمہ بجائیں گے۔ نہیں بھائی، بینڈ وینڈ بجانے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ ایسی باتیں جی میں مت ہی لایا کریں۔

 

اسلام آباد ملک کا وفاقی درالحکومت ہے۔ اس کی شاہراہوں پہ بلکہ جرنیلانہ، وزیرانہ، مشیرانہ، افسری گریڈانہ اور ان کے دفتر کی آستین میں جَڑے اعلٰی و طاقتور پرسنل اسسٹانہ راہوں کے منظر کا اہم جزو یہ ٹیکسیاں بھی اپنے تشخص و جوہر میں بہت وفاقیت کی حامل ہیں۔ اب میں سیاسیات کا علم جھاڑنے کی بالکل کوشش نہیں کروں گا کہ “پیارے بچو، وفاقی نظام یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔” مجھے پتا ہے آپ پڑھے لکھے پاکستانی ہیں۔

 

تو عرض کیا تھا کہ یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ ہر صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اس قدر پرانی ہیں کہ انہیں بنی نوعِ کاراں کے اسلاف کا رتبہ حاصل ہے۔ بڑی خوش ہوتی ہیں اتنا بغیر پوچھے بتائے کا ادب و احترام کی سزاوار بن کے۔ اتنی پرانی بھی ہیں کہ ان میں سے بعضوں پہ یونیسکو والے مسلسل اور گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ موہن جو ڈارو سے تو نہیں لائی گئیں۔ بس اب کچھ ہی وقت باقی ہے انہیں باضابطہ طور پر “قومی و اجتماعی انسانی تاریخی ورثہ” قرار دینے میں۔ اس لیے جلدی جلدی ان کا جُھولا، یا جسے پنجابی میں “چُوہنٹا” کہتے ہیں، لے لیں ورنہ بعد میں تو انہیں دنیا جہاں کے عجائب گھروں کو کچھ “یار لوگ” سمگل فرما دیں گے، جس طرح کہ باقی ملکی نوادرات کے متعلق کبھی کبھار اچانک خبر آ جاتی ہے کہ کوئی کھیپ پکڑی گئی۔ ہورے کتنی کھیپیں قدردانوں تک پہنچ بھی تو جاتی ہوں گی۔

 

ان اسلام آباد کی شاہ سواریوں کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی مملکتِ پاکستان کے سیکرٹیریٹ کی فائلوں کی ہوتی ہے۔
ان اسلام آباد کی شاہ سواریوں کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی مملکتِ پاکستان کے سیکرٹیریٹ کی فائلوں کی ہوتی ہے۔ اب اگر آپ نے اس شاہ سواری کا سفر کیا ہے یا کبھی آپ کی فائل ان مخروطی توند والے بابوؤں کے زیرِ دام آئی ہے تو آپ عاقل اور بالغ گواہ بن سکتے ہیں، اگر نہیں تو کوئی ٹیکسی والا ہی وعدہ معاف گواہ کرنا پڑے گا کہ چلتے میں کچھوے اور خرگوش کی کہانی میں کچھوے کو بھی چاروں شانے چِت کرا دیں۔ لیکن خدا نہ کرے خراماں خراماں چلتے رستے میں اگر کبھی بارش آجائے تو یہ ناک میں پانی ڈلنے کے کارن سڑک کنارے اُبکائیاں لیتے کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں آپ کو ٹانگے کہ آگے جُتا بِدکا اتھرا گھوڑا تو کافی معصوم لگنے لگتا ہے۔

 

ان کے کرائے؟ بس کے کرائے ہوتے ہیں۔ مطلب جو ان کے سائیسوں یعنی ڈرائیوروں کے استادانہ منہ سے نکل گیا وہی مستند ہوتا ہے۔ ان میں میٹر ندارد۔ یوں بھی آج کے دنوں میں بجلی کا میٹر ہی کیا کم ہے جو یہاں بھی میٹر درکار ہو۔ کرایہ۔۔۔ بس زبان کی خود ساختہ مشین سے ہی کام تمام۔ ان اسلام آباد کی ٹیکسیوں کے کرایوں پہ تیل کی قیمتوں کا صرف اوپر کی طرف اثر ہوتا ہے۔ اگر قیمتیں کہیں نیچے آ جائیں تو ان کی جانے بلا۔ کہتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے پٹرول کی قیمتوں میں چند کوڑیاں کم ہو جانے سے۔ آپ لاکھ کہو کہ سعودی عرب کا بجٹ اس تیل کی دھار کی وجہ سے خسارے کی گھاٹیوں میں چلا گیا۔ تو جواب دیں گے کہ کیا کہتے ہو بھیا وہ تو یمن یافتہ ہوا ہے۔ بہر صورت زیادہ کرایہ مانگ لیتے ہیں۔ عادت اور جیب کی تنگ دامنی سے مجبور آپ وجہ پوچھیئے تو کہیں گے کہ “بھئی دودھ مہنگا ہوگیا ہے، خشک میوے مہنگے ہوگئے ہیں۔” بندہ کچھ دیر تو دماغ پہ زور دیتا ہے کہ بھلا مشین کو دودھ، دہی، لسّی یا مونگ پھلی سے کیا لینا دینا! لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اپنے دماغ کی پوٹلی سنبھال کے اپنی راہ لیتا ہے۔ ویسے بھی اپنے اسحاق ڈار صاحب (جو ڈارون سے بس ون یعنی ایک درجہ ہی پیچھے رہ گئے ہیں) کے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے نظریہِ ارتقاء کی گتھیاں سلجھانے کی کوششوں ہی میں عام آدمی کے خالی معدہ میں تبخیر ہو ہی جاتی ہے۔

 

آپ اگر ان کی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے چرنوں پہ ان ٹیکسیوں کی پٹرول کی بوتل پڑی ملتی ہے۔ اس میں سے ایک رگ میں سے پٹرول انجن کی طرف گامزن ہوتا ہے اور دوسرے طرف سے سواری کے نتھنے میں۔
گو کہ یہ بات ابھی تحقیق طلب ہے اور امید ہے کہ کوئی سبزی بیچنے والا اس کا کوئی نتیجہ نکال ہی لے گا کہ ان گاڑیوں کی حرکت کون سی حرکیات کے زمرے میں آتی ہے۔ ہیں، کیا؟ آپ کو اعتراض ہے کہ سبزی والا اب طبیعات و میکانیات کے سر بستہ راز کھولے گا؟ ویسے آپ بھی کمال کے بھلے مانس ہیں جب ڈاکٹر مجاہد کامران پنجاب یونیورسٹی والے ایک کیمیا دان ہونے کے با وصف نو/گیارہ کی سازشی توجیہات سے ہمارے کند ذہنوں کو منور کرسکتے ہیں، داعش کے متعلق کتابیں رقم کرسکتے ہیں، تو سبزی والے کو آپ اتنا ہی فاتر العقل سمجھتے ہیں کہ وہ میکانیات و حرکیات کی روح کو چشمے نہیں پہنا سکتا۔ اس میں کیا شک ہے کہ سائنس، سائنس کی ڈگریوں والوں کی تو گھر کی مرغی ہوتی ہے۔ اب اگر وہ اس پہ کام کریں گے تو وہ اسے دال ہی کردیں گے نا۔ آپ ان کا وقت مت ضائع کیجئے انہیں اخباروں میں کالم اور آرٹیکل لکھنے دیجئے۔

 

کس جھنجھٹ میں پڑ گئے تھے ہم بھی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ اسلام آباد کی ٹیکسیاں حرکت کرتی ہیں۔ گو کہ زیادہ بار تو دھکے سے ہی حرکت کرتی ہیں لیکن پھر بھی سنہ دو ہزار کے شروع میں جب پاکستان “ترقی ہی ترقی” کرتا جا رہا تھا اس دوران ایک گیس آئی جسے سی این جی کہتے تھے۔ ان اسلام آباد کی ٹیکسیوں پہ بھی سی این جی لگ گئی۔ تو چند سال ان کی رگوں میں گیس دوڑی۔ یہ کچھ سستے بھاؤ میں مل جاتی تھی۔ اب جب یہ سی این جی کا رمضان طویل ہوا تھا یہ ٹیکسیاں “پٹرول کی بوتل” پہ لگ گئیں۔ آپ اگر ان کی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے چرنوں پہ ان ٹیکسیوں کی پٹرول کی بوتل پڑی ملتی ہے۔ اس میں سے ایک رگ میں سے پٹرول انجن کی طرف گامزن ہوتا ہے اور دوسرے طرف سے سواری کے نتھنے میں۔ ساتھ والی سیٹ پر ڈرائیور اپنے منہ میں سگریٹ ڈال کر زندگی کے غموں کو اسلام آباد کی ہواؤں میں غلط کرتا ہے۔ سواری دعا کرتی ہے مولا آج بچا لینا جیسا کہ تو نے اتنے سالوں سے خود کش بمباروں سے بچا رکھا ہے۔ بشرطیکہ کسی وی آئی پی کے لیئے روٹ نا لگا ہو یہ اسلام آباد کی ٹیکسیاں اپنی حرکت میں بابرکت رہتی ہیں، لیکن ہمیں اب اجازت دیجئے۔

Image: Dawn News

Categories
فکشن

ایک مسجد دو مولوی

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد اس شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ-قسط نمبر 2

 

مثل مشہور ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں، ایک بستی میں دو راجا اور ایک مسجد میں دو مولوی نہیں سما سکتے۔ ہماری مسجد، بفضل تعالیٰ یہ اعزاز بھی رکھتی ہے کہ اس نے دو مولوی ایک منبر، ایک سپیکر، ایک صندوقچی اور ایک ہی مدرسے میں سنبھالے رکھے ہیں گو یہ اعزاز خانہ خدا کے حصے میں بہت دیر نہ رہایعنی دو مولویوں میں محض مرغی ہی نہیں خانہ خدا بھی۔۔۔۔۔ خیر ہمارے مفتی صاحب یوں تو ایک صلح جو آدمی ہیں اور دوسرے کی آزادی کی حد وہاں تک سمجھتے ہیں جہاں تک ان کی داڑھی، ان کی توند، ان کی مسجد اور ان کا محلہ ہے۔ اگر کوئی ان کے محلے میں گھس کر، ان کی مسجد میں آ کر ان کی ہی داڑھی کے تنکے تلاشنے لگے تو بھیا پھر یہ حرکت ہر طرح سے فساد فی الارض قرار پائے گی اور اس فتنہ کو رفع کرنا واجب، خواہ یہ فتنہ ساز ان کے اپنے برادر محترم ہی کیوں نہ ہوں۔

 

مسجد خدا کا گھر ہے سو یہ قبضہ کسی طور ناجائز نہیں ہو سکتا کیوں کہ پلاٹ جس زمین پر ہے وہ زمین بہر طور اللہ کی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے کسی غیر اللہ سے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے مفتی صاحب اور ان کے بڑے بھائی کا مسجد کی تولیت پر جھگڑا ہوگیا۔ اب بھلے مسجد خدا کا گھر ہے لیکن اس گھر کے رکھوالوں کا کنبہ خاصا وسیع ہے۔ جھگڑا تو ہونا تھا۔ یہ مسجد ان کے والد صاحب نے بنائی تھی۔ یار لوگ پیٹھ پیچھے اڑاتے پھرتے ہیں کہ ایک پلاٹ پر ‘قبضہ’ کر کے بنائی تھی۔ لیکن حاسدین کا منہ کون بند کرے؟ مسجد خدا کا گھر ہے سو یہ قبضہ کسی طور ناجائز نہیں ہو سکتا کیوں کہ پلاٹ جس زمین پر ہے وہ زمین بہر طور اللہ کی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے کسی غیر اللہ سے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں۔ خیر مفتی صاحب کے جنت مکیں والد کی تعمیر کردہ یہ مسجد گزشتہ چالیس برس میں کئی کشادگیاں اور توسیعات دیکھ چکی ہے پھر بھی یہ اتنی وسیع نہیں ہو سکی کہ دو مولوی بیک وقت اس میں سما سکتے۔

 

مفتی صاحب کے والد محترم وفات کے بعد ایک مسجد، ایک مدرسہ، دو بیوائیں اور قریب ایک درجن بچے چھوڑ گئے جن میں سے صرف دو بیٹوں نے ہی’ آبائی پیشہ’ (ایک سے پرائمری پاس نہیں ہوئی اور دوسرا سکول ہی نہیں گیا)اختیار کیا۔ والد کی وفات کے بعد دونوں بھائی اسی ایک مسجد میں پڑ رہے۔ اس مسجد کے کرتا دھرتا تو ہمارے مفتی صاحب تھے لیکن منبر بڑے بھائی صاحب کے سپرد تھا۔ جب تک بڑا بھائی مسجد کا خطیب رہا، مسجد ‘معمول’ کے طور پر ‘چلتی’ رہی اور معمول کے مطابق ‘آمدنی’ (ہمارے مفتی صاحب آمدنی ہی کہتے تھے) آتی رہی جس سے لشتم پشتم گزراوقات ہوتی رہی۔ لیکن جب ہمارے شعلہ بیان مفتی صاحب نے مسجد سنبھالی تو مسجد کی آمدنی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی آمد کا فائدہ اسلام کے ساتھ ساتھ محلے کے ڈاکٹر کو بھی ہوا کہ ہر تقریرسے ڈپریشن، سردرد اور نقص سماعت کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا۔ مسجد کی ایک صندوقچی کی بجائے دو صندوقچیاں بھرنے لگیں، پہلے ایک مینار پر سپیکر نصب تھے اب دو پر ہیں اور پہلے مفتی صاحب کی زیادہ سے زیادہ ایک زوجہ تھیں اور اب سنا ہے کم سے کم دو ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ برکت نہیں بلکہ سعودیہ جانے والوں کی معاشی آسودگی کا ایک لازمی ردعمل ہے مگر بھائی کس کس کی زبان پکڑی جائے؟

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔
لیکن جہاں دولت آتی ہے وہاں جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ بڑے بھائی نے پہلے تو گاڑیوں کے لین دین کا کاروبار شروع کیا جس پر بعض شرفاء نے انگلیاں بھی اٹھائیں کہ مسجد کا روپیہ غلط جگہ استعمال ہو رہا ہے لیکن خوش قسمتی سے یہ شرفاء قبروں میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے اور یقیناً ان کے جنازے مفتی صاحب نے ہی پڑھانے تھے سو جلد ہی یہ اصحاب خاموش ہو گئے۔ یہ حضرات تو خاموش ہو گئے مگرگاڑیوں پر چوں کہ بڑے مفتی صاحب کی نیک نیتی اور دیانت داری کا کوئی اثر نہ تھا، سو انہوں نے منافع دینے سے انکار کر دیا۔ کاروبار نہ چلا تو بڑے بھائی نے دوبارہ منبر ومحراب سنبھالنے کا قصد کیا اور یوں مسجد کی تولیت کا جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ دونوں بھائی اور اوپر سے دونوں پشت ہا پشت سے مولوی بھی، یعنی نور علی نور، دونوں نے ایک دوسرے پر بندوقین تان لیں۔ لگ رہا تھا کہ ابھی دو چار لاشیں گرنے والی ہیں۔ تاہم، ہمارے مفتی صاحب ذرا زیادہ سمجھدار تھے۔ انہوں نے اس کا خوب حل نکالا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کالونی کے فلاں بلاک میں مسجد نہیں ہے، وہاں کے نمازیوں کی نمازیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اہلِ خیر وہاں مسجد کے لیے پلاٹ کا انتظام کریں۔ وہ علاقہ بھی پوش علاقہ تھا۔ ایک صاحبِ خیر نے لبیک کہتے ہوئے اپنا لاکھوں یا شاید کروڑوں کا پلاٹ پیش کردیا(یہ الگ بات ہے کہ ان صاحب کے خلاف نیب میں دو مقدمات چل رہے ہیں)۔ پلاٹ پر ‘مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالیے اور جنت میں اپنا محل بنوائیے’ کا بورڈ لگا دیا گیا۔ چند دنوں میں مسجد تعمیر ہوگئی۔ پھر مزید ‘آمدنی’ کے لیے اس میں مدرسہ بھی بنا دیا گیا۔ اور یوں دونوں بھائیوں نے خدا کے دین کی خدمت کے لیے ایک کی بجائے دو مراکز بنا کر ‘ثوابِ دارین’ حاصل کرنے کا مستقل انتظام کر لیا۔ خدا خیر رکھے تو ہمارے مفتی صاحب کے بھی آخری اطلاعات کے مطابق دوصاحب زادے ہیں، سو گمان کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں مزید مساجد کا قیام اسی طرح جاری رہے گا ۔
Categories
فکشن

سپہ سالار کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔

 

بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔
رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔

 

رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتاً غائب ہوگئے۔

 

مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔
فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جواباً کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔

 

سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔

 

بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔
دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔

 

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمیٰ پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔

 

ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔

 

” اکھ لگ گئی سِی”

 

Image Courtesy: Herald Pakistan