Laaltain

مزاح کی مابعد الطبعیات

عبدالمجید عابد: ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام، فوج، ذات پات کے نظام اور ملا کی اجاری داری ہے۔ عمدہ لطائف وہ ہوں گے جو ان برتر قوتوں پر چوٹ کریں، ان کی بے مائیگی پر طنز کے نشتر چلائیں، ان کے استبداد کی مخالفت کریں۔

سارا دین داڑھی میں ہے

مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔

محرم بنا رہے ہیں، زوجہ بنا کے وہ

مذہبی مبلغین اور علماء کے ہاں پردے اور محرم کے تصورات سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بعض اوقات نا صرف مضحکہ خیز بلکہ افسوس ناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

میاں صاحب کی ڈائری

اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چَوری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔

صنعتِ “المشہور” کا یومِ پاکستان

اب عاجز صاحب کے ذہن میں کئی سوالوں کے نئے نقش ابھر رہے تھے کہ پاکستان میں ہر قومی یوم پر اسلحے اور ٹینکوں ہی کی نمائش کیوں ہوتی ہے: بھلے وہ کوئی المشہور “یومِ دفاع” ہو یا کوئی المشہور “یومِ پاکستان”؟

سپہ سالار کی ڈائری-توسیعی ورژن

ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔

تخلص

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم رات اپنے چند شاعر، ادیب اور فلسفی دوستوں کے ہمراہ عباسی ٹی سٹال پر ڈیرے جمایا کرتے تھے اور موجودہ حکومت کو سلطنت عباسیہ سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں کرتے تھے

عاشق نامراد کا استعفیٰ

عشق کے مروجہ دستور کے مطابق راقم تمہارے تمام آن لائن اور آف لائن ظلم و ستم خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ہے

جب وہ ڈھکوسلے کریں

یہاں پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ شاید جلد ہی بیدی کی کہانی رحمٰن کے جوتے کا عنوان بدل کر عبدالرحمٰن کے جوتے رکھنے کا مطالبہ کیا جانے لگے۔

اسلام آباد کی ٹیکسیاں کیا؟ شاہسواریاں

یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ یہ صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد میں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔

ایک مسجد دو مولوی

ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔