Categories
نقطۂ نظر

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری کو حال ہی میں ہنی ڈانس اکیڈمی سے نکلتے دیکھا گیا ہے۔ ہنی ڈانس اکیڈمی لندن میں قائم بھنگڑا سکھانے کی مشہور ترین اکیڈمی ہے۔ خبرستان ٹائمز کے ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ نومبر سے اس اکیڈمی میں بھنگڑے کی باقاعدہ تعلیم حاسل کر رہے ہیں۔ بلاول کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکیڈمی میں بلاول بھٹو کو ذاتی گرو کی سہولت دستیاب ہے۔ یہی گرو اس سے قبل کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی بھنگڑا سکھاتے رہے ہیں، کلنٹن نے ہندوستان کے تین روزہ دورے سے قابل اسی گرو سے فون پر بھنگڑے اور سیاست کے تعلق پر مشاورت کی تھی۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی بات چیت کے دوران بلاول نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کی۔

 

پی پی پی چیئرپرسن کا کہنا تھا، “اگرچہ سیاست میں نے اپنے اپنے ماں باپ سے سیکھی ہے، اقتدار ہمارے گھر کی لونڈی ہے مگر میں سیاست میں جدت کا قائل ہوں۔ مجھے اپنی تمام سیاسی الجھنوں کا حل ہنی ڈانس اکیڈمی میں ملا ہے۔” بلاول کا خیال ہے کہ بھنگڑے کی مدد سے وہ بطور رہنما لوگوں میں اپنا امیج بہتر بنا سکیں گے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی کا یہی ایک راستہ باقی بچا ہے۔

 

بلاول بھٹو اس ضمن میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو اپنے اس فیصلے کی وجہ تسلیم کرتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا، “کیا آپ نے ہڑی پہ پر جسٹن ٹروڈو کے بھنگڑے کی ویڈیو دیکھی ہے؟ اس کے بھنگڑے نے سبھی ناراض ووٹرز کو راضی کر لیا اور جلسے کامیاب ہو گئے۔” انہوں نے مزید کہا، “نئی نسل چاہتی ہے کہ سیاستدان ان کے مسائل کو سمجھیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح ان کی شادیوں اور مہندیوں میں شریک ہوں۔ میں عوام کو اپنی شخصیت کا پرمزاح، نرم خو اور پنجابی رخ دکھانا چاہتا ہوں۔”

 

بلاول نے اس گفتگو کے دوران معاصر سیاسی رحجانات سے اپنی واقفیت کا مظاہرہ کیا،”لاکھوں کروڑوں لوگ عمران خان کے جلسے میں جاتے ہیں لیکن اسے ووٹ نہیں ڈالتے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ کھلے آسمان تلے بھنگڑا ڈال سکیں۔” بعض ناقدین نے بلاول بھٹو کی ‘بھنگڑا پاو، پاکستان بچاو’ مہم کو 2014 کے دھرنوں کی نقالی قرار دیا ہے۔ تاہم بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی بھنگڑا ریلیاں اس لیے مختلف ہوں گی کہ وہ خود بھنگڑا کوریوگراف کریں گے اور اس کی قیادت بھی کریں گے۔ “میں کسی تھرڈ امپائر کے اشاروں پر نہیں ناچوں گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھنگڑے کے ذریعے کم کاردیشان اور گینگنم سٹائل سے زیادہ ویوز اور راہول گاندھی سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔

 

بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بلاول کے بھنگڑا گرو بلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھنگڑا ایک مشکل فن ہے مگر نوجوان بلاول سیکھنے کی ٹھرک رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے لائحہ عمل پوری توجہ سے تیار کر رہے ہیں “مجھے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج مہیا کیے گئے تھے اور میں انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہی steps تشکیل دے رہا ہوں۔”

 

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ان کے والد آصف علی زرداری ان کے ان ‘نئے سیاسی داو پیچ’ سے متفق ہیں تو بلاول نے قدرے بے چینی سے جواب دیا “میرے والد کو میرا بھنگڑا کچھ بہت زیادہ پسند نہیں، جب کبھی میں انہیں اپنے ٹھمکے دکھاتا ہوں تو ان کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔” تاہم ان کے خیال میں اگر پارٹی پنجاب میں اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کی سینئر پارٹی قیادت بھی ان کے بھنگڑے میں شریک ہو گی تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ آج کل دلیر مہدی کے گیت سن رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
شاعری

پینسٹھ کی جنگ میں حصہ لینے والے فرشتے تمغوں سے تاحال محروم

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جنت الفردوس: یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے 51 برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی گفتگو کے دوران ان غیر مرئی جنگی سورماوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس برس بھی یوم دفاع منایا گیا تاہم انہیں سرکاری طور پر نہ تو کسی تقریب میں مدعو کیا گیا اور نہ ہی ان کے لیے اعزازات کا اعلان کیا گیا۔

 

یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے اکیاون برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔
موضوع کی حساسیت کے پیش نظر چونڈہ کے محاذ پر کرامات دکھانے والے ایک فرشتے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،”ہمارا تذکرہ نصابی کتب میں ہے، مورخین کے مضامین ہماری کارناموں اور معجزوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن آج تک حکومت نے ہماری خدمات کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا۔” ان کا کہنا تھا، “ہمارے نام سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں کیے گئے اور اگر کہیں دیے بھی گئے ہیں تو ہجے درست نہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے کارناموں کی صحیح تصویر بھی کبھی بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی”۔ سترہ روزہ جنگ میں اٹھارہ سو بم ہوا میں کیچ کر کے ناکارہ بنانے والے فرشتے کا دعویٰ تھا کہ ان میں سے ہر ایک فرشتہ نشان حیدر کا حقدار ہے۔

 

فرشتوں کی بٹالین کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ وہ 65 کی جنگ میں اپنا کام تاشقند معاہدے سے پہلے ہی مکمل کر کے عرش کو لوٹ گئے تھے۔ انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا “حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔” اس غازی فرشتے کے خیال میں ان کی خدمات کو نظرانداز کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چھ ستمبرکو ‘یوم دفاع’ قرار دیا گیا ہے۔

 

ایک اور بزرگ فرشتے کے خیال میں جب تک یوم دفاع کو”عجب حملے کا غضب دفاع” قرار نہیں دیا جاتا 65 کی جنگ میں جان کی بازی لگانے والے فرشتوں کی خدمات نظرانداز ہوتی رہیں گی، “ایک بار انہیں سمجھ آ گئی کہ ہم فرشتوں نے کس طرح ان کے پچھواڑے بچائے تھے تبھی انہیں ہماری اہمیت کا احساس ہو گا۔” بزرگ فرشتے کے خیال میں جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اس لیے انہیں تمغے اور رقبے نہیں دیے گئے “درحقیقت 65 کی جنگ جیتی نہیں گئی تھی بلکہ ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی تھی، اسی لیے ہمیں اب تک ہمارے تمغے نہیں دیے جا سکے۔”

 

انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا “حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔”
فرشتوں کا کہنا تھا کہ اگر جنگ سے پہلے ان سے مشورہ کر لیا جاتا تو یقیناً جنگ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ فرشتوں کے کمانڈر نے تاریخ سے گرد جھاڑتے ہوئے بتایا “آپریشن جبرالٹر ہر صورت ناکام ہونا تھا کیوں کہ کشمیری ایسی کسی چالبازی کا حصہ بننے کو تیار نہیں تھے۔” انہوں نے جمائی لیتے ہوئے مزید بتایا کہ “آپریشن گرینڈ سلام بروقت شروع ہو سکتا تھا اگر اس کا نام رکھنے میں اتنی سوچ بچار نہ کرنا پڑتی۔”

 

عسکری تاریخ کے ماہر فرشتے کے مطابق “ہمیں جنگ بدر سمیت کسی جنگ میں شمولیت پرکسی قسم کے اعزازات نہیں دیے گئے اور اس بات کا ہمیں کوئی دکھ نہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ جنگ ستمبر میں ہماری کامیابیوں کی کوئی تحقیقاتی رپورٹ تیار نہیں کی گئی’۔ مورخ فرشتے کے مطابق فرشتوں کے کارہائے نمایاں کی بیشتر داستانیں جنگ بدر کے واقعات سے چربہ کی گئی ہیں۔

 

تاہم تمغے اور اعزازات سے محرومی بھی ان فرشتوں کو پاک فوج اور پاکستان سے متنفر نہیں کر سکی اور وہ آج بھی بی آر بی نہر اور چونڈہ کے محاذوں کی یادیں سینے میں لیے پاکستان کے لیے نیکلیئر وارہیڈز کیچ کرنے کی مشقیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے ان فرشتوں نے رات کی تاریکی میں سرحد عبور کرنے والے دشمن کے برسائے گولے نہ صرف ہوا میں کیچ کیے بلکہ ناکارہ بھی بنائے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نان فکشن

مزاح کی مابعد الطبعیات

ہمارے سماج میں حفظ مراتب کا بندوبست اتنا پیچیدہ ہے کہ آپ عمر میں اپنے سے بڑے کسی شخص کا مذاق نہیں اڑا سکتے، رنگ، نسل اور مذہب والی بات تو بہت دیر بعد آتی ہے۔
گزشتہ چند سال میں اگر آپ نے (ہماری طرح) شام کے بعد ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہونے والے پروگرام دیکھے ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہم مزاح(یا کم ازکم سیاسی مزاح) کے ‘سنہری دور’ میں سانس لے رہے ہوں۔ نت نئے پروگراموں میں نت نئے چہرے ہر شام ‘مزاح’ کے جوہر بکھیر تے ہیں۔ ان حالات میں یہ بات بحث طلب ہے کہ مزاح اور پھکڑ پن میں کیا فرق ہے اور کیا ہمارا معاشرہ Satireیا ہجو برداشت بھی کر سکتا ہے یا ہم ہمیشہ سیاست دانوں کی نقالی کرنے والوں کو مزاح کا پیمانہ سمجھتے رہیں گے؟ قوموں کے سماجی ارتقاء میں وہ وقت بھی آتا ہے کہ جب معاشرے میں مزاح، طنز، ہجو، جگت، نقالی اور پھبتی کی درست جگہ مرتب ہو جاتی ہے۔ بالغ معاشروں میں اپنی حماقتوں پر ہنسنے کا ظرف پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ Satire کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ کوئی چیز (یا شخصیت یا نظریہ) مزاح سے بالاتر نہیں اور اس میں رنگ نسل اور شہریت کی کوئی تفریق نہیں۔ ہمارے سماج میں حفظ مراتب کا بندوبست اتنا پیچیدہ ہے کہ آپ عمر میں اپنے سے بڑے کسی شخص کا مذاق نہیں اڑا سکتے، رنگ، نسل اور مذہب کی بات تو بہت دیر بعد آتی ہے۔ ہمارے ہاں مشہور عام لطیفوں میں ظرافت سے زیادہ پھکڑ پن جھلکتا ہے۔ لطیفہ اگر سوچنے پر مجبور نہ کرے، پہلے سے موجود نظریات پر چوٹ نہ کرے تو وہ لطیفہ نہیں، جگت ہے۔ لطائف کی ایک منفرد سماجی حیثیت ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لطائف بیویوں کے گرد، پٹھانوں کے گرد(یہ صیغہ ہر صوبے میں مختلف ہے)، مختلف ذاتوں کے متعلق اور جنسی نوعیت کے اعمال سے باہر نہیں نکل پاتے۔ ایک نیم قبائلی، پدرشاہی معاشرے میں دل کی بات نثر یا شعر کی زبان میں کہنا محال ہے، Satire کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود ہماری خاکستر میں بہت سی چنگاریاں رہی ہیں۔ اردو مزاح نگاری میں مشتاق یوسفی، پطرس بخاری، کرنل محمد خان، شفیق الرحمان، ابن انشاء، محمد خالد اختر نے اپنا نام روشن کیا۔

 

ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام، فوج، ذات پات کے نظام اور ملا کی اجاری داری ہے۔ عمدہ لطائف وہ ہوں گے جو ان برتر قوتوں پر چوٹ کریں، ان کی بے مائیگی پر طنز کے نشتر چلائیں، ان کے استبداد کی مخالفت کریں۔
ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام، فوج، ذات پات کے نظام اور ملا کی اجاری داری ہے۔ Satire یا عمدہ لطائف وہ ہوں گے جو ان برتر قوتوں پر چوٹ کریں، ان کی بے مائیگی پر طنز کے نشتر چلائیں، ان کے استبداد کی مخالفت کریں۔ مزاح کا بنیادی مقصد انگریزی محاورے والی ’مقدس گائیوں‘ کی اصلیت واضح کرنا ہے۔ پڑوسی ملک میں ویسے بھی گائے کی تقدیس بہت ہے لہٰذا وہاں مزاح کی حدود مزید تنگ ہیں۔ اس کے باوجود بھارت میں نوجوان ان زنجیروں کو توڑنے پر مصر ہیں اور ان میں سے کئی کا کام یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں Stand-up Comedy کی کوشش گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف اصحاب کی جانب سے کی جا چکی ہے لیکن ان میں سے بیشتر انگریزی زبان اور ایک بیگانی ثقافت سے لطائف مستعار لے کر انہیں پاکستانی بنانے کی غلطی کرتے رہے۔ انگریزی زبان میں Stand-up کی جو روایت امریکہ یا برطانیہ میں ہے، اس کا چلن ہمارے ہاں عام نہیں۔ ٹی وی ڈراموں پر نظر دوڑائیں تو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ ففٹی ففٹی، سونا چاندی، گیسٹ ہاؤس،جنجال پورہ، فیملی فرنٹ، الف نون، آنگن ٹیڑھا اور سچ گپ جیسے کتنے ہی مزاحیہ ڈراموں کی جگہ اب بوکھلائے ہوئے اداکار اور پس پردہ چلنے والا Laughing Track لے چکا ہے۔ سیاسی تجزیے اور پھکڑ پن کے امتزاج کی روایت ڈاکٹر یونس بٹ نے شروع کی۔ رفتہ رفتہ سیاسی تجزیہ کم اور پھکڑ پن نمایاں ہونے لگا(اس ضمن میں آفتاب اقبال کی خدمات قابل غور ہیں)۔ اس فارمولے کی مختلف شکلیں اب بازار میں دستیاب ہیں۔ ہر چینل نے حسب استطاعت بھانڈ خرید رکھے ہیں جو رات ڈھلتے ہی سکرینوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔بھانڈ اور جگت بذات خود ایک سماجی حیثیت کے حامل ہیں اور ان کے موضوعات سطحی طور پر سماجی ضرورہیں، سیاسی بالکل نہیں۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر حس ظرافت کا مظاہرہ کرنا اور سیاسی صورت حال کا تبصرہ کرنا بہرحال دو مختلف چیزیں ہیں۔ جگت بازی میں اکثر مخالف فریق کی ہتک کرنا مقصود ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے لفاظی کے جوہر استعمال کیے جاتے ہیں۔ جگت بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی صنف ہے (اور ہونی بھی چاہئے)۔ سٹیج پر انور مقصود صاحب نے کچھ نیم مزاحیہ ڈرامے لکھے لیکن ان میں مروجہ اقدار جیسے پدر سری نظام کے متعلق قائم مفروضوں کو بعینہٰ برقرار رکھا۔

 

سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی تضحیک اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کا سلسلہ کچھ مخصوص ’پس پردہ‘ سرکاری اداروں کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
خشک سیاسی تجزیہ سننا ناظرین کے لئے بوریت کا باعث بنتا ہے لیکن سیاسی امور میں حد درجہ سنجیدگی کی ضرورت موجود رہتی ہے۔ امریکہ میں کئی ہفتہ وار پروگرام کئی دہائیوں سے مزاح اور سنجیدہ موضوعات پر بحث کرنے کے لئے مختص ہیں۔ کچھ پروگرام ایسے ہیں جو صرف مزاح کے لئے ہیں (جو سیاسی اور غیر سیاسی ہو سکتا ہے لیکن مروجہ اقدار پر چوٹ بہر صورت موجود ہوتی ہے) اور سنجیدہ امور کے لئے الگ پروگرام مختص ہیں۔ان کے برعکس ہمارے ہاں نام نہاد مزاحیہ پروگراموں میں نہ تو مزاح ہوتا ہے، نہ سنجیدہ گفتگو۔ اس طرح ہمارے ناظرین سیاست کو مزاح اور مزاح کو سیاست سمجھ بیٹھتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں معاشرے کو ‘غیر سیاسی’ بنانے میں کچھ کردار میڈیا کا بھی ہے۔ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی تضحیک اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کا سلسلہ کچھ مخصوص ’پس پردہ‘ سرکاری اداروں کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس بیانیے کے باعث بالخصوص نوجوان نسل میں جمہوری نظام سے اکتاہٹ اور بیزاری پیدا ہوئی۔

 

سیاسی شخصیات کی تضحیک اور پیروڈی تو خیر چلتی ہی رہے گی، ہماری اجتماعی حس ظرافت پر اس نئے رواج نے برا اثر ڈالا ہے۔ نوجوان نسل کتب بینی سے دور ہو چکی اور ٹی وی پر معیاری پروگراموں کی عدم موجودگی کے باعث پھکڑ پن ہی مزاح کا معیار بنتا جا رہا ہے۔ڈان نیوز پر ‘ذرا ہٹ کے’ نے اس رواج کو تبدیل کرنے کی کوشش شروع کی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ کب تک وہ اس عمل کو جاری رکھ سکتے ہیں۔
Categories
فکشن

سارا دین داڑھی میں ہے

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 7
مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔
مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔ مسلمانیاں جانچنے کی کوئی سبیل ہے نہیں سو داڑھی اور پائنچے تک ہی ایمانی شماریات کا کھاتہ محدود رکھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہر مرد کو اس کی داڑھی کی طوالت، گھنے پن اور رنگ سے شناخت کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے ان کے شناختی کارڈ پر شناختی علامت بھی یہی درج ہو کہ دو تہائی چہرے پر داڑھی ہے۔ مفتی صاحب سے کچھ بعید نہیں کہ وہ عنقریب پاسپورٹ میں داڑھی اور بغیر داڑھی کا خانہ بھی شامل کرائیں۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ اس دنیا میں ہر بچہ داڑھی کے ساتھ پیدا ہوتا۔ داڑھی کی وجہ سے ہی وہ ارسطو اور افلاطون کو بھی مسلمان قرار دیتے ہیں۔ آپ کے اختیار میں ہو تو ہر ناکے پر سنتریوں کو جامہ تلاشی کی بجائے داڑھیاں ناپنے پر لگا دیں۔ بعض بکرے اسی واسطے ان کے نزدیک فرشتہ صورت قرار پاتے ہیں کہ ان کی تھوڑی پر چند بال شرمندہ شرمندہ سے اگ آتے ہیں۔

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب حقیقتاً ساری دین داری داڑھی میں مانتے تھے، (اگرچہ ان کے خیال میں داڑھی اور مردانہ قوت میں بھی کچھ جائز و ناجائز رشتہ ہے ضرور) مگر اصل معاملہ تو دین اور داڑھی کی باہمی مطابقت کا ہے۔ داڑھی مشت بھر سے جتنی کم ہوتی اتنا آدمی ساقط الاعتبار ہوتا جاتا۔ یہی معاملہ جنت و جہنم سے قرب و بعد کا ہے، داڑھی بڑھائیے اور جنت کے قریب ہو جائیے، داڑھی مونڈیے اور جہنم کی ہمسائیگی اختیار کیجیے۔ ایک دفعہ میں نے علامہ اقبال کا نہایت ایمان افروز شعر سنایا۔ مفتی صاحب جھوم گئے۔ پھر فورا سنبھل کر گویا ہوئے کہ ہاں راتوں کو قرآن پڑھتے ہوئے روتا تھا اور صبح اٹھ کر داڑھی مونڈ دیتا تھا یہ کیسی دین کی محبت؟

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب حقیقتاً ساری دین داری داڑھی میں مانتے تھے، (اگرچہ ان کے خیال میں داڑھی اور مردانہ قوت میں بھی کچھ جائز و ناجائز رشتہ ہے ضرور) مگر اصل معاملہ تو دین اور داڑھی کی باہمی مطابقت کا ہے۔
ایک بار فجر کی نماز کے بعد ایک کلین شیو شخص نے مفتی صاحب کو بٹھا لیا اور شدت عقیدت سے روتے ہوئے بتایا کہ اسے خواب میں روضہ رسول کی زیارت ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے مبارکباد دی۔ ہم سب اس کی خوش قسمتی پر رشک کرنے لگے۔ جب وہ چلا گیا تو ارشاد فرمایا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا، بھلا ایک داڑھی منے کو یہ سعادت کیسے حاصل ہوسکتی ہے جب کہ ہمیں نہیں ہوتی حالانکہ ہم نے داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے۔

 

مفتی صاحب کے ہاں اگرچہ مستثنیات بھی ہیں صرف ایک کلین شیو تھا جسے وہ نہ صرف پسند کرتے بلکہ اللہ کا ولی مانتے تھے۔ اور وہ خوش نصیب تھا جنرل ضیاء الحق!

 

وجہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔۔
Categories
نقطۂ نظر

عاجز علمی کی ارضیاتی علمی دریافت: زلزلے کیوں آتے ہیں؟

عاجز علمی صاحب کو سائنسدان ہونے کا بالکل کوئی دعوٰی نہ تھا۔ لیکن آج وہ خود کو ذرا سا سائنسدان، سائنسدان سا سمجھ رہے تھے۔ بھلا وہ کیسے، بندہ خود کو سائنسدان، سائنسدان کیونکر سمجھ سکتا ہے؟

 

اس کا جواب زیادہ گھمبیر نہیں بھئی! وہ آج الجھے بالوں پھر رہے تھے، داڑھی بڑھی ہوئی تھی، جس میں جگہ جگہ سفید بال کسی اسکول کی اسمبلی میں کھڑے بچوں کی طرح مستقیم تھے، عینک ہمارے گاؤں کے مرحوم امام مسجد صاحب کی طرح ناک کے آخری سِرے پر کھڑی پُل صراط پر سے چلنے کی مشقِ مشکل میں تھی۔

 

ہر سوال کے سیدھے سادے جوابوں سے کام چلانے والے میاں انار سلطان آج عاجز صاحب کے پاس آکر زیادہ الجھن کا شکار ہو گئے تھے۔
ہر سوال کے سیدھے سادے جوابوں سے کام چلانے والے میاں انار سلطان آج عاجز صاحب کے پاس آکر زیادہ الجھن کا شکار ہو گئے تھے۔ ویسے تو کسی بھی عام سورج نکلے دن میں میاں انار اپنے دماغ کو سوچنے سمجھنے کی طرف لگانا وقت کا زیاں سمجھتے ہیں لیکن آج وہ اس شغل میں افراط کی ہر حد پار کر رہے تھے۔ میاں انار سلطان کا سَر پھٹا جا رہا تھا، “آخر آج عاجز علمی صاحب پہ کیا افتاد پڑی جو کسی محبوب کی اُلجھی لَٹ کی تمثیل بنے پڑے ہیں۔”

 

کچھ دیر تو اپنی اناریّت میں جواب کی تحقیق کے سلسلے میں زیرِ لب قیاس آرائیاں پھڑپھڑاتے رہے لیکن ضبطِ نفسی کا یہ سلنڈر جلد ہی پھٹ پڑا، لیکن کچھ اٹک اٹک کر پوچھا:

 

“عاجز علمی صاحب! بھلے یہ آج کیا آپ قبلہ اپنے آپ کو اہم اہم سا سمجھ رہے ہو جس طرح تازہ شادی شدہ مرد اپنے آپ کو خواہ مخواہ معتبر اور معزز جان رہا ہوتا ہے؟ آخر ہمیں بھی کچھ بتا دیجئے کہ ماجرا کیا ہے۔”

 

عاجز صاحب بھی سیدھے سیدھے کیسے بتانے والے تھے، ان میں بڑا کمال کا ضبط تھا۔ حالانکہ کسی بڑے کام کے انجام کی سرشاری، کسی یُوریکا لمحے (eureka moment) کا بارِ گراں اٹھائے رکھنا کوئی کارِ آسان نا تھا۔ ارشمیدس تو اس لمحے کے بوجھ کو ذرا برابر نا سنبھال پایا تھا، وہ بے چارہ تو یہ بھی بھول گیا تھا کہ حضرتِ انسان کے جدّ امجد نے جب دانۂِ گندم اپنے معدہ کی نذر کر لیا تھا تو ستّر پوشی کا خرچہ ایک ذیلی ذمے داری کے طور پلّے پڑ گیا تھا۔ لیکن عاجز علمی کا عمل تو ارشمیدس کے ہر طور معکوس تھا، یہاں اپنے یُوریکا لمحے کے بار کو اُٹھاتے لباسِ فطرت گھنیرا ہوتا جا رہا تھا اور عاجز صاحب سوچوں میں گُم کے گُم ہی تھے۔

 

عاجز علمی کا عمل تو ارشمیدس کے ہر طور معکوس تھا، یہاں اپنے یُوریکا لمحے کے بار کو اُٹھاتے لباسِ فطرت گھنیرا ہوتا جا رہا تھا اور عاجز صاحب سوچوں میں گُم کے گُم ہی تھے۔
میاں انار سلطان کی اناریّت جو اپنے چھَم چھَم لمحے سے پار ہو کر اب پوری طرح چھلک پڑی تھی، قریبی دیوار کے سائے میں گئے اور اپنا سَر اس سے کوئی لگ بھگ ساڑھے پانچ سے پونے چھ اِنچ کے فاصلے پر لاکر پورے حلق کے زور مع کوئی چار چھٹانک لعاب کے بولے، “عاجزززززززز! اب بتاؤ گے بھی کہ اپنا سَر اس دیوار کو دے ماروں!” (ا وووہ ہ ہ ہ، شُکر ہے اُن کا اپنا ہی سَر تھا ورنہ تو وہ عاجز صاحب کے سَر کی بابت بھی ایسی تعزیر کا معاملہ کر سکتے تھے۔)

 

خدارا عاجز صاحب اب اتنے بھی راہ گمُ کردہ نا ہوئے تھے۔ اس نقصِ امن جو کہ میاں انار سلطان کے دیوار سے سَر پٹکنے اور اس کے نتیجہ کے طور پر نا جانے اُن کے دماغ سے کیا برآمد ہو آتا، عاجز صاحب بول پڑے، “میاں انار اجی ایسا نا کیجئے، ہم بتائے دیتے ہیں کہ کیا ہوا۔”

 

انار سلطان نے سُکھ کی سانس لی؛ اپنی آنکھیں، جو چند ثانیے قبل کسی ہسپانوی بیل کی طرح کھلّم کُھلّا ہو گئی ہوئیں تھیں اور جن میں لہو کے فوارے پرویز مشرف کے دبئی جانے کی بھاگم بھاگ کی مانند نکلنے کو بے تاب تھے، اب وزیر آباد کے مکرر منتخب ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی جسٹس افتخار چیمہ کی طرح کسی مناسب حد تک کھلی کھلی سی رہ گئی تھیں۔

 

عاجز علمی صاحب نے مزید کہا کہ علمِ ارضیات والے اس حقیقت کو کھوجنے کی بابت پریشان تھے کہ زلزلے کی پیش بِینی کا علم نا ہونے کے برابر ہے۔
عاجز علمی صاحب نے مزید کہا کہ علمِ ارضیات والے اس حقیقت کو کھوجنے کی بابت پریشان تھے کہ زلزلے کی پیش بِینی کا علم نا ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کوئی پلیٹیں ہوتی ہیں (حلوے کی پلیٹیں ہرگز نا ذہن میں لائیے گا) جن کی حرکت سے کچھ جغرافیائی علاقوں کے انتہائی زیرِیں گوشوں میں فالٹ لائینز بن جاتی ہیں: یہ ٹیکٹانک پلیٹیں کہلانے والے زمین کے نچلے حصے ان ماہرین کے بقول نا جانے کیوں “حرکت” کر جاتے ہیں۔ “میاں انار صاحب آج میں نے وہ راز دریافت کر لیا ہے کہ ٹیکٹانک پلیٹیں کیونکر اپنے محوروں سے مفرور ہو جاتی ہیں” عاجز علمی صاحب اپنی گُم شدگی سے اچانک برآمد سرشاری سے بولے۔

 

میاں انار سلطان جو اپنے محدود ارتکازِ توجُّہ کو اپنی سرحدوں سے پار برُوئے کار لا کر ہمہ تن گوش سنتے رہے، لیکن اب عاجز صاحب کی شارٹ بریک پہ فوراً کہا،

 

“تو کیسے کُھلا آپ پہ یہ راز؟”

 

عاجز صاحب نے کسی بڑے راز کے افشاء کرنے کے سے انداز میں کہا،

 

“اس رگڑے پہ رگڑا مارکہ رقص کی حرکی توانائی سے زیرِ زمین ٹیکٹانک پلیٹیں سرِک جاتی ہیں جو بعد ازاں زلزلوں کا باعث بنتی ہیں۔ “

 

اس ہنگامہ خیز سربستہ راز کے کھلنے اور اس کے سننے کے بعد موقعہ پر موجود عینی گواہ کے مطابق میاں انار سلطان کی داڑھی بھی اچانک دو سے ڈھائی انچ مزید بڑھ گئی۔
Categories
فکشن

محرم بنا رہے ہیں، زوجہ بنا کے وہ

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 5
دوستو، مدارس میں مذہبی تعلیم پر مردانہ تسلط خود مذہب اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ایک طرف پردے اور محرم کا دقیانوسی تصور عورت کو مذہبی معاملات سے دور رکھتا ہے اور دوسری جانب مردانہ اجارہ داری کے باعث عورت مذہبی معاملات میں اس جائز مقام سے بھی محروم ہے جو بطور ایک مساوی انسان اور مخلوق خدا کے اس کا حق ہے۔ مذہبی مبلغین اور علماء کے ہاں پردے اور محرم کے تصورات سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بعض اوقات نا صرف مضحکہ خیز بلکہ افسوس ناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

 

مذہبی مبلغین اور علماء کے ہاں پردے اور محرم کے تصورات سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بعض اوقات نا صرف مضحکہ خیز بلکہ افسوس ناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
صاحبو، شاید ہمارا مذہبی ذہن درس و تدریس جیسے مقدس سلسلے کو بھی مرد و زن کی جنسیاتی کشش کی کشمکش کے علاوہ کچھ اور تصور کرنے کو تیار نہیں۔ مرد اور عورت کے مابین جنسی تفاعل کے سوا کسی انسانی رشتے میں متصور کرنا کچھ بہت مشکل نہیں اور ناممکن بھی نہیں مگر کیا کیا جائے جہاں عورت سے متعلق گفتگو حیض سے شروع ہو کر زچگی پر ختم ہو، جہاں علمی مباحث ٹیڑھی پسلی کے بیان سے شروع ہو کر ناقص العقل ہونے کے فیصلے پر منتج ہوں، اور جہاں تحقیق کم سنی کی شادی سے لونڈی کی حلت و حرمت کے جواز کی تلاش تک محدود ہو وہاں عورت کے ساتھ ایک صحت مند، مگر غیر جنسی بنیادوں پر استوار انسانی تعلق کی توقع محال ہے۔

 

ایک دفعہ ہمارے مفتی صاحب نے مدرسۃ البنات کے قیام اعلان فرما دیا۔ لوگ شوق اور عقیدت میں اپنی بچیوں کو مفتی صاحب کی خدمت میں علمِ دین حاصل کرنے کے لیے بھیجنے لگے۔ کچھ دن بعد مفتی صاحب پر ‘تقوی’ نے غلبہ پا لیا۔ ان میں ایک نو بالغ بچی منتخب کر کے اس سے فرمایا کہ مرد کا عورت کو پردے میں بھی پڑھانا مناسب نہیں۔ شیطان کے پاس ہزاروں ہتھکنڈے ہیں گمراہ کرنے کے۔ اسے بھی انہوں نے وہی کہانی سنائی کو وہ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے اپنی بہن کو ایک عالم اور ولی کے پاس چھوڑا اور خود اللہ کے دین کی خدمت میں کہیں چلا گیا۔ شیطان نے اس عالم، صوفی کو اس طرح بہکایا کہ لڑکی کو دین کا علم ہی پڑھا دو۔ اس نے پردے میں پڑھانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے بات یہاں تک پہنچی کہ دونوں میں ناجائز تعلق قائم ہوگیا۔ تعلق کے افشاء کے ڈر سے عالم صاحب نے لڑکی کو قتل کر دیا۔ لیکن پکڑا گیا۔ سزائے موت کا اعلان ہو گیا۔ شیطان نے اس سے کہا کہ اگر بچنا ہے تو مجھے خدا مان لو۔ اس نے مان لیا۔ اِدھر اس نے مانا ادھر اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔ اور وہ بے ایمان دنیا سے رخصت ہوا۔

 

انہوں نے ایمان بچانے کے لیے یہ حل نکالا کہ نوبالغ کم سن بچی کو اپنے ساتھ غیر علانیہ نکاح کرنے پر آمادہ کر لیا کہ اس طرح پردے کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور علم دین کی تعلیم بھی بلا حرج اور بلا حجاب جاری رہے گی
مفتی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ دنیا سے بے ایمان ہو کر جائیں۔ انہوں نے اپنا ایمان بچانے کے لیے یہ حل نکالا کہ نوبالغ کم سن بچی کو اپنے ساتھ غیر علانیہ نکاح کرنے پر آمادہ کر لیا کہ اس طرح پردے کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور علم دین کی تعلیم بھی بلا حرج اور بلا حجاب جاری رہے گی۔ مزید احتیاط کے لیے لڑکی کے کم عمر بھائی، جو کہ ان کا شاگرد تھا، کو شرعی مسائل اور تقوی کی مجبوری سنا کر اس نکاح پر آمادہ کر لیا۔

 

تحصیلِ علم میں اب کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ نجانے علم و عمل کے ساتھ معرفت کی کتنی منازل طے ہوئیں، خدا ہی جانتا ہے، معاملہ کچھ عرصہ یوں ہی چلتا رہا کہ پھر نجانے کیسے لڑکی کے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ لڑکی کا باپ مفتی صاحب کے پاس آیا اور بڑا جھگڑا کیا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ سب مجھے اپنا دامنِ تقوی بچانے کے لیے کرنا پڑا اور لڑکی کو بھی گناہ سے بچا لیا اور اس کے ساتھ دین کا علم بھی لڑکی کو دیا۔اب بجائے ممنون ہونے کے تم الٹا مجھ پر چڑھائی کر رہے ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تو لے جاؤ اپنی بیٹی کو، میں تمہاری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں!

 

مدرسۃ البنات کا فیض اب بھی جاری ہے۔

Art Work: Asad Fatemi

Categories
نان فکشن

میاں صاحب کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ حالِ دل پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

رات سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ شباژ صاب نے الگ بریشان کیا ہوا تھا، “پائین! جان دیو سُو۔۔۔ نئیں تے فیر سانوں جانا پیناں”۔ اسی پریشانی میں کچھ کھایا بھی نہیں گیا۔ صبح بھوک سے جلدی آنکھ کھل گئی۔ میں نے آہستگی سے بیڈ روم والی فریج کھولی تو اس میں وہی آلو مٹر گاجریں، کدو کی بھجیا اور بھنڈیوں کا سالن تھا۔ بیگم صاحبہ نے سختی کی ہوئی ہے اسی لیے میں زیادہ تر دوروں پر ہی رہتا ہوں۔ گھر میں تو یہی سب کچھ کھانا پڑتا ہے۔ کوئی اک مصیبت اے۔

 

کچن کی فریج دیکھی تو اس میں کباب، بریانی، نہاری، ہریسہ وغیرہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ جلدی میں صرف دس بارہ کباب، نہاری کی ڈیڑھ پلیٹ اور آدھا ڈونگا ہریسے کا ہی کھا سکا۔
کچن کی فریج دیکھی تو اس میں کباب، بریانی، نہاری، ہریسہ وغیرہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ جلدی میں صرف دس بارہ کباب، نہاری کی ڈیڑھ پلیٹ اور آدھا ڈونگا ہریسے کا ہی کھا سکا۔ کھانا مزے دار ہو تو ٹھنڈا بھی مزہ دیتا ہے۔ سپرائٹ کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل سے تین چار گھونٹ لیے نشے آ گئے۔ ابھی فجر میں وقت تھا لہذا ٹی وی لاؤنج میں گیا۔ ورزش صحت کے لیے بہت ضروری ہے چنانچہ شلپا شیٹی کی ورزش والی ویڈیو لگا کر دیکھی۔ جسم فریش ہو گیا۔ ورزش باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اسی لیے اللہ کے فضل و کرم سے میرا ذہن اتنا تیز ہے۔ ماشاء اللہ۔

 

سیٹھی صاب کو فون کیا۔ وہ سونے کی تیاری میں تھے۔ ورلڈ کپ کی ڈیل فائنل ہونے کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بات پکّی ہو گئی ہے۔ پیسے آج ہی ٹرانسفر ہو جائیں گے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ رزقِ حلال بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ سیٹھی صاب، بہت اچھے بندے ہیں۔ مجھے انگریزی بھی سکھائی ہے، جگتیں بھی کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے، “تسی انگریزی اینج بولدے او، جیویں جھنگ آلے اردو بولدے نیں۔۔۔۔۔۔۔ ہیں جی”۔

 

پہلے اسلام آباد والے شاہ جی ہوتے تھے۔ ان کی انگریزی بھی اچھی کڑاکے دار تھی۔ پچھلے دنوں ملنے بھی آئے تھے۔ میں نے ان کو روٹی شوٹی کھلائی۔ کہنے لگے کہ انگریزی سکھانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا انتظار کریں اگلی دفعہ مقدس سرزمین سے واپس آئیں گے تو آپ کو ہی انگریزی سکھانے پر رکھوں گا۔ خوش ہو گئے۔ اچھے بندے ہیں۔ شاہ جی نے وڈّے چوہدری صاب کا سلام بھی دیا۔ چوہدری پیجے کی وجہ سے بات نہیں بنتی ورنہ وڈّے چوہدری صاب بڑے سیانے بندے ہیں۔ شباژ صاب، پیجے کا نام سنتے ہی غصہ کر جاتے ہیں۔ ڈائننگ ٹیبل پر مُکّے مار مار کے تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ شعر بھی سناتے ہیں۔ امّی جی کو شکایت لگانے کی دھمکی دیتا ہوں۔ پھر چُپ کرتے ہیں۔ شباژ صاب بھی باچھا بندے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ مارشل لاء شباژ صاب ہی نہ لگا دیں۔

 

شباژ صاب بھی باچھا بندے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ مارشل لاء شباژ صاب ہی نہ لگا دیں۔
فجر پڑھ کے نیند کی ایک جُھٹّی اور لگائی۔ اٹھ کے ناشتہ کی تیاری کر رہا تھا کہ خواجہ صاب کا فون آ گیا۔ چھوٹتے ہی بولے، “یہ جو اے، جو اے، ببلو اے، یہ جو اے، کمانڈو جو اے، اس کو جو اے، کیا چکر اے؟” خواجہ صاب بندوں کو تپانے میں ماہر ہیں۔ ایک دفعہ ببلو کے گَل پڑ گئے تھے۔ پھر ببلو کو سیریں کرائیں۔ کلفیاں کھلائیںَ جھولے بھی دلائے۔ پھر کہیں جا کے اس کا موڈ ٹھیک ہوا۔ ان کو کل والے معاملے کی بھنک پڑ گئی تھی تو اب مجھے تپا رہے تھے۔ میں نے بہت سمجھایا کہ جگر جی پہلے ہی دس سال کھجل ہوئے ہیں اب تھوڑا مال پانی بنا لینے دیں اگلی باری پتہ نہیں آئے نہ آئے۔ پر خواجہ صاب کی سوئی ایک دفعہ اڑ گئی تو اڑ گئی، سیالکوٹی جو ہوئے۔

 

روٹی کھانی حرام کی ہوئی ہے۔ جب بھی روٹی کھانے بیٹھو کوئی نہ کوئی اپنا سِیڑی سیاپا لے کے آ جاتا ہے۔ اَنسان اتی محنت مشقت کس لیے کرتا ہے؟ روٹی کے لیے۔ وہی سکون سے نصیب نہ ہو تو کیا فائدہ سارے ٹشنوں کا۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ روٹی کے چھ ٹائم نکال کے جس وقت مرضی فون کر لیا کریں۔ مجال ہے کسی پر اثر ہوتا ہو۔ الٹا مذاقیں کرتے ہیں۔ جگتیں لگاتے ہیں۔ شرم، حیا، مروّت ہی ختم ہوئی ہوئی ہے۔ ببلو اس معاملے میں ٹھیک ہے۔ اس کو بھی روٹی کھانے کا بڑا شوق ہے۔ ایک دن ہم دونوں نے مل کے ستونجہ (57) قیمے والے نان کھائے تھے۔ بڑا مزا آیا تھا۔

 

اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چَوری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔
اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چَوری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔ بس ناراض ہو گئے۔ شباژ صاب کو شکایتیں لگائیں۔ دس ہزار ترلے کیے پھر کہیں جا کے مانے۔ مانے سے داد آیا اپنے خاں صاب کا بھی بڑا یا رانہ ہے چوہدری صاب سے۔ دونوں ہی غصے میں رہتے ہیں۔ کم روٹی کھانے یہی انجام ہوتا ہے۔ بندہ روٹی تو رَج کے کھائے کم سے کم۔

 

ببلو کو میں نے بڑا سمجھایا کہ تمہیں وڈّاکمانڈو لگوا دوں گا۔ تنخواہ بھی ریالوں میں اور عمرے فری۔ بس یہ کمانڈو والی ضد چھوڑ دے۔ اس بات پر ببلو کا رنگ مزید سرخ ہو جاتا تھا۔ ایک دن تو میرے پیٹ میں مُکا بھی ٹکا دیا۔ بعد میں کہتا ہے، “شغل کیتا سِی” بس مجھے اسی دن پتہ لگ گیا کہ کمانڈو کو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ ورنہ ببلو اگلا مُکا کنپٹی پر مارے گا۔ زندگی کے لیے بندہ اتنے جتن کرتا ہے۔ مر گیا تو یہ ہریسے، نہاریاں، بریانیاں نان، کباب،تکّے، پیسپیاں، ادھ رڑکے، دودھ پتیاں لوگ ہی پئیں گے۔ کبھی قُل شریف کے نام پر اور کبھی چالیسویں اور برسی کے ختم پر۔۔

 

جان ہے تو جہان ہے۔۔۔ ہیں جی!
Categories
نقطۂ نظر

صنعتِ “المشہور” کا یومِ پاکستان

یُوں تو سیانے کہتے پائے گئے ہیں، “بُدھ اور کام سُدھ۔” لیکن آج یہ ہوائی کسی محض اور محض دشمن کی اُڑائی ہوئی ہی لگ رہی تھی۔ ان کا موبائل فون تو سگنلز کے علاقے میں بغیر کسی آپریشن کے بے سُدھ پڑا تھا۔
عاجز صاحب آج صبح کو نیند سے بیدار ہوئے تو فوراً اپنے جیون ساتھی، (یعنی موبائل فون) کو اٹھایا۔ اس کو آنکھیں مَلتے مَلتے دیکھا تو سِگنلز والی جگہ پر موبائل فون کا سیٹ “سَرچِنگ، سَرچِنگ” کی استمراری حرکت میں مصروف تھا۔ موبائل فون کی اسکرین پر عام طور موجود باقی نَگ سارے پُورے تھے۔ یہ باقی دنوں کی طرح تاریخ اور ہفتے کا دن آج بھی دکھا رہا تھا۔ جن کے مطابق آج ایک بار پھر 23 مارچ تھا اور بُدھ کا دن تھا۔ یُوں تو سیانے کہتے پائے گئے ہیں، “بُدھ اور کام سُدھ۔” لیکن آج یہ ہوائی کسی محض اور محض دشمن کی اُڑائی ہوئی ہی لگ رہی تھی۔ ان کا موبائل فون تو سگنلز کے علاقے میں بغیر کسی آپریشن کے بے سُدھ پڑا تھا۔ ویسے تو اُن کی عُمریا اب موبائل کمپنیوں کے گھنٹہ پیکیجوں کےچَھنکتے جُھنجھنوں کی موسیقیات کے دائرے سے پار ہو چکی تھی، پر آج اس وقت کہیں دوسرے شہر میں ضروری کال کرنا پڑ گئی تھی۔ کہنے کو تو ابھی صبح کے کوئی پانچ، ساڑھے پانچ کے آس پاس ہی کا وقت ہوا تھا لیکن عاجز صاحب کے چہرہ پر بہ آسانی بارہ بجنے کا گھنٹہ ٹن ٹن کرتے سُنا دیکھا جا سکتا تھا۔ کچھ بھلکڑ واقع ہوئے ہیں حالانکہ “وسیع تر ملکی مفاد” والے تو کچھ دن سے ڈھول پیٹ رہے تھے کہ پھر نا کہنا خبر نہ ہوئی کہ سگنلز اور سڑکیں نہیں ملیں گی۔

 

تو پھر کیا ہوا؟ ہونا کیا تھا اور وہ بھلے عام قسم کی خاک اور پانی سے بنے آدمی کر بھی کیا سکتے تھے۔ کچھ دیر دانتوں کو پِیسا، مُنھ میں ہلکی پُھلکی کسی نوزائیدہ صلوٰت کا ورد کیا۔ نہیں، نہیں اونچا نہیں بولے، بھئی دیواروں کے بھی تو کان ہوتے ہیں۔ بصورتِ دیگر سپریم کورٹ بھی بُلا بُلا تھک جائے گی، شاہراہِ دستور پر محترمہ آمنہ مسعود جنجوعہ اور کئی معدنیات سے لبالب علاقے کے غیب شُدگان کے وارثان و وابستگان جلتے بُنتے پھریں گے، لیکن غیب کے صیغہ میں پھنس جانے والے حاضر کے صیغہ میں نا آ پائیں گے۔ عاجز صاحب شریف قسم کے آدمی ہیں اور بھئی سچ ہی تو ہےکہ شریف آدمی بہت ساری گھریلو، گلی، پاس والی مسجد، ساتھ والے مدرسے اور ملکی و قومی ایجنسیوں کے سامنے چُپ ہی کر سکتا ہے۔ شریکِ حیات بچوں سمیت اسکولوں سے چھٹیوں کی وجہ سے اپنے میکے تشریف لے جا چکی تھیں، مطلب یہ کہ آج گھر سے ناشتہ ملنے کی کوئی آس نا تھی۔ تو پھر مجبوراً ہو لئے پاس والی مارکیٹ کی جانب کہ کچھ قل ھو اللہ کا ورد کرتی آنتوں کو تَر کر سکیں۔

 

غرض یہ کہ اسلام آباد کی مارگلہ ٹاؤن کا یہ شوارمے والا ثقافتی اور کاروباری طور پر پیوست روایتِ دیکھا دیکھی کے عین مطابق اور وہ بھی پلک جھپکنے میں اب اسی علاقے کا ایک نیا “المشہور” بن کر سامنے آ چکا تھا۔
مارکیٹ میں کافی دنوں بعد آج داخل ہو رہے تھے تو کچھ خاص چہل پہل نا تھی۔ زیادہ تر کھوکھے بند تھے۔ جونہی ایک بند کھوکھے پر نظر پڑی تو اوپر جَلی حروف میں لکھا تھا “مارگلہ ٹاؤن کا المشہور شوارما”۔ عاجز صاحب نے کہا یہ کون ہے اور یہ کب کا “المشہور” ہوگیا! لیکن سمجھدار اور گھومنے پھرنے والے انسان تھے جلد ہی یاد میں آ گیا کہ لاہور میں بھی تو ہر ہوٹل اور کھوکھا کوئی نا کوئی “المشہور” یا “واحد اصلی” ہی تو ہوتا ہے۔ عاجز صاحب کو اچھی طرح یاد آگیا کہ کیسے گرمیوں میں ایک بار جی ٹی روڈ پر سفر کے دوران ان کا گزر گوجرانوالہ سے پہلے راہوالی کے مقام پر ہوا۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف کھڑے قلفیاں سجائے ریڑھیوں ٹھیلوں والے سارے کے سارے “المشہور” تھے اور سارے کے سارے بابے اللہ رَکّھے کے متعلقین تھے، اور مزے کی بات کہ ہر ایک نے اپنا اپنا بابا اللہ رکھا بٹھایا بھی ہوا تھا یا اس کی مولانا طاہر اشرفی کے حجم برابر تصویر ضرور لگائی تھی۔ یہی حال تھوڑا آگے جا کر حافظ آباد کے اصلی، خاندانی اور المشہور ٹوٹی ہڈیوں کو جوڑنے والے بابے تاجے کے وابستگان کی مختلف جگہوں پر موجود آوٹ لیٹس کا تھا۔ راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ کی بغل میں ماموں برگر نام کے اصلی اور المشہور برگر کے عین اسی علاقہ میں کئی دعوٰے دار بازار میں ارزاں نرخوں پر بھی جا بہ جا موجود تھے۔ کراچی میں بھی تو ایسے ہی ہوتا ہے، وہاں کون سا رینجرز والوں نے ان “المشہوروں” کو قابلِ نوّے دن کی گردن زدنی جانا! تو پھر کیوں وفاقی دارلخلافہ اسلام آباد اس چلنے والی اور بِکنے والی گردانِ بازاری سے باز رہ سکے۔ غرض یہ کہ اسلام آباد کی مارگلہ ٹاؤن کا یہ شوارمے والا ثقافتی اور کاروباری طور پر پیوست روایتِ دیکھا دیکھی کے عین مطابق اور وہ بھی پلک جھپکنے میں اب اسی علاقے کا ایک نیا “المشہور” بن کر سامنے آ چکا تھا۔

 

انہی سوچوں کے جھرمٹ میں عاجز صاحب تھوڑا سا آگے جا کر اسی مارکیٹ میں کھلے ایک چھوٹے سے ہوٹل پہنچ گئے۔ کچھ چائے بَن کا آرڈر ڈالا۔ ہوٹل میں ٹی وی پر براہِ راست چلنے والی تقریب میں بڑا ہیبت ناک اسلحہ اور پسِ منظر میں اس پر اتنا ہی لرزہ خیز تبصرہ رواں تھا۔ یومِ پاکستان، یومِ پاکستان، فوجی پریڈ، دشمن، میلی آنکھ اور اسلحہ کی نمائش وغیرہ کے لفظ گھن گرج کے ساتھ برس رہے تھے۔

 

عاجز صاحب نے سوچنا شروع کیا اور سوچتے ہی گئے کہ بھئی یہ یومِ پاکستان بھی تو “صنعتِ المشہوریات” ہی کی ایک قسم ہے۔ اصلًا تو یہ “یومِ جمہوریہ” تھا
عاجز صاحب نے سوچنا شروع کیا اور سوچتے ہی گئے کہ بھئی یہ یومِ پاکستان بھی تو “صنعتِ المشہوریات” ہی کی ایک مصنوع ہے۔ اصلًا تو یہ “یومِ جمہوریہ” تھا؛ وہ دن جب ملکِ من کے پہلے آئین جس کو 23 مارچ سنہ 1956 کو رُو بہ عمل لایا گیا، جس دن وطنِ عزیز کا تاجِ برطانیہ سے باقاعدہ الگ تھلگ تشخص بنا، یعنی “ڈومینین” کا درجہ ختم ہوا۔ سات وزرائے اعظم کی تبدیلی لیکن اسی عرصہ میں ایک ہی مستقل کمانڈر اِنچیف نے جونہی پہلی بار “عزیز ہم وطنو” کی تان چھیڑ ڈالی تو لفظِ “جمہوریہ” بدعت ٹھہرا۔ کسی دفتری بابو کے اندر کا تخلیقی فنکار و جادوگر جاگا۔ بیک جنبشِ قلم “جمہوریہ” کا شبد، لفظِ “پاکستان” کے نیچے لا کر دبا دیا گیا۔

 

اب بازار میں صرف یومِ پاکستان ہی “المشہور” ہے اور مسلسل ہی المشہور ہے، اور اچھا بِکتا بھی ہے۔ حالانکہ بیچ میں سلطانئِ جمہور کے “ثانیہ بھر زمانے” آتے رہے ہیں لیکن یہ نقشِ المشہور نا مٹ سکا۔اسی طرح کہتے ہیں کہ کئی اور بھی ملکی، قومی اور مِلّی سطح پر اسی نوع کی “المشہور” اختراعات ہوئیں۔ لیکن کچھ المشہوریات کی بابت پھر سہی!

 

اب عاجز صاحب کے ذہن میں کئی سوالوں کے نئے نقش ابھر رہے تھے کہ پاکستان میں ہر یومِ قومی پر اسلحے اور ٹینکوں ہی کی نمائش کیوں ہوتی ہے: بھلے وہ کوئی المشہور “یومِ دفاع” ہو یا کوئی المشہور “یومِ پاکستان”؟ پھر ان کے اندر سے ہی آواز آئی کہ مٹا دے ان نقشوں کو اگر کچھ مرتبہ چاہئے! عاجز صاحب نے چور آنکھوں سے اپنے آس پاس دیکھا، جلدی جلدی چائے کی سُرکیاں ختم شد کیں۔ سب سوالوں کے نقش، سڑکوں پر کسی کے تصرف کے نوحے اور موبائل سگنلز کے غم ذہن کی سلیٹ سے پونچھ کر جانبِ گھر کُوچ کر گئے۔
Categories
فکشن

سپہ سالار کی ڈائری-توسیعی ورژن

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

شبِ رفتہ سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ نیند دیر سے آئی۔ تہجّد سے کافی دیر پہلے آنکھ کھل گئی۔ وضو بنایا۔ تہجّد کے وقت تک نوافل ادا کئے۔ دل کو کچھ قرار سا آیا۔ کل کی ملاقات میں مقتدرین نے اپنی خواہش کا برملا اظہار کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ملک و ملّت کی خدمت سے کنارہ کش ہو جاؤں اور ان کو لوٹ مار کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ جب تک وطنِِ عزیز اسلام کا قلعہ نہ بن جائے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں؟ وہ کچھ بولے تو نہیں مگر کبیدہ خاطری ان منحوسوں کے چہروں سے عیاں تھی۔

 

ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔
شب کے آخری پہر، خدا کے حضور مناجات کرنے سے دل کو تسلّی ہوئی۔ فجر کے بعد معمول کی ورزش کی۔ ناشتے میں آلو والے پراٹھے تھے۔ میں نے زوجہ سے باز پُرس کی کہ ان کے لیے رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا؟ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر زوجہ کا رُوئے انور چوم لیا۔ بد پرہیزی کرتے ہوئے تینوں پراٹھے کھائے اگرچہ زوجہ تیسرے پراٹھے پر شکایتی نگاہوں سے دیکھتی رہیں لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں۔ جنّتی خاتون ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔

 

بیٹ مین لطیف نے بائیسکل چمکا کے پورچ میں کھڑی کر دی تھی۔ لطیف اوائل افسری سے میرے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ عجب اُنسیت سی ہے۔ اس کا معاملہ گھر کے فرد جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ برسوں گزرے ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد لطیف کی اہمیّت دو چند ہو گئی۔

 

ان دنوں لطیف کے گھر پہلی خوشی آنے والی تھی۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، “شکیل، باہر آؤ”۔ میں حیران ہو کر باہر نکلتا ہوں تو وہ شہادت کی انگلی بلند کر کے گویا ہوتے ہیں۔

 

“ہم ایک عظیم ذمہ داری تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ وعدہ کرو کہ اسے نبھاؤ گے”۔

 

ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، “شکیل، باہر آؤ”۔
میں جھٹ حامی بھر لیتا ہوں۔ بزرگ پائپ منہ سے اور دھواں نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ اچھل کر گھوڑے سے اترتے ہیں۔ میرے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں۔۔

 

“تمہارے گھر ایک مہمان آنے والا ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھنا۔ عنفوان شباب تک اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا۔ یہ بچہ ملک و ملّت کا پاسبان ہو گا۔ سارے ادبار دور کر دے گا۔ دشمنانِ دین و ملّت اس کے درپے رہیں گے لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ جب تک تمہاری سانس میں سانس ہے اس کی حفاظت و نصرت کرو گے۔ اور ہاں سنو۔۔ ایک بات اور ہے۔۔ یہ اللہ کی دَین ہے۔ اس لیے اس کا نام اللہ دتّہ ہو گا”۔

 

اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوابگاہ میں ایک ملکوتی سا سکوت اور عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میں فوراً اٹھا، غسل کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا جس نے مجھے اس کارِ عظیم کے لیے چُنا۔ پھر میں نے سوچا کہ زوجہ کے ہاں تو ابھی کسی نئے مہمان کے آثار نہیں تو یہ نیا مہمان کہاں سے آئے گا؟۔

 

اس کا جواب اگلی صبح ملا جب بیٹ مین لطیف، مٹھائی کا ڈبّا لیے آیا۔ ڈبّا بائیسکل کے کیرئیر پر رکھ کے دھرتی دہلا دینے والا سلیوٹ مارا اور خوشی سے لال ہوتے چہرے سے اطلاع دی کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ ذہن میں روشنی سی لپکی اور گزشتہ شب کا خواب اور پن سٹرائپ سوٹ والے بزرگ کی بشارت اور اپنا وعدہ یاد آ گیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے اللہ دتّے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر توجہ دی۔ اعلیٰ درسگاہوں سے اس کو تعلیم دلائی۔ آج کل اللہ دتّہ ملک فرنگ میں اعلیٰ ترین تعلیم کے لیے مقیم ہے۔

 

دفتر جانے کے لیے بائیسکل کا پیڈل مارا ہی تھا کہ لطیف ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ مخبر اعلیٰ نے فوراً آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ابھی ایک ہرکارہ ان کا پیغام لے کر آیا ہے۔ میں فورا بائیسکل سے اترا اور رکشے کو ہاتھ دے کر روکا۔ ہنگامی حالات میں ایک ایک منٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔

 

ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
بھاگم بھاگ دفتر پہنچا تو مخبر اعلیٰ پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے شتابی سے دفتر کا دروازہ بند کیا اور بولے۔۔۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دشمن نے اللہ دتّے کو درسگاہ سے واپس آتے ہوئے اغوا کر لیا ہے اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں فوراً ساری گیم سمجھ گیا۔ یقیناً یہ مقتدرین کی سازش ہے۔ انہیں علم ہے کہ مجھے کسی بھی طرح جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ میری اپنی اولاد بھی اگر داؤ پر لگی ہو تو میں کبھی ملک و ملّت کے مفاد کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اللہ دتّے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے ساتھ غیر معمولی انسیّت کا راز میں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا لیکن مخبروں کی دنیا الگ ہوتی ہے۔ شاید کوئی ٹیلی پیتھی کا ماہر دشمن جاسوس میرے ذہن میں جھانک کر اللہ دتّے سے میری بے پناہ محبّت سے واقف ہو گیا تھا۔ جس کا فائدہ اب مقتدرین اٹھا رہے ہیں۔

 

اسی اثناء میں مخبر اعلیٰ کے واچ ٹرانسمیٹر پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔ ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف ملک و ملّت کی پاسبانی اور دوسری طرف وعدے کی نگہبانی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ دتّے کی نگہبانی کے صدقے ہی شاید مجھے سپہ سالاری ملی تھی اگر اسی کام میں ناکام رہا تو روزِ قیامت اس بزرگ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ دتّے کی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے۔ بزرگ نے عنفوانِ شباب تک اس کی سرپرستی کا کہا تھا۔ وہ وقت مکمل ہوا چاہتا ہے۔ شاید میری ذمّہ داری یہیں تک تھی۔ ملک و ملّت کا اصلی مسیحا آنے کو ہے۔ میری قربانی سے اگر اس کا راستہ ہموار ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی۔ جو کام میں پورا نہ کرسکا وہ میرا اللہ دتّا پورا کرے گا۔

 

میں نے مقتدر اعلیٰ کو فون ملایا اور ان کے مطالبے کو پورا کرنے کی حامی بھر لی۔ یہ سنتے ہی ان کی آواز پر چھائی مُردنی یکایک شگفتگی میں بدل گئی۔ وہ حسبِ عادت چکنی چُپڑی باتیں کرنے لگے۔ میں ان کی دلی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کو کھلی چھُٹّی مل گئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹیں۔ ملّت کا شیرازہ بکھیریں۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔۔ مگر ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ
میرا اللہ دتّہ آئے گا۔۔۔۔
Categories
فکشن

تخلص

تہمت لگانا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے جسے ہم خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے ہیں۔ ہم تہمت ایسے لگاتے ہیں جیسے راولپنڈی، اسلام آباد کے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر چائے میں دودھ کی تہمت لگائی جاتی ہے۔
تہمت لگانا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے جسے ہم خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے ہیں۔ ہم تہمت ایسے لگاتے ہیں جیسے راولپنڈی، اسلام آباد کے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر چائے میں دودھ کی تہمت لگائی جاتی ہے۔ ہمارے ایک عزیز دوست جو خود کو شاعر کہنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے ، اور ہمیں ان کا تعارف بطور شاعر کرانے میں بے انتہا شرمندگی ہوتی ہے، اپنا تخلص منتخب کرنے کے حوالے سے بہت پریشان تھے۔ بہت سے عظیم شعراء کرام سے مشاورت کی گئی۔ سب نے حسب توفیق تخلص عنایت فرمایا اور ساتھ میں تاکید کی کہ نہار منہ نسخہ ہائے وفا لے کر، میانی صاحب کے قبرستان کی عقبی دیوار کے پاس جو پانچویں قبر ہے، اس کے پاس روزانہ باآواز بلند فیض کے ہر شعر کے آگے اپنا تخلص جوڑتے جاﺅ۔ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ اول تو یہ کہ تخلص موزوں ہوجائے گا اور دوسرا جو چھٹی قبر خالی پڑی ہے اس پر بہت جلد تمہارے نام کی تختی لگی ہو گی۔

 

موصوف ان دنوں گرم دودھ کے رسیا تھے۔ ہم نے ان سے استفسار کیا کہ حضرت شاعر حضرات تو چائے، سگریٹ اور کچھ شراب کو استعمال میں لاتے ہیں پر آپ کے گرم دودھ سے لگاﺅ کی وجہ ہمیں معلوم نہ ہو سکی۔ خدارا اس راز سے تو پردہ اٹھا دیجیئے۔ وہ بہت دیر سوچتے رہے اور پھر گویا ہوئے ۔ میا ں تم جانتے ہو تم شاعر کیوں نہیں بن پائے؟ ہم نے ہاتھ جوڑ کر کہا ”حضور ! ہم کہاں اس قابل کہ شاعر ی کریں، آپ خود ہی کچھ عرض کریں”۔ موصوف ارشاد فرمانے لگے ”میاں! تم بہت قابل آدمی ہو، مگر تمہیں گرم دودھ سے لگاﺅ نہیں ہے، ہم تو اس لیے پیتے ہیں کہ ہمارے پہ نزول ہی گرم دودھ پینے کے بعد ہوتا ہے۔ تم بھی اس نسخے کو آزما لو، یقین مانو بہت اوپر جاﺅ گے“۔ ہم نے بھی ان کے مشورے پر دھیان دیا اور دو دن روز رات کو موصوف کا تصور کرکے گرم دودھ پیتے رہے۔ شاعری تو ہمارے بس کی بات ہی نہ تھی پر پیٹ ایسا خراب ہوا کہ ہم واقعی اوپر جاتے جاتے بچے۔

 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم رات اپنے چند شاعر، ادیب اور فلسفی دوستوں کے ہمراہ عباسی ٹی سٹال پر ڈیرے جمایا کرتے تھے اور موجودہ حکومت کو سلطنت عباسیہ سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں کرتے تھے
ایک رات موصوف انتہائی پریشانی کے عالم میں مزید پریشان ہونے کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم رات اپنے چند شاعر، ادیب اور فلسفی دوستوں کے ہمراہ عباسی ٹی سٹال پر ڈیرے جمایا کرتے تھے اور موجودہ حکومت کو سلطنت عباسیہ سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور حکومت کی شان میں دو چار موٹی موٹی گالیاں بکنا اپنا فرض اولیں سمجھتے اور پھر کسی دوست کی نظم یا غزل پر سر دھنتے۔ ہمارے اس دوست نے آتے ہی اپنے اشعار کی بوچھاڑ کر کے ہم سب کو چھلنی کردیا۔ ان کے اشعار سن کر ہمارے تمام دوستوں کا ہاضمہ شدید خراب ہوا۔ خیر مسئلہ ان کے تخلص کا تھا اس لیے ہم نے ہمیشہ کی طرح انہیں مفت مشورہ عطیہ کیا کہ جناب! آج سے آپ کا تخلص”تہمتی” ہوا۔ یار دوست اپنا ہاضمہ مزید خراب نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے ہماری رائے کو ہی مقدم جانا۔ ہمارے دوست اپنے اس اچھوتے تخلص پہ بہت نازاں ہوئے اور اگلے ہی دن اپنے اعزاز میں ایک مشاعرہ منعقد کرایا جس کی نظامت بھی ہمیں کرنا پڑ گئی اور سامعین بھی ہمیں ہی لانے پڑے۔ ہم نے انہیں مدعو کیا تو سچ قے کی طرح منہ سے نکل گیا کہ ”میں ایک نوجوان دوست اور شاعر کو مدعو کرنے لگا ہوں جو اپنا تخلص ’ تہمتی ‘ فرماتے ہیں اور حقیقتاً اردو زبا ن و ادب پر تہمت ہیں“۔ بس اس دن کے بعد سے انہوں نے ہمارے سے ناطہ بھی توڑ لیا ہے اور اب ہم ان کی تہمتوں کی زد میں ہیں۔
Categories
نان فکشن

عاشق نامراد کا استعفیٰ

منتظم و مہتمم اعلیٰ ا۔ ب۔ ج،
محکمہ جوروستم، عشوہ و ادا ڈویژن
بارگاہ حسن و جمال۔

 

مضمون:استعفیٰ بوجوہ اندیشہءِ ان فرینڈی و ڈی ایکٹیویشن

 

اے میری جان کی پیاری دشمن — آپ کے کوچہءِ خلد آفریں میں میں دیوانہ وار کام کرتے ہوئے اس مجنوں کو دو برس کا عرصہ ہوا چاہتا ہے۔ کہنے کو تو محبت و عشق میں دو سال کا عرصہ نہایت ہی مختصر و قلیل ہوتا ہے اتنا قلیل کہ رخ لیلیٰ کے رخسار پر موجود تل کی حمدوثنا میں ہی گزر جائے مگر تمہاری محبت و التفات کے بغیر یہ تمام عرصہ اس مفلوک الحال اور غریب الوطن دیوانے پر ایسے گزرا جیسے صحرائے عرب کی تپتی ریت پر قیس نامراد پر انتظار محمل کی صدیاں بیتی ہوں گی، جیسے چناب کی چھلوں پر تیرتی سوہنی پر سازشوں کے جال پھیلے تھے، جیسے رانجھے نے ڈولیاں اٹھتے دیکھی ہوں گی۔

 

یہ دو سال تمہارے قرب کی طلب میں ایسے گزرے جیسے جاں بلب مریض پر وقت نزاع رک جائے۔ جیسے تپتے صحرا میں ایک پیاسا مسافر راستہ بھٹک جائے، جیسے شب فراق کے گھڑیال کی سوئیاں تھم جائیں، جیسے پیاسے کے حلق میں کانٹے اگ آئیں۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ اس عرصہ کے دوران کبھی کبھی صحرا میں بارش کی مانند وہ پر کیف لمحات بھی آئے جن میں تمہاری مسکراتی نظر نے مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اجالے کا کام کیا۔ تمہارے وقتی التفات نے دیوانے کی ٹوٹتی آس وامید کو تمہارے کچھ اورستم سہنے کا حوصلہ دیا۔ پر شو مئی قسمت یہ سلسلہ کبھی طوالت اختیار نہ کر سکا۔ تمہاری تنک مزاجی، نازیانہ روش اور ہٹلرانہ رویے کے باعث اس عاشق نامراد کی عزت و خودداری اور کام کی لگن کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ شرمند گی کے مارے متوفی خود اپنے جنازے میں شرکت سے قاصر رہا۔ میں اسے بھی عاشقی کی ایک رسم جان کرآپ کی صحبت اور کرم نوازی کا منتظر رہا لیکن آپ کی مسلسل بے اعتنائی نے اس عاشقِ لاچار کے لئے امید کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔

 

عشق کے مروجہ دستور کے مطابق راقم تمہارے تمام آن لائن اور آف لائن ظلم و ستم خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ہے، محبت کی رسم زمانہ کے مطابق اس عاشق نے تمہارے سوا کبھی کسی کے سٹیٹس کو اپ لوڈ ہوتے ہی لائیک نہیں کیا، کبھی کسی کی Profile Pic کو So cute نہیں کہا، کبھی کسی کے لیے Feeling Loved کا آپشن استعمال نہیں کیا، ہم نے تو تمہارا جمعہ مبارک کا پہلا فارورڈ میسج ابھی تک ان باکس میں محفوظ کر رکھا ہے، وہ یو ایس بی جس میں تمہیں ٹورنٹ سے “دل والے” کا ایچ ڈی پرنٹ ڈاون لوڈ کر کے دیا تھا ابھی تک فارمیٹ نہیں کی، وہ سِم جس سے تمہیں پہلے پہل تنگ کیا تھا اس کی بائیو میٹرک تصدیق تک نہیں کرائی، کون ہے جو اس عشق کے سائبر سپیس میں میری ہم سری کر سکے؟ یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک سیلفی کی تمنا میں اس لاچار نے کتنے ہی گھنٹے منہ ٹیڑھا کرنے کی مشق کی ہے۔

 

یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ تمہاری شیئر کردہ puppies کی ویڈیوز بھی تین تین سو بار دیکھی ہیں، یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارا گڈ مارننگ لائک کرنے کے لیے ہمسائیوں کے وائی فائی کا پاس ورڈ جان پر کھیل کر بیسیوں مرتبہ چرایا ہے۔۔۔۔۔۔ ہائے وہ چیٹنگ کہ جس کے شوق میں ہم نے پی ایس ایل کے میچ تک نہ دیکھے، ہائے وہ زمانہ جو تیرے ساتھ ٹویٹتے گزر گیا ہائے وہ جوانی جو تیرے پیچھے فیس بکیاتے برباد ہوئی، ہائے وہ تمہارے سکرین شاٹ والے وال پیپر جنہیں پورن دیکھتے ہوئے ہٹا دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ تمہیں ٹیکسٹنگ کرتے جو انگلیاں فگار ہوئیں اور ایزی لوڈ کراتے کراتے جن پیروں میں آبلے پڑ گئے وہ سب رائیگاں گئے۔۔۔۔ وہ تمام سمائیلی جو تمہیں بھیجے بین کرتے ہیں، اب کسی پروفائل پر نگاہ نہیں رکتی، اب کسی کو سٹاکنے کا من نہیں کرتا، تمہارے بعد کسی کو فالو نہیں کیا نہ کسی کو ری ٹیٹ کروں گا۔ ہم ہی ہیں جو تمہارے غلط ہجوں والے میسج اور سٹیٹس قرآن و حدیث سمجھ کر پڑھتے اور حفظ کرتے رہے ہیں۔

 

یہ عاشق تمہارے در پر اپنی عزت، اپنی خود داری اور اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن یہ محبت اس عاشق کا غرور ہے اور اور اس غرور کو خاک میں ملانے کی اجازت یہ عاشق خود اپنی محبت کو بھی نہیں دے سکتا۔ بقول عاشقان کے پیرو مرشد مرزا اسد اللہ غالب مدظلہ عالی:

 

دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

 

اس سے پہلے کہ ماموں کے لڑکے کا رشتہ آتے ہی تم اپنا اکاونٹ deactivate کر دو، اس سے قبل کہ تم اپنا نمبر بدل ڈالو، اس سے پہلے کہ تم اپنی فرینڈ لسٹ میں سے میرا نام مٹا دو یہ عاجز یہ لاچار یہ عاشق نامراد تمہارے حضوراپنا استعفی پیش کرتا ہے۔ تو اس بیمارِ عشق پر برخلاف مزاج ذرا مہربانی فرما کر اس استعفٰی کو قبول فرمایا جاوے۔

 

فقط
عاشقِ نامراد
@یاسر شہباز
#عاشق نامراد کا استعفیٰ
Categories
نقطۂ نظر

جب وہ ڈھکوسلے کریں

جب ہم کچھ نہیں کرتے تو پھر ہم ڈھکوسلے کرتے ہیں۔ روزنامہ پاکستان ٹوڈے میں 4 جولائی 2015 کو ایک اہم خبر بحوالہ سماء نیوز پڑھیئے۔ انٹرنیٹ پہ دستیاب ہوگی۔ آپ کی کچھ سہولت ہم کئے دیتے ہیں۔ محولہ خبر میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ کی جانب سے ایک سمری پر دستخط کرنےاور کچھ لفظوں مثلاً صلوٰت، مسجد، اللہ، رسول کے انگریزی میں ترجمہ کرنے پہ پابندی لگا کے ملت کی روح کو ہائی انرجی ڈرنک دے دیا گیا۔ اس بابت رویتِ ہلال کے سرکاری افسر جناب مفتی منیب الرحمن نہایت مسرور ہیں، اور جامعہ بنوریہ کراچی کے جناب مفتی نعیم تو بہت شاداں اور فرحاں ہیں کہ کیا بات کردی وزیراعظم نے! البتہ وہ پریشان سے دِکھے اور بولے کہ اس اہم اور نہایت اشد ضروری ضابطہ بندی کی گو کہ بہت لمبے عرصے سے ضرورت تھی، پر اس پر پوری تندہی عملدرآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔

 

اسی مردِ مومن کے عہد 1985 میں پی ٹی وی پہ پہلی بار اس وقت کے ایک معروف اینکر نے “خدا” کو چھوڑ کے “اللہ حافظ” کو بزور کہا۔ اور اس کے بعد پی ٹی وی کو اسی پہ جڑے رہنے کی ہدایات مل گئیں۔
خیال آیا کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں پاکستان کے دارالخلافہ میں اسلام زندہ کرنا کتنا آسان کردیا گیا ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے چڑھے سولہویں سال میں محض سمری پہ دستخط کیجئے۔ اللّہ اللّہ خیر سلا ! زندہ ہو گیا اسلام ۔ کیسا آسان ٹوٹکہ پایا، سمری پہ دستخط کرکے ہی مجتہد و مجاہد بن گے۔

 

تو جناب تقریبِ دستخطی سے یہ یقینی بنا دیا گیا ہے کہ کوئی نماز، مسجد، رسول اور اللّہ کی انگریزی میں ترجمہ کرنے کی شرارت اور شرانگیزی سے باز رہے مبادا ‘کیریکٹر ڈھیلا’ کی نرم تعزیر اور ‘تکفیر’ کی جیّد و کرخت ضرب کاری اور آتش فشانی کرنے میں کوئی شک باقی نا رہے گا۔

 

وزیر اعظم کی اس اولو العزمی سے یادداشتوں کے کچھ دریچے کھلے۔ کچھ عشرے پہلے جناب وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے “روحانی ابا جانی” یعنی کہ مولانا جنرل ضیاالحق نے فارسی سے عربی کی طرف ہجرت کی تھی۔ اسی مردِ مومن کے عہد 1985 میں پی ٹی وی پہ پہلی بار اس وقت کے ایک معروف اینکر نے “خدا” کو چھوڑ کے “اللہ حافظ” کو بزور کہا۔ اور اس کے بعد پی ٹی وی کو اسی پہ جڑے رہنے کی ہدایات مل گئیں۔ اور حالات اس نہج کو پہنچے کہ “آج” والے اجمل کمال صاحب کو یہ ایک جگہ یہ لکھتے ہوئے پایا گیا:

 

“یہاں پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ شاید جلد ہی بیدی کی کہانی رحمٰن کے جوتے کا عنوان بدل کر عبدالرحمٰن کے جوتے رکھنے کا مطالبہ کیا جانے لگے۔ خدا کو پہلے ہی سے دیس نکالا دیا جا چکا ہے (میرے گنہگار کانوں نے تو کفر ٹوٹا اللہ اللّہ کر کے جیسی باتیں بھی سنی ہیں؛ خدا حافظ کی جگہ اللّہ حافظ کہنے کے جنونی اصرار سے بیزار ہوکر بہت سے لوگوں نے پنجابی کا سبک فقرہ رب راکھا استعمال کرنا شروع کردیا ہے)۔”

 

یہاں پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ شاید جلد ہی بیدی کی کہانی رحمٰن کے جوتے کا عنوان بدل کر عبدالرحمٰن کے جوتے رکھنے کا مطالبہ کیا جانے لگے۔
یہ وہی روحانی ابا جانی ہیں جنہوں نے “قرارداد مقاصد” کو آئینِ پاکستان کے تعارفی صفحے سے مزید ترقی دے کر آئین کی عمارت کے اندر پلاٹ الاٹ کر دیا۔ اِنہیں ابا جان نے آئین میں 62 اور 63 کی شقیں داخل کرائیں۔ انہیں شقوں کی رُو سے عوامی نمائندوں کے لیے “صادق” اور “امین” کا درجہ پاس کرنا ضروری ٹھہرا تھا۔ اگرچہ جنرل صاحب نے خود اپنی عملی مثال سے بتا دیا تھا کہ ” یہ ہوتی ہے صداقت اور یہ ہوتی ہے امانت” جب انہوں نے نوے روز کے بعد عام انتخابات کے وعدے کو ہر چند ماہ بعد بلکہ دن میں پانچ بار سے بھی زیادہ ترو تازہ کیا۔ بالکل اس دکاندار کی طرح جس نے لوگوں کو ادھار کا تقاضا کرنے سے روکنے کے لیے لکھا ہوتا ہے، “آج نقد، کل ادھار”، اور یہ کل کبھی نہیں آتی۔ ہیں آپ کیا سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے وعدہ خلافی کی؟ بھئی وعدہ توڑا کب تھا جو آپ کہیں کہ وہ صادق اور امین نا رہے، انہوں نے تو بس وعدہ آگے کو دھکیلا۔ بھلا اس سے کیا زد پڑتی ہے صداقت اور امانت کی 62 اور 63 پہ!

 

وزیر اعظم کے انہی ابا جان کی “صداقت اور امانت” گیارہ سالوں پہ محیط لمبی ٹیسٹ سیریز کی سالگرہ کا کیک کاٹنے سے عین ایک دن پہلے یعنی چار جولائی کو میاں صاحب نے ایک بار پھر مسجد، نماز اور اللہ کے انگریزی میں ترجمے کرنے کی ممانعت کرکے اسلام کو اپنے تئیں پھر سے بچا لیا اور نافذ بھی کر دیا۔ اور ایک دوسری سطح پہ دیکھیں تو سعادت مندی اور فرزندگی کی نئی لاٹیں مارتی مثال قائم کر دی، نیا نصاب مرتب کر دیا۔ ابا چھپائیں تو بیٹا لے آئیں، نئی بوتل میں وہی پرانا مشروبِ مشرق!

 

تو اب جناب آپ کو اردو اور انگریزی میں سوچتے، بولتے اور لکھتے، چھاپتے اور چھپواتے وقت اپنے آپ پہ پہرے بٹھانے ہوں گے کہ کہیں چُوک نہ ہو جائے۔ ورنہ قریب ہے کہ اپنا دین، مذہب اور ایمان ہاتھ سے گنوا بیٹھیں۔

 

اور ہاں جو حضرات و خواتین جو انگریزی زبان پر اپنے خیال و افکار لاد کر لے جانے کا کام کرتے ہیں وہ تو زیادہ ہی محتاط ہو جائیں۔ وہ تو پہلے ہی نشانے پر ہیں کہ یہ کیوں ابھی “خدا حافظ” اور “ہیلو، ہائے” پہ ہی ٹِکے ہوئے ہیں۔ انہیں کیونکر زیادہ محتاط رہنا ہوگا؟ بھئی انگریزی لکھتے بولتے کہیں اتنے سالوں کی مشق کے بعد کہیں منہ سے مسجد کی بجائے mosque نکل گیا، رسول کی جگہ prophet نکل گیا یا کہیں اللّہ کو God کہہ بیٹھے تو قانون شکنی کی ذمہ داری آپ کو جھیلنا پڑھ جائے گی۔

 

جی کیا؟ ہم بھی انگریزی پڑھاتے ہیں۔ صاحب شکریہ ہماری فکر کرنے کا۔ ہماری ذاتی طور پہ تو خیر ہی ہے کیونکہ ہم نے تو کب کی انگریزی میں لکھنا ترک کر دیا؛ پڑھتے بھی ہیں تو چھپ چھپا کے۔ قانون تو اب بنا ہے پر ہم نے تو انگریزی بولنا اور لکھنا اس دن ہی بند کر دیا تھا جب اس عہد کے بقراطِ پاکستان جناب اوریا مقبول جان نے کامران شاہد کے دنیا ٹی وی پر پروگرام جناب پرویز ہود بھائی کے ساتھ “مُتکّے” میں کہا تھا کہ انگریزی صرف اوریا مقبول جان کو ہی آتی ہے کیونکہ اس نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہوا ہے، پرویز ہودبھائی تو جاہل مطلق ہے۔ اور تو اور جناب انصار عباسی کی عاقل اور بالغ گواہی اس پہ مستزاد کہ اوریا مقبول کی انگریزی کے آگے سب خلاص۔

 

تو اب جناب آپ کو اردو اور انگریزی میں سوچتے، بولتے اور لکھتے، چھاپتے اور چھپواتے وقت اپنے آپ پہ پہرے بٹھانے ہوں گے کہ کہیں چُوک نہ ہو جائے۔ ورنہ قریب ہے کہ اپنا دین، مذہب اور ایمان ہاتھ سے گنوا بیٹھیں۔
سو ہم نے تو اسی دن ہی اپنی ناک، ٹانگ، گردن اور بازوؤں کو بچانے کے لئے انگریزی لکھنا پڑھنا چھوڑ دیا تھا کہ ہم بھی پرویز ہود بھائی کی طرح جاہل ہی ہیں کہ ہمیں ملالہ یوسفزئی کی کتاب میں وہ چیزیں نہیں مل پائی تھیں جو ان ہر دو صاحبانِ کشف کو مل گئی تھیں۔ حتیٰ کہ ہم نے تو اپنے طالب علموں کو انگریزی بھی اردو اور عربی میں پڑھانا شروع کردی تھی۔ اب کی بار جو “نئے قانون” کی سمری پہ جنرل ضیاء الحق کے روحانی فرزند جناب وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ نے دستخط کیے ہیں تو انگریزی نا لکھنے، نا پڑھنے اور نا ہی پڑھانے کی ضرورت کئی چند ہوگئی ہے۔ تو پھر کریں گے تو کیا؟ وہی کریں گے جب کچھ نہ کرنا ہو۔ بھئی ڈھکوسلے کریں گے۔

 

ہم تو مضمون کو تہہ لگانے لگانے تھے پر کچھ دنوں پہلے کی ایک اور خبر ذہن میں آگئی۔ دن بدل گئے پر دماغ اور حالات نہیں۔ اسی لڑی سے ایک اور معرکہ آرائی کا تحفہ قبول کیجئے۔ یہ دسمبر 2015 کا وسط ہے۔ پشاور اسکول کے بچوں کی برسی کا دن ہے۔ قومی اسمبلی محفل آرا ہے۔ دوسرے کسی بھی ملک میں مجلس قانون ساز عام طور پر قانون سازی کا خشک کام کرتی ہیں، عاملہ اور اس کے اداروں کی بابت باز پرسی کرتی ہیں، ان کا احتساب کرتی ہیں۔ لیکن یہاں صاحبانِ کمال کی مزید لاجواب سرگرمیاں سنیں۔ یہاں شہدائے دسمبر کے متعلق کسی ادارے کی بازپرسی کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا گیا۔ بلکہ ان معصوم اور ننھے شہیدوں کی روح کے کو ایصال ثواب فراہم کرنے کے لئے قرآن خوانی اور دعا کا تحفہ نذر کیا گیا۔ حتٰی کہ اسی بے عملی کے صدقے کئی اور پڑھنے کے لئے گئے بچے اور نوجوان نا چاہی شہادتوں سے سرفراز ہوچکے ہیں۔ ابھی چارسدہ کے جوانوں کی قبروں کی مٹی خشک تو نہیں ہوئی۔

 

اسمبلیوں میں موجود نمائندوں سے شاید ہمیں قرآن خوانیوں سے زیادہ وہ کچھ چاہئے جو ان اسمبلیوں کا اصل کام ہے، ورنہ قرآن خوانیاں اور نعتیں تو ہم خود بھی پڑھ لیتے ہیں۔ ان کا کام اسمبلیوں کی کاروائیوں میں نعت اور درس حدیث کو شامل کروانا یا انگریزی میں مقدس اصطلاحات کے تراجم پر پابندیاں لگوانا اتنا زیادہ ہر گز نہیں جتنا اُس اللہ اور اُس کے رسول (ص) کے ماننے والوں کے روح و جسم کا ناتہ برقرار رکھنے کے سلسلے میں احتساب و عمل کا ہے۔ ورنہ کہنے والے تو مجبوراً کہیں گے کہ: جب وہ کچھ نہیں کرتے تو پھر محض ڈھکوسلے ہی کرتے ہیں۔ ان کہنے والوں کو اپنے عمل سے خاموش کرائیں نا کہ اپنے سے غیر وابستہ و غیر متعلقہ روحانی کارگزاریوں سے۔
Categories
نقطۂ نظر

اسلام آباد کی ٹیکسیاں کیا؟ شاہسواریاں

یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ ہر صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد اکٹھی کر دی گئی ہیں۔
ٹیکسیاں کراچی میں بھی ہوتی ہیں اور بہت بڑی ہوتی ہیں۔ لاہور میں البتہ ان کی خالہ کا بیٹا رکشہ زیادہ پُھدکتا پھرتا ہے۔ اسلام آباد میں بھی سابقہ دارالخلافہ کراچی کی سُنت میں ٹیکسیاں ہی ہوتی ہیں اور اِنہیں کا آج ہم نثری نغمہ بجائیں گے۔ نہیں بھائی، بینڈ وینڈ بجانے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ ایسی باتیں جی میں مت ہی لایا کریں۔

 

اسلام آباد ملک کا وفاقی درالحکومت ہے۔ اس کی شاہراہوں پہ بلکہ جرنیلانہ، وزیرانہ، مشیرانہ، افسری گریڈانہ اور ان کے دفتر کی آستین میں جَڑے اعلٰی و طاقتور پرسنل اسسٹانہ راہوں کے منظر کا اہم جزو یہ ٹیکسیاں بھی اپنے تشخص و جوہر میں بہت وفاقیت کی حامل ہیں۔ اب میں سیاسیات کا علم جھاڑنے کی بالکل کوشش نہیں کروں گا کہ “پیارے بچو، وفاقی نظام یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔” مجھے پتا ہے آپ پڑھے لکھے پاکستانی ہیں۔

 

تو عرض کیا تھا کہ یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ ہر صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اس قدر پرانی ہیں کہ انہیں بنی نوعِ کاراں کے اسلاف کا رتبہ حاصل ہے۔ بڑی خوش ہوتی ہیں اتنا بغیر پوچھے بتائے کا ادب و احترام کی سزاوار بن کے۔ اتنی پرانی بھی ہیں کہ ان میں سے بعضوں پہ یونیسکو والے مسلسل اور گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ موہن جو ڈارو سے تو نہیں لائی گئیں۔ بس اب کچھ ہی وقت باقی ہے انہیں باضابطہ طور پر “قومی و اجتماعی انسانی تاریخی ورثہ” قرار دینے میں۔ اس لیے جلدی جلدی ان کا جُھولا، یا جسے پنجابی میں “چُوہنٹا” کہتے ہیں، لے لیں ورنہ بعد میں تو انہیں دنیا جہاں کے عجائب گھروں کو کچھ “یار لوگ” سمگل فرما دیں گے، جس طرح کہ باقی ملکی نوادرات کے متعلق کبھی کبھار اچانک خبر آ جاتی ہے کہ کوئی کھیپ پکڑی گئی۔ ہورے کتنی کھیپیں قدردانوں تک پہنچ بھی تو جاتی ہوں گی۔

 

ان اسلام آباد کی شاہ سواریوں کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی مملکتِ پاکستان کے سیکرٹیریٹ کی فائلوں کی ہوتی ہے۔
ان اسلام آباد کی شاہ سواریوں کی رفتار اتنی ہی ہوتی ہے جتنی مملکتِ پاکستان کے سیکرٹیریٹ کی فائلوں کی ہوتی ہے۔ اب اگر آپ نے اس شاہ سواری کا سفر کیا ہے یا کبھی آپ کی فائل ان مخروطی توند والے بابوؤں کے زیرِ دام آئی ہے تو آپ عاقل اور بالغ گواہ بن سکتے ہیں، اگر نہیں تو کوئی ٹیکسی والا ہی وعدہ معاف گواہ کرنا پڑے گا کہ چلتے میں کچھوے اور خرگوش کی کہانی میں کچھوے کو بھی چاروں شانے چِت کرا دیں۔ لیکن خدا نہ کرے خراماں خراماں چلتے رستے میں اگر کبھی بارش آجائے تو یہ ناک میں پانی ڈلنے کے کارن سڑک کنارے اُبکائیاں لیتے کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں آپ کو ٹانگے کہ آگے جُتا بِدکا اتھرا گھوڑا تو کافی معصوم لگنے لگتا ہے۔

 

ان کے کرائے؟ بس کے کرائے ہوتے ہیں۔ مطلب جو ان کے سائیسوں یعنی ڈرائیوروں کے استادانہ منہ سے نکل گیا وہی مستند ہوتا ہے۔ ان میں میٹر ندارد۔ یوں بھی آج کے دنوں میں بجلی کا میٹر ہی کیا کم ہے جو یہاں بھی میٹر درکار ہو۔ کرایہ۔۔۔ بس زبان کی خود ساختہ مشین سے ہی کام تمام۔ ان اسلام آباد کی ٹیکسیوں کے کرایوں پہ تیل کی قیمتوں کا صرف اوپر کی طرف اثر ہوتا ہے۔ اگر قیمتیں کہیں نیچے آ جائیں تو ان کی جانے بلا۔ کہتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے پٹرول کی قیمتوں میں چند کوڑیاں کم ہو جانے سے۔ آپ لاکھ کہو کہ سعودی عرب کا بجٹ اس تیل کی دھار کی وجہ سے خسارے کی گھاٹیوں میں چلا گیا۔ تو جواب دیں گے کہ کیا کہتے ہو بھیا وہ تو یمن یافتہ ہوا ہے۔ بہر صورت زیادہ کرایہ مانگ لیتے ہیں۔ عادت اور جیب کی تنگ دامنی سے مجبور آپ وجہ پوچھیئے تو کہیں گے کہ “بھئی دودھ مہنگا ہوگیا ہے، خشک میوے مہنگے ہوگئے ہیں۔” بندہ کچھ دیر تو دماغ پہ زور دیتا ہے کہ بھلا مشین کو دودھ، دہی، لسّی یا مونگ پھلی سے کیا لینا دینا! لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اپنے دماغ کی پوٹلی سنبھال کے اپنی راہ لیتا ہے۔ ویسے بھی اپنے اسحاق ڈار صاحب (جو ڈارون سے بس ون یعنی ایک درجہ ہی پیچھے رہ گئے ہیں) کے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے نظریہِ ارتقاء کی گتھیاں سلجھانے کی کوششوں ہی میں عام آدمی کے خالی معدہ میں تبخیر ہو ہی جاتی ہے۔

 

آپ اگر ان کی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے چرنوں پہ ان ٹیکسیوں کی پٹرول کی بوتل پڑی ملتی ہے۔ اس میں سے ایک رگ میں سے پٹرول انجن کی طرف گامزن ہوتا ہے اور دوسرے طرف سے سواری کے نتھنے میں۔
گو کہ یہ بات ابھی تحقیق طلب ہے اور امید ہے کہ کوئی سبزی بیچنے والا اس کا کوئی نتیجہ نکال ہی لے گا کہ ان گاڑیوں کی حرکت کون سی حرکیات کے زمرے میں آتی ہے۔ ہیں، کیا؟ آپ کو اعتراض ہے کہ سبزی والا اب طبیعات و میکانیات کے سر بستہ راز کھولے گا؟ ویسے آپ بھی کمال کے بھلے مانس ہیں جب ڈاکٹر مجاہد کامران پنجاب یونیورسٹی والے ایک کیمیا دان ہونے کے با وصف نو/گیارہ کی سازشی توجیہات سے ہمارے کند ذہنوں کو منور کرسکتے ہیں، داعش کے متعلق کتابیں رقم کرسکتے ہیں، تو سبزی والے کو آپ اتنا ہی فاتر العقل سمجھتے ہیں کہ وہ میکانیات و حرکیات کی روح کو چشمے نہیں پہنا سکتا۔ اس میں کیا شک ہے کہ سائنس، سائنس کی ڈگریوں والوں کی تو گھر کی مرغی ہوتی ہے۔ اب اگر وہ اس پہ کام کریں گے تو وہ اسے دال ہی کردیں گے نا۔ آپ ان کا وقت مت ضائع کیجئے انہیں اخباروں میں کالم اور آرٹیکل لکھنے دیجئے۔

 

کس جھنجھٹ میں پڑ گئے تھے ہم بھی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ اسلام آباد کی ٹیکسیاں حرکت کرتی ہیں۔ گو کہ زیادہ بار تو دھکے سے ہی حرکت کرتی ہیں لیکن پھر بھی سنہ دو ہزار کے شروع میں جب پاکستان “ترقی ہی ترقی” کرتا جا رہا تھا اس دوران ایک گیس آئی جسے سی این جی کہتے تھے۔ ان اسلام آباد کی ٹیکسیوں پہ بھی سی این جی لگ گئی۔ تو چند سال ان کی رگوں میں گیس دوڑی۔ یہ کچھ سستے بھاؤ میں مل جاتی تھی۔ اب جب یہ سی این جی کا رمضان طویل ہوا تھا یہ ٹیکسیاں “پٹرول کی بوتل” پہ لگ گئیں۔ آپ اگر ان کی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھیں تو آپ کے چرنوں پہ ان ٹیکسیوں کی پٹرول کی بوتل پڑی ملتی ہے۔ اس میں سے ایک رگ میں سے پٹرول انجن کی طرف گامزن ہوتا ہے اور دوسرے طرف سے سواری کے نتھنے میں۔ ساتھ والی سیٹ پر ڈرائیور اپنے منہ میں سگریٹ ڈال کر زندگی کے غموں کو اسلام آباد کی ہواؤں میں غلط کرتا ہے۔ سواری دعا کرتی ہے مولا آج بچا لینا جیسا کہ تو نے اتنے سالوں سے خود کش بمباروں سے بچا رکھا ہے۔ بشرطیکہ کسی وی آئی پی کے لیئے روٹ نا لگا ہو یہ اسلام آباد کی ٹیکسیاں اپنی حرکت میں بابرکت رہتی ہیں، لیکن ہمیں اب اجازت دیجئے۔

Image: Dawn News

Categories
فکشن

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

سپہ سالار کی ڈائری پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سو گئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہو گی۔۔ نہ نماز نہ روزہ۔ غسل جنابت سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔ فجر ادا کر کے تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ ہلکا پھلکا سا ناشتہ جو دو پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے پر مشتمل تھا، کیا۔ دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہو گیا۔

 

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سو گئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہو گی۔
صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہو گئی تھی۔ رستے میں دو جگہ اشارہ بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔ اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑ جاتا۔۔ الحمدللہ۔۔۔

 

دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگا چکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کے ساتھ ڈیلنگ کرنی۔۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے۔۔ یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔ نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔

 

دکان میں داخل ہوتے وقت معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائی تھیں، وہ پڑھیں، اور ردّ بلا کے لیےدم کیا۔

 

فیقا معمول کے مطابق میرے گدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اس کی چائے اچھی نہیں ہوتی۔ اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔ حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہو جائے۔ حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہو جاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔ اللہ تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔

 

گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔ نہ نہ کرتے بھی چار نان کھا گیا۔ پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔
گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔ نہ نہ کرتے بھی چار نان کھا گیا۔ پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔ اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔ اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ اس سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔ یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔

 

ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔ آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔ بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔ طویل عرصے سے اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ اللہ۔۔ کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔ استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔ ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاو اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے۔

 

کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔ پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔ کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔

 

کھانے کے بعد قیلولہ کیا اور عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔ اذان دینے کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے ورد اور وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔ واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک بھگتائے ہیں۔ پوری توجہ سے بل چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔ اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟

 

سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارِثواب پر چوں چرا کرنا گناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔
مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔ اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔ اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہے۔ اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔

 

رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں، یہی حکم ہے۔ بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے ماشاءاللہ۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے، قوت باہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔ نظربددُور۔

 

عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ان کی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ پُتّر، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔ بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔ میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ عمرے سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔

 

سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارثواب پر چوں چرا کرنا گناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔

 

بہرکیف، جب تہبند سنبھالتے ہوئے، بیت الخلاء جانے کےلیے اٹھا تو زوجہ سوچکی تھی۔
Categories
فکشن

ایک مسجد دو مولوی

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد اس شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ-قسط نمبر 2

 

مثل مشہور ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں، ایک بستی میں دو راجا اور ایک مسجد میں دو مولوی نہیں سما سکتے۔ ہماری مسجد، بفضل تعالیٰ یہ اعزاز بھی رکھتی ہے کہ اس نے دو مولوی ایک منبر، ایک سپیکر، ایک صندوقچی اور ایک ہی مدرسے میں سنبھالے رکھے ہیں گو یہ اعزاز خانہ خدا کے حصے میں بہت دیر نہ رہایعنی دو مولویوں میں محض مرغی ہی نہیں خانہ خدا بھی۔۔۔۔۔ خیر ہمارے مفتی صاحب یوں تو ایک صلح جو آدمی ہیں اور دوسرے کی آزادی کی حد وہاں تک سمجھتے ہیں جہاں تک ان کی داڑھی، ان کی توند، ان کی مسجد اور ان کا محلہ ہے۔ اگر کوئی ان کے محلے میں گھس کر، ان کی مسجد میں آ کر ان کی ہی داڑھی کے تنکے تلاشنے لگے تو بھیا پھر یہ حرکت ہر طرح سے فساد فی الارض قرار پائے گی اور اس فتنہ کو رفع کرنا واجب، خواہ یہ فتنہ ساز ان کے اپنے برادر محترم ہی کیوں نہ ہوں۔

 

مسجد خدا کا گھر ہے سو یہ قبضہ کسی طور ناجائز نہیں ہو سکتا کیوں کہ پلاٹ جس زمین پر ہے وہ زمین بہر طور اللہ کی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے کسی غیر اللہ سے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے مفتی صاحب اور ان کے بڑے بھائی کا مسجد کی تولیت پر جھگڑا ہوگیا۔ اب بھلے مسجد خدا کا گھر ہے لیکن اس گھر کے رکھوالوں کا کنبہ خاصا وسیع ہے۔ جھگڑا تو ہونا تھا۔ یہ مسجد ان کے والد صاحب نے بنائی تھی۔ یار لوگ پیٹھ پیچھے اڑاتے پھرتے ہیں کہ ایک پلاٹ پر ‘قبضہ’ کر کے بنائی تھی۔ لیکن حاسدین کا منہ کون بند کرے؟ مسجد خدا کا گھر ہے سو یہ قبضہ کسی طور ناجائز نہیں ہو سکتا کیوں کہ پلاٹ جس زمین پر ہے وہ زمین بہر طور اللہ کی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے کسی غیر اللہ سے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں۔ خیر مفتی صاحب کے جنت مکیں والد کی تعمیر کردہ یہ مسجد گزشتہ چالیس برس میں کئی کشادگیاں اور توسیعات دیکھ چکی ہے پھر بھی یہ اتنی وسیع نہیں ہو سکی کہ دو مولوی بیک وقت اس میں سما سکتے۔

 

مفتی صاحب کے والد محترم وفات کے بعد ایک مسجد، ایک مدرسہ، دو بیوائیں اور قریب ایک درجن بچے چھوڑ گئے جن میں سے صرف دو بیٹوں نے ہی’ آبائی پیشہ’ (ایک سے پرائمری پاس نہیں ہوئی اور دوسرا سکول ہی نہیں گیا)اختیار کیا۔ والد کی وفات کے بعد دونوں بھائی اسی ایک مسجد میں پڑ رہے۔ اس مسجد کے کرتا دھرتا تو ہمارے مفتی صاحب تھے لیکن منبر بڑے بھائی صاحب کے سپرد تھا۔ جب تک بڑا بھائی مسجد کا خطیب رہا، مسجد ‘معمول’ کے طور پر ‘چلتی’ رہی اور معمول کے مطابق ‘آمدنی’ (ہمارے مفتی صاحب آمدنی ہی کہتے تھے) آتی رہی جس سے لشتم پشتم گزراوقات ہوتی رہی۔ لیکن جب ہمارے شعلہ بیان مفتی صاحب نے مسجد سنبھالی تو مسجد کی آمدنی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی آمد کا فائدہ اسلام کے ساتھ ساتھ محلے کے ڈاکٹر کو بھی ہوا کہ ہر تقریرسے ڈپریشن، سردرد اور نقص سماعت کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا۔ مسجد کی ایک صندوقچی کی بجائے دو صندوقچیاں بھرنے لگیں، پہلے ایک مینار پر سپیکر نصب تھے اب دو پر ہیں اور پہلے مفتی صاحب کی زیادہ سے زیادہ ایک زوجہ تھیں اور اب سنا ہے کم سے کم دو ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ برکت نہیں بلکہ سعودیہ جانے والوں کی معاشی آسودگی کا ایک لازمی ردعمل ہے مگر بھائی کس کس کی زبان پکڑی جائے؟

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔
لیکن جہاں دولت آتی ہے وہاں جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ بڑے بھائی نے پہلے تو گاڑیوں کے لین دین کا کاروبار شروع کیا جس پر بعض شرفاء نے انگلیاں بھی اٹھائیں کہ مسجد کا روپیہ غلط جگہ استعمال ہو رہا ہے لیکن خوش قسمتی سے یہ شرفاء قبروں میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے اور یقیناً ان کے جنازے مفتی صاحب نے ہی پڑھانے تھے سو جلد ہی یہ اصحاب خاموش ہو گئے۔ یہ حضرات تو خاموش ہو گئے مگرگاڑیوں پر چوں کہ بڑے مفتی صاحب کی نیک نیتی اور دیانت داری کا کوئی اثر نہ تھا، سو انہوں نے منافع دینے سے انکار کر دیا۔ کاروبار نہ چلا تو بڑے بھائی نے دوبارہ منبر ومحراب سنبھالنے کا قصد کیا اور یوں مسجد کی تولیت کا جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ دونوں بھائی اور اوپر سے دونوں پشت ہا پشت سے مولوی بھی، یعنی نور علی نور، دونوں نے ایک دوسرے پر بندوقین تان لیں۔ لگ رہا تھا کہ ابھی دو چار لاشیں گرنے والی ہیں۔ تاہم، ہمارے مفتی صاحب ذرا زیادہ سمجھدار تھے۔ انہوں نے اس کا خوب حل نکالا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کالونی کے فلاں بلاک میں مسجد نہیں ہے، وہاں کے نمازیوں کی نمازیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اہلِ خیر وہاں مسجد کے لیے پلاٹ کا انتظام کریں۔ وہ علاقہ بھی پوش علاقہ تھا۔ ایک صاحبِ خیر نے لبیک کہتے ہوئے اپنا لاکھوں یا شاید کروڑوں کا پلاٹ پیش کردیا(یہ الگ بات ہے کہ ان صاحب کے خلاف نیب میں دو مقدمات چل رہے ہیں)۔ پلاٹ پر ‘مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالیے اور جنت میں اپنا محل بنوائیے’ کا بورڈ لگا دیا گیا۔ چند دنوں میں مسجد تعمیر ہوگئی۔ پھر مزید ‘آمدنی’ کے لیے اس میں مدرسہ بھی بنا دیا گیا۔ اور یوں دونوں بھائیوں نے خدا کے دین کی خدمت کے لیے ایک کی بجائے دو مراکز بنا کر ‘ثوابِ دارین’ حاصل کرنے کا مستقل انتظام کر لیا۔ خدا خیر رکھے تو ہمارے مفتی صاحب کے بھی آخری اطلاعات کے مطابق دوصاحب زادے ہیں، سو گمان کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں مزید مساجد کا قیام اسی طرح جاری رہے گا ۔