Categories
نان فکشن

دوسرا پیگ

آپ مانگا منڈی چلے جائیں۔ آپ ٹنڈو جام چلے جائیں۔ آپ سبّی، لکّی مروت، چونیاں، لورا لائی، تخت بھائی، ٹھٹّھہ، مٹیاری الغرض کہیں بھی چلے جائیں۔ آپ کو لوگ شرابیں پیتے ملیں گے۔ یہ دیسی بھی پیتے ہیں۔ یہ کھانسی کے شربت بھی پی جاتے ہیں۔ یہ ولائیتی بھی چڑھا جاتے ہیں۔ یہ پونڈے بھی پی جاتے ہیں۔ یہ زہریلی شرابیں بھی پی جاتے ہیں۔ پھر مر بھی جاتے ہیں۔ مگر یہ شرابیں چھوڑتے نہیں۔ یہ جب پینا شروع کرتے ہیں تو بوتل کا کھنگار تک پی جاتے ہیں۔ یہ خالی بوتل بھی بیس بیس منٹ تک سونگھتے رہتے ہیں۔رینڈ کارپوریشن کی حالیہ سٹڈی کے مطابق دنیا میں دس لاکھ سال سے شراب پی جا رہی ہے۔ آج تک ایک بھی واقعہ ایسا ریکارڈ میں نہیں کہ کسی نے صرف ایک پیگ پی کے بس کر دی ہو۔ لوگ شروع کرتے ہیں پھر بوتل ختم ہوتی ہے یا ہوش۔ اس سے پہلے کوئی بس نہیں کرتا۔

آپ شیدے کو دیکھ لیں۔ یہ ورزش بھی کرتا ہے۔ یہ اچھی خوراک بھی کھاتا ہے۔ یہ منہ متھے بھی لگتا ہے۔ یہ پنڈ کی مٹیاروں میں تبّت سنو سے زیادہ مقبول ہے۔ یہ اکثر رات کو کمادوں میں سے نکلتا پایا جاتا ہے۔ اس کے موڈھے پر ہر وقت بڑا صافہ پڑا رہتا ہے۔ یہ منہ صاف کرنے کے کام بھی آتا ہے۔ یہ بوقت ضرورت زمین پر بچھایا بھی جا سکتا ہے۔ شیدا اس سے سارے کام لیتا ہے۔ شام کو تلنگوں کی منڈلی جو کچّے کھوہ کے پاس لگتی ہے اس میں شیدے کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ یہ بڑے مزے دار واقعات سناتا ہے۔ یہ تلنگوں کو موٹیویٹ کرتا ہے۔ ان کو مذہبی تاریخ سے واقعات سناتا ہے کہ کیسے حضرت محمود غزنوی نے سونے کے بت توڑے اور سونا غزنی لے گئے اور عیش کی۔ اس کی موٹیویشن پر کئی تلنگے آج کل جیل میں ہیں۔

جیرے کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ منڈلی میں دیسی لائے۔ جیرا بہترین دیسی کشید کرتا ہے۔ شیری مان نے جیسے کہا تھا
“ہتھ دی کڈّی، سواد اولّے”۔۔۔ بالکل وہی سنیریو بن جاتا ہے۔ پھر سب اس وقت تک پیتے ہیں جب تک ایک دوسرے کی ماں بہن ایک نہ کرنے لگ جائیں۔ شیدا مگر ایک پیگ کے بعد بس کر دیتا ہے۔ پہلے سب اصرار کرتے تھے۔ ہور پی شژادے۔۔۔ ڈر دا کیوں ایں؟ مگر شیدا ہنس کر ٹال جاتا تھا۔ اب یہ معمول بن گیا ہے۔ سب پی کر انٹا غفیل ہو جاتے ہیں اور شیدا بیٹھا مسکراتا رہتا ہے۔

شراب ختم ہوتی ہے تو ساری منڈلی اوندھی پڑی ہوتی ہے۔ اس وقت شیدا اپنا صافہ جھاڑ کر موڈھے پر دھرتا ہے اور کمادوں کی طرف نکل جاتا ہے۔

شیدے کا ایک پیگ سارے پنڈ میں مشہور ہے۔ لوگ اس سے پوچھتے ہیں۔ وائے ون پیگ؟ وہ ہنس کر آنکھ مارتا ہے اور بات ٹال جاتا ہے۔ پینو کی بات مگر شیدا نہ ٹال سکا۔ جون کے تپتے دن کے بعد رات ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو شیدا اپنا صافہ لے کر پینو سے ملنے کمادوں کی طرف نکلا۔ پینو نے شیدے کو گھُٹّ کے جپھّی پائی (جپھّی اک واری گھُٹ کے توں پا گجرا)۔ شیدے نے صافہ موڈھے سے اتارا۔ بچھانے لگا تو پینو نے انگلی کے اشارے سے منع کیا۔ “پہلے اج اک پیگ دی کہانی سنا۔۔۔ نئیں تے میں ہتھ نئیں لان دینا۔۔۔” پینو کے چہرے پر کمٹڈ لُک تھی۔

شیدے نے گہری سانس لی۔ صافے سے ماتھا پونچھا۔ بائیں ہاتھ سے جانگھوں میں خارش کی۔ دھوتی کو گھٹنوں تک اٹھایا۔ پینو کو ہارنی آمیز نظروں سے دیکھا اور ایک پیگ کی داستان شروع کی۔

شیدے نے پینو سے کہا کہ اسے اس صافے کی قسم ہے اگر اس نے یہ بات کسی اور سے کی۔ شیدے کا علم لا انتہا تھا۔ وہ کسی سکول میں نہیں گیا۔ اس نے کبھی کتاب کی شکل نہیں دیکھی لیکن پھر بھی اسے ہر چیز کا علم ہوتا تھا۔ وہ موٹر سیکلیں ٹھیک کرلیتا تھا۔ وہ سائیکل کے فیل کتّے پاس کر دیتا ہے۔ وہ پیٹر انجن ٹھیک کر لیتا تھا۔ اسے نورانی قاعدہ زبانی یاد تھا۔ شیدے نے کہا کہ اسے پتہ ہے کہ زیادہ شراب پینے سے انسان ریلیکس فِیل کرتا ہے۔ اس کنڈیشن میں وہ دل کی باتیں کر جاتا ہے جو عام حالت میں نہیں کر سکتا۔

شیدے نے پینو کا ہاتھ تھاما۔ دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹا۔ پینو تھوڑا کسمسائی۔ پھر شیدے نے گہری آواز میں کہا، “اب جو میں بتانے لگا ہوں اس کو سن کر ڈر مت جانا۔ دیکھ میری مکھن ملائی۔۔۔۔ اگر کسی دن دوسرا پیگ لگا لیا اور بگ بینگ والا منظر بیان کردیا تو تجھے علم نہیں کہ کیا گھٹنا گھٹ سکتی ہے۔”

پینو تھوڑا حیران ہوئی تھوڑا ڈر بھی گئی۔ شیدے سے لپٹ کر بولی، “اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا تم نے بگ بینگ دیکھا تھا؟”
شیدا گہری آواز میں ہولے سے ہنسا،
“دیکھنا کیا۔۔۔ میں نے ہی بگ بینگ والے دھماکے کو لائٹر دکھایا تھا۔”

پینو بے ہوش کر شیدے کی بانہوں میں جھول چکی تھی۔

Categories
نقطۂ نظر

زہریہ ٹاون

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ حالِ دل پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

میں دل شکستہ ہو چکا تھا۔ مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کر کے کانوں سے دھوئیں کی شکل میں نکل رہی تھی۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی عینک دیوار پر دے ماروں لیکن پھر خیال آتا تھا کہ یہ بھی ٹوٹ گئی تو کھمبوں سے ٹکراتے ٹکراتے کیسے گھر پہنچوں گا۔ جونہی میں کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اشرف قصائی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اسے تھپتھپایا۔ اور سرد لہجے میں یاددہانی کراتے ہوئے بولا،”چوہدری صاحب دس ہزار روپے ہو چکے ہیں، اگلے ہفتے تک ادا ہو جانے چاہیئں”۔ میرا جی چاہا کہ جھنگ روڈ پر جا کے این ایل سی کے ٹرالے کے سامنے کود جاوں۔ مجھے پتہ تھا کہ اگلے ہفتے تک، دس تو کیا، میں ایک ہزار کا بھی بندوبست نہیں کر سکتا۔ تنخواہ ملنے میں ابھی بیس دن باقی تھے اور کوئی مجھے ادھار دینے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے اللہ دتے کی وہ حالت یاد آ گئی جو پچھلے مہینے اشرف قصائی کے بیٹوں کے ہاتھوں ہوئی تھی اگرچہ وہ صرف پانچ سو کا ہی مقروض تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں جوئے کے اڈے سے باہر نکلا۔ ابھی دس قدم چلا ہوں گا کہ گلی کی نیم تاریکی سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ملک نیاز تھے!!!

 

میں دل شکستہ ہو چکا تھا۔ مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کر کے کانوں سے دھوئیں کی شکل میں نکل رہی تھی۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تاریکی میں پارک کیے ہوئے ستر ماڈل ویسپے کے پاس لے آئے۔ کک مار کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بادلِ نخواستہ پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ ملک صاحب، مہارت سے ویسپا ڈرائیو کرتے ہوئے منڈی کوارٹر کی طرف رواں دواں ہو گئے۔ منڈی کوارٹر کے ایک خستہ حال مکان کے سامنے جا کر انہوں نے ویسپا روکا۔ مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور ویسپے کو سٹینڈ پر لگا کر مخصوص انداز میں دروازے پر تین بار دستک دی (پینی۔۔۔ پینی۔۔۔۔۔۔۔۔ پینی۔۔۔۔) دروازہ ایک درمیانی عمر کی پختہ کار عورت نے کھولا اور ہماری طرف دیکھ کر خوف صورت انداز میں مسکرائی۔ ملک صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اندر گھس گئے۔ بیٹھک میں دو کرسیاں، ایک میز جس کا پایہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اینٹیں بھی نہیں رکھی گئی تھیں، اور ایک جھلنگا سی چارپائی تھی جس پر ایک میلا سا گدا بچا ہوا تھا۔ دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر “نور” معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔ دو کش لگا کر انہوں نے مجھے واری لگانے کی دعوت دی جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کر لی۔ سگریٹ ختم ہونے کے بعد ملک صاحب نے کھنگورا مار کر گلا صاف کیا اور یوں مخاطب ہوئے۔

 

“دیکھ باؤ چوہدری! تو حیران ہو رہا ہو گا کہ میں تجھے یہاں کیوں لے کر آیا ہوں۔ بات یہ ہے جگر، کہ مجھے تیرے حالات کا پتہ چلا ہے کہ تو کافی قلتِ زر کا شکار ہے اور اشرف قصائی، آئی ایم ایف بن کر تیرا خون چوسنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور اپنے بیٹوں کو نیٹو کی طرح تیری طبیعت صاف کرنے پر لگانے والا ہے۔ باؤ میں تجھے پسند کرتا ہوں۔ تو حق کا پرچارک اور راست گو لکھنے والا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ سربازار تیری پھینٹی لگے اور لوگوں کو پتہ لگے کہ تو جواء کھیلتا ہے اور اتنا برا کھیلتا ہے کہ ہمیشہ ہار جاتا ہے”۔ ملک صاحب دم لینے کو ایک لحظہ رکے اور مجھے پہلو بدلتا دیکھ کر میسنے انداز میں زیرِ مونچھ مسکرائے اور دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ “ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رزق کا وعدہ تو رب نے کیا ہے لیکن جوئے، شراب اور عیاشی کا نہیں۔ لہٰذا یہ سب چیزیں چاہیئں تو مجھ سے تعاون کر۔ تجھے جو چاہیئے ملے گا۔” ملک صاحب نے بات ختم کر کے لوفرانہ انداز میں مجھے آنکھ ماری اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔

 

دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر “نور” معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔
میں نے نروس انداز میں ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ عینک اتار کر اس کے شیشیوں پر پھونک ماری، قمیص کے دامن سے انہیں صاف کیا اور دوبارہ ناک پر ٹکا کر ملک صاحب سے استفسار کیا، “سو واٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈو، دین؟ (So what exactly do you want me to do then?)” ملک صاحب نے ایک طویل قہقہ لگایا۔ میز پر پڑے گندے جگ سے منہ لگا کر پانی پیا اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے، “ڈرو مت باؤ، تجھے صرف میرے حق میں خبریں لگانی ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہو کہ میں کتنا بڑا سماجی کارکن ہوں، اور غریب غرباء کا کتنا درد میرے اس متاثرہ جگر میں ہے۔ تجھے تو پتہ ہے کہ دنیا کتنی حسد ہے۔ ایک سجن سو دشمن۔ بس تو مجھے ایک دیالو، ان داتا لکھ اور لکھ لُٹ امیج دے، میں تیرے قرضے، خرچے، جوئے، سب اٹھالوں گا۔ کسی اشرف قصائی جیسے کن ٹُٹے کی جرات نہیں ہو گی کہ تیرا ہوا ول وی تک جاوے۔ آہو۔”

 

میں اٹھا، ملک صاحب کے گھٹنوں کو چھوا۔ اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
میری دنیا بدل چکی تھی۔

Image: Fieca

Categories
نان فکشن

میاں صاحب کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ حالِ دل پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

رات سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ شباژ صاب نے الگ بریشان کیا ہوا تھا، “پائین! جان دیو سُو۔۔۔ نئیں تے فیر سانوں جانا پیناں”۔ اسی پریشانی میں کچھ کھایا بھی نہیں گیا۔ صبح بھوک سے جلدی آنکھ کھل گئی۔ میں نے آہستگی سے بیڈ روم والی فریج کھولی تو اس میں وہی آلو مٹر گاجریں، کدو کی بھجیا اور بھنڈیوں کا سالن تھا۔ بیگم صاحبہ نے سختی کی ہوئی ہے اسی لیے میں زیادہ تر دوروں پر ہی رہتا ہوں۔ گھر میں تو یہی سب کچھ کھانا پڑتا ہے۔ کوئی اک مصیبت اے۔

 

کچن کی فریج دیکھی تو اس میں کباب، بریانی، نہاری، ہریسہ وغیرہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ جلدی میں صرف دس بارہ کباب، نہاری کی ڈیڑھ پلیٹ اور آدھا ڈونگا ہریسے کا ہی کھا سکا۔
کچن کی فریج دیکھی تو اس میں کباب، بریانی، نہاری، ہریسہ وغیرہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ جلدی میں صرف دس بارہ کباب، نہاری کی ڈیڑھ پلیٹ اور آدھا ڈونگا ہریسے کا ہی کھا سکا۔ کھانا مزے دار ہو تو ٹھنڈا بھی مزہ دیتا ہے۔ سپرائٹ کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل سے تین چار گھونٹ لیے نشے آ گئے۔ ابھی فجر میں وقت تھا لہذا ٹی وی لاؤنج میں گیا۔ ورزش صحت کے لیے بہت ضروری ہے چنانچہ شلپا شیٹی کی ورزش والی ویڈیو لگا کر دیکھی۔ جسم فریش ہو گیا۔ ورزش باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اسی لیے اللہ کے فضل و کرم سے میرا ذہن اتنا تیز ہے۔ ماشاء اللہ۔

 

سیٹھی صاب کو فون کیا۔ وہ سونے کی تیاری میں تھے۔ ورلڈ کپ کی ڈیل فائنل ہونے کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بات پکّی ہو گئی ہے۔ پیسے آج ہی ٹرانسفر ہو جائیں گے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ رزقِ حلال بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ سیٹھی صاب، بہت اچھے بندے ہیں۔ مجھے انگریزی بھی سکھائی ہے، جگتیں بھی کرتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے، “تسی انگریزی اینج بولدے او، جیویں جھنگ آلے اردو بولدے نیں۔۔۔۔۔۔۔ ہیں جی”۔

 

پہلے اسلام آباد والے شاہ جی ہوتے تھے۔ ان کی انگریزی بھی اچھی کڑاکے دار تھی۔ پچھلے دنوں ملنے بھی آئے تھے۔ میں نے ان کو روٹی شوٹی کھلائی۔ کہنے لگے کہ انگریزی سکھانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا انتظار کریں اگلی دفعہ مقدس سرزمین سے واپس آئیں گے تو آپ کو ہی انگریزی سکھانے پر رکھوں گا۔ خوش ہو گئے۔ اچھے بندے ہیں۔ شاہ جی نے وڈّے چوہدری صاب کا سلام بھی دیا۔ چوہدری پیجے کی وجہ سے بات نہیں بنتی ورنہ وڈّے چوہدری صاب بڑے سیانے بندے ہیں۔ شباژ صاب، پیجے کا نام سنتے ہی غصہ کر جاتے ہیں۔ ڈائننگ ٹیبل پر مُکّے مار مار کے تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ شعر بھی سناتے ہیں۔ امّی جی کو شکایت لگانے کی دھمکی دیتا ہوں۔ پھر چُپ کرتے ہیں۔ شباژ صاب بھی باچھا بندے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ مارشل لاء شباژ صاب ہی نہ لگا دیں۔

 

شباژ صاب بھی باچھا بندے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ان سے ڈر لگنے لگتا ہے کہ مارشل لاء شباژ صاب ہی نہ لگا دیں۔
فجر پڑھ کے نیند کی ایک جُھٹّی اور لگائی۔ اٹھ کے ناشتہ کی تیاری کر رہا تھا کہ خواجہ صاب کا فون آ گیا۔ چھوٹتے ہی بولے، “یہ جو اے، جو اے، ببلو اے، یہ جو اے، کمانڈو جو اے، اس کو جو اے، کیا چکر اے؟” خواجہ صاب بندوں کو تپانے میں ماہر ہیں۔ ایک دفعہ ببلو کے گَل پڑ گئے تھے۔ پھر ببلو کو سیریں کرائیں۔ کلفیاں کھلائیںَ جھولے بھی دلائے۔ پھر کہیں جا کے اس کا موڈ ٹھیک ہوا۔ ان کو کل والے معاملے کی بھنک پڑ گئی تھی تو اب مجھے تپا رہے تھے۔ میں نے بہت سمجھایا کہ جگر جی پہلے ہی دس سال کھجل ہوئے ہیں اب تھوڑا مال پانی بنا لینے دیں اگلی باری پتہ نہیں آئے نہ آئے۔ پر خواجہ صاب کی سوئی ایک دفعہ اڑ گئی تو اڑ گئی، سیالکوٹی جو ہوئے۔

 

روٹی کھانی حرام کی ہوئی ہے۔ جب بھی روٹی کھانے بیٹھو کوئی نہ کوئی اپنا سِیڑی سیاپا لے کے آ جاتا ہے۔ اَنسان اتی محنت مشقت کس لیے کرتا ہے؟ روٹی کے لیے۔ وہی سکون سے نصیب نہ ہو تو کیا فائدہ سارے ٹشنوں کا۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ روٹی کے چھ ٹائم نکال کے جس وقت مرضی فون کر لیا کریں۔ مجال ہے کسی پر اثر ہوتا ہو۔ الٹا مذاقیں کرتے ہیں۔ جگتیں لگاتے ہیں۔ شرم، حیا، مروّت ہی ختم ہوئی ہوئی ہے۔ ببلو اس معاملے میں ٹھیک ہے۔ اس کو بھی روٹی کھانے کا بڑا شوق ہے۔ ایک دن ہم دونوں نے مل کے ستونجہ (57) قیمے والے نان کھائے تھے۔ بڑا مزا آیا تھا۔

 

اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چَوری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔
اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چَوری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔ بس ناراض ہو گئے۔ شباژ صاب کو شکایتیں لگائیں۔ دس ہزار ترلے کیے پھر کہیں جا کے مانے۔ مانے سے داد آیا اپنے خاں صاب کا بھی بڑا یا رانہ ہے چوہدری صاب سے۔ دونوں ہی غصے میں رہتے ہیں۔ کم روٹی کھانے یہی انجام ہوتا ہے۔ بندہ روٹی تو رَج کے کھائے کم سے کم۔

 

ببلو کو میں نے بڑا سمجھایا کہ تمہیں وڈّاکمانڈو لگوا دوں گا۔ تنخواہ بھی ریالوں میں اور عمرے فری۔ بس یہ کمانڈو والی ضد چھوڑ دے۔ اس بات پر ببلو کا رنگ مزید سرخ ہو جاتا تھا۔ ایک دن تو میرے پیٹ میں مُکا بھی ٹکا دیا۔ بعد میں کہتا ہے، “شغل کیتا سِی” بس مجھے اسی دن پتہ لگ گیا کہ کمانڈو کو چھوڑنا ہی پڑے گا۔ ورنہ ببلو اگلا مُکا کنپٹی پر مارے گا۔ زندگی کے لیے بندہ اتنے جتن کرتا ہے۔ مر گیا تو یہ ہریسے، نہاریاں، بریانیاں نان، کباب،تکّے، پیسپیاں، ادھ رڑکے، دودھ پتیاں لوگ ہی پئیں گے۔ کبھی قُل شریف کے نام پر اور کبھی چالیسویں اور برسی کے ختم پر۔۔

 

جان ہے تو جہان ہے۔۔۔ ہیں جی!
Categories
فکشن

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

سپہ سالار کی ڈائری پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سو گئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہو گی۔۔ نہ نماز نہ روزہ۔ غسل جنابت سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔ فجر ادا کر کے تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ ہلکا پھلکا سا ناشتہ جو دو پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے پر مشتمل تھا، کیا۔ دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہو گیا۔

 

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سو گئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہو گی۔
صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہو گئی تھی۔ رستے میں دو جگہ اشارہ بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔ اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑ جاتا۔۔ الحمدللہ۔۔۔

 

دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگا چکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کے ساتھ ڈیلنگ کرنی۔۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے۔۔ یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔ نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔

 

دکان میں داخل ہوتے وقت معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائی تھیں، وہ پڑھیں، اور ردّ بلا کے لیےدم کیا۔

 

فیقا معمول کے مطابق میرے گدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اس کی چائے اچھی نہیں ہوتی۔ اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔ حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہو جائے۔ حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہو جاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔ اللہ تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔

 

گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔ نہ نہ کرتے بھی چار نان کھا گیا۔ پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔
گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔ نہ نہ کرتے بھی چار نان کھا گیا۔ پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔ اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔ اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ اس سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔ یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔

 

ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔ آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔ بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔ طویل عرصے سے اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اللہ اللہ۔۔ کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔ استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔ صفائی نصف ایمان ہے۔ اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔ ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاو اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے۔

 

کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔ پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔ کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔

 

کھانے کے بعد قیلولہ کیا اور عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔ اذان دینے کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے ورد اور وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔ واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک بھگتائے ہیں۔ پوری توجہ سے بل چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔ اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟

 

سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارِثواب پر چوں چرا کرنا گناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔
مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔ اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔ اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہے۔ اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔

 

رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں، یہی حکم ہے۔ بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے ماشاءاللہ۔۔ حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے، قوت باہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔ حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔ نظربددُور۔

 

عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ان کی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ پُتّر، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔ بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔ میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ عمرے سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔ والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔

 

سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارثواب پر چوں چرا کرنا گناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔

 

بہرکیف، جب تہبند سنبھالتے ہوئے، بیت الخلاء جانے کےلیے اٹھا تو زوجہ سوچکی تھی۔
Categories
فکشن

سپہ سالار کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔

 

بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔
رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔

 

رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتاً غائب ہوگئے۔

 

مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔
فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جواباً کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔

 

سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔

 

بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔
دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔

 

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمیٰ پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔

 

ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔

 

” اکھ لگ گئی سِی”

 

Image Courtesy: Herald Pakistan