Categories
فکشن

پھیکے خربوزے؛ اللہ کا عذاب

روایت ہے کہ دجلہ اور فرات کے بیچ ایک وادی جو زرخیز اور شاداب تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک قبیلے کی ایک چھوٹی سی شاخ بنو غلیق وہاں بستی تھی۔ اللہ کی نا فرمانی میں حد سے بڑھ گئی، ناپ تول میں کمی، زنا اور بیکش (جسے آج خربوزہ کہا جاتا ہے) کی شراب پینے والے ہو گئے۔ (بیکش حد درجہ شیریں اور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے)۔ بیکش کی شراب تاثیر میں دنیا کی تمام شرابوں سے بڑھ کر تھی، کہ جو پیے جھوم اٹھے اور شیطان کی راہ پر چل پڑے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس پھل کی شراب کا ایک قطرہ انسان کو ستر ہزار برس تک مدہوش کر سکتا تھا (تاریخ زربیلیہ جلد دوئم، صفحہ 298 ازعلامہ زربیلی زربفتی)۔ روایت ہے کہ اس شراب کا ذکر سن کر فراعین مصر نے اس کی ترکیب حاصل کرنے کے لیے پندرہ برس تک اس وادی کا محاصرہ کیے رکھا مگر دجلہ اور فرات کے بیچ واقع اس وادی کو تسخیر نہ کر سکے کہ چہار جانب دلدلی علاقے تھے۔ بنو غلیق کے لیے بیکش اہم ترین فصل تھی، سالن بنانے، ادویات تیار کرنے اور شراب بنانے کے لیے اسی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اور یہی ان کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔

 

بیکش کی شراب تاثیر میں دنیا کی تمام شرابوں سے بڑھ کر تھی، کہ جو پیے جھوم اٹھے اور شیطان کی راہ پر چل پڑے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس پھل کی شراب کا ایک قطرہ انسان کو ستر ہزار برس تک مدہوش کر سکتا تھا
ملا خمریاز دجلاوی نے اپنی کتاب الذائقتہ الممتنعہ میں اس شراب کی تیاری کا عمل لکھا ہے۔ اس شراب کی تیاری کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کو چھیل کر اس کے بیج نکال کر اسے پیس لیا جاتا اور جب یہ ملائم لیس دار لعاب کی سی شکل اختیار کر لیتا تب اس میں خمیر، شہد اور کالی مرچ ڈال کر اسے مٹی کے مٹکوں میں بھر کر تین روز کے لیے زمین میں دبا دیا جاتا۔ تین روز کے بعد ان مٹکوں کے منہ کھول کر ان میں کشمش، عرق گلاب، مصری کی ڈلیاں اور کیوڑہ شامل کیا جاتا۔ مٹکون کے منہ دوبارہ بند کر کے انہیں بھٹیوں میں برادہ سلگا کر تین روز کے لیے دبا دیا جاتا۔ تین روز بعد ان مٹکوں کو نکال کر ان میں طرح طرح کے پھل، میوے اور عرق شامل کیے جاتے اور پھر اسے تین ماہ کے لیے ایک ایسے غار میں رکھا جاتا جہاں سانپوں کا بسیرا تھا۔ روایت ہے کہ ان سانپوں کی پھنکاروں سے اس شراب میں ایسی تاثیر پیدا ہوتی تھی جو مرد کو سدا جوان اور عورت کو سدا حسین رکھتی تھی۔ تین ماہ بعد گدھے کے تہوار سے قبل اس شراب کو نکالا جاتا تھا اور شیشے کی صراحیوں میں تین روز تک ابال کر بھاپ میں تبدیل کیا جاتا اور اس بھاپ کو پھر ٹھنڈا کیا جاتا اور شیشے کی بوتلوں میں بھر کر رکھ لیا جاتا تھا۔ (صفحہ 373)

 

شراب کی تیاری کے بعد ان ملعونوں کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کی شراب پی کر چار ٹانگوں پر اچھل کود کرتے، عورتوں سے عشق لڑاتے، بے لباس ہوجاتے اور رینکنے کے سے انداز میں فحش گانے گاتے۔ اس قوم کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گدھا ان کے نزدیک مقدس جانور تھا اور یہ گھوڑے پر گدھے کو افضل گردانتے تھے۔ ان کے ہاں گدھوں کی مورتیاں بھی بنائی جاتی تھیں۔ ان کے نزدیک گدھا عقل و شعور میں انسان سے افضل ہے اور انسان عنقریب گدھا بن کر چار ٹانگوں پر بھاگنے دوڑنے لگے گا۔ گدھے کی عبادت کا تہوار اس زمانے میں سب سے بڑی مذہبی تقریب خیال کیا جاتا تھا۔ یہ تقریب رات کے وقت منعقد کی جاتی جس میں تمام قوم چار ٹانگوں پر بیکش کھاتی اور اس کی شراب پیتی، ایک ہفتے تک تمام افراد چار ٹانگوں پر ہی چلتے پھرتے تھے۔

 

شراب کی تیاری کے بعد ان ملعونوں کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کی شراب پی کر چار ٹانگوں پر اچھل کود کرتے، عورتوں سے عشق لڑاتے، بے لباس ہوجاتے اور رینکنے کے سے انداز میں فحش گانے گاتے۔
ایک برگزیدہ ہستی “مقیت بن رواح” جو اللہ کے نیک اور فرمانبردار بزرگ تھے نے ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ کئی سو برس کی تبلیغ کے بعد دس ہزار کی آبادی میں سے صرف ایک راہ راست پر آیا۔ باقی سبھی نے ان دونوں نیکو کار برگزیدہ ہستیوں کا مذاق اڑایا اور عذاب کی وعید کو فریب اور دھوکا قرار دیا مگر مقیت بن رواح نے اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ ایک رات جب تمام قوم بنو غلیق بیکش کی شراب پی کر بد مست ہو کر ناچتی پھرتی تھی تو مقیت وہاں تشریف لائے۔ ان بد بختوں نے ان پر بیکش کے چھلکے پھینکے اور انہیں چارٹانگوں پر چلنے، رینکنے اور اچھل کود کرنے پر مجبور کیا۔ اسی وقت بزرگ نے بددعا کی اور ایک زور دار غرغراہٹ کے ساتھ بیکش کی شراب تمام بنو غلیق والوں کے حلق میں پھنس گئی، وہ دو ٹانگوں پر کھڑے ہونا چاہتے مگر نہ ہوپاتے تھے، چلانا اور توبہ کرنا چاہتے تھے مگر گلے سے رینکنے کی آواز آتی۔

 

وہ شراب کو نہ نگل پاتے تھے نہ اگل پاتے تھے۔ اسی حالت میں تمام رات گزر گئی اور صبح تک وادی کے سبھی نافرمان گدھوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ آج کے بہت سے گدھے اسی زمانے کے گدھوں کی اولاد سے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن بیکش کو خربوزہ کہا جاتا ہے اور یہ اتنا پھیکا ہوتا ہے کہ اب اس سے شراب نہیں بن پاتی۔ امریکہ کی ایک سیاسی جماعت ڈیمو کریٹ پارٹی نے اسی نافرمان قوم کی یاد میں اپنا انتخابی نشان گدھا رکھا ہے۔ اللہ کے عذاب کے باعث بیکش اب قیامت تک خربوزہ کے نام سے جانا جائے گا۔ اللہ نے اب بیکش یعنی خربوزہ کو اسی لئے پھیکا کردیا ہے تاکہ اس سے شراب نہ بنائی جا سکے، اور خلق خدا گمراہ نہ ہو۔ واللہ عالم بالصواب۔
Categories
فکشن

جلفریزی؛ مجبت اور انتقام کی لازوال داستان

مقدونیہ کے مشہور فاتح اور سالار سکندر کے دور میں ایک مشہور طباخ (باورچی) قولیس نام کے گزرے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے طباخی کا فن دیوتاوں سے سیکھا تھا۔ ان کی طباخی کی دھوم چہارسو تھی، علمِ طباخی میں اس کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ اس کے دسترخوان پر دیوی دیوتا تک اترتے تھے۔ کہتے ہیں قولیس نے کبھی کوئی پکوان دوبار نہیں پکایا اور کبھی کسی شہر میں ایک روز سے زیادہ قیام نہیں کیا، وہ روز کوئی نئی ترکیب سوچتا اور اسے پکاتا، پکوائی کی خوشبو لوگوں کو دیوانہ کئے رکھتی۔۔۔۔۔۔ لوگ اس کی ہانڈی چٹ کرتے اور وہ رات کے اندھیرے میں اپنا سامان سمیٹتا اور کہیں اور جا نکلتا۔

 

کہتے ہیں کہ سکندر جب ایران پر حملہ آور ہوا تو قولیس کی محبوبہ سمرینہ کو ایرانی سپاہی اٹھا لے گئے، جسے سکندر نے کنیز بنا لیا۔ سمرینہ کی جدائی نے قولیس کو دیوانہ کر دیا اور محبوبہ کے فراق نے قولیس کو سکندر سے انتقام لینے پر مجبور کر دیا۔ قولیس نے دیوتاوں کی دعوت کی اور ان سے التجا کی کہ اسے انتقام کا موقع دیا جائے۔ دیوتا جو سکندر کی فتوحات اور شہرت سے جلتے تھے قولیس کو موقع دینے کا وعدہ کیا۔ سکندر 32 برس کی عمر میں جب اپنی فتوحات سے واپس لوٹا اور بابل کے نبوخذ نصر دوم کے محل میں ٹھہرا تو جون 323 قبل مسیح کی ایک شب اس کے اعزاز میں ایک تقریب برپا کی گئی جس کے طعام کا بندوبست قولیس کے سپرد کیا گیا۔ قولیس نے اپنی گزشتہ تمام ترکیبوں کے امتزاج اور دیوتاوں کی مدد سے جلفریزی (جس کا مطلب موت کی دعوت ہے) کی ترکیب وضع کی۔ قولیس نے بارہ مختلف مصالحوں، بارہ مختلف جانوروں کے گوشت، بارہ سبزیوں، بارہ مختلف جڑی بوٹیوں اور بارہ پھلوں کے امتزاج سے جلفیریزی تیار کرنا شروع کی جسے بارہ روز کے لئے بارہ خوشبودار درختوں کی لکڑیوں کی آنچ پر بارہ روز کے لئے پکایا گیا، پکوان کی تیاری کے دوران بارہ کنواری دوشیزائیں اس میں چمچ چلاتی رہیں۔ پکوائی کے دوران اسے بارہ مختلف شرابوں کا دم دیا گیا اور ہر شراب کے ساتھ بارہ مہلک زہر اس میں ملائے گئے۔ جب پکوان کی بھاپ سکندر تک پہنچی تو اس پر بے خودی کا عالم طاری ہو گیا اور وہ بے اختیار اس پکوان کے لیے اشتہاء محسوس کرنے لگا۔ بارہویں روز پکوان پک کر تیار ہو گیا۔

 

تقریب میں شریک ہرفرد جلفریزی کی خوشبو سے بے خود ہوا جا رہا تھا، سبھی مہمان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جلفریزی کے انتظار میں تھے۔ دعوت شروع ہوتے ہی سکندر نے سب سے پہلے جلفریزی کی فرمائش کر ڈالی، اور بارہ نوالے لئے۔ روایت ہے کہ دنیا پر اس قدر لذیذ اور مزیدار پکوان کبھی تیار نہیں کیا گیا، جلفریزی کی خوشبو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی اور کوئی اسے کھانے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ پکوان کھانے کے بعد سکندر نے قولیس کو بلا کر اسے نوازنے کے لئے سمرینہ انعام کے طور پر دے دی، قولیس سمرینہ کو پاتے ہی وہاں سے فرار ہو گیا۔ اگلے روز صبح تک سکندر اور دعوت میں شریک تمام لوگ پراسرار طور پر مر گئے۔ اس روز کے بعد سے آج تک کسی نے کبھی قولیس اور سمرینہ کو کہیں نہیں دیکھا۔ کہتے ہیں دیوتاوں نے جلفریزی کی ترکیب عام ہونے سے بچانے کے لیے قولیس کو آسمان پر اٹھا لیا یہ مفروضہ بھی عام ہے کہ جلفریزی میں ملائے گئے بارہ زہر دیوتاوں نے جہنم کے گڑھوں سے کشید کیے تھے۔ جلفریزی کی اصل ترکیب بھی قولیس کے ساتھ ہی اس دنیا سے اٹھا لی گئی ہے۔ آج جلفریزی کی جتنی شکلیں دستیاب ہیں وہ سب نامکمل ہیں اور اصل جلفریزی کی ترکیب اور ذائقہ بتانے والا کوئی شخص موجود نہیں۔