Categories
نقطۂ نظر

آن لائن پاک بھارت جوہری جنگ؛ کی بورڈ، لیپ ٹاپ اور ایل سی ڈی کی فروخت میں اضافہ

خبرستان ٹائمز پر یہ خبر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اسلام آباد/نیو دہلی: سوشل میڈیا پر پاک بھارت جوہری جھڑپیں جاری ہیں، ایک بڑے آن لائن جوہری تصادم کے پیش نظر آن لائن پاکستانی مجاہدین اور بھارتیہ سائبر سینا نے سازوسامان کی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔ خبرستان ٹائمز ذرائع کے مطابق دونوں جانب محب وطن مجاہد اور دیش بھگت صف آراء ہو چکے ہیں اور اپنے اپنے گم نام سوشل میڈیا اکاونٹ بنا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں جانب بڑے پیمانے پر نیچا دکھانے والی ٹویٹس، ہیش ٹیگز اور میمز کے ذخائر جمع کر لیے گئے ہیں۔

 

حفیظ سنٹر کے ایک کاروباری تجزیہ کار نے خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، “بیلسٹک کی بورڈز، جوہری ماؤس اور کم، درمیانے اور طویل فاصلے سے نظر آنے والی ایل سی ڈیز کی فروخت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ “

 

آن لائن جوہری جنگ کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ماؤس
آن لائن جوہری جنگ کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ماؤس
گزشتہ ایک ماہ کے دوران سائبر مجاہدین اور آن لائن دیش بھگتوں کی بھاری ٹریف کے باعث وکی پیڈیا ویب سائٹ کے متعدد بار کریش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ہندی اور اردو لغات المغلظات کے ہاتھوں ہاتھ بکنے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کمپیوٹر اور موبائل اسیسریز کی فروخت میں اس اضافے کو نیولبرل فوجی صنعتی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دائش بھگتی اور آن لائن حب الوطنی میں اضافہ نیولبرل جنگی صنعت کی افزائش کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایپل، سام سنگ، ڈیل، لینوو، ایسر، سونی اور دیگر کمپنیاں اس وقت سائبر اسلحہ فراہم کرنے کی اس دوڑ میں آگے ہیں۔

 

سائبر جہادی مشق کرتے ہوئے
سائبر جہادی مشق کرتے ہوئے
ولیم ڈی ہارٹنگ، ڈائریکٹر آرمز اینڈ سیکیورٹی پراجیکٹ ولیم ڈی ہارٹنگ نے اپنی کتاب سام سنگ اینڈ دلائی لامہ کی تقریب رونمائی سے قبل بات کرتے ہوئے کیا “سام سنگ-ایپل چپقلش کے ہتھیاروں کی جنوب ایشیائی جوہری دوڑ پر فیصلہ کن اثرات ہوں گے۔”

 

فیس بک پر پندرہ ارب پاکستانی فالورز کے حامل زید حامد کے مطابق پاکستان کہوٹہ میں نئی فورتھ جنریشن جوہری سِمیں تیار کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے جو پوکھران میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے تجربات کا جواب دینے کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔ ہالینڈ سے نئی فورتھ جنریشن جوہری سِم ٹیکنالوجی کے بلیوپرنٹس لے کر پاکستان لوٹنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خبرستان ٹائمز قارئین کو چاغی پر چھ سگنل ٹاور نصب کرنے کی نوید سنائی۔

 

سائبر مقابلوں کے لیے پاکستان میں تیار کیا گیا خصوصی اسلحہ
سائبر مقابلوں کے لیے پاکستان میں تیار کیا گیا خصوصی اسلحہ
عالمی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق پاک بھارت افوج نے فیس بک کے میدان کارزار میں گروپ کھود کر مورچے تعمیر کر لیے ہیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید ٹرولنگ اور ہیش ٹیگنگ کی جا رہی ہے۔ سرجری کے ماہرین کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں مصنوعی انگلیوں کی پیوند کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

جہاد بالبرینجلینا؛ آئی ایس آئی نے معروف اداکار جوڑے کی طلاق کیوں کروائی؟

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

معروف ہندوستانی صحافی ارناب گوسوامی نے اپنے ٹی وی پروگرام نیوز آور میں انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس آئی نے اُڑی حملے سے توجہ ہٹانے کے لیے انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے مابین طلاق کرائی ہے۔ ارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں اس طلاق کے پیچھے کارفرما سازش سے پردہ اٹھایا اور ثبوت بھی مہیا کیے۔
اس جائز مگر مکروہ جہاد بالطلاق کو پاکستان کے لیے آخری راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مشہور اداکار جوڑے کی طلاق کرائے۔ پاکستانی عسکری ماہرین کے مطابق پاکستان 1947 سے ہندوستانی کشمیر میں جہاد کو پروان چڑھا رہا ہے لیکن جہاد میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا کی کشمیر پر پاکستانی موقف میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کشمیر جہاد میں عالمی دلشسپی پیدا کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو جہاد بالبرینجلینا کا آغاز کرنا پڑا۔

 

یہ جہادی انتفادہ کامیاب رہا ہے اور دنیا نے برینجلینا کی طلاق پر گفتگو کے دوران پاکستانی موقف کی تائید کی ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر پر غمزدہ پاکستانیوں کو بھی برینجلینا کی طلاق کا دکھ زیادہ ہے جو پاکستانی کارروائی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ خبرستان ٹائمز نے ذمہ دار صحافت کا بیڑا اٹھاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستانی فوج بطور ادارہ اس طلاق کے پیچھے تھی یا فوج کا محض ایک دھڑا اس کارروائی میں شریک تھا۔ سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل (ر) شجاع پاشا نے خبرستان ٹائمز کو بتایا “برینجلینا طلاق کے پیچھے موجود لوگ ہمارے ہی تھے مگر یہ کارروائی ہماری نہیں۔”

 

تاہم انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ’ہمارے لوگوں میں سابق فوجی افسران بھی شامل تھے۔ اور سابق فوجیوں اور جہادیوں کا یہ گٹھ جوڑ ہمیں عالمی طاقتوں کے سامنے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔” کشمیر پر اس روایتی موقف کے تحت ہی پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں برینجلینا طلاق میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ خبرستان ٹائمز اس موقع پر سابق پاکستانی فوجیوں (اور ان کے دوستوں) کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے سرپرستوں کے احکامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں بھارتی مداخلت، ‘وار’ فلم کی ڈی وی ڈی بطور ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے گی۔ سرتاج عزیز

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اسلام آباد: مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ میں ہندوستانی مداخلت کی فائل جمع کرا دی ہے۔ خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔ خبرستان ٹائمز بعدازخرابی بسیار اس فائل کی ایک نقل صاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس فائل کے جائزے سے چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ فائل میں موجود ڈی وی ڈی کے مطابق ایک ہندوستانی ایجنٹ ‘رمل’ پاکستان میں ہندوستان کے جاسوس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان ثبوتوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ‘رمل’ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مختلف حملوں کی سرپرستی بھی کرتا رہا ہے۔

 

خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔
دو گھنٹے بیس منٹ دورانیے کی اس ڈی وی ڈی سے پاکستان میں ایک اور ہندوستانی جاسوس ‘لکشمی’ کے سرگرم ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کے مطابق ‘لکشمی’ کا اپنی موت سے قبل ایک پاکستانی سیاستدان اعجاز خان کے ساتھ مراسم تھے اور لکشمی نے چند قیمتی راز ہندوستان کو منتقل کیے تھے۔

 

آئی ایس آئی نے مختلف کارروائیوں میں دستوں کی قیادت کرنے والے میجر مجتبیٰ رضوی کا بیان بھی نقل کیا ہے۔ میجر مجتبیٰ رضوی کے مطابق لکشمی اور رمل بدنام زمانہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے ہرکارے تھے۔ متدد آپریشنز میں حصہ لینے والے فیلڈ آفیسر احتشام کا کہنا تھا کہ رمل اور لکشمی کے گھر پر چھاپے کے دوران ہندوستانی پاسٌورٹ، الطاف حسین کی ‘قابل اعتراض حالت میں’ تصاویر، پان پراگ اور آزاد بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے پاکستانی دعووں کی سختی سے تردید کی اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کو ایک بھونڈا مذاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا “یہ کس قسم کا مذاق ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں ثبوتوں کی فائل میں فلم ‘وار’ کی کہانی لکھ دینے سے پاکستان میں ہندوستانی مداخلت ثابت ہو جائے گی؟” ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔

 

ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔
نامہ نگار خبرستان ٹائمز کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی فائل میں موجود افراد رمل، لکشمی، میجر مجتبیٰ رضوی، اعجاز خان اور احتشام دراصل آئی ایس پی آر کی معاونت سے تیار ہونے والی بلاک بسٹر پاکستانی فلم ‘وار’ کے کردار ہیں۔

 

خبرستان ٹائمز نے ٹویٹر پر میجر جنرل عاصم باجوہ سے اس فائل میں مہیا کیے جانے والے ثبوتوں سے متعلق سوال کیا، میجر جنرل کی جوابی ٹویٹ کے مطابق، “ثبوتوں کی فائل وار فلم کی پروڈکشن شروع ہونے سے قبل تیار کی گئی تھی اور ان دونوں میں مماثلت اتفاقیہ ہے۔”

 

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے دوران ثبوتوں کی فائل میں شامل وار فلم کی وی ڈی پروجیکٹر پر چلائی جائے گی اور جلد ہی اس کا تھری ڈی ورژن بھی اقوام متحدہ میں جمع کرایا جائے گا۔ پریس ریلیز کے مطابق ثبوتوں کی ہر فائل کے ساتھ ڈھائی سو گرام پاپ کارن اور 500 ایم ایل کوک بھی دی جائے گی۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

لاہور؛ سیمنٹ نوشوں کی تعداد میں اضافہ، مزید فلائی اوورز کی تعمیر کا مطالبہ

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لاہور: امریکہ میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں سیمنٹ نوشی کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نیڈا کی تحقیق میں شہر کے مختلف علاقوں میں ناکافی اور سست تعمیراتی کام کے خلاف منعقد کی گئی احتجاجی ریلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیڈا کے تحقیقاتی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے شہریوں میں سیمنٹ کا روزانہ استعمال 4 ملی گرام یومیہ سے بڑھ کر 1.68 گرام یومیہ ہو چکا ہے۔

 

امریکہ میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں سیمنٹ نوشی کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
نیڈا سے وابستہ محقق البرٹ برائنٹ کا کہنا تھا “سیمنٹ کے استعمال میں یہ اضافہ Concrete intoxication یا سی سی آئی کی واضح علامت ہے”۔ ماہرین نے اس نئے منشیاتی مظہر کو multiple cement intake (ایم سی آئی) کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ البرٹ برائنٹ کا کہنا تھا کہ سیمنٹ سے حظ کشید کرنے کا یہ معاملہ کسی بھی اور مسکن یا نشہ آور شے کے استعمال سے مختلف ہے۔

 

نیڈا سے تعلق رکھنے والی ماہر جیلینا بیلیچ کے مطابق، “دنیا کی بہترین میٹرو بس سروس کی تعمیر مکمل ہونے اور میٹرو ٹرین کی تعمیر شروع ہو جانے کے بعد سے شہریوں کی جانب سے مزید دلکش سرمئی کنکریٹی ستونوں اور پلوں کا مطالبہ دیکھنے میں آیا ہے”۔

 

دریائے لکشمی شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں رونما ہونے والا ایک اور تعمیراتی معجزہ ہے۔ دریا کنارے منعقد ہونے والی حالیہ ریلی میں شریک ایک شہری بہادر ملک کا کہنا تھا،”ہم سب اپنے شہر کو وینس بنتا دیکھ کر مسرور ہیں۔” انہوں نے نشہ دو آتشہ کرنے کے لیے اورنج ٹرین کے ٹریک کے ساتھ ساتھ سلائیڈز لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔ بہادر ملک نے قریبی کنکریٹ مکسچر مشین سے چرایا گیا کنکریٹ سونگھتے ہوئے بتایا،”یہ دریا اپنی تہہ میں کئی راز پوشیدہ کیے ہوئے ہے بالک!!!”۔ مظاہرین نے اس موقع پر جیے شہباز قلندر شریف کے نعرے لگاتے ہوئے دھمال بھی ڈالی۔

 

بیگم پورہ کے قریب ہتھیلی پر سیمنٹ اور ریت ملا کر خالی سگریٹ میں بھرتے ہوئے تنیویر پومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈی جی سیمنٹ آسانی سے مل جاتا ہے مگر اصل نشہ عسکری سیمنٹ کا ہی ہے۔
شہریوں نے ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کلمہ چوک پر ایک اور فلائی اوور بنانے کا مطالبہ کیا۔ یو ای ٹی میں انجینئرنگ پروفیسر نازیہ بھٹی نے کلمہ چوک انڈر پاس کو اپنا پسندیدہ انڈر پاس قرار دیا، “یہی وہ انڈر پاس تھا جس نے مجھے پہلی بار سیمنٹ سونگھنے کی طرف مائل کیا”۔ سیمنٹیوں اور کنکریٹیوں کی ایک بڑی تعداد کو اورنج میٹرو ٹرین کے زیر تعمیر ستونوں کے پاس منڈلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گانجا، چرس اور شراب چھوڑ کر سیمنٹ اور کنکریٹ کا ‘تعمیری نشہ’ کرنے لگی ہے۔ بیگم پورہ کے قریب ہتھیلی پر سیمنٹ اور ریت ملا کر خالی سگریٹ میں بھرتے ہوئے تنیویر پومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈی جی سیمنٹ آسانی سے مل جاتا ہے مگر اصل نشہ عسکری سیمنٹ کا ہی ہے۔

 

شہریوں نے ماڈل ٹاون اور ڈی ایچ اے کو ایک زیرِ زمین گزرگاہ کے ذریعے ملانے کا بھی مطالبہ کیا۔ گورا قبرستان میں آسیب بن کر منڈلانے والے جمشید جنجوعہ نے بھی دیگر قبرستانوں سے بہتر مابعدالطبعیاتی تعلقات استوار کرنے کے لیے ایک گزرگاہ کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نوٹس میں شہریوں کی تجاویز پیش کر دی گئی ہیں اور حکام کی جانب سے جلد ایک ماسٹر پلان پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

‘فوج کے ہاتھوں پٹنے والے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں’ آئی ایس پی آر کا انکشاف

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راولپنڈی: گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی ٹویٹس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ (المعروف گوئبلز) نے موٹر وے پولیس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک دشمن موٹر وے پولیس کی جانب سے فوج کے خلاف رچائی جانے والی “اٹک سازش کیس” کے مقدمات قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کا اعلان کیا۔

 

میجر جنرل عاصم باجوہ نے پارلیمان سے موٹروے پولیس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنےاور تمام فوجی ڈرائیوروں، سابق فوجیوں، فوجی افسران کی بیگمات، ہمسایوں اور خانساماوں کے لیے چالان فری ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ قومی شاہراہوں، بحر ظلمات اور شاہراہ دستور پر جیپوں، ٹینکوں اور فوجی ٹرکوں کی آمدورفت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے انہوں نے نسیم حجازی کے ناول کے اقتباسات اور اقبال کے اشعار بھی ٹویٹ کیے۔

 

براہ راست ٹویٹس کے اس سلسلے میں انہوں نے ‘اٹک سازش کیس’ کی حقیقت عوام پر واضح کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے آئی ایس پی آر کے صدر دفتر میں قائم گرافکس ڈویژن نے لائسنس یافتہ فوٹوشاپ خریدنے کے لیے بجٹ طلب کر لیا ہے۔ گرافکس ڈویژن نوشہرہ میں پیش آنے والے واقعے کی حقیقی فوٹیج سامنے لانے کے لیے جیمزکیمرون کی خدمات حاصل کرے گا۔جیمز کیمرون اس مقصد کے لیے واہ انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار کردہ سی جی آئی الخالد ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

 

آئی ایس پی آر کے آفیشل اکاونٹ سے شیئر کی گئی یہ ٹویٹس بلوچ لڑکیوں، عسکری لاڈلوں اور سینیئر صحافیوں نے متعدد مرتبہ ری ٹویٹ کیں۔ ان ٹویٹس کی اشاعت کے بعد دفاع پاکستان کونسل نے فوج کے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنے اور احتجاجی ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اس قانون کو پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے طے کیے جانے والے ٹرمز آف ریفرنس میں بھی شامل کرائے گی۔

 

سابق ایس ایس جی کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے (ریڑھ کی ہڈی نہ ہونے کے باوجود) اس واقعے کو بنیاد بنا کر اپنی انتخابی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اگر حکومت نے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے تو اگلی عید سے پہلے اس کی ‘سرعام قربانی’ دی جائے گی۔

 

وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری پر ٹریفک انتظامات فوج کے حوالے کئے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی صورت حال پیش نہ آئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فوج کے بعض ڈرائیوروں نے شاہراہ دستور کی غلط جانب ڈرائیونگ کرتے ہوئے غلطی سے وزیراعظم ہاوس اور پاکستان ٹی وی کو جانے والی سڑکوں پر اپنے ٹرک موڑ لیے تھے تاہم ماضی میں کبھی ایسی غلطیوں پر چالان کاٹنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
فکشن

سارا دین داڑھی میں ہے

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 7
مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔
مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔ مسلمانیاں جانچنے کی کوئی سبیل ہے نہیں سو داڑھی اور پائنچے تک ہی ایمانی شماریات کا کھاتہ محدود رکھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہر مرد کو اس کی داڑھی کی طوالت، گھنے پن اور رنگ سے شناخت کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے ان کے شناختی کارڈ پر شناختی علامت بھی یہی درج ہو کہ دو تہائی چہرے پر داڑھی ہے۔ مفتی صاحب سے کچھ بعید نہیں کہ وہ عنقریب پاسپورٹ میں داڑھی اور بغیر داڑھی کا خانہ بھی شامل کرائیں۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ اس دنیا میں ہر بچہ داڑھی کے ساتھ پیدا ہوتا۔ داڑھی کی وجہ سے ہی وہ ارسطو اور افلاطون کو بھی مسلمان قرار دیتے ہیں۔ آپ کے اختیار میں ہو تو ہر ناکے پر سنتریوں کو جامہ تلاشی کی بجائے داڑھیاں ناپنے پر لگا دیں۔ بعض بکرے اسی واسطے ان کے نزدیک فرشتہ صورت قرار پاتے ہیں کہ ان کی تھوڑی پر چند بال شرمندہ شرمندہ سے اگ آتے ہیں۔

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب حقیقتاً ساری دین داری داڑھی میں مانتے تھے، (اگرچہ ان کے خیال میں داڑھی اور مردانہ قوت میں بھی کچھ جائز و ناجائز رشتہ ہے ضرور) مگر اصل معاملہ تو دین اور داڑھی کی باہمی مطابقت کا ہے۔ داڑھی مشت بھر سے جتنی کم ہوتی اتنا آدمی ساقط الاعتبار ہوتا جاتا۔ یہی معاملہ جنت و جہنم سے قرب و بعد کا ہے، داڑھی بڑھائیے اور جنت کے قریب ہو جائیے، داڑھی مونڈیے اور جہنم کی ہمسائیگی اختیار کیجیے۔ ایک دفعہ میں نے علامہ اقبال کا نہایت ایمان افروز شعر سنایا۔ مفتی صاحب جھوم گئے۔ پھر فورا سنبھل کر گویا ہوئے کہ ہاں راتوں کو قرآن پڑھتے ہوئے روتا تھا اور صبح اٹھ کر داڑھی مونڈ دیتا تھا یہ کیسی دین کی محبت؟

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب حقیقتاً ساری دین داری داڑھی میں مانتے تھے، (اگرچہ ان کے خیال میں داڑھی اور مردانہ قوت میں بھی کچھ جائز و ناجائز رشتہ ہے ضرور) مگر اصل معاملہ تو دین اور داڑھی کی باہمی مطابقت کا ہے۔
ایک بار فجر کی نماز کے بعد ایک کلین شیو شخص نے مفتی صاحب کو بٹھا لیا اور شدت عقیدت سے روتے ہوئے بتایا کہ اسے خواب میں روضہ رسول کی زیارت ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے مبارکباد دی۔ ہم سب اس کی خوش قسمتی پر رشک کرنے لگے۔ جب وہ چلا گیا تو ارشاد فرمایا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا، بھلا ایک داڑھی منے کو یہ سعادت کیسے حاصل ہوسکتی ہے جب کہ ہمیں نہیں ہوتی حالانکہ ہم نے داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے۔

 

مفتی صاحب کے ہاں اگرچہ مستثنیات بھی ہیں صرف ایک کلین شیو تھا جسے وہ نہ صرف پسند کرتے بلکہ اللہ کا ولی مانتے تھے۔ اور وہ خوش نصیب تھا جنرل ضیاء الحق!

 

وجہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔۔
Categories
نان فکشن

عاشق نامراد کا استعفیٰ

منتظم و مہتمم اعلیٰ ا۔ ب۔ ج،
محکمہ جوروستم، عشوہ و ادا ڈویژن
بارگاہ حسن و جمال۔

 

مضمون:استعفیٰ بوجوہ اندیشہءِ ان فرینڈی و ڈی ایکٹیویشن

 

اے میری جان کی پیاری دشمن — آپ کے کوچہءِ خلد آفریں میں میں دیوانہ وار کام کرتے ہوئے اس مجنوں کو دو برس کا عرصہ ہوا چاہتا ہے۔ کہنے کو تو محبت و عشق میں دو سال کا عرصہ نہایت ہی مختصر و قلیل ہوتا ہے اتنا قلیل کہ رخ لیلیٰ کے رخسار پر موجود تل کی حمدوثنا میں ہی گزر جائے مگر تمہاری محبت و التفات کے بغیر یہ تمام عرصہ اس مفلوک الحال اور غریب الوطن دیوانے پر ایسے گزرا جیسے صحرائے عرب کی تپتی ریت پر قیس نامراد پر انتظار محمل کی صدیاں بیتی ہوں گی، جیسے چناب کی چھلوں پر تیرتی سوہنی پر سازشوں کے جال پھیلے تھے، جیسے رانجھے نے ڈولیاں اٹھتے دیکھی ہوں گی۔

 

یہ دو سال تمہارے قرب کی طلب میں ایسے گزرے جیسے جاں بلب مریض پر وقت نزاع رک جائے۔ جیسے تپتے صحرا میں ایک پیاسا مسافر راستہ بھٹک جائے، جیسے شب فراق کے گھڑیال کی سوئیاں تھم جائیں، جیسے پیاسے کے حلق میں کانٹے اگ آئیں۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ اس عرصہ کے دوران کبھی کبھی صحرا میں بارش کی مانند وہ پر کیف لمحات بھی آئے جن میں تمہاری مسکراتی نظر نے مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اجالے کا کام کیا۔ تمہارے وقتی التفات نے دیوانے کی ٹوٹتی آس وامید کو تمہارے کچھ اورستم سہنے کا حوصلہ دیا۔ پر شو مئی قسمت یہ سلسلہ کبھی طوالت اختیار نہ کر سکا۔ تمہاری تنک مزاجی، نازیانہ روش اور ہٹلرانہ رویے کے باعث اس عاشق نامراد کی عزت و خودداری اور کام کی لگن کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ شرمند گی کے مارے متوفی خود اپنے جنازے میں شرکت سے قاصر رہا۔ میں اسے بھی عاشقی کی ایک رسم جان کرآپ کی صحبت اور کرم نوازی کا منتظر رہا لیکن آپ کی مسلسل بے اعتنائی نے اس عاشقِ لاچار کے لئے امید کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔

 

عشق کے مروجہ دستور کے مطابق راقم تمہارے تمام آن لائن اور آف لائن ظلم و ستم خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ہے، محبت کی رسم زمانہ کے مطابق اس عاشق نے تمہارے سوا کبھی کسی کے سٹیٹس کو اپ لوڈ ہوتے ہی لائیک نہیں کیا، کبھی کسی کی Profile Pic کو So cute نہیں کہا، کبھی کسی کے لیے Feeling Loved کا آپشن استعمال نہیں کیا، ہم نے تو تمہارا جمعہ مبارک کا پہلا فارورڈ میسج ابھی تک ان باکس میں محفوظ کر رکھا ہے، وہ یو ایس بی جس میں تمہیں ٹورنٹ سے “دل والے” کا ایچ ڈی پرنٹ ڈاون لوڈ کر کے دیا تھا ابھی تک فارمیٹ نہیں کی، وہ سِم جس سے تمہیں پہلے پہل تنگ کیا تھا اس کی بائیو میٹرک تصدیق تک نہیں کرائی، کون ہے جو اس عشق کے سائبر سپیس میں میری ہم سری کر سکے؟ یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک سیلفی کی تمنا میں اس لاچار نے کتنے ہی گھنٹے منہ ٹیڑھا کرنے کی مشق کی ہے۔

 

یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ تمہاری شیئر کردہ puppies کی ویڈیوز بھی تین تین سو بار دیکھی ہیں، یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارا گڈ مارننگ لائک کرنے کے لیے ہمسائیوں کے وائی فائی کا پاس ورڈ جان پر کھیل کر بیسیوں مرتبہ چرایا ہے۔۔۔۔۔۔ ہائے وہ چیٹنگ کہ جس کے شوق میں ہم نے پی ایس ایل کے میچ تک نہ دیکھے، ہائے وہ زمانہ جو تیرے ساتھ ٹویٹتے گزر گیا ہائے وہ جوانی جو تیرے پیچھے فیس بکیاتے برباد ہوئی، ہائے وہ تمہارے سکرین شاٹ والے وال پیپر جنہیں پورن دیکھتے ہوئے ہٹا دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ تمہیں ٹیکسٹنگ کرتے جو انگلیاں فگار ہوئیں اور ایزی لوڈ کراتے کراتے جن پیروں میں آبلے پڑ گئے وہ سب رائیگاں گئے۔۔۔۔ وہ تمام سمائیلی جو تمہیں بھیجے بین کرتے ہیں، اب کسی پروفائل پر نگاہ نہیں رکتی، اب کسی کو سٹاکنے کا من نہیں کرتا، تمہارے بعد کسی کو فالو نہیں کیا نہ کسی کو ری ٹیٹ کروں گا۔ ہم ہی ہیں جو تمہارے غلط ہجوں والے میسج اور سٹیٹس قرآن و حدیث سمجھ کر پڑھتے اور حفظ کرتے رہے ہیں۔

 

یہ عاشق تمہارے در پر اپنی عزت، اپنی خود داری اور اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن یہ محبت اس عاشق کا غرور ہے اور اور اس غرور کو خاک میں ملانے کی اجازت یہ عاشق خود اپنی محبت کو بھی نہیں دے سکتا۔ بقول عاشقان کے پیرو مرشد مرزا اسد اللہ غالب مدظلہ عالی:

 

دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

 

اس سے پہلے کہ ماموں کے لڑکے کا رشتہ آتے ہی تم اپنا اکاونٹ deactivate کر دو، اس سے قبل کہ تم اپنا نمبر بدل ڈالو، اس سے پہلے کہ تم اپنی فرینڈ لسٹ میں سے میرا نام مٹا دو یہ عاجز یہ لاچار یہ عاشق نامراد تمہارے حضوراپنا استعفی پیش کرتا ہے۔ تو اس بیمارِ عشق پر برخلاف مزاج ذرا مہربانی فرما کر اس استعفٰی کو قبول فرمایا جاوے۔

 

فقط
عاشقِ نامراد
@یاسر شہباز
#عاشق نامراد کا استعفیٰ