Categories
فکشن

سپہ سالار کی ڈائری-توسیعی ورژن

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

شبِ رفتہ سے ہی طبیعت کچھ بوجھل سی تھی۔ نیند دیر سے آئی۔ تہجّد سے کافی دیر پہلے آنکھ کھل گئی۔ وضو بنایا۔ تہجّد کے وقت تک نوافل ادا کئے۔ دل کو کچھ قرار سا آیا۔ کل کی ملاقات میں مقتدرین نے اپنی خواہش کا برملا اظہار کر دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ملک و ملّت کی خدمت سے کنارہ کش ہو جاؤں اور ان کو لوٹ مار کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ جب تک وطنِِ عزیز اسلام کا قلعہ نہ بن جائے میں اپنی ذمہ داریاں کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں؟ وہ کچھ بولے تو نہیں مگر کبیدہ خاطری ان منحوسوں کے چہروں سے عیاں تھی۔

 

ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔
شب کے آخری پہر، خدا کے حضور مناجات کرنے سے دل کو تسلّی ہوئی۔ فجر کے بعد معمول کی ورزش کی۔ ناشتے میں آلو والے پراٹھے تھے۔ میں نے زوجہ سے باز پُرس کی کہ ان کے لیے رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا؟ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہنے لگیں پچھلے دو ہفتوں سے وہ ایک وقت کا کھانا کھا رہی ہیں۔ اس سے جو رقم بچ رہی اس سے یہ پراٹھے بنائے۔ دل بھر آیا۔ لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر زوجہ کا رُوئے انور چوم لیا۔ بد پرہیزی کرتے ہوئے تینوں پراٹھے کھائے اگرچہ زوجہ تیسرے پراٹھے پر شکایتی نگاہوں سے دیکھتی رہیں لیکن منہ سے کچھ نہ بولیں۔ جنّتی خاتون ہیں۔ الحمدللہ۔۔۔

 

بیٹ مین لطیف نے بائیسکل چمکا کے پورچ میں کھڑی کر دی تھی۔ لطیف اوائل افسری سے میرے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ عجب اُنسیت سی ہے۔ اس کا معاملہ گھر کے فرد جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ برسوں گزرے ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد لطیف کی اہمیّت دو چند ہو گئی۔

 

ان دنوں لطیف کے گھر پہلی خوشی آنے والی تھی۔ ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، “شکیل، باہر آؤ”۔ میں حیران ہو کر باہر نکلتا ہوں تو وہ شہادت کی انگلی بلند کر کے گویا ہوتے ہیں۔

 

“ہم ایک عظیم ذمہ داری تمہارے سپرد کرنے آئے ہیں۔ وعدہ کرو کہ اسے نبھاؤ گے”۔

 

ایک رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ، پن سٹرائپ سوٹ پہنے، خشخشی داڑھی، منہ میں پائپ دبائے کش پہ کش لگاتے، ایک سفید گھوڑے پر سوار، دفتر کے باہر تشریف لاتے ہیں اور با رُعب آواز میں پکارتے ہیں، “شکیل، باہر آؤ”۔
میں جھٹ حامی بھر لیتا ہوں۔ بزرگ پائپ منہ سے اور دھواں نتھنوں سے نکالتے ہیں۔ اچھل کر گھوڑے سے اترتے ہیں۔ میرے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہیں اور یوں گویا ہوتے ہیں۔۔

 

“تمہارے گھر ایک مہمان آنے والا ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھنا۔ عنفوان شباب تک اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کرنا۔ یہ بچہ ملک و ملّت کا پاسبان ہو گا۔ سارے ادبار دور کر دے گا۔ دشمنانِ دین و ملّت اس کے درپے رہیں گے لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ جب تک تمہاری سانس میں سانس ہے اس کی حفاظت و نصرت کرو گے۔ اور ہاں سنو۔۔ ایک بات اور ہے۔۔ یہ اللہ کی دَین ہے۔ اس لیے اس کا نام اللہ دتّہ ہو گا”۔

 

اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ خوابگاہ میں ایک ملکوتی سا سکوت اور عجیب سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ میں فوراً اٹھا، غسل کیا اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا جس نے مجھے اس کارِ عظیم کے لیے چُنا۔ پھر میں نے سوچا کہ زوجہ کے ہاں تو ابھی کسی نئے مہمان کے آثار نہیں تو یہ نیا مہمان کہاں سے آئے گا؟۔

 

اس کا جواب اگلی صبح ملا جب بیٹ مین لطیف، مٹھائی کا ڈبّا لیے آیا۔ ڈبّا بائیسکل کے کیرئیر پر رکھ کے دھرتی دہلا دینے والا سلیوٹ مارا اور خوشی سے لال ہوتے چہرے سے اطلاع دی کہ وہ بیٹے کا باپ بن گیا ہے۔ ذہن میں روشنی سی لپکی اور گزشتہ شب کا خواب اور پن سٹرائپ سوٹ والے بزرگ کی بشارت اور اپنا وعدہ یاد آ گیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک میں نے اللہ دتّے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر توجہ دی۔ اعلیٰ درسگاہوں سے اس کو تعلیم دلائی۔ آج کل اللہ دتّہ ملک فرنگ میں اعلیٰ ترین تعلیم کے لیے مقیم ہے۔

 

دفتر جانے کے لیے بائیسکل کا پیڈل مارا ہی تھا کہ لطیف ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ مخبر اعلیٰ نے فوراً آپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے ابھی ایک ہرکارہ ان کا پیغام لے کر آیا ہے۔ میں فورا بائیسکل سے اترا اور رکشے کو ہاتھ دے کر روکا۔ ہنگامی حالات میں ایک ایک منٹ کی اہمیت ہوتی ہے۔

 

ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
بھاگم بھاگ دفتر پہنچا تو مخبر اعلیٰ پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے شتابی سے دفتر کا دروازہ بند کیا اور بولے۔۔۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دشمن نے اللہ دتّے کو درسگاہ سے واپس آتے ہوئے اغوا کر لیا ہے اور ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ میں فوراً ساری گیم سمجھ گیا۔ یقیناً یہ مقتدرین کی سازش ہے۔ انہیں علم ہے کہ مجھے کسی بھی طرح جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ میری اپنی اولاد بھی اگر داؤ پر لگی ہو تو میں کبھی ملک و ملّت کے مفاد کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتا۔ لیکن اللہ دتّے کا معاملہ الگ ہے۔ اس کے ساتھ غیر معمولی انسیّت کا راز میں نے آج تک کسی پر ظاہر نہیں کیا لیکن مخبروں کی دنیا الگ ہوتی ہے۔ شاید کوئی ٹیلی پیتھی کا ماہر دشمن جاسوس میرے ذہن میں جھانک کر اللہ دتّے سے میری بے پناہ محبّت سے واقف ہو گیا تھا۔ جس کا فائدہ اب مقتدرین اٹھا رہے ہیں۔

 

اسی اثناء میں مخبر اعلیٰ کے واچ ٹرانسمیٹر پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔ ملکِ فرنگ میں موجود علاقائی مخبر نے اطلاع دی کہ اللہ دتّے کے اغوا کاروں نے بہت عجیب مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپہ سالار نے چوبیس گھنٹوں کے اندر مُقرّرہ مدت میں سپہ سالاری چھوڑنے کا اعلان نہ کیا تو وہ اللہ دتّے کو اگلے جہان میں ہی مل سکیں گے۔
یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف ملک و ملّت کی پاسبانی اور دوسری طرف وعدے کی نگہبانی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ دتّے کی نگہبانی کے صدقے ہی شاید مجھے سپہ سالاری ملی تھی اگر اسی کام میں ناکام رہا تو روزِ قیامت اس بزرگ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اللہ دتّے کی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی عرصہ باقی ہے۔ بزرگ نے عنفوانِ شباب تک اس کی سرپرستی کا کہا تھا۔ وہ وقت مکمل ہوا چاہتا ہے۔ شاید میری ذمّہ داری یہیں تک تھی۔ ملک و ملّت کا اصلی مسیحا آنے کو ہے۔ میری قربانی سے اگر اس کا راستہ ہموار ہوجائے تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی۔ جو کام میں پورا نہ کرسکا وہ میرا اللہ دتّا پورا کرے گا۔

 

میں نے مقتدر اعلیٰ کو فون ملایا اور ان کے مطالبے کو پورا کرنے کی حامی بھر لی۔ یہ سنتے ہی ان کی آواز پر چھائی مُردنی یکایک شگفتگی میں بدل گئی۔ وہ حسبِ عادت چکنی چُپڑی باتیں کرنے لگے۔ میں ان کی دلی حالت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کو کھلی چھُٹّی مل گئی ہے۔ وہ جیسے چاہیں اس ملک کو لوٹیں۔ ملّت کا شیرازہ بکھیریں۔ ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔۔ مگر ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ
میرا اللہ دتّہ آئے گا۔۔۔۔
Categories
فکشن

سپہ سالار کی ڈائری

[blockquote style=”3″]

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ “حالِ دل” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
نماز فجر ادا کی۔ ورزش کرنے کے لیے قریبی میدان کا رخ کیا۔ جاگنگ کرتے ہوئے دو سپاروں کی تلاوت کی۔ الحمدللہ۔ واپس گھر پہنچا تو بیگم نے بچوں کے سکول کی فیس بابت دریافت کیا۔ میں نے بتایا کہ کل تنخواہ ملی تھی۔ آفس سے آتے ہوئے رستے میں جماعت الدعوۃ کے امدادی کیمپ پر نظر پڑگئی۔ شام کے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کی جارہی تھی۔ ساری تنخواہ وہیں دے آیا۔ بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔

 

بیگم نے فخر سے میری طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالی اور کوئی سبب بنا دیں گے۔ شادیوں کا سیزن شروع ہے۔ چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے سلائی کرلوں گی۔
رات کی بچی ہوئی روٹی اور پانی سے ناشتہ کیا۔ آج سرکاری دورے پر مُلکِ فرنگ جانا تھا۔ ولیمے پر جو شلوار قمیص اور واسکٹ پہنی تھی، بیگم نے کل وہی دھو کر بستر کے نیچے بچھادی تھی تاکہ استری ہوجائے۔ کپڑے بدل کر سائیکل نکالی اور ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا۔ کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک کیفے کے باہر ایک نوجوان پریشان حالت میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ اس کے قریب جا کے سائیکل روکی اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے رقّت آمیز لہجے میں بتایا کہ اس کے پاس آئی فون فائیو ہے جبکہ نیا آئی فون لانچ ہوچکاہے۔ اس کے پاس خریدنے کے لیے رقم نہیں۔ معاشرے میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ٹکٹ کی رقم نکال کے اس نوجوان کو نئے فون کے لیے دی، سائیکل کو پیڈل مارا اور عازمِ ہوائی اڈّہ ہوا۔

 

رستے میں سو طرح کے وسوسے ذہن میں کلبلاتے رہے۔ بغیر ٹکٹ کے کیسے سفر کروں گا۔۔ یہ سرکاری رقم میرے پاس امانت تھی، کیا میں نے خیانت کی؟ یہی سوچتے ہوائی اڈے پر پہنچ گیا۔ سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کرکے ٹوکن لے کر مُڑا ہی تھا کہ سامنے ایک سفید پوش نورانی صورت والے بزرگ، عصا تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے اشارے سے پاس بلایا۔ پاس جانے پر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور کہا، شکیل، آنکھیں بند کرلو۔ ایک لحظہ گزرا تو انہوں نے آنکھیں کھولنے کا حکم دیا۔ دیکھا تو ہم لندن کے ہوائی اڈے کے باہر موجود تھے۔ میں نے بزرگ سے دریافت کیا کہ واپسی کا کیا بندوبست ہوگا۔ ان کا چہرہ جلالی ہوگیا۔ انہوں نے عصا میری تشریف پر رسید کیا اور کہا، ہم تمہیں یہاں لاسکتے ہیں تو واپس بھی لے جاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دفعتاً غائب ہوگئے۔

 

مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔
فلائٹ کے پہنچنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا لہذا پیدل ہی سفارتخانے کا قصد کیا۔ تاکہ عامیوں پر یہ روحانی واردات ظاہر نہ ہو۔ اس سے سفارتخانے کی گاڑی کا پٹرول بھی بچا۔ ایک ایک پیسہ ہمارے پاس عوام کی امانت ہے۔ مغرب کا وقت ہوگیا تھا۔ ٹیمز کے کنارے وضو کرکے نماز ادا کی۔ بیگم نے زادِ راہ کے طور پر مُٹھّی بھر بھُنے ہوئے چنے اور پانی کی چھاگل ساتھ کردی تھی۔ تھوڑے سے چنے چبائے، دو گھونٹ پانی کے پئے اور سفارتخانے کی جانب روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سکیورٹی گارڈ نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ لاکھ کہا کہ میں سپہ سالار ہوں۔ لیکن وہ جواباً کہنے لگا کہ میں برطانیہ کی ملکہ ہوں۔ ستم ظریف، فیصل آباد کا لگتا تھا۔ بعد میں تحقیق سے یہی ثابت ہوا۔ شور سن کر سفیر صاحب باہر تشریف لائے۔ مجھے دیکھ کر ان کی گھِگھّی بندھ گئی۔ بڑی مشکل سے کُھلی۔

 

سفیر صاحب نے شب بسری کے لیے ڈورچسٹر ہوٹل میں بندوبست کیا تھا۔ میں نے سختی سے انکار کردیا۔ سفارتخانے میں رات گزارنے پر بھی دل راضی نہیں ہوا۔ عوام کا پیسہ اپنی ذات پر خرچ کرنا، امانت میں خیانت لگتا ہے۔ سفیر صاحب سے کل کی ملاقات بارے بریفنگ لی دوران بریفنگ سختی سے منع کیا کہ کسی بھی قسم کے مشروبات نہ لائے جائیں۔ خواہش ہوگی تو میں اپنی گرہ سے چائے پی لوں گا۔ رات گئے سفارتخانے سے نکلا۔ عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔ ٹیمز کنارے ایک پُرسکون جگہ ڈھونڈی۔ رات کے کھانے میں بھُنے ہوئے چنے کھائے اور پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ وضو تازہ کیا اور نماز کے لیے قبلہ رُو ہوا۔ فرض ادا کرکے سلام پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پیچھے حدِّ نظر، سفید پوش نورانی وجود صفیں باندھے ہوئے ہیں۔ دل کی عجیب سی حالت ہوگئی۔ ایک گنہگار پر پروردگار کی اتنی رحمتیں۔ فورا سجدہءشکر بجا لایا۔ بقیہ رات ذکر اذکار میں گزری۔ سردی بھی تھی۔ نوافل کی ادائیگی سے جسم کو گرمی ملتی رہی۔

 

بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔
دس بجے وزیر اعظم سے ملاقات طے تھی۔ پیدل ہی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ورزش بھی ہوئی اور قیمتی زرِمبادلہ کی بچت بھی۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کے قریب پہنچنے پر پولیس والے نے روکا اور شناخت پوچھی۔ تعارف کرایا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹا اور ایک زوردار سلیوٹ کیا۔ پھر آگے بڑھ کر عقیدت سے میرا ہاتھ تھام کر چُوما اور دعا کی درخواست کی۔ وزیرِاعظم نے میرا استقبال کیا اور مذاکرات کے لیے میٹنگ روم میں لے گئے۔ میز پر انواع و اقسام کے مشروبات و ماکولات تھے۔ میں نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم کا لہجہ رُوکھا تھا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ ان کے منصوبوں کی راہ میں واحد رکاوٹ میں ہوں۔ حکومت پاکستان ہر وہ کام کرنے کو تیار ہے جو ہم چاہتے ہیں لیکن آپ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ بتائیں۔۔ آپ کی قیمت کیا ہے؟ یہ سنتے ہی میں نے غضب کے عالم میں ان کی طرف دیکھا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں، بجلی کڑکی اور کھڑکی سے تیز دودھیا روشنی کی لکیر سیدھی ان کے دل تک پہنچی۔ وہ بے اختیار اٹھے اور سجدے میں گرگئے۔ میں نے فورا اٹھ کر دروازہ مقفل کیا۔ ان کو سجدے سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا۔

 

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو کلمہ پڑھایا جائے۔ کلمہ پڑھا کر ان کو مشرف بہ اسلام کیا۔ ان کا اسلامی نام داؤد فریدون رکھا۔ وہ سب کچھ تیاگ کر میرے ساتھ پاکستان جانے کو تیار تھے۔ میں نے ان کو مومنانہ فراست سے کام لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسی کو اس کایا پلٹ کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔ حسبِ معمول وزارت عظمیٰ پر فائز رہیں۔ اور پاکستان اور عالمِ اسلام کے خلاف ہر سازش کی خبر مجھے دیں۔ یہی ان کا جہاد ہوگا۔ انہوں نے اس پر صاد کیا۔ یہود و ہنود کی سازشوں بارے انہوں نے لرزا دینے والے انکشافات کیے۔ میں نے ان کو سمجھایا کہ آئندہ کسی بھی سازش بارے خبر ملے تو مجھے مِس کال کردیں۔ میں خود ان تک پہنچ جاؤں گا۔ کسی بھی صورت سکائپ کال، وٹس ایپ، ایمیل یا ڈی ایم نہ کریں۔ سو سجن سو دشمن۔

 

ملاقات ختم ہوئی۔ وزیر اعظم مجھے دروازے تک چھوڑنے کے لیے آنا چاہتے تھے۔ میں نے منع کیا کہ خلاف مصلحت ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو سفید پوش بزرگ کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ لشٹم پشٹم ہائیڈ پارک تک پہنچا۔ تین گھنٹے انتظار کرنے پر بزرگ ظاہر ہوئے۔ میں نے تاخیر کا سبب دریافت کیا تو کمالِ بے نیازی سے بولے۔۔۔

 

” اکھ لگ گئی سِی”

 

Image Courtesy: Herald Pakistan