Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی

پچھلے تین ہفتے سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ ک دوسرا حصہ اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ آج لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلا جائے گا جس میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ پہلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی کافی جوش و خروش اور بہت سے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ اس مرتبہ سٹیڈیم آ کر میچ دیکھنے والے تماشائیوں کی تعداد بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنی رہی۔ تماشائیوں کی دلچسپی اور ڈینی موریسن جیسے کمینٹیٹر کے ہونے سے پی ایس ایل کا مزہ دوبالہ ہوا۔ اس ایڈیشن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حسبِ وعدہ اس سال فائنل پاکستان کے شہر لاہور میں کرا رہا ہے ۔ یہ اقدام پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے ایک خوش آئند قدم ہے۔

 

لاہور میں فائنل منعقد کرانے کےلیے حکومت اور پی سی بی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ابھی باقی ہیں۔ سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود پی سی بی داد کا مستحق ہے کہ ان مشکل حالات میں بھی وہ پاکستانی عوام کےلیے کرکٹ واپس لانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر بہت سے سیاسی رہنما بشمول عمران خان، آصف علی زرداری اور عوام کی قابلِ ذکر تعداد پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس امید پر پی سی بی کی حمایت کررہے ہیں کہ شاید اس سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔ جس تیزی سے فائنل کی ٹکٹیں فروخت ہوئی ہیں اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام کرکٹ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد صرف زمبابوے اور افغانستان کی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ 2012 میں دو ٹی ٹوینٹی میچز کےلیے کچھ بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑیوں نے سنتھ جے سوریا کی قیادت میں ورلڈ الیون کے نام سے پاکستان کے شہر کراچی کا دورہ کیا جن میں ساوتھ افریقن فاسٹ باولر اینڈرے نیل اور افغانستان کے بلے باز شہزاد قابل ذکر ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور پاکستان اپنی تمام تر ہوم میچز متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں کھیلتا رہا ہے۔ اگر اگلے سال پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے کچھ اور میچز پاکستان میں کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلنے پر راضی کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو عین ممکن ہے کہ جلد بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

 

اس سال کی پاکستان سپر لیگ میں بھی کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے لیکن لاہورقلندرز کی بدقسمتی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔کراچی کی کارکردگی گزشہ برس سے بہتر رہی۔ اس سال بھی گروپ میچز میں کوئٹہ اور پشاور کی ٹیمیں پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود رہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کراچی اور اسلام آباد کی ٹیمیں موجود تھیں اور لاہور ایک بار پھر پلے آف تک پہنچنے میں ناکام ہوا۔ پلے آف کا پہلا میچ پشاور اور کوئٹہ کے درمیان کھیلا گیا جس میں چھکوں اور چوکوں کی بارش ہوئی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ نے پچھلے سال کی طرح پشاور کو صرف ایک رن سے شکست دےدی اور پی ایس ایل ٹو کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بنی۔ دوسرے پلے آف میں کراچی کا مقابلہ پچھلے سال کی فاتح ٹیم اسلام آباد سے ہوا جس میں کراچی ٹیم کی بہترین بالنگ کی وجہ سے اسلام آباد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ناک آوٹ میچ میں کراچی اور پشاور کی ٹیموں کا مقابلہ ہوا جس میں کامران اکمل نے پشاور کی طرف سے کھیلتے ہوئے پی ایس ایل کی تاریخ کا دوسرا اور اس ایڈیشن کا پہلا سو اسکور کیا۔ اس سو کی بدولت کامران اکمل اس ایڈیشن میں سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والا بلے باز بن چکے ہیں۔ پشاور کی جارحانہ بیٹنگ کے جواب میں کراچی کے اننگز کی شروعات بہت ہی سست تھی لیکن بعد میں کرس گیل اور کیرن پولارڈ کی بیٹنگ سے یہ لگتا تھا کہ کراچی کی ٹیم فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن وہاب ریاض کی بہترین بالنگ کی بدولت کیرن پولارڈ نصف سنچری بنانے سے پہلے ہی آوٹ ہوگئے اور ساتھ ہی کراچی کی تمام امیدیں اپنے ساتھ لے کر پویلین کی طرف لوٹ گئے اور یوں پشاور فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

 

اگر کوئٹہ اور پشاور کی ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک میچ جیت چکی ہیں ۔ اس سال کا ان کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوا۔ دونوں ٹیموں نے چار چار میچوں میں کامیابی حاصل کی اور دونوں کے گروپ اسٹیج میں نو (9) پوائنٹس تھے۔ البتہ پلے آف میں کوئٹہ نے پشاور کو شکست دی جس کی وجہ سے کوئٹہ ٹیم کے حوصلے بلند دکھائی دیتے ہیں۔ مگر کوئٹہ ٹیم کو سب سے بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب ان کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور آنے سے انکارکیا۔ کوئٹہ ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں کیون پیٹرسن اور رائلی روسو نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کوئٹہ ٹیم کو ان کی شدید کمی محسوس ہوگی۔ کوئٹہ کی ٹیم انگلش گیند باز ٹیمل ملز کی خدمت سے محروم ہوگی جو مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو زیر کرنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ کوئٹہ ٹیم نے ان کی جگہ پانچ نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے لیکن بنگلہ دیش کے انعام الحق، ساوتھ افریقہ کے وین وائیک ، زمبابوے کے الٹن چیگمبورا اور شین اروائن کا موازنہ پیٹرسن، رائٹ، روسو اور ملز سے ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ ان چار نئے کھلاڑیوں میں وین وائیک وہ واحد کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں جو شاید ایک جارحانہ بلے باز کی حیثیت سے کوئٹہ کو فتح دلا سکیں۔ کوئٹہ کے لیے سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ سر ویوین رچرڈز جو ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لاہور میں ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔ ویوین رچرڈز کی موجودگی اور سرفراز کی قائدانہ صلاحیت کوئٹہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئےاہم ہے۔
پشاور زلمی کو اگر دیکھا جائے تو کامران اکمل، وہاب ریاض، محمد حفیظ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہونے سے پشاور کو اس سال کا چیمپین بننے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب تک کے اطلاعات کے مطابق پشاور ٹیم کے تین غیر ملکی کھلاڑی لاہور آنے کے لئے راضی ہو چکے ہیں جن میں دو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے والے ڈیرن سیمی پشاور کی قیادت کریں گے۔ ڈیوڈ مالان اور مارلن سیموئیلز بھی لاہور آنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ پشاور کے لئے بری خبر یہ ہے کہ بوم بوم آفریدی زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل نہیں کھیل پائیں گے۔ آفریدی شاید میدان میں اتنی بہتر کارکردگی نہ دکھا پاتے مگر ٹیم میں ان کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کی کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تماشائی بھی آفریدی کو دیکھنے کے لئے کافی زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔

 

بحیثیت کوئٹہ کے رہائشی کے میں کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی حمایت کررہا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ اس بار کوئٹہ ہی پی ایس ایل کا چیمپین بنے کیونکہ دونوں ایڈیشن میں تسلسل سے کوئٹہ کی ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہی ہے مگر پشاور کے ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ کوئٹہ کو جیتنے کے لئے کافی زیادہ محنت اور قسمت آزمائی کرنی پڑے گی۔ جیت چاہے کسی کے بھی نصیب میں ہو خوشی کی بات یہ ہے کہ کافی عرصے بعد پاکستانی عوام کو پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ میں اس موقع پر دعا گو ہوں کہ فائنل میچ بغیر کسی سانحے کے کھیلا جائے اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام ہوں۔
Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل؛ پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل

2007 کا ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ نہ صرف پاکستان کے لئے ایک ڈراؤنہ خواب ثابت ہوا بلکہ اسے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بُرا ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ ورلڈ کپ کے نویں میچ میں پاکستان کو آئرلینڈ کے ہاتھوں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان ورلڈ کپ کے پانچویں دن ہی ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔ پاکستانی ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائے تھے کہ اگلے ہی دن پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر کے مرنے کی خبر نے کرکٹ کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا یہ ورلڈ کپ ہر لحاظ سے برا ثابت ہوا۔ گراؤنڈ میں تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے اور 45 دنوں پر مبنی اس طویل ٹورنامنٹ کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس سے پہلے کھیلے گئے ورلڈ کپ کو ملی تھی۔ ورلڈ کپ کا فائنل بھی امپائرز کی نا اہلی کی وجہ سے تنازعہ کا شکار ہوا اور آئی سی سی کے سربراہ (چیف ایکزیگٹیو) میلکم سپیڈ کو تمام شائقین سے معافی مانگنی پڑی۔ آئی سی سی کو اپنے اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے کسی اچھے اقدام کی ضرورت تھی اور انہوں نے اسی سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کرانا کا فیصلہ کر دیا (گو اس سے ایک سال پہلے اس معاملہ پر کافی بحث ہوچکی تھی)۔

 

اگر اگلے سال بھی لیگ ملک سے باہر کھیلی جاتی ہے تو کم از کم ایک یا دو میچز خصوصاً فائنل کا انعقاد پاکستان میں ہونا چاہیئے
پہلے ورلڈ ٹی ٹوینٹی کپ کو بہت سے ممالک سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے جن میں آسٹریلیا، پاکستان اور انڈیا سرِ فہرست تھے۔ انڈیا نے تو پہلے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا لیکن اس وقت کے آئی سی سی صدر احسان مانی اور چیف ایکزیگٹیو میلکم سپیڈ کی کوششوں سے تمام ٹیمیں اس ٹورنامنٹ کو کھیلنے کے لئے راضی ہوئیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز کرس گیل کے دھماکے دار بیٹنگ سے ہوا جنہوں نے پہلے ہی میچ میں 10 چھکوں کی مدد سے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی پہلی سینچری سکور کی اور ویسٹ انڈیز نے 20 اوورز میں 205 زنز بنائے۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 55 گیندوں پر 90 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔ ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ سے ٹی ٹونٹی کے بارے میں لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آئی اور ٹی ٹونٹی کو کرکٹ کا مستقبل قرار دیا جانے لگا۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں انڈیا اور پاکستان کا کانٹے دار مقابلہ ہوا اور بدقسمتی سے پاکستان کو 5 رنز سے ہارنا پڑا۔ اس ٹورنامنٹ سے آئی سی سی کو اپنی ساکھ بحال کرنے میں کافی مدد ملی اور اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کو دورِ جدید کے کرکٹ کا انقلاب کہا جانے لگا جس کے بعد آئی پی ایل، بیگ بیش، کیریبیئن لیگ، چیمپیئنز لیگ اور باقی کرکٹ لیگوں کا آغاز ہوا۔

 

یوں تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی 2007 کے ورلڈ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے بعد ہی ایک لیگ شروع کرنا کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن بورڈ کی اقتصادی زبوں حالی اور ملکی حالات کی وجہ سے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے پاکستان کو آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔ بالآخر 4 فروری 2016 کو پاکستان سوپر لیگ کا آغاز ہوا اور اسی مہینے کی 23 تاریخ کو دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں پی ایس ایل کا شاندار فائنل کھیلا گیا۔ جس طرح 2007 کے پہلے ورلڈ ٹی ٹونٹی کی کامیابی کے بعد دنیائے کرکٹ میں بہت سی خوشگوار تبدیلیوں کا آغاز ہوا اسی طرح امید کی جارہی ہے کہ پی ایس ایل کی کامیابی سے پاکستان کرکٹ میں بھی اچھی خاصی تبدیلیاں آئیں گی۔ اس سال یہ لیگ ملک سے باہر کھیلی گئی لیکن امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی پاکستان سوپر لیگ پاکستان میں کھیلی جائے گی لیکن اس کا دارومدار ملک میں امن و امان کی بحالی پر ہے۔ اگر اگلے سال بھی لیگ ملک سے باہر کھیلی جاتی ہے تو کم از کم ایک یا دو میچز خصوصاً فائنل کا انعقاد پاکستان میں ہونا چاہیئے تاکہ شائقین کو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھنے کا موقع مل سکے۔
اس لیگ کے انعقاد سے پہلے بھی اور لیگ کے دوران بھی بہت سے لوگ اس لیگ کا مقابلہ آئی پی ایل اور بگ بیش جیسی لیگوں سے کرنے لگے جو میرے خیال میں سراسر ناانصافی ہے جن کے وجوہات کا ذکر آگے چل کر آئے گا لیکن اس سے پہلے اس لیگ میں کھلاڑیوں اور ٹیموں کی کارکردگی پر کچھ باتیں ضروری ہیں۔

 

بہترین ٹیم

 

میرے خیال میں سب سے بہترین کھلاڑی کہلانے کے حقدار کوئٹہ ٹیم کے محمد نواز ہیں جنہوں نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور ہمیشہ اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی۔
لیگ میں سب سے زیادہ فتوحات کوئٹہ کے نام رہیں لیکن بہترین ٹیم کی حقدار اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف لیگ کو اپنے نام کیا بلکہ صحیح وقت پر صحیح کھیل کا مظاہرہ کیا۔ مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد نے آخری پانچ میچوں میں ناقابلِ شکست کارکردگی دکھائی اور پشاور اور کوئٹہ جیسے بہترین ٹیموں کو آسانی سے زیر کر لیا۔

 

بہترین میچ

 

لیگ کا بہترین میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا جس میں کوئٹہ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 133 رنز سکور کئے جو بظاہر بہت آسان ہدف تھا۔ وہاب ریاض نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جواب میں پشاور کی ٹیم محمد نواز، ایلیٹ اور اعزاز چیمہ کی تباہ کن باؤلنگ کی وجہ سے صرف 132 رنز بنا سکی اور اس طرح کوئٹہ کی ٹیم نے یہ میچ صرف 1 رن سے جیت کر فائنل میں جگہ بنالی۔

 

بہترین لمحہ

 

پی ایس ایل میں جتنا جوش و جذبہ باؤنڈری لائن کے اندر دیکھنے کو ملتا تھا اتنا ہی باؤنڈری لائن کے باہر بھی دیکھنے کو ملا۔ کوئٹہ ٹیم کی بہترین کارکردگی کا سہرا سر ویوین رچرڈز کے سر جاتا ہے جنہوں نے کوئٹہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کی جی جان سے رہنمائی کی اور ہر میچ کے جیتنے پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ویسٹ انڈیز کو دو ورلڈ کپ جتوانے والا شخص اس طرح سے جونیئر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ میرے خیال میں پی ایس ایل کا سب سے بہترین لمحہ باؤنڈری کے اندر نہیں بلکہ باؤنڈری کے باہر کھیلا گیا تھا۔ فائنل میں جب کوئٹہ کی ٹیم کے جیتنے کے تمام مواقع ختم ہو چکے تھے تو کیون پیٹرسن نے اردو میں ٹویٹ کرتے ہوئے کوئٹہ ٹیم کے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کیا اور اگلے سال بہتر کھیل دکھانے کا وعدہ کیا۔ کرکٹ کے ایک مداح کے طور پر اس سے بہتر لمحات شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملے ہوں۔

 

بہترین کھلاڑی

 

اس لیگ میں بہتر کارکردگی دکھانے والوں میں زیادہ تر تجربہ کار کھلاڑی شامل تھے جنہیں بین الاقوامی کرکٹ کا اچھا خاصہ تجربہ حاصل تھا لیکن میرے خیال میں سب سے بہترین کھلاڑی کہلانے کے حقدار کوئٹہ ٹیم کے محمد نواز ہیں جنہوں نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور ہمیشہ اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی۔ پشاور زلمی کے خلاف پہلے پلے آف میں جب انہوں نے دو مسلسل گیندوں پر محمد حفیظ اور بریڈ ہوج کو بولڈ کیا تو 1992 کے ورلڈ کپ فائنل کے وہ لمحات یاد آئے جب وسیم اکرم نے ایلن لیمب اور کرس لیوس کو مسلسل دوگیندوں پر آوٹ کیا تھا۔ اس کارکردگی کی بنا پر محمد نواز کو اب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹونٹی کپ کے لئے ٹیم کا حصہ بنادیا گیا ہے۔

 

پی ایس ایل اور دیگر لیگز کا موازنہ

 

پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔
پاکستان سوپر لیگ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ کیا یہ دیگر کرکٹ لیگز جیسے انڈین پریمیئر لیگ، بگ بیش لیگ، کیریبئین پریمیئر لیگ حتیٰ کہ بنگلہ دیش پریمئر لیگ سے مقابلہ کر پائے گی۔ اس موازنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پاکستان سوپر لیگ کا پہلا سال تھا جبکہ باقی لیگز کو کافی عرصہ ہوچکا ہے جیسا کہ آئی پی ایل کے آغاز کو آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ اور ایک بات اور جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ باقی لیگز ان کے اپنے ممالک میں کھیلی جاتی ہیں جبکہ پی ایس ایل پاکستان میں نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی لیکن پھر بھی میدان میں شائقین کی تعداد قابلِ قدر تھی اور فائنل میں تو تمام ٹکٹ فروخت ہوئے حالانکہ فائنل چھٹی کے دن نہیں بلکہ ایک کاروباری دن کو کھیلا گیا تھا، اس امر سے لوگوں کی اس لیگ میں دلچسپی کا پتہ چل جاتا ہے۔ جہاں دبئی میں کافی لوگ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو دیکھنے گئے وہیں پاکستان میں بھی سب لوگ ٹی وی پر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کرکٹ سے محظوظ ہوتے رہے۔

 

جتنا پیسہ آئی پی ایل اور بگ بیش جیسی لیگز کے پاس ہے اتنا پیسہ پی ایس ایل والوں کے پاس نہیں جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اتنی مراعات اور معاوضے نہیں ملے جتنے آئی پی ایل اور بگ بیش میں ملتے ہیں لیکن پھر بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت اور ان کی دلچسپی ایک بہت بڑی بات تھی۔ اس لیگ کی سب سے بڑی خوبی (جس کا ذکر ایک گزشتہ تحریر میں بھی کیا گیا) یہ تھی کہ کھلاڑیوں کا انتخاب باقی لیگوں کی طرح نیلامی سے نہیں ہوا بلکہ ڈرافٹ سے ہوا جس کے باعث تقریباً تمام ٹیمیں متوازن تھیں اور ہر ٹیم کو دو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا بھی انتخاب کرنا تھا جس سے نئے ٹیلنٹ کو منظرِ عام پر آنے کا موقع ملا اور آئندہ بھی ملتا رہے گا جو نہایت خوش آئند ہے۔

 

پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال لیگ کی کارکردگی کیسی ہوگی اور کس قدر جلد اس لیگ کو پاکستان لایا جائے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی

پہلی پاکستان سوپر لیگ نہایت کامیابی سے اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ کے درمیان لیگ کا فائنل مقابلہ کھیلا جانے والا ہے۔ پی ایس ایل کے انعقاد سے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے بہت سے مثبت پہلو سامنے آئے ہیں بلکہ شائقین کو بھی اچھی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ کی جیت کے لئے دعا گو ہیں اور سننے میں یہ آیا ہے کہ کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم میں میچ کی سکریننگ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے جو کوئٹہ میں کرکٹ کے فروغ کے لئے سودمند ثابت ہو گا۔

 

کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیت کے لئے دعا گو ہیں
لیگ کے شروع ہونے سے پہلے کوئٹہ کی ٹیم کو ایک کمزور ٹیم قرار دیا جا رہا تھا لیکن ان کی بہترین کارکردگی اور پشاور کی ٹیم کے لیگ سے باہر ہونے کی وجہ سے فائنل کے لئے کوئٹہ کو ہی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے (پلے آفز تک گراؤنڈ میں سب سے زیادہ پشاور ٹیم کے مداح اور شائقین موجود ہوتے تھے)۔ لیکن اسلام آباد کی ٹیم بھی مسلسل چار میچ متاثرکن انداز میں جیت چکی ہے جس سے ان کے جیتنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ٹی ٹونٹی، محدود اوورز پر مشتمل فارمیٹ ہے اس لیے ایک روزہ مقابلوں اور ٹیسٹ میچز کی نسبت اس میں کھیل کا پانسہ چند گندوں میں بھی پلٹ سکتا ہے، ایک اچھا اوور لمحوں میں میچ کا رخ پلٹ سکتا ہے اسی لئے دونوں ٹیموں کو جیتنے کے لئے میچ کی دونوں اننگز کے پورے چالیس اوورز میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن مصباح الحق کا مداح ہوتے ہوئے میرے دل میں اسلام آباد یونائٹیڈ کے لئے بھی نیک خواہشات ہیں۔ دونوں ٹیموں کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے یہاں دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جارہا ہے:

 

مصباح الحق بمقابلہ سرفراز

 

ٹی ٹونٹی کی مقبولیت کی جب بھی بات آئے گی تو پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور مصباح کا نام بھی یاد رکھا جائے گا۔ ان کی آخری شاٹ دنیائے کرکٹ کے جدید دور کا سب سے معنی خیز لمحہ (مگر پاکسانیوں کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح) ثابت ہوا اور آئی پی ایل کے آغاز کا سبب بنا۔ گو مصباح ایک بہترین کپتان ہوتے ہوئے بھی پاکستان کو ایک روزہ ورلڈ کپ نہیں دلا سکے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان ٹیم کی قیادت اس وقت کی جب ٹیم چاروں طرف سے مشکلات کا شکار تھی اور انہوں نے یہ کام بخوبی انجام دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی ٹیم کو ٹائٹل دلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

 

پچھلے ایک روزہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے جن دو کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ سراہا گیا ان میں ایک سرفراز احمد تھے (دوسرا کھلاڑی وہاب ریاض تھا)۔ آج کے دور میں سب سے خوبصورت سویپ شاٹ کھیلنا بھی سرفراز کے کھیل کا حصہ ہے۔ ان کی قیادت کے بارے میں کیون پیٹرسن کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی اچھے کپتان ہیں جو دوسری ٹیم کے دیے گئے مواقع اور غلطیوں سے استفادہ کرنا جانتے ہیں اور پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔

 

وسیم اکرم اور ڈین جونز بمقابلہ ویوین رچرڈز اور معین خان

 

سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔
وسیم اکرم کو ان کی بہترین باؤلنگ کی وجہ سے سوئنگ کا سلطان بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے دور میں دوسرے گیند بازوں کی رہنمائی کی ہے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستانی اور غیر ملکی گیند بازوں کو گر سکھانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ محمد سمیع، محمد عرفان اور آندرے رسل جیسے باؤلر ان کی زیر نگرانی حریف بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ ڈین جونز نے ایک روزہ کرکٹ میں تیز رفتار بلے بازی اور تیزی سے رنز کرنے کی روایت ڈالی۔ بطورِ بلے باز انہوں نے ہمیشہ دباو میں ٹیم کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی مثال مدراس(موجودہ چِنائی) میں بھارت کے خلاف ان کی ڈبل سینچری ہے جس میں وہ ڈی ہائڈریشن کا شکار ہوتے ہوئے بھی اعلٰی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسلام آباد کے بلے بازوں کی بیٹنگ پر کتنے اثرانداز ہوتے ہیں۔

 

سر ویوین رچرڈز کی تعریف کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وِزڈن (کرکٹ کی بائبل) نے انہیں گزشتہ صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔ ویوین نے پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں تین کھلاڑیوں کو رن آؤٹ کرکے ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کے نام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور دوسرے ورلڈ کپ کے فائنل میں سینچری سکور کرکے ویسٹ انڈیز کی جیت کو یقینی بنایا۔ سر ویوین رچرڈز کی موجودگی نے کوئٹہ کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کئے ہیں اور جس طرح ہر جیت کے بعد وہ خوشی مناتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ کوئٹہ کی ٹیم کو جتا کر ہی رہیں گے۔ دوسری جانب معین خان بھی ایک اچھے کوچ کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں اگر سرفراز سے بہتر کوئی سویپ شاٹ کھیل سکتا تھا تو وہ معین خان تھے اور اس لحاظ سے انہوں نے نئے بلے بازوں کی کافی مدد کی ہے۔

 

شرجیل خان بمقابلہ احمد شہزاد

 

شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔ انہوں نے پچھلے میچ میں ٹیم کے مجموعی سکور کا تقریباً 70 فیصد اکیلے ہی سکور کیا۔ اب تک لیگ میں سب سے زیادہ چھکے بھی انہوں نے ہی لگائے ہیں۔ اگر وہ فائنل میں پچاس تک سکور بنا لیتے ہیں تو وہ لیگ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ دوسری جانب احمد شہزاد پچھلے کچھ عرصے سے فارم میں نظر نہیں آرہے ہیں لیکن سر ویوین رچرڈز کے باعث اس کا اعتماد دوبارہ بحال ہوا ہے۔ جس رفتار سے وہ بیٹنگ کرتے ہیں اگر وہ پانچ، چھ اوورز تک کریز پر موجود رہے تو کوئٹہ کی ٹیم ایک بڑا سکور کرنے یا ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

 

سنگاکارا اور پیٹرسن بمقابلہ ہیڈن اور سمتھ

 

شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔
سنگاکارا اور پیٹرسن کی موجودگی سے کوئٹہ کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے لیکن ہیڈین اور سمتھ کی بلے بازی کے اندازِ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ فائنل میں کوئٹہ ٹیم کے جیتنے کا دارومدار سنگاکارا اور پیٹرسن کی بیٹنگ پر ہے۔

 

آندرے رسل اور عمران خالد بمقابلہ گرنٹ ایلیٹ اور محمد نواز

 

محمد نواز نے پی ایس ایل کے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ جیت کر اپنے موجودگی کا احساس دلا دیا تھا۔ ایلیٹ نے ذوالفقار بابر کی مدد سے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں دسویں وکٹ کی شراکت میں سب سے زیادہ سکور بنائے ہیں۔ سرفراز نے ان دونوں کا بطورِ باؤلر اچھا استعمال کیا ہے اور بیٹنگ میں بھی دونوں فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عمران خالد اور آندرے رسل بھی جمے ہوئے بلے بازوں کی شراکت توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آندرے رسل ایک اچھے بلے باز بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

 

ذوالفقار بابر بمقابلہ سعید اجمل
سعید اجمل اور ذوالفقار بابر دونوں ہی نہایت تجربہ کار کرکٹرز ہیں اور دونوں نے ہمیشہ مل کر پاکستان کو ٹیسٹ میچز جتائے ہیں لیکن آج وہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ باولنگ ایکشن رپورٹ ہونے اور فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے سعید اجمل کو پچھلے چند ماہ کرکٹ سے دور رہنا پڑا، پی ایس ایل کے بھی گزشتہ چند میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے لیکن عین ممکن ہے کہ انہیں فائنل میں جگہ مل جائے اور وہ اپنی ٹیم کو جتانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ذوالفقار بابر کی موجودگی بھی اسلام آباد کی ٹیم کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

 

محمد سمیع اور محمد عرفان بماابلہ انور علی اور عمر گل

 

میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔
جن لوگوں نے پاکستان کو ٹی ٹونٹٰی ورلڈ کپ جیتتے ہوئے دیکھا ہے انہیں عمر گل کی شاندار باؤلنگ کا پتہ ہوگا۔ عمر گل ایک اوور میں چھ یارکر کرنے والا شاید دنیا کا واحد باؤلر ہو۔ عمر گل کو پچھلے کچھ میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے مگر میری خواہش ہے کہ اسے فائنل میں موقع دیا جائے تاکہ وہ کوئٹہ کو ٹائٹل جتوانے میں کامیاب ہوجائے۔ انور علی نے بھی شاندار باؤلنگ کی ہے اور حریف ٹیموں کے افتتاحی بلے بازوں کو پریشان کئے رکھاہے۔ دوسری جانب محمد عرفان نے اپنے لمبے قد اور پچ کے باؤنس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری ٹیموں کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔ اور ساتھ ہی محمد سمیع نے جوکہ کافی عرصے بعد منظرِ عام پرآئے ہیں، اچھی باؤلنگ کی ہے اور کراچی کے خلاف پانچ کھلاڑی پویلین بھیج کر اپنے انتخاب کا حق ادا کیا ہے۔

 

ٹیم بمقابلہ افراد

 

پشاور اور اسلام آباد کے میچ کے دوران ٹینس کے مشہور پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق نے ٹینس اور کرکٹ کے فرق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ٹینس میں صرف ایک فرد کی کامیابی ہی لازمی ہوتی ہے جبکہ کرکٹ میں فتح کے لئے پوری ٹیم کو متحد ہوکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پی ایس ایل کے فائنل کا فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہوگا۔ انفرادی طور پر اسلام آباد کے کھلاڑی کوئٹہ کے کھلاڑیوں سے بہتر ہے لیکن کوئٹہ کی ٹیم نے بطورِ ٹیم کھیلنے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے کھلاڑی زیادہ چھکے مارنے، زیادہ سکور کرنے، بہترین باؤلنگ فیگرز میں پیش پیش ہیں لیکن سب سے کم مارجن سے جیتنے اور مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والی ٹیم کوئٹہ کی ہے۔ آج کے فائنل میں پتہ چل جائے گا کہ ٹیم جیتے گی یا انفرادی کارکردگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔
Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رؤف کلاسرا

 

کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے
میں کل پی ایس ایل کا میچ دیکھ رہا تھا۔ کوئٹہ کی فتح پر میرا بیٹا خوشی سے چھلانگیں مارنے لگا، اس کی خوشی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پوچھا ابو کیا ہوا ہے؟ میں نے جواب دیا تمہاری خوشی پر رو رہا ہوں۔ میں اسے کیا بتاتا کہ اس کا باپ کیوں رو رہا ہے؟ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا جب میں بڑے بھائی اور اماں سے چھپ چھپ کر میچز اور فلمیں دیکھنے جاتا تھا۔ وہ دور یاد کر کے مجھ میں عجیب سے خوشی پیدا ہو گئی، مگر یہ بات یاد آئی کہ نہ اب بڑے بھائی ہیں نہ اماں تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے اور ہمارے اپنے کیڑے نکالتے ہیں۔ میں کافی دیر تک روتا رہا آخر کار بلونت سنگھ کا افسانہ پڑھتے ہوئے کچھ سکون ملا۔ لیکن پھر احساس ہوا کہ یہ افسانہ بھی تو ختم ہو جائے گا یہ سوچ کر آنکھیں پھر بھر آئیں۔

 

حسن نثار

 

کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔
اوہ بھائی کون سا میچ، کیسا میچ؟ کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔ اوہ لعنت ہو ایسی سوچ پر۔ دودھ تمہارا جعلی، دوائیں جعلی، پانی ملاوٹ زدہ، جگہ جگہ گندگی اور غلاظت، اور تم جشن منا رہے ہو؟ لعنت ہو ایسی مکروہ چغلی چغلائی سوچ پر۔ ڈھنگ کا کام کرو۔ دنیا میں کتنی کوئٹہ کی ٹیمیں ہیں؟ پھر تم نے کیوں ٹیم بنا لی؟ اور کیا ٹیم ہے؟ جیتنے پر سرفراز اکیلا جشن منا رہا تھا، پیٹرسن ادھر بھاگ رہا تھا، سنگاکارا ادھر منہ اٹھا کر بھاگ رہا تھا، ویو رچرڈز نے اپنی فلم چلائی ہوئی تھی۔ کیا یہ ہوتی ہے ٹیم؟ تمہاری ایک ٹیم تو متحد ہے نہیں۔ ستر سال ہو گئے پاکستان کو بنے ہوئے، لعنت ہو ایک گلی میں تم اکٹھے نہیں، مسجد ایک نہیں، ازاں ایک نہیں اور گالیاں امریکا کو دیتے ہو۔ بل شٹ خدا کا خوف کرو اب بند کرو یہ بکواس بند کرو اب۔

 

ہارون الرشید

 

بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔
کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔
بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ خدا کی پناہ کیسے کیسے اجلے لوگ۔ کل رچرڈز کو دیکھا۔ جب پریشان تھا تو عارف کے پاس آن پہنچا کہ تسبیح چاہئے۔ عارف نے تسبیح کے دانوں سے سر اٹھایا اور بولے اپنا غصہ نکال دو۔ تسبیح لی یہ جا وہ جا۔ عظمت اس پر ٹوٹ کر برسی۔ کپتان سے بہتیرا کہا پشاور کے لئے تسبیح لے جاؤ۔ جواب ندارد۔ خان کے اردگرد سیف اللہ نیازیوں، صداقت عباسیوں، شاہ محمود قریشیوں کا غلبہ ہے۔ میچ دیکھ رہا تھا کہ سپہ سالار نے قاصد بھیجا کہ میچ پر تبصرہ کرنا ہے آپ آ جائیں۔ کپتان کو کہا کہ چلے۔ مگر کپتان اپنی دھن کا ہے۔ اس نے سن کر نہ دی۔ خود ہی گھوڑے کو چابک دی اور فوجی مستقر پر جا رکا۔ سپہ سالار مسکرایا اور بولا جنرل پیٹریاس کہتا تھا پی ایس ایل ناکام ہو گی۔ کامیابی سے سپہ سالار کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ بھاڑے کے ٹٹو کیا جانے اس صابر انسان نے کتنے پہاڑ سے بحرانوں کو اس ملک پر نہ آنے دیا۔ امریکا سے امداد لینے والا چڑیا والا صحافی جو آج پی ایس ایل کو اپنی فتح بنا کر پیش کر رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ یہ خاکی سب داستان جانتا ہے کسی دن بیان کر دی جائے گی۔ کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔

 

جاوید چوہدری

 

کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔
سرفراز نے قہقہہ لگایا اور سٹمپس اڑا دیں اور کوئٹہ پلے آف کا پہلا میچ رات بارہ بج کر تئیس منٹ اور چودہ سیکنڈ پر جیت گیا۔ کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ رنگ سب سے پہلے ہنگری کے ایک جاگیردار نے بنوایا تھا۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی پاکستان کی ٹیم کا رنگ پرپل کر دیں اس سے ٹیم میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے ہر کرکٹ کھیلنے والے بچے کے منہ پر پرپل رنگ کر دے یہ رنگ اسے کوئٹہ کی فتح کی یاد دلاتا رہے گا۔ ہمیں پورا پاکستان پرپل کرنا ہو گا کیونکہ یورپ ایسا کر رہا ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم لاہور قلندرز کی طرح تاریخ کے اندھے کنویں میں جا گریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان سوپر لیگ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

آخری بار کوئٹہ شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے مابین 29 اکتوبر 1996 کو بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 300 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے باؤلر بنےتھے۔
پچھلے کئی دنوں سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ اپنے اختتامی مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ اس لیگ کا انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کیا گیا ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی کرکٹرز شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس لیگ میں کل پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ لیگ میچز کے اختتام تک سب سے بہتر اور مستقل کارکردگی کا مظاہرہ جس ٹیم نے کیا ہے وہ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ہے۔ ٹیم کی حیران کن کارکردگی سے نہ صرف لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے کوئٹہ شہر کو بھی پہلی بار اس بڑے پیمانے پر خصوصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن کوئٹہ کی ٹیم اور لیگ کو سراہنے والوں کے ساتھ ساتھ ٹیم اور لیگ کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اعتراض کرنے والوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔

 

کوئٹہ شہر، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ کوئٹہ میں رہنے والوں کا تعلق زیادہ تر پشتون، بلوچ اور ہزارہ برادری سے ہے۔ کوئٹہ بہترین پھلوں کی پیداوار کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے لیکن پچھلی دو دہائیوں سے کوئٹہ صرف اور صرف دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے خبروں کی زینت بن رہا ہے۔ یوں تو کوئٹہ نے کئی مایہ ناز سپوت پیدا کیے ہیں جن میں ابرار حسین باکسر (ایشین گولڈ میڈلسٹ)، کوہ پیما ہدایت اللہ خان درانی، سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد موسیٰ، چیف جسٹس افتخار چوہدری، فلائٹ لیفٹنٹ صمد علی چنگیزی (ستارہ جرات) ناول نگار اور ہدایتکار ہاشم ندیم، شاعر محسن چنگیزی (تمغہِ امتیاز) اور فنکاروں میں جمال شاہ، ایوب کھوسہ، عذرا آفتاب اور حمید شیخ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ مگر کرکٹ کے کھیل سے اس شہر کا تعلق اتنا گہرا نہیں ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اب تک کوئی کرکٹر اس شہر سے منظرِ عام پر نہیں آیا ہے۔ آخری بار کوئٹہ شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے مابین 29 اکتوبر 1996 کو بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 300 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے باؤلر بنے تھے۔ اس میچ کو اس لئے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ اس میچ میں دنیا کے سب سے کم عمر (متنازعہ طور پر) کرکٹر حسن رضا نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا تھا۔ پاکستان سوپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مسلسل کامیابی کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے غیر متوقع طور پر کوئٹہ کا نام اچھی اور خوش کن خبروں کے ساتھ ذرائع ابلاغ میں آ رہا ہے۔ پچھلے میچ میں بسم اللہ خان (جن کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے) کی شاندار بلے بازی سے ایسا لگ رہا ہے کہ کوئٹہ میں کرکٹ کی جانب رحجان میں مزید اضافہ ہونے والا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔

 

دنیا بھر میں جتنی بھی لیگز موجود ہیں ان میں یہ امر مشترک ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ شہر سے کھلاڑیوں کے انتخاب جیسی جغرافیائی قیود متعین نہیں کی جاتیں۔
پاکستان سوپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ کی طرح بارونق اور بیگ بیش لیگ کی طرح تماشائیوں سے چکا چک بھری ہوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر موجود کرکٹ کے شائقین بڑی تعداد میں ان میچوں کو دیکھ رہے ہیں۔ لیگ پر سب سے پہلا اعتراض (جس کا نشانہ زیادہ تر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کو بنایا گیا ہے) یہ ہے کہ ٹیم حقیقی معنوں میں اپنے شہروں کی نمائندگی نہیں کر رہی۔ اس اعتراض کی ایک وجہ میچوں کا اپنے متعلقہ پاکستانی شہروں میں نہ کھیلا جانا ہے جس کی ذمہ داری ملک میں امن وامان کی تشویشناک صورتحال پر عائد ہوتی ہے۔ شائقین کے ساتھ ساتھ کھلاڑی اور منتظمین بھی یہ چاہتے ہیں کہ میچز پاکستان کے شہروں میں ہوں لیکن فی الحال ایسا ہوتاممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم چئیرمین پی سی بی اور چیئرمین پی ایس ایل اگلے برس کم از کم ایک سے دو میچ پاکستان میں کرانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں اور اس سے اگلے برس پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان میں کرانے کی امید بھی ظاہر رک چکے ہیں، ہم دعاگو ہیں کہ ایسا ہی ہو اور پاکستان میں کرکٹ کی رونقیں بحال ہوں۔

 

بگٹی سٹیڈیم-کوئٹہ (تصویر: سعادت صبوری)
بگٹی سٹیڈیم-کوئٹہ تصویر: سعادت صبوری
بہت سے معترضین یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں کوئٹہ کا صرف ایک ہی کھلاڑی (بسم اللہ خان) ٹیم کا حصہ ہے جس سے لوگ کافی ناخوش ہیں۔ ان لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا بھر میں جتنی بھی لیگز موجود ہیں ان میں یہ امر مشترک ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ شہر سے کھلاڑیوں کے انتخاب جیسی جغرافیائی قیود متعین نہیں کی جاتیں۔ اگر دیکھا جائے تو دنیائے فٹبال کے بے تاج بادشاہ لیونل میسی کا تعلق ارجنٹائن سے ہے لیکن ان کی مقبولیت میں ارجنٹائن کی قومی ٹیم سے زیادہ بارسلونا فٹبال کلب نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سپین کا ایک کلب ہے۔ اسی طرح رونالڈو کا تعلق بھی پرتگال سے ہیں لیکن ان کی وجہِ شہرت انگلش کلب مانچسٹر یونائٹڈ اور ہسپانوی کلب ریال میڈریڈ ہیں۔ مہیندر سنگھ دھونی بھی آئی پی ایل میں چینائی کی قیادت کرتے رہے ہیں جبکہ ان کا تعلق رانچی، بہار (موجودہ جھاڑکھنڈ) سے ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض سراسر غلط ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا ایک اور کھلاڑی محمد اصغر بھی اس لیگ میں شامل ہے اور وہ پشاور زلمی کی طرف سے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ محمد اصغر نے بلوچستان کے شہر حب سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا اور پچھلے کچھ عرصے سے کراچی میں قیام پذیر ہے۔

 

پاکستان سوپر لیگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسری لیگز کے برخلاف کھلاڑیوں کا انتخاب (فروخت) نیلامی یا بولی کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرافٹ کے ذریعے ہوا
پاکستان سوپر لیگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسری لیگز کے برخلاف کھلاڑیوں کا انتخاب (فروخت) نیلامی یا بولی کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرافٹ کے ذریعے ہوا جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام ٹیمیں متوازن طور پر منتخب ہوئی ہیں۔ تمام کھلاڑیوں کو چھ درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں ایک درجہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لئے مختص تھا اور ہر ٹیم کے لئے لازم تھا کہ وہ کم از کم دو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب کرے (میری محدود معلومات کے تحت یہ دنیا کی پہلا لیگ ہے جس میں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب لازمی قرار دیا گیا ہے)۔ اس سے نہ صرف نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ڈریسنگ روم میں سر ویوین رچرڈز، کیون پیٹرسن، کماراسنگاکارا، وسیم اکرم، ڈین جونز جیسے کھلاڑیوں سے مل کر ان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جو اس سے پہلے پاکستان میں ممکن نہیں تھا جس کا اثر محمد اصغر، محمد نواز، بسم اللہ خان، رومان رئیس اور اسامہ میر جیسے نوجوان کھلاڑی نہایت عمدگی سے دکھا رہے ہیں۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لیگ میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے منتظمین کو بہتر لائحہ عمل بنا کر مزید محنت کرنی ہوگی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ مکمل داد کی مستحق ہے جو کئی سالوں سے مشکلات سے دوچارہونے کے باوجود ایک بہتر معیار کی کرکٹ لیگ کے انعقاد میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس قدر جلد کرکٹ بورڈ اس لیگ کو پاکستان میں منعقد کرانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔ کرکٹ کے ایک مداح کے طور پر نہ صرف میری بلکہ تمام پاکستانیوں کی یہی خواہش ہے کہ جلد از جلد پاکستان میں کرکٹ کی بحالی ممکن ہوسکے۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ہیں کیوں کہ وہ اس لیگ کی بہترین ٹیم ہیں۔ میری خواہش یہی ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم اس لیگ کو جیت کر کوئٹہ کے رہنے والوں کو خوش ہونے کا ایک نادرموقع فراہم کرے۔

Image Credit: Saa’dat Sabori