Categories
نقطۂ نظر

پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رؤف کلاسرا

 

کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے
میں کل پی ایس ایل کا میچ دیکھ رہا تھا۔ کوئٹہ کی فتح پر میرا بیٹا خوشی سے چھلانگیں مارنے لگا، اس کی خوشی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پوچھا ابو کیا ہوا ہے؟ میں نے جواب دیا تمہاری خوشی پر رو رہا ہوں۔ میں اسے کیا بتاتا کہ اس کا باپ کیوں رو رہا ہے؟ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا جب میں بڑے بھائی اور اماں سے چھپ چھپ کر میچز اور فلمیں دیکھنے جاتا تھا۔ وہ دور یاد کر کے مجھ میں عجیب سے خوشی پیدا ہو گئی، مگر یہ بات یاد آئی کہ نہ اب بڑے بھائی ہیں نہ اماں تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے اور ہمارے اپنے کیڑے نکالتے ہیں۔ میں کافی دیر تک روتا رہا آخر کار بلونت سنگھ کا افسانہ پڑھتے ہوئے کچھ سکون ملا۔ لیکن پھر احساس ہوا کہ یہ افسانہ بھی تو ختم ہو جائے گا یہ سوچ کر آنکھیں پھر بھر آئیں۔

 

حسن نثار

 

کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔
اوہ بھائی کون سا میچ، کیسا میچ؟ کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔ اوہ لعنت ہو ایسی سوچ پر۔ دودھ تمہارا جعلی، دوائیں جعلی، پانی ملاوٹ زدہ، جگہ جگہ گندگی اور غلاظت، اور تم جشن منا رہے ہو؟ لعنت ہو ایسی مکروہ چغلی چغلائی سوچ پر۔ ڈھنگ کا کام کرو۔ دنیا میں کتنی کوئٹہ کی ٹیمیں ہیں؟ پھر تم نے کیوں ٹیم بنا لی؟ اور کیا ٹیم ہے؟ جیتنے پر سرفراز اکیلا جشن منا رہا تھا، پیٹرسن ادھر بھاگ رہا تھا، سنگاکارا ادھر منہ اٹھا کر بھاگ رہا تھا، ویو رچرڈز نے اپنی فلم چلائی ہوئی تھی۔ کیا یہ ہوتی ہے ٹیم؟ تمہاری ایک ٹیم تو متحد ہے نہیں۔ ستر سال ہو گئے پاکستان کو بنے ہوئے، لعنت ہو ایک گلی میں تم اکٹھے نہیں، مسجد ایک نہیں، ازاں ایک نہیں اور گالیاں امریکا کو دیتے ہو۔ بل شٹ خدا کا خوف کرو اب بند کرو یہ بکواس بند کرو اب۔

 

ہارون الرشید

 

بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔
کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔
بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ خدا کی پناہ کیسے کیسے اجلے لوگ۔ کل رچرڈز کو دیکھا۔ جب پریشان تھا تو عارف کے پاس آن پہنچا کہ تسبیح چاہئے۔ عارف نے تسبیح کے دانوں سے سر اٹھایا اور بولے اپنا غصہ نکال دو۔ تسبیح لی یہ جا وہ جا۔ عظمت اس پر ٹوٹ کر برسی۔ کپتان سے بہتیرا کہا پشاور کے لئے تسبیح لے جاؤ۔ جواب ندارد۔ خان کے اردگرد سیف اللہ نیازیوں، صداقت عباسیوں، شاہ محمود قریشیوں کا غلبہ ہے۔ میچ دیکھ رہا تھا کہ سپہ سالار نے قاصد بھیجا کہ میچ پر تبصرہ کرنا ہے آپ آ جائیں۔ کپتان کو کہا کہ چلے۔ مگر کپتان اپنی دھن کا ہے۔ اس نے سن کر نہ دی۔ خود ہی گھوڑے کو چابک دی اور فوجی مستقر پر جا رکا۔ سپہ سالار مسکرایا اور بولا جنرل پیٹریاس کہتا تھا پی ایس ایل ناکام ہو گی۔ کامیابی سے سپہ سالار کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ بھاڑے کے ٹٹو کیا جانے اس صابر انسان نے کتنے پہاڑ سے بحرانوں کو اس ملک پر نہ آنے دیا۔ امریکا سے امداد لینے والا چڑیا والا صحافی جو آج پی ایس ایل کو اپنی فتح بنا کر پیش کر رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ یہ خاکی سب داستان جانتا ہے کسی دن بیان کر دی جائے گی۔ کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔

 

جاوید چوہدری

 

کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔
سرفراز نے قہقہہ لگایا اور سٹمپس اڑا دیں اور کوئٹہ پلے آف کا پہلا میچ رات بارہ بج کر تئیس منٹ اور چودہ سیکنڈ پر جیت گیا۔ کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ رنگ سب سے پہلے ہنگری کے ایک جاگیردار نے بنوایا تھا۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی پاکستان کی ٹیم کا رنگ پرپل کر دیں اس سے ٹیم میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے ہر کرکٹ کھیلنے والے بچے کے منہ پر پرپل رنگ کر دے یہ رنگ اسے کوئٹہ کی فتح کی یاد دلاتا رہے گا۔ ہمیں پورا پاکستان پرپل کرنا ہو گا کیونکہ یورپ ایسا کر رہا ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم لاہور قلندرز کی طرح تاریخ کے اندھے کنویں میں جا گریں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

ہارون رشید کا ایک فرضی کالم

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا۔ اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔

 

جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔
جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔ ماتھے پر ہاتھ دھرا اپنی دھن میں گھوڑے کو ایڑ لگائی کہ کپتان کا برقی پیغام ملا کہ آن پہنچو۔ بنی گالا پہنچا۔ کپتان پسینے میں شرابور، ورزش کے لیے مخصوص لباس میں ملبوس کسی معصوم جنرل کی طرح لگ رہا تھا۔ اس کے لانبے چہرے سے پسینے کے قطرے گر رہے تھے۔ ایسے سادہ اطوار کا بھانڈ مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ کی پناہ ایسے ایسے لوگ، جن کو پیسے سی آئی اے سے ملتے ہوں ان کا اس ملک سے کیا واسطہ؟ کپتان نے مجھے دیکھ کر کہا، ہارون تم کیا کہتے ہو میں بھی جنرل کی طرح، تحریک انصاف کی صدارت کی توسیع نہ لوں؟ برق سی لپکی ذہن میں کہ خان تو تاحیات پارٹی کا چئیرمین ہے مگر ایسا سادہ کہ یہ بھی نہیں معلوم؟ ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔ اسی اثنا میں سفید لبادے میں ملبوس، باوردی ملازم دلکی چال چلتے گھوڑے پر جوس اٹھا لایا، سوچا کپتان نے یہ میزبانی کب سیکھی؟ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کپتان نے گلاس لیا اور غٹاغٹ جوس چڑھا گیا۔ کپتان نے پھر سوال داغا۔ بے اختیار پرویز رشید یاد آیا، اللہ اللہ ایسے ایسے لوگ وزیر اعظم نے وزیر رکھ چھوڑے ہیں جن کو کوئی منشی بھی نہ رکھے۔ ایک خواجہ صاحبان ہیں جن کی گھٹی میں فوج سے نفرت ہے۔ الحذر الحذر
خان کا چہرہ یکدم سرخ ہو گیا۔ لگا کہ جواب نہ ملنے پر خفا ہے، اچانک دیکھا تو صلاح الدین ایوبی اس کی پشت سے سفید گھوڑے پر لپکے چلے آتے ہیں۔ وہ پاس آئے گھوڑے کی لگامیں کھینچیں، حکمت یار کا ای میل پتہ مانگا اور یہ جا وہ جا، میں ہکا بکا، درویش یاد آیا وہی ملائم انداز کہ دلوں کو موہ لے۔

 

بھاڑے کے ٹٹو کے اب اپنی نفرت آمیز لہجے والی زبانیں سکوڑے بیٹھے ہیں کہ جنرل نے توسیع نہیں لی، پوری داستان اس خاکی اخبار نویس کو معلوم ہے، کسی دن سب بیان کر دی جائے گی۔ برخوردار، بلال الرشید کا زکام صاف کر رہا تھا کہ فسوں خیز، سپہ سالار، صابر کیانی کا مژدہ آیا۔ کوندا سا لپکا کہ دو عشرے ہوتے ہیں، سرخ فوج کو دھول چٹا دینے والے مرد مومن، صلاح الدین ایوبی، ضیاء الحق نے بھی اسی طرح بلا بھیجا تھا صاف انکار کیا۔ ایسا چمکیلی سنہری دھوپ والا دن دیکھتا ہوں کہ ایک ہیلی کاپٹر اڑا چلا آتا ہے، میرے غریب خانے کے سامنے اترتا ہے۔ اندر سے روسیوں کی روح چٹخ دینے والا سادہ مگر چمکیلی آنکھوں والا باوردی جنرل، سفید گھوڑے پر سوار نکلتا ہے۔ سر پٹ دوڑتا گھوڑا میرے سامنے آن رکتا ہے جب جنرل اس کی لگامیں کھینچتا ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے کہ آج اس کا کوئی نام لیوا نہیں ہے؟

 

ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔
فوجی مستقر پہنچتا ہوں۔ سپہ سالار، کیپسٹن سگریٹ کی ڈبی سے سگریٹ نکالنا چاہتا ہے مگر سگریٹ ندارد، اپنی دھن میں مگن، سوچتی کھوجتی آنکھوں والا، سپہ سالار جس پر بھاڑے کے ٹٹو بہتان لگاتے ہیں وہ جاہل لاعلم ہیں۔ میں نے برخوردار مامون الرشید کو کہا کہ کالے گھوڑے کو ایڑ لگاؤ اور نکڑ والے کھوکھے سے، کیپسٹن سگریٹ کا پیکٹ اٹھا لاؤ۔ سپہ سالار ایک صابر انسان ہے۔ دو لفظوں میں پوری کہانی کہہ دیتا ہے۔ مگر وہ سوچنے والا ہے۔ دشنام طرازی کرنے والوں پر خاموش رہتا ہے۔ بہتیرا کہا کہ اپنی کہانی لکھ دیجیے مگر جواب فقط سحر انگیز خاموشی۔
ہاں کہہ دیں بھاڑے کے ٹٹو،گز گز زبانوں سے کیچڑ اچھالنے والے اور دشنام طرازی کرنے والے شکریہ راحیل شریف کہ اعلیٰ خاندان کے سرخ و سپید فسوں خیز سپہ سالار کو بیچوں بیچ لگامیں نہ کھنچ دینی چاہیے تھیں۔ ابھی ضرب عضب جاری ہے اور جنگ کے درمیان کمانڈر نہیں بدلا کرتے مگر خود دار سپہ سالار توسیع کو لے کر جاری زہریلی تنقید اور دشنام طرازی پر رنجیدہ خاطر تھا۔ دل چاہا کہ جنرل کو گوجر خان عارف کے پاس لے چلوں جس سے روز ہزاروں فیض پاتے ہیں۔ پھر سوچا کہ گنوار ہوں درویش کو کتنی ہی بار مصیبت میں ڈالا۔ اللہ کی پناہ کیسے کیسے گنوار لوگوں کو درویش پناہ دیتا ہے۔ وہی تاریک کمرہ، وہی روشن چہرہ، اس چڑیا والے تجزیہ نگار کی طرح نہیں جو امریکی آشیر باد اور مالی امداد پر چلتا ہے۔ بھاڑے کے ٹٹو۔۔۔ کیسا بدنصیب ہے یہ ملک کہ زرداریوں، شریفوں، چوھدریوں کے نرغے میں پھنس گیا۔ الامان الحفیظ۔

 

کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا .اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔