Categories
نقطۂ نظر

“ٹرمپ کی جیت؛ عالمی جہادی تنظیموں کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

یہی خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

صفِ اول کی تمام جہادی تنظیموں نے ٹرمپ کی جیت میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ امریکی تاریخ کے وحشت ناک ترین واقعے کی ذمہ داری کسی بھی جہادی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی بلکہ اسے امریکہ کی اپنی ‘کارستانی’ قرار دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہونے پر خبرستان ٹائمز نے تمام اہم عالمی جہادی تنظیموں سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کی جانب سے اس سانحے میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے۔

 

دنیا کی تمام جہادی تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے، “وللہ ہم ایسا چاہتے تھے مگر قسمے ہم نے ایسا کیا نہیں۔” یہ بیان پر امن سیاسی کوششوں کے لیے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر جاری کیا گیا۔ کانفرنس کا انعقاد آئی ایس آئی ایس نے کیا اور صدارت القاعدہ نے کی جس میں طالبان، لشکر جھگنوی، بوکو حرم، النصرہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک پارٹی سمیت دیگر جہادی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔

 

دنیا کے کسی نامعلوم مقام پر اس کانفرنس کے دوران شرکاء نے ٹرمپ کی جیت پر خوشی کا اظہار کیا تاہم اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حملے کے لیے درکار وسائل ان کے پاس موجود نہیں۔ “یہ امریکیوں کی اپنی کارستانی ہے۔” کانفرنس کے بعد جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں جلی حروف میں لکھا تھا “ہم بھی انسان ہیں اور ایک پورے ملک کے ساتھ ہم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔ اس بار کوئی سازش نہیں کی گئی یہ صحیح معنوں میں چو٭یاپا ہوا ہے۔”

 

بیان میں مزید کہا گیا، “ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں خدا امریکہ کے حال پر رحم کرے ؛)”

 

کانفرنس میں مستقبل میں امریکہ کو نظریات کی برآمد پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر داعش کی جانب سے “امریکہ کو پھر سے عظیم بنا دیں” کی عبارت والے لوٹے بھی تقسیم کیے گئے۔ بوکو حرام نے اس موقع پر اوبامہ کو اسلام قبول کرنے اور کینیا میں بوکوحرام کی شاخ کا امیر بننے کی دعوت بھی دی۔ کانفرنس کے دوران القاعدہ کی جانب سے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے نو گیارہ جیسے مزید سانحوں میں کمی کا امکان ہے۔ القاعدہ نے نو گیارہ کی طرز پر ٹرمپ ٹاورز پر حملوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم کا بھی آغاز کیا۔ اختتام پر اسامہ بن لادن اور ملا عمرکی یاد میں موم بتیاں بھی جلائی گئیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

آن لائن پاک بھارت جوہری جنگ؛ کی بورڈ، لیپ ٹاپ اور ایل سی ڈی کی فروخت میں اضافہ

خبرستان ٹائمز پر یہ خبر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اسلام آباد/نیو دہلی: سوشل میڈیا پر پاک بھارت جوہری جھڑپیں جاری ہیں، ایک بڑے آن لائن جوہری تصادم کے پیش نظر آن لائن پاکستانی مجاہدین اور بھارتیہ سائبر سینا نے سازوسامان کی خریداری میں اضافہ کر دیا ہے۔ خبرستان ٹائمز ذرائع کے مطابق دونوں جانب محب وطن مجاہد اور دیش بھگت صف آراء ہو چکے ہیں اور اپنے اپنے گم نام سوشل میڈیا اکاونٹ بنا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں جانب بڑے پیمانے پر نیچا دکھانے والی ٹویٹس، ہیش ٹیگز اور میمز کے ذخائر جمع کر لیے گئے ہیں۔

 

حفیظ سنٹر کے ایک کاروباری تجزیہ کار نے خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا، “بیلسٹک کی بورڈز، جوہری ماؤس اور کم، درمیانے اور طویل فاصلے سے نظر آنے والی ایل سی ڈیز کی فروخت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ “

 

آن لائن جوہری جنگ کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ماؤس
آن لائن جوہری جنگ کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ماؤس
گزشتہ ایک ماہ کے دوران سائبر مجاہدین اور آن لائن دیش بھگتوں کی بھاری ٹریف کے باعث وکی پیڈیا ویب سائٹ کے متعدد بار کریش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ہندی اور اردو لغات المغلظات کے ہاتھوں ہاتھ بکنے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کمپیوٹر اور موبائل اسیسریز کی فروخت میں اس اضافے کو نیولبرل فوجی صنعتی گٹھ جوڑ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دائش بھگتی اور آن لائن حب الوطنی میں اضافہ نیولبرل جنگی صنعت کی افزائش کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایپل، سام سنگ، ڈیل، لینوو، ایسر، سونی اور دیگر کمپنیاں اس وقت سائبر اسلحہ فراہم کرنے کی اس دوڑ میں آگے ہیں۔

 

سائبر جہادی مشق کرتے ہوئے
سائبر جہادی مشق کرتے ہوئے
ولیم ڈی ہارٹنگ، ڈائریکٹر آرمز اینڈ سیکیورٹی پراجیکٹ ولیم ڈی ہارٹنگ نے اپنی کتاب سام سنگ اینڈ دلائی لامہ کی تقریب رونمائی سے قبل بات کرتے ہوئے کیا “سام سنگ-ایپل چپقلش کے ہتھیاروں کی جنوب ایشیائی جوہری دوڑ پر فیصلہ کن اثرات ہوں گے۔”

 

فیس بک پر پندرہ ارب پاکستانی فالورز کے حامل زید حامد کے مطابق پاکستان کہوٹہ میں نئی فورتھ جنریشن جوہری سِمیں تیار کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے جو پوکھران میں ہندوستان کی جانب سے کیے گئے تجربات کا جواب دینے کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔ ہالینڈ سے نئی فورتھ جنریشن جوہری سِم ٹیکنالوجی کے بلیوپرنٹس لے کر پاکستان لوٹنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خبرستان ٹائمز قارئین کو چاغی پر چھ سگنل ٹاور نصب کرنے کی نوید سنائی۔

 

سائبر مقابلوں کے لیے پاکستان میں تیار کیا گیا خصوصی اسلحہ
سائبر مقابلوں کے لیے پاکستان میں تیار کیا گیا خصوصی اسلحہ
عالمی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کے مطابق پاک بھارت افوج نے فیس بک کے میدان کارزار میں گروپ کھود کر مورچے تعمیر کر لیے ہیں۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر شدید ٹرولنگ اور ہیش ٹیگنگ کی جا رہی ہے۔ سرجری کے ماہرین کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں مصنوعی انگلیوں کی پیوند کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

جہاد بالبرینجلینا؛ آئی ایس آئی نے معروف اداکار جوڑے کی طلاق کیوں کروائی؟

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

معروف ہندوستانی صحافی ارناب گوسوامی نے اپنے ٹی وی پروگرام نیوز آور میں انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس آئی نے اُڑی حملے سے توجہ ہٹانے کے لیے انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کے مابین طلاق کرائی ہے۔ ارناب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں اس طلاق کے پیچھے کارفرما سازش سے پردہ اٹھایا اور ثبوت بھی مہیا کیے۔
اس جائز مگر مکروہ جہاد بالطلاق کو پاکستان کے لیے آخری راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مشہور اداکار جوڑے کی طلاق کرائے۔ پاکستانی عسکری ماہرین کے مطابق پاکستان 1947 سے ہندوستانی کشمیر میں جہاد کو پروان چڑھا رہا ہے لیکن جہاد میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا کی کشمیر پر پاکستانی موقف میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کشمیر جہاد میں عالمی دلشسپی پیدا کرنے کے لیے پاکستانی افواج کو جہاد بالبرینجلینا کا آغاز کرنا پڑا۔

 

یہ جہادی انتفادہ کامیاب رہا ہے اور دنیا نے برینجلینا کی طلاق پر گفتگو کے دوران پاکستانی موقف کی تائید کی ہے۔ حتیٰ کہ کشمیر پر غمزدہ پاکستانیوں کو بھی برینجلینا کی طلاق کا دکھ زیادہ ہے جو پاکستانی کارروائی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ خبرستان ٹائمز نے ذمہ دار صحافت کا بیڑا اٹھاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستانی فوج بطور ادارہ اس طلاق کے پیچھے تھی یا فوج کا محض ایک دھڑا اس کارروائی میں شریک تھا۔ سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل (ر) شجاع پاشا نے خبرستان ٹائمز کو بتایا “برینجلینا طلاق کے پیچھے موجود لوگ ہمارے ہی تھے مگر یہ کارروائی ہماری نہیں۔”

 

تاہم انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ’ہمارے لوگوں میں سابق فوجی افسران بھی شامل تھے۔ اور سابق فوجیوں اور جہادیوں کا یہ گٹھ جوڑ ہمیں عالمی طاقتوں کے سامنے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔” کشمیر پر اس روایتی موقف کے تحت ہی پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں برینجلینا طلاق میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ خبرستان ٹائمز اس موقع پر سابق پاکستانی فوجیوں (اور ان کے دوستوں) کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے سرپرستوں کے احکامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری کو حال ہی میں ہنی ڈانس اکیڈمی سے نکلتے دیکھا گیا ہے۔ ہنی ڈانس اکیڈمی لندن میں قائم بھنگڑا سکھانے کی مشہور ترین اکیڈمی ہے۔ خبرستان ٹائمز کے ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ نومبر سے اس اکیڈمی میں بھنگڑے کی باقاعدہ تعلیم حاسل کر رہے ہیں۔ بلاول کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکیڈمی میں بلاول بھٹو کو ذاتی گرو کی سہولت دستیاب ہے۔ یہی گرو اس سے قبل کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو بھی بھنگڑا سکھاتے رہے ہیں، کلنٹن نے ہندوستان کے تین روزہ دورے سے قابل اسی گرو سے فون پر بھنگڑے اور سیاست کے تعلق پر مشاورت کی تھی۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی بات چیت کے دوران بلاول نے ان اطلاعات کی تردید نہیں کی۔

 

پی پی پی چیئرپرسن کا کہنا تھا، “اگرچہ سیاست میں نے اپنے اپنے ماں باپ سے سیکھی ہے، اقتدار ہمارے گھر کی لونڈی ہے مگر میں سیاست میں جدت کا قائل ہوں۔ مجھے اپنی تمام سیاسی الجھنوں کا حل ہنی ڈانس اکیڈمی میں ملا ہے۔” بلاول کا خیال ہے کہ بھنگڑے کی مدد سے وہ بطور رہنما لوگوں میں اپنا امیج بہتر بنا سکیں گے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی کا یہی ایک راستہ باقی بچا ہے۔

 

بلاول بھٹو اس ضمن میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو اپنے اس فیصلے کی وجہ تسلیم کرتے ہیں۔ بلاول کا کہنا تھا، “کیا آپ نے ہڑی پہ پر جسٹن ٹروڈو کے بھنگڑے کی ویڈیو دیکھی ہے؟ اس کے بھنگڑے نے سبھی ناراض ووٹرز کو راضی کر لیا اور جلسے کامیاب ہو گئے۔” انہوں نے مزید کہا، “نئی نسل چاہتی ہے کہ سیاستدان ان کے مسائل کو سمجھیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح ان کی شادیوں اور مہندیوں میں شریک ہوں۔ میں عوام کو اپنی شخصیت کا پرمزاح، نرم خو اور پنجابی رخ دکھانا چاہتا ہوں۔”

 

بلاول نے اس گفتگو کے دوران معاصر سیاسی رحجانات سے اپنی واقفیت کا مظاہرہ کیا،”لاکھوں کروڑوں لوگ عمران خان کے جلسے میں جاتے ہیں لیکن اسے ووٹ نہیں ڈالتے، کیوں؟ صرف اس لیے کہ کھلے آسمان تلے بھنگڑا ڈال سکیں۔” بعض ناقدین نے بلاول بھٹو کی ‘بھنگڑا پاو، پاکستان بچاو’ مہم کو 2014 کے دھرنوں کی نقالی قرار دیا ہے۔ تاہم بلاول کا کہنا تھا کہ ان کی بھنگڑا ریلیاں اس لیے مختلف ہوں گی کہ وہ خود بھنگڑا کوریوگراف کریں گے اور اس کی قیادت بھی کریں گے۔ “میں کسی تھرڈ امپائر کے اشاروں پر نہیں ناچوں گا”۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھنگڑے کے ذریعے کم کاردیشان اور گینگنم سٹائل سے زیادہ ویوز اور راہول گاندھی سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔

 

بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بلاول کے بھنگڑا گرو بلوندر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھنگڑا ایک مشکل فن ہے مگر نوجوان بلاول سیکھنے کی ٹھرک رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بلاول کے سیاسی مستقبل کے لیے لائحہ عمل پوری توجہ سے تیار کر رہے ہیں “مجھے پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج مہیا کیے گئے تھے اور میں انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہی steps تشکیل دے رہا ہوں۔”

 

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ان کے والد آصف علی زرداری ان کے ان ‘نئے سیاسی داو پیچ’ سے متفق ہیں تو بلاول نے قدرے بے چینی سے جواب دیا “میرے والد کو میرا بھنگڑا کچھ بہت زیادہ پسند نہیں، جب کبھی میں انہیں اپنے ٹھمکے دکھاتا ہوں تو ان کے لبوں سے مسکراہٹ غائب ہو جاتی ہے۔” تاہم ان کے خیال میں اگر پارٹی پنجاب میں اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کی سینئر پارٹی قیادت بھی ان کے بھنگڑے میں شریک ہو گی تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سینئر رہنماوں کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ آج کل دلیر مہدی کے گیت سن رہے ہیں۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان میں بھارتی مداخلت، ‘وار’ فلم کی ڈی وی ڈی بطور ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے گی۔ سرتاج عزیز

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اسلام آباد: مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ میں ہندوستانی مداخلت کی فائل جمع کرا دی ہے۔ خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔ خبرستان ٹائمز بعدازخرابی بسیار اس فائل کی ایک نقل صاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس فائل کے جائزے سے چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ فائل میں موجود ڈی وی ڈی کے مطابق ایک ہندوستانی ایجنٹ ‘رمل’ پاکستان میں ہندوستان کے جاسوس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان ثبوتوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ‘رمل’ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مختلف حملوں کی سرپرستی بھی کرتا رہا ہے۔

 

خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔
دو گھنٹے بیس منٹ دورانیے کی اس ڈی وی ڈی سے پاکستان میں ایک اور ہندوستانی جاسوس ‘لکشمی’ کے سرگرم ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کے مطابق ‘لکشمی’ کا اپنی موت سے قبل ایک پاکستانی سیاستدان اعجاز خان کے ساتھ مراسم تھے اور لکشمی نے چند قیمتی راز ہندوستان کو منتقل کیے تھے۔

 

آئی ایس آئی نے مختلف کارروائیوں میں دستوں کی قیادت کرنے والے میجر مجتبیٰ رضوی کا بیان بھی نقل کیا ہے۔ میجر مجتبیٰ رضوی کے مطابق لکشمی اور رمل بدنام زمانہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے ہرکارے تھے۔ متدد آپریشنز میں حصہ لینے والے فیلڈ آفیسر احتشام کا کہنا تھا کہ رمل اور لکشمی کے گھر پر چھاپے کے دوران ہندوستانی پاسٌورٹ، الطاف حسین کی ‘قابل اعتراض حالت میں’ تصاویر، پان پراگ اور آزاد بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے۔

 

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے پاکستانی دعووں کی سختی سے تردید کی اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کو ایک بھونڈا مذاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا “یہ کس قسم کا مذاق ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں ثبوتوں کی فائل میں فلم ‘وار’ کی کہانی لکھ دینے سے پاکستان میں ہندوستانی مداخلت ثابت ہو جائے گی؟” ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔

 

ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔
نامہ نگار خبرستان ٹائمز کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی فائل میں موجود افراد رمل، لکشمی، میجر مجتبیٰ رضوی، اعجاز خان اور احتشام دراصل آئی ایس پی آر کی معاونت سے تیار ہونے والی بلاک بسٹر پاکستانی فلم ‘وار’ کے کردار ہیں۔

 

خبرستان ٹائمز نے ٹویٹر پر میجر جنرل عاصم باجوہ سے اس فائل میں مہیا کیے جانے والے ثبوتوں سے متعلق سوال کیا، میجر جنرل کی جوابی ٹویٹ کے مطابق، “ثبوتوں کی فائل وار فلم کی پروڈکشن شروع ہونے سے قبل تیار کی گئی تھی اور ان دونوں میں مماثلت اتفاقیہ ہے۔”

 

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے دوران ثبوتوں کی فائل میں شامل وار فلم کی وی ڈی پروجیکٹر پر چلائی جائے گی اور جلد ہی اس کا تھری ڈی ورژن بھی اقوام متحدہ میں جمع کرایا جائے گا۔ پریس ریلیز کے مطابق ثبوتوں کی ہر فائل کے ساتھ ڈھائی سو گرام پاپ کارن اور 500 ایم ایل کوک بھی دی جائے گی۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

لاہور؛ سیمنٹ نوشوں کی تعداد میں اضافہ، مزید فلائی اوورز کی تعمیر کا مطالبہ

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

لاہور: امریکہ میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں سیمنٹ نوشی کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نیڈا کی تحقیق میں شہر کے مختلف علاقوں میں ناکافی اور سست تعمیراتی کام کے خلاف منعقد کی گئی احتجاجی ریلیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیڈا کے تحقیقاتی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے شہریوں میں سیمنٹ کا روزانہ استعمال 4 ملی گرام یومیہ سے بڑھ کر 1.68 گرام یومیہ ہو چکا ہے۔

 

امریکہ میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز (نیڈا) کے سائنس دانوں نے تصدیق کی ہے پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں سیمنٹ نوشی کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
نیڈا سے وابستہ محقق البرٹ برائنٹ کا کہنا تھا “سیمنٹ کے استعمال میں یہ اضافہ Concrete intoxication یا سی سی آئی کی واضح علامت ہے”۔ ماہرین نے اس نئے منشیاتی مظہر کو multiple cement intake (ایم سی آئی) کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ البرٹ برائنٹ کا کہنا تھا کہ سیمنٹ سے حظ کشید کرنے کا یہ معاملہ کسی بھی اور مسکن یا نشہ آور شے کے استعمال سے مختلف ہے۔

 

نیڈا سے تعلق رکھنے والی ماہر جیلینا بیلیچ کے مطابق، “دنیا کی بہترین میٹرو بس سروس کی تعمیر مکمل ہونے اور میٹرو ٹرین کی تعمیر شروع ہو جانے کے بعد سے شہریوں کی جانب سے مزید دلکش سرمئی کنکریٹی ستونوں اور پلوں کا مطالبہ دیکھنے میں آیا ہے”۔

 

دریائے لکشمی شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں رونما ہونے والا ایک اور تعمیراتی معجزہ ہے۔ دریا کنارے منعقد ہونے والی حالیہ ریلی میں شریک ایک شہری بہادر ملک کا کہنا تھا،”ہم سب اپنے شہر کو وینس بنتا دیکھ کر مسرور ہیں۔” انہوں نے نشہ دو آتشہ کرنے کے لیے اورنج ٹرین کے ٹریک کے ساتھ ساتھ سلائیڈز لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔ بہادر ملک نے قریبی کنکریٹ مکسچر مشین سے چرایا گیا کنکریٹ سونگھتے ہوئے بتایا،”یہ دریا اپنی تہہ میں کئی راز پوشیدہ کیے ہوئے ہے بالک!!!”۔ مظاہرین نے اس موقع پر جیے شہباز قلندر شریف کے نعرے لگاتے ہوئے دھمال بھی ڈالی۔

 

بیگم پورہ کے قریب ہتھیلی پر سیمنٹ اور ریت ملا کر خالی سگریٹ میں بھرتے ہوئے تنیویر پومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈی جی سیمنٹ آسانی سے مل جاتا ہے مگر اصل نشہ عسکری سیمنٹ کا ہی ہے۔
شہریوں نے ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کلمہ چوک پر ایک اور فلائی اوور بنانے کا مطالبہ کیا۔ یو ای ٹی میں انجینئرنگ پروفیسر نازیہ بھٹی نے کلمہ چوک انڈر پاس کو اپنا پسندیدہ انڈر پاس قرار دیا، “یہی وہ انڈر پاس تھا جس نے مجھے پہلی بار سیمنٹ سونگھنے کی طرف مائل کیا”۔ سیمنٹیوں اور کنکریٹیوں کی ایک بڑی تعداد کو اورنج میٹرو ٹرین کے زیر تعمیر ستونوں کے پاس منڈلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گانجا، چرس اور شراب چھوڑ کر سیمنٹ اور کنکریٹ کا ‘تعمیری نشہ’ کرنے لگی ہے۔ بیگم پورہ کے قریب ہتھیلی پر سیمنٹ اور ریت ملا کر خالی سگریٹ میں بھرتے ہوئے تنیویر پومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈی جی سیمنٹ آسانی سے مل جاتا ہے مگر اصل نشہ عسکری سیمنٹ کا ہی ہے۔

 

شہریوں نے ماڈل ٹاون اور ڈی ایچ اے کو ایک زیرِ زمین گزرگاہ کے ذریعے ملانے کا بھی مطالبہ کیا۔ گورا قبرستان میں آسیب بن کر منڈلانے والے جمشید جنجوعہ نے بھی دیگر قبرستانوں سے بہتر مابعدالطبعیاتی تعلقات استوار کرنے کے لیے ایک گزرگاہ کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نوٹس میں شہریوں کی تجاویز پیش کر دی گئی ہیں اور حکام کی جانب سے جلد ایک ماسٹر پلان پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
شاعری

پینسٹھ کی جنگ میں حصہ لینے والے فرشتے تمغوں سے تاحال محروم

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جنت الفردوس: یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے 51 برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی گفتگو کے دوران ان غیر مرئی جنگی سورماوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس برس بھی یوم دفاع منایا گیا تاہم انہیں سرکاری طور پر نہ تو کسی تقریب میں مدعو کیا گیا اور نہ ہی ان کے لیے اعزازات کا اعلان کیا گیا۔

 

یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے اکیاون برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔
موضوع کی حساسیت کے پیش نظر چونڈہ کے محاذ پر کرامات دکھانے والے ایک فرشتے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،”ہمارا تذکرہ نصابی کتب میں ہے، مورخین کے مضامین ہماری کارناموں اور معجزوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن آج تک حکومت نے ہماری خدمات کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا۔” ان کا کہنا تھا، “ہمارے نام سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں کیے گئے اور اگر کہیں دیے بھی گئے ہیں تو ہجے درست نہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے کارناموں کی صحیح تصویر بھی کبھی بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی”۔ سترہ روزہ جنگ میں اٹھارہ سو بم ہوا میں کیچ کر کے ناکارہ بنانے والے فرشتے کا دعویٰ تھا کہ ان میں سے ہر ایک فرشتہ نشان حیدر کا حقدار ہے۔

 

فرشتوں کی بٹالین کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ وہ 65 کی جنگ میں اپنا کام تاشقند معاہدے سے پہلے ہی مکمل کر کے عرش کو لوٹ گئے تھے۔ انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا “حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔” اس غازی فرشتے کے خیال میں ان کی خدمات کو نظرانداز کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چھ ستمبرکو ‘یوم دفاع’ قرار دیا گیا ہے۔

 

ایک اور بزرگ فرشتے کے خیال میں جب تک یوم دفاع کو”عجب حملے کا غضب دفاع” قرار نہیں دیا جاتا 65 کی جنگ میں جان کی بازی لگانے والے فرشتوں کی خدمات نظرانداز ہوتی رہیں گی، “ایک بار انہیں سمجھ آ گئی کہ ہم فرشتوں نے کس طرح ان کے پچھواڑے بچائے تھے تبھی انہیں ہماری اہمیت کا احساس ہو گا۔” بزرگ فرشتے کے خیال میں جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اس لیے انہیں تمغے اور رقبے نہیں دیے گئے “درحقیقت 65 کی جنگ جیتی نہیں گئی تھی بلکہ ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی تھی، اسی لیے ہمیں اب تک ہمارے تمغے نہیں دیے جا سکے۔”

 

انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا “حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔”
فرشتوں کا کہنا تھا کہ اگر جنگ سے پہلے ان سے مشورہ کر لیا جاتا تو یقیناً جنگ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ فرشتوں کے کمانڈر نے تاریخ سے گرد جھاڑتے ہوئے بتایا “آپریشن جبرالٹر ہر صورت ناکام ہونا تھا کیوں کہ کشمیری ایسی کسی چالبازی کا حصہ بننے کو تیار نہیں تھے۔” انہوں نے جمائی لیتے ہوئے مزید بتایا کہ “آپریشن گرینڈ سلام بروقت شروع ہو سکتا تھا اگر اس کا نام رکھنے میں اتنی سوچ بچار نہ کرنا پڑتی۔”

 

عسکری تاریخ کے ماہر فرشتے کے مطابق “ہمیں جنگ بدر سمیت کسی جنگ میں شمولیت پرکسی قسم کے اعزازات نہیں دیے گئے اور اس بات کا ہمیں کوئی دکھ نہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ جنگ ستمبر میں ہماری کامیابیوں کی کوئی تحقیقاتی رپورٹ تیار نہیں کی گئی’۔ مورخ فرشتے کے مطابق فرشتوں کے کارہائے نمایاں کی بیشتر داستانیں جنگ بدر کے واقعات سے چربہ کی گئی ہیں۔

 

تاہم تمغے اور اعزازات سے محرومی بھی ان فرشتوں کو پاک فوج اور پاکستان سے متنفر نہیں کر سکی اور وہ آج بھی بی آر بی نہر اور چونڈہ کے محاذوں کی یادیں سینے میں لیے پاکستان کے لیے نیکلیئر وارہیڈز کیچ کرنے کی مشقیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے ان فرشتوں نے رات کی تاریکی میں سرحد عبور کرنے والے دشمن کے برسائے گولے نہ صرف ہوا میں کیچ کیے بلکہ ناکارہ بھی بنائے۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

‘فوج کے ہاتھوں پٹنے والے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں’ آئی ایس پی آر کا انکشاف

یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راولپنڈی: گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی ٹویٹس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ (المعروف گوئبلز) نے موٹر وے پولیس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک دشمن موٹر وے پولیس کی جانب سے فوج کے خلاف رچائی جانے والی “اٹک سازش کیس” کے مقدمات قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کا اعلان کیا۔

 

میجر جنرل عاصم باجوہ نے پارلیمان سے موٹروے پولیس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنےاور تمام فوجی ڈرائیوروں، سابق فوجیوں، فوجی افسران کی بیگمات، ہمسایوں اور خانساماوں کے لیے چالان فری ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ قومی شاہراہوں، بحر ظلمات اور شاہراہ دستور پر جیپوں، ٹینکوں اور فوجی ٹرکوں کی آمدورفت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے انہوں نے نسیم حجازی کے ناول کے اقتباسات اور اقبال کے اشعار بھی ٹویٹ کیے۔

 

براہ راست ٹویٹس کے اس سلسلے میں انہوں نے ‘اٹک سازش کیس’ کی حقیقت عوام پر واضح کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے آئی ایس پی آر کے صدر دفتر میں قائم گرافکس ڈویژن نے لائسنس یافتہ فوٹوشاپ خریدنے کے لیے بجٹ طلب کر لیا ہے۔ گرافکس ڈویژن نوشہرہ میں پیش آنے والے واقعے کی حقیقی فوٹیج سامنے لانے کے لیے جیمزکیمرون کی خدمات حاصل کرے گا۔جیمز کیمرون اس مقصد کے لیے واہ انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار کردہ سی جی آئی الخالد ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

 

آئی ایس پی آر کے آفیشل اکاونٹ سے شیئر کی گئی یہ ٹویٹس بلوچ لڑکیوں، عسکری لاڈلوں اور سینیئر صحافیوں نے متعدد مرتبہ ری ٹویٹ کیں۔ ان ٹویٹس کی اشاعت کے بعد دفاع پاکستان کونسل نے فوج کے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنے اور احتجاجی ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اس قانون کو پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے طے کیے جانے والے ٹرمز آف ریفرنس میں بھی شامل کرائے گی۔

 

سابق ایس ایس جی کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے (ریڑھ کی ہڈی نہ ہونے کے باوجود) اس واقعے کو بنیاد بنا کر اپنی انتخابی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اگر حکومت نے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے تو اگلی عید سے پہلے اس کی ‘سرعام قربانی’ دی جائے گی۔

 

وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری پر ٹریفک انتظامات فوج کے حوالے کئے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی صورت حال پیش نہ آئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فوج کے بعض ڈرائیوروں نے شاہراہ دستور کی غلط جانب ڈرائیونگ کرتے ہوئے غلطی سے وزیراعظم ہاوس اور پاکستان ٹی وی کو جانے والی سڑکوں پر اپنے ٹرک موڑ لیے تھے تاہم ماضی میں کبھی ایسی غلطیوں پر چالان کاٹنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

 

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔