Categories
فکشن

سارا دین داڑھی میں ہے

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 7
مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔
مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔ مسلمانیاں جانچنے کی کوئی سبیل ہے نہیں سو داڑھی اور پائنچے تک ہی ایمانی شماریات کا کھاتہ محدود رکھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہر مرد کو اس کی داڑھی کی طوالت، گھنے پن اور رنگ سے شناخت کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے ان کے شناختی کارڈ پر شناختی علامت بھی یہی درج ہو کہ دو تہائی چہرے پر داڑھی ہے۔ مفتی صاحب سے کچھ بعید نہیں کہ وہ عنقریب پاسپورٹ میں داڑھی اور بغیر داڑھی کا خانہ بھی شامل کرائیں۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ اس دنیا میں ہر بچہ داڑھی کے ساتھ پیدا ہوتا۔ داڑھی کی وجہ سے ہی وہ ارسطو اور افلاطون کو بھی مسلمان قرار دیتے ہیں۔ آپ کے اختیار میں ہو تو ہر ناکے پر سنتریوں کو جامہ تلاشی کی بجائے داڑھیاں ناپنے پر لگا دیں۔ بعض بکرے اسی واسطے ان کے نزدیک فرشتہ صورت قرار پاتے ہیں کہ ان کی تھوڑی پر چند بال شرمندہ شرمندہ سے اگ آتے ہیں۔

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب حقیقتاً ساری دین داری داڑھی میں مانتے تھے، (اگرچہ ان کے خیال میں داڑھی اور مردانہ قوت میں بھی کچھ جائز و ناجائز رشتہ ہے ضرور) مگر اصل معاملہ تو دین اور داڑھی کی باہمی مطابقت کا ہے۔ داڑھی مشت بھر سے جتنی کم ہوتی اتنا آدمی ساقط الاعتبار ہوتا جاتا۔ یہی معاملہ جنت و جہنم سے قرب و بعد کا ہے، داڑھی بڑھائیے اور جنت کے قریب ہو جائیے، داڑھی مونڈیے اور جہنم کی ہمسائیگی اختیار کیجیے۔ ایک دفعہ میں نے علامہ اقبال کا نہایت ایمان افروز شعر سنایا۔ مفتی صاحب جھوم گئے۔ پھر فورا سنبھل کر گویا ہوئے کہ ہاں راتوں کو قرآن پڑھتے ہوئے روتا تھا اور صبح اٹھ کر داڑھی مونڈ دیتا تھا یہ کیسی دین کی محبت؟

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب حقیقتاً ساری دین داری داڑھی میں مانتے تھے، (اگرچہ ان کے خیال میں داڑھی اور مردانہ قوت میں بھی کچھ جائز و ناجائز رشتہ ہے ضرور) مگر اصل معاملہ تو دین اور داڑھی کی باہمی مطابقت کا ہے۔
ایک بار فجر کی نماز کے بعد ایک کلین شیو شخص نے مفتی صاحب کو بٹھا لیا اور شدت عقیدت سے روتے ہوئے بتایا کہ اسے خواب میں روضہ رسول کی زیارت ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے مبارکباد دی۔ ہم سب اس کی خوش قسمتی پر رشک کرنے لگے۔ جب وہ چلا گیا تو ارشاد فرمایا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا، بھلا ایک داڑھی منے کو یہ سعادت کیسے حاصل ہوسکتی ہے جب کہ ہمیں نہیں ہوتی حالانکہ ہم نے داڑھی بھی رکھی ہوئی ہے۔

 

مفتی صاحب کے ہاں اگرچہ مستثنیات بھی ہیں صرف ایک کلین شیو تھا جسے وہ نہ صرف پسند کرتے بلکہ اللہ کا ولی مانتے تھے۔ اور وہ خوش نصیب تھا جنرل ضیاء الحق!

 

وجہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔۔
Categories
فکشن

مفتی بمقابلہ مفتیان

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 6
ہم تو خوش تھے کہ جو کبھی نہ ہوا وہ ہوا چاہتا ہے پر خدا کے کاموں میں کس کو دخل ہے۔ ایک بار تو ہم سمجھے کہ گنگا الٹی بہنے کو ہے، سورج مغرب سے طلوع ہونے والا ہے، ہتھیلی پہ سرسوں جمائی جا سکتی ہے، شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پینے والے ہیں، بلی اور چوہے کی دوستی ممکن ہے، تارے توڑ لائے جا سکتے ہیں، زمین و آسمان کے قلابے مالائے جا سکتے ہیں، دھوپ اور چھاو کی تفریق ختم کی جا سکتی ہے مگر۔۔۔۔۔۔ کیا کیا جائے کچھ دمیں ٹیڑھی رہنے کے لیے ہی بنی ہیں، بعض کوے سفید ہی رہیں گے، کچھ مرغوں کی ٹانگ ایک ہی ہو گی اور ڈھاک کے تین ہی پات رہیں گے۔ یہ قصہ ہے چند مفتیان کے مل بیٹھنے کا۔ گو جس قدر بھی محال معلوم ہو یہ کاردشوار ہوا ہی چاہتا تھا۔ مگر قانون فطرت نے خود کو اٹل ثابت کر دکھایا کہ ہر مولوی دوسرے مولوی کو مساوی مگر متضاد قوت سے دھکیلتا ہے، اور اس قوت دفع کاانحصار دو مولویوں کے مابین مسلکی و فقہی اختلاف کی شدت کے براہ راست متناسب ہے۔

 

ہر مولوی دوسرے مولوی کو مساوی مگر متضاد قوت سے دھکیلتا ہے، اور اس قوت دفع کاانحصار دو مولویوں کے مابین مسلکی و فقہی اختلاف کی شدت کے براہ راست متناسب ہے۔
1996-97 کے لگ بھگ کا قصہ ہے کہ پنڈی اسلام آباد کے مفتیان کرام نے مل کر مجلسِ فقہ یا فقہ اکیڈمی کے قیام کا ارادہ کیا۔ جس کا مقصد مشترکہ اور متفقہ فتاویٰ کی اشاعت تھی۔ اس کی تحریک مولانا عبد العزیز (لال مسجد والے) کی طرف سے آئی تھی۔ ہمارے مفتی صاحب نے اس کی تکمیل کا بیڑا اٹھا لیا۔ رابطے اور انتظامات میرے سپرد کیے گئے۔ میں نے سب سے مل کر مفتی صاحب کا پیغام دیا اور اجلاس کا وقت طے کرایا۔ مفتی صاحب کی مسجد میں اجلاس ہوا۔ فقہ اکیڈمی کا قیام عمل میں آ گیا۔ لائحہ عمل طے کیا گیا کہ اہم فتاویٰ ایک دوسرے کو ارسال کر کے ایک دوسرے سے تصویب اور تصدیق کرائی جایا کرے گی۔ فقہ اکیڈمی کے سربراہ ہمارے مفتی صاحب قرار پائے۔ اور دیگر عہدے بھی قائم کر دیئے گئے۔ ہم بہت خوش تھے کہ مولوی لوگ بھی مل کر کام کریں گے۔ اور ہمارے مفتی صاحب کو اس ایوان کے قائد ہونے کا اعزاز ملا۔ لیکن مفتی صاحب نے بتایا کہ انہیں یہ پیشکش ان کے علمی مقام کی وجہ سے نہیں دی گئی۔ اس لیے دی گئی ہے جو صدر بنے گا، اسی کے ذمے اجلاس بلانا اور خرچہ کرنا ہوگا تو انہوں نے مجھ پر ڈال کر اپنی جان چھڑائی ہے۔ ہم بات کو اس پہلو سے دیکھنے کے ابل نہیں تھے۔

 

ابھی ایک مشرکہ فتوی بھی شائع نہ ہوا تھا کہ ایک مفتی صاحب جو پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کر پائے تھے، اس بات پر ناراض ہو گئے کہ ان کو کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔ ان کو منانے کی واجبی سی کوشش کی گئی اور پھر ہمارے مفتی صاحب نے ان کو اپنی مادری زبان میں وہ بے نقط سنائی کہ انہیں آج بھی یاد ہوں گی۔

 

اس کے بعد والا قصہ زیادہ دلچسپ ہے۔ ایک دن یوں ہوا کہ مفتیانِ کرام کا اجلاس طے تھا۔ اجلاس سے ایک دن پہلے ایک مفتی صاحب ہمارے پاس آئے اور مجھے ایک فتوی دیا کہ یہ انہوں نے لکھا ہے اور یہ کہ دیگر مفتیان سے اس پر ان کی رائے لکھوا لوں۔ اور انہوں نے اجلاس میں آنے سے معذرت کر لی۔ اگلے دن وہ فتوی میں نے پنڈی کے دو مفتیان کو پیش کیا۔ انہوں نے پڑھا اور کہا کہ فتوی غلط ہے۔ پھر انہوں نے اس پر اپنی رائے لکھی کہ سوال گندم اور جواب چنا۔ درست یوں اور یوں ہونا چاہیے۔ فلاں فلاں کتب سے مراجعت کیجئے۔

 

فتی صاحب نے بتایا کہ انہیں یہ پیشکش ان کے علمی مقام کی وجہ سے نہیں دی گئی۔ اس لیے دی گئی ہے جو صدر بنے گا، اسی کے ذمے اجلاس بلانا اور خرچہ کرنا ہوگا تو انہوں نے مجھ پر ڈال کر اپنی جان چھڑائی ہے۔
اگلے دن فتوی دینے والے مفتی صاحب آئے تو میں نے شرمندگی سے ان کا فتوی ان کے حوالے کیا۔ فتوی پر لکھی عبارات پڑھ کر وہ ہنسے اور مجھے کہا کہ یہ فتوی میرا نہیں تھا۔ یہ تو مفتی محمود دیو بندی کا فتوی تھا جو کچھ مختلف نوعیت کا تھا۔ میں نے اسے نقل کر کے نیچے اپنا نام لکھ دیا کہ دیکھوں یہ ‘جید’ مفتیان کیا فرماتے ہیں۔ اب اگر کبھی یہ میرے خلاف بولے تو میں ان کی علمیت کا پردہ چاک کردوں گا کہ انہوں نے مفتی محمود دیوبندی کے فتوی کو غلط قرار دیا ہے۔ یہ سن کر میں نے دل ہی دل ان کی ‘ذہانت’ کی داد دی۔ اگلے دن جب اپنی رائے لکھنے والے دونوں مفتیان سے ملا تو دونوں نے بڑی بےتابی سے پوچھا کہ کیا وہ فتوی ابھی میرے پاس ہے یا میں نے مذکورہ مفتی صاحب کو دے دیا۔ میں نے بتایا کہ دے دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ فتوی درست تھا۔ بس رائے لکھنے میں جلدی کر دی۔
مولانا عبد العزیز جنہوں نے اس فقہی تنظیم کا خیال پیش کیا تھا، مفتیان نے انہیں اس مجلس سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ وہ مولانا ہیں مفتی نہیں۔ پہلے وہ ان کی طرح مفتی بنیں پھر ان کی طرح فتوے دیں۔

 

مفتیان حضرات کی ان حرکتوں کی وجہ سے کسی ایک بھی مشرکہ فتوی کے اجراء سے پہلے ہی فقہ اکیڈمی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔
خدا کرے ملی وحدت کا خواب بھی جلد پورا ہو۔

Art Work: Asad Fatemi

Categories
فکشن

محرم بنا رہے ہیں، زوجہ بنا کے وہ

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 5
دوستو، مدارس میں مذہبی تعلیم پر مردانہ تسلط خود مذہب اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ایک طرف پردے اور محرم کا دقیانوسی تصور عورت کو مذہبی معاملات سے دور رکھتا ہے اور دوسری جانب مردانہ اجارہ داری کے باعث عورت مذہبی معاملات میں اس جائز مقام سے بھی محروم ہے جو بطور ایک مساوی انسان اور مخلوق خدا کے اس کا حق ہے۔ مذہبی مبلغین اور علماء کے ہاں پردے اور محرم کے تصورات سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بعض اوقات نا صرف مضحکہ خیز بلکہ افسوس ناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

 

مذہبی مبلغین اور علماء کے ہاں پردے اور محرم کے تصورات سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں وہ بعض اوقات نا صرف مضحکہ خیز بلکہ افسوس ناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
صاحبو، شاید ہمارا مذہبی ذہن درس و تدریس جیسے مقدس سلسلے کو بھی مرد و زن کی جنسیاتی کشش کی کشمکش کے علاوہ کچھ اور تصور کرنے کو تیار نہیں۔ مرد اور عورت کے مابین جنسی تفاعل کے سوا کسی انسانی رشتے میں متصور کرنا کچھ بہت مشکل نہیں اور ناممکن بھی نہیں مگر کیا کیا جائے جہاں عورت سے متعلق گفتگو حیض سے شروع ہو کر زچگی پر ختم ہو، جہاں علمی مباحث ٹیڑھی پسلی کے بیان سے شروع ہو کر ناقص العقل ہونے کے فیصلے پر منتج ہوں، اور جہاں تحقیق کم سنی کی شادی سے لونڈی کی حلت و حرمت کے جواز کی تلاش تک محدود ہو وہاں عورت کے ساتھ ایک صحت مند، مگر غیر جنسی بنیادوں پر استوار انسانی تعلق کی توقع محال ہے۔

 

ایک دفعہ ہمارے مفتی صاحب نے مدرسۃ البنات کے قیام اعلان فرما دیا۔ لوگ شوق اور عقیدت میں اپنی بچیوں کو مفتی صاحب کی خدمت میں علمِ دین حاصل کرنے کے لیے بھیجنے لگے۔ کچھ دن بعد مفتی صاحب پر ‘تقوی’ نے غلبہ پا لیا۔ ان میں ایک نو بالغ بچی منتخب کر کے اس سے فرمایا کہ مرد کا عورت کو پردے میں بھی پڑھانا مناسب نہیں۔ شیطان کے پاس ہزاروں ہتھکنڈے ہیں گمراہ کرنے کے۔ اسے بھی انہوں نے وہی کہانی سنائی کو وہ ہم سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے اپنی بہن کو ایک عالم اور ولی کے پاس چھوڑا اور خود اللہ کے دین کی خدمت میں کہیں چلا گیا۔ شیطان نے اس عالم، صوفی کو اس طرح بہکایا کہ لڑکی کو دین کا علم ہی پڑھا دو۔ اس نے پردے میں پڑھانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے بات یہاں تک پہنچی کہ دونوں میں ناجائز تعلق قائم ہوگیا۔ تعلق کے افشاء کے ڈر سے عالم صاحب نے لڑکی کو قتل کر دیا۔ لیکن پکڑا گیا۔ سزائے موت کا اعلان ہو گیا۔ شیطان نے اس سے کہا کہ اگر بچنا ہے تو مجھے خدا مان لو۔ اس نے مان لیا۔ اِدھر اس نے مانا ادھر اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا۔ اور وہ بے ایمان دنیا سے رخصت ہوا۔

 

انہوں نے ایمان بچانے کے لیے یہ حل نکالا کہ نوبالغ کم سن بچی کو اپنے ساتھ غیر علانیہ نکاح کرنے پر آمادہ کر لیا کہ اس طرح پردے کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور علم دین کی تعلیم بھی بلا حرج اور بلا حجاب جاری رہے گی
مفتی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ دنیا سے بے ایمان ہو کر جائیں۔ انہوں نے اپنا ایمان بچانے کے لیے یہ حل نکالا کہ نوبالغ کم سن بچی کو اپنے ساتھ غیر علانیہ نکاح کرنے پر آمادہ کر لیا کہ اس طرح پردے کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور علم دین کی تعلیم بھی بلا حرج اور بلا حجاب جاری رہے گی۔ مزید احتیاط کے لیے لڑکی کے کم عمر بھائی، جو کہ ان کا شاگرد تھا، کو شرعی مسائل اور تقوی کی مجبوری سنا کر اس نکاح پر آمادہ کر لیا۔

 

تحصیلِ علم میں اب کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ نجانے علم و عمل کے ساتھ معرفت کی کتنی منازل طے ہوئیں، خدا ہی جانتا ہے، معاملہ کچھ عرصہ یوں ہی چلتا رہا کہ پھر نجانے کیسے لڑکی کے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ لڑکی کا باپ مفتی صاحب کے پاس آیا اور بڑا جھگڑا کیا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ سب مجھے اپنا دامنِ تقوی بچانے کے لیے کرنا پڑا اور لڑکی کو بھی گناہ سے بچا لیا اور اس کے ساتھ دین کا علم بھی لڑکی کو دیا۔اب بجائے ممنون ہونے کے تم الٹا مجھ پر چڑھائی کر رہے ہو۔ اگر ایسا ہی ہے تو لے جاؤ اپنی بیٹی کو، میں تمہاری بیٹی کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں!

 

مدرسۃ البنات کا فیض اب بھی جاری ہے۔

Art Work: Asad Fatemi

Categories
نقطۂ نظر

چراغ تلے اندھیرا

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد ایسے شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ- قسط نمبر 4
مدارس کی فضا بھی ہماری مجموعی معاشرتی بودوباش کی عکاس ہے یعنی جس کا جہاں تک بس چلتا ہے اپنے اور اپنوں کے عیوب پر پردہ تان کر دوسروں کی اصلاح کے لیے اوزار اٹھائے پھرتا ہے۔
مدارس کی زندگی اتنی سہل نہیں، دین کی تعلیم کا سلسلہ کچھ اس انداز سے جاری ہےکہ کبھی کبھار اس سب سلسلے سے جی اکتا جاتا ہے۔ ہم نے تقدیس کے اس پاربھی ابلیس دیکھا اور اسی قدر دیکھا جس قدر کسی بھی عام انسان میں ہو سکتا ہے۔ یقین جانیے اگر آپ علمائے دین کو عام انسانوں سے الگ کوئی “مخلوق” خیال کرتے ہیں تو بہت غلطی پر ہیں۔ دین دار بھی اب اتنے ہی دنیا دار ہیں جتنا کہ دنیا دار دین دار ہیں۔ سچ پوچھو تو اس حمام میں سبھی اتنے ہی ننگے ہیں جتنے کہ کسی بھی اور حمام میں ہیں اور یہاں کی دال میں بھی اتنا ہی کالا اور اتنا ہی پیلا ہے جتنا میری اور آپ کی دال میں ہے۔ علمائے دین بھی اسی طرح سے ہیں جس طرح سے کوئی بھی اور برادری۔ یہ بھی انسان ہیں اور انسانوں سے وابستہ انہی تمام خصائل و اوصاف کے مالک ہیں جو کسی بھی اور طرح کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہ احباب بھی جو ہر برائی کا کھرا مدرسے تک کھوج لاتے ہیں اور وہ بھی جو ہر دوا کا دارو منبر ومحراب سے پانے کے خواہاں ہیں وہ یہ جان لیں کہ یہاں نہ کوئی فرشتہ ہے ان میں اور نہ کوئی شیطان۔۔۔۔۔ سبھی انسان ہیں۔ چراغ تلے یہاں بھی اتنا ہی اندھیرا ہے کہ جس میں اچھے برے کی پہچان مٹ جاتی ہے اور بہت کچھ خود پر حلال کر لیا جاتا ہے۔

 

مدارس کی فضا بھی ہماری مجموعی معاشرتی بودوباش کی عکاس ہے یعنی جس کا جہاں تک بس چلتا ہے اپنے اور اپنوں کے عیوب پر پردہ تان کر دوسروں کی اصلاح کے لیے اوزار اٹھائے پھرتا ہے۔ صاحبو تسبیح پھیرنے والے احباب بھی اتنے ہی گناہ گار ہیں جتنے کہ تم اور میں، انصاف اور اخلاقیات کے قاعدوں میں یہاں بھی اپنے لیے ویسی ہی گنجائشیں نکال لی جاتی ہیں جیسی میں اور آپ اپنے اپنے دفتروں کی فائلوں اور ضابطوں میں ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ یہاں کی چھلنی میں بھی اپنوں کے لیے چھید کھُلے رکھے جاتے ہیں اور غیروں کے لیے تنگ۔ صاحبو سچ ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی گوار نہیں۔

 

مدارس کی زندگی کچھ اتنی سہل بھی نہیں، گھر بار سے دوری، اجنبی ماحول، بے جا گھٹن اور سختی۔۔۔۔ ایسے میں یہاں کے طلبہ کی حیثیت بے حد آسان “شکار” کی ہوتی ہے۔ قصور کے بچے تو پھر اپنے گھر بار میں رہتے تھے مگر سوچیے یہاں تو سبھی اپنوں سے دور غیروں میں گھرے رہتے ہیں۔ گو ایسا نہیں کہ سبھی مدارس کاماحول ایسا ہی حبس آلود ہو مگر پھر بھی دنیا کی نظروں سے چھپانے کو یہاں کے قالینوں تلے بہت سا کوڑاجمع کیا گیا ہے۔

 

مدرسے میں جب بھی کوئی نیا بچہ آتا، مفتی صاحب ہمیں ان صاحب کی خصوصی نگرانی کی تاکید کرتے تھے۔ کئی بار پکڑے گئے، مار پڑی، بے عزتی ہوئی۔
پوچھتے ہو کہ مفتی صاحب سے کئی روز سے کیوں نہیں ملے؟ تو میاں قصہ کچھ یوں ہے کہ یوں تو مفتی صاحب اپنی ہر دلعزیزی اور دلچسپ شخصیت کے باعث ہمارے لیے ہمیشہ پُرلطف صحبت رہے ہیں مگر ایک عادت ان میں ایسی ہے کہ جس کے باعث ان سے ملنا ملانا چھوٹتا جا رہا ہے۔ ہمارے ممدوح مفتی صاحب کے ایک عزیز از جان شاگرد تھے اور نہایت خوش الحان واقع ہوئے تھے۔ اذان دیتے تو ایسی کہ جس نے نہیں بھی پڑھنی ہوتی تھی وہ بھی نماز پڑھنے مسجد کی طرف کھنچا چلا آتا۔ تلاوت کرتے تو دل نہ چاہتا کہ ختم ہو۔ لگتا تھا مستقبل میں مفتی صاحب کی گدی وہی سنبھالنے والے ہیں، لیکن بد قسمتی سے ایک فعل بد میں مبتلا تھے۔

 

مدرسے میں جب بھی کوئی نیا بچہ آتا، مفتی صاحب ہمیں ان صاحب کی خصوصی نگرانی کی تاکید کرتے تھے۔ کئی بار پکڑے گئے، مار پڑی، بے عزتی ہوئی۔ لیکن پکڑے بھی تب گئے جب متاثرہ بچے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا اور وہ اپنے ساتھ ہونے والا ظلم بیان نہ کر دیتا۔ خاموش رہنے والوں کے ساتھ تو معلوم نہیں کب تک کیا کیا کچھ نہ ہو جاتا ہو گا۔ ہم عرض کرتے کہ اس کو نکال کیوں نہیں دیتے۔ اس پر مفتی صاحب اپنی عدیم النظیر فراست اور ان معاملات میں مدرسے کی روایتی ‘رواداری’ کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے کہ جس کی برائیوں کا پتا ہو وہ بہتر ہے یا وہ انجان جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ جانے کل کلاں کو کیا کر جائے۔ دوسری بات یہ کہ اس کی جگہ کوئی اور بھی اگر آیا تو کیا بھروسہ وہ “ٹھیک” ہو گا، آخر وہ بھی تو کسی نہ کسی مدرسے سے آیا ہو گا۔ پھر اگر اس کو نکال دیں تو یہ کسی اور مدرسے میں چلا جائے گا اور وہاں بھی یہی کچھ کرے گا، یہاں ہمیں معلوم تو ہو جاتا ہے کسی نہ کسی طرح، وہاں تو شاید کسی کے علم میں آئے بغیر اس کا کام چلتا ہی چلا جائے گا۔ مفتی صاحب کی ان فرمو دات کے بعد ہماری کیا مجال تھی کہ کوئی بات کرتے۔ سلسلہ چلتا رہا س اور موصوف درسِ نظامی کی منزلوں پر منزلیں مارتے دستارِ فضیلت اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہو گئے۔

 

سنا ہے اب ان کا اپنا مدرسہ ہے۔

Image: Asad Fatemi

Categories
فکشن

گدھے گھوڑے ایک برابر

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد اس شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ قسطر نمبر-3

 

مفتی صاحب کے پاس ایک ہی سانچا ہے جس میں وہ سبھی کو ایک ہی شکل، ایک ہی رنگ اور ڈھنگ میں ڈھالنے کے چکر میں کیسے کیسے جواہر، کیسے کیسے نوادر، کیسے کیسے باصلاحیت ردی کر کے پھینک چکے ہیں۔
مفتی صاحب کے ہاں مساوات کا عجب عالم ہے، گدھے گھوڑے سبھی ایک چھڑی سے ہانکتے ہیں۔ ان کی بارگاہ میں اندھے اور بینا بھی ایک ہی صف میں آ کھڑے ہوتے ہیں کہ سبھی کو آنکھیں بند کیے ایک ہی قطار میں مرغا بنے مفتی صاحب کی عنایات کی مار اپنی تشریف پر برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ مفتی صاحب کے پاس دین اور علمیت کاایک ہی سانچا ہے جس میں وہ سبھی کو ایک ہی شکل، ایک ہی رنگ اور ڈھنگ میں ڈھالنے کے چکر میں کیسے کیسے جواہر، کیسے کیسے نوادر، کیسے کیسے باصلاحیت ردی کر کے پھینک چکے ہیں۔ کسی کے سوالات ان کے علم سے لمبے نکل آئے تو جھٹ بزرگی کی قینچی اٹھا کر مختصر کر دیئے، کوئی ان کے حافظے سے دراز قد ثابت ہوا تو جھٹ اپنی انا کی آری سے اسے کاٹ کر اپنی مرضی کا کر کے چھوڑ دیا، کبھی بالشت بھر بھی کسی کاجواب بہتر نکل آیا تو قنوطیت کے چاقو سے تراش کر بد شکل کر دیا۔ ایسی بھٹی سے نکلنے والے قدماء کی غلطیوں کو بھی مقدسات میں شامل نہ کریں تو کیا کریں۔ ایسی پنیری کی پود گھنے درختوں کے سائے تلے سوکھ نہ جائے تو کیا ہو؟ ایسے کارخانوں کے پُرزے اصل کی نقل کے سوا کیا ہوں گے؟ علم کیا ہے، جستجو کس چڑیا کا نام ہے، تحقیق کیا بلا ہے، تجدید اور تحریف کس قدر زرخیز ہیں یہ بچارے کیا جانیں گے؟ یہی دیکھا کیے کہ مفتی صاحب کے ہاں سے جو بھی نکلا وہ مفتی صاحب کا ہی ایک چربہ لگا، جو بھی ان سے فیص یاب ہوا انہی کے پیچھے صف باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ بہت سے تو ایسے بھی تھے جو اس جمود کو ہی حقیقت مطلق سمجھ کر قانع ہو گئے اور کہیں کسی جگہ، کسی نہ کسی مسجد میں مفتی صاحب کی ٹکسال کے ہی سکے ڈھالنے لگے۔۔۔۔۔ اور کچھ تھے جو سرے سے اس سب بندوبست سے ہی بیزار ہو گئے۔ ایک ہمارے مفتی صاحب ہی کیا، تقریباً ہر جگہ دین کا “کام” ایسے ہی غیر دلچسپ، غیر تخلیقی اور بے معنی انداز سے کیا جا رہا ہے۔ جو خود رٹا وہی طلبہ کو رٹا دیا، جو خود سمجھ نہیں آیا اسے سمجھے بغیر یاد کر لیا اور کرا دیا۔

 

حافظ صاحب کی اس تحلیل نفسی نے مجھے سمجھا دیا کہ مدارس کی اس شدت پسندی اور دوسروں کے لیے اتنی باافراط نفرت کی آخر وجہ کیا ہے۔
مفتی صاحب کے ہاں طرح طرح کے، قسم قسم کے، ہر قماش کے ہر قبیل کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ کئی تو ان کے ہاتھوں ہی ان کی شخصیت کی ایک نقل بن کر رہ جانے والے وہ طلبہ تھے جو عقیدت کو فرض سمجھ کر سبھی کچھ سہتے رہے تھے اور “جیسے پڑھے ہیں ویسے ہی پڑھائیں گے” کے مفتیانہ طریق کے سالک تھے اور کچھ وہ تھے جو اس سب سے الگ تھلگ بس دن کاٹ رہے تھے۔ ہمارے مدرسے کے ایک ساتھی جو مفتی صاحب کے ہاتھوں ہی سے گزر کر حافظ ہوئے تھے نہایت خوش الحان تھے۔ یوں تو ان میں کبھی کوئی برائی نہ دیکھی نی ان کے بارے میں کبھی کسی سے کچھ ایسا ویسا سنا لیکن قرآن پاک کا زیادہ احترام نہیں کرتے تھے۔ ایک روز مفتی صاحب کے ہاں چند انتظامی مسائل کے باعث جانا ہوا تو دیکھا مفتی صاحب موجود نہیں، البتہ ہمارے مذکورہ حافظ صاحب ان کی جگہ بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوا کہ مفتی صاحب کسی کام سے گئے ہیں اور اپنے آنے تک انہیں “نگرانی” کا کام سونپ گئے ہیں۔ باتوں باتوں میں ذرا کھل گئے تو اپنے دل کی بات سنانے لگے۔ بولے ہم حفاظ کو (اللہ معاف کرے) قرآن سے وحشت ہوتی ہے۔ اور کیوں نہ ہو اس کے حفظ کے لیے ہمیں بچپن کی معصوم عمر میں زدوکوب کیا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، گھروں سے دور رکھا جاتا ہے، استاد کی ہر جائز اور ناجائز ماننی پڑتی ہے بلکہ بہت “ناجائز والی” بھی ماننی پڑ جاتی ہے۔ بچپنے کی عمر میں جس چیز کی وجہ سے اتنا کچھ سہنا پڑے اس سے محبت و عقیدت کیسے ہو سکتی ہے؟

 

حافظ صاحب کی اس تحلیل نفسی نے مجھے سمجھا دیا کہ مدارس کی اس شدت پسندی اور دوسروں کے لیے اتنی باافراط نفرت کی آخر وجہ کیا ہے۔

Image By: Asad Fatemi

Categories
فکشن

ایک مسجد دو مولوی

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ ‘مفتی نامہ’ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد اس شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

[/blockquote]

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مفتی نامہ-قسط نمبر 2

 

مثل مشہور ہے کہ ایک نیام میں دو تلواریں، ایک بستی میں دو راجا اور ایک مسجد میں دو مولوی نہیں سما سکتے۔ ہماری مسجد، بفضل تعالیٰ یہ اعزاز بھی رکھتی ہے کہ اس نے دو مولوی ایک منبر، ایک سپیکر، ایک صندوقچی اور ایک ہی مدرسے میں سنبھالے رکھے ہیں گو یہ اعزاز خانہ خدا کے حصے میں بہت دیر نہ رہایعنی دو مولویوں میں محض مرغی ہی نہیں خانہ خدا بھی۔۔۔۔۔ خیر ہمارے مفتی صاحب یوں تو ایک صلح جو آدمی ہیں اور دوسرے کی آزادی کی حد وہاں تک سمجھتے ہیں جہاں تک ان کی داڑھی، ان کی توند، ان کی مسجد اور ان کا محلہ ہے۔ اگر کوئی ان کے محلے میں گھس کر، ان کی مسجد میں آ کر ان کی ہی داڑھی کے تنکے تلاشنے لگے تو بھیا پھر یہ حرکت ہر طرح سے فساد فی الارض قرار پائے گی اور اس فتنہ کو رفع کرنا واجب، خواہ یہ فتنہ ساز ان کے اپنے برادر محترم ہی کیوں نہ ہوں۔

 

مسجد خدا کا گھر ہے سو یہ قبضہ کسی طور ناجائز نہیں ہو سکتا کیوں کہ پلاٹ جس زمین پر ہے وہ زمین بہر طور اللہ کی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے کسی غیر اللہ سے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے مفتی صاحب اور ان کے بڑے بھائی کا مسجد کی تولیت پر جھگڑا ہوگیا۔ اب بھلے مسجد خدا کا گھر ہے لیکن اس گھر کے رکھوالوں کا کنبہ خاصا وسیع ہے۔ جھگڑا تو ہونا تھا۔ یہ مسجد ان کے والد صاحب نے بنائی تھی۔ یار لوگ پیٹھ پیچھے اڑاتے پھرتے ہیں کہ ایک پلاٹ پر ‘قبضہ’ کر کے بنائی تھی۔ لیکن حاسدین کا منہ کون بند کرے؟ مسجد خدا کا گھر ہے سو یہ قبضہ کسی طور ناجائز نہیں ہو سکتا کیوں کہ پلاٹ جس زمین پر ہے وہ زمین بہر طور اللہ کی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے کسی غیر اللہ سے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں۔ خیر مفتی صاحب کے جنت مکیں والد کی تعمیر کردہ یہ مسجد گزشتہ چالیس برس میں کئی کشادگیاں اور توسیعات دیکھ چکی ہے پھر بھی یہ اتنی وسیع نہیں ہو سکی کہ دو مولوی بیک وقت اس میں سما سکتے۔

 

مفتی صاحب کے والد محترم وفات کے بعد ایک مسجد، ایک مدرسہ، دو بیوائیں اور قریب ایک درجن بچے چھوڑ گئے جن میں سے صرف دو بیٹوں نے ہی’ آبائی پیشہ’ (ایک سے پرائمری پاس نہیں ہوئی اور دوسرا سکول ہی نہیں گیا)اختیار کیا۔ والد کی وفات کے بعد دونوں بھائی اسی ایک مسجد میں پڑ رہے۔ اس مسجد کے کرتا دھرتا تو ہمارے مفتی صاحب تھے لیکن منبر بڑے بھائی صاحب کے سپرد تھا۔ جب تک بڑا بھائی مسجد کا خطیب رہا، مسجد ‘معمول’ کے طور پر ‘چلتی’ رہی اور معمول کے مطابق ‘آمدنی’ (ہمارے مفتی صاحب آمدنی ہی کہتے تھے) آتی رہی جس سے لشتم پشتم گزراوقات ہوتی رہی۔ لیکن جب ہمارے شعلہ بیان مفتی صاحب نے مسجد سنبھالی تو مسجد کی آمدنی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہونے لگی۔ ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی آمد کا فائدہ اسلام کے ساتھ ساتھ محلے کے ڈاکٹر کو بھی ہوا کہ ہر تقریرسے ڈپریشن، سردرد اور نقص سماعت کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا۔ مسجد کی ایک صندوقچی کی بجائے دو صندوقچیاں بھرنے لگیں، پہلے ایک مینار پر سپیکر نصب تھے اب دو پر ہیں اور پہلے مفتی صاحب کی زیادہ سے زیادہ ایک زوجہ تھیں اور اب سنا ہے کم سے کم دو ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ برکت نہیں بلکہ سعودیہ جانے والوں کی معاشی آسودگی کا ایک لازمی ردعمل ہے مگر بھائی کس کس کی زبان پکڑی جائے؟

 

ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔
لیکن جہاں دولت آتی ہے وہاں جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ بڑے بھائی نے پہلے تو گاڑیوں کے لین دین کا کاروبار شروع کیا جس پر بعض شرفاء نے انگلیاں بھی اٹھائیں کہ مسجد کا روپیہ غلط جگہ استعمال ہو رہا ہے لیکن خوش قسمتی سے یہ شرفاء قبروں میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے اور یقیناً ان کے جنازے مفتی صاحب نے ہی پڑھانے تھے سو جلد ہی یہ اصحاب خاموش ہو گئے۔ یہ حضرات تو خاموش ہو گئے مگرگاڑیوں پر چوں کہ بڑے مفتی صاحب کی نیک نیتی اور دیانت داری کا کوئی اثر نہ تھا، سو انہوں نے منافع دینے سے انکار کر دیا۔ کاروبار نہ چلا تو بڑے بھائی نے دوبارہ منبر ومحراب سنبھالنے کا قصد کیا اور یوں مسجد کی تولیت کا جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ دونوں بھائی اور اوپر سے دونوں پشت ہا پشت سے مولوی بھی، یعنی نور علی نور، دونوں نے ایک دوسرے پر بندوقین تان لیں۔ لگ رہا تھا کہ ابھی دو چار لاشیں گرنے والی ہیں۔ تاہم، ہمارے مفتی صاحب ذرا زیادہ سمجھدار تھے۔ انہوں نے اس کا خوب حل نکالا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کالونی کے فلاں بلاک میں مسجد نہیں ہے، وہاں کے نمازیوں کی نمازیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اہلِ خیر وہاں مسجد کے لیے پلاٹ کا انتظام کریں۔ وہ علاقہ بھی پوش علاقہ تھا۔ ایک صاحبِ خیر نے لبیک کہتے ہوئے اپنا لاکھوں یا شاید کروڑوں کا پلاٹ پیش کردیا(یہ الگ بات ہے کہ ان صاحب کے خلاف نیب میں دو مقدمات چل رہے ہیں)۔ پلاٹ پر ‘مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالیے اور جنت میں اپنا محل بنوائیے’ کا بورڈ لگا دیا گیا۔ چند دنوں میں مسجد تعمیر ہوگئی۔ پھر مزید ‘آمدنی’ کے لیے اس میں مدرسہ بھی بنا دیا گیا۔ اور یوں دونوں بھائیوں نے خدا کے دین کی خدمت کے لیے ایک کی بجائے دو مراکز بنا کر ‘ثوابِ دارین’ حاصل کرنے کا مستقل انتظام کر لیا۔ خدا خیر رکھے تو ہمارے مفتی صاحب کے بھی آخری اطلاعات کے مطابق دوصاحب زادے ہیں، سو گمان کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں مزید مساجد کا قیام اسی طرح جاری رہے گا ۔