ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے
نسیم سید: ہم آگ پیتے ہیں اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں انگارے لکھ رہی ہیں
نسیم سید: ہم آگ پیتے ہیں اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں انگارے لکھ رہی ہیں
عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو اور دیکھو مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے تم کب تک…
رحمان راجہ: ﮨﺭ کسی ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺭ ﭘﮭﺭ سے ﻭﮨﯽ روایتی سے جملے ﮨﯿﮟ مرنے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﺭﺛﻮﮞ ﮐﮯ لیے…
سرمد بٹ: مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے مرد دیوار…
ادریس بابر: میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟ میرے سوال میں…
حسین عابد: اور آن پہنچیں جب ہم تاریک سرنگ کے آخر پر وقت کے ایک نئے قطعے پر چندھیائے ہوئے،…
نصیر احمد ناصر: دکھ برگد سے گھنا ہے دھیان کی اوجھل تا میں گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا…
نصیر احمد ناصر: ہم دیہاتی لوگ ہیں ہم جانتے ہیں دھرتی ہم سے اور کچھ نہیں ہمارے کالبوت واپس مانگتی…