خوبانی
عمران ازفر: خوبانی ہے جلتے جسم کی حیرانی میں تازہ نرمیلی قاشیں ہیں جو اک تھال کے بستر اوپر لمبی…
عذرا عباس: وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
حفیظ تبسم:میں 'خود کشی کا دعوت نامہ ہوں' جسے ڈاکیے نے چپکے سے کھول کر پڑھا اور مر گیا
طاہر مجتبیٰ: کامیڈی کے کسی پنچ پر، بلاگ کی کسی سطر پر سوچ کے چند دھاروں پر، خیالوں اور سوالوں…
ادریس بابر: میں نے لکھا کہ تحقیق، بر حق ہے جو میں نے لکھا اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے
جنید الدین: کیوں اس نے وہ فلمیں دیکھیں جن میں اس کی دلچسپی اداکاروں کے تاثرات دیکھنے کی بجائے سب…
افتخار بخاری: کیا چلچلاتی دھوپ میں کھڑی بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں ثروت مندوں کے دروازوں پر کھلنے کے انتظار…
رفعت ناہید: بڑا دریا اپنا راستہ بدل چکا ہے ہواؤں نے رہنے کے لیے کوئی اور درخت منتخب کر لیے…