پریس نوٹ
علی محمد فرشی: وہ کبوتر جو چھتری سمجھ کر فلک کی طرف اڑ گیا کس بصیرت نے دھوکا دکھایا اسے
ورشا گورچھیا: یہ میری آنکھیں میری خوفزدہ نظموں کی ٹوٹتی سانسوں کے گمنام سلسلے کے علاوہ کچھ نہیں
محمد حمید شاہد: اندھیرا بولائے ہوئے کتے کی طرح گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے
ادریس بابر: بچے بالٹیاں لے کر بھاگے، میں ڈر گیا جیسے ٹینکر میں پانی نہیں، پیٹرول ہو
تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟ میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟ تم ایک…
صدیق شاہد: دنیا کی یاری مال نہ گاڑی کچھ نئیں رہنا باقی باقی رہے گا کام تمہارا خاک ہے جسد…
حسین عابد: تین قدم کے بلیک ہول سے رنگ نہیں رِستے خون نہیں رِستا کورے کینوس اڑتے ہیں خواب گاہ…
گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے بہت سینچی ہیں تم نے درد سے…