Categories
شاعری

میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

تمہارا فون آتا ہے
اور میں کسی ضروری کام کی مصروفیت کو چھوڑ کر
فون اٹھاتی ہوں
تم پوچھتے ہوـ کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کر تے ہو
تفصیلات کے ساتھ
اپنی زندگی کے نئے حقائق سے پردے اٹھاتے ہو
بیوی بچوں کے اہم مسائل پر بات کرتے ہو
پرانے دوستوں کو یاد کرتے ہو
نئے منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہو
جو تمھاری بگڑی ہوئی زندگی کو ٹھیک کر دیں گے
میں تمھاری ہاں میں ہاں ملاتی ہوں
سچے دل سے تمھیں تسلی دیتی ہوں
اور خدا حافظ کے بعد اپنی مصروفیت کو
وہیں سے شروع کرتی ہوں
جہاں تم نے اسے روکا تھا

اور پھر کسی دن
تھوڑی زیادہ فرصت سے
میں تمھیں فون کرتی ہوں
تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

By تنویر انجم

تنویر انجم اُردو نثری نظم کا نمایاں نام ہیں۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ تنویر انجم نے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کیا اور شعبہٗ تدریس سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *