Laaltain

ﺳﺎﺩﮬﻮ

سعید اللہ قریشی:
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ

گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی

بکھراؤ کا مرکز

سعد منیر: چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے

پَونیا

نصیر احمد ناصر: مجھے مت پہنو!
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں

قید

حسین عابد: محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے

شاعری میری ضرورت ہے

قاسم یعقوب: شاعری میری پہچان بننے سے زیادہ
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے

اگر مجھے مرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ناصر: اگر موت کو کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوئی
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے