ﺳﺎﺩﮬﻮ

سعید اللہ قریشی:
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
بکھراؤ کا مرکز

سعد منیر: چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے
شاعری زمین کا پھول ہے

نصیر احمد ناصر: شاعری زمین کا پھول ہے
آسمانوں پر رہنے والے
شاعر نہیں ہوتے
آسمانوں پر رہنے والے
شاعر نہیں ہوتے
سیٹھ آدم بھائی مٹی والے کا رجز

احمد جاوید: برباد ہو گیا وہ شخص
جس نے میری للکار پر خندہ کیا
یا میرے نیزے سے خلال کیا
جس نے میری للکار پر خندہ کیا
یا میرے نیزے سے خلال کیا
پَونیا

نصیر احمد ناصر: مجھے مت پہنو!
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں
ہم نے فرض کر لیا ہم آزاد ہوگئے

عذرا عباس: ہم نے فرض کر لیا ہم آزاد ہوگئے
ہم نے فرض کرلیا ہم ایک ایسی زندگی جیئں گے
جس میں زندہ رہنے کی آزادی ہو گی
ہم نے فرض کرلیا ہم ایک ایسی زندگی جیئں گے
جس میں زندہ رہنے کی آزادی ہو گی
دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے
قید

حسین عابد: محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے
سرمئی نیند کی بازگشت

نصیر احمد ناصر: رات کا سوناٹا ختم ہونے سے پہلے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے
میری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
خودفریبی کے سرد خانے میں

یہ راز نہیں حقیقت ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے
شاعری میری ضرورت ہے

قاسم یعقوب: شاعری میری پہچان بننے سے زیادہ
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے
اگر مجھے مرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ناصر: اگر موت کو کہیں اور جانے کی جلدی نہ ہوئی
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے
تو اُسے ڈھیر ساری نظمیں سناؤں گا
شاید اُس کا دل پسیج جائے
وہ آخری لمحات ان جنازوں پر اُڑھا دیں گے

عذرا عباس: وہ آخری لمحات ان جنازوں پر اُڑھا دیں گے جن پر کوئی رونے والا نہیں