کالی رات ہے

سوئپنل تیواری: کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھنے والا ہے
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔
اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

عذرا عباس: اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
خام خیالی

نصیر احمد ناصر: جب میں نہیں ہوں گا
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی
نامکمل

سلمان حیدر: نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے
موت کو پڑھنا آسان نہیں

نصیر احمد ناصر: لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے

قاسم یعقوب: میں وہ ہوں
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے
آبائی گھروں کے دکھ

نصیر احمد ناصر: آبائی گھر ایک سے ہوتے ہیں
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

ادریس بابر: کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں
لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
کروں کیا

ابرار احمد: تو مونھ موڑ کر ۔۔۔۔
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے
بیماری کا شجرہ

شارق کیفی: وہ پاگل ڈاکٹر شاید بہت فرصت سے ہو گا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا
ریحانے جباری

نصیر احمد ناصر: میں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا
زندگی کبھی سر اٹھائے گی؟

ثریا عباس: نیک خواہشوں کے اگنے کو
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟