راز

وجیہہ وارثی: عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں
ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا

فیثا غورث: ایک دن اپنے ہاتھوں سے میں ایک رسی بُنوں گا
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں
اور اس رسی کے ایک سرے سے خود کو باندھ کر اچھال دوں گا
ہو سکتا ہے میں چاند میں جا کر اٹک جاوں
ہو سکتا ہے میں رات کے چند گچھے توڑ لے آوں
ہو سکتا ہے میں اڑتے اڑتے دور نکل جاوں
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

قرۃ العین فاطمہ: مجھے معلوم ہے مجھے مار دیا جائے گا
کسی بھی طرح
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
کسی بھی وجہ سے
یا بغیر کسی وجہ کے
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا
کسی بھی طرح
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
کسی بھی وجہ سے
یا بغیر کسی وجہ کے
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا
ونڈو شاپنگ

نصیر احمد ناصر: تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں
عشرہ/ لفافہ قلی خاں

ادریس بابر:
سبھی جانتے ہیں کہ پوشیدہ ظاہر انہوں نے خداوند کی پایاں تمجید کی ہے
سبھی مانتے ہیں کہ کوئی بھی بے عملی منصوبہ ہو یا خوش خیالی پلاو
لفافہ قلی خاں نے سرکارِ ہربار کی غیر منقوط و مشروط تائید کی ہے
سبھی جانتے ہیں کہ پوشیدہ ظاہر انہوں نے خداوند کی پایاں تمجید کی ہے
سبھی مانتے ہیں کہ کوئی بھی بے عملی منصوبہ ہو یا خوش خیالی پلاو
لفافہ قلی خاں نے سرکارِ ہربار کی غیر منقوط و مشروط تائید کی ہے
چیف جسٹس کا مطالبہ

جمیل الرحمان: اگر تم میری عدالت سے مطمئن نہیں
تو اپنے جملے کی کوکھ اُدھیڑو
اور اُس میں پلتے سچ کی گردن کاٹ کر
کٹہرے میں رکھ دو
تو اپنے جملے کی کوکھ اُدھیڑو
اور اُس میں پلتے سچ کی گردن کاٹ کر
کٹہرے میں رکھ دو
ائیر پورٹ پر

حسین عابد: میرے پاس صرف ایک گیت ہے
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا
تلاشی لینے پر
نہیں ملے گا
آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو

نصیر احمد ناصر: کتنی عجیب بات ہے
کہ زیادہ تر نظمیں اور کہانیاں
دلوں اور سرحدوں کے آس پاس
کسی قومیت کے بغیر جنم لیتی ہیں
کہ زیادہ تر نظمیں اور کہانیاں
دلوں اور سرحدوں کے آس پاس
کسی قومیت کے بغیر جنم لیتی ہیں
روتا ہوا بکرا

شارق کیفی: وہی بکرا
مرا مریل سا بکرا
جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا
وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے
دھاڑیں مار کر روتا ہوا
اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں
مرا مریل سا بکرا
جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا
وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے
دھاڑیں مار کر روتا ہوا
اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں
محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

نصیر احمد ناصر: محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
رشتہ خور چوہے

قرۃ العین فاطمہ: یہ دنیا چوہوں کی آماجگاہ ہے
جو رشتوں کو کترتے رہتے ہیں
جو رشتوں کو کترتے رہتے ہیں
کسی دن چلیں گے کراچی

نصیر احمد ناصر: کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
پیار کرنے کے سو آسان طریقے

وجیہہ وارثی: میں نے اپنی تمام خواہشیں یکجا کیا
اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا
اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا
عشرہ/ میں اور کراچی کے حالات کا رخ

ادریس بابر: چائے رس کھا کے گھر سے نکلا
بڑے بھائی کے بیان نے راتوں رات حالات کا رخ بدل دیا تھا
بڑے بھائی کے بیان نے راتوں رات حالات کا رخ بدل دیا تھا
بُو باس کا عالم

سدرہ افضل: ممکن ہے
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
ہُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
ہُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو