Laaltain

گلشن پارک میں ایسٹر

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے

یین یانگ

ایک ہی
نقطۂ امکاں میں بسے
حرف سے
دو نام
ابھرتے ہیں

کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں

Theory

سارا دن دھوپ دیوار
دیکھتا رہتا ہوں
ٹرمیں سوچتا رہتا ہوں
نظمیں توڑتا رہتا ہوں
تھیسز جوڑتا رہتا ہوں

آدم کتبہ لکھتا ہے

بعض اوقات بڑی دلچسپ کہانی پیدا ہو جاتی ہے
اپنا کتبہ
اور کسی کی قبر کا کتبہ بن جاتا ہے

Borderline Personality

مجھے لیبل دیا گیا تھا، بہت برس پہلے۔۔۔۔۔
میرے ماتھے پر کالک نہیں، یہ لیبل چسپاں ہے

اونگھ

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

انصاف کی بات کرو بھائی

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں

شاعر

تم نے کبھی
رات کے سکوت میں
Click کی گونج سے
نغمہ کوئی جگایا ہے؟

وہیل چیئرز پہ چلتے ہوئے مکان

ہم ۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!!