اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے تم پر خدا کی عنایت ہے میں رجیم کا شہنشاہ ہوں تم ستم شاہ گناہ سے […]
ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو اپنے جوتوں کی نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر دبائیں تو نفرت کی نیلی نہر پھوٹ پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کی گم شدہ پازیبیں ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں ایک دوسرے کو ہجر […]
پختگی (عظمیٰ طور)

میں اس سے جب ملی تھی وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ بڑے سبھاؤ سے گزار چکا تھا میں بھی __ بھلا دس برس پہلے میں عمر کے کس حِصے میں ہوں گی؟؟؟ شاید عمر کے اس حِصے میں جہاں خواب بنے جاتے ہیں اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے […]
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا (سرمد بٹ)

اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار میرے یار تم جیو بہتر سال میری اس wish کے پیپھے ہے ایک selfish cause تمھاری آواز جس میں دیکھی میں نے اپنی ناک نہ تم گرہباں چاک نہ میں گریباں چاک اother is not the hell meri […]
یہ شام بکھر جائے گی (ابرار احمد)

ہمیں معلوم ہے یہ شام بکھر جاے گی اور یہ رنگ۔۔۔۔ کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے یہ زمیں دیکھتی رہ جاے گی.. قدموں کے نشاں اور یہ قافلہ۔۔۔۔۔ ہستی کی گزرگاہوں سے کسی انجان جزیرے کو نکل جاے گا جس جگہ آج تماشائے طلب سے ہے جواں محفل رنگ و مستی کل […]
خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!! دعا قبول ہوئی ہم ایک نئی سرزمین پر اترے جو بہت حسین تھی پھر ہمیں ایک خدا اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی! ہمارے قدموں […]
ایک خسارے کا احوال (اسد فاطمی)

وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛ قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے! زبانِ تشنہ کہ پُرسکوں تھی، سپاٹ چہرہ، نہ ہاتھ میں کپکپی تھی، آنکھوں میں اضطرابِ شکست کا شائبہ نہیں تھا، کہ جیسے دہقان پکی فصلوں کو مینہہ برسنے کے بعد دیکھے کہ جیسے وہ فرش […]
نظموں کے لیے ایک سباٹیکل (تنویر انجم)

آپ کا کام خاصا توجہ طلب ہے ہفتے میں اٹھارہ گھنٹے پڑھانا باقی تیس گھنٹوں میں دنیا کے مشہور شاعروں اور ادیبوں پر تحقیق کرنا اور کروانا کانفرنسوں میں جانا سیمینار کروانا پینلز میں شامل ہونا بین الاقوامی جریدوں کے لیے مضامین لکھنا اور آپ کو تنخواہ کے علاوہ ملے گا ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں ایک […]
خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا خود کش حملوں کے خوف سے اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے خدا واحدِ حقیقی ہے اسے کیا پڑی ہے کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جوتوں اور […]
میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

حلیے اور شکلیں بدل بدل کر مجھ سے مت پوچھو کہ میں کون ہوں میں محنت اور اطاعت کا کالا رنگ ہوں جس سے تم نے نسلی تعصب گھڑ ڈالا میں گول چکرا ہوں جس سے موہن جو دڑو کے باسیوں نے پہیہ بنایا اور جس سے تم نے دار کی چرخیاں بنا ڈالیں میں […]
ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں سرد رُتوں کی سائیں سائیں روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس مُٹھی بھر ہمدردی بھوگ رہا ہوں بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا کمپیوٹر سکرین پہ تجھ کو ڈھونڈتی آنکھوں کی ویرانی کھِڑکی کے کونے پہ بیٹھی ایک عدد حیرانی شکلیں بدل […]
بہترین/ بدترین وقت (ایچ — بی- بلوچ)

ہمارے بہترین وقت میں ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں اور ہمارے برے دنوں میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے ہمارے برے دنوں میں ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ہماری بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں ایک شہزادی کو انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے ہماری سانسوں میں پتھر باندھ […]
چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے مرے ہوئے لوگوں کی طرح میں اداس ہوتی ہوں اور انھیں ان مرے ہوئے لوگوں میں […]
گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا گلوب کے کس حصے میں گرا یا اس کی سطح میں جذب ہو کر رہ گیا جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر زندگی نے اُن کے ٹکڑوں […]
تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر مَیں اکیلا ہی ہوں اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے باقی سب ہمسفر شاید ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگیں گے تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟ کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز […]