اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)

کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا.
چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)

ہیرا کو معلوم ہے کہ اس کے بچوں کو اکثر بھوکا ہی سونا پڑتا ہے چنانچہ وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا۔
قسطوں میں حیات (محمد برّادا)

[blockquote style=“3”] محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں […]
سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)

[blockquote style=“3”] 1999 میں جب بیسویں صدی رخصت ہو رہی تھی اور کرہ ارض کے باسی نئی صدی کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، زرتشت کے سرزمین سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ شیرین نظام مافی بھی بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے ابھرتے سورج کی سرزمین پہنچ گئی۔ کوبے یونی ورسٹی کے […]
بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=“3”] عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں […]
میرا بهائی ایک ہواباز تھا

برٹولٹ بریخت: ہماری قوم کے پاس جگہ کی کمی ہے
جنگیں اورعلاقے فتح کرنا
ہمارا قدیم خواب ہے
بادشاہ سنتا ہے

اتالو کلوینو: اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔
ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں

ایلکس ایپسٹائن: ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔
روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

نزار قبانی: روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے
نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے
اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے
غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
خاموش خدا

شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟
نہ دیکھو آسماں کو

اس کا کوئی آ کے عیسی مسیحا نہ بنے گا
ہم اپنے خود ہی مسیحا
خود ہی پیمبر ہیں
درد مشترک

بے گناہ
