Laaltain

ہمیشہ بدمست رہو

عاصم بخشی:ہمیشہ بدمست رہو
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے

زیتون کے جھنڈ سے ابھرتی آواز

محمود درویش:میں کووں سے کہتا ہوں، مجھے ٹکڑے ٹکڑے مت کرو
شاید میں ایک بار گھر لوٹوں
شاید آسمان مینہ برسائے
جو شاید
ان لکڑیوں کو ٹھنڈا کر دے

حرامی (پشتو کہانی)

نورالبشر نوید: میرے ناجائز بچوں نے مجھے اپنے تارے واپس دے دیئے۔ میں نے فیصلہ کیا اگر میرے بطن سے چھٹا ناجائز بچہ پیدا ہوا تواس کے ماتھے پر تارا نہیں بناؤں گی۔

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

ڈبلیو ایچ آڈن: اسے اس سر زمین کے حصے بخرے کرنے کو بھیجا گیا
جس کو اس نے کبھی بُھولے سے بھی دیکھا نہ تھا
وہ ان دو قوموں کے درمیان منصفی کرنے کے محال کام سے دو چار تھا
جو باہم خطرناک حریف تھے

ترکی میں فوجی بغاوت ناکام کیوں ہوئی؟

اس بغاوت کو سیاسی یا عوامی حمایت بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ حزب مخالف کی سیکولر جماعت سی ایچ پی نے کہا کہ ترکی کئی فوجی انقلاب دیکھ چکا ہے اور اب ان “مشکلات کو دہرانا” نہیں چاہتا۔

اصل و نسب

وقتِ ازل میں ایک چینخ تھی
جس نے پیدا کیا خون
جس نے بنائی آنکھ
جس نے پیدا کیا خوف

تنہا

تنہا، بالکل تن تنہاکوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا

الٰہیات

اصلًا آدم نے سیب کھایا
اور حوا نے آدم خوری کی
پھر سانپ حوا کو ہڑپ کر گیا
یہی تو ہے وہ منحوس اندھیر نگر کی آنت

غیر معمولی عورت

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

جو شعر در شعر کہے بہ راہے مدح سرائی
بہ اندازِ رعد خوش گذران مہینہِ جُون جب شجر ارغوان ہو پورا کِھلا،
لیکن یہ علم میری زبان گنگ کرائے کہ
تم لوگوں نے اسے کیسے اندازِ گراں قدر صنّاعی سے موزوں کیا ہوگا۔

شہر

شہر، اگرچہ ایسا کوئی یقین نہیں رکھتا
سب کو خوش آمدید کہتا ہے، جیسے وہ اکیلا آیا ہے۔
ضرورت کی فطرت دکھ کی طرح
بلکل ہر ایک کے اپنے مُطابق ہوتی ہے

میں پھر اٹھوں گی

میں تاریخ کے شرمناک گھروندوں سے نکلتی ہوں
اُس ماضی میں سے سفر شروع کرتی ہوں
جس کی جڑیں دُکھ، درد اور تکلیف میں دبی ہوئی ہیں
میں اُچھلتا، ٹھاٹھیں مارتا ہُوا، وسیع و عریض ایک تاریک سمندر ہوں
جو اپنی لہروں میں بہتا جا رہا ہے

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

نیچے اترتا خالی صحن میں
عین اُسی کے مسخ نین و نقوش کا اک سایہ
جو رویا، پھر دیو ہیکل ہوا، اور بھرّائی آواز میں گویا ہوا، ہائے وائے