Categories
شاعری

گلشن پارک میں ایسٹر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گلشن پارک میں ایسٹر

[/vc_column_text][vc_column_text]

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے

 

زنگ آلودہ جھولوں کی چُر مُر چیخیں
بچوں کے دل میں گرتی رہتی ہیں
تم ان کو سُن نہیں سکتے

 

رات اور دن
زندگیوں کی یک طرفہ سڑکوں پرکھڑے درختوں کی مانند گزرتے ہیں

 

تم رُکتے ہو
بازاروں میں
گرجے میں
مسجد میں
یا روشن بورڈوں والے سینما گھروں کے باہر
لیکن بچوں کے پارک میں
ٹوٹی پینگ مرمت کرنے کبھی نہیں رکتے ہو

 

ٹی وی پر روزانہ خبریں سنتے ہو
زہر زدہ چہروں کی
اُڑے ہوئے خود کُش جسموں کی
اور کچرے میں بکھرے انسانی اعضاء کی
چائے کے وقفے سے بھی کم
تم کچھ لمحے ہی رکتے ہو
اجنبیوں کے مرنے اور اُن کو بھولنے میں
بس اِک کھانے کا وقفہ ہے

 

کتنے دن تک دفتر میں دل دُکھی دُکھی سا رہتا ہے
جب ٹیم کرکٹ ہارتی ہے
گری ہوئی درمیانی وکٹ
بچوں کے ٹوٹے دودھیا دانت سی لگتی ہے
تب تم بس لمحہ بھر کو سوچتے ہو

 

میٹرو پولیٹن شہروں کے شور میں ساری آوازیں دب جاتی ہیں
کتنی چیخیں تم تک بِن پہنچے ہی مر جاتی ہیں
گلشن پارک کے باغیچے سے خون کی سرخ لکیریں
اورنج لائن کی پٹڑی تک بِچھ جاتی ہیں

 

تم کہتے ہو
ایسٹر امیدوں کا دن ہے!
اور تم خوشیوں کی خواہش میں
میزوں پر انڈے رکھ دیتے ہو

 

اِس سال اے مرے دوست!
سارے انڈے تڑخ گئے ہیں

Image: Express Tribune
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
تبصرہ

Poetry of Imroz

His attitude towards love is not something heavenly and otherworldly. It is very much physical and earthly. Even when he finds some solace in it, it is only transitory.

Innovative, colloquial, individualistic, experimental with unusual metaphors and symbols… Imroz’s poetry is everything but traditional. It is the poetry of today. It is the voice of an individual who sees life in relation to himself, his society and the universe he is a part of.

Poetry is basically the expression of the self, and hence subjectivity is very much the essence of his poems and this we find more prominent in his first book,”Khudkhushi ke Mausam me”. But as he moves towards his second book,”Kainaati gard me Urryan Shaam”, his thoughts and feelings become mature and objective. We do not find raw sentimentality in his feelings. His is the love that has stood the test of time, loss, patience and pain. He says:

میں اس سفید پھول کا خدا ہوں
جو میری خود رو محبت میں اگ آیا ہے
پھر بھی آوازوں کے کوکتے جنگل میں
میرے آنسووں کا کوئی گیت نہیں

To describe his feelings, he constantly gets inspiration from nature and draws his images mostly from his immediate physical environment. He also plays freely with Indian mythology. “Achoot khawab ki Brahman aankhien”, “Doosrey gautam ka giyaan”, and “Iss jeewan rutt ki sarhad mei” are replete with Hindi myths. Bold, expressive and blunt… his poems may seem provocative and annoying to some of his readers. His attitude towards love is not something heavenly and otherworldly. It is very much physical and earthly. Even when he finds some solace in it, it is only transitory. Mechanical sweetness of verses and rhyme is not to be found in Imroz’s poems. Mostly written in prose verse, his poetry is intellectual and is more like metaphysical poetry which deals mainly with thoughts, feelings and ideas which grow like weeds on the fertile and adequately equipped plains of his mind. Time and again, the readers can smell his desire to burrow back to the womb of nature offering him comfort in the form of trees, flowers, birds, ants, clouds and many more things.

Time and again, the readers can smell his desire to burrow back to the womb of nature offering him comfort in the form of trees, flowers, birds, ants, clouds and many more things.

Human beings in his poems are snared by orthodox social, political and moral dogmas and norms which in the form of traditions threaten their creativity and change them merely into stereotypes and artificial beings with lack of originality and have shattered personalities. Like a liberal humanist, he idealises a society where men can live without hurt, self- pity, guilt and degradation. Differences among social classes are easily traceable in Imroz’s poetry where people try to better their condition but soon find themselves burdened with the futility and heaviness of the toil which becomes all the more purposeless with a sense of constant and unavoidable death and hence makes his poems quite pessimistic. In his poem “Kaumi qaatlo ke liey Spaas naama”, he says:

اور ایک اندھی صبح کے کنارے
بے رنگ دھوئیں میں تیرتے ہوئے
ہم اپنی زندگی سے ہار جائیں گے

Living in a society where terror, insecurity and social injustice have penetrated to every nook, Imroz is very much conscious of the deteriorative effects of foreign interference, international and national political policies and commercialization. “aalmi zaalmo ke naam”, “Parliament” and Sader hummien galey kio nahi lagaatey” give us a clear picture of the world we are living in.

اجلی دنیا تعمیر کرنے کے لیے
مجھے خداوں کے دل چاہیئں
میرے نام لکھے پیغمبروں کے خطوں میں
کہیں نہیں لکھا
کہ اختلاف کا رنگ سُرخ ہے
پھر کیوں ہر روز آلودہ کفن دفنائے جاتے ہیں؟

“Existence itself is a dream”, and when it is combined with the feelings of despair, loneliness and purposelessness, a sensitive heart tries to create a world for himself which is in accordance with his inner self. In this quest, Imroz is on a journey and how much he succeeds in his attempt, only time will prove because “Zindagi aik safar maang rahi hei”.

Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

[/vc_column_text][vc_column_text]

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی سمتوں سے اَن جان آوازیں آتی ہیں
روشنیوں کے دائرے ٹوٹتے رہتے ہیں

 

کہنے کو تو کتنا کچھ انسان کے دستِ بیش بہا میں ہے
کتنے سیّاروں کی روشنیاں اِن آنکھوں کی قید میں ہیں
کتنی دنیاؤں کی آوازیں اِن کانوں کے قفل میں ہیں
پھر بھی اَن جان آوازیں آتی ہیں

 

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر، کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

 

اَن جان آوازیں آتی ہیں
جیسے آفاق پہ کوئی دَیو دھاڑتا ہے
جس کی سانسیں سہمے سینوں میں پھنکارتی ہیں
جس کے دانت اِن جسموں کے پاتال سے پیوستہ ہیں
جس کے پنجے پُشت کی گہرائی تک اُتر گئے ہیں

 

آوازیں آتی ہیں
اَن جانی روشنیوں کے سائے
سورج کو گہنا دیتے ہیں
اور آوازوں کے تعاقب میں
ہم شہرِ عدم تک آجاتے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
تبصرہ

کائناتی گرد میں عریاں شام

نام کتاب: کائناتی گرد میں عریاں شام (نظمیں)
مصنف: زاہد امروز
صفحات: ۱۱۰
قیمت: ۲۰۰ روپے
ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، ۴۶/۲ مزنگ روڈ، لاہور

1491678_686282598099873_143798750396507084_n

اردو شاعری کے لیے یہ بات ایک نیک شگون ہے کہ شعراء کی نئی پود کافی حد تک غزل بمقابلہ نظم کے “موازنہ٫ انیس و دبیر” سے باہر آ گئی ہے اور نظم، اپنے نت نئے اسلوبیاتی تجربات کے ساتھ، غزل کی ساکھ کو متاثر کیے بغیر نئی تخلیقی آوازوں کے ہاں اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر آپ بھی نظم کے کشتگان میں سے ہیں اور بَل دار طرز بیان، تازہ دم موضوعات اور شاعری میں نئے مصورانہ نقوش کی ٹوہ میں رہتے ہیں، تو زاہد امروز کی نظموں کا تازہ مجموعہ آپ کے لیے لکھا گیا ہے۔ اگر پابلو نیرودا کی نظموں کے تراجم کے مجموعے “محبت کی نظمیں اور بے بسی کا گیت” کو شمار نہ کیا جائے تو زیر نظر کتاب “کائناتی گرد میں عریاں شام” طبعزاد نظموں میں “خودکشی کے موسم میں” کے بعد زاہد امروز کا دوسرا شعری پڑاو ہے۔
اس تازہ شعری مجموعے میں زاہد امروز خود سے وابستہ سبھی اسالیبی، موضوعاتی، حسیاتی اور تخلیقی وعدے نبھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ مجموعہ چوالیس مختلف نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں میں زاہد امروز کھڑکی میں کھڑا چائے کی چسکی میں اپنے باطن کی دقیق وارداتوں پر گفتگو کرتا ہوا نظر آتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اطراف کے معمولی اور غیرمعمولی مناظر کو مصوری کے شاہکاروں کی طرح ایک ایک کر کے اپنی سطروں کے بیچ پروتا چلا جاتا ہے۔ یوں نظم اپنا دائرہ مکمل کرنے تک شاعر کے ظاہر و باطن کی ایک باتصویر کہانی کی شکل میں قاری پر ظاہر ہو جاتی ہے۔
نظم “تم مسجد کے سائے میں سوکھ جاو گے” محرابوں کی فراری عافیت سے پرے زمین اور سماج کی کڑوی سچائیوں کو چکھنے اور نئے بہاریں پھول چننے کی دعوت دیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ برکت اللہ کی چکی اپنے عصری شعور اور تازگی کے ساتھ کبیرے کی گمشدہ چکی کی بازیافت ہے۔ “رات اور چاند کی سنگت میں” میں شاعر نے قاری کو ایک خاموش رات کے اداس کر دینے والے ایک تجربے میں شریک کیا ہے۔ “زمین کے ہنکارے” دنیا کے ساتھ خیرخواہانہ بیزاری کے کامیاب ابلاغ کے ساتھ ساتھ منفرد بصری تاثرات کی حامل ہے۔ “غیر متوقع بچے کی متوقع موت” اپنے ہونے کا رزمیہ بھی ہے اور مرثیہ بھی۔ اسی طرح “اچھوت خواب کی برہمن آنکھیں” اسی ہونے کی پہچان کی ٹوہ میں ہیں۔ “طالب اور طلب کا خواب” ایک ڈراونے خواب کی چونکا دینے والی واردات ہے۔ “یک سمتی سڑک سے مکالمہ” اور “قدیم دُھن بالوں میں انگلیاں پھیر رہی ہے” ایک طرح سے صورتِ حال اور یادِ ماضی کے درمیانی کواڑ میں کھڑے ہو کر کہی گئی خوبصورت نظمیں ہیں۔
“حسین عورت کی خوشحال شادی” اپنے منفرد موضوع سے قطع نظر، اپنے آہنگ میں رخصتی کے گیت جیسی حزنیت اور یاس لیے ہوئے ہے۔ “دوسرے گوتم کا گیان” ایک جوگی، جسم کے روگی کے بادلوں کے سائے میں جنم لینے سے لے کر مُکت ہونے تک کی کتھا ہے۔ “قصہ ایک مینڈک کا” اپنے بیان میں ایک انفرادیت لیے ہوئے سماج کے ایک عمومی تجربے کو بیان کرتا ہے۔ “آوازوں کا عجائب گھر” ایک طویل نظم اپنے شاعرانہ محاسن کے ساتھ ساتھ ان گنت مسحور کن صوتی اور بصری تاثرات کی حامل ہے۔ صدر ہمیں گلے کیوں نہیں لگاتے، قحط زدہ بستی کا گیت، قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ، جیسی نظمیں سماجی دردمندی اور دھرتی کے دکھوں پر گاہے حزنیہ، گاہے طنزیہ انداز میں اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہیں۔ تم محبت نہیں کرتے، اس محبت کا کیا مصرف، میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں، میں دشمن کو زخمی نہیں کر سکا، وہ مسکراہٹ میرے لیے نہیں، تم جا چکی ہو، اور “نارنجی چاند میں خزاں کا پھول” ایسی نظمیں محبت، وصل، فراق، مجاز، تنہائی اور جنسیت جیسے بسیط موضوعات پر بات کرتی ہیں لیکن زاہد کی جنسیت بیمارانہ نہیں ہے۔
زاہد امروز کی شاعری میں معنوی انحرافات نہایت سلیقے سے کیے گئے ہیں، وہ معنی کے مناسب چور دروازوں سے جگہ پا کر کئی ایک رنگ جوڑتا اور نہایت گنجلک استعارہ وضع کرتا ہے۔ اس کی نظموں میں استعاروں کی بھرمار ہے لیکن نثری نظم کا پاٹ اتنا چوڑا ہے کہ یہ سب استعارے پوری روانی کے ساتھ نظم میں بہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے بصری تاثرات نظم کو ایک دیدہ زیب کولاج کا سا حسن دیتے ہیں، جسے وہ موضوع اور اپنے خارجی محل وقوع سے خوشنما رنگ چن کر وضع کرتا ہے۔
کتاب کا سرورق مناسب ہے اور کتابت و طباعت ہر اعتبار سے معیاری ہیں۔ مشمولات، طباعت کے معیار اور قیمت کے باہمی تناسب کو دیکھا جائے تو یہ مجموعہ بجا طور پر خرید کر پڑھے جانے کے لائق ہے۔