Laaltain

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

حٖیظ تبسم:عذرا عباس !
میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان

Love is a Punishment

نسرین انجم بھٹی: خون سے رنگے سب راستے محبت سے جدا ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟

نصیر احمد ناصر: کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے

Ashra // Entrepreneurship

ملک ہمایوں: ہلکی پھلکی، جھوٹی موٹی تقریروں سے
ڈیسپیریٹ کو موٹی ویٹ بنادیں گے

عشرہ // احترامِ رمضان آرڈیننس

طاہر مجتبیٰ: سدا کے بھوکے کروڑوں مجروح انسان
ہمیشہ سے اس دن کے انتظار میں ہیں
ہر شکم سیر اور کھاتے پیتے کو جب قید کریں گے
اور وہ مدت، تین ماہ تک محدود نہ ہو گی

جہلم پر اترتی شام

عمران ازفر:لال گلابی ہو کر سورج
جانے کس کو ڈھونڈھ رہا ہے
دور اندھیرے سے کمرے کی
اندھی ٹوٹی کھڑکی کھولے

گلیڈی ایٹرز

ناصرہ زبیری: تو ہوئے کیا
مری تاریخ پہ پھیلے
وہ محبت کے الوہی قصے
دردِ انساں کے زمینی دعوے
وہ ترے عشق میں ڈوبے نعرے

اٹلس گلوب رکھ دو

نوازش ملک: ٹنل سے باہر جہاں زندگی ہے اسے جیو
گہرا سانس لو
ہوا چلتی دیکھو
اٹلس گلوب رکھ دو

بھکارن

نور الہدیٰ شاہ: بس نقلی نوٹ کی سی اک نگاہِ محبت عطا ہو جائے
جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے
مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے
مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے

نظمیں ستارے بناتی ہیں

انور سین رائے: میں نظمیں ہی لکھوں گا
چاہے ستارے سیاہی سے خالی ہو جائیں
اور آسمان کاغذ بننے سے انکار کردے

محبت کے بغیر ایک نظم

نصیر احمد ناصر: سچ ہے
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!

عشرہ // میجک

صدیق شاہد: وہ تم تھے جو جپسی کے تھیلے میں بیٹھے
قبیلوں کی قسمت پہ مہریں لگاتے
حسینوں کو ان کے پیا سے ملانے کی سازش رچاتے
دعاوں کے سرکل میں نوے کا اینگل بناتے
دھڑا دھڑ گنے جا رہے تھے کھنکتے ہوئے چاندی کے سکے !!!

وہ بھی تم ہو گے

ابرار احمد: اور وہ بھی تم ہو گے
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا