Categories
شاعری

وہ بھی تم ہو گے

ابرار احمد: اور وہ بھی تم ہو گے
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا
وہ بھی تم ہو گے
وہ بھی تم ہی تھے
مجھے ۔۔۔ اولین جدائی کی
تنگ و تاریک گھاٹیوں میں
دیواروں سے سر ٹکراتے ہوے ، دیکھتے
میری آوارگی سے اکتاہے ہوے راستوں پر
میرے لیے پھول کھلاتے —

اور یہ بھی تم ہی ہو
اجلے پیروں میں سرخ جوتی
اور جگمگاتے لباس میں
مسلسل رقصاں
والہانہ پن سے اچانک
گھوم کر رکتے
مجھے دیکھ کر حیران ہوتے ہوے
سمندر پار کے بلاوے پر
ایک تاریک سیارے سے
روانہ ہوتی ہوئی روشنی

ایک خالی ہو جانے والے گھر میں
رہ جانے والی مہک
تپائی پر پڑے چاۓ کے خالی کپ
بجھے سگرٹوں سے بھرا ایش ٹرے
لمس کی سرمئی دھند میں
ٹوٹی ہوئی ایک محفل کی پرچھائیں —
موڑ سے دکھائی دیتے
اونچی کرسی کے کمرے کی
تاریک کھڑکیوں اور دیواروں میں
بھٹکتی ہوئی آواز
خالی سیٹ پر رہ جانے والی خوشبو اور ویرانی ——–
اور وہیں کہیں
تماشا بن جانے والے کی آنکھ میں
اتر جانے والا تیر
جو .. گھر کو لوٹتے ہوئے
گر گیا ، تمھارے سامنے
کسی اور آسمان کے نیچے
کبھی مل سکنے کا آزار لیے —

اور وہ بھی تم ہو گے
جو کبھی ۔۔۔ بارشوں سے دھڑکتی کھڑکی کے شیشے سے
اپنی نمناک آنکھوں سے
میری جانب دیکھو گے
جب میں
دنیا کی خوبصورتی برداشت کرنے سے
انکار کرنے والا ہوں گا !

Image: Hann Kim

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *